2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اور اس میں تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش میں رہو پس جب عرفات سے دعائے حج کے بعد لوٹو تو مشعر الحرام میں اللہ کا ذکر کرو اور یہ ذکر کرنا اسی طرح ہو جس طرح تم کو اس ذکر کا طریقہ بتلایا گیا ہے اگرچہ قبل ازیں تم بھی انہی لوگوں میں سے تھے جو راہ حق سے بھٹک گئے ہیں

حج اور فضل اللہ کی تلاش : 344: اسلام جس طرح فلاح اخروی کا ضامن ہے ، فلاح دنیوی کا بھی داعی ہے اور اس کی یہ جامعیت اس کی ہر عبادت سے بالکل صاف صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ وضو ، نماز ، نماز باجماعت ، روزہ ، زکوٰۃ سب سے روح کو جلا دینے اور اپنے باطن کو صیقل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیوی ، مادی ، جسمانی ، معاشی فائدوں اور مصلحتوں سے بھی کتنے لبریز ہیں۔ یہی اصول حج کے بارے میں بھی کام کر رہے ہیں۔ حج کا منزل در منزل سفر ، بری و بحری ایک طویل سفر ہے اور امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع ایک خشک عبادت اور محض اللہ ہی کے لیے نہیں۔ فرد و ملت دونوں ہی کے لیے یعنی انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کے فائدے اس سے حاصل کیے جاسکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں۔ ” فَضْلًا “ سب کا اتفاق ہے کہ فضل سے یہاں مراد مال اور نفع تجارت ہے ۔ لوگوں کا غلو اس باب میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جو تاجر مال تجارت لے کر منیٰ اور مکہ کے بازاروں میں جاتے یا جو اونٹ والے اپنے اونٹ مزدلفہ ، عرفات و منیٰ کے لئے لے جاتے سمجھا جاتا تھا کہ ان کا حج ہی نہیں ہوتا کہ جہاں تجارت آگئی وہاں عبادت کا وجود کہاں باقی رہا۔ قرآن کریم نے اس مغالطہ عامہ الورود کی تردید کردی البتہ یہ ضروری ہے کہ تجارت حقیقی غرض نہ بن جائے۔ ” فضل “ فضل کے معنی رزق کے ہیں چناچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (الجمعہ 62 : 10) ” پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ 1ۙ (المزمل 73 : 20) اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے بعض لوگ تلاش معاش وتجارت کے سلسلے میں سیروسیاحت کرتے ہوں گے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ (آل عمران 3 : 174) ” پھر ایسا ہوا کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل سے شاد کام واپس آگئے۔ “ میدان عرفات میں وقوف کرنے کے بعد واپس الیٰ المنیٰ : 345:9 /ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں تمام حاجیوں کو قیام کرنا پڑتا ہے اس قیام کو وقوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ قیام سورج کے ڈھلنے سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک لازم و ضروری ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کی کانفرس جن میں مذہبی اور سیاسی راہنما باہمی مشورہ کر کے چند امور کا فیصلہ کرتے ہیں جو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ناگزیر اور ضروری ہوں۔ امیر حج ایک خطبہ دیتا ہے اس میں ان امور کا اعلان کیا جاتا ہے جو اجتماعی حیثیت سے دنیائے اسلام کے واسطے مفید ونافع ہوں اور بتایا جاتا ہے کہ سال نو میں فرزند ان اسلام کا نیا پروگرام کیا ہوگا۔ جو شخص اس روز عرفات کے میدان میں موجود نہ ہوگا وہ ان تعلیمات سے محروم رہے گا اور حج سے جو اصل غرض تھی فوت ہوجائے گی۔ اس لئے شارع (علیہ السلام) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمادیا کہ ” حج کی تکمیل میدان عرفات میں ہوتی ہے۔ “ عرفات کو جاتے وقت بھی میدان مزدلفہ سے گزرنا پڑتا ہے اور اس میدان مزدلفہ میں ایک خاص مقام ہے جس کا نام ” مشعر الحرام “ ہے اور پھر جب میدان عرفات سے فراغت ہوگی تو واپسی کے وقت دسویں رات کو مزدلفہ کے میدان میں ٹھہرنا ہوگا یہاں ٹھہر کر سب سے پہلے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی جائے گی اور یہ نماز باجماعت ایک ساتھ ہوگی۔ اس خاص مقام مشعر الحرام میں یا جہاں رک گئے یعنی میدان مزدلفہ میں اللہ کا ذکر بھی کرنا ہوگا۔ اس اللہ کے ذکر سے مراد پہلے تو نماز ہے جو مغرب و عشاء کی ملا کر یہاں ادا کی گئی ہے اور ذکر و اذکار بھی مراد ہو سکتے ہیں اور مخصوص وظائف بھی۔ دنیا کے لوگوں کو دراصل بتایا اور سمجھایا جا رہا ہے کہ مسلمان جب اجتماع کرتے ہیں تو اس میں بھی اجتماعی عبادت ہی میں مصروف ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی طرح رات کو رنگ رلیاں نہیں مناتے۔ جاہلی قوموں کے میلوں ٹھلیوں کی طرح روشنی و آتش بازی کے لئے نہیں ۔ خواب غفلت میں پڑے رہنے کے لئے نہیں۔ فخر یہ قصیدوں اور شعر و شاعری میں صرف کرنے کے لئے نہیں ذکر و عبادت الٰہی کے لئے ہے۔ دین اسلام میں آجانے کے بعد جس چیز کا خطرہ سب سے بڑھ کر ہے وہ کیا ہے ؟ 346: الحادو انکار سے بچ کر دین اسلام کے دائرہ میں آجانے کے بعد جو خطرہ اہل اسلام کو شیطان کے ہاتھوں لاحق ہوتا ہے وہ بدعات ومحدثات کا ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی خطرہ نہیں ۔ انسان اپنے دل سے طرح طرح کے طریقے عبادت و ذکر الٰہی کے ایجاد کرتا رہتا ہے اور انہیں آہستہ آہستہ مذہب یعنی دین میں داخل کرتا رہتا ہے حالانکہ دین خصوصاً دین اسلام تو صرف وہ ہے جو شارع (علیہ السلام) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پہنچایا یا اپنے اجتہاد سے بتایا۔ یہاں اگر ایک طرف اس کی تاکید ہے کہ برابر یاد الٰہی میں لگے رہو تو دوسری طرف اس کی بھی صراحت فرمادی گئی ہے کہ اس یاد کا طریقہ اپنا ایجاد کردہ طریقہ نہ ہو بلکہ اللہ اور اس کے رسول ہی کا بتایا ہوا طریقہ ہو۔ حکم ذکر کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں ہی میں اسلام ہے۔ وضو ، نماز ، نماز باجماعت ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ارکان اسلام ہیں ان میں ہر رکن کو ادا کرتے وقت یہ بات دل میں ضرور رکھنا چاہئے کہ ان کی ادائیگی انہی طریقوں پر ہو جن طریقوں پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو ادا کیا۔ جب یہ بات دل میں بیٹھ جائے گی تو انسان اس طرف توجہ کر کے ان طریقوں کو سیکھنے کی کوشش کرے گا پھر ان طریقوں کے سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ خود محنت کر کے تلاش کر کے علماء سے مدد لے کر کتاب و سنت سے تلاش کرے اور ان اصل مقامات کو پڑھے یا کسی سے پڑھا کر سنے اور ہر ممکن اپنی تسلی کرے صرف سنی سنائی باتوں پر نہ بیٹھ جائے کہ ہمارے فلاں مولانا ، فلاں شاہ صاحب ، فلاں پیر صاحب کا فرمان ہے ۔ پھر جو بات سمجھ میں نہ آئے کسی صاحب علم سے سمجھنے کی ہمت کرے۔ یہ علم جاری رکھنے ہی سے بدعات سے بچا جاسکتا ہے۔ دیکھو زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ کا ذکر کرو اور یہ ذکر کرنا اسی طرح ہو جس طرح اس ذکر کا طریقہ تمہیں بتایا گیا ہے : “ ۔ وَ اذْكُرُوْهُ کَمَا ہَدٰىكُمْ 1ۚ
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جس جگہ پہنچ کر لوگ لوٹتے ہیں تم بھی وہیں سے لوٹو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرو ، بلاشبہ اللہ ہی خطائیں بخشنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے

