Ayah 2:253گروہ انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت کا بیان :
422: رسولوں کی فضیلت کا ذکر اس جگہ کس تعلق سے شروع ہوگیا ؟ پچھلی آیت میں فرمایا تھا : ” لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ “ اے پیغمبر اسلام ! تم رسولوں میں سے ایک ہو اور یہاں فرمایا ان رسولوں کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ گویا فرمایا جا رہا ہے کہ تم رسولوں میں سے ایک رسول ہو اور سب پر فضیلت رکھتے ہو اور یہ کوئی بات ایسی نہیں جو خلاف واقعہ ہو اس لئے کہ رسولوں کو ایک دوسرے پر فضیلت ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا 0055 (الاسراء 15 : 55) اور یہ اشارہ یہاں اس لئے کیا کہ متعدد موقعوں پر رسول اکرم ﷺ کی فضیلت کا ذکر ہوچکا تھا مثلاً آپ کل جہانوں کی طرف مبعوث ہونے والے ہیں اور آپ ﷺ کے سوا ایک نبی بھی ایسا نہیں آیا جو تمام جہانوں کے لئے مبعوث ہوا ہو ۔ اس طرح آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم کو سب کتابوں پر فضیلت ہے۔ آپ ﷺ سے پہلے کی شرائع کو لوگوں نے اپنی طرف سے ردو بدل کرلیا تھا آپ ﷺ اس کے منسوخ کرنے والے ہیں نیز یہ کہ آپ ﷺ تمام مذاہب عالم کے جھگڑوں میں فیصلہ کرنے والے ہیں اور دوسرے تمام انبیاء پر گواہی دینے والے ہیں۔
اس جگہ اس تذکرہ کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ یہاں حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور نبوت دونوں دینے کا ذکر آیا تھا جو دوسرے انبیائے بنی اسرائیل پر ان کی ایک فضیلت تھی اس لئے رسول اللہ ﷺ کی فضیلت کا ذکر کیا کیونکہ آپ ﷺ کو بھی نبوت کے ساتھ بادشاہت ملنے والی تھی۔ ہاں ! ایک کو دوسرے پر فضیلت دینے سے یہ منشا نہیں کہ وہ دوسرا ناقص ہے نہیں ، ہرگز نہیں بلکہ وہ چیز جو وہ کامل انسانوں کو ایک دوسرے سے تمیز کرتی ہے یا کوئی زائد بلند مرتبہ دیا جاتا ہے وہی اس کی فضیلت ہے۔ اس سے یہ بات ضرور ملتی ہے کہ کمال انسانی کے بھی مختلف مدراج ہیں۔
ایک اور بات اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اس فضیلت کا ذکر سلسلہ موسویہ کے دو عظیم الشان انبیاء داؤد اور عیسیٰ کے درمیان کیا ہے۔ حضرت داود (علیہ السلام) ظاہری شان و شوکت کے لحاظ سے ان انبیاء میں سب سے بڑھ کر ہیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اخلاقی اور روحانی تعلیم کے لحاظ سے نبی کریم ﷺ ان دونوں پہلوؤں سے دونوں سے بلند تر ثابت ہوئے۔ علاوہ ازیں ان دونوں نبیوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق جو پیشگوئیاں کی ہیں ان میں آپ ﷺ کی آمد کو خدا کی آمد قرار دیا ہے دیکھو زبور 110 اور متی 21 : 43 ، 44 گویا باوجود اپنے اپنے کمالات ظاہری اور باطنی کے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے کمالات ظاہری و باطنی کو اس بلند مرتبہ پر پایا کہ آپ ﷺ کی ہر دو شانوں میں خدا کی شان نظر آئی۔
نبی کریم ﷺ کی یہ فضیلت جس کا ذکر اس لطیف پیرایہ میں کلام الٰہی میں پایا یاتا ہے وہ ان احادیث کے برخلاف نہیں جن میں ایسے الفاظ آتے ہیں کہ : ” مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت مت دو یا یہ کہ یونس بن متی پر فضیلت نہ دو “ کیونکہ وہ خاص خاص موقعہ کی باتیں ہیں۔ مثلاً بخاری شریف میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی میں کسی بات پر تکرار ہوگئی تو باتوں ہی باتوں میں یہودی نے کہا : ” قسم ہے اس خدا کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ’ مسلمان کو ضبط نہ ہوسکا اس نے اٹھ کر یہودی کو تھپڑ ماردیا کہ اوخبیث ! کیا ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی موسیٰ (علیہ السلام) افضل ہیں ؟ یہودی نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر شکایت کی تو اس وقت آپ ﷺ نے اس مسلمان سے فرمایا کہ : ” مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دو “ اسی طرح کے اور واقعات بھی ہیں جن کے متعلق آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا۔ ظاہر ہے کہ یہ جواب آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا نہ کہ حقیقت کے طور پر۔ پھر ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک دوسرے پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اور یہ کسی حال میں بھی جائز نہیں ۔ یہ بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی اپنی طرف سے کیونکہ اس میں تعصب کی بُو آتی ہے۔ کیونکہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تم انسانوں کے بس کا کام نہیں ، بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو اس لئے کہ تمہارا کام تسلیم کرنا ہے اور ایمان لانا ہے۔
جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا :
423: اب گویا اس فضیلت دینے کی مزید تشریح فرما دی کہ ” ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا “ جیسا کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ کے ساتھ ہوا۔ ورنہ ایک معنی کے لحاظ سے تو جس نبی پر بھی وحی آئی اللہ کا مکالمہ اس سے ہوگیا۔ فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی تلاش میں نکلے تھے اور جہاں آگ دکھائی دی اس طرف بڑھتے گئے لیکن جو کچھ دیکھا درحقیقت وہ نہ تھا یعنی آگ نہیں تھی اور وہاں پہنچتے ہی وہ مکالمہ شروع ہوگیا جو ظاہری صورت میں تو طویٰ کی مقدس وادی میں کھڑے تھے جو طور سینا کا مشرقی گوشہ تھا لیکن جہاں سے آواز آرہی تھی وہ دراصل دل کے اندر ہی تھا اور خارج ازدل کچھ بھی نہ تھا زیادہ گہرائی میں نہ جائیں یہ مقام بڑا نازک ہے صرف یہ یادرکھیں کہ اس مکالمہ کا مقام دل ہی ہوتا ہے اور کوئی مقام نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ وحی الٰہی کے نزول کا مقام دل ہی ہے اور یہ سننا بھی ظاہری کان کی سماعت کا سننا نہیں بلکہ دل کے کان سے سننا ہے۔
اشارہ ہے جامع کمالات خاتم نبوت ﷺ کی طرف :
424: یہی وہ مقام ہے جس میں دراصل رسول اللہ ﷺ کی فضیلت و برتری کا اظہار کرنا تھا کہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ ﷺ ہی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ : ” ارسل الی الناس کا فۃ بشیرا و نذیرا “ آپ ﷺ ہی وہ رسول ہیں جو تمام انسانیت کی طرف بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کئے گئے ۔ یہ مقام کسی اور نبی کو میسر نہ آیا۔ آپ ﷺ کی تعلیم میں گذشتہ تمام صداقتوں کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ۔ آپ کی ذات اقدس میں نوح (علیہ السلام) کی سی سرگرمی ! ابراہیم (علیہ السلام) جیسی نرم دلی ، یوسف (علیہ السلام) جیسی درگزر۔ داؤد (علیہ السلام) کی سی فتوحات۔ یعقوب (علیہ السلام) کا سا صبر۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی خاکساری ، زکریّا (علیہ السلام) کا سازہد اور اسماعیل (علیہ السلام) کی سی سبک روحی و حلاوت کلامی موجود ہے۔
اے کہ برتخت سیادت ز ازل جا داری ۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
ابن مریم کی کنیت کا اصل راز :
