Al-Ghaashiya 88:22

Al-Ghaashiya · from ayah 22

88:22

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ ۟ۙلَـسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍۙ

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

You are not over them a controller.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:22

کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

آپ کو ان پر زبردستی کرنے کے لیے مسلط نہیں کیا گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم کچھ ان پر کڑ وڑا (ضامن) نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ ان پر جابر و قاہر (کے طور پر) مسلط نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم ان پر داروغہ نہیں مقرر ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ ان پر کوئی داروغے نہیں ہیں (کہ انہیں منوا کر چھوڑیں)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ ان پر کچھ مسلط تو ہیں نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and are not invested with the authority to compel them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You are not a taskmaster set up over them,

— Muhammad Taqi Usmani

You are not a taskmaster set up over them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You are not a Musaytir over them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou art not at all a warder over them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You are not over them a controller.

— Saheeh International

You do not have full control over them.

— Muhammad Sarwar

You are not a watcher over them;

— Muhammad Habib Shakir

Thou art not over them a warden.

— Abdul Majid Daryabadi

Thou art not one to manage (men's) affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–26

کائنات پر غور و تدبر کی دعوت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–26

سورة الْغَاشِیَة 8 یعنی اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں مانتا تو نہ مانے، تمہارے سپرد یہ کام تو نہیں کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتادو اور غلط راہ پر چلنے کے انجام سے خبردار کردو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–26

افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ذمہ داری آپ پر نہیں ہے کہ لازماً آپ ان کے دلوں میں ایمان اتار ہی دیں۔ اللہ نے آپ کو یاددہانی کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ ان کے ایمان کا ٹھیکہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ ایمان نہ لانے کی پرسش آپ سے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–23

21۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

3: آنحضرت ﷺ کو کافروں کی ہٹ دھرمی سے جو تکلیف ہوتی تھی، اس پر آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا فریضہ صرف تبلیغ کر کے پورا ہوجاتا ہے، آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان بنائیں۔ اس میں ہر مبلغ اور حق کے داعی کے لیے بھی یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اسے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہنا چاہیے اور یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ان سے زبردستی اپنی بات منوانے کا ذمہ دار ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لست ................ بمصیطر (22:88) آپ ان جبر کرنے والے نہیں ہیں “۔ کیونکہ دلوں کا مالک تو اللہ ہے۔ آپ جبر کرکے ان کے دلوں کو نہیں پھیر سکتے۔ دل تو اللہ کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس دل کو چاہے ایمان کی طرف پھیر دے۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اگر پیغمبر ﷺ کا فریضہ صرف تبلیغ تھا تو پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ؟ جہاڈ اس لئے نہیں فرض ہوا کہ لوگوں کو مومن بنایا جائے بلکہ اس لئے کہ تبلیغ کے راستے میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔ یہ نہ ہو کہ لوگوں تک دین کی بات ہی نہ پہنچے اور یہ بھی نہ ہو کہ اگر کوئی دین اسلام کو قبول کرلے تو اس پر تشدد ہو۔ جہاد کا مقصد یہ تھا کہ تبلیغ دین کے راستے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

12 یعنی جب یہ لوگ باوجود قیام دلائل واضحہ غور نہیں کرتے تو آپ ﷺ بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑیے بلکہ صرف نصیحت کردیا کیجئے کیونکہ آپ ﷺ نصیحت کرنے اور سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اگر یہ نہیں سمجھتے تو کوئی آپ ﷺ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کئے گئے کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں، اور ان کے دلوں کو بدل ڈالیں، یہ کام مقلب القلوب ہی کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22{ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ۔ } ”آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔“ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف تذکیر اور نصیحت تک ہے ‘ کسی کو زبردستی راہ ہدایت پر لانا آپ کا کام نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–24

10 آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب کو پہنچا دیں۔ پھر جو لوگ آپ ﷺ کی باتوں پر کان دھریں انہیں نصیحت کرتے رہیں اور جو اللہ کی آیات کا مذاق اڑائیں ان کے پیچھے نہ پڑیں کیونکہ انہیں زبردستی راہ راست پر لانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–26

لست علیھم بمصیطر اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی فرمائی کہ آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں، اس لئے کہ آپ ﷺ ان پر مسلط نہیں ہیں، آپ ﷺ کا کام تبلیغ اور نصیحت کرنا ہے، وہ کر کے آپ ﷺ بےفکر ہوجائیں باقی کام ہمارے اوپر چھوڑ دیں ان کا حساب کتاب اور جزاء و سزا سب ہمارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لست علیھم بمصیطر . انما انت مذکر کے مفہوم کی اس آیت میں تاکید ہے یعنی آپ ان (کو نصیحت یاب کرنے) پر مسلط نہیں ‘ ان کے نگراں نہیں۔ یہی مطلب آیت : وما انت علیھم بجبار کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–26

