2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

جب ایسا ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان کی ہدایت کیلئے ایک کتاب نازل ہوئی اور وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی تھی جو پہلے سے ان کے پاس موجود ہے تو باوجود اس کے کہ وہ کافروں کے مقابلہ میں اس کا نام لے کر فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے تھے لیکن جب ہدایت سامنے آگئی تو صاف انکار کر گئے ، پس ان لوگوں کیلئے جو کفر کی راہ اختیار کریں اللہ کی لعنت کے سوا کیا ہے ؟

قرآن کریم کی تصدیق ان پر لازم آتی تھی لیکن تصدیق کی بجائے انکار کردیا : 175: جو مخرج کتاب مقدس یعنی تورات کا تھا وہی قرآن کریم کا بھی مخرج تھا یہی وجہ تھی قرآن کریم نے آتے ہی تورات کو کتاب ہدایت اور نور قرار دیا۔ کس قدر دیانت و امانت کی بات ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کو بار بار چیلنج پر چیلنج کیا کہ اگر تم آج بھی تورات کے مطابق زندگی گزارنا شروع کرلو اور تورات کی تعلیم کو دل سے قبول کرلو تو تم میرا انکار کر ہی نہیں سکتے۔ تمہارا انکار کرنا میرا کیا بگاڑے گا ؟ جو بگڑے گا وہ سب تمہارا ہی بگڑے گا کیونکہ میرا انکار کر کے گویا تم نے اپنی کتاب کا انکار کیا۔ میں کیا ہوں ؟ اپنے سے پہلے کی آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق کرنے والا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ میرے سچے ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہی یہ ہے کہ میں سچ ہوں اور سچائی کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں کیوں آیا ؟ صرف اس لئے کہ تم کو بتادوں ، تم جھوٹے ہو اس لئے کہ جھوٹ بولتے ہو۔ بلاشبہ تمہارے پاس سچائی ہے لیکن تم نے اس کو چھپا دیا ہے اس پر پردے ڈال دیئے ہیں حق و باطل کے ملانے کے تم مرکتب ہوچکے ہو۔ حق لانے والوں کی تم تکذیب کرچکے ہو ، میں تمہاری ہی سچائی کی تصدیق کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اے بنی اسرائیل ! دیکھو وہ پہلی پیش گوئیوں کو سچ کردینے والی کتاب آگئی۔ پھر ان کو بار بار یاد دلایا ہے کہ تم وہی قوم ہو جو دعائیں مانگا کرتے تھے کہ نبی آئے تاکہ ہماری ذلت کے دن ختم ہوں۔ محاورہ ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ “ جس مثیل موسیٰ کی تم کو انتظار تھی وہ آگیا : 176: بنی اسرائیل کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ جس مثیل موسیٰ کی خبر ہماری کتاب تورات میں دی گئی ہے ابھی تک وہ دنیا میں ظاہر نہیں ہوا تورات میں یہ بات بطور پیش گوئی موجود تھی جس کے الفاظ یہ ہیں : ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی طرف کان دھریو ، اس سب کی مانند جو تو نے خداوند اپنے خدا سے خواب میں مجمع کے دن مانگا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنوں اور ایسی شدت کی آگ میں پھر دیکھوں ، تاکہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا ، میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا ، اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔ “ (کتاب استثناء 15 تا 19) وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس کا ظہور مکہ مبارکہ میں ہوگا اور اس کا مقام ہجرت مدینہ منور قرار پائے گا۔ اسی لئے انہوں نے بنو نضیر ، بنو قریظہ اور بنو قینقاع کو اطراف مدینہ میں آباد کردیا تھا ان کی اوس و خزرج سے ہمیشہ جنگ رہا کرتی تھی۔ ان کی کوشش یہ رہتی کہ جس طرح ممکن ہو اس کا نام و نشان مٹا دیں جب کبھی انہیں شکست ہوتی تو وہ والہانہ اور مضطربانہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خاوند ! نبی آخر الزمان کو بھیج ، کہ ہماری مصیبتوں اور تکلیفوں کے دن ختم ہوں اور کفار پر غلبہ حاصل کریں چناچہ یہی باتیں انصار کے مسلمان ہونے کا باعث بنیں۔ گویا یہودی اپنی تمام کامیابیاں اور کامرانیاں اس وجود اقدس کے ساتھ وابستہ یقین کرتے تھے کیونکہ انہیں وعدہ دیا گیا تھا کہ : ” اگر تو کوشش کرکے خداوند اپنے خدا کی آواز سنے ...... تو خداوند تیرا تجھے زمین کی قوموں کی بہ نسبت سرفراز کرے گا یہ ساری برکتیں تجھ پر آئیں گی اور تجھے پہنچیں گی۔ “ (کتاب استثناء 28 : 1 ، 2) آگے چل کر فرمایا گیا : ” اگر تو خداوند اپنے خدا کے حکموں کو حفظ کرے گا اور اسی کی راہوں پر چلے گا تو خداوند تجھ کو اپنے لئے پا کر قوم بنائے گا جیسا کہ اس نے تجھ سے قسم کی ہے اور زمین کے سارے فرقے دیکھیں گے کہ تو خداوند کے نام سے کہلایا ، سو وہ تجھ سے ڈرتے رہیں گے۔ “ (کتاب استثناء 28 : 9 ، 10) اسی لئے قرآن کریم نے ان سے بار بار مطالبہ کیا کہ اس رسول پر ایمان لے آؤ کہ تمہاری پیشگوئیوں کی تصدیق ہو ، مگر کو رانہ تقلید ، قومی روایات ، اور سب سے بڑھ کر تعصب و ہٹ دھرمی کی بنا پر صاف انکار کر بیٹھے۔ حالانکہ جس طرح انہیں اپنی اولاد کے شناخت کرنے میں کبھی دھوکا نہ ہوا ایسے ہی وہ آپ ﷺ کو بھی پہچانتے تھے۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : یَعْرِفُوْنَهٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ 1ؕ ، ” وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے کہ یہ ہمارے بیٹے ہیں۔ “ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ : (ا) موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک کسی نبی نے کتاب استثناء کی پیش گوئی کے مطابق مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ، حالانکہ اس دوران میں ان کے پاس برابرنبی آتے رہے تھے۔ (ب) عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد چھ سو برس تک بنی اسرائیل میں ایک بھی نبی نہ آیا۔ (ج) وہ مانتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند جس نبی کی بعثت کا وعدہ دیا گیا ہے وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمعٰیل میں سے ہوگا۔ (د) وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ اب نبوت ہمارے خاندان سے منتقل ہو کر اسمعٰیل کے گھرانے میں چلی جائے گی۔ جب وہ ان تمام حقائق ثابتہ کے باوجود نہیں مانتے تو ان پر اللہ کی لعنت ہو اور وہ اس کی خیر و برکت سے دور ہوں جب سب کچھ جاننے کے باوجود کوئی انجان بن جائے تو اسے اور کیا کہا جائے گا بس وہی کہا گیا جو کہنے کا حق تھا۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

افسوس ! کیا ہی بری قیمت ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کا سودا چکایا ! انہوں نے اللہ کی نازل کردہ سچائی سے انکار کیا کہ وہ جس کسی پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل کردیتا ہے۔ یہ لوگ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے پہلے ہی ذلیل و خوار ہوچکے ہیں ، پھر اللہ کا غضب بھی ایک کے بعد ایک ان کے حصے میں آیا اور انکار حق کرنے والوں کیلئے ہمیشہ رسوا کرنے والا عذاب ہی ہوتا ہے

