Ayah 2:184چند گنتی کے دنوں کا روزہ فرض ہے یعنی 90 یا 30 دن کا :
313: اسلام میں روزہ نام ہے اپنے قصد و ارادہ سے ایک مدت معین کے لئے اپنے جائز اور طبعی خواہشوں کی تکمیل سے دستبرداری کا اور اس سے ایک طرف طبی اور جسمانی اور دوسری طرح روحانی اور اخلاقی جو فائدے حاصل ہوتے ہیں فرد اور امت دونوں کو اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ فرض روزوں کی ایک متعین تعداد ہے جیسا کہ ڈسپلن یعنی تنظیم یا باقاعدگی کا اقتضاء ہے۔ یہ نہیں جب جس کا جی چاہے جتنے دنوں کے لئے روزے رکھ سکے رکھ لے ۔ وحدت امت کے لحاظ سے لازمی تھا ایک متعین زمانہ ، متعین حدود کے ساتھ ساری امت کے لئے مقرر ہو۔ ضمناً یہ پہلو بھی نکل آیا کہ ان فرضی روزوں کی تعداد کچھ بہت بڑی نہیں ۔ یہ نہیں کہ سال سال بھر روزے رکھتے ہی جائو۔ چھ مہینے اور تین مہینے بھی نہیں بلکہ کل 29 یا 30 دن۔
پھر روزہ کے دن وہ دن ہیں کہ غریب لوگوں کی حالت سے امرا عملی طور پر باخبر ہوتے ہیں ۔ شکم پروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کردینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو ترقی ہوتی ہے۔ قوائے ملکیہ میں قوت اور حیوانی خواہشوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم و استوار ہوتی ہے۔ دیکھو گرمی کا موسم ہے ، سخت پیاس لگ رہی ہے تنہا مکان میں ٹھنڈا پانی رکھا ہے مگر نہیں پیتا۔ روزہ دار کو سخت بھوک لگی ہوئی ہے بھوک کی وجہ سے جسم میں ضعف بھی محسوس کرتا ہے کھانا موجود ہے ، دیکھنے والا کوئی نہیں مگر نہیں کھاتا۔ محبت پسند بیوی بھی ہے محبت کے جذبات دونوں میں موجزن ہیں لیکن وہ اس سے احتراز کرتا ہے اس لئے کہ اللہ کے حکم کی عزت و حرمت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے اب کوئی دوسری قوت اس پر غالب نہیں آسکتی۔ اور جب اس نے اللہ کے حکم سے جائز و حلال اور پاکیزہ خواہشات کو چھوڑنے کا اپنے آپ کو عادی بنا لیا ہے تو حرام ، ناجائز اور مکروہ عادتوں کے چھوڑنے میں اسے کوئی دقت محسوس نہ ہوگی ۔ یہی وہ اخلاقی پاکیزگی ہے جس کا روزہ دار کے اندر پیدا کردینا شرع کا مقصود اصلی ہے۔ پھر یہ تیس انتیس دنوں کی گنتی پوری کرلینے سے انسان اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرلیتا ہے کہ اگر اس پر ذرا غور کرلے گا تو اس کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق نمایاں ہوجائے گا۔
مسافر بیمار اور جن کے لئے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو وہ کیا کریں ؟
314: انسان کی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ رمضان کا مہینہ ایک متعین مہینہ ہے لیکن سفر و بیماریانسان کی مجبوری ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ رمضان المبارک میں کوئی دنیوی یا شرعی سفر درپیش آجائے پھر کیا کرے ؟ ان مخصوص دنوں میں کسی بیماری نے آدبایا تو پھر ؟ فرمایا اگر کوئی ایسی مجبوری لاحق ہو کہ سفر پر جانا پڑے اور روزہ رکھنا مشکل ہو یا بیماری کی حالت میں دوا وغیرہ استعمال کرنا ہے تو دونوں صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں روزہ افطار کیا جاسکتا ہے اور جتنے دن سفر میں رہے یا بیمار ہو اتنے روزے سفر کے بعد جب حضر میں ہوگا یا بیماری دور ہوجائے گی اور صحت مند ہوگا تو ان دنوں کی گنتی پوری کرلے یعنی جتنے روزے ضائع ہوئے ہیں اتنے دن روزہ رکھ لے۔
اور جو لوگ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں یا ایسے بیمار ہیں کہ صحت مند ہونے کی توقع نہ ہے تو وہ کیا کریں ؟ فرمایا وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ ہاں جو شخص ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بجائے دو تین چار کو کھلا سکے تو یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے اور نیکی کا کام جتنا بھی کیا جاسکے وہ کر ہی لینا چاہئے اور ویسے بھی ہاتھ کا دیا کبھی ضائع نہیں ہوتا جب تک دینے والا خود اس کو ضائع نہ کر دے تاہم اگر کچھ بھی برداشت ہے تو روزہ رکھ لینا ہی مفید ہے اور خصوصاً انجام اس کا بخیر ہے۔ لیکن اس آیت کی وسعت نے ساری دشواریوں اور تنگیوں کو یکقلم دور کردیا اور مسافروں ، بیماروں ، دودھ پلانے والیوں اور حاملہ عورتوں کے لئے سہولت پیدا کردی اور جدید دور میں جو نئی نئی بیماریاں اور صورتیں پیدا ہو رہی ہیں سب کا ازالہ کردیا۔ اس آیت کی وسعت کو مٹانے کے لئے جو جو راہیں اختیار کی گئیں وہ سب کی سب اختراعی اور مصنوعی ہیں روزہ کا حکم جاری کرتے ہی اختصار کے ساتھ ساری چیزوں کا مختصراً اسارہ کردیا گیا اور پھر ان کی تفصیل کرنا شروع کی۔
Ayah 2:185رمضان المبارک کی فضیلت اور نزول قرآن کریم :
315: جس ماہ مقدس میں تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں مذہبی تعلیم کی نشر و اشاعت کے لئے کمر بستہ ہو جائو وہ یہی رمضان کا مہینہ ہے ۔ اس مبارک ماہ میں قرآن کریم کا نزول ہو اجس کی خصوصیات حسب ذیل ہیں :
(ا) نوح انسان کے لئے سرچشمہ رشد و ہدایت ہے۔
(ب) ہدایت و راہنمائی کے وہ اصول و ضوابط جو نظر و فکر کے محتاج ہیں قرآن کریم نے ان سب کو اس طرح کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ کہ وہ بد یہی معلوم ہونے لگتے ہیں اور ہر شخص آسانی سے ان کو سمجھ لیتا ہے۔
(ج) جو لوگ اس کتاب لاریب کے درس و مطالعہ میں مصروف ہوں ان کی قوت فیصلہ اور زیادہ زبردست ہوجاتی ہے ؕ۔ حق و باطل میں تمیز کرنے لگ جاتے ہیں۔ علماء سوء اور جاہل صوفیوں کے دھوکے میں وہ کبھی نہیں پھنستے۔
یہی ماہ مقدس قرآن کریم کے نزول کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001 ” بلاشبہ ہم نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔ “ (القدر 97 : 1) اور ایک جگہ فرمایا :
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ 003 فِیْهَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ004 (الدخان 44 : 3 تا 4 ) ” ہم نے اس قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے بلاشبہ ہم لوگوں کو آگاہ کرنے والے تھے اور یہ وہ رات ہے جس میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ “
” لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ “ وہی رات ہے جو ” لَیْلَةِ الْقَدْرِ “ کے نام سے یاد کی جاتی ہے اور جب یہ دونوں نام ایک ہی رات کے ہیں وہ رات لیلۃ القدر ہے اور ” لیلۃ القدر “ کا تعلق رمضان المبارک سے ہے اور رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی کا نام ” لیلۃ القدر “ ہے مختصر یہ کہ رمضان المبارک کی رات جس کو ” لیلۃ القدر “ کہا جاتا ہے اس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔
” القرآن “ قرء سے مشتق ہے جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں۔ چونکہ پڑھنے میں حروف اور کلمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جاتا ہے اور لئے قرء کے معنی پڑھنے کے بھی ہوئے ۔ قرآن اس پاک کتاب کا نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے اندر تمام الٰہی کتابوں کو تعلیم جمع کردی گئی ہے۔ کتاب مقدس یعنی تورات اناجیل اور زبور تینوں کتابوں کی ہدایت اس میں اکٹھی کردی گئیں اور اگر قرء بمعنی تلاوت یعنی پڑھنے سے لیا جاتا تو بھی یہ نام گویا اعجازی نام قرآن کریم کا ” قرآن “ ہوا کیونکہ قرآن کریم کے برابر دنیا میں کوئی کتاب نہیں جو پڑھی جاتی ہو۔ مطلب یہ ہوا کہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب۔
یہود کو کتاب مقدس پر یہ ناز ہے کہ اس کے برابر اشاعت ہونے والی کوئی کتاب نہیں۔ اول تو یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ بائبل کی اشاعت قرآن کریم سے زیادہ ہو اور پھر اشاعت کو وہ تلف کردیتے ہوں ، دوسری بات ہے لیکن قرآن کریم تلاوت کیے جانے کے لحاظ سے بائبل سے کئی بار زیادہ تلاوت کیا جاتا ہے اور پھر جو حفظ کیے جانے کا معاملہ ہے تو وہ پوری دنیا گواہی دے گی کہ قرآن کریم کے علاوہ یہ شرف کسی کتاب کو بھی حاصل نہیں ہے
اب حکم یہ ہو رہا ہے کہ اس مبارک ماہ میں جو شخص بھی زندہ ہے اور اپنے گھر میں موجود ہے ضرور روزہ رکھے تاکہ ان مسرت کے دنوں کا اظہار ہو جن میں قرآن کریم نازل ہوا۔ ایک طالب علم کا فرض تو یہی ہے کہ وہ باقاعدہ اپنی تعلیم گاہ میں حاضر ہو لیکن اگر کسی ضرورت سے نہ پہنچ سکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھر رہ کر بھی اپنا سبق تیار کرے تاکہ باقی طالب علموں کے ساتھ درس و تدریس میں شریک ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ تم کو کسی تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتا اس لیے اس نے سفر اور بیماری کی حالت میں رخصت عنایت کی ہے لیکن اس کمی کو دوسرے دنوں میں پورا کرنا ضروری ہوگا۔
اگر غور سے کام لو تو یہ حقیقت تم پر واضح ہوجائے گی کہ تمہاری انفرادی و اجتماعی زندی کے لیے اس سے بہتر کوئی دوسرا قانون نہیں ہو سکتا۔ تم اس پر عمل کر کے دائمی زندگی حاصل کرلو گے۔ اس تکلیف کو برداشت کرنے سے تمہارے لیے صدہا سہولتوں اور آسانیوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ پس اس کو تکلیف کون کہے گا جس کا نتیجہ فضیلت علی العالمین اور خلاف ارضی ہو۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو صرف تمہارے لیے مخصوص کردی گئی ہے اور اس پر تم جس قدر بھی اس کی تمجید و تقدیس بیان کرو کم ہے۔
اس قانون پر عمل کرنے کا ایک نتیجہ یہ نکلے گے کہ تم میں عمل قوت پیدا ہوجائے گی ۔ تمہاری مخفی قوتیں منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوں گی۔ جوش اور ولولہ عمل پیدا ہوگا۔ قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا بھر میں اس کی نشرو اشاعت کرو گے تو کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی تمہاری راہ میں مزاحم نہ ہوگی۔ دن کو روزہ اور رات کو قیام ذرا سچے دل کے ساتھ کر کے تودیکھو اس کی پوشیدہ حکمتیں تم پر خودبخود واضح ہوجائیں گی ۔ یاد رکھو کہ بہت سی باتیں اور بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک ان کا پر یکٹیکل کر نہ لیا جائے ان کی حقیقت کھل کر سامنے نہیں آتی کیونکہ دراصل وہ چیز الفاظ میں بیان کی ہی نہیں جاسکتی۔ جو کچھ بیان کیا جاتا ہے محض اس شوق کی خاطر بیان کیا جاتا ہے تاکہ سننے والا اس کے کرنے پر آمادہ ہو اور کر کے دیکھنے سے جو معلوم ہوتا ہے وہ سن لینے سے کبھی معلوم نہیں ہوتا۔
ممکن ہے دن بھر روزہ رکھنے اور اپنے کام کاج میں مصروف رہنے کے باعث قرآن کریم کی تلاوت نہ ہو سکے ۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے رات معین کردی کہ جب کھانے پینے سے طبیعت سیر ہوگی۔ دن بھر میں جس قدر قوتیں مضمحل ہوئی تھیں دو زیادہ ایندھن ملنے سے واپس لوٹ آئی ہوں گی اور رات کو اطمینان کے ساتھ قرآن کریم پڑھ سکو گے یا سن سکو گے لہٰذا رات کے وقت نوافل میں کھڑے ہو کر پوری دلجمعی کے ساتھ قرآن کو پڑھو اور اگر خود یاد نہیں ہے تو حفاظ سے سن لو اور راتوں کو خوب زندہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی زندگی نہیں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا :
(من قام رمضان ایمانا واحتسانا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ) جو شخص رمضان المبارک کی راتوں کو قیام کرے اس طرح کہ اس کا ایمان کامل ہو اور وہ اپنا احتساب بھی کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف کر دے گا جو اس سے پہلے اس سے سرزد ہوگئے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ رمضان کے ایام میں جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دورہ کیا کرتے تھے اور اپنی وفات کے سال میں آپ ﷺ نے یہ دورہ دو بار کیا۔ جس کا مطلب یہ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں جس شخص نے ایک مرتبہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھ لیا یا سن کر سمجھ لیا تو گویا اس نے نصاب پورا کرلیا ۔ صرف یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی کتاب پڑھی جاتی ہے یا کوئی بات سنی جاتی ہے تو اس کا فائدہ اس وقت ہوسکتا ہے جب اس کی ہدایت کے مطابق عمل بھی کیا جائے اور جس سے اس نے روکا ہے اس سے رک جایا جائے۔
اس آیت کریمہ میں قرآن کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔ ان کو نگاہ میں رکھنا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ قرآن کریم کو سمجھنے میں آسانی ہو اول یہ کہ وہ ہدایت ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں ہدایت کے واضح دلائل بھی موجود ہیں اور تیسرے یہ کہ وہ فرقان ہے یعنی حق و باطل میں امتیاز بھی پیدا کرنے والا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے والے یا قرآن کریم کو سن کر سمجھنے والے کے لئے لازم ہے کہ ان تینوں باتوں کو اپنے ذہن میں جگہ دے اور ان کو خوب حاصل کرنے کی کوشش و محنت کرے تاکہ وہ انعامات الٰہی کا مستحق ہو سکے۔ وہ تین چیزیں اس طرح بھی بیان کی جاسکتی ہیں۔
! قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کرنا۔ " ہدایت کی روشن صداقتوں کو قبول کرنا اور
#حق و باطل میں فرق ہوجانے کے بعد حق کو قبول کرکے عمل کرنا اور باطل کے قریب بھی نہ جانا۔
Ayah 2:186اللہ ” بندے “ کے اتنا قریب ہے کہ ” بندہ “ اتنا اپنے قریب بھی نہیں :
