Ayah 2:148امت مسلمہ کا قبلہ ہی امت مسلمہ کا مرکز ہے :
271: اب تک بنی اسرائیل کو الزامی و تحقیقی جواب دیا گیا اور تحویل قبلہ کی بعض مصلحتوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اب بیان کیا جاتا ہے کہ تمام امت مسلمہ کے لئے ایک ہی قبلہ مقرر کرنے سے اصلی مقصد کیا ہے اور کو نسی غرض وغایت پیش نظر ہے۔
بیت اللہ کا قبلہ بنانا اس لئے ہے کہ ایک عالمگیر اخوت قائم کر کے اس کے لئے تمام عالم میں ایک مرکز بنا دے کہ وحدت مقصد کے ساتھ وحدت مرکز ہونا ضروری ہے پس مسلمانوں کی ہر جماعت کا فرض ہے کہ وہ جس طرف بھی جائے اور جدھر کا سفر کرے نماز پڑھتے وقت اس بیت اللہ کی جانب رخ کرے جب مرکز ایک ہی ہے تو ہم میں سے ہر ایک اس امر کی سعی و کوشش کرے کہ خیر و صلاح ، نیکی و پاکدامنی ، طہارت و پاکیزگی اور ایثار و محبت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھے اور سابق القدم رہے ۔ سبقت کی ایک صورت یہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں میں پیش پیش رہنے کی کوشش کریں اور دوسری شکل یہ ہے کہ جس مرکز پر امت مسلمہ کے تمام فرزندان جلیل جمع ہوں ان کے ساتھ مقابلہ کرنے اور ہر ایک سے آگے رہنے کا جنون دامنگیر ہو اور حقیقت میں اعلیٰ ترین عزت و کرامت کا وہی مستحق ہوگا جو اس میدان مسابقت میں سب کا امام و پیشوا بن جائے مرکز کی وحدت ہم میں اس قدر جوش وولولہ ، عزم و استقلال ، صبر و استقامت پیدا کر دے گی کہ ایک ایک مسلمان تمام دنیا سے مقابلہ کرنے کو تیار ہوجائے گا اور وہ یقین کرے گا کہ صرف وہی کامیاب ہوسکتا ہے جو اعمال واخلاق میں ہم سے بہترین بن جائے گا پھر کسی کو ہم سے یارائے دم زون نہ ہوگا۔
مرکز قائم کرنے کا یہی مقصد ہے کہ جب ہر ایک مسلم کو حج بیت اللہ کے لئے جانا ضروری ہے اور وہاں دنیا کے بہترین مسلمان جمع ہوں گے تو ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر اس قدر طہارت و پاکیزگی پیدا کرلیں کہ ان کے سامنے ذلیل و رسوا نہ ہوں اگر ایک مرکز نہ ہوتا تو اس قدر جوش وولولہ نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔ وہاں اس جگہ پر دنیا کے ہر گوشہ سے مسلمانوں کا جمع کرنا سو یہ اللہ کے قبضہ میں ہے وہ ضرور سب کو یہاں لا کر چھوڑے گا ، تمہارا فرض یہ ہونا چاہئے کہ جہاں کہیں سے تم نکلو تمہارا رخ اسی جانب ہو اور باقی تمام مسلمان بھی اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اگر تم اس مرکز کا احترام کرو گے تو ضرور دنیا و آخرت میں سر فراز ہو گے۔
Ayah 2:149بیت اللہ کو قبلہ بنانے کی تاکید مزید :
272 ایک لمحہ کے لئے بھی کسی مسلمان کو قبلہ بدلنے اور رسول کے طرز عمل سے استدلال کرنے کا خیال نہ پیدا ہو بلکہ اب اس میں کبھی تبدیلی نہ ہوگی ورنہ لوگوں کو یہکہنے کا موقعہ مل جائے گا کہ مسلمانوں کا کوئی اصول بھی قابل اعتماد نہیں ، رہے ظالم و بدکار سو وہ تو اپنی کٹ حجتیوں سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ عیسائی اب تک یہی کہتے ہیں کہ عربوں کو اپنے ساتھ ملانے کی خاطر بیت اللہ قبلہ بنایا گیا حالانکہ ابراہیمی عہد انہیں خوب یاد ہے اور وہ بھی جانتے ہیں کہ جس شخص نے صدہا سال کی بت پرستی کو فنا کردیا جو اس قوم کے نزدیک بےانتہا عزیز و محبوب اور لازمہ قومیت تھی وہ اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے ایسا کس طرح کرسکتا ہے۔
پس آئندہ کے لئے قاعدہ مقرر ہوگیا کہ بیت اللہ ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کا مرکز رہے گا ۔ جب یہ لوگ دوسری اقوام میں تبلیغ و دعوت کے لئے جائیں تو ان کی خاطر اپنے قبلہ اور دوسرے اصول اسلامی کو ترک نہ کردیں۔ تم لوگوں کو اعلیٰ ترین مرکز دیا گیا اس لئے اس کے حقوق ادا کرنے میں میرے سوا اور کسی انسان کا خوف تمہارے دل میں نہ آنے پائے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم پر انعام کروں گا ۔ خلافت ارضی نوازش ہوگی اور چونکہ یہ تعلیم عین فطرت انسانی کے مطابق ہے اس لئے بہت جلد ترقی کر جاؤ گے۔ دوسری قوموں کو اگر اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کے کسب حصول میں صدہا سال صرف کرنے پڑے ہیں تو تم اس تعلیم کی بدولت چند ہی سال میں ان نیکیوں کے مالک بن جاؤ گے اور دنیا آخرت کی تمام کامیابیاں تمہیں مل جائیں گی۔
Ayah 2:150تکرار الفاظ کی حکمت ظاہری :
273: ” تم کہیں سے بھی نکلو اور جہاں کہیں بھی ہو چاہئے کہ عبادت نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرو۔ “ تین دفعہ دہرایا گیا۔ یہ تین دفعہ لانا تین مختلف غرضوں کے لئے ہے۔ پہلی مرتبہ تو اس اطمینان کے لئے کہا تھا کہ اب خانہ کعبہ بت پرستوں کے قبضہ میں نہ رہے گا گویا بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے کہ ہم تم کو اس کا متولی بنا دیں گے اس لئے تم اپنا منہ بیشک ادھر پھیر دو دوسری دفعہ یہ بتایا کہ ایک قبلہ پر قائم رہنے سے اصل غرض یکجہتی پیدا کرنا ہے چونکہ تم سب ایک ملت ہو تمہارا ایک ہی مرکز بھی ہونا ضروری ہے اور اس کا اعلان ہم تورات وانجیل میں کرچکے ہیں پھر تیسری بار فرمایا کہ جہاں سے نکلو اس کی طرف منہ پھیر لو اور اصل غرض کو حاصل کرنے کی کوشش کرو وہ یہ ہے کہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ رہے یعنی درحقیقت یہ ان پر ایک اتمام حجت ہے اگر خانہ کعبہ کو بیت اللہ نہ مقرر کیا جاتا تو یہ اعتراض ہوتا تھا کہ جب دعائے ابراہیمی کا موعود نبی آگیا تو اس کا قبلہ بھی وہی گھر چاہئے جہاں حضرت اسماعیل کو بطور نشان چھوڑا گیا تھا چناچہ اس آیت میں وضاحت کردی کہ اگر یہ قبلہ قبلہ نہ بنایا جاتا پھر بھی تمہیں اعتراض کا حق تھا اور جب اس کو قبلہ بنایا جارہا ہے تو بھی تم اعتراض کر رہے ہو پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا یہ تمہاری ہٹ دھرمی نہیں ؟ آخر میں فرما دیا کہ یہ لوگ تو سر اسر بکواس ہیں وہ جو کرتے اور کہتے ہیں ان کو کرنے اور کہنے دو ۔ تم ان سے مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرو میں اپنی نعمت تم پر ضرور پوری کروں گا اور بیت اللہ کا قبلہ مقرر کرنا بھی اہل اسلام کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کاش کہ مسلمان اس نعمت کی قدر کرتے اور دنیا پر یہ ثابت کردیتے کہ ہم مسلمانوں کا قبلہ ہی مرکز ہے اور وہ صرف اور صرف ایک ہے اور مرکز یت اس غرض کے لئے ہوتی ہے کہ سارے قومی مسائل کا حل مرکز کے اندر رہ کر کیا جائے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج اہل اسلام کی قسمتوں کے فیصلے دیار غیر میں ہوتے ہیں۔ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا 0023