انکار کا سبب دراصل ان کی سرکشی تھی : 177: ان کے انکار کا باعث یہ نہیں تھا کہ وہ سچائی کو پہچان نہ سکتے تھے بلکہ انکار کا اصل سبب ان کی سرکشی اور ان میں سے بعض کی توقعات کے خلاف دعویٰ نبوت تھا۔ کیونکہ ان میں سے بعض لوگوں کی توقعات یہ تھیں کہ وہ نبی ان کی قوم میں سے ہوگا ، ان کے غلط عقائد اور بےجا تواہمات کی تائید کرے گا ، اور اس کا مذہب ان کی خواہشات و مالوفات کے مطابق ہوگا۔ مگر جب دیکھا کہ وہ نبی اسمعٰیل کے خاندان میں پیدا ہوا ہے ، ان کے تمام عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ کی مخالفت کرتا ہے تو ان کے بغض و حسد کی کوئی حد نہ رہی۔ گویا باوجود شناخت کرنے کے ان کے انکار کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہیں چھوڑ کر دوسری قوم کو اپنے فضل و کرم کے لئے کیوں مخصوص کرلیا گیا۔ پس وہ دوہرے غضب کے مستحق ہوئے ایک عیسیٰ (علیہ السلام) کے انکار کی بنا پر اور دوسرے نبی رحمت خاتم المرسلین ﷺ کے نہ ماننے کی وجہ سے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے کافروں کو اس دنیا میں محکومی کی ذلیل زندگی بسر کرنا پڑے گی۔ یہ حال تو قوم یہود کا تھا کہ ان کے انکار حق کا باعث کوئی دلیل نہیں تھی۔ بلکہ سراسر سرکشی اور عدوان تھا مقام غور ہے کہ آج کل فی زماننا قوم مسلم کی حالت کیا ہے ؟ صاف اور سچی بات یہ ہے کہ یہی حال آج کل علمائے سوء اور ارباب عمائم و زمائم کا ہے کہ کتاب و سنت کی تصریحات کا انکار صرف اس بنا پر کردیں گے کہ ان کی مزمومہ تفاسیر جلالین ، بیضاوی ، ابن کثیر ، فتح البیان ، خازن ، کشاف اور مدارک میں نہیں ہے ، یا ان کی گراں قدر کتب فقہ ، قدوری ، کنز ، شامی ، درمختار ، ردالمحتار ، قاضی خاں ، ہدایہ اور عالمگیری میں نہیں۔ جمود اور تقلید اعمیٰ نے ان کے دل و دماغ کو معطل کردیا ہے۔ مذہبی گروہ بندی اور فرقہ پرستی نے ان کے سوچنے اور غور کرنے کی قوت کو سلب کردیا ہے۔ کسی عربی مدرسہ میں قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہوتی جلالین ، بیضاوی اور مدارک پڑھائی جاتی ہے۔ مگر قرآن کریم پڑھنا اور چیز ہے اور زید و بکر کے اقاویل میں غور و فکر کرنا اور بات ہے۔ بخاری و مسلم کی جگہ کنز و قدوری ، یوسف زلیخا ، درس نظامی میں داخل ہیں سارا غور و فکر زوائد پر صرف کیا جاتا ہے بخاری و مسلم کا دورہ بطور درود وظیفہ رکھا گیا ہے وہ بھی بہت ہی کم۔ ہدایہ پڑھائیں گے اور علامہ زیلعی کی تخریج کو دیکھیں گے ان کی تحریر پڑھیں گے کہ صاحب ہدایہ متعدد جگہ موضوع احادیث سے اپنے مذہب کو ثابت کرتے ہیں لیکن دماغی قوتیں اس قدر بیکار ہوچکی ہیں کہ سب کچھ پڑھنے کے باوجود مذہب حنفیہ حق اور سواد اعظم زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں گے۔ افسوس کہ کتاب و سنت سے دوری اختیار کر کے غضب بالائے غضب کے مستحق ہوئے حکومت و سرفرازی کے لئے دوسروں کو چن لیا گیا یہ چیلوں اور کو وں کی طرح لڑائی میں مبتلا ہوگئے۔ قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا (الانعام 6 : 65) ” اے پیغمبر اسلام ! کہہ دو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے کوئی عذاب اٹھا دے یا ایسا کرے کہ تم گروہ گروہ ہو کر آپس میں لڑ پڑو۔ “ وائے حسرت ! آج ہماری حالت اتنی دگرگوں ہوگئی کہ عذاب کی ان حالتوں میں سے ایک نہیں بلکہ سب کی سب ہی ہم پر مسلط کردی گئیں۔ اللَّهُمَّ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی ظُلْمًا کَثِیرًا وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ہم تو صرف وہی بات مانیں گے جو ہم پر اتری ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے اس سے انہیں انکار ہے حالانکہ وہ اللہ کا سچا کلام ہے جو ان کی کتاب کی بھی تصدیق کرتا ہوا نازل ہوا ہے۔ ان سے کہو اچھا اگر واقعی تم ایماندار ہو تو پھر تم نے پچھلے وقتوں میں اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا ؟

ایک سچائی کا انکار سب سچائیوں کا انکار ہے کاش کہ تم سمجھ جاؤ : 178: یعنی جب ان سے قرآن کریم اور نبی خاتم المرسلین ﷺ پر ایمان لانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں توراۃ و انجیل پر ایمان رکھنا کفایت کرتا ہے ان سے کہا جارہا ہے کہ تم اس بات میں جھوٹے ہو کیونکہ قرآن کریم تو ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور خود ان کی کتابوں یعنی تورات و انجیل میں بھی نبی کریم ﷺ کی تصدیق موجود ہے پھر تم ہی بتاؤ کہ تم نے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کا انکار کر کے تورات و انجیل کی تصدیق کی ہے یا تکذیب۔ عقل کا تقاضا تو یہی ہے کہ اس طرح سے انہوں نے گویا اپنی ہی کتابوں کی تکذیب کی ہے اور حق کو تسلیم نہ کرنے میں تو پہلے ہی وہ بہت ماہر ہیں کیونکہ چور بھی اور چتر بھی۔ جب کوئی شخص ارادہ کرلے کہ میں نے ایک بات کو تسلیم نہیں کرنا وہ سو بار حق ہو اس کی بلا سے ، کیونکہ اس نے تو نہ ماننے کی سوگند (قسم ) کھائی ہے اور اس میں وہ بہت پکا ہے۔ اس طرح جب ان پر حجت قائم ہوگئی اور وہ اپنی جگہ سے ذرا بھی نہ ہلے تو ان کو مزید کہا جارہا ہے کہ اچھا تورت و انجیل پر تو تمہارا ایمان ہے کیونکہ یہ بات تو تم کہہ چکے ہو پھر پہلے انبیاء کرام کو تم نے قتل کیوں کیا ؟ آخر اس کی دلیل کیا ہے ؟ کیونکہ وہ تو کوئی نئی تعلیم کی کتاب بھی نہیں لائے تھے بلکہ تم کو تورات و انجیل ہی کی تعلیم دیتے تھے لیکن ان کے پاس اس کا بھی نہ کوئی جواب تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی جواب دیا پس معلوم ہوا کہ پابندی تورات و انجیل کا دعویٰ کرنا سرے سے غلط ہے اور حقیقت یہی ہے کہ وہ ہمیشہ سے کتاب الٰہی کے منکر رہے اور کاش کہ ! وہ سمجھتے ہوتے۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ تمہارے پاس آیا پھر تم بچھڑے کے پیچھے پڑگئے جو سب ظلموں سے بڑا ظلم ہے