316: اسلام سے پہلے قوموں نے بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار تو کیا لیکن ذات باری کو انسان سے معنوی لحاظ سے بھی اس قدر دور رکھا کہ گویا انسان اللہ کا تصور بھی نہیں کرسکتا جب تک مادی شکل و صورت وہ اختیار نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے اپنے اللہ کو پانے کے لئے واسطوں اور وسیلوں کی شکل اختیار کی پھر اپنے اپنے خیال کے مطابق کسی نے بت اور مورتیاں بنائیں اور کسی نے سورج ، چاند اور ستاروں کی شکل میں اپنے اللہ کو دیکھنے کی کوشش کی۔ اسلام نے ان سب کو مخاطب کر کے کہا کہ یاد رکھو اللہ ظاہری شکل و صورت میں نظر آئے یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ اللہ نہ کوئی مادی شے ہے اور نہ ہی وہ نظر آسکتا ہے بلکہ جوا للہ کو نظر سے دیکھنا چاہے وہ سب سے زیادہ ظالم ہے کہ ایک ناممکن ہی نہیں بلکہ ممتنع چیز کو ممکن کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کبھی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اللہ کو کوئی ظاہری آنکھ دیکھ ہی نہیں سکتی اور ایسی کوئی شکل و صورت تصور کرنا جس میں اللہ نظر آئے یہی شرک کرنا ہے۔ اللہ کو صرف معنوی شکل ہی میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے لئے دور جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ انسان اپنے ہی اندر سے دیکھ سکتا بلکہ اس دیکھنے کے لئے تو ظاہری آنکھ کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ظاہری آنکھ سے تو اللہ دیکھاجا ہی نہیں سکتا اور معنوی لحاظ سے اللہ انسان کے اتنا قریب ہے کہ اتنا قریب انسان اپنی ذات کے بھی نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ قرب مادی یا مکانی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا اور پھر یہ کہ حق تعالیٰ کا یہ قرب اپنے بندوں سے تو ہمیشہ ہی رہتا ہے لیکن ماہ رمضان میں یہ قرب اور مخصوص صورت اختیار کرلیتا ہے اور یہ قرب ہے جس کو تعلق خاص کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اللہ کا قرب نصیب ہونے سے مراد ہے کہ اللہ سے تعلق خاص قائم ہوجائے۔
آپ بھی غور کریں کہ بندہ کی تسکین اور تسلی کا کس قدر سامان اس آیت کے اندر موجود ہے۔ ہمیں اپنے اللہ کو ڈھونڈنے کہیں اور نہیں جانا ہے وہ تو ہم سے قریب ہے کہ ہم سے متصل ہی ہے۔ گویا اللہ اور بندے کے درمیان فاصلہ موجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی فاصلہ ہو سکتا ہے۔ مزید غور کریں کہ آیت کے اندر متکلم کی ساری ضمیریں آیت میں بجائے جمع کے واحد ہیں یعنی عنی ، انی ، اجیب ، دعان ، دونوں صیغوں کا عموی فرق ملحوظ خاطر رہنا چاہئے کیونکہ صیغہ جمع اکثر قدرت ، عظمت اور قوت کا مظہر اور واحد اس کے برعکس التفات اور اختصاص و توجہ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پھر یہاں توجہ اور التفات ہی کی طرف اشارہ بھی ہونا چاہئے۔ آیت کے الفاظ سے دعا کی ترغیب بھی نکل آئی اور اشارہ اس جانب بھی ہوگیا کہ دعا بندہ کا کوئی سراسر خودغرضانہ اور دنیوی عمل نہیں بلکہ عین عبادت اور موجب تقرب الٰہی ہے اور ایک حدیث مبارک میں بھی یہ مضمون آیا ہے کہ جس کے لئے دعا کا دروازہ کھل جاتا ہے یعنی دعا کی توفیق ہوجاتی ہے اس کے لئے گویا رحمت ہی کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے : وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ 1ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ 0016 ” اور یقینا انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اس کے دل میں پیدا ہونے والے وساوس تک کو ہم جانتے ہیں اور ہم اس کی گردن رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ “
اور ایک جگہ ارشاد ہوا کہ : فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ0083 وَ اَنْتُمْ حِیْنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ0084 وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ 0085 ” سو جب جان حلقوم تک پہنچ جاتی ہے اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم اس مرنے “ والے کے تم سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تمہی نظر نہیں آتے۔ “
دین اسلام کی روح حقیقی یہی ہے کہ انسان سے کٹ کر صرف ایک اللہ کا ہو رہے۔ اس سے اپنی ہر مراد مانگے اور اسی کے آگے دست سوال دراز کرے۔ اس کی زندگی و موت اور اس کا اقدام ادبار یعنی آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا اس کی عبادت اور قربانی سب اسی کے لئے ہو۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ00162 لَا شَرِیْكَ لَهٗ 1ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ 00163 (الانعام 6 : 163 ، 164) ” اے پیغمبر اسلام ! کہہ دو میری نماز ، میرا حج ، میرا مرنا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلموں میں پہلا فرمانبردار ہوں۔ “
ایام رمضان میں روزوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ چونکہ ان ایام میں قرب الٰہی کی راہیں کھل جاتی ہیں اس لئے تم خدائے واحد سے دعا کرو کیونکہ بہت نور والی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا اور یہ نہایت ہی برکت والی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص ہے کہ وہی سب سے بڑھ کر سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ ایک حدیث شریف کا مضمون اس طرح ہے کہ ” ہر شب کے آخری ثلث میں الٰہ العالمین آسمان دنیا پر نزول اجلال فرما کر اعلان کرتا ہے کہ کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا کو استجابت بخشوں ، سوال کرنے والا ہے کہ اس کی نوازش کروں اور طلب مغفرت کے لئے کوئی مضطرب روح ہے کہ اس کو تسکین دوں۔
تمام مذاہب وادیان کی اصل اساس یہی دعا ہے ہر ملک اور ہر زمانہ کے نیک لوگوں اور راست باز انسانوں نے اپنے مقاصد مہمہ محض اس دعا کی بدولت حاصل کئے ہیں ۔ جب تمام ظاہری اسباب و وسائل ناکام رہے تو اس وقت بھی دعانے گرہ کشائی کی اور ان کی تمام تکالیف و مصائب دور ہوگئیں ۔ انبیائے کرام کی کامیابی کا راز بھی اس دعا ہی میں پنہاں تھا۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ : ” الدعاء مخ العبادۃ “ دعا حاصل عبادت ہے اور عصارہ بندگی ہے اور ایک جگہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ : ” الدعاھو العبادۃ “ دعا ہی دراصل عبادت ہے مگر اس کے متعلق حسب ذیل امور کا پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔
(ب) ہم اللہ تعالیٰ کو حاکم علی الاطلاق تسلیم کر کے دعا مانگتے ہیں اس لئے ضروری نہیں کہ ہر دعا قبول ہو کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ اس دعا کی قبولیت ہمارے حق میں مضر ہو۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا : بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ (الانعام 6 : 41) ” نہیں بلکہ اس کو پکارو اور اگر چاہے گا تو تمہاری مصیبت دور فرما دے گا۔ “
ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اس درجہ باحیاء اور کریم ہے کہ وہ کسی دعا کرنے والے کو خالی ہاتھوں واپس نہیں کرنا چاہتا مگر قبولیت دعا کے لئے یہ شرط یہ ہے کہ قلب غافل اور دل بےپروانہ ہو۔ “
ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ سے پورے یقین و ایمان کے ساتھ دعا مانگو ! وہ یقینا اس کو قبول فرمائے گا اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بےدلی اور بےرغبتی سے مانگی گئی دعاؤں کو کبھی قبول نہیں فرماتا۔ “ اور یہ بھی فرمایا کہ ” دعا مانگنے والے کو مانگتے ہی رہنا چاہئے اور یہ نہ کہنا چاہئے کہ میری تو دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ “ اس لئے کہ دعا کو قبول کرنے والا جانتا ہے کہ یہ دعا اس کے حق میں اچھی ہے یا نہیں ؟
(ج) بعض دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وجہ سے کہنا غلط ہے کہ دعا کا کوئی فائدہ نہیں۔ دیکھو ! ہم حالت مرض میں دوا استعمال کرتے ہیں بسا اوقات دوا مفید نہیں ہوتی مگر علاج ترک نہیں کرتے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ دعا قبول نہ ہونے پر اس کو ترک کردیا جائے۔ بلکہ ایک حدیث میں یہ فرمایا گیا کہ ہے کہ جو شخص اللہ سے دعا نہیں مانگتا اللہ اس پر غصہ ہوتا ہے۔ (ترمذی ، عن ابی ہریرۃ ؓ
د۔ اگر ہم کسی کو بتانا چاہیں کہ کھیتی کس طرح ہوتی ہے ؟ اور پودے کس طرح پھل دیتے ہیں ؟ تو اس کو مخصوص موسم ہی میں دکھائیں گے اسی طرح دعا کے بھی آداب و مراسم اور خاص مواقع ہیں جن میں اس کو شرف اجابت بخشا جاتا ہے۔ گذشتہ ذکر میں بھی بعض شرطوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اس ذیل میں ایک حدیث بھی سن لیجئے ! رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
(من سرہ ان یستجیب اللہ لہ عند الشدائد والکرب فلیکثر الدعاء فی الرخاء )
” جو شخص تکالیف ومصائب کے وقت اجابت دعا کا آرزو مند ہے وہ فراخی و فارغ البالی کے ایام میں بھی خوب دعا کرے۔ “
اس آیت کے آخری ٹکڑے نے یہ بات واضح کردی کہ ہمارے قانون کی کامل فرمانبرداری کرو گے تو دعا ضرور قبول ہو کر رہے گی۔ پس اگر واقعی میری طلب رکھتے ہیں تو چاہئے کہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ حصول مقصد میں کامیاب ہوں۔ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ 00186
Ayah 2:187رمضان کی راتوں میں فرصت کے اوقات ہوں تو ازدواجی تعلق کی ممانعت نہیں :
317: روزہ کے دو مقاصد کا تذکرہ گذشتہ آیات میں کیا گیا ہے اب تیسرے مقصد یعنی قانون کی پابندی پر بحث کی جاتی ہے کہ جو قانون صحیح اس کو دیا جائے گا بلا چون و چرا اس پر عمل کرنے کو تیار ہو تاکہ بد نظمی نہ ہونے پائے۔ اس جذبہ کی تربیت اور تکمیل حسب ذیل احکام سے کی جائے گی۔
اگر روزوں میں مشکل احکام کی پابندی کا اپنے آپ کو عادی بنا لیا تو پھر خواہ کیسا ہی سخت سے سخت اور وقت طلب قانون دیا جائے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ مسلمانوں کو دنیا بھر میں حق و صداقت کی نشر و اشاعت کرنا ہے۔ ہر قوم ان کی مخالفت کرے گی اور ان کو مٹا دینے کی فکر میں رہے گی ان مخالفین ومعاندین کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے خود مسلمانوں کو بھی تیار رہنا ہوگا۔ اس جنگی جذبہ کو بھڑکانے اور تیز کرنے کے لئے وافر کھانے پینے کی ضرورت ہوگی تاکہ تنومند اور صحت مند نوجوان بنیں اور فطری چیز ہے کہ جب قوت پیدا ہوتی ہے تو ہر قوت کا مصرف اپنا اپنا ہوتا ہے۔ قوت پیدا ہونے کے ساتھ ہی نکاح کی بھی ضرورت طبعی پیش آئے گی اگر یہود و نصاریٰ کی طرح اس قوت کو دبایا گیا تو وہی خرابیاں پیدا ہوں گی جو یہود و نصاریٰ میں پیدا ہوئیں ۔ کیا مسلمان بھی رہبانیت اختیار کریں ہے ؟ فرمایا ہرگز نہیں ، ماہ رمضان میں شب کے وقت اگر فرصت کے اوقات ہوں تو تم اپنی بیویوں کے پاس جاسکتے ہو اس سے ایک تو تمہارے اخلاق پر برا اثر نہ پڑے گا اور دوسرے اپنی ظاہری وجاہت اور زینت کو محفوظ رکھ سکو گے۔
جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہ ہوتا رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کا اتباع کیا کرتے تھے۔ چناچہ نزول رمضان سے قبل مدینہ میں آپ ﷺ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے نصاریٰ کا روزہ آٹھ پہر کا ہوتا تھا یا نصاریٰ نے مسلمانوں کو ضرور کہا ہوگا کہ ان کا روزہ آٹھ پہر کا ہوتا ہے۔ مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی صلوٰۃ عشاء تک کھا پی لیتے تھے اس کے بعد روزہ گویا شروع ہوجاتا یا کم از کم ازواجی فعل کو ممنوع خیال کرتے تھے حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ تھا۔
جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو اس وقت بھی ان کا وہی دستور رہا جو پہلے نفلی روزوں میں اپنا لیا گیا تھا ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات مشکل ضرور تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر نظر رحمت فرمائی اور مسلمانوں کو پوری وضاحت سے فرما دیا کہ دیکھو رات کا کھانا پینا اور اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز ہے اور اس فعل فطری کا منشاء یہ ہے کہ اولاد پیدا ہو تاکہ مسلمانوں کی جماعت میں ترقی ہو اور ساتھ ہی تمہارے مقاصد حیات کی بھی تکمیل ہوجائے۔
ازدواجی زندگی کے لیے لباس کے الفاظ کی خوبی :
318: ظاہر ہے کہ لباس اور جسم کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہ سکتا۔ یعنی دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ جب ایک دوسرے کے زوج ہوگئے تو دونوں کے درمیان اب پردہ کیا رہ گیا ؟ اس کو دراصل پوشیدہ راز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک ایسا راز ہے جو کسی دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ میں بھی نہیں۔
ازدواجی زندگی کا اصل مقصد اسلام کی نظر میں :
319: ازدواجی زندگی کا اصل راز یا اصل مقصد صرف شہوت پرستی نہیں بلکہ نیک اولاد کی خواہش ہے۔ اسلام کے نزدیک نیک اولاد کی خواہش انسان کا اصل مقصد ہونا چاہئے اور ازالہ شہوت تو ہو ہی جائے گا۔ اس خواہش میں بہت سی چیزیں پوشیدہ ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں انسان کا کوئی فعل بےکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر فعل کا کوئی مقصد اور مدعا ہونا ضروری ہے اور پھر جتنا مقصد بلند ہوگا اتنی ہی اس کی خواہش یا چاہت اچھی ہوگی۔ اب اللہ نے اس ازدواجی فعل کے نتیجہ میں صرف ازالہ خواہش ہی نہیں رکھا بلکہ اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز بھی اس فعل کے نتیجہ میں ملتی ہے ۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اولاد کی تلاش اور خواہش کے لئے جب ازدواجی وظیفہ ادا ہوگا تو یہ ایک بلند مقصد ہے ازالہ خواہش کے مقابلہ میں۔