425: قرآن کریم کا انداز تخاطب معجزانہ ہے اس کے ایک ایک لفظ میں حکمت کے دریا بہتے ہیں اندازہ کیجئے کہ مریم کی شخصیت ہے جس سے یہودیت کو اتنی کد اور اتنا بیر ہے کہ اس کا نام آتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں قوموں کی زندگی میں ایسی باتیں ہوتی آئی ہیں اور ہو رہی ہیں دورنہ جاؤ کبھی سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا نام نامی کسی غالی قسم کے شیعہ کے سامنے لے کر اندازہ کرلو کہ کیفیت کیا ہوتی ہے ؟ آخر سیدہ عائشہ ؓ نے ان کا کیا قصور کیا ہے ؟
دوسری طرف عیسائی ہیں کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو انسانوں کی صف سے اٹھا کر اللہ کے ساتھ بٹھا دیا اور برملا کہنے لگے کہ عیسیٰ انسان نہیں بلکہ وہ تو اللہ یا اللہ کا بیٹا اور اللہ کا ایک جز ہیں اور اس عقیدہ کی پختگی کے لئے انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کا لقب دے دیا اور اب عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو بندہ و انسان کہے اس سے وہ نفرت کرنے لگے۔
اسلام ان دونوں گروہوں کی افراط وتفریط کو قبول نہیں کرتا ان کے ساتھ بحث ومناظرہ میں الجھنا بھی پسند نہیں کرتا اس نے بڑے میٹھے انداز میں سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو کنیت ” ابن مریم “ رکھ دی۔ ان دونوں گروہوں یعنی یہود و نصاریٰ کو کچھ نہ کہا لیکن وہ سب کچھ کہہ دیا جس کو وہ ایک لمحہ بھی برداشت نہ کرسکتے تھے۔ پھر غور کرو کہ کیا کہا ” ابن مریم “ یعنی مریم نامی اس خاتون اول کے فرزند ارجمند کو یہود اس قدر ناپسند کرتے ہیں کہ اس کا نام نہیں لینا چاہتے عیسیٰ (علیہ السلام) اسی کے بیٹے ہیں اور اللہ کے برگزیدہ نبی و رسول بھی جو نہ خدا تھے نہ ‘ خدا زادہ یعنی ابن اللہ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بایں شرف و سروری بہرحال ایک انسان اور بشری گوشت و پوست رکھنے والی عورت کے گوشت رکھنے والے بیٹے تھے ۔ نہ خدا تھے نہ خدا زادے الوہیت کا کوئی سا بھی جزو ان میں نہ تھا۔ انہیں خدا یا خدا کا بیٹا ٹھہرالینا نری جہالت تھی اور ان ساری باتوں کی وضاحت کے لئے ضرورت تھی انہیں صراحت کے ساتھ ” ابن مریم “ کہنے کی کہ محض اس نشاہدی اور پتہ ہی سے یہودیت اور نصرانیت دونوں پر ضرب لگ جائے ورنہ نام تو اور بھی پیغمبروں کے لئے گئے ہیں کہیں ابن فلاں کر کے تعارف نہیں کروایا گیا۔ نہ ابن داؤد نہ ابن ابراہیم ، نہ ابن اسحاق ، نہ ابن یعقوب ، نہ ابن زکریا اور نہ ابن عمران اس طرح تعارف صرف ابن مریم ہی کے لئے مخصوص ہے کہ انہیں کے لئے الہیت اور ابن الہیت کی تردید کی ضرورت تھی۔ ان کی والدہ ماجدہ کی بزرگی اور طہارت کا اعلان بھی اتنا ہی ضروری تھا۔
ابن مریم کی تائید روح القدوس سے :
426: پوری دنیائے انسانیت کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو کسی کا محتاج نہیں۔ یہودیت ہو یا نصرانیت سب کو اس کا اعتراف ہے اور اس اعتراف کے باوجود پھر ایسے نظریات رکھتے ہیں جس سے ان کے اس نظریہ کی کھلی تردید ہوتی ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ یا اللہ کا بیٹا کہنے والے بھی اسی بات کو تسلیم کرتے ہیں اس نظریہ کہ جبرئیل (علیہ السلام) کی تائید مسیح کو حاصل تھی۔ ” اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ “ کے الفاظ کہہ کر بھی اس عقیدہ کا رد کردیا کہ مسیح نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے بلکہ اللہ ہی تو ان کا مددگار ہے اور وہی قادر مطلق ہے یعنی ان الفاظ سے اس حقیقت پر روشنی پڑگئی کہ عیسیٰ مسیح بایں ہمہ کمالات و فضائل کے بہرحال انسان ہی تھے اور وہ دوسرے انسانوں کی طرح دفع ضرر اور حصول نفع دونوں کے محتاج تھے اور اللہ کریم نے جو قادر مطلق ہے اپنی قدرت کا ملہ سے ان کی محافظت وتقویت و رفاقت کے لئے اپنی ایک دوسری مخلوق جو لطیف اور غیر مرئی بھی ہے اس کو مقرر فرمایا کہ اس کی محافظت کرے۔ قرآن کریم اور اسلام کی اصلاح میں اس سے مراد فرشتہ ، اعظم جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جو ملکوتی طاقتوں اور قوتوں میں سب سے بڑی طاقت وقوت ہے۔
زیر نظر آیت کے الفاظ نے بھی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق یہ ثابت کردیا کہ وہ رسول برحق اور موید من اللہ تھے نہ کہ نعوذباللہ کوئی مفتری و کذاب جس طرح یہودیت نے سمجھا اور ان کے حق میں تفریط سے کام لیا اور آپ کو ایک بازی گر اور شعبدہ باز قرار دیا اور اس طرح نصاریٰ نے آپ کے حق میں افراط سے کام لیتے ہوئے حد عبدیت و عبودیت میں سے باہر نکال کیا اور اللہ یا اللہ کا بیٹا کہنے لگے۔
” الْبَیِّنٰتِ “ بینات کے تحت وہ تمام نشانیاں اور دلیلیں آگئیں جنہیں دیکھ کر ہر ایک عقل سلیم والا منصف مزاج نبوت عیسوی کا قائل ہوجائے کہ استعارات اور محاورات و ضرب الامثال میں باتیں انبیاء (علیہم السلام) ہی کرتے رہے تاکہ لمبی چوڑی تقاریر کرنے اور بات سے بات نکالتے جانے کے بجائے مختصر الفاظ میں اس انداز سے بات کی جائے کہ سامعین کے لئے دلنشیں ہو اور وہ اس سے عبرت و مؤعظت حاصل کریں۔
مشیت ایزدی میں لوگوں کے نہ جھگڑنے کا فیصلہ ہوتا تو وہ کیوں جھگڑتے ؟
427: مشیت ایزدی کا فیصلہ یہ تھا کہ انسان کو مکلف بنایا جائے اور وہ اپنے کیے کا جواب دہ ہو۔ ایک حد تک اس کو ایک کام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ لہٰذا اس نے اپنے فیصلہ مشیت کے مطابق انسان کو تخلیق کیا اور انسانون کو بنایا ہی ایسا گیا ہے کہ اس کے اندر قوائے مختلفہ جمع ہوں جن سے اس کی تمام ترقیاں پیدا ہوتی ہیں اور قوائے مختلفہ کے غلط استعمال سے ہی جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس لئے : ” وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا 1۫“ کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو ایسانہ بناتا اور اس کے قوائے مختلفہ نہ ہوتے مگر اس کی مشیت کا یہی فیصلہ تھا اور اس نے یہی چاہا کہ وہ دوسری مخلوق سے بڑھ کر ترقی کرے اس لئے قوائے مختلفہ اسی کے اندر رکھے اور ” یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ (رح) 00253 “ کے اس جگہ دو مفہوم ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس میں اشارہ ہے کہ ارادہ الٰہی یہی ہے کہ انہیں قویٰ کے اچھے استعمال سے وہ نیک نتیجہ پالیتا ہے اور برے استعمال سے برا۔ دوسرا یہ کہ ارادہ الٰہی یہی ہے کہ کل دنیا کے جھگڑوں اور اختلاقوں کے فیصلے کے لئے ایک رسول کل دنیا کے لئے بھیجا جائے وہ وہی ہے جس کے متعلق دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ارسل الی الناس کافۃ بشیرا و نذیرا ‘ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ہی وہ رسول ہیں جو پوری انسانیت کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے۔
انبیاء کے بعد لوگ پھر آپس میں اختلاف کرنے لگے :