Ayah 2:151اہل اسلام کے لئے ساری نعمتوں سے بڑی نعمت رسول عربی (a) ہیں :
274: اب اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری ہی جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتاب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفسی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت و کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن کریم اور حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ بستہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے۔ پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں مدتوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر عرصہ ہوا کہ بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا ۔ دنیا کی زبردست ہستیوں کے استاد بن گئے۔ وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے ۔ دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود حضور ﷺ کی تصدیق کا ایک شاہد عدل ہے ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے۔
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ 1ۚ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 00164 (آل عمران 3 : 164) ” بلاشبہ یہ اللہ کا مؤمنوں پر بڑا ہی احسان تھا کہ اس نے ایک رسول ان میں بھی دیا جو انہی میں سے ہے وہ اللہ کی آیتیں سناتا ہے۔ ہر طرح کی برائیوں سے انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ “
یعنی ایسے اولو العزم پیغمبر کی بعثت مؤمنوں پر اللہ کا ایک بڑا زبردست احسان ہے اس نعمت کی قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ کُفْرًا ، کیا تُو نے انہیں نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔ یہاں نعمت اللہ سے مراد خود محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لئے اس زیر نظر آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا ہے کہ جس طرح میں نے یہ احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔
تاریخ گواہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے پہلے عرب خانہ جنگی اور خونریزی میں مبتلا تھے ۔ نظام صالح اور قومیت متحدہ سے بہت دور جا پڑے تھے اب ان کو ایسی تعلیم دی گئی جس نے ان شتربانوں کو جہاں ہاں بنا دیا اور رسول امّی ﷺ کی گود میں تاجداران عالم نے پرورش پائی۔ تحویل قبلہ کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا اب اس کا اختتام ہو رہا ہے ۔ اہل کتاب کے اعتراضات کے جواب اگرچہ دیئے گئے تاہم ان کی کتابوں کی طرف ایک بار پھر مراجعت کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھیں گے۔
اہل کتاب اپنے آئینہ کتاب میں
اہل کتاب خوب جانتے تھے کہ جو مسجد آخر میں قبلہ قرار پائے گی وہ درجہ میں بھی پہلی مسجد سے برتر ہوگی دیکھئے ان بیانات میں مکہ کی کس طرح تعریف کی گئی۔
! ” سمندر کی فراوانی تیری طرف پھرے گی اور قوموں کی دولت تیرے پاس فراہم ہوگی ۔ اونٹوں کی قطاریں اور مدیان و عیفا کی سانڈھنیاں آگے تیرے گرد بیشمار ہوں گی ۔ وہ سب جو سبا کے ہیں آویں گے وہ سونا اور لوبان لاویں گے اور خداوند کی تعریفوں کی بشارتیں سناویں گے۔ قیدار کی ساری بھیڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی نبی ط کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے ۔ وہ میری منظوری کے واسطے میرے مذبح پر چڑھائے جائیں گے اور میں اپنی شوکت کے گھر کو بزرگی دوں گا۔ “ (یسعیاہ 6 ، 5 ، 6 ، 7)
مدیان ، عیفا ، سبا ، قیدار اور نبی ط پانچوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے یا پوتے ہیں جو عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے ۔ ان کی نسل کے قبائل رسول اللہ ﷺ کے دین میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی ان سب نے مل کر صرف ایک مذبح منیٰ پر اپنی قربانیاں پیش کی تھیں۔ قوموں کے نام ، منیٰ کا پتہ ، عرب کے قبائل کا مسلمان ہونا ، حجۃ الوداع میں سب کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا یہ تمام کے تمام تاریخی واقعات بتا رہے ہیں کہ شوکت کا گھر دراصل بیت الحرام ہی ہے۔
" حجی نبی کی کتاب میں ہے :
” اس پچھلے گھر کا جلال پہلے گھر کے جلال سے زیادہ ہوگا۔ رب الافواج فرماتا ہے اور میں اس مکان میں سلامتی بخشوں گا۔ “ (حجی 2 : 9)
# مکاشفات یوحنا میں ہے کہ :
” جو غالب آئے ہیں اسے اپنے خدا کے مقدس میں ایک ستون بناؤں گا ، وہ پھر کبھی باہر نہ نکلے گا اور میں اپنے خدا کا نام اور اپنے خدا کے شہر یعنی اس نئے یر و شلم کا نام جو میرے خدا کے پاس سے آسمان سے اترنے والا ہے اور اپنا نیا نام اس پر لکھوں گا جس کے کان ہوں وہ سنے کہ روح کلیساؤں سے کیا کہتا ہے۔ “ (مکاشفات یوحنا 3 : 12 ، 13)
عارف یو حنا نے اپنے مکاشفہ میں دو باتوں کا ذکر کیا ہے ۔ نیا یروشلم نیانام ، نئے یروشلم سے مراد کعبہ ہے آسمان سے اترنے کے یہ معنی ہیں کہ کعبہ کو قبلہ بنانے کے لئے آسمان سے حکم نازل ہوگا۔ قرآن کریم میں ہے : قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ 1ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا 1۪ (البقرۃ 2 : 144)
صلح حدیبیہ کے وقت عہد نامہ میں اسم رحمٰن لکھا گیا تو ہسیل سفیر کفار نے کہا : واما الرحمٰن فو اللہ مانعرفہ ، اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے رحمٰن کون ہے۔ قرآن کریم میں آیا ہے : وَ ہُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ 0036 (الانبیاء 21 : 36) ان کا حال یہ ہے کہ خدائے رحمٰن کے ذکر سے یک قلم منکر ہیں۔
اور ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ 1ۗ (الفرقان 25 : 6)
” اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا ہوتا ہے ؟ “
بس یہی وہ نام تھا جس سے اہل عرب باوجود اہل زبان ہونے کے ناواقف تھے ۔ قرآن کریم ہی نے آخر انہیں روشناس کرایا۔
