Al-Ghaashiya 88:21

Al-Ghaashiya · from ayah 21

88:21

فَذَكِّرْ ؕ۫— اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ ۟ؕفَذَكِّرۡ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ

تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So remind, [O Muhammad]; you are only a reminder.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:21

اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب (اے پیغمبر) تم نصیحت کیے جاؤ۔ تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ نصیحت فرماتے رہئے، آپ تو نصیحت ہی فرمانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس آپ نصیحت کرتے رہیے۔ آپ بس نصیحت کرنے والے ہی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم یاددہانی کردو، تم بس ایک یاددہانی کردینے والے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو آپ نصیحت کیے جائیں کہ آپ کا کام تو نصیحت کردینا ہے (اور بس)

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ نصیحت کردیا کیجئے آپ تو صرف نصیحت ہی کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ یاد دہانی کراتے رہیے آپ تو بس یاد دہانی کرانے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

So render good counsel, for you are simply required to counsel,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O Prophet,) keep on preaching; you are only a preacher.

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O Prophet,) keep on preaching; you are only a preacher.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So remind them -- you are only one who reminds.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Remind them, for thou art but a remembrancer,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So remind, [O Muhammad]; you are only a reminder.

— Saheeh International

(Muhammad), preach; you are only a preacher.

— Muhammad Sarwar

Therefore do remind, for you are only a reminder.

— Muhammad Habib Shakir

Admonish thou then; thou art but an admonisher.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore do thou give admonition, for thou art one to admonish.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–26

کائنات پر غور و تدبر کی دعوت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة الْغَاشِیَة 7 یعنی اگر یہ لوگ آخرت کی یہ باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے تو کیا خود اپنے گرد و پیش کی دنیا میں نظر ڈال کر انہوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے ؟ آسمان کیسے بلند ہوگیا ؟ یہ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے ؟ یہ زمین کیسے بچھ گئی ؟ یہ ساری چیزیں اگر بن سکتیں تھیں اور بنی ہوئی ان کے سامنے موجود ہیں تو قیامت کیوں نہیں آسکتی ؟ آخرت میں ایک دوسری دنیا کیوں نہیں بن سکتی ؟ دوزخ اور جنت کیوں نہیں ہو سکتیں ؟ یہ تو ایک بےعقل اور بےفکر آدمی کا کام ہے کہ دنیا میں آنکھیں کھولتے ہی جن چیزوں کو اس نے موجود پایا ہے ان کے متعلق تو وہ یہ سمجھ لے کہ ان کا وجود میں آنا تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–26

افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نبی صلعم کی طرف التفات: انذار کے حق میں دلائل بیان کرنے کے بعد یہ نبی ﷺ کی طرف آپ کو تسلی دینے کے لیے التفات ہے کہ جو لوگ تمہارے انذار کو جھٹلا رہے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں جھٹلا رہے ہیں کہ تمہارے انذار کے حق میں دلائل نہیں ہیں۔ دلائل تو زمین سے لے کر آسمان اور آسمان سے لے کر زمین تک چپہ چپہ پر ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے اندر خشیت ہوتی ہے۔ انہی لوگوں کی طرف سابق سورہ میں ’سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۱۰) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دلوں پر قساوت چھا چکی ہے وہ ان نشانیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے چنانچہ سابق سورہ میں فرمایا ہے: ’وَیَتَجَنَّبُھَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–23

21۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–21

2: عرب کے لوگ عام طور سے صحراؤں میں اونٹوں پر سفر کرتے تھے، اور اونٹ کی تخلیق میں جو عجیب خصوصیات ہیں، ان سے واقف تھے، نیز اونٹوں پر سفر کرتے وقت انہیں آسمان، زمین اور پہاڑ نظر آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ اگر اپنے آس پاس کی چیزوں پر ہی غور کرلیں تو انہیں پتہ چل جائے کہ جس ذات نے کائنات کی یہ حیرت انگیز چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اسے اپنی خدائی میں کسی شریک کی ضرورت نہیں ہوسکتی، نیز یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کائنات کی ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوسری زندگی عطا کر دے، اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لے۔ کائنات کا یہ عظیم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فذکر ........................ حسابھم ان کو آخرت کے واقعات کی یاددہانی کرائیں اور اس کائنات کے شواہد بھی بتایں۔ آپ کو بڑا فریضہ یہ ہے کہ یاد دہانی کرائیں۔ اور یہ ایک متعین اور مقدر فریضہ ہے۔ دعوت اسلامی کے معاملے میں آپ کا کردار بس اسی قدر ہے کہ آپ دعوت پہنچادیں۔ اس کے بعد نہ آپ کا حق ہے کہ کچھ مزید کریں اور نہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کا فریضہ یہ ہے کہ آپ دعوت پہنچائیں اس سے آگے آپ کسی اسلام پر مجبور کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

12 یعنی جب یہ لوگ باوجود قیام دلائل واضحہ غور نہیں کرتے تو آپ ﷺ بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑیے بلکہ صرف نصیحت کردیا کیجئے کیونکہ آپ ﷺ نصیحت کرنے اور سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اگر یہ نہیں سمجھتے تو کوئی آپ ﷺ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کئے گئے کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں، اور ان کے دلوں کو بدل ڈالیں، یہ کام مقلب القلوب ہی کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 20{ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ۔ } ”اور کیا یہ دیکھتے نہیں زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے !“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی آفاقی نشانیوں میں سے چند نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں بار بار آیا ہے لیکن ان آیات میں خصوصی طور پر قرآن مجید کے مخاطبین اوّلین سے خطاب ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانے میں سرزمین حجاز کے باشندوں کا زیادہ تر وقت صحرائی مسافتوں میں گزرتا تھا ‘ جیسا کہ سورة قریش کی آیت { رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ } میں بھی ذکر ہوا ہے۔ چناچہ اپنے سفروں کے دوران جس ماحول سے ان لوگوں کا دن رات واسطہ رہتا تھا ان آیات میں اسی ماحول کی چار چیزوں کو گنوا کر انہیں غور و فکر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

9 خانہ بدوشوں کی کل کائنات کیا تھی ؟ اور اللہ کی نشانیاں :۔ ان خانہ بدوش بدوؤں کی زندگی کے مشاہدات کیا تھے ؟ بس یہی کہ ادھر ادھر منتقل ہونے کے لیے اونٹ جو ان کی سواری اور بار برداری کا کام دیتا تھا۔ اوپر آسمان تھا، نیچے زمین اور اردگرد پھیلے ہوئے طویل سلسلہ ہائے کوہ۔ یہی چیزیں ان کی کل کائنات تھی۔ ان میں ایک ایک چیز کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ آسمان کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اس میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے محو گردش ہیں۔ زمین کی یہ کیفیت ہے کہ گول ہونے کے باوجود جتنا بھی اس پر سفر کرتے جاؤ ہموارہی نظر آتی ہے۔ اور یہ بھی زمین کی وسعت کی دلیل ہے۔ پہاڑ زمین پر اس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں کہ خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–21

افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت عربوں کی غالب سواری اونٹ ہی تھی، نیز اونٹ عربوں کے لئے بیش بہا، نہایت قیمتی سرمایہ تھا اور ہر وقت ان کے استعمال میں رہنے والی چیز تھی اسی لئے اللہ ت عالیٰ نے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی جن قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک اونٹ بھی ہے، اونٹ عربوں کے لئے جہاں مفید اور نہایت کار آمد چیز ہے وہیں اس میں کچھ ایسی خصوصیات بھی قدرت نے ودیعت رکھ دی ہیں کہ دوسرے جانوروں میں نہیں پائی جاتیں، الو تو عرب میں سب سے بڑا جانور اونٹ ہی ہے اس لئے کہ ہاتھی عرب میں نہیں ہوتا اللہ تبارک و تععالیٰ نے اس عظیم الحبثہ جانور کو اس طرح بنایا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذکر . یعنی دلائل کے ساتھ ان کو نصیحت کرو تاکہ وہ دلائل پر غور کریں اور اہمیت دلائل محسوس کریں۔ انما انت مذکر . یہ نصیحت کرنے کی علّت کا بیان ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کا ذمہ فقط پہنچا دینے کا ہے اگر وہ غور نہ کریں یا نصیحت پذیر نہ ہوں تو آپ ﷺ اس کے ذمہ دار نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–26