428: فطرت انسانی تو محض خیر و نیکی پر ہی پیدا کی گئی تھی مگر خارجی اثرات ضلالت اور باد صر صر کے تیز و تند جھونکوں نے جو مختلف قویٰ کی وجہ سے لازم تھے اس کے آئینہ فطرت کو گرد آلود کردیا۔ تعلیم صحیح ان لوگوں کے پاس آئی کہ اپنی فطرت اصلیہ کو قائم رکھیں مگر ان لوگوں نے اختلاف پیدا کر کے اپنے آپ کو تباہ کردیا دراصل بتایا جا رہا ہے کہ قوم میں فرقہ بندی قومی تباہی کے مترادف ہے اور اس فرقہ بندی میں وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو عموماً انبیاء کرام کی تعلیم اور خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم سے انحراف کرتے ہیں۔ یہاں اس حقیقت کو بیان کردیا کہ چونکہ مشیت الٰہی سب کو اضطراراً ایک ہی دین پر جمع کرنے کی نہ تھی اس لئے حکمت کاملہ نے اس عالم کو عالم ابتلاء ہی رکھنا چاہا اس لئے خلقت کا باہم مختلف ہونا بھی ناگزیر رہا کہ اختلاف کرنے والے یہاں بھی اس کا مزہ چکھیں اور آخرت میں عذاب کی لپیٹ میں لپیٹ لئے جائیں۔
” اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ آپس میں نہ لڑتے “ کا مطلب کیا ؟
429: مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے علم حاصل ہوجانے کے بعد جو اختلاف لوگوں کے درمیان رونما ہوئے اور پھر صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ اختلاف سے آگے بڑھ کر لڑائیوں تک جو نوبتیں پہنچیں تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ معاذ اللہ خدا بےبس تھا اور اس کے پاس ان اختلافات اور لڑائیوں کو روکنے کی طاقت نہ تھی ، نہیں اگر وہ چاہتا تو کسی کی مجال نہ تھی کہ انبیاء کی دعوت سے سرتابی کرسکتا اور کفر و بغاوت کی راہ چل سکتا اور اسکی زمین میں فسادو برپا کرسکتا۔ مگر اس کی مشیت یہ تھی ہی نہیں کہ انسانوں سے ارادہ واختیار کی آزادی چھین لے اور انہیں ایک خاص روش پر چلنے کے لئے مجبور کر دے۔ اس لئے امتحان کی غرض سے انہیں زمین پر پیدا کیا تھا اس لئے اس نے ان کو اعتقاد و عمل کی راہوں میں انتخاب کی آزادی عطا کی اور انبیاء کرام کو لوگوں پر کو توال بنا کر نہیں بھیجا کہ زبردستی انہیں ایمان و اطاعت کی طرف کھینچ لائیں بلکہ اس لئے بھیجا کہ دلائل اور بینات سے لوگوں کو راستی کی طرف بلانے کی کوشش کریں۔ پس جس قدر اختلافات اور لڑائیوں کے ہنگامے ہوئے وہ سب اس وجہ سے ہوئے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ارادے کی آزادی جو عطا کی تھی اس سے کام لے کر لوگوں نے یہ مختلف راہیں اختیار کرلیں نہ اس وجہ سے کہ اللہ ان کی راستی پر چلانا چاہتا تھا مگر معاذ اللہ اسے کامیابی نہ ہوئی۔
Ayah 2:254قومی حیات حکومت سے وابستہ ہے اور حکومت کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے :
430: ” رَزَقْنٰكُمْ “ میں ضمیر متکلم لا کر اور رزق کو اپنی طرف منسوب کر کے صاف بتا دیا کہ مال و دولت جو کچھ بھی بندوں کے پاس ہے خودبخود سے نہیں بلکہ اللہ ہی کا بخشا ہوا عطیہ ہے اس لئے اس کو حق حاصل ہے کہ جن کاموں میں چاہے ان میں صرف کرنے کا حکم دے دے۔ فرمایا قومی حیات وابستہ ہے حکومت و خلافت کے ساتھ جس کی بقاء استحکام کے لئے ہر وقت روپیہ کی ضرورت ہے۔ اس لئے زمین میں گاڑنے اور بینکوں میں جمع کرنے کی بجائے اپنی دولت خلافت کی نذر کر دو جو سب سے زیادہ روپیہ صرف کرے گا اس کی اللہ کے ہاں بھی قدر ہوگی اور اس زندگی میں بھی وہ اچھا ہی گنا جائے گا اور اگر دنیا میں اسکا کوئی اجر نہ بھی مل سکا تو آخرت میں تو بہر حال اس کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہوجائے گی اور یہی روپیہ تمہیں عذاب ِالیم سے نجات دلائے گا۔ جو لوگ خلافت کی مدد نہیں کرتے وہ نادانی وجہالت میں مبتلا ہیں اور اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اگر مسلمانوں کی حکومت نہ رہے گی تو ان کو زندگی کا کیا لطف آئے گا۔
ذرا الفاظ آیت پر غور کیجئے ” ظلم “ ظلم کے اصلی معنی کسی شئے کو اس کے صحیح مقام پر نہ رکھنے کے ہیں۔ اللہ یا اس کے قانون کونہ ماننے سے بڑھ کر کو نسا ظلم انسان کا اپنے حق میں ہوگا۔ لَّا بَیْعٌ : جاہلی اور نیم جاہلی قوموں کی گمراہیاں ایک سے بڑھ کر ایک عجیب رہی ہیں۔ مشرک قومیں تو سرے سے روز اجر کی قائل ہی نہیں۔ اہل کتاب نے اس کے وقوع کو مانا تو اس میں بھی یہ میخیں لگا دیں کہ وہاں بھی دنیا کی طرح لین دین ہوسکے گا۔ کوئی کسی سے نیکیاں خرید لے گا کوئی کسی کے ہاتھ اپنی بدیاں فروخت کردے گا۔ قرآن کریم نے اس ساری لغو خیالی کا خاتمہ کردیا۔ ” وَ لَا خُلَّةٌ “ خلہ ، گہری اور دلی دوستی کو کہتے ہیں ۔ یہاں مقصود ایسی دوستی کے نافع ہونے کا ابطال ہے جو ایمان کے بغیر کام دے سکے اور کفر کے مجرم کو نجات دلا سکے۔ اہل کتاب نے سمجھ رکھا تھا کہ یہاں کی حسبی نسبی رشتہ داریوں اور ذاتی و خانگی دوستیوں سے وہاں کام چل جائے گا۔ جب گہری اور دلی دوستی کے نافع ہونے کی نفی ہوگئی تو محض زبانی رسمی ظاہری تعلق کا لا حاصل ہونا تو اور زیادہ ظاہر ہے ” وَّ لَا شَفَاعَةٌ 1ؕ “ پہلی دو گمراہیاں بھی نصاریٰ میں تھیں لیکن یہ تیسری گمراہی تو مسیحیت کی خصوصیات میں سے ہے۔ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ” ابن اللہ “ کی حیثیت شافع مطلق کی ہے ۔ انسان کے قالب میں انہوں نے اس لئے توجنم لیا تھا کہ اپنی جان کا فدیہ سب گنہگاروں کی طرف سے دے کر اور سب کی طرف سے صیلب پر اپنے خون کا چڑھاواچڑھا کر قیامت میں شافع مطلق کی حیثیت سے ظاہر و نمودار ہوں گے اور ان کی شفاعت سب کے حق میں نجات کا حکم قطعی رکھے گی۔ آج ہمارے ہاں کے عام واعظوں اور نعت گو شاعروں نے شفاعت مصطفویٰ پر حد سے زیادہ زور دینا شروع کر رکھا ہے اس کا دراصل ماخود یہی مسیحیت ہے اسلام نہیں کیونکہ اسلام تو اس کی کھل کر تردید کرچکا ہے اور کر رہا ہے۔
Ayah 2:255اللہ ہی معبود حقیقی ہے اور اس کو کبھی فنا نہیں :
431: اللہ کے نفس وجود کے قائل تو جاہلی مذاہب بھی ہوئے ہیں البتہ وہ اس معبود اعظم جیسے ہندوؤں کی اصطلاح میں ایشور کے علاوہ تحتانی معبودوں اور دیوتاؤں کے بھی قائل رہے ہیں۔ یہ تعلیم اسلام ہی کی ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی اور خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ تو معبود اعظم ہے باقی چھوٹے چھوٹے معبود اور بھی موجود ہیں۔
اسلام کہتا ہے کہ انسان بالطبع آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی ذات ہے جس کی غلامی کرنا انسان کے لئے باعث صد ہا فخر و امتیاز ہے ۔ وہی ایک قوت قدس ہے جو تمام زمین و آسمان میں مصروف عمل ہے ۔ اصل میں ذکر حقیقی صرف اللہ کا ذکر ہوتا ہے مگر جب بدبختان نوع انسانی اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرنے لگیں تو ذکر الٰہی توحید سے بدل جاتا ہے یعنی اللہ کا اثبات اور غیر اللہ کی نفی گویا توحید کے سوا کوئی چیز مطلوب نہیں۔
دنیا میں جس قدر چیزیں ہیں مادہ اور صورت سے ترکیب دی گئی ہیں۔ جس صفت الٰہی کے عکس سے صورتیں بنتی ہیں اس کو ” حی “ سے تعبیر کرتے ہیں اور جس پر مادوں کی انتہا ہوتی ہے اس کا نام قیوم ہے۔ ” حی “ جو زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشتا ہے اور ” قیوم “ جو خود قائم ہے اور دوسروں کے قیام کا موجب ہے نظم و نسق قائم کرنے والا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ آیا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا 1ۚ۬ وَ لَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ 1ؕ اِنَّهٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا 0041 (فاطر 35 : 41)
” بلاشبہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے (اپنے قانون کے مطابق) کہ وہ (اِدھر ادھر) ہٹ نہ جائیں اور اگر یہ ہٹ جائیں تو اس کے سوا کوئی ان کو تھام نہیں سکتا بلاشبہ وہ بہت بردبار بخشنے والا ہے۔ “
گویا یہ دونوں صفاتی نام ” اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ہُوَ 1ۚ“ کی شرح و تفسیر ہیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ غزوئہ بدر میں رسول اللہ ﷺ نہایت ہی الحاح و تضرع کے ساتھ ” یاحی یا قیوم “ بار بار پڑھتے تھے کہ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں اسلام زندہ وقائم رہے۔
اللہ ہی کی ذات ہے جو اونگھ سے بھی پاک ہے :
432: یہود و نصاریٰ کے عقائد میں سے یہ بھی ایک عقیدہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب چھ روز میں آسمان اور زمین کو بنا ڈالا اور وہ سب کچھ بھی جو ان کے درمیان ہے تو ساتویں دن اسے سستانے اور آرام لینے کی ضرورت پڑگئی۔ اسلام کا خدا دائم بیدار ، ہمہ خبردار ، غفلت ، سستی اور تھکن سب سے ماوراء ہے۔ وہ اگرچہ ہرچیز کو زندگی بخشتا ہے اور زمین و آسمان کا قیام اس کی ذات کے ساتھ وابستہ ہے مگر باوجود اس کے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ قوتوں کے اضمحلال اور ضعف وناروانی کی وجہ سے اس پر اونگھ طاری ہو بلکہ وہ برابر مصروف عمل رہتا ہے۔ کمزوری اور نقاہت کا نام و نشان اس میں نہیں۔ اس پر تعطل و بیکاری کا زمانہ نہیں آتا اور نہ کام کرتے کرتے اس کو آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے بلکہ وہ اونگھ اور نیند سے پاک ہے۔
آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے :
433: یعنی ساری کائنات کی ملکیت وما لکیت صرف اسی کی ہے۔ کوئی اس صفت میں اس کا شریک نہیں اور اس کی ملک سے مخلوق کا کوئی گوشہ اور کوئی شعبہ خارج نہیں ۔ زمین و آسمان میں جس قدر چیزیں ہیں سب پر اس کا قبضہ ہے اور وہی ہر انسان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اگر تم نے ایسے باجبروت بادشاہ کی مخالفت کی تو یاد رہے اس کے دربار میں کسی شفاعت کرنے کی جرات نہ ہوگی ، مگر ہاں ! جس کو وہ خود نجات دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے لئے کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت دے دے۔ حقیقت یہ ہے کہ شفاعت کی ضرورت وہاں محسوس ہوتی ہے جس جگہ حاکم کو واقعات کا پورا علم نہ ہو اور اللہ کو تو ایک ایک ذرہ کی خبر ہے۔ اس کے علم کا کون احاطہ کرسکتا ہے ۔ ہاں وہ خود ہی اپنے علم کے بحر ناپیدکنارا میں سے کسی کو ایک قطرہ نوازش کردیتا ہے۔ مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی انسان کو اتنا علم دے دے جتنا خود اس کو ہے۔
عرشِ الٰہی ہر ایک چیز کو محیط ہے :
434: اصل میں لفظ ” کرسی “ کرسی استعمال ہوا ہے جسے بالعموم حکومت واقتدار کے لئے استعارے کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اردو زبان میں بھی اکثر کرسی کا لفظ بول کر حاکمانہ اختیارات مراد لئے جاتے ہیں۔ اس جگہ بھی مطلب یہی ہے کہ حکومت و بادشاہت تمام آسمان و زمین کو گھیرے ہوئے ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے دائرہ حکومت سے نکلنے کی کوشش کرے اور وہ نکل بھی سکے دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ :
یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا 1ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ0033 (الرحمٰن 55 : 33) ” اے جن وانس اگر تمہاری طاقت میں ہے کہ زمین و آسمان کے مدبرات و ملکوت کے اندر سے اپنی راہ پیدا کر کے آگے نکل جاؤ تو اس کے لئے اپنی کوشش کر کے دیکھ لو لیکن یاد رکھو ! کہ بغیر سلطان الٰہی کے کچھ بھی نہ کرسکو گے۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ جہاں بھی جاؤ گے حکومت اسی کی ہوگی۔ ” فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ 1ؕ“ زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ ان کی حفاظت سے نہیں تھکتا۔ اس کی ذات اقدس بہت بزرگ و برتر ہے اور انسانی فہم و ادراک سے وراء الوریٰ اور پھر وراء الوریٰ ہے۔ اس کے سامنے کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
زمین و آسمان کی نگرانی اس کو تھکا نہیں سکتی :
435: مشرک قوموں نے یہ فرض کرلیا ہے کہ اتنے وسیع اور لق ودق سلسلہ موجودات کی نگرانی تنہا خدا کہاں تک کرسکتا ہے اس لئے نعوذ باللہ وہ کبھی غافل بھی ہوجاتا ہے اور یہ کاروبار سنبھالنے کے لئے اس کو ضرورت شریکوں اور مددگاروں کی بھی پڑتی ہے یہاں اسی تخیل کی تردید کی جا رہی ہے کہ اسلام کا خدا ایسا نہیں جو تھک جائے اور اس کو نگرانی کے لئے اپنی جگہ کسی کو بٹھانا پڑے۔ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ کے ساتھ اس قسم کا رکھے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اور اس میں کمی نہ آنے دے کیونکہ تمام تر خرابیاں اور بربادیاں اسی چشمہ توحید کو چھوڑ دینا ہے۔ تمام مذاہب و ادیان کو اس توحید کے ماننے سے انکار نہیں ہو سکتا اور یہی اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اس آیت کو اپنی حکومت کے اطراف و جوانب میں شائع کر دے اور جملہ اقوام و ملل کو اس کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرے۔
یہ آیت ” آیۃ الکرسی “ کے نام سے معروف ہے :
436: قرآن کریم کی یہی وہ آیت ہے جو ” آیت الکرسی “ کے نام سے معروف ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بخشی گئی ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اس بناء پر حدیث پاک میں اس کو قرآن کریم کی سب سے افضل آیت قرار دیا گیا ہے۔
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا ذکر کس مناسبت سے آیا ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لئے ایک مرتبہ پھر اس تقریر پر نگاہ ڈال لیجئے جو رکوع 32 سے چل رہی ہے۔ پہلے مسلمانوں کو دین حق کے قیام کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے پر تیار کیا گیا اور ان کمزوریوں سے بچنے کی تاکید کی گئی جس میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے۔ پھر یہ حقیقت سمجھائی گئی کہ فتح و کامرانی کا مدار تعداد اور ساز و سامان کی کثرت نہیں بلکہ ایمان و صبر اور پختگی عزم پر ہے۔ پھر جنگ کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی حکمت وابستہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ دنیا کا نظام برقرار رکھنے کے لئے وہ ہمیشہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے دفع کرتا رہتا ہے ورنہ اگر ایک ہی گروہ کو غلبہ واقتدار کا دائمی پٹہ مل جاتا تو دوسروں کے لئے جینا دشوار ہوجاتا۔ پھر اس شبہ کو رفع کیا گیا ہے جو ناواقف لوگوں کے دلوں میں اکثر کھٹکتا ہے کہ اگر اللہ نے اپنے پیغمبر اختلاف کو مٹانے اور نزاعات کا سدباب کرنے ہی کے لئے بھیجے تھے اور ان کی آمد کے باوجود نہ اختلاد مٹے اور نہ نزاعات ختم ہوئے تو کیا اللہ ایسا ہی بےبس تھا کہ اس نے ان خرابیوں کو دور کرنا چاہا اور نہ کرسکا ۔ اس کے جواب میں بتا دیا کہ اختلاف کو جبراً رد کردینا اور نوع انسانی کو ایک خاص راستے پر بزور چلانا اللہ کی مشیت ہی میں نہ تھا ورنہ انسان کی کیا مجال تھی کہ اس کی مشیت کے خلاف چلتا۔ پھر ایک فقرے میں اس اصل مضمون کی طرف اشارہ کردیا گیا جس سے تقریر کی ابتداء ہوئی تھی ۔ اس کے بعد اب یہ ارشاد ہو رہا ہے کہ انسانوں کے عقائد و نظریات اور مسالک و مذاہب خواہ کتنے ہی مختلف ہوں بہر حال حقیقت نفس الامری جس پر زمین و آسمان کا