روزہ کی حدود کا اعلان الٰہی :
320: اس میں یہ بتا دیا گیا کہ کھانے پینے اور ازدواجی تعلق سے کس وقت تک انسان کو رکنا چاہیے ” الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ “ کے معنی تو سفید دھاگہ ہیں لیکن اس جگہ مراد صبح کی سفید دھاری ہے جس کو صبح کو سپیدی یا صبح صادق کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ دن کی سفیدی رات کی سیاہی سے الگ ہوجائے یعنی دونوں میں امتیاز کی لکیر ظاہر ہوجائے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے سیاہ اور سفید دھاگا پاس رکھ کر وقت کا اندازہ لگانا چاہا کہ جب سفید دھاگے اور سیاہ میں امتیاز ہوگا تو گویا وہ سمجھے کہ اب روزہ کا وقت شروع ہوگیا۔ لیکن یہ بات سن کر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : (انما ذلک بیاض النھار وسواد الیل) پس حدود روزہ متعین ہوگئیں کہ ابتدائی وقت کا روزہ وہ ہے جسے ہماری زبان میں صبح صادق یا پو پھٹنا کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے اور انتہائی وقت ” اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ 1ۚ“ رات کے شروع ہوجانے تک ہے اور رات غروب آفتاب سے شروع ہوجاتی ہے اس لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ کا وقت متعین ہوگیا جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ ستاروں کے نکلنے یا رات کی سیاہی آنے کا انتظار کرتے ہیں وہ دراصل ” لیل “ کے اصل معنوں سے ناواقف ہیں یا صرف فرقہ بندی کو ہوا دینے کے لئے ضد یا ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں۔
تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اس طرح حدود وقت متعین کرنے میں ایک وسعت موجود ہے لہٰذا ایک دو منٹ دیر ہوجانے سے کوئی قیامت بپا نہیں ہوجاتی اور جان بوجھ کر اگر کسی طرف سے لیٹ نہ کیا جائے تو وقت کی رفتار بتاتی ہے کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سے اضافے کر لئے ہیں جو کسی حال میں درست نہیں اور خواہ مخواہ کی موشگافیاں کبھی امت کے لئے نفع مند نہیں ہوسکتیں۔
حالت اعتکاف میں مزید پابندیوں کی اطلاع :
321: اعتکاف کی حالت ایک خاص حالت ہے جس میں کچھ مزید پابندیوں کی اطلاع دی جا رہی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہوئی کہ معتکف کا مسجد میں رہنا ضروری ہے اور مخصوص حوائج و ضروریات کے علاوہ مسجد سے باہر نکلنا مناسب نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ معتکف کے لئے روزہ ضروری ہوا۔ روزہ گیا تو اعتکاف بھی گیا۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب معتکف ہو توازدواجی تعلقات کی ان دونوں میں ممانعت ہوگئی۔
اعتکاف ” عکوف “ سے ہے جس کے معنی : الاقبال علی الشیٔ وملازمۃ علی سبیل التعظم لہٗ ، یعنی کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا یا جھکنا اور اس کے ساتھ لگ جانا یا اس پر ٹھہر جانا اور اعتکاف اصلاح شریعت میں رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مسجد کے اندر ٹھہرنے کا نام ہے اور یہ بھی احادیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے آخری رمضان المبارک میں بیس دن کا اعتکاف فرمایا تھا۔
عورتوں کا اعتکاف
رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کی ازواج مطہرات (علیہ السلام) کا اعتکاف مسجد میں ثابت ہے علاوہ مسجد کے عورتوں کے گھر میں اعتکاف بیٹھنے کی کوئی روایت کتب احادیث میں کم از کم میری نظر سے نہیں گزری۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات (علیہ السلام) کا اعتکاف مسجد میں ثابت ہے۔ تاہم فقہاء اسلام نے اس کی سختی سے ممانعت کی ہے اور اس کا حل یہ نکالا ہے کہ گھر ہی کے کسی گوشہ میں ہونا چاہئے جسے نماز و عبادت کے لئے مخصوص کرلیا جائے جس کی تفصیل کتب فقہ میں ملے گی مثلاً : ہدایہ ، شرح و قایہ اور درمختار وغیرہ۔
حدود اللہ کے قریب جانا مناسب نہیں :
322: یہ نہیں فرمایا کہ ان حدود سے تجاوز نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے قریب نہ جانا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقام سے معصیت کی حد شروع ہوتی ہے عین اسی مقام پر یعنی اس کے آخری کناروں پر گھومتے رہنا آدمی کے لئے خطرہ سے خالی نہیں ہوگا۔ سلامتی اس میں ہے کہ آدمی سرحد سے دور ہی رہے تاکہ بھولے سے بھی قدم اس کے پار نہ چلا جائے۔ یہ مضمون ایک حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : (لکل ملک حمی وان حمی اللہ محارمہ فمن وقع حول الحمی یوشک ان یقع فیہ) ” حمی “ عربی زبان میں اس چراگاہ کو کہتے ہیں جسے کوئی رئیس یا بادشاہ پبلک کے لئے ممنوع کردیتا ہے ۔ اس استعارے کا استعمال کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : ہر بادشاہ کی ایک حمی ہوتی ہے اور اللہ کی حمی اس کی وہ حدود ہیں جن سے اس نے حرام و حلال اور طاعت و معصیت کا فرق قائم کیا ہے۔ جو جانور حمی کے قریب ہی چرتا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک روز وہ حمی کے اندر داخل ہوجائے۔ “ افسوس ہے کہ جو لوگ ناواقف ہیں وہ ہمیشہ اجازت کی آخری حدود تک ہی جانے پر اصرار کرتے ہیں اور بہت سے علماء و مشائخ بھی اسی غرض کے لئے یہ سندیں ڈھونڈکر جواز کی آخری حدیں انہیں بتایا کرتے ہیں کہ وہ اس باریک امتیاز ہی پر گھومتے رہیں جہاں طاعت و مصعیت کے درمیان محض بال برابر فاصلہ رہ جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بکثرت لوگ معصیت اور معصیت سے بڑھ کر ضلالت میں مبتلا ہو رہے ہیں جو کسی حال میں بھی درست نہیں ہے۔ چاہئے کہ وہ ” فَلَا تَقْرَبُوْهَا 1ؕ“ کے الفاظ کو ہر وقت نگاہ میں رکھیں اور اپنا رویہ خود ہی بدل دیں جو ایک خوبی کی بات ہے۔
Ayah 2:188ناجائز طریقوں سے ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ :
323: قانون بنانے کے دو ہی مقصد ہو سکتے ہیں :
ایک یہ کہ جھگڑے کثرت سے ہوں۔ عدالت کو مداخلت کا موقع ملے اور حکومت کی جانب فیصلے لے جانے کے لئے لوگ مجبور ہوں۔ اس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ فریب کا دروازہ کھل جائے ، کذب آفرینی میں ترقی ہو اور جھوٹے مقدمات سے عدالت کو فرصت ہی نہ ملے غیراسلامی قانون خواہ کہیں نافذ ہو اور کسی نے بنایا ہو حقیقت اس کے بنانے سے یہی ہے مشاہدہ کرنے کے لئے لئے دور نہ جاؤ خود اپنے ملک کے اندر دیکھ لو عدلیہ کا کاروبار کیا ہے اور انتظامیہ کیا کررہی ہے ؟
دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں میں جھگڑے کم ہوں۔ اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ پہلے قوم کے اندر صحیح کیر کڑ پیدا کیا جائے۔ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے اور احتساب عمل کا خوف دل میں ہو۔ اس صورت میں ہر معاملہ کا فیصلہ ان کی دیانت اور امانت پر چھوڑ دیا جائے۔ حکومت کو صرف خاص خاص حالتوں میں مداخلت کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ قرآن کریم یہی چاہتا ہے اور اس کا قانون یہی مقصد عظمیٰ پیش نظر رکھتا ہے اور اس گئے گزرے دور میں بھی اچھی طرح دیکھ لو کہ جہاں قرآن کریم کا قانون نافذ ہے وہاں جھگڑے اور دوسرے باقی قضیے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں قرآن کریم کے قانون کی کوئی یا کسی حد تک صورت باقی ہے تو وہ صرف سعودیہ ہی ہے اور پوری دنیا کے مقابلہ میں آج بھی جرائم اور دوسرے ہر قسم کے جھگڑے دوسری دنیا کے مقابلہ میں وہیں کم ہیں۔
اس آیت میں قرآن کریم نے دراصل تمام ان مباحث اور فقہی مسائل کو بیان کردیا ، جو کتب فقہ کے صدہا اوراق میں بھی نہ سما سکے۔ قرآن کریم نے روزوں کو فرض کیا کہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے وہ حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اپنے اندر عادت پیدا کریں تاکہ آئندہ ناجائز طریق سے حاصل کیا ہوا مال ان کے نزدیک حرام ہو اور اس سے پرہیز کریں۔
” لَا تَاْكُلُوْۤا “ اکل سے ہے اور اکل یہاں لفظی معنی میں نہیں یعنی اس سے صرف کھانا مراد نہیں بلکہ کسی طرح بھی اپنے تصرف میں لے آنا مراد ہے ۔ اردو محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ فلاں صاحب روپیہ کھا گئے ۔ انہوں نے مکان تک کھالیا ۔ گھر کا جتنا زیور اور زمینیں وغیرہ تھیں سب ہضم کر گئے۔ اس طرح محاورہ کی صورت میں دو مختصر لفظوں میں تقویٰ مال کی ساری تعلیم آگئی۔ ہر خیانت سے احتیاط کی تاکید اور ہر قسم کی امانت و دیانت کا حکم۔ پھر اکل باطل کی تمام صورتوں سے پرہیز جس میں قمار ، غصب ، حق تلفی ، کم تولنا ، کم ماپنا ، لوگوں کی اشیاء میں کھوٹ ملانا سب داخل ہوگئے۔ وہ مال جو مالک سے بغیر اس کی خوشدلی کے حاصل کیا جائے یا مالک اگر خوشدلی سے دے رہا ہو لیکن خود شریعت نے اس مد کو ناجائز قرار دیا ہو۔
اَمْوَالَكُمْ “ خطاب تمام مسلمانوں سے ہے اور حکم کے مخاطب تمام افراد امت ہیں جس کا اصل مفہوم ” اپنا مال “ سے نہیں بلکہ ” ایک دوسرے کا مال “ سے ظاہر ہوگا۔
” بَیْنَكُمْ “ کے دائرہ کی وسعت میں ساری نسلآدم آگئی اور صرف مسلمانوں کے مال تک حکم محدود نہ رکھا۔ مسلم یا کافر کسی کا بھی مال دغا ، فریب اور ظلم وغیرہ سے لینا جائز نہ رہاصرف کافر حربی کے مال پر تصرف و تسلط جائز ہے وہ بھی جنگ کی حالت میں یعنی جب اعلان جنگ ہوچکا ہو اور وہ بھی خاص خاص قیود کے ساتھ۔ رشوت ، جعلسازی اور خیانت کافر حربی کے معاملات میں بھی درست نہیں ہے۔
دنیا کی کوئی عدالت بہتر ہو اور کوئی حاکم عادل سے عادل ہوبہر حال دنیوی فیصلے علم غیب کی بنا پر نہیں روئداد مقدمہ ہی کی بناء پر صادر ہوں گے اور پھر ان میں غلطی ، لغزش ، ناانصافی ، دھوکے کا احتمال ہر وقت ہے۔ آیت اسی حقیقت کی طرف توجہ دلا رہی ہے کہ جو حق ہے وہ عند اللہ حق ہی رہے گا اور جو ناحق ہے وہ اللہ کے ہاں ناحق ہی میں شمار ہوگا اگرچہ حکام کا فیصلہ اس کے برعکس ہی ہو۔ قاضی کے فیصلے حق کو ناحق اور ناحق کو حق نہیں بنا سکتے۔ اصل شے انسان کی توجہ ولحاظ کے قابل خود اس کا ضمیر اور تقویٰ ہے۔ حدیث میں اس مضمون کی صراحت بہت زور کے ساتھ آچکی ہے اور مفسرین نے بھی اس کو خوب صاف کردیا ہے۔ بلکہ جو لوگ اپنی چرب زبانی سے ، سخن سازی سے ، اپنے ” اثر “ و ” پیروی “ سے جھوٹ مقدمات جیت جائیں انہیں اور زیادہ ڈرنا چاہئے کہ ان پر علاوہ دوسرے جرائم کے فریق ثانی کی حق تلفی کا ایک مزید جرم حاکم عدالت کو فریب میں مبتلا کرنے کا بھی عائد ہوتا ہے۔
” تُدْلُوْا بِهَاۤ “ تدلوا۔ ادلاء کے معنی کنوئیں میں ڈول ڈالنے اور پھر مجازاً کسی چیز کو کہیں پہنچانے یا اسے ذریعہ یا وسیلہ بنانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ مال کو حاکم تک پہنچا کر اپنی رسائی اور اثر و رسوخ پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ اور رشوت وغیرہ مالی تحفہ وتحائف سے حاکم پر اثر نہ ڈالو۔ اسلامی حکومت قائم ہونا اور اسلام کے سارے قانون دیوانی وفوجداری کا نافذ کرنا تو خیر بڑی چیز ہے قرآن کریم کی صرف اس آیت پر اگر آج عمل درآمد ہوجائے تو جھوٹے وعدوں ، جعلی دستاویزوں ، جھوٹی گواہیوں ، جھوٹے حلف ناموں ، اہل کاروں اور عہدہ داروں کی رشوتوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کی خدمات میں نذرانوں اور شاندار دعوتوں کا وجود کہیں باقی نہ رہ جائے۔
” بِالْاِثْمِ “ گناہ کا لفظ عام ہے۔ ہر قسم کے معصیتیں جو عدالتی کارروائیوں اور انتظامی معاملات کے سلسلہ میں کام میں لائی جاتی ہیں اس کے تحت آجاتی ہیں اور فریقاً کے معنی اس جگہ پارٹی یا گروہ کے نہیں بلکہ حصہ یا جزو کے معنی ہیں۔ یعنی مال کا ایک حصہ یا ایک جزو۔
ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حجرہ کے دروازہ کے قریب لوگوں کو جھگڑتے سنا ، تو آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور فرمایا ” میرے پاس مقدمہ آتا ہے ، مدعی اپنی چرب زبانی سے دعویٰ ثابت کردیتا ہے ، حالانکہ حق دوسری جانب ہوتا ہے ۔ میں اس بیان کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ نافذ کردیتا ہوں ۔ مگر وہ یہ سمجھ لے کہ ایک مسلمان کا مال ناجائز طریق سے لینا آگ کو لینا ہے ” فانماھی قطعۃ من النار “ اب وہ آزاد ہے اسے قبول کرے یا چھوڑ دے۔
چلتے چلتے ایمانداری کے ساتھ ذرا غور کرلو کہ ان آیات کو اگر مرنے والوں کے سرہانے بیٹھ کر پڑھا جائے یا تیسرے اور ساتویں کی رسموں پر ان کو مذہبی مجالس یا سیاسی مجالس کی زینت یا برکت کے لئے تلاوت کیا جائے یا عدالتوں میں ان کے قطعات لکھوا کر آویزاں کئے جائیں آخر ان ساری چیزوں کا کوئی فائدہ ؟ جب کہ زندہ لوگوں نے ان آیات کی روشنی میں اپنے آپ کو درست نہ کیا تو پھر جھوم جھوم کر پڑھنے کا اجر کیا ؟
Ayah 2:189قمری حساب کی افادیت :
324: شرعی مسائل ہوں یا دنیوی معاملات ان کا حساب کتاب کن مہینوں کے مطابق بہتریا آسان ہے۔ شمی یا قمری ؟ جواب یہ کہ شمسی حساب میں بڑی دقتوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی۔ اگر طلوع و غروب کے لحاظ سے اس میں معمولی سا تغیر ہوتا ہے تو عام نظریں اس کو محسوس نہیں کرسکتیں۔ اس کے لئے اعلیٰ ترین محاسبوں کی ضرورت ہے۔ جنتریوں اور کیلنڈروں کے بغیر کام نہیں چل سکتا اور ایسے دیہات و قصبات بکثرت ملیں گے جہاں کے لوگ تہذیب و تمدن کے نام سے نا آشنائے محض ہیں۔ وہاں عمدہ ترین حساب دانوں کا ملنا تکلیف سے خالی نہیں ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے واسطے قمری ہی مناسب ہے۔ ان کا مذہب یعنی دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور تمام عالم کی طرف روئے سخن ہے چاند کی شکلوں میں جلد جلد تغیر ہوتا رہتا ہے۔ ہر طرح کا انسان وہ تعلیم یافتہ ہو یا جاہل اس فرق کو دیکھ کر اوقات معین کرسکتا ہے۔ وہی تغیرات ضبط اوقات کا کام دیں گے۔ چناچہ امت مسلمہ کے موسس اول سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے قمری حساب کے مطابق حج کے ایام مقرر کئے ہیں۔