$ زبور میں داؤ دعلیہ السلام یوں مدح و ستائش کرتے ہیں :
” مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں بسے ہیں وہ سدا ستائش کریں گے مبارک وہ انسان جس میں قوت تجھ سے ہے ۔ ان کے دل میں تیری راہیں وہ بکا کی وادی میں گزر کرتے ہوئے اسے ایک کنواں بناتے ۔ پہلی برسات اسے برکتوں سے ڈھانپ لیتی ۔ “
(زبور 84 : 4 ، 5 ، 6)
ان آیات سے حسب ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں :
(ا) یہ خدا کا ایک گھر ہے ۔ وہاں کے باشندے مبارک ہیں اور وہ ہمیشہ خدا کی تقدیس اور بزرگی بیان کرتے رہیں گے۔
(ب) ان لوگوں کی قوت و شوکت کا سبب خود اللہ تعالیٰ ہوگا۔
(ج) بکا ایک ایسا نام ہے جو معرفہ معلوم ہوتا ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوئی۔
(د) وادی بکا میں سے گزرتے وقت ایک کنواں بنائیں گے۔
اب ذرا مزید غور کرو بات بالکل صاف ہوجائے گی کہ بسنے والوں سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے۔ جس وادی کا نام بکا زبور میں ہے اس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ ، پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو بکا میں ہے۔ کنواں وہی ہے جس کو آب زمزم کے نام سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے جد اعلیٰ ہیں ان شاندار قوموں کے پدر بزرگوار کی مسجد کو قبلہ قرار دینا گویا تینوں قوموں کا اتحاد نسبی وجسمانی کی یاد دلا کر اتحاد روحانی کے لئے دعوت دینا اور متحد بن جانے کا پیغام سنا دیتا ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے اس کی پرستش کرتے ہیں اور یہ پرانی بت پرستی اب تک ان میں قائم ہے ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ عبادت کرنے کے لئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے اولاً جس چیز کی پر ستش کی جائے اس کی عظمت سے دل بھر پور ہو اس کے جلال وکبریائی سے جسم انسانی پر رو نگٹے کھڑے ہوتے ہوں اور یکسر توجہ بن کر اس کے حضور میں کھڑا ہو۔ ثانیاً اس کی حمد و ستائش کے گیت زبان سے گائے جائیں اور تیسرے یہ کہ اپنی آرزو بر آنے کی اس سے درخواست ہو لیکن ان میں سے کوئی بات بھی توجہ الی ال قبلہ سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ نماز کے تمام اجزاء میں خدائے قدوس کی طرف توجہ ہوتی ہے اس کی پاکیزگی بیان کی جاتی ہے اور اس کے آگے دست سوال دراز ہوتا ہے۔ مسلمان تو ایک طرف ، خود مشرکین بھی اس گھر کو نہیں پوجتے تھے بلکہ وہ ان بتوں کی پرستش کرتے تھے جو اس کے اندر رکھے گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان بتوں کو پاش پاش کر کے ایک اللہ کی عبادت کے لئے اس کو خاص کردیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دینا بھی بت پرستی کی بقایا میں سے ہے ، اس اعتراض کا جواب حضرت عمر ؓ کی زبان سے سن لینا چاہیے۔ انک حجر لا تضر ولا تنفع ، تو ایک پتھر ہے کسی کے نفع و نقصان سے تمہیں کوئی سروکار نہیں۔ پھر یہ پتھر صرف اس لئے ہے کہ طواف کی ابتداء اور انتہا معلوم کرنے کا کام دے۔ ہمیں زبور میں اس کے متعلق حسب ذیل الفاظ ملتے ہیں :
” وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا کونے کا سرا ہوگیا ۔ یہ خداوند سے ہوا جو ہماری نظروں میں عجب ہے۔ “ (زبور 18 و 22 ، 23) دانیال میں ہے کہ : ” جیسا کہ تو نے دیکھا کہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ اس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا۔ “ (دانیال 2 : 52) انجیل میں انگوری باغ کے ٹھیکیداروں کی تمثیل میں یوں فرمایا کہ : ” انہوں نے اس سے کہا ان بڑے آدمیوں کو بری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکیدا رباغبانوں کو دے گا جو موسم پر اس کو پھل دیں۔ یسوع نے ان سے کہا تم نے کتاب مقدس کبھی نہیں پڑھا جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہ کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے ۔ اسلئے تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ “ (متی 21 : 41 : 44)
پس حجراسود وہی نشان ہے جس کا ذکر کتاب مقدس کی ان آیات میں آیا ہے ۔ قبلہ کی بحث نے دراصل اس بات کو واضح کردیا کہ ابراہیمی دعا نبی امّی (a) کے لئے تھی یہودیوں نے اپنے قوائے عملیہ کو بیکار کردیا۔ دعوۃ و تبلیغ کے فرض کو چھوڑ بیٹھے کتاب الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوئے اس لئے اب خود بخود زمین و آسمان سے ندا بلند ہونے لگی کہ دعوت ابراہیم کا مصداق ظاہر ہو کیونکہ دنیا تباہی و بربادی کے گڑھے میں جا رہی ہے۔ چھ صدی تک یہ زمین الہام الٰہی سے محروم رہی تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہوں نے ایک جدید قومیت کی بنیاد ڈالنے کے لئے وہ تعلیم دی جس کا تذکرہ آئندہ آیات میں آتا ہے۔
Ayah 2:152امت ِمسلمہ کو ذکر الٰہی کی ہدایت اور اس کے ثمرات :
275: ذکر کرنے کے اصل معنی یاد کرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے ۔ زبان سے ذکر کرنے کو بھی ذکر اسلئے کہا جاتا ہے کہ زبان ترجمان قلب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر زبانی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ دل میں بھی اللہ کی یاد ہو ۔ مولانا رومی نے اسی کے متعلق فرمایا ہے۔
؎ برزبان تسبیح در دل گا وخر ۔ ایں چنیں تسبیح کے دار واثر
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدے سے خالی نہیں کیونکہ اور کچھ بھی نہیں تو ایک عضو یعنی زبان تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مصروف ہے یہ مصروفیت ہے ہی ، ممکن ہے کہ اس کے لئے اصل ذکر کا سبب بن جائے ۔ ذکر ہر حالت میں اللہ کو یاد رکھنا ہے تاکہ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 1ؕکے جواب میں جب بَلٰى کہا تھا وہ فراموش نہ ہونے پائے ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُؕ004 کی حقیقت طاری ہو اور اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُؕ0028 سے حلاوت اندوز ہو۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ00162 لَا شَرِیْكَ لَهٗ 1ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ 00163 کا جذبہ پیدا ہوا اور اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 00131 اس کے ہر رگ وطے میں جاری ساری ہو۔ جس طرح دنیا میں ہر قوم کے لئے مرکز ہونا ضروری ہے ۔ نجوم وکواکب کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ درخت کی مختلف شاخیں جڑ سے متعلق ہیں ایسے ہی نوع انسانی اپنے مرکز حقیقی سے وابستہ ہو کہ وہی سرچشمہ حیات ہے اور وہی ہماری ضروریات زندگی کو پورا کرنے والا ۔ جھکے تو اسی کے آگے۔ عاجزی و فروتنی ہو تو اسی کی خاطر اور مانگو تو اسی سے مانگو یقینا وہی دے گا۔ پھر ذکر کے بعد شکر ہے۔