نظام قائم ہے یہ ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ انسانوں کی غلط فہمیوں سے اس حقیقت میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آتا مگر اللہ کا یہ منشا نہیں ہے کہ اس کے ماننے پر لوگوں کو زبردست مجبور کیا جائے جو اسے مان لے گا وہ خود ہی فائدے میں رہے گا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ خود ہی نقصان اٹھائے گا۔
Ayah 2:256دین میں جبرو اکراہ نہیں کیونکہ اس کا تعلق دل سے ہے :
437: دین کا تعلق اصلاً عقیدہ قلب سے ہے اور قلب پر جبرو اکراہ کی گنجائش ہی نہیں۔ اس لئے گویا یہاں اسی حقیقت کا اعلان ہے کہ ایمان کا تعلق اپنے ارادہ واختیار سے ہے جبرو اضطرار پر نہیں۔ مخالفین اسلام کو جب کوئی بات اسلام میں اس بیان کے خلاف نہ ملی تو انہوں نے جزیہ کو اسلام میں جبر کی اصل سمجھ لیا اور لگے شور کرنے حالانکہ اگر ذرا غور کرتے تو معلوم ہوجاتا کہ جزیہ کی مشروعیت عین اس کے برعکس خود اس کی دلیل ہے کہ مقصود اصلی قانون اسلام اور حکومت اسلام کو غالب رکھنا ہے نہ کہ فرداً فرداً فر کافر کو بہ جبر مسلمان بنانا۔ یہاں اکراہ کی نفی سے مقصود اکراہ فی نفسہٖ کی نفی ہے اس لئے بعض نے اس کے معنی ہی یہ لئے ہیں کہ دین میں اکراہ مت کرو۔
دنیا میں ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جن قوموں کے پاس صداقت اور سچائی کی کوئی چیز بھی نہیں ہوتی انہوں نے دوسروں کو اپنے قبضہ میں لانے ، اپنے اصول منوانے اور اپنا مطیع و فرما نبردار بنا نے کے لئے نیزوں کے پھلوں ، تلواروں کی دھاروں اور ہتھیاروں کی جھنکار سے فائدہ اٹھایا ہے اور قوت کے زور سے اپنے خیالات و افکار کی نشر و اشاعت کی ہے مگر اسلام ہی وہ سب سے پہلی آواز حق و صداقت ہے جس کو تبلیغ و دعوت کے لئے کسی طاقت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اس نے گمراہی و ضلالت اور ہدایت کو ایک دوسرے سے نمایاں کردیا۔ سعادت و شقاوت انسانی کی راہیں واضح کردیں کہ روشنی اور اندھیاری صاف صاف نظر آنے لگی نور و ظلمت میں فرق و امتیاز ہوگیا اور لسان الٰہی نے ہمیشہ کے لئے اعلان کردیا کہ ” لَاۤ اِكْرَاہَ فِی الدِّیْنِ 1ۙ۫“ حکومت اسلامی کا کام یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت نور و ظلمت اور اسلام و کفر میں ایسا فرق و امتیاز کردے کہ ہر شخص سمجھ جائے اور لوگوں کی ترغیب وتحریص کے سامان فراہم کر دے اور جو لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ان کی راہ سے رکاوٹوں کو دور کردے پھر جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ان کو پوری سختی کے ساتھ اسلام پر زندگی گزارنے پر مجبور کرنا اور اسلام کے خلاف مجبور نہ کرنے دینا جبر نہیں۔ جبر واکراہ کی نفی اسلام کے قبول کرنے کے لئے ہے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہ کیا جائے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ان کو اسلام کے قانون کا پابند بنانا اور قانون اسلامی کی خلاف ورزی نہ کرنے دینا ہر گزر ہرگز جبر نہیں ۔ اسلام قبول کرلینے کے بعد اسلام میں نئے نئے مذاہب اور فرقوں کی کوئی گنجائش نہیں اسلام اس فرقہ بندی کو ظلم اور شرک قرار دے چکا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اسلام کو قبول کرنے کے بعد اسلام کے اندر فرقہ بندیوں میں تقسیم ہوگئے اور دن بدن ہوتے ہی جا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ” لَاۤ اِكْرَاہَ فِی الدِّیْنِ 1ۙ۫“ کا یہ مطلب ہے کہ دین کے اندر جس کا جی چاہے جو فرقہ اختیار کرلے یا کوئی نیا فرقہ بنا لے اس پر کوئی حدبندی نہیں حالانکہ یہ سراسر جہالت ہے ظلم ہے عدوان ہے دین اسلام کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہے۔
علمائے اسلام کا فرض تو یہ تھا کہ وہ اس سلسلہ میں محتاط رہ کر حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور اسلامی حکومت کو یہ باور کراتے کہ اسلام کو دین مان لینے کے بعد پھر الگ الگ راہوں کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام خود ایک قانون اور ایک واضح راستہ ہے اور وہ اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سب مل کر اس کو مضبوطی سے تھام لیں اور متفرق نہ ہوں اور پھر جو تفریق ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہوچکی ہے اس تفریق کو مٹانے کے لئے کوئی قانون بنائیں اور یہ معلوم کریں کہ یہ تفریق کیوں ہوئی ؟ پھر جس وقت یہ تفریق ہوئی اس وقت دراصل حکومت اسلامی نہ رہی تھی اور عیسائی یلغار نے کسی کو ہوش نہ آنے دی اس نے اسلامی مماک کو اپنے قبضہ میں لے کر اس شیطنت کو پھیلایا تاکہ اسلام کا شیرازہ اس طرح بکھرجائے کہ ان کو آزادی دینے کے بعد بھی وہ کبھی ایک اسلام پر اکٹھے نہ ہوسکیں ان کی یہ شیطنت کامیاب ہوگئی۔ اسلامی ممالک آزاد ہونے لگے اور ہوتے ہی گئے آج یہ آزادی برائے نام آزادی ہے تاکہ صحیح معنوں میں آزاد ہونے کے لئے کسی کی سوچ ہی نہ رہے۔ اسلام آزاد نہیں بلکہ لوگ آزاد ہوگئے کہ جس کو چاہیں اسلام کہہ دیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں۔ بدقسمتی سے علمائے اسلام نے اس فرقہ بندی کی لعنت کو نہایت خوشی سے قبول کرلیا کیونکہ ان کی سیادت و قیادت جو اس سے چھن گئی تھی اور واپس آنے کی ان کو کوئی امید بھی نہ رہی کیونکہ چھن جانے والی چیز کو واپس لانے کے لئے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے انہوں نے اپنی سیادت و قیادت کو قائم رکھنے کے لئے یہ آسان طریقہ اختیار کرلیا ۔ حکوت جہنم میں چاہے جو کرے اور جو آئے اس کے ساتھ جو جائے ان کی بلا سے ان کا مطلب تو حل ہے کہ وہ اپنے فقہ کے خالصہ پروہت ہیں اور ان کا کام صرف یہ ہے کہ اس فرقہ بندی کو وہ خوب ہوا دیں اور مسلمانوں کو وہ قطعاً ایک نہ ہونے دیں بلکہ ہر فرقے کی جنگ دوسرے فرقے سے جاری رکھیں ان کو فتویٰ دیں کہ فلاں بھی کافر ہے اور فلاں بھی تاکہ کافروں کی طرف سے مسلمان منہ پھیر کر اپنے بھائیوں پر ہی وار کرتے رہیں اور جس کا ہاتھ پڑے دوسرے کو فنا کردے۔