اگر حساب شمسی ہوتا تو اس میں یہ بھی ایک تکلیف رہتی کہ رمضان و حج کے جو اوقات مقرر ہوجاتے وہی رہتے ہیں ان میں موسم کے لحاظ سے تغیر و تبدل نہ ہو سکتا۔ اگر ایک قوم اس دوام کی وجہ سے آرام میں ہوتی تو دوسری کو ہمیشہ مصیبت برداشت کرنا پڑتی۔ اب قمری حساب کے سال بھر کے مختلف موسموں میں ان فرائض کو ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور ہر قوم ان سے بہرہ اندوز سعادت ہوتی رہتی ہے۔
بات کوئی ہو رہی ہو اور مخاطب خواہ کون ہو قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ وہ بات کرتے وقت ایسا انداز اختیار کرتا ہے کہ اس کی ہر بات سے توحید کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ لہٰذا اس کا ایک ایک فقرہ توحید کے اعلان اور شرک کی تردید میں ہے۔ دنیا میں مشرک قومیں کثرت سے قمر پرستی میں مبتلا رہی ہیں اور بعض ہلال پرستی میں بھی۔ نئے چاند کو دیوتامان کر اس کی پوجا کثرت سے کی گئی ہے اور بڑھتے چاند کو مبارک اور اترتے چاند کو منحوس سمجھنے کا رواج تو آج نہ معلوم کتنے مسلمان گھرانوں میں بھی موجود ہے اور ہندوستان سے شائع شدہ جنتری کو چاہے آج اٹھا کر دیکھ لو اس کے کتنے خانے اس سے بھرے ہوئے نظر آئیں گے کہ فلاں تاریخ فلاں کام کے لئے سعد اور فلاں تاریخ نحس ہے۔ قرآن کریم نے عروج وزوال قمر کی یہ غایت بتا کر کہ وہ انسان کے کام آنے والی چیز ہے۔ ہلال پرستی اور اس کے ماتحت سارے خرافات کی جڑہی
کاٹ دی۔
احمق انسان ! تو چاند کی کیا پوجا کرے گا چاند تو خود تیری خدمت کے لئے ہے اور یہی حال سورج اور ستاروں کا ہے اس میں لوگوں کے لئے اوقات ہیں یعنی ان کے معاملات دنیوی میں بھی اور حسابات شرعی میں بھی سنہ قمری میں دنوں ، تاریخوں ، مہینوں کا حساب چاند کے عروج وزوال سے ہوتے رہنا تو ظاہر ہی ہے اگر اس کی حکمتوں پر غور کیا جائے تو اس میں بہت کچھ پوشیدہ ہے لیکن فی زماننا چونکہ اس کا رواج بالکل متروک ہوگیا ہے اس لئے ہمارے لئے اس میں آسانی نظر نہیں آتی اور غور کرنا۔ سوچنا اور ہر معاملہ کی گہرائی میں اترنا اس کے حسن و قبح پر نظر رکھنا بحث کر کے اس کی افادیت اجاگر کرنا بدقسمتی سے یہ ہماری قوم پر اس وقت گویا ممنوع ہوچکا ہے۔
اس قدرتی جنتری پر غور کرو جو آسمان پر نمودار ہو کر دنیا بھر کے لوگوں کو بیک وقت ان کی تاریخوں کا حساب بتاتی رہتی ہے۔ حج کا ذکر خاص طور پر اسلئے فرمایا ہے کہ عرب کی مذہبی ، تمدنی اور معاشی زندگی میں اس کی اہمیت سب سے بڑھ کر تھی۔ سال کے چار مہینے حج وعمرہ سے وابستہ تھے ۔ ان مہینوں میں ویسے ہی لڑائیاں بند رہتی تھیں۔ راستے محفوظ ہوتے تھے اور امن کی وجہ سے کاروبار زندگی فروغ پاتے تھے۔
اس مضمون کو ایک اور جگہ بھی قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے :
وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ 1ؕ(یونس 10 : 5)
” وہی ہے جس نے چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھہرایا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ “
ارشاد ہوتا کہ چاند کی طرف دیکھو جس کی گردش کی 28 منزلیں مقرر کردی ہیں اور اسی سے تم مہینے کا حساب کرتے ہو اور برسوں کی گنتی معلوم کرتے ہو۔ غور کرو کہ اگر یہ سب کچھ بغیر مصلحت کے نہیں ہے تو کیا ممکن ہے کہ انسان کا وجود بغیر کسی مصلحت و غرض کے ہو ؟ اور صرف اس لئے ہو کہ کھائے پئے اور مرکر ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائے ؟ اندازہ کرو تفہیم کرانے کا کیا پیارا انداز ہے۔
پھر قرآن کریم میں تعصب نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ عربوں کی سادگی کے پیش نظر ان کو چاند کی افادیت اور اس پر حساب و کتاب کا انحصار کرنے کی ترغیب کے باوجود شمسی حساب کو بھی برا نہیں جانا اور نہ ہی اس کی کوئی تردید فرمائی بلکہ ایک جگہ سورج کو بھی اس افادیت کے لئے بتایا گیا ہے چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ 1ؕ(بنی اسرائیل 15 : 12) ’ اور دیکھو ہم نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ وہ دو نشانیاں ہوگئیں۔ سو رات کی نشانی دھیمی کردی اور دن کی نشانی روشن کردی کہ تم اپنے پروردگار کا فضل ڈھونڈو نیز برسوں کی گنتی اور حساب بھی معلوم کرلو۔ ‘ ‘
زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کی تردید :
325: زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ احرام باندھنے کے بعد حاجی کا گھر میں جانا ممنوع خیال کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی ضرورت پیش آجاتی جس سے گھر جانا ضروری ہوجاتا تو اس کے لئے مکان کی پشت کی جانب سے نقب لگا کر اندر آتے اور اس کو باعث ثواب سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لغو اور مہمل حرکت ہے اس کو تم نے کہاں سے حاصل کرلیا ؟ بہتر تو یہ تھا کہ تم محرمات الہٰیہ سے پرہیز کرتے اللہ کا ڈر دِل میں رکھتے اور پھر اگر تم دروازہ میں سے اپنی ضرورت کے لئے گھر کے اندر جاتے تو گناہ کی بات کیا ہوتی ؟
اس آیت میں نہ صرف اس رسم کی تردید کی گئی ہے بلکہ ان کے تمام اوہام پر یہ کہہ کر ضرب لگائی گئی ہے کہ نیکی دراصل اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنے کا نام ہے۔ ان بےمعنی رسموں کا نیکی سے کیا واسطہ ہوا ؟ یہ گویا باپ دادا کی اندھی تقلید ہے جس کا انسان کی سعادت سے کوئی تعلق نہیں اگر کوئی تعلق ہو سکتا ہے تو اس کی بد بختی اور ہلاکت ہی کا ہو سکتا ہے۔
یہ نیکی نہیں بلکہ ایک طرح کی بدعت ہوئی اور بدعات کے ناجائز ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں کو فرض و واجب کی طرح ضروری سمجھ لیا جاتا ہے یا بعض جائز چیزوں کو حرام و ناجائز قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس آیت سے ایسا کرنے کی ممانعت واضح طور پر ثابت ہوگئی جس سے ہزاروں اعمال کا حکم معلوم ہوگیا اور کتنی ہی اس طرح کی بدعات اور بدشگونیاں جو ہماری بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر آج بھی موجود ہیں اور علماء سوء ہیں جو ان کے جائز کرنے کی سندیں تلاش کر کے قوم کو ان مزید پختہ کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو ان بد شگونیوں اور اس طرح کی آبائی رسومات سے نکال کر ہدایت کی دعوت دی اور قوم کو ان ادہام سے نکال کر جہاد جیسے اہم فرض منصبی کے لئے تیار کرنا شروع کیا۔