شکر یہ ہے کہ جو کچھ اس نے دیا ہے اس کو صحیح موقع و محل پر صرف کرنا شکر ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ : لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىِٕنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ 007 اگر اس کا بےجا خرچ کیا تو یہ کفر ہے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) نے کہا :
هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ 1ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ 1ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ 1ۚ وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌ
كَرِیْمٌ 0040 (النمل 27 : 40) ” یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بےنیاز اور بزرگی والا ہے۔ “
لوط (علیہ السلام) پر نعمتوں کے نزول کا سبب شکر قرار دیا فرمایا : نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ0034 نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا 1ؕ کَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ 0035 ” ہم نے ان کو اخیر شب میں اپنے فضل سے بچا کر نکال لیا ہم شکر گزار کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیز کو صحیح موقع و محل پر صرف کرتے تھے اس لئے ہم نے ان کو عذاب سے نجات دی۔ معلوم ہوا کہ ذکر الٰہی کا ثمرہ عذاب سے نجات ہے اور یہی سب کامیابیوں میں سے بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 2:153اللہ کا شکر ادا کرنے کے اہم ذرائع میں سے نماز اور صبر ہیں :
276: غم واندوہ کے ہلکا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ صبر اور نماز ہے ۔ امت مسلمہ کو بتایا جا رجا ہے کہ ہر مقصد کے حصول میں تکلیفوں اور مصیبتوں کا پیش آنا لازمی ہے تمام دنیا سے شرک و بت پرستی کو دور کرنا اس کے گوشہ گوشہ اور کونہ کونہ میں توحید کی نشرو اشاعت اور اقوام عالم پر برتری کا حصول بےانتہاء قربانیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے اپنے مقصد حیات پر مرنے کے لئے تیار رہنا اور مصایب وموانع کی بنا پر اپنے نصب العین کو نہ چھوڑنا صبر ہے ۔ سورة آل عمران کے آخر میں خلافت ارضی کی شرط اسی صبر کو قرار دیا۔ ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا 1۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (رح) 00200 (آل عمران 3 : 200) ” مسلمانو اگر کامیابی حاصل کرنا چاہئے ہو تو ساری باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ صبر کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی ترغیب دو ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جاؤ اور ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔ “
ایک جگہ صبر کو اعلیٰ ترین اخلاقی قوتوں میں شمار کیا ارشاد فرمایا :
وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 00186 (آل عمران 3 : 186) ” اور اگر تم نے صبر کیا یعنی مصیبتوں میں ثابت قدم رہے اور تقویٰ کا شیوہ اختیار کیا یعنی احکام حق کی نافرمانی سے بچے رہے تو بلاشبہ کاموں کی راہ میں بڑے ہی عزم و ہمت کی بات ہوگی۔ “
ایک جگہ صبر کو اولو العزم پیغمبروں کے کاموں میں شامل فرمایا : چناچہ ارشاد ہوا :
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف 46 : 35)
” پس اے پیغمبر اسلام ! جس طرح دوسرے اولو العزم پیغمبروں نے صبر کیا آپ بھی صبر کرتے رہئے۔ “
قرآن کریم ہر صابر مسلمان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ دس کافروں پر بھاری ہوا : اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ 1ۚ(الانفال 8 : 65)
” اے مسلمانو ! اگر تم بیس آدمی بھی مشکلوں کو جھیل جانے والے نکل آئے تو یقین کرو دو سو دشمنوں پر غالب ہو کر رہو گے۔ “
پھر جنگ میں کامیابی کے مختلف اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا : وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ0046 (الانفال 8 : 46) ” اور اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ایسا کرو گے تو تمہاری طاقت سست پڑجائے گی اور جیسی کچھ بھی مشکلیں مصیبتیں پیش آئیں تم صبر کرو اللہ ان کا ساتھی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ “
لڑائی کے موقع پر اسی صبر و استقامت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ فرمایا : رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ00250 (البقرہ 2 : 25) ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کے جام انڈیل دے کر عزم و ثبات سے سیراب ہوجائیں اور ہمارے قدم میدان جنگ میں جما دے کہ کسی حال میں بھی پیچھے نہ ہٹیں اور پھر اپنے فضل و کرم سے ایسا کر کہ منکرین حق کے گروہ پر متحد ہوجائیں۔ “
اسی صبر پر پیشوائی عالم نوازش کی گئی : وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا 1ؕ۫ وَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ 0024 (السجدہ 32 : 24) ” اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ایسے پیشوا پیدا کئے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین کئے رہے۔ “
اسی صبر کی خاطر بنی اسرائیل ہر قسم کی خیر و برکت کے نزول کا باعث بنے رہے فرمایا : وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ 1ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا 1ؕ (الاعراف 7 : 137)
” اے پیغمبر اسلام ! تیرے رب کا فرمان پسندیدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا کہ وہ ہمت و ثبات کے ساتھ جمے رہے تھے۔ “