آج آپ مذہبی رسائل کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں ان میں واضح سرخیوں کے تحت درج ہوگا کہ ہمارے گاؤں میں ماشاء اللہ اتنے آدمی دیو بندی ہوگئے ، بریلوی ہوگئے ، اہلحدیث ہوگئے ، شیعہ ہوگئے ، سنی ہوگئے ۔ پھر ان کے لئے دعائیں کی جائیں گی۔ ان کو مبارکبادیں پیش کی جائیں گی اور اپنے اپنے فرقہ والے ان کی پذیرائی کریں گے ان کے جہاد کو کامیاب جہاد قرار دیں گے۔ اگر آپ مزید غور کریں تو اب ان فرقوں کے اندر جو مزید گروہ بندیاں آچکی ہیں ان گروہ بندیوں کو اختیار کرنے والے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس چیز کا جتنا ماتم کیا جائے کم ہے اور اس کی حالت پر جتنے آنسو بہائے جائیں روا ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ کوئی ایسا بندہ پیدا فرما دے جو اس لعنت عظیم سے مسلمانوں کو نکال دے خصوصاً پاک وہند کے مسلمانوں کو جو اس سلسلہ میں پوری دنیا کے مسلمانوں سے آگے نکل گئے ہیں۔
طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لانا ہی اصل ایمان ہے :
438: جو شخص باطل کی پیروی سے باز آگیا اور دین اسلام کو قبول کرلیا اسے یقینا دنیا و آخرت میں ایک بڑا زبردست سہارا ہاتھ آگیا۔ طاغوت کے معنی بہت وسیع ہیں اس کا اطلاق ہر معبود باطل اور ہر سرکش پر ہوتا ہے۔ جس شخص نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے گویا طاغوت کو الہٰ مان لیا۔ اللہ کے نیک بندوں نے تو کبھی اپنی عبادت کے لیے نہیں کہا وہ اولیاء کرام ہوں یا انبیاء (علیہم السلام) ہر ایک کی صدا یہی تھی کہ ” لوگو ! رب کی عبادت کرو وہی ہمارا بھی معبود ہے اور تمہارا بھی۔ “ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ ، ان اللہ کے نیک بندوں میں سے بھی اگر کسی کی عبادت کی تو گویا شیطان ہی کی عبادت کی اس لئے کہ یہ شیطان ہی کی آواز پر لبیک کہا گیا۔ بندہ کا فاطر کائنات سے صحیح و نظری تعلق ہی کا نام دین اسلام ہے۔ یہی وہ زبردست سہارا ہے جس کے ہاتھ لگ جانے کے بعد زندگی کا ہر مرحلہ آسان ہوجاتا ہے اور ہر عقیدہ کامل بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے کے طور پر آخرت کی بھی منزلیں آسان ہوجاتی ہیں۔ اس ایک سہارے کے سوا باقی سارے سہارے ناقص ، بودے اور کمزور ہیں۔ محققین نے کہا کہ ” عُرْوَةِ الْوُثْقٰى “ نسبت مع اللہ حاصل ہوجانے کے بعد منقطع نہیں ہوتی۔
ہر چیز کا جاننے والا صرف اور صرف اللہ ہی ہے :
439: وہی ہے جو سننے والا ہے الفاظ و اقوال کا اور جانے والا ہے احوال و اعمال کا یعنی اللہ کو ظاہر و باطن ، کلی اور جزئی ہر قسم کا علم و اطلاع ہے۔ پھر جب اللہ کو معلوم ہے کہ تم نے طاغوت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے تو یقینا وہ تمہاری ترقی کے لئے عظیم الشان میدان کھول دے گا۔
Ayah 2:257کار ساز حقیقی اللہ ہی کی ذات ہے :
440: فرمایا گیا کہ اہل ایمان کے بگڑے کام بنا نے والی۔ آڑے وقت ان کے کام آنے والی اللہ ہی کی ذات ہے نہ کہ ابن اللہ یا کوئی دیوی دیوتا یا کوئی پیرو فقیر گویا یہ رد ہے نصاریٰ اور مشرکوں کا اور مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی غلامی کریں گے۔ ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی شیاطین اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ ظلمت چاروں طرف سے گھیرے گی ۔ قوانین الٰہی میں شبہات رونما ہوں گے لیکن ” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ“ کی ایک جلوہ نمائی ان تمام طواغیت کو فنا کردے گی۔ شکوک رفع ہوجائیں گے ۔ ہدایت و راہنمائی حاصل ہوگی۔ تمام رکاوٹیں حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گی۔ جب کوئی قوت حق کو دبانے کی کوشش کرے گی اس کو فوراً برباد کردیا جائے گا اور مسلم قانت اپنے آگے نور ہی نور دیکھے گا۔
دوسری جگہ فرمایا گیا :
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ0015 یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 0016 (المائدۃ 5 : 15۔ 16) ” اللہ کی طرف سے تمہارے پاس حق کی روشنی
آچکی اور ایسی کتاب آچکی جو ایک روشن کتاب ہے۔ اللہ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں پر جو اللہ کی خوشنودی کے تابع ہوں سلامتی کی راہ کھول دیتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں تاریکیوں سے نکالتا روشنی میں لاتا اور سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔ “
” ظلمت “ یعنی تاریکیوں سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں جن میں بھٹک کر انسان اپنی فلاح وسعادت کی راہ سے دور نکل جاتا ہے اور حقیقت کے خلاف چل کر اپنی تمام قوتوں اور کوششوں کو غلط راستوں میں صرف کرنے لگتا ہے اور ” نور “ سے مراد علم حق ہے جس کی روشنی میں انسان اپنی اور کائنات کی حقیقت اور اپنی زندگی کے مقصد کو صاف صاف دیکھ کر علی وجہ البصیرت ایک صحیح راہ عمل پر گامزن ہوتا ہے۔
پھر یہ بھی کہ ” ظلمات “ کو جمع اور ” نور “ کو واحد استعمال کیا گیا ہے جس سے واضح ہوگیا کہ سیدھا خط تو ایک ہی ہو سکتا ہے اور اسی طرح راہ راست بھی ایک ہی ہے ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی نور کا لفظ آیا ہے صیغہ واحد میں آیا ہے اور کفر و ظلمات کی قسمیں بیشمار ہیں اس لئے ظلمات کو صیغہ جمع لایا گیا۔
یہاں سرکش اور مفسد لوگوں کو طاغوت کہا گیا ہے :
441: ” طاغوت “ اس جگہ ” طواغیت “ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی اللہ سے منہ موڑ کر انسان ایک ہی طاغوت کے چنگل میں نہیں پھنستا بلکہ بہت سے طواغیت اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ ایک طاغوت تو شیطان ہے جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدا بہار سبز باغ پیش کرتا ہے دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس ہے جو اسے جذبات و خواہشات کا غلام بنا کر زندگی کے ٹیڑھے سیدھے راستوں میں کھینچے کھینچے لیے پھرتا ہے اور بیشمار طاغوت باہر کی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں بیوی ، بچے ، اعزہ و اقرباء ، برادری اور خاندان ، دوست اور آشنا ، سوسائٹی اور قوم ، پیشوا اور راہنما حکومت اور حکام یہ سب اس کے لئے طاغوت ہی طاغوت ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک اس سے اپنی اغراض کی بندگی کراتا ہے اور بیشمار آقاؤں کا یہ غلام ساری عمر اسی چکر میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا کو خوش کرے اور کس کی ناراضی سے بچے اور کیسے بچے ؟
اور جب فضا ہی ساری کی ساری ظلماتی ہو تو ظاہر ہے کہ شیطنت اور بدی کے محرکات کتنے بڑھ جاتے ہیں اور ایمان وتقویٰ کے محرکات کتنے کم ہوجاتے ہیں ۔ شیطان بدی کے چہرہ پر طرح طرح کے خوشنما نقاب ڈال کر اس کے نام طرح طرح کے خوبصورت رکھ لیتا ہے اور پھر ان کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگتا ہے یہاں تک کو جو اہل ایمان اور اہل تقویٰ ہیں وہی نکوبن کر رہ جاتے ہیں اسی کو اکبر نے ان الفاظ میں بیان کیا۔
مغوی کو بھی بدنہ کہئے ترغیب ہے یہ
کس سے میں کہوں کہ دل کی تخریب ہے یہ
شیطان کو رجیم کہہ دیا تھا ایک دن
ایک شور مچا خلاف تہذیب ہے یہ
ایک سچے مسلم کے لئے طاغوت کا کفر کرنا ضروری ہے :