حج کا مقصد تفریق مٹانا ہے ڈالنا نہیں : 347: زمانہ جاہلیت میں قریش بیت اللہ کے مجاور ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے زمانہ حج میں عام لوگ عرفات کے میدان میں جا کر قیام کرتے جس کو وقوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر قریش مزدلفہ ہی تک جاتے کیونکہ وہ حرم کی حدود کے اندر ہے اور عرفات اس سے باہر۔ انہیں خیال تھا کہ حدود حرم سے باہرجانا ان کی شرافت ، وجاہت اور عزت کے خلاف ہے اور عوام الناس سے ملنا اور ان میں گھل مل جانا تقدس مذہبی کے منافی ہے ۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ کے ذریعہ دو غلطیوں کو دور کیا جن میں دنیا ہمیشہ مبتلا رہی اور آج بھی باوجود تمدن و تہذیب میں انتہائی ترقی حاصل ہوجانے کے اس کا قدم اسی جگہ ہے اور اپنے مقام سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔ 1: اللہ کے نزدیک قومی امتیازات و خصائص کوئی چیز نہیں بلکہ اس کی نظر میں سب یکساں ہیں۔ وہاں اگر کسی چیز کی پرسش ہے تو وہ تقویٰ و ورع ہی کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ 1ؕ ، ” بلاشبہ تم میں بزرگی والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ “ اس لئے نسل انسانی میں حقیقی مساوات ہونا ضروری ہے اور یہ ممکن نہیں جب تک تمام امتیازات قومی مٹانہ دیئے جائیں۔ 2: قوموں کی تباہی و بربادی کی ابتدایوں ہوتی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ اور عوام الناس میں تعلقات و روابط قائم نہ رہیں اور ایک دوسرے سے ملنا ترک کردیں بہترین دل و دماغ کو دست وبازو کی تلاش و جستجو رہتی ہے۔ جب عام لوگوں سے میل جول نہ رہے گا تو اعوان و انصار کا فقدان ان کی فنا سامانی کا باعث بن جائے گا۔ عوام الناس کو قدم قدم پر راہمنا اور مصلح کی ضرورت رہتی ہے جب انہیں راہ حق و حریت بتانے والا کوئی نہ رہے گا تو روز بروز ضلالت وگمراہی میں بڑھتے جائیں گے تاآنکہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق و امتیاز ظاہر صورت کے علاوہ باقی نہ رہے گا۔ میدان عرفات میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو : 348: ” اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ “ صحیح حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں یوم عرفہ سے زیادہ بندے آگ سے آزاد کئے جاتے ہوں۔ حج کا بیان جہاں سے شروع ہوا ہے دیکھتے آیئے تزکیہ قلب کا قدم قدم پر کس درجہ اہتمام ہے۔ حرم شریف نہیں ، حدود حرم بھی ابھی منزلوں فاصلے پر ہیں کہ ساری عمر کا مالوف و مانوس لباس جسم سے اتر گیا اور اب نہ سر پر ٹوپی ہے نہ عمامہ اور جسم پر نہ شیروانی ہے نہ کوٹ ، نہ عبا اور نہ قمیص ، شاہ وگدا ، رئیس و رعایا ، حکام و عوام سب کے سب دو دو چاروں میں ملبوس ! پھر احرام پہنتے ہی جو چیزیں حرام تھیں ان کا تو ذکر ہی کیا جو ہمیشہ حلال تھیں اور فی نفسہ جائز تھیں ایک خاصی طویل مدت کے لئے بالکل ممنوع ہوگئیں۔ کتنی ہی مرغوبات و مالوفات سے اس دوران میں دستبرداری کرنا پڑی۔ پھر یہ سب بھی کافی نہیں گھڑی گھڑی لبیک لبیک کہتے رہو۔ اللہ کے حضور اپنی ہاضری بولتے رہو۔ مسلسل ذکر الٰہی کرتے رہو اور اب یہ حکم مل رہا ہے کہ خطاؤں کو ، گناہوں کو سیہ کاریاں کو یاد کر کر کے اپنے اللہ سے معافی چاہتے رہو ....... اتنے پاکیزہ ، ایسے ستھرے ، اس قدر اصلاحی اجتماع سے دنیا جہاں کے میلوں ٹھیلوں ، بت پرستانہ ، وہم پرستانہ ، ہوس پرستانہ ، میلوں تہواروں کو کوئی بھی مناسبت ہے ؟ ^کوئی نسبت بھی ان آنکھوں سے ہے پیمانہ کو ! کیا صریح ظلم وہ اہل قلم خود اپنی بصارت و بصیرت پر کرتے ہیں جو اسلام کو دوسرے ادیان و مذاہب کی سطح پر سمجھے ہوئے ہیں۔ غَفُوْرٌ: آیت کے آخر میں یاد دلادیا کہ تمہارے رب کی صفت ” غفر “ بہت بڑی ہے۔ اس سے مغفرت طلب کر کے دیکھ لو۔ طالبین مغفرت کی مغفرت وہ کیوں نہ کرے گا ؟ رحیم اور ساتھ ہی اسکی صفت رحمت بھی تو بےپایاں ہے طالبان مغفرت کے ساتھ وہ رحمت کا معاملہ بھلا کیوں نہ کرے گا ؟
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو چاہیے کہ جس طرح پہلے اپنے آباؤاجداد کی بڑائیوں کا ذکر کیا کرتے تھے اب اسی طرح اللہ کا ذکر کیا کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پھر غور کرو کچھ لوگ تو ایسے ہیں جن کی صدائے حال یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں جو کچھ دینا ہے دنیا ہی میں دے دے پس آخرت کی زندگی میں ان کیلئے کوئی حصہ نہیں ہو گا

مناسک حج کی تکمیل کے بعد خالص اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاؤ : 349: زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر منی کے میدان میں تین دن تک مجالس و مجامع منعقد کرتے اور ان میں اپنے باپ دادوں کے مفاخر و فضائل بیان کرتے۔ قرآن کریم نے اس بیہودہ رسم کی اصلاح کی اور حکم دیا کہ اس کی جگہ پر اللہ کا ذکر ہونا چاہئے جو خود بڑا ہے اور دوسروں کو بڑائی بخشتا ہے ۔ باپ دادوں کی بزرگی بیان کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔ باپ دادوں کا ذکر وہی لوگ کرتے ہیں جو شریف اور خاندانی ہوں۔ جن کا ماضی مشہور آفاق ہو۔ جن میں درخشندگی اور تابناکی کے سوا کچھ نہ ہو اور جنہوں نے جواں مردی و شجاعت ، فیاضی و سخاوت اور مہماں نوازی و صلہ رحمی کے عظائم امور انجام دیئے ہوں۔ ادنیٰ درجہ کے لوگوں کی نہ کوئی حیثیت ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے بزرگوں پر کسی قسم کا فخر کرسکتے ہیں۔ پس اس آیت سے ضمناً یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ ہر مسلمان کا یہ اولین فرض ہونا چاہئے کہ جس وقت تبلیغ و دعوت اسلام کے لئے میدان میں قدم رکھے تو اس کے روئے سخن شریف اور خاندانی لوگوں کی طرف ہو۔ ان کو وہ مذہب کی طرف متوجہ کردے۔ ان میں اعلیٰ ترین اخلاق اور شریفانہ جذبات پہلے سے موجود ہوتے ہیں ، صرف راستہ دکھانا باقی رہتا ہے۔ گویا بارود تو تیار ہے شتابہ دکھانے کی دیر ہے خودبخود بھڑک اٹھے گا ۔ جب ان لوگوں کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کی جائے گی تو ان کے لئے وہ سونے پر سہاگہ کا کام دے گی اور وہ ماشاء اللہ بہترین خدمات مذہبی انجام دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : (الناس کمعادن الذھب والفضۃ) لوگ بھی سونے اور چاندی کی کانوں کی مانند ہیں ۔ سونے کی کان سے سونا ہی نکلے گا اور چاندی کی کان سے چاندی۔ یہی حال خاندان اور قبیلوں کا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد مبارک اس طرح ہے : (خیارکمفی الجاھلیۃ خیارکم فی اسلام اذا فقھوا) جو شخص زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا ۔ اس کی اچھائی اسلام قبول کرنے کے بعد بھی باقی رہے گی بلکہ جس وقت وہ قرآن کریم میں درس و فکر کرے گا تو اس کی شرافت کو چار چاند لگ جائیں گے۔ چلتے چلتے اس پر ذرا مزید غور کرلو کہ اس وقت بھی ملک کے طول و عرض میں بیشمار عربی مدر اس مصروف تعلیم ہیں مگر جو لوگ وہاں سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں بہت ہی قلیل تعداد کے سوا عام طور پر ملک وملت کے لئے عضو معطل ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ عربی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہی لوگ آتے ہیں جو بیکار اور معذور ہوں۔ گھر کا کام کاج نہ کرسکیں یا ادنیٰ خاندانوں کے ہوں ، فہم و فراست سے کورے اور بلید الذہن ہوں۔ اور اس کے برعکس جب انگریزی کالجوں اور یونیوسٹیوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوم کا بہترین ذخیرہ یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے خاندانی روایات اور ظاہری وجاہت کے اعتبار سے وہ کسی سے کم نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے سے اعلیٰ اور عقل و دانائی میں کامل ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تحریکات قومی میں یہی لوگ پیش پیش ہوتے ہیں لیکن مذہب سے بعد و ہجر ، انکے محاسن و فضائل کے آئینہ کو گرد آلود اور مکدر کردیتا ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ میں بہترین جذبات ہوتے ہیں ۔ مذہبی جوش ، محبت وطن اور خدمت اسلام میں وہ کسی سے پیچھے نہیں ہوتے ۔ مگر ان کی اکثر کوشش بےموقع صرف ہوتی ہے۔ اس غلط کاری کو دور کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ان کی تعلیم وتربیت کے لئے صرف قرآن کریم کی تعلیم کو عام کردیا جائے اور مذہبی منافرت کو ختم کیا جائے ان کو آزادی کے ساتھ سوچنے سمجھنے اور عقل و فکر سے کام لینے کی دعوت دی جائے۔ ان کو باور کرایا جائے کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور کائنات کا سارا انتظام صرف اور صرف اسی کا کام ہے جس کو آج کل تم اپنی زبان میں سائنس کہتے ہو۔ پھر اللہ کا کلام اللہ کے کام کے کبھی خلاف نہیں ہو سکتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سائنس اور قرآن بالکل متضاد نہیں یہ تم کو کس نے باور کرادیا۔ آؤ قرآن کریم کو اس نہج پر مطالعہ کر کے دیکھو تمہارے سارے شکوک ہوا ہوجائیں گے۔ تو انشاء اللہ تمام خرابیاں دور ہوجائیں گی پھر مذہبی رنگ میں یہ لوگ جس قدر جوش وو لولہ کے ساتھ کام کریں گے دوسرے لوگ انکی گرد کو بھی نہیں پا سکیں گے۔ صرف دنیا کا طالب ہمیشہ آخرت سے محروم رہتا ہے : 350: تعلیم حاصل کرلی مذہبی اعمال کے پابند بن گئے مگر مقاصد و اغراض کے اعتبار سے جس قدر باہمی فرق مراتب ہوتا ہے اس کا ظہور نہ ہوا۔ بعض لوگ محض دکھاوے کی غرض سے ان تمام تکالیف کو برداشت کر رہے تھے اور بعض کے پیش نظر مقاصد عالیہ اور مصالح شرعیہ تھے۔ اس امتحان گاہ میں آتے ہی دونوں جماعتوں میں فرق و امتیاز ہوگیا اور ایک کی صف دوسرے سے جدا ہوگی ۔ منافقین پکار پکار کر اپنے کفر ونفاق باطنی اور الحاد فی العمل کا اظہار کر رہے تھے اور مؤمنین قانتین کا خلوص وایثار اپنا رنگ الگ دکھا رہا تھا اور یہ تفریق اس لئے ضروری تھی کہ حج سے فارغ ہوتے ہی جہاد فی سبیل اللہ کا حکم پھر دیا جائے گا جو حج سے پہلے بھی دیاجا چکا ہے۔ اگر ارباب علم و عمل اور نااہل لوگوں میں علیحدگی نہ کی جائے تو میدان جنگ میں شدائد تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بس مناسب یہی تھا کہ ان کو پہلے ہی سے جدا کردیا جائے۔ منافقین کی کیفیت یہ تھی کہ وہ ببانگ دہل کہہ رہے تھے کہ ” ربنا اتنا فی الدنیا “ ان کے سامنے دنیا ہی دنیا تھی۔ اس کا عیش و آرام قدرومنزلت اور عزت واحترام تھا۔ شہرت و ناموری ان کی غایت الغایات تھی۔ نہ تو اعمال صالح اور نہ اخلاق ضلہ ان کے پیش نظر تھے اور نہ انہیں اپنی اصلاح و درستی کا خیال تھا اس لئے وہ دنیا ہی میں اپنی کوششوں کے تمام ثمرات اور نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ وہ یہی غرض لے کر اسلام کی طرف گامزن ہوئے تھے اور یہی دراصل ان کا مطمع نظر تھا ۔ جب وہ ان کو حاصل ہوگیا تو گویا ان کے نظریہ کی تکمیل ہوگئی اس سے آگے ان کی طلب ہی کیا تھی ؟ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَى النَّارِ 1ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا 1ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ (رح) 0020 (الاحقاف 46 : 20) ” اور جس روز آگ پر حاضر کئے جائیں گے ان سے کہا جائے تم دینوی زندگی میں اپنے حصہ کی نعمتیں حاصل کرچکے اور خوب فائدہ اٹھا چکے تمہاری طلب بھی یہیں تک تھی ۔ سو آج تم کو اس تکبر کے باعث جو تم ناحق دنیا میں کیا کرتے تھے ذلیل کرنے والے عذاب کی سزادی جائے گی۔ “
Ayah 2:201

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لے

حقیقی بھلائی وہی ہے جو دنیا و آخرت کے لئے ہو : 351: ہاں ! ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو اپنے جذبہ نوع پرستی کی وجہ سے تمام دنیا کی فلاح و بہبود کا اپنے آپ کو ذمہ دار گردانتا ہے ۔ جس کی اعلیٰ ترین غرض یہی ہے کہ ہر انسان صرف الٰہ واحد کا غلام ہوجائے باقی سب کی غلامی کی زنجیریں کٹ جائیں اور کرہ ارض عدل و انصاف سے معمور ہوجائے ۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام دنیا و آخرت پر حاوی ہیں اس لئے اس کی دعا یہی تھی کہ : رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 00201 اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لے۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا 1ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ 0014 (آل عمران 3 : 145) ” اور جو شخص آخرت کے ثواب پر نظر رکھتا ہے اسے آخرت کا ثواب ملے گا ہم نعمت کے شکر گزاروں کو ان کے نیک عمل کا اجر ضرور دیں گے۔ “ ” کچھ لوگ ایسے بھی ہیں “ یہ اشارہ انسانیت کے پسندیدہ طبقہ یعنی اہل ایمان کی جانب ہے۔ مؤمنین کی دعائیں ، مناجاتیں اور آرزوئیں دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح و بہود کی جامع ہوتی ہیں دنیا میں ” حسنہ “ تو فیق خیر ہوئی اور آخرت میں حسنہ ثمرہ خیر۔ فرمایا الٰہی جامع و ہمہ گیر دعا کی نظیر سے ادیان وملل کے صحیفے بالکل خالی ہیں۔ پیارے رسول اللہ ﷺ اس دعا کی کثرت رکھتے تھے (بخاری و مسلم عن انس ؓ مال ، اولاد ، صحت ، اطمینان وغیرہ جو چیزیں بھی تحصیل خیر میں معین ہو سکتی ہیں خواہ بظاہر کیسی ہی دنیوی اور مادی ہوں سب مؤمن کا مقصود و مطلوب بن سکتی ہیں البتہ خود دنیا ہرگز مؤمن کا مدعا اور مقصود نہیں بن سکتی۔ آیت کی ترکیب خوب نظر میں رہے۔ ” اٰتِنَا “ کا مفعول صرف حسنہ ہے یعنی جس چیر کی طلب و تمنا کی جا رہی ہے وہ حسنہ یا بہتری ہے۔ ” فِی الدُّنْیَا وَّ فِی الْاٰخِرَةِ “ ظرف یا محل ترکیب میں یہ مفعول یا معنی کے لحاظ سے مقصود کسی طرح نہیں ہو سکتے۔ مراد محض یہ ہے کہ ہمیں تو آپ کے دربار سے صرف بھلائی یا بہتری درکار ہے۔ دنیا میں ہو تو بھی اور آخرت میں ہو تو بھی۔ مزید یہ کہ دنیا میں ہمیں اعمال خیر عنایت ہوں اور آخرت میں ہمیں ثمرات خیر۔
Ayah 2:202

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ ہیں جنہیں ان کے عمل کے مطابق دنیا و آخرت کی فلاح میں حصہ ملنا ہے اور اللہ اعمال کی جانچ میں سست رفتار نہیں ہے

دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہنے والے ہی لوگ مفید ہو سکتے ہیں : 352: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دونوں جہانوں میں حصہ مل کر رہے گا اور جو گمراہ لوگوں کی طرح بےبہرہ نہ رہیں گے ۔ پس کام کرنے کے لئے یہی لوگ زیادہ مفید و نافع ثابت ہوئے اور پہلے گروہ کو فوراً الگ کردیا گیا تاکہ اس کی صحبت و ہم نشینی دو سروں پر برا اثر نہ ڈالے۔ سَرِیْعُ الْحِسَابِ 00202 اس جیسے قدرت کا ملہ کے مالک کو حساب کرنے یا بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دینے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں یا دونوں قسم کے لوگوں کی طلب و سعی کا ذکر جگہ جگہ قرآن کریم میں کیا ہے ایک دو جگہ کی نشاندہی مزید کردی جاتی ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔ چناچہ فرمایا : مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ 1ۚ وَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ 0020 ( الشوریٰ 42 : 20) ” جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواہش مند ہو ہم اس کیلئے اسکی کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو ہم اس میں سے اسے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اسکا کچھ حصہ نہیں ہے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ ہُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ 0015 اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 0016۔ (ھود ا ا : 15 ، 16) ” جو کوئی صرف دنیا کی زندگی اور اس کی دلفریبیاں ہی چاہتا ہے تو ہم اپنے قانون کے مطابق اس کو اس کی کوشش و عمل کے نتائج یہاں پورے پورے دے دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ دنیا میں اس کے ساتھ کمی کی جائے لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کی زندگی میں دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جو کچھ انہوں نے یہاں بنایا ہے سب اکارت جائے گا اور جو کچھ وہ کرتے رہے وہ سب نابود ہونے والا ہے۔ “ ایک جگہ فرمایا : مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ 1ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 0018 وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ کَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا 0019 كُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ 1ؕ وَ مَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا 0020 اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ 1ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا 0021 (بنی اسرائیل 17 : 18 ، 21) ” جو کوئی فوری فائدہ چاہتا ہے تو جس کسی کو ہم اپنے قانون کے مطابق دنیا چاہیں اور جتنا دینا چاہیں اسی دنیا میں دے دیتے ہیں۔ پھر آخر کار اس کے لئے جہنم بنا دی ہے اس میں داخل ہوگا ، بدحال ٹھکرایا۔ لیکن جو کوئی آخرت کا طالب ہوا اور اس کے لئے جیسی کچھ کوشش کرنی چاہئے ویسی کوشش کی نیز ایمان بھی رکھتا ہے تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی ۔ ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری کی بخشائشوں سے مدد دیتے ہیں ان کو بھی کہ صرف دنیا ہی کے ہو کر رہ گئے اور ان کو بھی کہ آخرت کے طالب ہوئے اور اے پیغمبر اسلام ! تیرے رب کی بخشش عام کسی پر بند نہیں۔ “ ” دیکھو ہم نے کس طرح بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر برتری دے دی اور حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے درجے سب سے بڑھ کر ہیں اور سب سے برتر۔ “