(21۔ 26) تو آپ بھی بذریعہ قرآن کریم ان کو نصیحت کردیا کیجیے، آپ ان پر مسلط نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا البتہ جو ایمان لانے سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے دوزخ کا عذاب دے گا، آخرت میں ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا اور دنیا میں ان کی پختگی دنیا اور آخرت میں ثواب و عذاب دینا ہمارا ہی کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

فذکر انما انت مذکر…: آپ کا کام نصیحت کرنا ہے، زبردستی مسلمان کرنا نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لا اکراہ فی الدین“ (البقرۃ : 256)”’ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

فذکر انماانت۔۔۔ تا۔۔۔۔ حسابھم۔ اے محمد ﷺ ! انہیں نصیحت کیجئے اور انہیں خبردار کیجئے آپ تو محض نصیحت کرنے والے ہیں آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا کہ آپ انہیں قتل کردیں پھر اسے جہاد والی آیت نے منسوخ کردیا ہے، ہارون اعور نے اسے بمسیطر پڑھا ہے اسی طرح المصیطرون۔ طور) پڑھا ہے، یہ بنوتمیم کی لغت ہے صحاح میں ہے : مسیطر اور مصیطر کا معنی ہے جو کسی پر مسلط ہو تاکہ اس پر نگاہ رکھے، اس کے احوال کا جائزہ لے اور اس کے عمل کو لکھے اصل میں یہ سطر سے مشتق ہے کیونکہ سطر کا معنی ہے کہ وہ تجاوز نہ کرے، کیونکہ کتاب مسطر ہے جو ایسا کرتا ہے وہ مسطر اور مسیطر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سیطرت علینا تو نے ہم پر تسلط…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–21

37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بیان فرمایا جو جنت میں ہیں تو اس سے گمراہ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ پھر کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں۔ اور اونٹ عرب لوگوں کے عیش میں سے عیش تھا اور ان کے مال و اسباب میں سے ایک مال تھا فرمایا۔ اور آیت والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کو کیسے بلند کیے گئے۔ آیت والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے کھڑے کیے گئے۔ کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف اپنے عام دنوں میں چڑھتے ہو۔ اور جب تو اس کی بلندی کی طرف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَذَكِّرْ : تو آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیں ][ انمَآ انتَ مُذَكِّرٌ: آپ ﷺ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 3: اب آیت۔ 21 ۔ اور اس سے آگے نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ آپ 1 کے انذار کو جھٹلا رہے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں جھٹلا رہے ہیں کہ اس انذار کے حق میں دلائل نہیں ہیں۔ دلائل تو آسمان سے لے کر زمین تک چپہ چپہ پر ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے اندر خشیت ہوتی ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دلوں پر قساوت چھا چکی ہے وہ ان نشانیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس لیے آپ 1 ان کے ردوقبول سے بےنیاز ہو کر اپنی تذکیر و تبلیغ جاری رکھیں اور مطمئن رہیں کہ آپ 1 کا فرض تذکیر و تبلیغ ہی ہے۔ آپ 1 پر یہ ذمہ داری نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–26

مخاطبین کو قیامت کے وقوع اور اس دن کی پریشانی اور اہل ایمان کی خوبی اور خوشحالی سے اور وہاں کی نعمتوں سے باخبر فرما دیا اور ان چیزوں کے بارے میں جو مخاطبیین کو تعجب تھا اسے دور فرما دیا اس سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا اور ایمان نہیں لاتا تو اس کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مخاطبین کو ہدایت پر لانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتے تھے تو اس سے آپ رنجیدہ ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کردیا کریں۔ ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ ان کو بتادیں۔ نصیحت فرما دیں، آپ پر مسلط نہیں کیے گئے کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–24