442: اللہ پر ایمان لانا اسلام ہے لیکن یہ ایمان اسی وقت مقبول ہو سکتا ہے جب طاغوت کا کفر کیا جائے ۔ دنیا کے پاپولر لوگوں کی طرح جو دونوں طرف برابر برابر چلنے کے عادی ہوں ان کو قرآن کریم ” لا الی ھولا ولا الی ھولا “ قرار دیتا ہے کہ وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ ہی ادھر کے اور دو بیڑیوں پر ٹانگ رکھنے والا ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ دعویٰ اسلام وہی سچا ہے جو طاغوت کے کفر کے بعد ہو۔
اللہ کی رضا تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانا ہے اور شیطان کی فطرت میں روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی گہرائی میں پہنچانا تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ دونوں کا کہا ماننے والا کبھی اپنے دعویٰ میں سچا ہو سکتا ہے ؟ فرمایا پھر ایسے جھوٹوں کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی رسوائی ہوگی جو عذاب دوزخ کی صورت میں ان کے سامنے آئے گی اور ایسا ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ قانون الٰہی ہے اور قانون خداوندی کے خلاف ہونا محال ہے۔
Ayah 2:258رئیس المواحدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نمرود کے دربار میں :
443: انسان کبھی فسق و فجور سے باز نہیں رہ سکتا جب تک اس کو دو باتوں کا یقین نہ ہو ایک یہ کہ اللہ موجود ہے اور وہ ہمارے ہر عمل حیات کا نگران کار ومحافظ ہے دوسرا یہ کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں اس کے متعلق ایک روز سوال کیا جائے گا اور احتساب اعمال سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ان دونوں باتوں کو یا تو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا گیا یا کیا گیا تو صرف رسما ً حقیقتاً نہیں۔ پیچھے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مؤمن کا حامی و مددگار اللہ ہوتا ہے اور پھر جس کا حامی و مددگار اللہ ہوجائے وہ اسے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کافر کے مددگار و معاون طاغوت ہوتے ہیں اور وہ اسے روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہاں اسی ” مؤمن “ اور ” کافر “ کی وضاحت کا ایک واقعہ بطور مثال پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس کے سامنے واضح دائل کے ساتھ حقیقت پیش کی گئی اور پھر اس حقیقت کے پیش کرنے کا ایسا انداز اختیار کیا گیا کہ وہ اس کے سامنے لاجواب بھی ہوگیا لیکن چونکہ اس نے طاغوت کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اس لئے حق کھل کر واضح ہوجانے کے بعد بھی وہ روشنی کی طرف نہیں آیا بلکہ تاریکیوں ہی میں بھٹکتا رہ گیا اور اس مثال سے دونوں کردار بھی کھل کر سامنے آگئے کہ ” مؤمن “ کیا شئے ہے اور ” کافر “ کس بلا کا نام ہے یا یہ کہ ایمان کسے کہتے ہیں اور کفر کیا ہوتا ہے ؟ چناچہ اس مثال میں مؤمن کا کردار سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا کردار ہے اور کافر کا کردار نمرود یعنی اس وقت کے بادشاہ کا ۔
نمرود اس وقت عراق کا بادشاہ تھا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن اصلی بھی یہی ہے جس واقعہ کو اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے اس واقعہ سے بائیل بالکل خالی ہے لیکن تلمود میں یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے اگرچہ اس کی تفصیل کا انداز کیسا ہو کچھ ہو۔ ہاں اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نمرود کے ہاں سلطنت کا سب سے بڑا عہدے دار یعنی چیف آف دی اسٹیٹ تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کھلم کھلا شرک کی تردید شروع کردی اور تو حید کی تبلیغ اپنی آخری حد کو پہنچی اور وہ وہی وقت تھا جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے بت خانہ میں داخل ہو کر ان کے بتوں کو تہس نہس کردیا تھا تو ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے خود ان کا مقدمہ نمرود کے دربار میں پیش کردیا اور وہیں یہ گفتگو پیش آئی۔
ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ جھگڑا کس بات پر تھا ؟ جھگڑا اس بات پر تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا رب کون ہے ؟ جھگڑا کس سے تھا ؟ بادشاہ وقت ہے جس کا لقب نمرود تھا۔ جھگڑے کا باعث کیا تھا ؟ طاقت اور حکومت کا غلط استعمال۔ عقل و فکر کا ہمیشہ سے یہ تقاضا رہا ہے اور اب بھی ہے کہ جو بات ہو وہ دلیل سے ہو لیکن طاقت اور حکومت واقتدار نے ہمیشہ زور اور طاقت کے ذریعے بات منوانے کی کوشش کی ہے اس لئے اکثر و بیشتر جن لوگوں کے پاس عقل وفکر تھی انکے پاس حکومت نہ تھی اور جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوگئیں یعنی حکومت اور حکمت تو وہ دور اگرچہ کتنا ہی مختصر تھا لیکن قابل دید تھا۔
نمرود حکومت کے نشہ میں ایسا سرشار تھا کہ گویا وہ بادشاہ نہیں لیکن رب ہے :
444: نمرود کو اپنی ظاہری شان و شوکت اور جاہ و جلال کی وجہ سے دھوکا ہوگیا تھا کہ وہ بادشاہ ہی نہیں بلکہ اپنی سلطنت کا رب بھی ہے قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام مشرک حکومتوں کی مشترک خصوصیت یہی رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو رب الارباب کی حیثیت سے تو مانتی ہیں لیکن صرف اللہ ہی کو رب اور تنہا اسی کو خدا اور معبود تسلیم نہیں کرتیں۔ آج کے دور کی طرح اگر کسی نے ظاہری طور پر مانا بھی ہے تو عملی طور پر ضرور اس کی تردید کی ہے۔
خدائی کو مشرکین نے ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک فوق الفطری خدائی سلسلہ جو اسباب پر حکمران ہے اور جس کی طرح انسان اپنی حاجات اور مشکلات میں دستگیری کے لئے رجوع کرتا۔ اس خدائی میں وہ اللہ کے ساتھ ارواح اور فرشتوں ، جنوں اور سیاروں اور دوسری بہت سی نیک ہستیوں کو یا جن کو وہ نیک سمجھ بیٹھتے ہیں شریک ٹھہراتے ہیں ان سے دعائیں مانگتے ہیں۔ ان کے سامنے مراسم پر ستش اور کو رنش بجا لاتے ہیں ان کے آستانوں پر نذر و دنیا پیش کرتے ہیں۔
دوسری تمدنی اور سیاسی معاملات کی خدائی یعنی حاکمیت جو قانون حیات مقرر کرنے کی مجاز اور اطاعت امر کی مستحق ہو اور جسے دینوی معاملات میں فرمانروائی کے مطلق اختیارات حاصل ہوں۔ اس دوسری قسم کی خدائی کو دنیا کے تمام مشرکین نے قریب قریب ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے سلب کر کے یا اسکے ساتھ شاہی خاندانوں اور مذہبی پروہتوں اور سوسائٹی کے وڈیروں میں تقسیم کردیا ہے۔ اکثر و بیشتر بادشاہ اور حکمران پارٹیاں اسی دوسرے معنوں میں خدائی کی مدعی ہوئی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں اور اسے مستحکم کرنے کیلئے انہوں نے بالعموم پہلے معنی والے خدا وؤں کی اولاد یا محبوب اور چہیتا ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور مذہبی طبقوں نے بھی اس معاملہ میں انکے ساتھ شریک ہونے کی اکثر سازش کی ہے۔