اسی صبر کی وجہ سے بہترین جزاء صابرین ہی کو ملے گی فرمایا : وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 0096 (النحل 16 : 96) ” جن لوگوں نے صبر کیا اور زندگی کی عارضی مشکلیں جھیل گئے ہم ضرور انہیں ان کا اجر عطا فرمائیں گے انہوں نے جیسے جیسے کام کئے ہیں اسی کے مطابق ہمارا اجر بھی ہوگا۔ “
صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے ہرچیز عطا کی جائے گی فرمایا : اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ 0010 (الزمر 39 : 10) ” صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا۔ “
اسی صبر و استقامت پر اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار فرشتوں کی اعانت ومدد کرنے کا وعدہ دیا چناچہ فرمایا کہ : اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ ہٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ (آل عمران 3 : 125) ” اگر تم صبر کرو اور تقوی کی راہ اختیار کرو اور پھر ایسا ہو کہ دشمن بھی یکدم تم پر چڑھ آئے تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ “ اس آیت نے تو صبر کے معنی بالکل ہی واضح کردیئے فرمایا : وَ کَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ 1ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ کَثِیْرٌ 1ۚ فَمَا وَ ہَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا 1ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ 00146 (آل عمران 3 : 146) ” اور دیکھو کتنے ہی نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان سختیوں کی وجہ سے جو انہیں اللہ کی راہ میں پیش آئیں بےہمت ہوگئے ہوں اور نہ ایسا ہوا کہ وہ کمزور پڑے ہوں یا کبھی انہوں نے عجز و بےچارگی کا اظہار کیا ہو اور اللہ ان ہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو مشکلوں مصیبتوں میں ثابت قدم رہتے ہوں۔ “
دوسرا جز اس نسخہ کا نماز ہے جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام پر یشانیوں اور آفتوں سے نجات دلانے میں اکسیر اعظم ہے صبر کی جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے اس سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ درحقیقت نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں مگر نماز کو جداگانہ بیان اسلئے کردیا کہ تمام عبادات میں سے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے۔ نماز کو انسان کی تمام حاجات کے پورا کرنے اور تمام آفتوں ، مصیبتوں سے نجات دلانے میں ایک خاص تاثیر بھی ہے گو اس کی وجہ اور سبب معلوم نہ ہو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ نماز کو نماز کی طرح آداب اور خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھا جائے۔ ہماری جو نمازیں غیر مؤثر نظر آتی ہیں اسکا سبب ہمارا قصور ہے کہ نماز کے آداب اور خشوع و خضوع میں کوتاہی ہوتی ہے اور خصوصاً نماز کے مفہوم تک کو ہم نہیں سمجھ پائے۔ پھر نماز میں اصلی چیز اور مغز دعا ہے بلکہ نماز دعا ہی دعا ہے۔ دعا کیا ہے ؟
دعا اصل میں اللہ تعالیٰ سے اعانت کا طلبگار رہنا ہے دیکھو آدم (علیہ السلام) مدتوں پر یشان ہوتے رہے تاآنکہ انہوں نے دعا کی اور مصیبت سے نجات مل گئی حکم الٰہی بھی یہی ہے کہ : ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْمجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔
مؤمنین کے خصائص بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ 1ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا کَانَ غَرَامًاۗۖ0065 (الفرقان 25 : 65) ” اور وہ لوگ جو دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کے عذاب کو دور کر دے اس کا عذاب تو ہمیشہ کی تباہی ہے۔
زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اِنَّهُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا 1ؕ وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ 0090 (الانبیاء 21 : 90) ” یہ تمام لوگ نیکی کی راہوں میں سرگرم عمل تھے ہمارے فضل سے امید لگائے ہوئے ڈرتے ہوئے دعائیں مانگتے تھے اور ہمارے آگے عجز و نیاز سے جھکے ہوئے تھے۔ “
گناہوں کی مغفرت صرف دعا کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْالِذُنُوْبِهِمْ 1۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ 1۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ 00135 (آل عمران 3 : 135) اور وہ لوگ کہ جب کبھی ان سے کوئی سخت برائی کی بات ہوجاتی ہے یا اپنی جانوں کو آلودہ معصیت ہو کر مصیبت میں ڈال دیتے ہیں تو فوراً اللہ کی یاد ان میں جاگ اٹھتی ہے یعنی اپنے ضمیر کی ملامت محسوس کرنے لگتے ہیں پس وہ اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور جو کچھ ہوچکا ہے اس پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کا بخشنے والا ہے ؟ “
قرآن کریم میں نماز و دعا کا ذکر بہت ہے ، جن آیات میں اس کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کا نقل کرنا بہت دشوار ہے ، مشتے از خروارے ، ذکر کیا گیا ہے اور احادیث میں بھی اس کی بڑی تفصیل آئی ہے ایک دو حوالے درج کیے جاتے ہیں تاکہ اس روشنی کا بھی ذکر آجائے۔
امام احمد نے اپنی مسند میں نعمان بن بشیر سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الدعا ھو العبادۃ ، کہ دعا ہی اصل عبادت ہے ایک روایت ہے کہ : الدعا مخ العبادۃ ، کہ دعا عبادت کا مغز ہے ۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ : لیس شیٔ اکرم علی اللہ من الدعاء ، دعا سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز بزرگ و برتر نہیں ہے ۔ بیہقی نے دعوات کبیر میں روایت کیا ہے کہ : ان ربکم حی کریم یستحی من عبدہ اذا رفع یدیہ الیہ ان یردھما صفرًا ، تمہارا پروردگار باحیا ہے جب ایک بندہ اس کے حضور میں ہاتھ پھیلاتا ہے تو خالی واپس کرتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔
Ayah 2:154شہید کی موت کبھی موت نہیں ہوتی بلکہ وہی تو اصل حیات ہے :