کیا موسیٰ (علیہ السلام) بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے تھے ؟ 179: کہتے ہیں کہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا دینا ضروری ہوتا ہے اب ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) بھی تمہارے پاس روشن دلائل لائے تھے یا نہیں ؟ اگر لائے تھے تو تم نے ان کو مان لیا تھا ؟ کیا تم وہ لوگ یعنی انہیں لوگوں کی اولاد نہیں ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہی وہ نبی تھے جنہوں نے تم کو فرعون جیسے ظالم حکمران سے نجات دلائی اور وہ ذرا تم سے ہٹے تو تم نے بچھڑا پوجنا شروع کردیا اگر ایمان کے یہی کارنامے ہیں اور ایسی ہی غلط کاریوں اور بیہودہ حرکتوں کا حکم دیتا ہے تو پھر کیا اس سے بدترین کوئی اور ایمان بھی ہوسکتا ہے ؟ ضمیر فروشی کرو ، دولت کو اپنا امام بناؤ اور روپیہ کے آگے سر بسجود ہوجاؤ اس پر بھی مؤمن ہی رہو تو کیا خوب ایمان ہے۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور پھر جب ہم نے کوہ طور کی بلند وبالا چوٹیوں کے نیچے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ جو کتاب تم کو دی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جاؤ اور اس کے حکموں پر کاربند ہو تو تم نے اقرار کیا اور دل سے تسلیم ہی نہ کیا کیونکہ تمہارے دلوں میں تو کفر کے باعث بچھڑے کی پوجا رچ بس گئی تھی ، ان سے برملا کہیے کہ تم اپنے جس ایمان کا دعویٰ کرتے ہو افسوس ہے اس ایمان پر کیا ہی بری راہ ہے جس پر تم کو تمہارا ایمان لیے جا رہا ہے

تم وہی نہیں ہو جن سے طورؔ کے نیچے عہد لیا گیا تھا ؟ 180: اپنے گریبان میں ذرا جھانک کر تو دیکھو تم وہی لوگ ہو کہ تورات کے پابند رہنے کے لئے تیار نہ تھے۔ کوہ طور کے نیچے عہد و پیمان کر کے تم پھرگئے تھے۔ تمہارا جب بس چلتا تو انبیاء کرام کو تم قتل کردیتے تھے۔ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پابندیٔ تورات کا عہد کیا مگر اعمال حیات سے ثابت کردیا کہ اس کتاب کو اپنی زندگی کا دستور العمل نہیں بناؤ گے۔ اس انکار اور ہٹ دھرمی کا اصل سبب کیا تھا ؟ یہی نا کہ کفر و باطل نے تمہارے دلوں میں مال و دولت کی محبت پیدا کردی تھی۔ تم نے اس مال و دولت کو اپنا قبلہ بنا لیا تھا اور تمہارے دلوں نے کفر کو اس طرح قبول کرلیا تھا جیسے کپڑا رنگ کو جذب کرلیتا ہے۔ تم سے کہا گیا تھا کہ تورات ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناؤ یعنی زندگی کا دستور العمل سمجھو اور اسی کی ہدایات کے مطابق عمل کرو۔ تم نے بزبان حال یہ کہا اور ثابت کردیا کہ ہاں ! ہم نے سن لیا نہیں بلکہ خوب سنا لیکن ہمارے دل اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے ” عَصَیْنَا 1ۗ“ یعنی ہم نے نہیں مانا زبان سے بھی کہا ہو۔ کیونکہ قومی زندگی میں ایسا کہنا لازم نہیں آتا اور نہ ہی قومیں ایسا کہتی ہیں ہاں ! بزبان حال یعنی عمل نے انکار کیا جاتا ہے اور اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اور کفر کی یہ حالت بزبان قال کفر کرنے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ وہ کفر بھی کرتے ہیں اور پھر مانتے بھی نہیں اور اسلام کی زبان میں یہی چیز نفاق سے تعبیر کی جاتی ہے۔ امام راغب (رح) نے اس کی مثال اس طرح دی ہے کہ : امتلا الحوض وقال قطنی ، یعنی حوض بھر گیا اور اس نے کہا کہ اب میری بس ہے۔ لیکن یہود ایسی ذلیل اور چھوٹ قوم تھی کہ اگر انہوں نے زبان قال بھی کہہ دیا ہو تو ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی سرکشیوں اور گستاخیوں کا حال تم پیچھے سے پڑھتے چلا آرہے ہو کہ وہ ناحق کہنے میں کس قدر اَن جھک اور بےشرم ہوچکے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ” اے موسیٰ جا تو اور تیرا رب دونوں جا کر لڑتے رہو ہم تو یہاں ہی بیٹھیں گے۔ “ ہاں ! وہ خود اپنی بستی چھوڑ جائیں تو ہم وہاں داخل ہوسکتے ہیں لیکن ان سے جہاد کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں اور ان کی اس ڈھٹائی کا ذکر کہیں کہیں تورات میں اب بھی موجود ہے ایک جگہ تحریر ہے کہ : ” خداوند یوں کہتا ہے کہ راہوں پر کھڑے ہو اور دیکھو اور پرانے رستوں کی بابت پوچھو کہ پہلی راہ کہاں ہے اس میں چلو کہ تم اپنے جیون میں آرام پاؤ گے۔ پر انہوں نے کہا کہ ہم اس میں نہ چلیں گے اور میں نے تمہارے اوپر نگہبان بھی ٹھہرائے اور کہا کہ نرسنگے کی آواز سنو ، پر انہوں نے کہا کہ ہم نہ سنیں گے۔ “ (پرمیاہ 6 : 16 ، 17) گائے کی محبت تھی کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر رَچ بس گئی تھی : 181: گائے کے مقدس ہونے کا خیال قوم اسرائیل میں مدت تک قائم رہا بلکہ موقع بہ موقع ان سے ایسی حرکات ہوتی رہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک مدت تک بنی اسرائیل کے خون میں اس کی محبت جوش مارتی رہی۔ (انسائیکلو پیڈیا ج 9 ص 402) ” اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ “ مراد یہ ہے کہ گوسالہ کی محبت ان کی رگ رگ میں رچ گئی تھی جیسے پانی رگ رگ میں پہنچ کر جزو بدن بن جاتا ہے مشروب سے یہ استعارہ شدید محبت کے موقع پر اہل عرب کی زبان میں آج بھی عام ہے۔ یا یہ استعارہ رنگ کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے کیونکہ کپڑے کے ریشہ ریشہ میں پیوست ہوجاتا ہے۔ ” اگر تم مؤمن ہو۔ “ یہ گویا حجت الزامی ہے بنی اسرائیل کے مقابلہ میں۔ قرآن کریم کا کہنا حقیقتاً یہ ہے کہ دعویٰ تو تمہارا یہ ہے کہ ہم صاحب توحید و ایمان ہیں اور عمل یہ کہ گوسالہ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں کیا اسی کو ایمان کہتے ہیں ؟ آج قوم مسلم کی حالت پر ذرا کرو کہ کوئی فرق نظر آتا ہے ؟ ہمارے ہاں بھی کیا کچھ نہیں ؟ وہم پرستی ہے ، قبر پرستی ہے ، پیر پرستی ہے اور پھر سب سے بڑھ کر خواہش پرستی ہے اور ایمان کا دعویٰ ، عشق رسول کا دعویٰ ، محبان علی کا دعویٰ ، محبت چار یار کا دعویٰ ، کیا ان سب دعو وں کا نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا ؟
Ayahs 2:94–95

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

ان سے کہیے کہ اگر آخرت کا گھر اللہ کے نزدیک صرف تمہارے ہی لیے ہے دوسرے لوگوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں تو آؤ موت کی آرزو کرو (مباہلہ کے لیے آگے بڑھو) اگر تم اس اعتقاد میں سچے ہو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

یہ لوگ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے جس کا ذخیرہ یہ جمع کرچکے ہیں کبھی ایسا کرنے والے نہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے

بنی اسرائیل اپنی ساری بد اعتدالیوں کے باوجود آخرت کی کامیابی بھی اپنا حق سمجھتے تھے : 182: آیت 93 تک بنی اسرائیل کی دنیاوی زندگی ، ان کے روز مرہ کے کارناموں اور ان کے عقائد اور اخلاق پر بحث ہوئی۔ اب بیان ہوتا ہے کہ باوجود ان ناشائستہ حرکتوں کے اپنی نجات کے متعلق انہوں نے کیا کیا منصوبے باندھ رکھے تھے اور پھر صرف خالی منصوبے ہی نہیں تھے بلکہ اس بنیادی عقیدہ کا ابتدائی خاکہ تورات کے اندر انہوں نے داخل کردیا تھا چناچہ تورات میں ہے کہ ” تم خداوند اپنے خدا کیلئے مقدس قوم ہو اور خداوند نے تجھ کو چن لیا ، تاکہ سب قوموں کی بہ نسبت جو زمین پر ہیں تو اس کے لئے ایک خاص قوم ہو۔ “ (استثناء 14 : 2) ” تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔ “ ( استثناء 4 : 1) رفتہ رفتہ یہ عقیدہ ترقی کر کے اس درجہ تک پہنچ گیا کہ یہود اپنے سوا کسی اور کو جنت کا مستحق ہی نہ سمجھتے تھے اور نجات اخروی کو اپنا مخصوص حق سمجھنے لگے تھے۔ اپنے کو اللہ کا محبوب اور اس کا لاڈلا اور چہیتا فرزند قرار دینے لگے تھے ، اور خیال یہ جما لیا تھا کہ خداوند کا جو معاملہ ہماری قوم و نسل کے ساتھ ایک ناقابل تبدیل طور پر ہے وہ دنیا جہاں میں کسی اور کے ساتھ نہیں۔ اندازہ کیجئے کہ دولت کو امام بنانا تورات کی دعوت پر ” سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا “ کہنا اور انبیاء کرام کو قتل کرنا اور اس کے ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھنا کہ : ” لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى1ؕ “ (البقرہ 2 : 111) کہ جنت کے داخلہ کے لئے ضروری ہے کہ یہودی بنو یا عیسائی ورنہ جنت میں تم داخل ہو ہی نہیں سکتے ، اور یہ بات بھی انہوں نے محض اس لئے کہی ہے کہ ان کو مسلمانوں کا مقابلہ ہے اس لئے وہ نصاریٰ کو ساتھ ملا رہے ہیں ورنہ وہ نصاریٰ کو کیوں ساتھ ملاتے اس لئے کہ جب تک اسلام کا مقابلہ ان کو درپیش نہ تھا وہ برملا کہتے تھے کہ ” عیسائیوں کا کوئی دین و مذہب نہیں ہے “ اور علاوہ اذیں بھی وہ بہت کچھ کہتے تھے۔ دعوت مباہلہ کا چیلنج : 183: ان کے اس دعویٰ سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اللہ کے محبوب اور برگزیدہ ہیں باوجود اس کے کہ ان کے اعمال ان کے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہیں تاہم اے پیغمبر اسلام ! ان کو کہو کہ اگر وہ اپنے دعویٰ محبت میں سچے ہیں تو اللہ کے نام پر مرنے کے لئے تیار ہوجائیں جس کو اپنے محبوب کی طلب ہوگی آخر وہ اپنے محبوب کے پاس جانے سے کیوں ہچکچائے گا۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ : قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ ہَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ ؟ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 006 (الجمعہ 62 : 6) ” اے پیغمبر اسلام ! یہود سے کہہ دو کہ اگر تمہیں اس بات کا دعویٰ ہے کہ تمام بندوں میں سے صرف تم ہی اللہ کے بندے اور دوست ہو تو اس کی آزمائش یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں موت کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو تو ضرور ایسا کرو گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا کہ : وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ 007 (الجمعہ 62 : 7) ” اور یہ اللہ اور اس کی صداقت کا جھوٹا دَم بھرنے والے کبھی موت کی تمنا کرنے والے نہیں کیونکہ انہوں نے ایسے کام کئے ہیں جو انہیں موت کے تصور سے ڈراتے ہیں۔ “ ان یہود کو رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹے کو ہلاک کر دے لیکن ساتھ ہی چیلنج بھی کردیا کہ یہود اس کے لئے کبھی تیار نہ ہوں گے اور وقت نے یہ بات ثابت کردی کہ فی الواقعہ یہود تیار نہ ہوئے گویا یہ زندہ جاوید معجزہ ثابت ہوگیا اور آج بھی تاریخ اس بات کی شاہد و گواہ ہے۔
Ayah 2:96

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

زندگی کے سب سے زیادہ حریص یہی لوگ ہیں ، مشرکوں سے بھی زیادہ ، ان میں سے ایک ایک آدمی کا دل یہ حسرت رکھتا ہے کہ کاش ! ایک ہزار برس تک تو جیتا رہے ، عمر کی درازی انہیں عذاب آخرت سے نجات نہیں دلا سکتی کیونکہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ کی نظروں سے وہ چھپا ہوا نہیں ہے