Ayah 2:190جہاد فی سبیل اللہ کا حکم عام :
326: پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا۔ مکہ مکرمہ کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگزر ہی کی تلقین تھی۔ ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اسی آیت کریمہ میں قتال کفار سے جہاد کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کفار سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آئیں یعنی میدان جنگ میں۔
حقیقت اس کی یہ ہے کہ تمام دنیا مسلمانوں کی جولا نگاہ ہے کرہ ارض میں اس وقت صرف اور صرف ایک نبی یعنی محمد ﷺ کی نبوت جاری ہے۔ اب کسی نبی کا آنا ممکن نہیں رہا کیونکہ ختم نبوت کا اعلان ہوچکا ہے ۔ اب اس صفحہ زمین کی ہدایت کے لئے امت مسلمہ ہی کی ذمہ داری ہے اور مسلمانوں ہی کو کرہ ارض کے گوشہ گوشہ میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنا ہے تاکہ : خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے مصداق حقیقی بن جائیں مگر جس وقت حق و صداقت کی دعوت کے لئے وہ نکلیں گے تو دوسری قومیں ضرور ان کی راہ ترقی میں رکاوٹ پیدا کریں گی کیونکہ ہر ایک قوم میں اپنی زندگی کا عشق اور بقا کی محبت رکھی گئی ہے ۔ تنازع للبقاء کا قانون کائنات ارضی کی ہرچیز میں موجود ہے۔ دنیا میں زندہ رہنے کا بیشک سب کو حق ہے لیکن عقل و فکر کی بات سننا اور پھر عقل و فکر ہی سے اس کا جواب دینا یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے لیکن اس فطرت سے انسان اکثر گریز کرتا ہے۔ اسلام کی دعوت عام تو عقل وفکر ہی کی دعوت ہے لیکن اس دعوت کے جواب میں دوسری قومیں عقل و فکر سے کام نہیں لیتیں اور بزور بازو اس دعوت کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں تو ملت اسلامیہ پر بھی واجب ہے کہ ان کے اس زور کا جواب پوری طاقت و قوت کے ساتھ دے جس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہ جہاد۔
جنگ دونوں طرف سے ہوگی بلکہ اسلام ہمیشہ مدافعتی لڑائی ہی لڑتا ہے کبھی پہل نہیں کرتا لیکن اسلام کی یہ تمام تر جنگ صرف کلمہ حق کی بلند اور نفاذ کے لئے اور جھوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ سچ کو نافذ کرنے کے لئے ہوگی۔ نہ تو حمیت قومی اس کا سبب ہوگا اور نہ شہرت و ناموری کی بنا پر اس قدر خونریزی جائز رکھی جائے گی بلکہ جو کچھ ہوگا فتنہ کو مٹانے کے لئے تاکہ دین پورے کا پورا اللہ کے لئے ہوجائے۔ پھر اسلام نے کوئی کام آج تک بےاصولا نہیں بتایا ہر ایک کام کے لئے اصول و ضوابط مقرر کئے۔ مسلمان کہلانے والے بےاصولے ہوجائیں یہ دوسری بات ہے۔ اسلام نے اس نازک موقع پر پہنچ کر بھی جس میں زندگی و موت کا سوال ہے اصولوں کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا فرمایا کہ صرف ان لوگوں سے یہ جنگ لڑی جائے گی جو تمہارے مقابلہ کے لیے میدان جنگ میں نکلیں گے جس سے مراد اصل یہ ہے کہ عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور مذہبی عبادت میں مصروف لوگ یعنی راہب وپادری ، اپاہج اور معذور بلکہ سب لوگ جو کفار کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ہاں یہ اپنے لڑنے والے کفار کی مدد کریں تو یہ گویا ان کے ساتھ شریک سمجھے جائیں گے کیونکہ ارشاد الٰہی خود ان ساری باتوں کی وضاحت کر رہا ہے فرمایا : ” الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ “ یعنی وہ لوگ جو تم سے لڑائی لڑتے ہیں۔
پھر یہ اصول جہاد کا حکم دیتے ہی ساتھ بیان کردیا کچھ مدت بھی اس کا انتظار نہیں کیا اور اب تک یہ اصول اسلام کا جاری وساری ہے خود رسول اللہ ﷺ کی ہدایات جو مجاہدین اسلام کو بوقت جہاد کیں ان میں اس حکم کی واضح تشریحات موجود ہیں چناچہ صحیح بخاری اور مسلم میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ایک حدیث میں ہے :
( نھی رسول اللہ ﷺ عن قتل النساء والصبیان) ” یعنی رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ ‘ ‘
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ بعض لوگ غنیمت کی خاطر جنگ کرتے ہیں۔ بعض کا مطمع نظر شہرت و ناموری ہوتا ہے۔ کسی کا مقصد عزت و وقار ہوتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ کون سی بات ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” فی سبیل اللہ “ اس شخص کی جنگ کو کہا جائے گا جو صرف کلمۃ اللہ کی بلندی یعنی دین الٰہی کی خاطر لڑا۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ ایک شخص ” جہاد فی سبیل اللہ “ میں شریک ہوتا ہے مگر دنیا عزت و کرامات اور جاہ و حشمت کا طالب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو ذرہ برابر بھی اجر نہ ملے گا۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ انہوں نے قوم اور وطن کو توحید خالص کے لئے قربان کیا تو پیشوائی عالم کے لئے چن لئے گئے۔ پس یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جہاد کی اصل غرض وغایت صرف اعلاء کلمۃ اللہ ہونا چاہئے اور جنگ صرف ان لوگوں سے ہو جن سے مخالفت کا اندیشہ ہے جو اسلام کو تباہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حکومت اسلام کا فرض ہے فوراً قتل کر دے۔ اگر انہیں مہلت دی اور وہ اس درمیان آلات حرب سے مسلح ہوگئے تو کامیابی کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ البتہ ان لوگوں سے تعرض کرنے کی ضرورت نہیں جو فطر ۃً جنگ کرنے سے عاجز ہیں ان میں لڑنے کی استعداد و قابلیت ہی نہیں اور نہ وہ کسی قسم کی تیاری کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ اگر ان سے بھی جنگ شروع کردو گے تو یہ تمہاری زیادتی تصور ہوگی اور ہماری برکتوں کا سلسلہ تمہارے لئے بند ہوجائے گا۔
اسلام کا حکم جہاد آنے سے پہلے بھی قومیں اس صفحہ ہستی میں موجود تھیں اور باہم جنگ و قتال بھی جاری تھا لیکن سب قوموں میں اس بات کا رواج تھا کہ جب جنگ جاری ہوگئی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں سب کے سب کو تہ تیغ کردیا جاتا بلکہ جانوروں تک مار ڈالا جاتا تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اکثر اوقات کھیت ، باغات اور گھروں کا تمام مال و متاع آگ کی نذر کردیا جاتا یہ صرف اور صرف اسلام کی خصوصیت ہے کہ وہ عین انتہائی جوش وغضب کے موقع پر بھی اعتدال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور بار بار تقویٰ و طہارت اور عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ فتح مکہ اور سیدنا عمر فاروق ؓ کا داخلہ بیت المقدس اور علاوہ ازیں بیسیوں امثال و نظائر اس کے موجود ہیں۔