2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، جو کچھ بھی تم اپنے لیے نیکی کی پونجی پہلے سے اکٹھی کرلو گے اللہ کے پاس اس کے نتائج وثمرات موجود پاؤ گے تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

ارکانِ اسلام کے اندر ہی غلبہ اسلام ہے ارکان کو سمجھ کر ادا کرنے کی عادت بنالو : 207: نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا اور صالح اعمال بجا لانا ہی ایسے اعمال ہیں جن کا نتیجہ غلبہ اسلام ہے پس اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر نماز و زکوٰۃ کی مشق کرو اور یقین جانو کہ یہ محنت کبھی ضائع جانے والی نہیں بشرطیکہ تم نماز قائم کرو ، ٹکریں نہ مارو ، تم زکوٰۃ ادا کرو ، تاوان نہ سمجھو۔ نیک اعمال کرو اس لئے نہیں کہ تم سے نیکی کی گئی ہے بلکہ اس لئے کہ تمہارے اندر صرف نیکی ہی نیکی ہے ، اور تمہارے اندر کی برائی اپنی جگہ خالی کرگئی ہے جس میں تم نے نیکی بھر لی ہے اور برائی کو باہر پھینک دیا ہے اور اب برائی کے لئے تمہارے اندر کوئی جگہ ہی خالی نہیں ابھی وقت ہے جس قدر مشقت برداشت کرو گے میدان جنگ میں اتنا ہی فائدہ ہوگا تم میں جوش و ولولہ عزم ثبات قدم اور استقلال و استقامت کے جذبات حقہ پیدا ہوں گے اور ایثار و قربانی کی بنا پر کفار و مخالفین کے مقابلہ میں کامیاب ہوجاؤ گے کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ میں یہی اخلاق کام آتے ہیں۔ تعداد اور سامان حرب کی کثرت کچھ بھی اس کے مقابلہ میں مفید نہیں ہوتی۔ دیکھو قرآن کریم کو کھولو اور پڑھو : كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ 1ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ 00249 (البقرہ 2 : 249) ” بار ہا ایسا ہوا کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔ “ اللہ تمہارا ایک ایک کام نہایت ہی گہری نظر سے دیکھ رہا ہے اس کی مصلحت چاہتی ہے کہ ابھی جہاد کا حکم نافذ کرنے میں تاخیر ہو۔ قرآن کریم نے صدہا مقامات پر نماز کو مسلمانوں کا اولین فرض قرار دیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ : وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ 0043 (البقرہ 2 : 32) ” نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ ۔ “ ایک جگہ فرمایا : حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى 1ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ 00238 (البقرہ 2 : 238) ” اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو اور خصوصاً اپنی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو۔ “ ایک جگہ حکم ہوا : اِنَّ الصَّلٰوةَ کَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا 00103 (النسا 4 : 103) ” نماز ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے : وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ0031 (الروم 30 : 31) ” نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ ۔ “ ایک جگہ فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ 1ؕ (البقرہ 2 : 153) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! صبر اور نماز سے مدد لو۔ “ ایک جگہ فرمایا : وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ008 (المزمل 73 : 8) ” اپنے رب کا ذکر کرو اور سب کی طرف سے آنکھیں بند کر کے صرف اسی کے ہوجاؤ ۔ “ ایک جگہ فرمایا گیا : وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ 0014 (طہ 20 : 14) ” اور میری ہی یاد کے لئے نماز قائم کر۔ “ ایک جگہ فرمایا : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ002 (المؤمنون 23 : 2) ” جو لوگ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع رکھتے ہیں۔ “ ایک جگہ فرمایا : وَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ009 (المؤمنون 23 : 9) ” وہ لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ “ ؂ ایک جگہ فرمایا : رِجَالٌ 1ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ (النور 24 : 37) ” ایسے لوگ جنہیں کوئی دھندا نماز کے اہتمام سے غافل نہیں کرتا اور نہ سوداگری کا کاروبار۔ “ ایک جگہ فرمایا : كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ 0017 وَ بِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۠0018 (الذاریات 51 : 17 ، 18) ” وہ لوگ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے اور بوقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔ “ یہ چند آیات بطور اشارہ درج کی ہیں ان کی تشریح ان کے مقام پر آئے گی۔ علاوہ ازیں کثرت سے آیات مل سکتی ہیں جن میں نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس تاکید کو اس طرح بیان فرمایا ، آپ ﷺ کے الفاظ یہ ہیں : عن ابن مسعود قال سالت النبی۔ ای الا عمال احب الی اللہ تعالیٰ قال الصلوٰۃ لوقتھا۔ ” ابن مسعود کہتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اعمال انسانی میں سے کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے َآپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔ “ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ : ” بین العبد و بین الکفر ترک الصلٰوۃ “. ” بندہ اور کفر میں فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کردینا ہے۔ “ ایک حدیث میں ارشاد ہوا : مروا اولادکم بالصلوٰۃ وھوم ابناء سبع سنین اوضر بوھم علیھا وھم ابناء عشر سنین وفرقوا بینھم فی المضاجع۔ سات سال عمر کی اولاد کو نماز پڑھنے کا حکم دو ، دس سال کے ہونے کے باوجود نماز ادا نہ کریں تو ان کو سزا دو اور اپنے پاس مت سونے دو ۔ عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ : کان اصحاب رسول اللہ۔ ایرون شیئا من الاعمال ترکہ کفر غیر الصلوٰۃ ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ صرف ترک صلوٰۃ ہی کو کفر سے تعبیر کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے گورنروں کو حسب ذیل حکم بھجوایا : ان اھم امورکم عندی اصلوٰۃ من حفظھا و حافظ علیھا حفظ دینہ ومن ضیعھا فھو لما سواھا اضیع۔ ” تمہارے جس قدر اعمال و امور ملکی ہیں ان میں میرے نزدیک اہم اور اعظم ترین نماز ہے جس نے اس کی نگرانی کی اس نے اپنے دین کو بچالیا اور جس نے اس معمولی مشقت کو برداشت نہ کیا اس سے اب کیا توقع ہوسکتی ہے اور کسی بڑے ملکی کام میں اس پر اعتماد نہیں ہوسکتا۔ “ اسی طرح زکوٰۃ کے لئے بھی قرآن کریم میں مختلف آیات نازل کی گئیں۔ مؤمنین کی شان میں یہ بیان اسی طرح فرمایا گیا : وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ004 (المؤمنون 23 : 4) جو لوگ زکوٰۃ ادا کرنے میں سرگرم ہیں۔ ایک جگہ انبیاء کو حکم ہوا : وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ 1ۚ وَ کَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ0073 (الانبیاء 21 : 73) گروہ انبیاء کو ہم نے نیک کردار بنایا تھا ہم نے انہیں انسانوں کی پیشوائی دی تھی۔ ہمارے حکم کے مطابق وہ راہ دکھاتے تھے ہم نے ان پر وحی بھیجی کہ ہر طرح کے بھلائی کے کام سرانجام دیں ، نیز نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور وہ سب ہماری بندگی میں لگے رہتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کرام کے مقابلہ میں صغر سنی 26 ، 28 سال کی عمر ہی میں نبوت سے نوازا اور ان سے اعلان کرا دیا کہ : وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا 2۪ۖ0031 (مریم 19 : 31) ” اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک کہ میں زندہ ہوں ، یہی میرا شعار ہو۔ “ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے اصول اساسی میں نماز کا یہ مقام تھا فرمایا : وَ کَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ 1۪ (مریم 19 : 55) ” وہ اپنے سب لوگوں کو گھر والے ہوں یا جاننے والے سب کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتا تھا۔ “ قرآن کریم میں جہاں کہیں زکوٰۃ کا لفظ آتا ہے وہاں ہر جگہ اس سے اصطلاحی زکوٰۃ مراد نہیں بلکہ زیادہ جگہوں پر اس کا مفہوم وسیع ہے یعنی اللہ کے نام پر خرچ کرنا اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلانا خصوصاً مکی آیات کریمات میں تو اصطلاحی زکوٰۃ مراد لی ہی نہیں جاسکتی۔ کیونکہ اصطلاحی زکوٰۃ کا قانون مدینہ طیبہ میں آ کر مرتب ہوا تھا اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن کا گورنر بناتے وقت یہ وصیت فرمائی تھی : ان اللہ قد فرض علیھم صدقۃ توخذ من اغنیاء ھم فترد علی فقرائھم ۔ اللہ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے کہ ان کے دولت مندوں سے لے کر ان سے فقراء مساکین میں تقسیم کیا جائے۔ اور تاریخ کا یہ اہم فیصلہ سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے قابل تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے مانعین زکوٰۃ کے متعلق فرمایا اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں سے باقاعدہ جنگ کی اور فرمایا : واللہ لا قاتلن من فرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ فان الزکوٰۃ حق المال واللہ لو منعونی عناقا کانوا یورونھا الٰی رسول اللہ۔ لقاتلھم علٰی منعھا۔ ” اللہ کی قسم جو شخص نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اسکے ساتھ جنگ کرونگا اسلئے کہ یہ مال کا حق ہے ، واللہ اگر یہ بکری کا ایک بچہ بھی مجھے نہ دیں گے جبکہ یہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ تو ان کے نہ دینے پر ان سے ضرور لڑوں گا۔ نماز اور زکوٰۃ دونوں کو مسلمانوں پر فرض کیا گیا اور یہ وہ وقت تھا جب کہ جہاد کے لئے ابھی ایک آیت بھی نازل نہ ہوئی تھی یہ ترتیب نزولی خود اس امر کی شاہد ہے کہ شریعت کی نظر میں نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج بالکل شروع یعنی ابتدائی دور سے فرض ہیں اور جوں جوں اسلام ترقی کرتا گیا ان کی اہمیت بڑھتی گئی اور ان کی اصطلاحی صورت اگرچہ بعد میں متعین ہوئی جو اس کی ایک اعلیٰ ترین تعلیم اور انتہائی اسلامی ڈگری تسلیم کی گئی اور جس کا نزول ایک مدت کے بعد ہوا پھر اسی طرح ان اعمال میں پختگی آجانے کے بعد اور ان کی اصطلاحی صورت مکمل ہوجانے کے بعد اسلام کے سب سے بہتر عمل کی طرف رغبت دلائی جانے لگی چناچہ ارشاد فرمایا کہ : اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا کَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ 004 (الصف 61 : 4) ” اللہ ان ہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس استقلال سے صف بستہ لڑتے ہیں گویا وہ ایک دیوار ہیں جس کے اندر سیسہ پگھلا کر بھر دیا گیا ہے۔ “ صحابہ کرام ؓ جو اعمال اسلامی جن کا ذکر اوپر گزر چکا خوب پابند تھے اور اس حکم کے متلاشی تھے کہ اب انہیں وہ کام بتایا جائے جو احب الاعمال الی اللہ ہو یعنی سب اعمال میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو چناچہ سورة الصف میں ترغیب دلائی گئی تھی اور سورة توبہ میں صاف صاف کہہ دیا کہ : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ 1ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ 1ؕ (التوبہ 9 : 19) ” کیا تم لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ حاجیوں کے لیے سبیل لگا دینا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ “ اندازہ کیجیے کہ قریش مکہ کو بیت اللہ کی مجاوری اور حاجیوں کے کاروبار کے منصرم ہونے کا بڑا غرور تھا ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یاد رکھو جب ایک جماعت اعتقاد و عمل کی حقیقت سے محروم ہوجاتی ہے تو اس طرح کے رسوم و مظاہر کو ہر طرح کی بزرگی وسعادت کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کل بھی مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ کسی بزرگ کی سجادہ نشینی ، کسی مزار کی مجاوری ، کسی زیارت گاہ کا متولی ہونا جو اثرو رسوخ رکھتا ہے وہ بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر مؤمن و متقی کو بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایک صالح و متقی انسان کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن ایک فاسق و فاجر ، مجاور یا متولی درگاہ کی ہزاروں آدم قدم بوسی کریں گے۔ یہاں اس گمراہی کا ازالہ کیا ہے فرمایا جا رہا ہے کہ اصل نیکی یہ نہیں ہے کہ حاجیوں کو پانی پلانے کی سبیل لگا دی جائے یا بیت اللہ میں روشنی کردی اصل نیکی تو اس کی نیکی ہے جو ایمان لایا اور جس نے اعمال حسنہ انجام دیئے اور اللہ کی راہ میں جان جیسی متاع عزیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ سورئہ توبہ کی ان آیات نے واضح کردیا کہ اللہ کے نزدیک بزرگی و فضیلت کا معیار کیا ہے ؟ فرمایا سب سے بڑا درجہ انہی کا ہے جنہوں نے سچائی کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں کیں اور ایمان وعمل کی آزمائش میں پورے اترے۔ تمہارے گھڑے ہوئے تقدس و بزرگی کے مناصب اور رواجی بڑائیاں اللہ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آج کل مسلمانوں کی مذہبی ذہنیت کس درجہ اسلام سے دور ہوگئی ہے جاہلیت عرب کی طرح وہ بھی رواجی نیکیوں کو حقیقی اسلامی نیکیوں پر ترجیح دینے لگے ہیں۔ اگر ایک فاسق و فاجر امیر محرم میں سبیل لگا دیتا ہے یا ربیع الاول میں دھوم دھام سے مولود کی مجلس کرا دیتا ہے یا کسی مسجد اور درگاہ میں بجلی کی روشنی کرا دیتا ہے تو تمام مسلمان اسکی تعریف کا غلغلہ مچا دیتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے ایمان و عمل اور ایثار فی سبیل اللہ کا کیا حال ہے یاد رکھنا چاہئے کہ رواجی نیکیاں اللہ کے نزدیک نیکیاں نہیں ہیں بلکہ اللہ کے نزدیک نیکی کا معیار صرف ایمان و عمل اور ایمان و عمل کی راہ میں ایثار یعنی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ نماز جو اَب تک جہاد اکبر سمجھی جاتی تھی قرآن کریم کی نظر میں جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں اپنے ابتدائی مقام کی طرف لوٹا دی گئی اور اس میں قصر کرنے کی صورت اختیار کرنے کا حکم نازل ہوگیا۔ قصر تین صورتوں میں ممکن تھی اور تینوں ہی میں اس کو قصر کردیا گیا یعنی قصر جماعت ، قصر رکعات اور قصر اوقات۔ پہلی صورت یعنی قصر جماعت کو اس صورت یعنی نساء نے صاف کردیا اور فرمایا گیا کہ : ” اے پیغمبر اسلام ! جب تم مسلمانوں میں موجود ہو اور جنگ ہو رہی ہو اور تم ان کے لئے نماز قائم کرو تو چاہئے کہ فوج کا ایک حصہ مقتدی ہو کر تمہارے ساتھ کھڑا ہوجائے اور چاہئے کہ اپنے ہتھیار لئے رہے پھر جب وہ سجدہ کرچکے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا حصہ جو نماز میں شریک نہ تھا تمہارے ساتھ شریک ہوجائے اور چاہئے کہ پوری طرح ہوشیاری رکھے اور اپنے ہتھیار بھی پہنے رکھے۔ “ (النساء 4 : 102) دوسری صورت یعنی قصر رکعات کے متعلق یہ حکم ہوا کہ چار کی جگہ سفر میں دو ہی پڑھ لیا کرو۔ ” اور جب تم سفر میں نکلو اور تمہیں اندیشہ ہو کر کافر تمہیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اگر نماز میں سے کچھ کم کر دو یعنی قصر کرو ، بلاشبہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں وہ جب موقع پائیں گے تم پر حملہ کردیں گے۔ “ یعنی سفر کی حالت میں قصر کرنے اور جنگ کی حالت میں خاص طریقہ پر نماز ادا کرنے کا حکم ہے جسے ” صلوٰۃ خوف “ کہتے ہیں۔ نماز کی قصر کا حکم جنگ ہی کی وجہ سے دیا گیا تھا لیکن پھر ہر طرح کے سفر کے لئے عام ہوگیا۔ سنت رسول اللہ ﷺ اور تعامل سے معلوم ہوچکا ہے کہ قصر سے مقصود چار کی جگہ دو رکعت پڑھنا ہے۔ اگر نماز چار رکعت سے کم کی ہے تو اس میں قصر نہیں۔ تیسری صورت یعنی قصر اوقات کا مسئلہ تو نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ جمع صوری ہو سکتی ہے ، اور عند الضرورۃ ” جمع بین الصلوٰتین “ یعنی ظہر و عصر و مغرب و عشاء کو اکٹھا کر کے بھی پڑھا جاسکتا ہے یعنی ” ظہرین “ اور ” عشائین “ کے نام سے بھی جمع کیا جاسکتا ہے۔ تمام دن سفر کرتے کرتے ایک دن شخص دوپہر کو ضرور قیام کرے گا پس ظہر و عصر کو ملا کر پڑھ لے۔ رات کو کسی نہ کسی جگہ آرام کرے گا اس وقت مغرب و عشاء ادا کرلے بلکہ عزوئہ خندق میں آپ ﷺ نے چار نمازیں ایک ہی وقت میں دا کیں۔ جہاد کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حرس لیلۃ فی سبیل اللہ افضل من الف لیلۃ یقام لیلھا و یصام نھارھا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کی چوکیداری ہزار شب کی ایسی عبادت سے بہتر ہے کہ تمام راتوں میں قیام ہو اور دن کو روزہ ہو ، ایک حدیث میں ارشاد ہوا کہ : رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا ، اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک روز چوکیداری کرنا دنیا اور اس کے تمام سامانوں سے بہتر ہے۔ حقیقت تو یہی تھی جو اوپر بیان کی گئی مگر بدبختانہ ہم نے جہاد فی سبیل اللہ کو بالکل فراموش کردیا اور اس سے بھی زیادہ بدبختی یہ ہوئی کہ اب جہاد جہاد نہ رہا بلکہ بازی گروں کا تماشا بنا دیا گیا۔ ایک ہی ملک کے باشندے مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو کر الگ الگ قیادتوں میں بٹ گئے اور یہ تفریق اسلام کی نہیں بلکہ کفر کی تفریق تھی اس لئے کہ اسلام نے تفریق کو کفر قرار دیا تھا۔ پھر ہر قائد نے اپنی مرضی کے مطابق جہاد کے لشکر تیار کرنا شروع کردیئے اور ہر قائد نے رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات اور قرآن کریم کی ان ہدایات کو اپنے گروہی جہاد کے لئے استعمال کیا۔ جس نے اپنے ملک اور ممالک غیر سے روپیہ اکٹھا کر کے خوب گل شرے اڑائے اور جہاد جیسے اہم رکن اسلامی کی خوب تضحیک کی۔ افسوس کہ پہلے ان مذہبی اجارہ داروں نے نماز ، روزہ اور زکوٰۃ جیسے اہم ارکان اسلامی کی تصویروں کو بگاڑا اور اب جہاد جیسی اہم عبادت کو پیٹ کا دھندا بنا لیا۔ نماز اس لئے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض کیا گئی تھی کہ جنگی خدمت تمام مسلمانوں پر بیک وقت لازم ہو۔ بیک وقت ایک لشکر جرار تیار ہو اور ان کی اندرونی گروہی تقسیم بالکل نابود ہو کر رہ جائے۔ جس طرح ان سب کا اللہ ایک ہے کتاب ایک ہے ضروری ہے کہ ان کا امام بھی ایک ہو۔ اس کو امیر کہیں ، امیر المؤمنین کے نام سے یاد کریں خلیفۃ اللہ کے لقب سے پکاریں۔ بہر حال وہ ایک اور صرف ایک ہو۔ تاکہ یہ سب مل کر ایک ہوجائیں اور ایک جسم و جان کی طرح ہو کر میدان جنگ میں اتریں۔ جب تک ایسا تھا جہاد تھا۔ جب سے ایسا نہ رہا جہاد نہ رہا۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا جہاد نہیں کہلا سکتا۔ زکوٰۃ کا منشا یہ تھا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ہو کہ جب کبھی خلافت اسلامی کو روپیہ کی ضرورت ہو تو ہر مسلمان اپنی تمام جائیداد خلافت کی نذر کر دے اور ایک کوڑی بھی اپنے پاس نہ رکھے۔ یاد رکھو ًبات خلافت اسلامی کی ہو رہی ہے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کے اماموں اور پیشوائوں کی نہیں۔ ان پیشہ ور دکانداروں کی نہیں۔ ان فتنہ پرداز مفتیوں اور پیروں کی نہیں ، ان بازی گر قاضیوں اور پیٹ کے اسیروں کی نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال طلب کرتے ہیں۔ ابوبکر ؓ کے اسوئہ حسنہ کو دیکھو جس نے اللہ کی راہ میں تمام گھر بار لٹا دیا۔ رسول اللہ ﷺ دریافت کرتے ہیں کہ اے ابوبکر ؓ بال بچوں کے لئے کیا رکھا ؟ جواب ملتا ہے : ابقیت لھم اللہ ورسولہ ، ان کے لئے اللہ اور اس کا رسول (a) بس ہے ۔ کسی نے سچ کہا ہے : آنکس کہ ترا بخواست جاں راچہ کند ؟ فرزند و عیال و خانماں راچہ کند ؟ دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخش ؟ دیوانہ تو ہر دو جہاں راچہ کند ؟
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ جنت میں کوئی آدمی داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ یہودی یا عیسائی نہ ہو ، یہ ان کی امنگیں اور آرزوئیں ہیں ، تم ان سے برملا کہو کہ اگر تم سچے ہو تو ثابت کرو اور بتاؤ کہ تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے ؟

کیا جنت حاصل کرنے کے لئے کسی گروہ کا قلادہ پہننا ضروری ہے ؟ 208: جنت کا تصور چونکہ ہر مذہبی تحریک کی جان رہا ہے اور اب بھی ہے۔ جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا اسی وقت اس کو جنت سے روشناس کرا دیا گیا۔ پھر انسان کا رخ جس طرف بھی پھرا ، اس کا یہ تصور بھی ماند نہیں پڑا۔ یہود و نصاریٰ دونوں نے دین کی اصل حقیقت کو فراموش کر کے مذہب کے نام پر ایک قومیت بنا لی تھی اور پھر ان میں سے ہر ایک اپنی ہی قوم کے جنتی اور مقبول ہونے اور اپنی سوا تمام اقوام عالم کے دوزحی اور گمراہ ہونے کا معتقد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قوموں کی جہالت و گمراہی کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں قومیں جنت میں جانے کے اصل سبب سے غافل ہیں۔ محض مذہب کے نام کی قویت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب یہود ہو ، نصاریٰ ہو یا اسلام ، ان سب کی اصلی روح دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ بندہ دل و جان سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا عقیدہ و مذہب سمجھے۔ چاہے یہ کسی مذہب میں حاصل ہو۔ حقیقت دین و ملت کو فراموش کر کے یا پس پشت ڈال کر یہودیت ، یا نصرانیت کو اپنا معتقد بنا لینا دین و ملت سے ناواقفیت اور گمراہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جنت میں جانے کے لئے صرف یہ بات کافی نہیں کہ کوئی آدمی اپنے دل سے اللہ کی فرمانبر داری کا قصد تو درست کرلے مگر اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت کے طریقے اپنے ذہن و خیال کے مطابق گھڑ لے حالانکہ یہ ضروری ہے کہ عبادت و اطاعت اور امتشال امر کے طریقے بھی وہی اختیار کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ بتائے اور متعین کئے ہوں۔ پہلی بات ” بَلٰى 1ۗ مَنْ اَسْلَمَ “ کے ذریعے اور دوسری بات ” وَ ہُوَ مُحْسِنٌ “ کے ذریعے واضح کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کے نجات اخروی اور دخول جنت کے لئے صرف قصد اطاعت کافی نہیں بلکہ حسن عمل بھی ضروری ہے اور حسن عمل کا مقصد وہی تعلیم و طریقہ ہے جو قرآن کریم اور سنت خیر الانام ﷺ کے مطابق ہو۔ جو شخص ان بنیادی اصولوں میں سے کسی بھی اصول کو چھوڑ دے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی یا مسلمان اور پھر محض نام کی قومیت کے زعم میں اپنے آپ کو جنت کا ٹھکیہ دار سمجھ لے تو یہ صرف اس کی خود فریبی ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ اللہ کے نزدیک کوئی بھی ان ناموں کا سہارا لے کر فریب نہیں ہو سکتا نہ مقبول بن سکتا ہے جب تک اس میں ایمان و عمل صالح کی روح موجود نہ ہو۔ پھر اصول ایمان تو ادلنے بدلنے والی چیز نہیں تھی نہ وہ پہلے بدلے اور نہ اب بدلے گئے۔ لہٰذا وہ اصول ہر شریعت کے زمانے میں مشترک و یکساں رہے ہیں البتہ عمل صالحہ و مقبول کی شکل و صورت کچھ ادلتی بدلتی رہی ہے۔ تورات کے زمانہ میں عمل صالحہ وہ سمجھا گیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کی تعلیم کے مطابق تھا انجیل کے دور میں عمل صالح یقیناً وہی تھا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کی تعلیم کے مطابق تھا ۔ اور اب قرآن کریم کے زمانہ میں وہی عمل صالح کہے جانے کے قابل ہے جو نبی کریم ﷺ کے فرمان اور ان کی لائی ہوئی کتاب کی ہدایت کے مطابق ہوگا۔ ہاں ! اب قیامت تک اس کی صورت یہی رہے گی وہ کبھی نہیں ادلے بدلے گی کیونکہ رسالت و نبوت کا دروازہ بند ہوگیا اور اس راہ کے سوا کسی اور راہ سے آنے والا عمل صالح نہیں ہو سکتا۔ جنت کا مدار کسی کی آرزئوں پر نہیں : 209: یہود کی صدا یہ تھی کہ یہودیوں کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور عیسائیت کی صدا یہ تھی کہ جنت کے داخلہ کے لئے عیسائی ہونا ضروری ہے اور پھر یہ کہ عیسائی اس کو کہا جائے گا جو کفارہ کا مذہب اختیار کرے گا۔ ان دونوں گروہوں کے اس قول کو ” امانی “ یعنی آرزو یا دعویٰ باطل قرار دیا۔ لیکن کسی زور سے نہیں صرف کہہ دینے سے بھی نہیں بلکہ ان دونوں سے ان کے دعویٰ پر دلیل طلب کی۔ دلیل وہ پیش نہ کرسکے ان کو کہا گیا۔ کہ اسلام جس سچائی کا نام ہے اس میں تو کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے قبول نہیں ہوتا۔ اسلام جو دعویٰ کرتا ہے اس پر دلیل پیش کرتا ہے اور اسی طرح کوئی بھی دوسرا جب اسلام کے مقابلہ میں اپنی سچائی بیان کرتا ہے تو وہ اس سے اس سچائی کی دلیل طلب کرتا ہے۔ تم دونوں جنت کے دعویٰ دار ہو لیکن قومیت کے سہارے سے اسلام پوچھتا ہے کہ اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ؟ لیکن توریت نے کہاں یہ بتایا ہے کہ نجات یہودیت کے لئے خاص ہے۔ اور اسی طرح وہ عیسائیوں سے کہتا ہے کہ انجیل میں کہاں یہ عقیدہ تحریر ہے کہ نجات کے لئے عیسائی ہونا لازم ہے اور عیسائی کی نشانی یہ کہاں ہے کہ وہ کفارہ کو تسلیم کرے ؟ یہ دونوں مذاہب جب اس کا جواب نہ دے سکے تو ” ڈوبتے کو تنکے کا سہارا “ کے طور پر انہوں نے کہہ دیا کہ یہ بات جو تم کرتے ہو یہ تو سراسر عقل کی ہے اور مذہب میں تو عقل کو دخل ہی نہیں ہے تم جو بات کرتے ہو عقل کے سہارے کرتے ہو اور جو عقل کے سہارے پر بات کرے مذہب اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام اگر عقل کا سہارا لیتا ہے تو ہم اسلام کو کوئی مذہب ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے مذہب صرف دو ہی ہیں یہودیت یا عیسائیت جو عقل کے سہارے سے آزاد ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ مذہب دعویٰ کا نام نہیں بلکہ طریق عمل کا نام ہے اور جنت میں وہی داخل ہوا گا جو اس طریق عمل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچانے والی ہے۔ اس طرح اسلام نے ایک مسلمان کو تو یہ سمجھایا کہ نرا دعویٰ اسلام بھی جنت تک نہیں پہنچتا جب تک وہ اس طریق پر چلنے کے لئے پوار زور نہ لگائے۔ جو اسلام نے بتایا ہے اور دوسرے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ وہ طریق عمل جو اللہ تک پہنچتا ہے وہ تم میں باقی نہیں رہا لہٰذا تمہارا مذہبی دعویٰ ہی سراسر باطل ہے لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں نے بھی وہی نظریہ قبول کرلیا جو قبل ازیں یہودیت اور عیسائیت قبول کرچکی تھی کہ مذہب عقل سے آزاد ہے ۔ حاشاء للہ یہ دعویٰ اسلام نے کبھی نہیں کیا ؟ اگر کیا ہے تو وہ کہاں ہے ؟ علمائے اسلام کو کیا ہوا وہ کہاں سے بہک گئے کہ انہوں نے بھی وہ دعویٰ کردیا جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ! انہوں نے یہودیت و عیسائیت کا نام اسلام کیوں رکھ لیا ؟
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں ! بلاشک وشبہ جس کسی نے بھی اللہ کے آگے سرجھکایا اور وہ نیک عمل بھی ہوا تو وہ اپنے رب سے اپنا اجر ضرور پائے گا ، نہ تو اس کیلئے کسی طرح کا کھٹکا ہے نہ کسی طرح کی غمگینی

ایمان و عمل صالح ہی جنت کی ضمانت ہے : 210: وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو انہیں ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا۔ (النساء 4 : 122) ذرا غور کرو اور دیکھو کہ شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے لیکن آپ بتا سکے ہیں کہ شیطان کا وعدہ کبھی سچا بھی ہوا ؟ اور اگر کسی جھوٹے نے کبھی سچ بھی بولا تو کیا جھوٹ چھپانے کے لئے نہیں بولاوہ انسانوں کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو آگے اس کے ایک سبز باغ پیش کردیتا ہے کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع ، کسی کو نوح انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین ، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان۔ کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت ، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور پھانس لیتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” انجام کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر ، جو بھی برائی کرے گا ضروری ہے کہ اس کا بدلہ پائے اور پھر اللہ کے سوا نہ تو اسے کوئی دوست ملے گا نہ مددگار۔ اور جو کوئی اچھے کام کرے گا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور رائی برابر بھی ان کے ساتھ بےانصافی ہونے والی نہیں۔ “ یہودیوں کی ایمانی حالت تو یہ ہے کہ نہ راہ حق اختیار کرتے ہیں اور نہ کسی کو راہ حق اختیار کرنے دیتے ہیں اور باوجود ان حرکتوں کے وہ سمجھتے ہیں کہ نجات کے حقدار بھی صرف وہی ہیں۔ عجیب عقیدہ ہے ان کا کہ ” چور بھی اور چتر بھی “ یہ چالاکیاں ان کو کیسے کام دیں گی۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ دخول جنت کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ وہ یکسر اطاعت و فرمانبردار بن جائیں۔ ان کا اٹھنا اور بیٹھنا ، سونا اور جاگنا ، کھانا اور پینا ، چلنا اور پھرنا ، جینا اور مرنا سب اس کے لئے ہو۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے کہ : اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ00162 لَا شَرِیْكَ لَهٗ 1ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ 00163 ” تم کہہ دو میری نماز ، میرا حج ، میرا جینا ، میرا مرنا سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں پہلا فرمانبردار ہوں۔ “