277: اب ان آیات میں ان مواقع کا ذکر کیا جاتا ہے جہاں صبر کے بغیر چارہ نہیں اور جوہر راہ رو حق کے لئے ضروری و ناگزیر ہیں کہ بغیر ان تکالیف و مصائب کے اچھے اور برے میں تمیز نہیں ہوسکتی ۔ قرآن کریم نے اکثر مقامات پر جہاں لڑائیوں کا فلسفہ بیان کیا ہے وہاں باربار اس حقیقت کبریٰ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جنگ صرف اس لئے ہوئی اور ان مصیبتوں کا نزول اس بنا پر ہوا کہ منافق اور مؤمن میں تمیز ہوجائے چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ 1ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ00140 وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ 00141 (آل عمران 3 : 140 ، 141) ” یہ اس لئے ضروری تھا کہ اس بات کی آزمائش ہوجائے کہ کون سچا ایمان رکھنے والا ہے ، کون نہیں ہے اور اسلئے کہ تم میں سے ایک گروہ کو شاہد حال بنا دے یعنی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ احکام حق کی نافرمانی سے کیسے کچھ نتیجے پیش آسکتے ہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “
دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ : وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 00154 (آل عمران 3 : 154) اللہ کو منظور تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہوا ہے اس کے لئے تمہیں آزمائش میں ڈالے اور جو کدورتیں تمہارے دلوں میں پیدا ہوگئی تھیں انہیں پاک و صاف کردے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے جو انسان کے دل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ “
اصل بات یہ ہے کہ قوموں کی زندگی شہداء کے خون اور گوشت سے وابستہ ہوتی ہے۔ کھیتی کے لئے پانی اور سورج کی حررات کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی آزادی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے لئے گردنیں نہ کٹیں ، ہزاروں انسانوں کا خون نہ بہے۔ قوموں کی کھیتی کو خون سے سینچا جاتا ہے ۔ جب تک کسی قوم کے بہترین افراد قتل نہ ہوں اس میں کبھی جوش وولولہ وانتقام نہیں پیدا ہوتا۔ اس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے اور فرمایا جب قوم کی قوم میں جذبہ ایثار و فدویت پیدا ہوجائے گا اور بچہ بچہ یکسر جوش وانتقام بن جائے گا تو کس کو ہمت ہوگی اس سے مقابلہ کرنے کی ؟ یہی وہ حیات قومی ہے جو شہداء کے خون بہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا میں سب سے بڑی لعنت یہ ہے کہ ایک قوم پر غیروں کو مسلط کردیا جائے اس لئے فرمایا کہ جو لوگ ہماری راہ میں اپنی جانیں دیں گے ان کی قوم کبھی غیروں کی غلام و محکوم نہیں بن سکتی بلکہ وہ ابدی زندگی کی وارث بن جاتی ہے۔ مگر یہ زندگی عظیم الشان قربانی کے بعد شروع ہوتی ہے۔
دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد ۔ ہے ابتداء ہماری تری انتہاء کے بعد
سمجھ لینا چاہئے کہ ایسے مقتول کو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گویہ کہنا کہ وہ مر گیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اس دنیا میں جو بھی آیا مرنے ہی کے لئے آیا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی ضروری اور لازمی ہے لیکن دوبارہ زندگی میں کس کو معلوم ہے کہ وہ جنتی ہے یا دوزخی ؟ ظاہر ہے کہ اگر جنتی ہے تو اس کی زندگی کامیاب زندگی ہی ہے اور اگر خدا نخواستہ دوزخی ہے تو وہ ناکام زندگی ہوئی ۔ شہید کے لئے یہ فیصلہ ہے کہ اس کی زندگی ہمیشہ کامیاب ہی ہے یعنی شہید کو گویا جنت کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے لہٰذا اس کی زندگی کا میاب زندگی ہوئی جو موت کے بعد شروع ہوگی۔ اب مرنا تو سب کو ہے لیکن ایک مرنا کامیاب زندگی کا مرنا ہوا اور دوسرے کا ناکام زندگی کا مرنا۔ پھر خود ہی سمجھ لو کہ جو کامیاب زندگی کا مرنا ہوگا وہ مرنا کیوں مرنا ہوگا ؟ اور یہی بات اس جگہ سمجھائی ہے۔ بیوقوف ہیں وہ لوگ جواب اسی زندگی کو جو کامیابی کی زندگی ہے اس ناکامی کی زندگی کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنے پیٹ کے لئے ایندھن مہیا کرتے رہتے ہیں ۔ ایک شہید اس دنیا سے اس طرح رخصت ہوجاتا ہے جس طرح عام مرنے والا آدمی شہید کی شہادت کے بعد اس پر تمام وہ احکام لازم ہوجائیں گے جوہر مرنے والے پر ہوتے ہیں اور اس کی زندگی کا معاملہ آخرت کی زندگی سے متعلق ہے نہ کہ اس دنیوی زندگی سے اس کی مثال اس طرح سمجھ لو کہ آپ نے ایک جانور قربانی کی خاطر خریدا اور عید الاضحی کے روز اس کو ذبح کر کے اس کی بوٹی بوٹی کردی اور کئی حصوں میں تقسیم کر کے کھا گئے۔ آپ سے کوئی کہے کہ وہ جانور جو آپ نے خریدا تھا وہ مر گیا ؟ آپ ضرور کہیں گے نہیں نہیں مرا نہیں وہ تو قربانی دے دیا گیا۔ آپ غور کریں کہ وہ جانور مرا ہے یا زندہ ہے ظاہر ہے کہ وہ مر گیا لیکن وہ عام موت نہیں مرا بلکہ ایک خاص موت مرا جس کو قربان ہونا کہتے ہیں گویا جس مقصد کے لئے وہ خریدا گیا تھا وہ پورا ہوگیا اس لئے ہم نہیں کہتے کہ وہ مر گیا حالانکہ وہ زندہ بھی نہیں ہے ۔ بالکل اسی طرح شہید بھی کامیاب موت مرا اس لئے اس کو مرگیا نہیں کہتے بلکہ شہید ہوگیا کہتے ہیں۔ اللہ سمجھ کی توفیق دے۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے۔
وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا 1ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ00169 فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ 1ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ 1ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَۘ00170 یَسْتَبْشِرُوْنَ
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ 1ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۚ ۛ (رح) 00171 (آل عمران 3 : 169 تا 171) ” اور اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ اللہ کی
راہ میں قتل ہوئے ہیں ان کی نسبت ایسا خیال نہ کرنا کہ وہ مر گئے نہیں وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے حضور اپنی روزی پا رہے ہیں۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے۔ اس سے خوش حال ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی ان سے ملے نہیں ان کے لئے خوش ہو رہے ہیں کہ نہ تو ان کے کسی طرح کا کھٹکا ہوگا نہ کسی طرح غمگینی اور اللہ کی نعمت اور فضل کے عطیوں سے مسرور ہیں نیز اس بات سے کہ انہوں نے دیکھ لیا اللہ ایمان رکھنے والوں کا اجر کبھی اکارت نہیں کرتا۔ “