نمرود کا دعویٰ خدائی بھی اس دوسری قسم کا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا بالکل منکر نہ تھا۔ اس کا دعویٰ یہ نہیں تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور کائنات کا مدبر وہ خود ہے۔ اس کا کہنا یہ نہیں تھا کہ اسباب عالم کے پورے سلسلے پر اس کی حکومت چل رہی ہے وہ علت العلل خدا ہی کو جانتا تھا لیکن سمجھتا تھا کہ انسان کا مرنا اور جینا خود بخود ہے گویا گھڑی میں جب ایک بار چابی بھر دی گئی تو اس کے بنانے والے پر کیا غور وفکر ضروری ہے۔ بس ضرورت کے مطابق چابی بھرو اور کام لو اور اس بحث میں مبتلا ہی نہ ہو کہ اس کے بنانے والا کون ہے ؟ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اس ملک عراق کا اور اس کے باشندوں کا حاکم مطلق بس میں ہی ہوں میری زبان قانون ہے۔ میرے اوپر کوئی بالاتر اقتدار نہیں کہ جس کے سامنے میں جوابدہ ہوں اور اس ملک کے سارے باشندے میرے سامنے جواب دہ ہیں اور عراق کا ہر باشندہ باغی و غدار ہے جو اس حیثیت سے مجھے تسلیم نہ کرے یا میرے سوا کسی دوسرے کے سامنے جواب دہ ہونے کو تسلیم کرے۔
ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کہا کہ میں صرف ایک رب العٰلمین ہی کو خدا اور معبود اور رب مانتا ہوں اور اس کے سوا سب کی خدائی اور ربوبیت کا قطعی طور پر منکر ہوں تو سوال صرف یہی پیدا نہیں ہوا کہ قومی مذہب اور مذہبی معبودوں کے بارے میں ان کا یہ نیا عقیدہ کہاں تک قابل برداشت ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ قومی ریاست اور اس کے مرکزی اقتدار پر اس عقیدہ کی جو زد پڑتی ہے اسے کیونکر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جرم بغاوت کے الزام میں نمرود کے سامنے پیش کئے گئے۔
ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا گیا تھا کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو جواب ارشاد فرمایا کہ وہی جو سب کا زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ یہ بات تو وہ سمجھ گیا لیکن مبحث کو خلط ملط کرنے کے لئے ” اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ 1ؕ“ یعنی میں تو خود ہی زندہ ہوا ہوں اور خود ہی مروں گا کے الفاظ کہہ کر جواب دیا جس سے گویا ایک نئی بحث کا دروازہ کھولنا چاہا اور بات سے بات نکال کر بحث کو طول دے کرکٹ حجتیاں پیدا کر کے دراصل وہ اپنا مطلب حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف تالی بج جائے۔ آج بھی جب عقل وفکر کی بات کی جاتی ہے اور پھر اس کا معقول جواب نہیں بن پڑتا تو بحث کو بڑی چالاکی اور شاطرانہ انداز سے کسی دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک مناظرانہ چال ہے۔ نمرود نے بھی وہی کیا جو صاحب اقتدار اور طاقت ور لوگ ہمیشہ کرتے ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) نمرود کی مناظرانہ چال کو سمجھ گئے تو بحث کو فرد سے اٹھا کر کائنات پر جا رکھا :
445: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اس کی چالاکی کو سمجھ گئے اور بڑے پیارے انداز کے ساتھ بحث کو ایک فرد سے اٹھا کر کائنات کے پورے نظام پر جا رکھا اور فرمایا کہ میرا رب تو وہی ہے جو آفتاب کو روز کے روز مشرق سے نکالتا ہے پھر تو ایک ہی دن مغرب سے نکال کر دکھا دے۔ بس یہ الفاظ سننا تھے کہ اس کی عقل ماری گئی۔ اب بحث ایک فرد کی زندگی اور موت کی نہ رہی بلکہ کائنات ارض کے پورے نظام کی طرف منتقل ہوگئی۔ تعجب ہے کہ بحث کو تو منتقل کرنا وہ بھی چاہتا تھا لیکن ایسی طرف جہاں بحث کو طول دیا جاسکے لیکن کمال ذہانت سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بحث کو منتقل کیا لیکن ایسی طرف جس سے آگے وہ کوئی بحث کر ہی نہ سکے ۔ وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اس صریح شکست کا تقاضا تو یہ تھا کہ فوراً ہدایت قبول کرلیتا لیکن اس کو طاغوت کی ہم نشینی حاصل تھی اس لئے اپنی ضد پر قائم رہا۔ ہدایت کے تمام اسباب فراہم ہوں پھر بھی ایک شخص ان سے کام نہ لے تو پھر اس کے لئے اور کوئی جدید سامان رہنمائی کا نہیں پیدا کیا جاسکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو پھر بحث ختم ہونے پر کبھی نہیں آسکتی۔ مناظرہ کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ مخالف کو تھوڑی دیر کے لئے حیران کردیا جائے اور یہاں بھی ایسا ہوگیا ۔ نمرود اس کا جواب کیوں نہ دے سکا ؟ عراقیوں کے اس وقت کے عقیدہ کے مطابق باشاہ وقت یعنی نمرود اوتار تھا سورج دیوتا کا اور سورج ہی کلدانیوں کے عقیدہ میں معبود اعظم تھا۔ اس کی مثال کو اور زیادہ قریب الفہم بنانے کے لئے موجد اعظم نے اس کو پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم سورج کے قادر و متصرف ہونے کے قائل ہو اور خود ہی اس کے اوتار بھی ہو زیادہ نہیں یہی کر دکھاؤ کہ سورج اپنے ارادہ سے عام سنت الٰہی کے خلاف ڈر اور اپنا رُخ بدل دے دوسروں پر قدرت رکھنا تو الگ رہا خود اپنے ہی اوپر اپنا ارادہ صرف کر دکھاؤ اور ارادہ بھی اتنا ہلکا کہ صرف رخ بدل دینا ہے۔ کسی خدا کی بےبسی کا منظر اور کیا پیش ہو سکتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استدلال وہی قائم رکھا صرف مخاطب کی سطحی ذہنیت کا لحاظ کر کے اسکی مثال دوسری پیش کردی اور فرمایا کہ اچھا حیاتی و موت نہ سہی۔ کائنات طبعی ہی کے خدائی نظام میں ایک معمولی ساتصرف کر کے دکھادو۔ نمرود سورج دیوتا کا اوتار تھا اور سورج کے خدائے اعظم ہونے کا قائل بھی اسی کے عقیدہ کے ابطال و تردید میں سورج ہی کو مثال میں پیش کرنا اس پر بہترین گرفت تھی اور وہ آخر اس کا جواب دے بھی کیا سکتا تھا ؟
نمرود نے ہدایت کا آخری موقعہ بھی ضائع کردیا :
446: قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق کہ ” فَبُهِتَ الَّذِیْ کَفَرَ 1ؕ“ کہ وہ عاجز و لا جواب ہوگیا تاہم وہ ایمان نہ لایا گویا کہ اس نے ہدایت کا آخری موقعہ بھی ضائع کردیا اور اتنے نازک موقعہ پر بھی اس کی چھٹی حس بیدار نہ ہوسکی۔ پھر آخر وہ ایمان لاتا بھی کیسے ؟ جو لوگ غصہ وعناد سے کجروی اختیار کئے ہوتے ہیں انہیں ہدایت بھی نصیب نہیں ہوتی ۔ ظالمین وہی لوگ ہوتے ہیں جو خالی الذہن ہو کر کبھی حق اور حقیقت پر غور ہی نہیں کرتے اور اپنی ضد و نفسانیت قائم رہتے ہیں اس آیت سے مجموعی طور پر یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایمان مستقیم اور فہم سلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
اس قصہ نے بتا دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ میں ایک طاغوت حائل ہوا مگر اللہ نے ان کی فوراً راہنمائی کی اور ایک نئی دلیل و حجت سکھا دی اور اس طرح کائنات خلت کو ظلمت سے نور کی طرف لے آیا مگر نمرود طاغوت کی غلامی کرتا تھا خواہ وہ اس کی خواہش تھی یا حکومتی مجبوری اس لئے اور زیادہ وہ کفر میں پختہ کار ہوگیا۔ شخصیتیں دونوں اپنے اپنے وقت پر چلی گئیں لیکن کردار دونوں کا باقی رہ گیا۔ پھر اس کردار پر یہاں بھی فیصلہ ہوا اور وہاں بھی ہوگا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو اس تفسیر کی اسی جلد میں یعنی سورة بقرہ کے حاشیہ نمبر 244 کے بعد درج کیا گیا ہے وہاں بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے۔