10:۔ ” فذکر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے اور یہ آیت سورة الاعلی کی آیت ” فذکر ان نفعت الذکری “ سے متعلق ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس سورت کا تتمہ ہے۔ اگر مشرکین قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے اور آپ کے بطریق احسن بیان و ارشاد کے باوجود نہیں مانتے تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں کیونکہ آپ بشیر و نذیر اور ناصح و معلم ہیں۔ اس لیے آپ اپنا کام کرتے رہیں آپ کو ان پر داروغہ اور نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ ان کو ماننے اور ایمان لانے پر مجبور کریں۔ ” الا من تولی وکفر “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے موصول مع صلہ مبتداء اور ” فیعذبہ اللہ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے (روح) ۔ یہ تخویف اخروی ہے لیکن جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–26

(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَكِّرْ۝ 0 اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۝ 21 ۭ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–26

ترکیب ¦ فذکر الفاء لترتیب مابعدھا علی قبلھا مصیطر بالصادو السین قال فی الصحاح ھوالمسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتعھدا حوالہ الا استثناء متصل من اعم المفاعیل وقیل منقطع والعذاب الاکبر العذاب الشدید الدائم وھو عذاب جھنم وانما قال الاکبر لانھم عذبوافی الدنیا بالعذاب الاصغر وھوالجوع والقتل والا سرقرء قتادہ وابن عباس الا التی للتنبیہ ایابھم اسم ان الینا خبرھا وقس علیہ حسابھم و جمیع الضمیر فی ایابھم وحسابھم باعتبار معنی من کما افراد الضمیر فی یعذبہ باعتبار لفظھا۔ تفسیر ¦ جب عالم آخرت کی طرف رغبت کرنے کے اسباب بیان ہوچکے اور اس چند روزہ زندگی کا انجام کار لوگ سن چکے اور نیک و بد کاموں کا انجام بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

فَذَکِّرْ قف ط اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ۔ (الغاشیۃ : 21، 22) (پس آپ نصیحت کیجیے، آپ بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ ) دلائل سے اثباتِ مدعا کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی بعض دلائلِ آفاق سے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ربوبیت وقدرت اور اس کی حکمت و عظمت سے استدلال کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ان دلائل کے بعد اصل موضوع کی وضاحت میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اس پر بھی کچھ ہٹ دھرم اگر ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ آپ کی تمام تبلیغی کاوشوں کا نہ صرف انکار کررہے بلکہ مذاق اڑا رہے ہیں، تو آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ آپ جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–26

فہم القرآن ربط کلام : اونٹ کی خلقت، پہاڑوں کی جسامت اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر دین کے داعی کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اسے بھی اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں، آپ کا فرض نصیحت کرنا ہے کیونکہ آپ کو ان پر چوکیدار اور کو توال نہیں بنایا گیا۔ آپ کی پرخلوص کوشش کے باوجود جو شخص اس نصیحت سے منہ پھیرے اور اس کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا کیونکہ بالآخر انہیں ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ (تو آپ نصیحت کردیا کیجئے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں) پس آپ ان کو دلائل سے نصیحت فرمائیں تاکہ یہ ان میں سوچ و بچار کریں۔ انما انت مذکرؔ آپ کے ذمے تو فقط تبلیغ ہے۔ (منوانا نہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–22

21 ۔” فذکر انما انت مذکر۔ 22 ۔ لست علیھم بمصیطر “ مسلط کہ ان کو قتل کریں اور ان کو ایمان پر مجبور کریں۔ اس کو جہاد کی آیات نے منسوخ کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–22

(فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ) یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجے اور انکو خوشخبری دیجئے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کرکے نہیں بھیجا گیا اور انہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر بھیجا گیا ہے پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کردی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے (وماانت علیھم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید۔ ق 45) ۔ اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–24

(12) منکرین کے لیے سخت ترین عذاب کی دھمکی، والعیاذ باللہ : سو اس میں منکروں کے لے سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک عذاب کی آگہی و تنبیہ اور دھمکی و تہدید ہے، اور وہ عذاب اس قدر بڑا اور اتنا ہولناک اور اس قدر سنگین ہوگا کہ انسان کے لیے از خود اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس عذاب سے مراد دوزخ کا وہ عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر سخت اور ہولناک عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ وہ اپنی شدت اور سختی کے اعتبار سے بھی دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا اور اپنی مدت اور دوام کے لحاظ سے بھی اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اتنا بڑا اور اس قدر سخت کہ اس دنیا میں اس کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–26

اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔ 1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔ 2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 3 یعنی آپ کے ذمہ صرف سمجھانا اور ڈرانا ہے۔ آپ کا کام یہ نہیں ہے کہ ایمان کو زبردستی لوگوں کے دلوں میں اتار دیں۔ دلوں میں ایمان اتارنا یا نہ اتارنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:21) فذکر :ترتیب کا ہے۔ امر مابعد کا قبل پر مترتب ہونا۔ ذکر فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصدر سے ۔ تو یاد دلاتا رہ۔ تو نصیحت کرتا رہ۔ تو سمجھاتا رہ۔ یعنی آپ دلائل متذکرہ بالا کی روشنی میں ان کو سمجھائیں۔ نصیحت کریں۔ انما انت مذکر : تحقیق تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ یعنی آپ کا کام ان کو نصیحت کرنا ہے۔ آپ کا ذمہ صرف نصیحت پہنچا دینا ہے۔ یہ نصیحت کرنے کی علت کا بیان ہے ۔ مذکر ، تذکیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ۔ نصیحت کرنے والا۔ یاد دلانے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–26

اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–26

[3] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی قدرت کی چند نشانیوں پر غور کرنے کے لئے فرمایا ہے جو آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور جنت و دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے۔ یہاں اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین ان چار چیزوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ قرآن کے مخاطب اول عرب تھے جن کا سابقہ انہیں چار چیزوں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے اور اطراف میں پہاڑ۔ اوپر نظر اٹھائی تو آسمان اور نیچے نظر کی تو زمین۔ اس لئے انہی نشانیوں میں غور کرنے کے لئے فرمایا۔ یعنی یہ بنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) سوائے پیغمبر آپ تو ان کو نصیحت کردیا کیجئے سوائے اس کے نہیں کہ آپ تو نصیحت کنندہ اور تذکیر کرنے والے ہیں ۔ یعنی اگر یہ منکر قیامت کے قائل نہیں ہوتے اور دین حق کو نہیں مانتے تو آپ اس سے نہ تو غمگین ہوں اور نہ کوئی فکر کریں آپ ان کو نصیحت کرتے رہئے اور ڈراتے رہے کیونکہ آپ کا کام تو یہی تبلیغ تذکیر اور اتدار ہے لہٰذا ان کو سمجھادیا کیجئے اور بس۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–26

ف 3۔ تخصیص ان چار چیزوں کی اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لئے ان علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد فرمادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس نصیحت کیجئے کہ آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں 21 (مذکر) اسم فاعل واحد مذکر تذکیر اور تذکرۃ مصدر باب تفعیل ذ ک ر ۔ نصیحت کرنے والا ۔ زندگی کا بھولا ہوا سبق یاد دلانیوالا ۔ نیکوں کی جزا اور بروں کی سزا کا تذکرہ کرنے والا ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا کام ان کو نصیحت کرنا ہے ، ان کو خواب غفلت سے جگانا ہے ، آپ ﷺ اپنا فرض ادا کرتے رہیے اس کے باوجود اگر یہ لوگ ہدایت کو قبول نہ کریں تو آپ ﷺ فکر مند نہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ کے ذمہ کا جو کام تھا آپ ﷺ نے اس کو پورا کردیا اس سے آگے آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نصیحت کو قبول کرتے ہیں یا نہیں تو یہ معاملہ ان کا ہے آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–26

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

7 That is, "If they deny the possibility of the Hereafter, have they never looked around themselves and considered how the camels were created, how the heaven was raised high, how the mountains were firmly set and how the earth was spread out? When aII these things could be created, and exist before them in their finished form, why can the Resurrection not take place? Why cannot a new world come about, and why cannot .Hell and Heaven be possible'? Only a foolish and thoughtless person would think that the coming into existing of only those things which he has found existing on opening his…

Read the full tafseer →