یہی وہ قتال فی سبیل اللہ ہے جس کی نسبت قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ اس راہ میں مرنے کے بعد تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی نیکی نہیں جس کے لئے اس قسم کا وعدہ کیا گیا ہو۔
تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ 1ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ0011 یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ (الصف 61 : 11 ، 12) ” اللہ اور اس کے رسول (a) پر کامل ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے جہاد کرو یہی طریقہ تمہارے لئے بہتر ہے بشرطیکہ تم وقت کی مصیبت کو سمجھو اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تمہارے قصوروں سے در گزرے کرے گا۔
حدیث میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کی آرزو شہید فی سبیل اللہ کے سوا اور کوئی نہیں کرتا : ( مَا مِنْ أَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ غَیْرُ الشَّهِیدِ فَإِنَّهُ یَتَمَنَّی أَنْ یَرْجِعَ فَیُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنْ الْکَرَامَةِ ) (مسلم : 371) شہید چاہتا ہے کہ دنیا میں آئے اور راہ حق وحریت میں بار ہا قتل ہو اور یہ خواہش اس عزت و کرامت نے پیدا کی جو مرنے کے بعد اسے میسر آئی اس لئے کہ اس کی راہ میں جان دینے کی لذت وسعادت ایک ہی مرتبہ میں ختم نہ ہوجائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ : مامن میت یموت الا ختم عملہ الا من مات مرابطا فی سبیل اللہ فانہ ینمولہ عملہ الی یوم القیمۃ وامن من فتنۃ القبر۔۔۔۔ کوئی ایسی مدت نہیں جس کے ساتھ اعمال کا سلسلہ بھی ختم نہ ہوتا ہو سوائے اس شخص کے جو جہاد کی راہ میں دشمن کے حملے کا انتظار کرتا ہوا دنیا سے رخصت ہوگیا پس اس کا عمل ایسا ہے جو مرنے کے بعد بھی قیامت تک بڑھتا رہے گا۔
احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حسنات جاریہ تین ہیں : اولاد صالح ، علم نافع اور اوقاف و تعمیرات۔ خیریہ گزشتہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جہاد کا ہر کام بھی اس قسم میں داخل ہے کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بعد کے زمانے اور آنے والی نسلوں کی حفاظت وسعادت کے لئے اپنا وجود قربان کردیا جائے۔ پس کوئی عمل نہیں جو اس سے زیادہ سچی اور بےلاگ انسانی خدمت اور نوعی حفاظت کے جذبات رکھتا ہو اور اس لئے ضروری ہوا کہ اس کا اجر بھی وقتی نہ ہو بلکہ دائمی ہو۔ عمل کا اجر تو نتائج پر موقوف ہے جب نتائج بعد کے زمانوں اور نسلوں کو ملیں گے تو صاحب عمل کا اجر بھی فوراً کیوں منقطع ہوجائے ؟
اسی چیز کی طرف آیت زیر بحث نے اشارہ کیا کہ جب حق پر کبھی موت طاری نہیں ہوسکتی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کی راہ میں قربان ہونے والے پر موت طاری ہو اس کے اعمال حسنہ کے ثمرات و نتائج میں کسی قسم کا انقطاع نہیں ہوتا۔
Ayah 2:155انسان کی زندگی میں آزمائشیں اور بھی ہیں :
278: موت تو سب سے بڑی مصیبت ہے جو انسان کو بالکلیہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے الگ کردیتی ہے ۔ اب ان چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر اس کا مقابلہ تو نہیں کرسکتیں مگر ان کا تسلسل اور برابر رہنا مصیبت اور تکلیف میں موت سے بھی بڑھ جاتا ہے اور اکثر لوگ ایسے موقعوں پر کمزوری اور بزدلی کا اظہار کرتے ہیں۔
قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی تفصیل خود فرما دی ہے چنانچہارشاد ہوتا ہے کہ :
مَا کَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ 1ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا کُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ00120 وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا کَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا کُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 00121 (التوبہ 9 : 120 ، 121)
مدینہ کے باشندوں کو اور ان اعرابیوں کو جو اس کے اطراف میں بستے ہیں لائق نہ تھا کہ اللہ کے رسول کا دفاع میں سا تھ نہ دیں اور پیچھے رہ جائیں اور نہ ہی یہ بات لائق تھی کہ اسی کی جان کی پروانہ کر کے محض اپنی جانوں کی فکر میں پڑجائیں اس لئے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو مصیبت بھی پیش آتی وہ ان کے لئے ایک نیک عمل شمار کی جاتی ہر پیاس جو وہ جھیلتے ، ہر محنت جو وہ اٹھاتے ہر مخمصہ جس میں وہ پڑتے ہر ” قدم جو وہاں چلتا جہاں چلنا کافروں کے لئے غیظ و غضب کا باعث ہوتا اور ہر وہ چیز جو وہ دشمنوں سے پاتے یہ سب کچھ ان کے لئے عمل نیک ثابت ہوتا کیونکہ اللہ نیک کرداروں کا اجر کبھی صائع نہیں کرتا اور اسی طرح اللہ کی راہ میں وہ کوئی خرچ نہیں کرتے تھوڑا یا زیادہ اور کوئی میدان طے نہیں کرتے مگر یہ کہ اس کی نیکی ان کے نام لکھی جاتی ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا انہیں بہتر سے بہتر اجر عطا فرمائے۔
الخوف : خوف کا لفظ جامع ہے جان ، مال ، عزت ہرچیز سے متعلق اندیشہ وہراس اس کے اندر آگیا۔ الجوع : بھوک کا امتحان یہ ہے کہ کسی حاجت کے باوجود ہر مال حرام سے بچے نہ روزے سے ہچکچائے نہ فقرو فاقہ سے ڈرے۔
اموال رشوت ، سود ، خیانت ، بیع فاسد ہر غیر شرعی معاملات سے دستبردار ہوجائے اور جو مال نقصانات قانون تکوینی کے طور پر واقع ہوں ، چوری ہوجائے ، آگ لگ جائے یا اسی طرح کی کوئی دوسری مصیبت آجائے تو صبر سے کام لے۔
الانفس : موت ، بیماری ، جہاد وغیرہ کے حادثوں میں صبر سے کام لے۔
الثمرات : اولاد بھی ہے اور تجارت وزراعت وغیرہ کے منافع بھی ۔ ہر قسم کی نیک نامی اور ناموری کے موقع بھی اس میں شامل
باغات اجناس کے ثمرات سب اس میں داخل ہیں۔
رہا صبر تو جان لینا چاہئے کہ صبر کرنے کے معنی یہ نہیں کہ بندہ بالکل بےحس ہوجائے اور غم کو غم محسوس ہی نہ کرے ۔ اس کا نام صبر نہیں بےحسی ہے۔ صبر یہ ہے کہ انتہائی غمناک و درد انگیز واقعہ پر بندہ عقل کو نفس پر غالب رکھے زبان کو شکوہ اور ناشکری سے نہ آلودہ ہونے دے اور نظر مسبّب الاسباب پر ، اس کی مصلحت و حکمت پر ، اس کی شفقت و رحمت پر رکھے۔
غم میں بھی قانون ِفطرت سے میں کچھ بدظن نہیں۔ یہ سمجھتا ہوں کہ میرا دوست ہے دشمن نہیں !