آخر انہوں نے اس چیلنج کو کیوں قبول نہ کیا ؟ 184: اب قابل غور بات یہ ہے کہ آخر وہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کیوں نہ آئے ؟ ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف اس لئے کہ وہ دل سے نبی کریم ﷺ کو اور قرآن کریم کو سچا جانتے تھے ان کے دلوں میں کھٹکا تھا کہ اگر ہم نے یہ چیلنج قبول کرلیا ، اور مقابلہ میں نکل آئے تو یقیناً ہلاک ہوجائیں گے وہ جانتے تھے کہ اگر ہمارے پاس سچائی کی کوئی دلیل ہوتی تو ہم دلیل پیش کرتے۔ جب ہم دلیل پیش نہ کرسکے اور اپنے دعو وں سے بھی باز نہ آئے تب ہی رسول اللہ ﷺ نے دعوت مباہلہ دی اور یہ وہ آخری حد ہے جس پر پہنچ کر جھوٹا کبھی واپس نہیں آسکتا لہٰذا ان کو اپنی موت آنکھوں سے نظر آگئی ، اور وہ دانت دکھا کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ان ظالموں کی حقیقت کا پہلے ہی علم تھا مگر عام لوگوں میں اپنی محبت الٰہی کا راگ الاپتے تھے۔ اب اس مطالبہ کی بنا پر ان کی قلعی کھل گئی اور کسی شخص کو ان کے ظاہری تقدس سے دھوکا نہ ہوگا۔ جو لوگ مذہبی جذبات کو پاؤں تلے روند کر دنیا میں رہنا چاہتے ہیں وہ ہرگز قابل عزت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو نہایت باریک بین نظر سے دیکھ رہا ہے ان کو ضرور ذلیل کر کے غیروں کا محکوم بنا دے گا۔ اب تجزیہ کر کے دیکھو کہ ان آیات کریمات میں علمائے یہود کی حسب ذیل خرابیاں ذکر کی گئیں۔ (ا) اپنی کتاب یعنی تورات پر عمل کرنے کے دعویدار ہیں مگر ان کا یہ دعویٰ سراسر غلط اور دکھاوا ہی دکھاوا ہے۔ (ب) ان کا نصب العین اور مقصد حیات مال و دولت جمع کرنا ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (ج) اللہ کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر اس کے لئے کوئی قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں خالی شیخی بھگارتے ہیں۔ (د) مذہبی جذبات کو پامال کر کے زندہ رہنا چاہتے ہیں جو انسانیت کے ہی خلاف ہے۔ آج اسی ترتیب سے اگر آپ امت مسلمہ کے علماء کے حالات کی تفتیش کریں تو یہ تمام خرابیاں ان میں نظر آئیں گی۔ ! دعویٰ تو اسلام کا ہوتا ہے مگر عملاً وہ اپنے بزرگوں اور پیروں اور ان کے غیر مستند اقوال کو مذہب بنائے بیٹھے ہیں۔ ایک شخص کی تمام زندگی گناہوں میں بسر ہوتی ہے مرتے وقت اس کے ورثاء ایک قرآن بخش دیتے ہیں اور یہ بدبخت (عالِم) ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اس کے تمام گناہ معاف ہوگئے۔ ایک آدمی سال بھر نماز ادا نہیں کرتا اور جمعۃ الوداع کے روز وہ دو رکعت قضائے عمری کی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کی تمام نمازیں معاف ہوجاتی ہیں۔ " شادی اور موت کے وقت جن رسوم کو جائز قرار دیا جاتا ہے وہ سب کی سب مسلمانوں نے عجم سے مستعار لی ہیں اور صرف روپیہ کمانے کی خاطر ان کو مذہبی رنگ دے دیا ہے۔ # اگر اللہ سے محبت ہوتی تو وہ اپنی زندگیوں کو اشاعت اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے وقف کردیتے اور مذہب کو کم از کم ایک دکانداری اور کاروبار نہ بنالیتے۔ گویا آج قوم مسلم کے علماء الا ماشا اللہ علمائے یہود کے بھی کان کاٹ گئے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ یہود تو انہی بد اعتدالیوں اور مذہبی خرافات کی بنا پر اللہ کی لعنت کے مستحق ہوں اور مسلمانوں کے لئے ساری راہیں کشادہ رہیں۔ علمائے زمانہ کا حال حا لی (رح) کی نظر میں : بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی جگر جس سے شق ہو وہ تحریر کرنی گنہگار بندوں کی تحقیر کرنی مسلمان بھائی کی تکفیر کرنی یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پر لاتے کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے ستوں چشم بد دور ہیں آپ دین کے نمونہ ہیں خلق رسول ﷺ امین کے سدا اہل تحقیق سے دل میں بل ہے حدیثوں پہ چلنے میں دیں کا خلل ہے فتاو وں پہ بالکل مدار عمل ہے ہر اک رائے قرآن کا نعم البدل ہے کتاب اور سنت کا ہے نام باقی خدا اور نبی سے نہیں کام باقی نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں ہوا جلوہ گر حق زمین و زمان میں رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں وہ بدلا گیا آکے ہندوستان میں ہمیشہ سے اسلام تھا جس سے نازاں وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں اہل کتاب کہلا کر مشرکوں سے بھی گئے گزرے ہیں : 185: یہود کی حالت بڑی عجیب ہے کہ نام کے لحاظ سے تو یہ اہل کتاب ہیں اور عمل کے لحاظ سے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں مشرکین کی حالت تو یہ ہے کہ قوم اور وطن کے لئے اپنی جانیں تک لڑا دیتے ہیں ، عزت اور شہرت و ناموری کی خاطر ہرچیز قربان کردیتے ہیں مگر یہ لوگ اہل علم اور اہل کتاب ہونے کے باوجود اتنی تکلیف بھی گوارا نہیں کرسکتے اور مدت ہائے دراز تک دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگر ایک جاہل آدمی ایسا کرے تو اس کو معذور قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ایک تعلیم یافتہ انسان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ تعلیمات ِصادقہ پر اپنے آپ کو قربان نہ کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین تو سرے سے اخروی نعمتوں کے لذت شناس ہی نہیں وہ اگر ادھر سے غیر ملتفت ہو کر اپنا مرکز توجہ اور محور زندگی اس مادی زندگی کو بنائے رکھیں تو کچھ ایسا حسرت انگیز نہیں غضب تو یہود ڈھا رہے ہیں جو اپنے اپنے آسمانی صحیفوں اور پیغمبرانہ ہدایتوں کے باوجود مشرکوں سے بڑھ کر دنیا سے لپٹے ہوئے ہیں اور ایک عجیب بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ تطویل عمر کے عجب عجب نظریئے آج یورپ میں قائم ہو رہے ہیں اور طرح طرح کی تدبیریں اور نسخے اس کے لئے ایجاد ہو رہے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ پیش پیش یہودی ڈاکٹر اور سائنسدان ہیں ، اور یہاں فرمایا جارہا ہے کہ بالفرض اس قدر تطویل حاصل ہو بھی گئی تھی آخر نتیجہ کیا ہوگا ؟ خاتمہ تو ہر حال میں ایک نہ ایک روز طویل سے طویل زندگی کا بھی ضرور ہوگا اور پھر مواخذہ آخری کا سامان ، ایسی لا یعنی اور لغو تمناؤں کے پھیر میں پڑے رہنے کا آخر فائدہ ؟ گویا ان کی جتنی دوڑ دھوپ بڑھ رہی ہے اس کا جو نتیجہ بھی نکلے گا وہ انہی کے حق میں برا ہوگا۔
Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

جبرئیل سے دشمنی رکھنے والوں سے کہہ دیجئے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو جبرئیل نے اس کے حکم سے اتارا ہے اور یہ اس کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے اللہ کی طرف سے نازل ہوچکا ہے اور اس میں ہدایت اور ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں بشارت ہے

جبریل دشمنی سے جبریل کا کیا نقصان ہوگا ؟ 186: یہودی کفر و ضلالت کے انتہائی مراتب پر پہنچ چکے ہیں ان کی ایک ایک غلطی واضح کردی گئی اور بالآخر انہوں نے پابندی تورات کا دعویٰ کیا مگر جھوٹے ثابت ہوئے اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ بغیر کسی جدید وحی والہام کے ان کی اصلاح نہ ہوگی اور ان کے اپنے انبیاء کرام کی یہ ہدایت بھی معلوم تھی کہ ایک رسول آنے والا ہے۔ اس لئے انہوں نے یہ دریافت کرنا چاہا کہ آپ کے پاس وحی کون لاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس وحی لانے والا فرشتہ جبرئیل ہے۔ جبرئیل کا نام سنتے ہی وہ کہنے لگے کہ وہ تو ہمارا قومی دشمن ہے اس لئے کہ جب کبھی بھی ہم پر کوئی بلا نازل ہوئی اسی کے ذریعے سے ہوئی۔ اگر کوئی دوسرا فرشتہ وحی لاتا تو ہم آپ ﷺ کو نبی تسلیم کرلیتے ان کو جواباً کہا جارہا ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے نازل ہوتا ہے اور اس تعلیم سے تمہاری کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ وحی بذات خود ارباب ایمان و اخلاق کے لئے ہدایت کی بشارت ہے۔ تمہارا حق تو یہ تھا کہ تم اس وحی کو بحث موضوع بناتے ، اس کو دیکھتے ، پڑھتے ، سنتے۔ اس کی ہدایات پر غور و فکر کرتے۔ اس کے اوامرو نواہی پر نظر کرتے۔ لیکن تم نے وحی لانے والے کو بحث موضوع بنالیا۔ کیا وہ کوئی مرئی شے ہے۔ وہ تو طاقت وقوت الٰہی کا ایک نام ہے اور پھر یہ نام بھی ہمارا تجویز کردہ نہیں بلکہ تمہاری آسمانی کتاب میں بھی اس کا نام موجود ہے تم نے ایک فرضی کہانی جبریل دشمنی کی گھڑی ہے اور اس کو اپنے عقیدہ کا جز بنالیا ہے۔ تمہیں جبرئیل سے عداوت آخر کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس نے تمہیں منصب نبوت سے محروم کردیا ہے اور بنی اسمعٰیل کو مکالمہ الٰہی کے لئے منتخب کیا ہے اس لحاظ سے تمہاری دشمنی تو دراصل محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ ہی کی دشمنی کے اظہار کے لئے تم نے یہ ایک نئی گھڑنت گھڑی ہے کہ جبرئیل ہمارا دشمن ہے۔ اگر کسی اور فرشہ کا نام لیا جاتا تو ضرور ہم اس وحی کو مان لیتے گویا حقیقت تسلیم نہ کرنے کے لئے جو بہانے تم آج تک تراشتے آئے ہو اس کے لئے ایک نیا بہانہ تم نے تراش لیا ہے اور اس طرح کے بہانوں سے تم اسلام یا بانیٔ اسلام کا کوئی نقصان نہیں کرو گے بلکہ ان سے نقصان ہوگا تو تمہارا پنا ہی ہوگا۔ جبرئیل کسی لیڈر ، چوہدری ، سیا ستدان یا مذہبی راہنما کا نام نہیں ہے کہ تمہاری قومی دشمنی سے اس کا کوئی نقصان ہوگا۔ یاد رکھو کہ تمہارے ووٹوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک طاقت و قوت کا نام ہے جس کے ذمہ انسانیت کی بھلائی کا کام ہے سو اس کا انکار کر کے تم اس کا کوئی نقصان نہیں کرو گے ؟
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی بھی اللہ کا ، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو یقینا اللہ بھی ایسے منکرین حق کا دوست نہیں ہو سکتا