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی [ تو کہا کرتے تھے کہ عیسائیوں کا دین کچھ نہیں اور عیسائی بھی کہتے تھے کہ یہودیوں کے پاس کیا دھرا ہے ؟ اللہ کی کتاب بھی دونوں پڑھتے ہیں اور ٹھیک ایسی ہی بات وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو علم نہیں رکھتے ، (حالانکہ دین سب کے لیے ایک ہی ہے) اچھا قیامت کے روز اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جس بات میں وہ جھگڑ رہے ہیں

یہود نصاریٰ کیا ہیں اور کیا کہتے ہیں ؟ 211: جب نصاریٰ نجران کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو علماء و احبار یہود بھی ان سے ملنے کے لئے آئے۔ باہمی گفتگو ہوتی رہی اور باتوں ہی باتوں میں یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں نہایت ہی گستاخانہ الفاظ استعمال کئے اور ان کو کہا کہ نصاریٰ بالکل غلط راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ادھر عیسائیوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کردیا۔ اور ان کا انکار بھی دراصل مخالف کارروائی کے طور پر تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ سب کے سب یہودی ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں گروہ تورات پر ایمان بھی رکھتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں کی نبوت کا اعلان ہے ایک دوسرے کو گمراہ کہنا اور راہ حق پر نہ سمجھنا اس لئے ہے کہ ان میں سے کوئی فریق اقوام و ملل کے بدلنے اور منسوخ ہونے کا قائل نہیں ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے اس اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دونوں قومیں جہالت کی باتیں کر رہی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی جنت کا ٹھیکہ دار نہیں ہے غلط فہمی کا سبب اصلی یہ ہے کہ انہوں نے مذہب و ملت کی اصل روح یعنی عقائد و اعمال اور نظریات کو چھوڑ کر نسلی یا وطنی بنیاد پر کسی قوم کو یہود ٹھہرا لیا اور کسی قوم کو نصرانی سمجھ لیا ہے۔ جو یہود کی نسل سے ہو یا یہود کے شہر میں بستا ہو یا مردم شماری میں اپنے آپ کو یہودی بتا تا ہو اس کو یہود سمجھ لیا گیا۔ اسی طرح نصرانیوں کی تشخیص و تعین کی گئی حالانکہ اصول ایمان کو توڑ کر اور اعمال صالح سے منہ موڑ کر نہ کوئی یہودی ، یہودی رہتا ہے نہ نصرانی ، نصرانی۔ قرآن کریم میں اختلاف اور اس فیصلہ کا ذکر مسلمانوں کو سنانے اور متنبہ کرنے کے لئے ہے کہ کہیں وہ بھی اس قسم کی غلطی میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ ہم تو پشتی مسلمان ہیں۔ ہر دفتر اور رجسٹر میں ہمارا نام مسلمانوں کے خانے میں درج ہے اور زبان سے بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں اس لئے جنت کے اور تمام انعامی وعدوں کے ہم ہی مستحق ہیں جو نبی کریم ﷺ کے ذریعے مسلمانوں سے کئے گئے تھے۔ اس فیصلہ سے ان پر واضح ہوجانا چاہئے کہ کوئی شخص محض دعویٰ سے حقیقی مسلمان بنتا ہے نہ کہیں مسلمان نام درج کرانے یا مسلمان صلب سے یا ان کے شہر میں پیدائش ہونے کی وجہ سے بلکہ مسلمان ہونے کے لئے اول اسلام ضروری ہے اور اسلام کے معنی ہیں اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینے اور سونپ دینے کے۔ دوسرے احسان عمل یعنی سنت کے مطابق عمل کو درست کرنا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی لڑائی سے مشرکین نے کیا فائدہ اٹھایا ؟ 212: اور دیکھو کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ تو ایسے دعوے کرتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی مشرکین کو بھی جوش آیا اور اس طرح سے یہ لوگ بھی کہ محض بےعلم ہیں ان اہل کتاب ہی کا ساقول دہرانے لگے مثل ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اہل کتاب کی دیکھا دیکھی مشرکین بھی یہ بات کہنے لگے کہ ان یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں سب کا دین بےبنیاد ہے حق پر بس ہم ہی ہیں ان سب کو کہا جاتا ہے کہ یہاں تم سب کے سب اپنی اپنی ہانک لو۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کر دے گا یعنی قیامت کے دن ان تمام مقدمات کا جن میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اور وہ عملی فیصلہ یہ ہوگا کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو جہنم میں داخل کردیا جائے گا عملی فیصلہ کی قید اس لئے لگائی گئی کہ قولی اور برہانی فیصلہ تو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی ہوچکا ہے جس کو یہ لوگ ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس طرح اہل کتاب کی اس لڑائی سے مشرکین کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ بھی بول اٹھے اور انہوں نے وہ سب کچھ اہل کتاب کو کہہ دیا جو اہل کتاب ان ان پڑھوں کو کہا کرتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں بنانا اور قوموں کے بننے اور بگڑنے کے قانون الٰہی کو تسلیم نہ کرنا تعلیم یافتہ جماعت کی شان سے بالکل بعید ہے۔ یہ جاہلوں کی باتیں ہیں جو ارتقاء و تنزل اقوام کے اصول و ضوابط سے واقف نہیں ہوتے ۔ اس جھگڑے کی طے کرنے کی بہترین صورت یہ تھی کہ گھر میں بیٹھ کر غور فکر کرتے اس وقت انہیں معلوم ہوجاتا کہ دنیا میں قوموں کا بگڑنا اور بننا اسی اصول پر قائم ہے۔ اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے جب یہ لوگ اس طرح فیصلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کی راہ ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ان کی زندگی کا اصل مقصد ہے اور صرف اسی ایک غرض کی خاطر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ پس جب حق کی تلاش نہیں تو ان جھگڑوں کے طے ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ ان سب کا فیصلہ قیامت پر اٹھا رکھئے ۔ کہ وہی احکم الحاکمین حقیقت اصلیہ کو واضح کرے گا۔ مسلمانوں نے بھی وہی کیا جو دوسری قومیں کرتی آرہی تھیں : 213: غور کرو کہ قرآن کریم کی تنبیہات کے باوجود بہت سے مسلمان اس یہودی اور نصرانی غلطی کا شکار ہوگئے کہ اللہ و رسول اور آخرت و قیامت سے بالکل غافل رہ کر اپنا نسلی مسلمان ہونا مسلمان ہونے کے لئے کافی سمجھنے لگے اور قرآن و حدیث میں جو وعدے فلاح دنیا و آخرت کے مسلمان سے کئے گئے ہیں اپنے آپ کو مستحق سمجھ کر ان کے پورے ہونے کا انتظار کرنے لگے اور جب وہ پورے ہوتے نظر نہیں آئے تو قرآن و حدیث کے وعدوں میں شک کرنے لگے۔ اس کو نہیں دیکھتے کہ قرآن کریم نے محض نسلی مسلمانوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا جب تک وہ تمام ارادوں میں اللہ کے قانون کے پابند نہ ہوں یہی خلاصہ ہے آیت مذکور کا یعنی : بَلٰى 1ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ 1۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (رح) 00112 دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے نہ کسی اور کی حق یہ ہے کہ جو اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر محفوظ ہے اور ایسے لوگوں کے لئے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں۔ ایک غلطی کا ازالہ : آج کل پوری دنیا کے مسلمان طرح طرح کے مصائب و آفات کا شکار ہیں اور دن بدن ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں اس کو دیکھ کر بہت سے ناواقف لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان تمام آفات و مصائب کا سبب ہمارا اسلام ہے لیکن مذکورہ تحریر سے واضح ہوگیا کہ اس کا اصل سبب ہمارا اسلام نہیں ترک اسلام ہے کہ ہم نے اسلام کا صرف نام باقی رکھا ہے ، نہ اس کے عقائد ہمارے اندر ہیں ، نہ اخلاق ، نہ اعمال گویا۔ ^ وضع میں ہم نصاریٰ تو تمدن میں ہنود پھر ہمیں کیا حق ہے کہ اسلام اور مسلم کے لئے کئے ہوئے وعدوں اور انعاموں کا ہم انتظار کریں۔ ہاں ! یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم کچھ بھی نام تو اسلام کا لیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام لیوا تو ہیں اور جو کفار کھلے طور پر اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، اسلام کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے وہ تو آج دنیا میں ہر طرح کی ترقی کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی حکومتوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ دنیا کی صنعتوں اور تجارتوں کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہیں اگر ہماری بد عملی کی ہمیں یہ سزا مل رہی ہے کہ ہم ہر جگہ پامال و پریشان ہیں تو کفار و فجار کو اس سے زیادہ سزا ملنی چاہئے لیکن اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو یہ شبہ خود بخود رفع ہوجائے گا۔ اول تو اس لئے کہ دوست و دشمن کے ساتھ معاملہ یکساں نہیں ہوا کرتا۔ دوست کو قدم قدم اور بات بات پر ٹوکا جاتا ہے ۔ اولاد اور شاگرد کو ذرا ذرا سی بات پر سزا دی جاتی ہے لیکن دشمن کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا۔ اس کو ڈھیل دی جاتی ہے اور وقت آنے پر دفعتاً پکڑ لیا جاتا ہے۔ مسلمان جب تک ایمان و اسلام کا نام لیتا ہے۔ اللہ کی عظمت و محبت کا دَم بھرتا ہے وہ دوستوں کی فہرست میں داخل ہے۔ اس کے برے اعمال کی سزا عموماً دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے تاکہ آخرت کا بار ہلکا ہوجائے۔ بخلاف کافر کے اس پر باغیوں اور دشمنوں کا قانون جاری ہے۔ دنیا کی ہلکی ہلکی سزائوں سے ان کا بار عذاب ہلکا نہیں کیا جاتا ان کو یکلخت عذاب میں پکڑا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے کہ ” دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ “ دوسری اہم بات مسلمانوں کے تنزل اور پریشانی اور کفار کی ترقی و آرام کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا جدا گانہ خاصہ رکھا ہے۔ ایک عمل سے دوسرے عمل کے خواص حاصل نہیں ہو سکتے۔ مثلاً تجارت کا خاصہ یہ ہے کہ مال میں زیادتی ہو۔ دوا کا خاصہ ہے بدن صحت مند ہو۔ اب اگر کوئی شخص تجارت میں تو دن رات لگا رہے بیماری اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہ دے تو محض تجارت کا خاصہ یعنی مال کی زیادتی حاصل نہیں کرسکتا۔ کفار کی دنیوی ترقی اور مال و دولت کی فروانی ان کے کفر کا نتیجہ نہیں جیسے مسلمان کا افلاس اور عیش و پریشانی اسلام کا نتیجہ نہیں بلکہ کفار نے جب آخرت کی فکر چھوڑ دی اور پوری طرح دنیا کے مال و دولت اور عیش و آرام کی فکر میں لگ گئے۔ تجارت ، زراعت اور حکومت و سیاست کے مفید راستوں کو اختیار کیا۔ مضر طریقوں سے بچے تو دنیا میں ترقی حاصل کرلی۔ اگر وہ بھی ہماری طرح صرف اپنے اپنے مذہب کا نام لے کر بیٹھ جاتے اور دنیوی ترقی کے لئے اس کے اصول کے مطابق جدوجہد نہ کرتے تو ان کا کفر ان کو مال و دولت یا حکومت کا مالک نہ بنا دیتا پھر ہم یہ کیسے سمجھ لیں کہ ہمارا اسلام وہ بھی صرف نام کا ہماری ساری فتوحات کے دروازے کھول دے گا ؟ اسلام و ایمان اگر بالکل صحیح اصول پر بھی ہو تو اس کا اصلی خاصہ اور نتیجہ نجات آخرت اور جنت کی دائمی راحت ہے۔ دنیا میں مال و دولت کی فراوانی عیش و آرام کی وسعت اس کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے لئے اس کے مناسب جدوجہد نہ کی جائے۔ اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ جہاں کہیں اور جب کوئی مسلمان تجارت و صنعت ، حکومت و سیاست کے اصول صحیحہ کو سیکھ کر ان پر عمل پیرا ہوجاتا ہے تو وہ بھی دنیوی ثمرات و نتائج سے محروم نہیں رہتا جو کسی کافر کو حاصل ہو رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ دنیا میں ہمارا افلاس و احتیاج اور مصائب و آفات ہمارے اسلام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طرف اسلامی اخلاق و اعمال چھوڑنے کا اور دوسری طرف ان تمام کاموں سے منہ موڑنے کا نتیجہ ہے جن کے عمل میں لانے سے مال و دولت میں زیادتی ہوا کرتی ہے۔ افسوس ہے کہ ہمیں جب یورپ والوں کے ساتھ اختلاط کا اتفاق پیش آیا تو ہم نے ان سے صرف ان کا کفر اور آخرت سے غفلت اور بےحیائی اور بداخلاقی سب سیکھ لی لیکن ان کے وہ اعمال نہ سیکھے جن کی وجہ سے وہ دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ جس مقصد کے لئے کھڑے ہوں اسکے پیچھے اَن تھک کوشش ، معاملہ کی سچائی ، بات کی سچائی اور دنیا میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے نئے نئے طریقے جو در حقیقت اسلام ہی کی اصلی تعلیمات ہیں۔ ہم نے ان کو دیکھ کر بھی اس کی نقل اتارنے کی کوشش نہ کی ۔ تو یہ قصور ہمارے اسلام کا ہے یا ہمارا اپنا قصور ہے۔ الغرض قرآن کریم کی ان آیات نے واضح کردیا کہ محض نسلی طور پر اسلام کا نام رکھ لینا کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا سکتا جب تک ایمان اور عمل صالح کو مکمل طور پر اختیار نہ کیا جائے۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں میں اس کے نام کی یاد کو روکے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو ؟ جن لوگوں کے ظلم کا یہ حال ہے تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ اللہ کی عبادت گاہوں میں وہ قدم رکھیں بجز اس حالت کے کہ وہ ڈرے ، سہمے ہوئے ہوں ، ایسے لوگوں کیلئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے

دین اسلام میں صرف ایک ہی مرکز کا ہونا ضروری ہے : 214: جس طرح دنیا میں ہر قوم کی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایک مرکز ہو اسی طرح اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کے لئے ایک مرکز ضروری قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ تمام افراد ملت اس کے ساتھ وابستہ ہوں ہر شخص کو اس کے ساتھ پیوستگی اور مواصلت ہو۔ یہ ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہرچیز اس کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ ہزاروں لاکھوں نجوم و کو اکب ، ستارے اور سیارے ہیں مگر سب کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ایک درخت کی صدہا ٹہنیاں اور شاخیں ہیں مگر سب کا رزق جڑ سے آتا ہے ۔ ہر دریا اور نہر کے لئے کوئی نہ کوئی چشمہ و مرکز ہے اسی قاعدے کے مطابق ضرورری تھا کہ امت مسلمہ کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ایک مرکزی درسگاہ ہوتی جس کی شاخیں تمام دنیا میں پھیل جاتیں جو ان تمام متفرق و منتشرا جزاء کے لیے اتحاد کا مرکزی نقطہ ہوتی جو سب کے لئے جڑ کا کام دیتی جس کے سر چشمہ سے تمام عالم اسلامی کے دریا اور نہریں سیراب ہوتیں۔ چناچہ اس غرض کے لئے وادی غیر ذی ذرع یعنی مکہ مکرمہ کو منتخب کیا گیا۔ وہ سب سے اعلیٰ تعلیم گاہ قرار پائی اور دنیا بھر کی تمام مساجد کو اس کے ساتھ ملحق کردیا گیا کہ سب درسگاہوں کی نگران کارو محافظ ہو۔ جب مختلف اسلامی شہروں کے مسلمان اپنی اپنی تعلیم گاہوں سے فارغ ہوں تو ایک مرتبہ اس مرکزی درسگاہ میں بھی ضرور حاضر ہوں۔ یہودیوں نے نسخ قبلہ پر اعتراض کیا کہ بیت اللہ قبلہ نہ بنے لیکن دراصل ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں لامرکزیت کی اشاعت جاری رہے اور وہ ایک مرکز سے وابستہ نہ ہو سکیں ان کی قوتیں منتشر ہوجائیں۔ ان کی متحدہ طاقت فنا ہوجائے۔ ان کا کوئی تعلیمی مرکز نہ رہے اور جو مرکز نہ ہوگا تو دنیا بھر کی مسجدیں خود بخود ذکر الٰہی سے خالی ہوجائیں گی۔ کوئی قوت ان کی نگران کار نہ ہوگی۔ ان کا نظام قائم نہ رہ سکے گا۔ پھر ان سے بڑھ کر بھی کوئی دوسرا شخص ظالم ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مسجد یعنی عبادت گاہ میں قدم رکھتے ہوئے ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر عذاب نہ نازل ہوجائے ۔ آخر میں ان کا انجام بتا دیا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے اور آخرت میں بھی عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے اور یہ گویا ایک قسم کی تحدی تھی یعنی چیلنج اور وہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح قرآن کریم نے اعلان کیا تھا اور اسی کو اسلام میں معجزہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ غیر مسلم اقوام نے قرآن کریم کی اس حقیقت کو سمجھا اور ” اقوام متحدہ “ کی داغ بیل ڈال کر مسلمانوں کو انکے مرکز سے غافل کردیا۔ افسوس کے آج عالم اسلام نے اس مرکزی حیثیت کو ختم کردیا بیت اللہ صرف رسومات حج کے لئے رہ گیا اور افادیت مرکزیت اور حج کو بالکل بھلا دیا گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ عالم اسلامی کے لئے مرکز کا کام دیتا۔ تمام دنیا کے لئے اس جگہ سے ہدایات جاری ہوتیں ۔ مسلمانوں کے سارے ممالک کا امیر المؤمنین یہیں ہوتا ، تمام دنیا کے لیے اس جگہ سے ہدایات جاری ہوتیں۔ مسلمانوں کے سارے ممالک کی حیثیت اسلامی صوبہ جات کی سی ہوتی۔ پوری دنیائے اسلامی کا امیر اس جگہ سے کنٹرول کرتا۔ ہر ملک کا حکمران اسی جگہ سے منتخب کر کے بھیجا جاتا۔ ہر اسلامی ملک کی اندرونی و بیرونی خرابیوں کا ازالہ اسی جگہ سے کیا جاتا۔ تمام ممالک اسلامی کی نظریں اسی مرکز کے ساتھ وابستہ ہوجاتیں۔ ہر کمی کو یہاں سے پورا کیا جاتا اور ہر مرض کا علاج اسی مرکز میں کیا جاتا ہر اسلامی مملکت کی ضروریات اسی مرکز سے پوری ہوتیں اور ہر اسلامی ملک اس مرکز کے سامنے جوابدہ ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہماری حالت یہ نہ ہوتی۔ ایک ہزار سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم کتنے بھی کمزور ہوئے لیکن جب تک ہمارا مرکز ایک رہا دنیا پر حکومت کرتے رہے۔ جب سے ہمارا مرکز ویران ہوا اور پھر مرکز کی مرکزیت ختم کر کے رکھ دی گئی ہم ذلیل و خوار ہوگئے۔ قومی مرکز کی بےحرمتی قوم کی موت کے مرادف ہے جو گویا دنیاوی رسوائی ہے : 215: یہود کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ قومی طور پر کئی بار مر چکے ہیں اور اب نزول اسلام کے بعد بھی ان کی موت یقینی ہے۔ زمانہ اسلام سے پہلے جب یہودیوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالا تو روم کے نصاریٰ نے ان سے انتقام لینے کی خاطر عراق کے مجوسی بادشاہ بخت نصر کے ساتھ مل کر اپنے بادشاہ طیطوس کی سرکردگی میں شام کے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان کو قتل و غارت کیا اور تورات کے نسخے جلا دیئے۔ بیت المقدس میں نجاسات اور خنزیر ڈال دیئے اس کی عمارت کو خراب و ویران کردیا اور بنی اسرائیل کی شان و شوکت کو پامال کر کے ختم کردیا ۔ نبی کریم ﷺ کے وقت تک بیت المقدس اس طرح ویران و منہدم پڑا تھا۔ فاروق اعظم ؓ کے عہد میں جب شام و عراق فتح ہوئے تو آپ کے حکم سے بیت المقدس کو دوبارہ تعمیر کرایا گیا۔ زمانہ دراز تک پورا شام و مصر ، بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں رہا پھر ایک عرصہ کے بعد بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ سے نکل گیا اور تقریباً سو سال یورپ کے عیسائیوں کا اس پر قبضہ رہا۔ تاآنکہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پھر اس کو فتح کیا۔ رومی ، نصاریٰ کی اس گستاخانہ حرکت پر کہ تورات کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب و ویران کیا ، اس کی بےحرمتی کی۔ اس سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب مشرکین مکہ نے رسول کریم ﷺ کو واقعہ حدیبیہ کے وقت مسجد حرام میں داخل ہونے اور طواف کرنے سے روک دیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر (رح) نے پہلی روایت کو اور ابن کثیر نے دوسری کو ترجیح دی ہے۔ بہر حال شان نزول کچھ ہو۔ مفسرین پہلے واقعہ کو ترجیح دیں یا دوسرے کو ، بہر حال اس کا حکم عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت سے خاص بیت المقدس کا نام لینے کی بجائے ” مساجد اللہ “ فرمایا گیا ہے لہٰذا تمام مساجد پر اس کا حکم عام ہے اور مفہوم آیت یہ ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی مسجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے سے روکے یا کوئی ایسا کام کرے جس سے مسجد ویران ہو تو وہ یقیناً بہت بڑا ظالم ہے۔ بد قسمتی سے آج مسلمانوں کی گروہ بندی کی لعنت نے ان کو یہود و نصاریٰ سے بھی چند قدم آگے لا کھڑا کیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی مسجدوں کو برباد کرنے پر تل گئے ہیں۔ مسجدیں گویا اللہ کی یاد کے لئے نہیں تعمیر کی گئیں بلکہ اپنی اپنی فرقہ بندی کی پختگی کے لئے تعمیر ہوئی ہیں اور ایسا وقت آیا کہ بعض مسجدوں کے دروازوں پر لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ ” اس مسجد میں کوئی وہابی ، نجدی اور دیوبندی داخل نہیں ہو سکتا۔ “ سب لوگوں نے اپنی اپنی پہچان کے لئے مسجدوں کو گھات گاہ بنا لیا ہے۔ اس آیت میں مسجد کی ویرانی اور بربادی کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب سے ممانعت کردی گئی ۔ پیش گوئی کے طور پر کہہ دیا گیا کہ جو شخص بھی مسجد کی ویرانی اور بربادی کی کوئی صورت کرے گا وہ یقیناً دنیا میں بھی رسوا ہوگا اور آخرت بھی اس کی برباد ہوگی۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق ہو یا مغرب سب اللہ ہی کیلئے ہے جہاں کہیں بھی تم رخ کرلو اللہ تمہارے سامنے ہے ، بلاشبہ وہ وسیع قدرت والا جاننے والا ہے