Ayah 2:156آزمائش کی گھڑیوں میں اللہ کو یاد رکھنا صبر ہے :
279: مُّصِیْبَةٌ 1ۙ : کے لغوی معنی افتاد کے ہیں اور حدیث میں اس کی حقیقت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ : کل شی وسام المؤمن فھو مصیبۃ ، یعنی جو شے بھی مسلمان کو ناگوار گزرے بس وہی اس کے حق میں مصیبت ہے گویا اس کا اطلاق نہایت وسیع اور عام ہے اور اس کے تحت میں چھوٹا بڑا ہر ناخوشگوار واقعہ تکوینی آگیا ۔ بیماری ہو ، مالی نقصان ہو ، دوستوں ، عزیزوں کی مفارقت کا صدمہ ہو ، موت کا غم ہو ، اولاد اور خصوصاً نرینہ اولاد نہ ہو ، توہین و بےعزتی ہو۔ زبان سے اس آیت کی تلاوت کا دستور بحمد للہ اب بھی اکثر مسلمان گھروں میں پایا جاتا ہے لیکن تحصیل صبر کے لئے محض زبانی اعادہ ہرگز کافی نہیں ہوتا قلب کے سامنے بھی استحضار پوری طرح ہونا چاہئے۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ 1ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ 1ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ 00214 (البقرہ 2 : 214) ” پھر کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ محض ایمان کا دعویٰ کر کے تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم کو وہ آزمائشیں پیش ہی
نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں کو پیش آچکی ہیں۔ ہر طرح کی سختیاں اور محنتیں انہیں پیش آئیں ۔ شدتوں اور ہولناکیوں سے ان کے دل دہل گئے یہاں تک کہ اللہ کا رسول اور جو لوگ ایمان لائے تھے پکار اٹھے ۔ عام لوگوں کی زبان پر یہ تھا کہ اے نصرت ِالٰہی ! تیرا وقت کب آئے گا ؟ اور اللہ کے رسول نے اللہ تعالیٰ سے پیغام پا کر جواب دیا کہ گھبراؤ نہیں اللہ کی نصرت بالکل قریب ہے۔
اور ایک مقام پر اس طرح ارشاد فرمایا :
ا لٓمّٓۚ001 اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ ہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ 002 وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ 003 (العنکبوت 29 : 1 ، 3) ا لٓمّٓ! کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان سے ایمانداری اور راست بازی کا دعویٰ کریں گے تو بغیر آزمائے چھوڑ دیئے جائیں گے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں اللہ نے انہیں بھی آزمائش میں ڈالا تھا اور یہ ضروری ہے بس عنقریب اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر کے رہے گا جو اپنے دعویٰ صداقت میں سچے ہیں اور انہیں بھی جو اپنے اندر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔
پھر جو لوگ ان مصائب و تکالیف سے پریشان خاطر نہیں ہوتے بلکہ انا اللہ وانا الیہ راجعون کے الفاظ ان کی زبانوں پر جاری ہوتے ہیں اور انکے دل اس کے اثر کو قبول کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو فتح و کامرانی کے مستحق ہیں اور جو بزبان حال کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اب غور کرو کہ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَکے الفاظ کس درجہ حقیقت صبر کو ظاہر کرنے والے ہیں کہ ان مصیبتوں کو برداشت کرتے ہیں مگر راہ حق میں دعوت الی الخیر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور انجام کاریہی لوگ رحمت عامہ اور خاصہ کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
Ayah 2:157رضائے الٰہی پر راضی رہنے والے اللہ کی رحمت کے مستحق ہوگئے :
280: جب کوئی فردو جماعت جان لے کہ سب کچھ اللہ کی ملک ہے ہم خود بھی اور ہماری ہرچیز بھی اور اپنی کوئی شے ہی نہیں نہ بیوی نہ بچے نہ مال نہ جائیداد اور نہ وطن نہ خاندان اور نہ جسم نہ جان !
جو کچھ ہے سب خدا کا ، وہم گماں ہمارا
انسان کے سارے رنج وغم اور درد و حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتا ہے لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا اور کوئی بھی شے ہو وہ سرے سے اپنی ہی نہ رہی تو اب گلہ و شکوہ رنج وملال کا موقع ہی کیا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ بڑے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں رہ جانے والے کوئی بھی نہیں عنقریب انہیں چھوڑ چھاڑ کر مالک کی خدمت میں حاضری دینا ہے ۔ تیسرے یہ کہ وہاں پہنچتے ہی سارے قرضے بیباک ہوجائیں گے ہر کھوئی ہوئی چیز حاصل ہو کر رہے گی یہ تینوں نظریئے جس کے جتنے زیادہ مضبوط ہوں گے اسی قدر اس کے دل کو دنیا میں امن و سکون حاصل رہے گا۔
اوپر کی آیت میں صابرین کے حق میں جس خوشخبری کا ذکر تھا یہ سب اس کا بیان آرہا ہے : عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ، یعنی یہ لوگ عنایت خاصہ کے مستحق ہوں گے ۔ ہر شخص اپنے اپنے درجہ کے متناسب ” وَ رَحْمَةٌ 1۫“ اور یہی لوگ رحمت عام کے بھی مستحق قرار پائیں گے ، ” ہُمُ الْمُهْتَدُوْنَ “ دنیا میں ان کی رسائی اس حقیقت تک ہوچکی تھی کہ کوئی چیز بھی اپنی نہیں یہاں تک کہ خود ان کے جسم وجان نفس وروح کا مالک بھی حق تعالیٰ ہی ہے چناچہ یہ جب اس کے پاس پہنچیں گے تو سب ہی کچھ پالیں گے ۔ جس نے اللہ کی رحمت خاصہ کو پا لیا اس سے دنیا اور آخرت کی کونسی نعمت بچی ہے جو اس کو حاصل نہ ہوئی ؟