تصوراتی دنیا میں کھو جانے والے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کیا کرتے ہیں : 187: جس طرح قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ ایک سچائی کا انکار گویا ساری سچائیوں کے انکار کے برابر ہے اسی طرح کسی ایک سچائی کا اقرار تب ہی اقرار ہوگا جب ساری سچائیوں کا اقرار کیا جائے نظریاتی طور پر جبرائیل ہو ، میکائیل ہو یا اللہ تعالیٰ کے دوسرے فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ یا اللہ تعالیٰ کی لم یلد ولم یولد ذات جو ان تمام طاقتوں اور قوتوں کی خالق حقیقی ہے ۔ جس شخص نے ان میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو گویا اس نے سب کا انکار کردیا۔ اس طرح سے یہ بات واضح کردی کہ جبرائیل سے دشمنی کا دعویٰ کرنے والے گویا اللہ کے دشمن ہیں جبرائیل کے دشمن ہی میکائیل کے دشمن ہیں اور تمام رسولوں کے دشمن ہیں۔ اس آیت میں جبرائیل کے ساتھ میکائیل کا نام بھی لیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ لوگ میکائیل نام کے فرشتہ کو اپنا دوست خیال کرتے تھے جیسا کہ ان کے ہاں نقل ہے کہ : ” اور اس وقت میکائیل وہ بڑا سردار جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے۔ “ (دانی ایل 12 : 1) ان سے کہا جا رہا ہے کہ اب اس سے بھی دوستی کی توقع نہ رکھو کیونکہ وہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دے گا اور تمہارے فرضی تصور کا وہ کوئی پابند نہیں ہے بلکہ ان سب کا کام اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس طرح کی تصوراتی دنیا میں کھو جانے والے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ حقیقت اس میں ہے کہ تعلیم کے اصول دیکھئے اس کے نتائج پر نظر ڈالئے۔ سچائی معلوم کرنے کا صحیح طریق یہی ہے اس تعلیم پر عمل کر کے دیکھو اس کے نتائج تم کو معلوم ہوجائیں گے۔ البتہ بد اخلاق تو سوائے انکار کے اور کچھ نہیں جانتے۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

ہم نے تم پر سچائی کی روشن دلیلیں نازل کی ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا مگر وہی جو راست بازی کے دائرے سے نکل چکا ہو

سچائی کی روشنی کو جھٹلانے والا کفر کا اندھا ہی ہو سکتا ہے : 188: مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی سچائی ہے جس کی سچائی سے زیادہ روشن سورج کی روشنی بھی نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اس نے جو بیان دیا ہے بغیر دلیل کے نہیں دیا۔ اس طرح اس کا وجود با جود دلیل و روشنی کے سوا کچھ نہیں۔ جس طرح سورج کے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا وجود خود ہی اس کی دلیل ہے بالکل اس طرح قرآن کریم کی مثال ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خود اندھا ہو اس کو سورج کی روشنی کب نظر آئے گی ؟ جس طرح سورج کا انکار کرنے والا وہی ہو سکتا جو اندھا ہو ، اس طرح قرآن کریم کی روشنی سے بھی وہی انکار کرسکتا ہے جس کو کفر نے اندھا کردیا ہو اور جس طرح سورج کا انکار کرنے والا انکار کرے کہ سورج کا کوئی نقصان نہیں کرتا بلکہ اپنے اندھا ہونے کا ثبوت دیتا ہے اس طرح قرآن کریم کی روشنی کا انکار کرنے والا قرآن کا کچھ نقصان نہیں کرتا بلکہ خود اپنی ذات کے کفر کا اقرار کرتا ہے۔ یہود جو اپنے پیغمبروں کے معجزات کی روایتوں کے خوب عادی ہوچکے تھے اور ہر وقت انہیں کا تذکرہ کرتے تھے۔ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے ؟ نبی ہے تو کوئی نشانی تو دکھلائے ؟ جواب مل رہا ہے کہ تم ایک نشانی کہتے ہو ، ہم تو انہیں متعدد نشانات دے چکے ہیں اور وہ بھی کوئی دقیق اور خفی نہیں بلکہ نمایاں اور روشن ، سب کو نظر آجانے والے ، تم تو صرف کہانیاں سناتے ہو کہ دیکھو آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے حوا پیدا ہوگئی تھیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے آگ کو جنت کر دکھایا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی پھینکی تھی تو اژدھا بن گیا تھا۔ مسیح (علیہ السلام) نے قم باذن اللہ کہہ کر مردوں کو زندہ کردیا تھا اور بھی جو کچھ تم کہتے ہو ہمیں سب معلوم ہے لیکن پھر پوچھتے ہیں یہ سب کام انبیاء کرام (علیہ السلام) کے وقت میں ہی ہوئے تھے یا آج بھی ان کی دلیل موجود ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے نشانات اس وقت بھی موجود تھے آج بھی ہیں اور رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو بلایا وہ میدان میں اترا جو کچھ اس سے بن پڑا وہ سب لوگوں کے سامنے لے کر حاضر ہوگیا۔ پھر میدان میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ دیکھنے والے لوگ بھی ڈرے اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی خوف کھا گئے پھر حکم الٰہی نازل ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ڈرو نہیں تم بھی اپنی دلیل پھینک کر دیکھو موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم الٰہی اپنی دلیل پھینک دی جو فرعون اور فرعون والوں کی ساری دلیلوں کو چٹ کرگئی ۔ ذرا غور کرو یہ لاٹھی کتنی دیر سانپ رہی۔ ایک منٹ یا دس۔ آدھا گھنٹہ یا پورا گھنٹہ۔ بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ ہاتھ بڑھا اور آنکھ کھول کر دیکھ کے تیری لاٹھی تو لاٹھی ہی ہے وہ اژدھا کہاں گیا۔ اب یہ کیا ہے کہ ایک داستان ہی تو ہے کہ تم اس کو بیان کرتے کرتے تھکتے ہی نہیں۔ آؤ اب ہمارے پیغمبر کی پھینکی ہوئی لاٹھی بھی دیکھو اور اس کا بنا ہوا اژدھا بھی۔ ” اور دیکھو اگر تم کو اس کلام کی سچائی میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا۔ تو تم اس کی سی ایک سورة بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن جن کو تم نے اپنا حمایتی سمجھ رکھا ہے ان سب کو بھی اپنی مدد کے لئے بلا لاؤ ۔ “ اور اگر تم ایسا نہ کرسکو اور حقیقت بھی یہ ہے کہ تم ایسا کبھی نہ کرسکو گے تو اس آگ کے عذاب سے ڈرو جو لکڑی کی جگہ انسانوں اور پتھر سے سلگتی ہے اور منکرین حق کے لئے وہ تیار ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد ہوا : ” اے پیغمبر اسلام ! یہودیوں سے کہہ دو کہ اگر تمہیں اس بات کا دعویٰ ہے کہ تمام بندوں میں سے صرف تم ہی اللہ کے ولی اور دوست ہو تو اس کی آزمائش یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بصورت مباہلہ موت کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو تو ضرور ایسا کرو گے۔ اے لوگو ! اچھی طرح سن لو کہ یہودی لوگ اللہ کی صداقت کا جھوٹا دَم بھر نے والے ہیں کبھی موت کی تمنا کرنے والے نہیں کیونکہ انہوں نے ایسے کام کئے ہیں جو انہیں موت کے تصور سے ڈراتے ہیں۔ “ اس طرح کے بیسیوں چیلنج قرآن کریم کے صفحات میں موجود ہیں جو غیر مسلم قوموں کو اس وقت دیئے گئے جب نبی رحمت ﷺ دنیا میں تشریف فرما تھے لیکن آپ کے اٹھا لئے جانے کے بعد بھی چیلنج بد ستور قائم رہے اور آج بھی قائم ہیں اور رہتی دنیا تک قائم رہیں گے گویا یہ لاٹھی ایک دو گھنٹہ کے لئے سانپ نہ بنائی گئی بلکہ یہ ایسا اژدھا بنا دیا گیا جس نے قوموں کی قومیں کھالیں اور رہتی دنیا تک کھاتا رہے گا جو سامنے آیا وہ ہضم ہوگیا جو سامنے آئے گا ان شاء اللہ یقیناً کھایا جائے گا۔ اس کی دونوں حیثیات بیک وقت قائم رہیں اور آج بھی قائم ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ اور رسولوں کے ماننے والوں کے لئے لاٹھی کا کام دیا اور دے رہا ہے اور دیتا رہے گا اور مخالفین کے لئے اژدھا تھا ، ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ موت کی تمنا کی دو ہی صورتیں اسلام میں جائز رکھی گئی ہیں اسلام نے ان دونوں ہی صورتوں میں غیر مسلموں کو چیلنج دیا تھا اور دونوں ہی صورتوں میں اسلام کا پلہ بھاری رہا اور ان شاء اللہ بھاری رہے گا ۔ ایک صورت اسلام کی صداقت کے دلائل پیش کرنے کی ہے کہ ان لوگوں کو عقل و فکر کے ساتھ اسلام کی صداقت کے دلائل پیش کرو لیکن یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ جب دلائل کو تسلیم ہی نہ کریں اور دلائل کا جواب دلائل کے ساتھ پیش بھی نہ کریں بلکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ڈٹے بھی رہیں ، دُم دبائیں اور دانت پیسیں یا دانت دکھائیں تو دنیا کو سچائی دکھانے کے لئے ان کو مباہلہ کی دعوت دو اور یاد رکھو کہ یہ کبھی تمہاری اس دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ اگر قبول کرلیا تو گویا انہوں نے موت کو ماسی کہہ دیا۔ اب فکر نہ کرو یہ ایسے گڑھے میں گریں گے کہ دوبارہ کبھی نکل ہی نہ سکیں گے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دلائل کا دلائل سے جواب بھی نہ دیں اور شرارتوں سے باز بھی نہ آئیں تو ان کو جہاد کی دعوت دے دو اور اعلان جنگ کر دو ۔ اب دو ہی صورتیں ظاہر ہوں گی یا مقابلہ نہیں کریں گے اور بھاگ جائیں گے اور اگر مقابلہ کے لئے ذرا بھی کھڑے ہوئے تو ان کو تمہارے ہاتھوں وہ عذاب دیا جائے گا کہ ان کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔ اور یہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے۔
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