سمت کا مقرر کرنا انتظامی امور سے متعلق ہے اللہ ہر سمت سے پاک ہے : 216: ایک مذہبی جماعت ہونے کے باوجود بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیت المقدس ہی میں محدود کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف اسی طرف رخ کرنے سے انوار و تجلیات الٰہیہ کا نزول ہو سکتا ہے حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے بلکہ اس کے لئے تو مشرق و مغرب سب برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جس جگہ کچھ لوگ جمع ہو کر اس کے ذکر میں مصروف ہوں گے اس کی رحمت فوراً ان کی طرف متوجہ ہوگی کیونکہ اللہ کی رحمت کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا اور وہی جانتا ہے کہ اس کا صحیح محل نزول کونسا ہے۔ اس آیت میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے اگرچہ آپ ﷺ کو مکہ اور بیت اللہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور مدینہ پہنچ کر ابتدائی زمانہ میں سولہ سترہ ماہ تک آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اب بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ملا ہے لیکن اس میں آپ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں نہ آپ ﷺ غمگین ہوں کیونکہ اللہ کی ذات پاک کسی خاص سمت میں نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق و مغرب یکساں ہیں کعبہ کو قبلہ نماز بنائیں یا بیت المقدس کو ، دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امرا الٰہی کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے۔ ؎ داد حق را قابلیت شرط نیست ۔ بلکہ شرط قابلیت داد ہست اس لئے جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم مل گیا تو اب کعبہ کی طرف فضیلت گویا لوٹا دی گئی کیونکہ بندے کو جو اجر ملنے والا ہے وہ کسی سمت کی وجہ سے نہیں ، بلکہ تعمیل حکم کی وجہ سے ملے گا۔ چند مہینوں کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دے کر اور اس کے بعدکعبہ کو قبلہ تسلیم کر کے گویا آپ ﷺ نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ کسی خاص سمت یا مکان کو قبلہ قرار دینا اس وجہ سے نہیں کہ معاذ اللہ ، اللہ تعالیٰ اس مکان یا اس سمت میں ہے دوسری جگہ میں نہیں بلکہ اللہ تو ہر جگہ اور ہر سمت میں یکساں توجہ کے ساتھ موجود ہے۔ کسی خاص سمت کو قبلہ عالم قرار دینا ، دوسری حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کی توجہ کسی خاص سمت یا جگہ کے ساتھ مقید نہیں تو اب عمل کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ ہر شخص کو اختیار دے دیا جائے کہ جس طرف چاہے رخ کر کے نماز پڑھے دوسرے یہ کہ سب کے لئے کوئی خاص سمت و جہت معین کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ پہلی صورت میں ایک طرح کا تشتت و افتراق کا منظر سامنے آجائے گا۔ کہ دس آدمی نماز پڑھ رہے ہیں اور ہر ایک کا رخ الگ الگ ہے گویا کہ ہر ایک کا قبلہ جدا جدا ہے اور دوسری صورت میں تنظیم و اتحاد کا عملی سبق ملتا ہے۔ ان حکمتوں کی بنا پر سارے عالم کا قبلہ ایک ہی چیز کو بنانا زیادہ مناسب ہے ۔ اب وہ بیت المقدس ہو یا کعبہ دونوں ہی مقدس و متبرک مقامات ہیں ۔ ہر قوم اور ہر زمانہ کے مناسب احکامات آتے ہیں۔ ہم نے کبھی بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن یہود نے اس کو قبلہ بنا لیا اور رسول اللہ ﷺ اہل کتاب ہونے کے ناطے سے ان کے قرار دیئے گئے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور کچھ عرصے کے بعد اللہ نے اپنی خاص مصلحت کے تحت اہل اسلام کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا تاکہ قومی یکجہتی قائم ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ کی دلی خواہش کا احترام بھی پورا ہو۔ قانون الٰہی کی گہرائیوں کو ہر کوئی نہ سمجھ سکے یہ دوسری بات ہے لیکن کوئی نہ کوئی حکمت اس میں ضرور پنہاں ہوتی ہے لوگوں نے تو سمت نماز مقرر ہوجانے کے بعد اس آیت کو منسوخ مان لیا کہ اب اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے حالانکہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے اگر یہ آیت موجود نہ ہوتی تو اور حکم آیت موجود نہ ہوتا تو اہل اسلام کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ جہاں قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنا ممکن نہیں رہتا وہاں کیا کیا جاتا ہے۔ ریل ، پانی کا جہاز ، ہوائی جہاز اور نہ معلوم ابھی کون کونسی سواریاں آئیں گی۔ جس میں ایک سمت منہ رکھنا ممکن ہی نہیں وہاں نماز ادا کرنے کا وقت آجاتا تو ایک مسلمان کیا کرتا ؟ اس آیت نے ان ساری کلفتوں اور پریشاینوں کا حل پیش کردیا کہ جس طرف بھی تمہارا منہ ہوگا اس سمت میں اللہ موجود ہے زیادہ وہم مت کرو۔ بس نماز ادا کرو اگر سمت بدلتی ہے تو بدلنے دو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی طرح جہاں نمازی کو سمت قبلہ معلوم ہی نہ ہو اور سمت مقرر کرنا بھی دشوار ہو یعنی اس کے بس کا روگ نہ ہو اور کوئی بتلانے والا بھی موجود نہ ہو تو وہاں بھی یہی حکم ہے کہ اپنے خیال سے جس طرف کو سمت بنا لے گا قبلہ اس طرف ہے اگر قبلہ اس طرف نہ بھی ہوگا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ کا نام لے اور نماز کو ادا کرلے اگر نماز ادا کرلینے کے بعد کسی وجہ سے معلوم ہوجائے کہ میری سمت صحیح نہ تھی تو بھی نماز درست ہوجائے گی صرف اس وجہ سے نماز کو لوٹانا ضروری نہیں ہے کہ : فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ 1ؕ ۔ بعض لوگوں نے اس آیت کے یہ معنی بھی لئے ہیں کہ اس میں مسلمانوں کے غلبہ و اقتدار کی پیشگوئی ہے کہ وہ جس طرف بھی رخ کریں گے فتح و نصرت ان کے ساتھ ساتھ ہوگی۔ دنیا کے گوشہ گوشہ اور کونہ کونہ میں پھیل کر رہیں گے اور مشرق و مغرب پر انہی کا قبضہ ہوگا۔ اللہ کی وسعت کو کون پا سکتا ہے ۔ کبھی یہ مطلب بھی صحیح اور درست تھا لیکن آج ہماری بدقسمتی اور نااہلی کے باعث وہ وقت نہیں رہا۔ ہاں ! اللہ ہمیں اپنی حالت کے درست کرنے کی توفیق عطا فرما دے اور وہ وقت دوبارہ لوٹ آئے تو ناممکن بھی نہیں کہ وسعت آیت اس مضمون پر بھی حاوی ہوجائے۔