جب کبھی بھی ان لوگوں نے اتباع حق کا کوئی عہد کیا تو کسی نہ کسی گروہ نے ضرور ہی اسے پس پشت ڈال دیا اور ان لوگوں میں بڑی تعداد انہی لوگوں کی ہے جن کے دل ایمان کی دولت سے خالی ہیں

یہود کی اس سرکشی کا بیان کہ ” وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا “ : 189: جیسا کے آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ غداری ، عہد شکنی ، نافرمانی اور سر کشی کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ تورات کے صفحے ، انجیل کے اوراق اور قدیم مؤرخین یہود کے دفتر کے دفتر سب اس سرگذشت سے لبریز ہیں اور یہاں اشارہ ان کی اس قومی خصوصیت کی طرف ہے کہ عہد کرنا اور توڑنا ان کو ورثہ میں ملا ہے یہ گویا ان کو کبھی محسوس بھی نہیں ہوتا کہ عہد کرنا اور توڑدینا کوئی جرم کی بات ہے۔ جرم تو وہ ہوتا ہے کہ کم ازکم کرنے والا بھی اس کو جرم سمجھے اور پھر کرے۔ ان کی حالت تو ایسی ہوچکی ہے کہ انہوں نے اس جرم کو کبھی جرم خیال ہی نہیں کیا۔ یعنی ایفائے عہد تو الگ رہا ان میں سے بہت سے لوگ تو ایسے ہیں کہ وہ سرے سے اس کے قائل ہی نہیں کبھی اطاعت کا عہد و پیمان کیا تھا اور لَا یُؤْمِنُوْنَکے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنا کتابوں اور صحیفوں پر کب ایمان رکھتے ہیں جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ آخری نبی ﷺ کی تصدیق کرنے کا عہد تو ان کی اپنی کتاب میں موجود ہے اور پھر جب وہ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو یہ بات ثبات ہوگئی کہ ان کا ایمان اپنی کتاب پر بھی مطلق نہیں ہے۔ کیا ایمان نام کی کوئی چیز بھی ان کے ہاں تسلیم ہے ؟ 190: مثل مشہور ہے کہ ” جو ماں کا نہیں وہ خالہ کا کب ہوگا۔ “ جن کے متعلق یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کا ایمان اپنی کتاب پر نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنی کتاب کو تسلیم کرنے کا رواجاً ایک ڈھونگ رچایا ہے کہ جس قوم سے وہ وابستہ ہیں وہ قوم اس کو روایتاً مانتی چلی آرہی ہے۔ اس ناظہ سے ان کو بھی یہ بات کہنا پڑتی ہے ورنہ ان کے نزدیک ایسی ساری باتیں ہی ڈھکو سلے ہیں تو پھر ایسے لوگوں سے آپ کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی کتاب یعنی قرآن کریم کو اللہ کی کتاب اور آپ کے نبی محمد ﷺ کو وہ اللہ کا نبی مان لیں گے گویا ان کے ہاں ایمان نام کی کوئی چیز تسلیم ہی نہیں ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے کہہ لینے دیں کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو رواجاً اسلام ، اسلام کا نام لیتے ہیں اور ان کی کثرت اوپر کی سوسائٹی میں زیادہ ہے ۔ وہ یہ رٹ محض اس لئے لگاتے ہیں کہ اس ملک کی کثیر آبادی کا یہ مذہب ہے اور اس کا اگر وہ نام لینا ہی چھوڑ دیں تو وہ اس ملک میں ایک دن حکومت نہیں کرسکتے اور حکومت سے وہ نکلنا نہیں چاہتے گویا یہ انکی ایک مجبوری ہے کہ مسلمانوں کے سے نام رکھیں ، ملک کے کا غذات میں اندراج کراتے وقت اسلام کا خانہ پر کریں ، ختنہ کریں اور اہل قبلہ میں داخل ہوجائیں حلال حرام کی تمیز کئے بغیر مال اکٹھا کریں ۔ غریب عوام کو دبانے کے لئے دن رات کو شاں رہیں ایسی ایسی سکیمیں بنائیں کہ غریب روز بروز غریب اور امیر روز بروز امیر ہوتا جائے لیکن غریبوں کی ہمدردی کے بیانات اخبارات میں دیتے رہیں غریب اگر گروہ بندیوں میں تقسیم ہیں تو ہوا کریں۔ اگر شرک کے گڑھے میں گرتے ہوں تو گراکریں۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں تو ہوا کریں۔ کیونکہ ان ساری باتوں میں ان کا فائدہ ہے۔ ملک میں امن ہو تو آخر کیوں ؟ لوگ آپس میں صلح و آشتی سے رہیں تو کیوں ؟ غریب اگر سکھ کا سانس لیں تو کیوں ؟ سب لوگ اگر مل جل کر اسلامی زندگی کزاریں تو کیوں ؟ یہ ساری باتیں انکے سراسر نقصان کی ہیں آج وہ وقت نہیں ہے کہ جو ہم کہتے ہیں شاید وہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ اچھا اور کوئی سمجھے نہ سمجھے قوم کے سیاسی لیڈر اور مذہبی راہنما اور آخرت کے ٹھیکہ دار سب سمجھتے ہیں۔ لیکن ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس نے ہدایت پانے کا جو قانون بنا دیا ہے اسی کے مطابق ہدایت دیتا ہے۔ ہم دست بدعا ہیں کہ اے اللہ ! ان رہنمایانِ اسلام کی رہنمائی فرما اور ان کو سیدھی راہ پر چلا تاکہ اس ملک کے عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔ آمین !
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب اللہ کا ایک رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا آیا جو پہلے سے ان کے پاس موجود تھی تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے جو کتاب الٰہی رکھتا تھا کتاب الٰہی کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گویا وہ اسے جانتے ہی نہیں

جب ان کے پاس رسول آیا ” رسول “ سے مراد کونسا رسول ہے ؟ 191: یہود سے کہا جاتا ہے کہ کتاب پر عمل کرنا تمہارا مقصد نہیں ، تمہاری قومی خصوصیت ہے عہد کرنا اور توڑ دینا۔ تمہارے پاس مختلف اوقات میں تورات کی تصدیق کرنے والے رسول آتے رہے مگر تم نے ان کی کوئی پروا نہ کی۔ اب تم مسلمانوں پر الزام رکھنے کے لئے یہ دریافت کیا کہ وحی لانے والا کون ہے ؟ تمہارا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ صداقت ظاہر ہونے کے بعد اس کو مان لیں گے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک قوم اپنی تمام دنیاوی عزتوں کو اپنی نالائقی سے کھو بیٹھتی ہے تو اس وقت یہ کہنا شروع کردیتی ہے کہ مذہب کو دنیا سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف روحانیت کی تعلیم دیتا ہے اور آخرت کی کامیابی کا ذمہ لیتا ہے۔ مذہبی لوگ دنیا کی حکومت و سرفرازی اور عزت و رفعت سے محروم رہتے ہیں اس لئے تزکیہ نفس کی ضرورت ہے کہ یہی جہاد اکبر ہے اور اسی پر نجات کا دارومدار ہے۔ یاد رکھو ، کسی نبی کی تعلیم صرف روحانیت تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ دین اور دنیا ، مذہب اور سیاست ، روحانیت و مادیت دونوں کی جامع ہوتی تھی۔ اب یہود کو بتایا جارہا ہے کہ نئے نبی جو آئے ہیں یہ تمہاری کتاب اور اس کے دین کو مٹانے کے لئے نہیں۔ یہ تو عین اسے تازگی بخشنے ، اسے حیات تازہ دینے کے لئے آئے ہیں۔ ہاں ! زندوں کو زندہ کرنا ہی انبیاء کرام کا کام ہے جو زندہ ہونے کے باوجود مرچکے ہوتے ہیں اس لئے کہ انکی زندگی جسمانی ہوتی ہے اور موت روحانی۔ یہ رسول کون ہے ؟ یہ کس پیغمبر کے آنے کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تو انبیاء کا سلسلہ جاری ساری رہا اس لئے یہاں کوئی نبی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور لئے گئے ہیں تاہم مخصوص طور پر کچھ لوگوں نے یہاں مسیح (علیہ السلام) کی آمد کا تذکرہ بھی کیا ہے لیکن ہماری رائے میں ترجیح اس پہلو کو ہے کہ اس رسول سے وہ رسول مراد لیا جائے جو موعودد ہے اور ظاہر ہے وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ 1ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ 1ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ 1ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ 1ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا ان لوگوں نے ان اعمال و احکام کی پیروی کی جنہیں شیاطین (193) ، سلیمان (g) کی طرف منسوب کر کے پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (g) کبھی کفر کا مرتکب نہیں ہوا تھا بلکہ یہ انہی شیطانوں کا کفر تھا کہ لوگوں کو جادوگری سکھلاتے تھے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ بابل میں دو فرشتوں ہاروت (194) ماروت پر اس طرح کی کوئی بات نازل ہوئی تھی ” وہ جو کچھ بھی کسی کو سکھلاتے تھے تو یہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہمارا وجود تو ایک فتنہ ہے پھر تم کیوں کفر میں مبتلا ہوتے ہو ؟ لیکن اس کے باوجود لوگ ان سے سیکھتے کہ وہ خاتم النّبیین محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جس کی آمد کی اطلاع سب نبی دیتے آئے حتیٰ کہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ان کے آنے کی خبر دلائی گئی اور یہ سب کو معلوم ہے کہ صیغہ نکرہ جس طرح تعمیم کے لئے آتا ہے عظمت و تکریم کے لے بھی آتا ہے اور وہی یہاں مقصود ہے اور اگر آپ نے یہ بات یاد رکھی تو اور بھی بہت جگہوں پر آپ کی رہنمائی کرے گی۔ پیٹھ پیچھے پھینکنے کا مطلب بچے بھی سمجھتے ہیں لیکن یہاں علماء نہ سمجھیں تو ہم کیا کریں ؟ 192: کتاب کو وراء ظہور پھینکنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کتاب کی طرف پیٹھ کرنا شروع کردی بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے بےالتفاتی برتنی شروع کردی اور اس کی عملی مخالفت کرنے لگے۔ یہود کی بےالتفاتی اور بےتعلقی قرآن کریم سے تو ظاہر ہی ہے کہ جس سے مخالفت ہو اس کے ساتھ بےالتفاتی اور بےرغبتی ہوتی ہی ہے جب وہ پیغمبر اسلام کو اللہ کا رسول ہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ قرآن کریم سے بےرغبتی کیوں نہیں کریں گے اس جگہ کتاب سے مراد قرآن کریم نہیں ہے بلکہ توراۃ ہے بیان کیا جارہا ہے کہ یہود کا غضب یہ تھا کہ وہ قرآن کریم اور صاحب قرآن سے مخالف کی دھن میں خود اپنی کتاب آسمانی کی طرف سے بھی بےپروا اور بےتعلق ہوگئے تھے کہ آخر تورات میں بھی تو نبی آخر الزمان کی بابت پیش گوئیاں ، ان کی علامتیں اور ان پر ایمان لانے کی تاکید درج تھی۔ لیکن انہوں نے اس کی کیا عزت کی بلکہ انہوں نے ان ساری باتوں کو وراء ظہور کردیا اور ان کی کوئی پروا نہ کی اور آج اگر قوم مسلم کے کردار و اخلاق پر نظر کی جائے تو ان پر بھی یہ بات صادق آتی ہے کہ وہ اپنی کتاب قرآن کریم کی طرف پیٹھ کرنے کو تو برا جانتے ہیں اور جاہل سے جاہل بھی اس کی طرف ظاہری پیٹھ کرنے سے پرہیز کرتا ہے لیکن حقیقت میں انہوں نے کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کی طرف پیٹھ کردی ہوئی ہے اور وہ اس کی طرف منہ کرتے نظر بھی نہیں آئے۔ جب قانون ملک سے لے کر چھوٹے چھوٹے رسم و رواج تک ہر ایک چیز میں قرآن کریم کی مخالفت جاری ہے تو پیٹھ کرنے سے اور کیا مراد ہوسکتی ہے ؟ فرمایا جارہا ہے کہ انہوں نے اس انداز سے کتاب اللہ کی طرف پیٹھ کی ہے کہ معلوم ہوتا ہے وہ کتاب اللہ کو کتاب اللہ سمجھتے ہی نہیں۔ کَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَٞ 00