(21۔ 26) تو آپ بھی بذریعہ قرآن کریم ان کو نصیحت کردیا کیجیے، آپ ان پر مسلط نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا البتہ جو ایمان لانے سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے دوزخ کا عذاب دے گا، آخرت میں ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا اور دنیا میں ان کی پختگی دنیا اور آخرت میں ثواب و عذاب دینا ہمارا ہی کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

فذکر انما انت مذکر…: آپ کا کام نصیحت کرنا ہے، زبردستی مسلمان کرنا نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لا اکراہ فی الدین“ (البقرۃ : 256)”’ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

فذکر انماانت۔۔۔ تا۔۔۔۔ حسابھم۔ اے محمد ﷺ ! انہیں نصیحت کیجئے اور انہیں خبردار کیجئے آپ تو محض نصیحت کرنے والے ہیں آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا کہ آپ انہیں قتل کردیں پھر اسے جہاد والی آیت نے منسوخ کردیا ہے، ہارون اعور نے اسے بمسیطر پڑھا ہے اسی طرح المصیطرون۔ طور) پڑھا ہے، یہ بنوتمیم کی لغت ہے صحاح میں ہے : مسیطر اور مصیطر کا معنی ہے جو کسی پر مسلط ہو تاکہ اس پر نگاہ رکھے، اس کے احوال کا جائزہ لے اور اس کے عمل کو لکھے اصل میں یہ سطر سے مشتق ہے کیونکہ سطر کا معنی ہے کہ وہ تجاوز نہ کرے، کیونکہ کتاب مسطر ہے جو ایسا کرتا ہے وہ مسطر اور مسیطر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سیطرت علینا تو نے ہم پر تسلط…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

40۔ الحاکم وصححہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت لست علیہم بمصیطر صاد کے ساتھ۔ 41۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر یعنی آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ ان سے درگذر کیجیے۔ 42۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیہم بمصیطر یعنی میرے بندوں کو میرے سپرد کردیجیے۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت بمصیطر سے مراد ہے مسلط۔ یعنی کوئی چیز مسلط کرنے والا۔ 45۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر سے مراد ہے جبار یعنی آپ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–26

مخاطبین کو قیامت کے وقوع اور اس دن کی پریشانی اور اہل ایمان کی خوبی اور خوشحالی سے اور وہاں کی نعمتوں سے باخبر فرما دیا اور ان چیزوں کے بارے میں جو مخاطبیین کو تعجب تھا اسے دور فرما دیا اس سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا اور ایمان نہیں لاتا تو اس کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مخاطبین کو ہدایت پر لانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتے تھے تو اس سے آپ رنجیدہ ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کردیا کریں۔ ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ ان کو بتادیں۔ نصیحت فرما دیں، آپ پر مسلط نہیں کیے گئے کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–24

10:۔ ” فذکر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے اور یہ آیت سورة الاعلی کی آیت ” فذکر ان نفعت الذکری “ سے متعلق ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس سورت کا تتمہ ہے۔ اگر مشرکین قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے اور آپ کے بطریق احسن بیان و ارشاد کے باوجود نہیں مانتے تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں کیونکہ آپ بشیر و نذیر اور ناصح و معلم ہیں۔ اس لیے آپ اپنا کام کرتے رہیں آپ کو ان پر داروغہ اور نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ ان کو ماننے اور ایمان لانے پر مجبور کریں۔ ” الا من تولی وکفر “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے موصول مع صلہ مبتداء اور ” فیعذبہ اللہ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے (روح) ۔ یہ تخویف اخروی ہے لیکن جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–26

(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَسْتَ عَلَيْہِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۝ 22 ۙ صطر صَطَرَ وسَطَرَ واحدٌ. قال تعالی: أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ [ الطور/ 37] ، وهو مفیعل من السَّطْرِ ، والتَّسْطِيرُ أي : الکتابة، أي : أهم الذین تولّوا کتابة ما قدّر لهم قبل أن خلق، إشارة إلى قوله : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] ، وقوله : فِي إِمامٍ مُبِينٍ [يس/ 12] ، وقوله : لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ [ الغاشية/ 22] ، أي : متولّ أن تکتب عليهم وتثبت ما يتولّونه، وسَيْطَرْتُ ، وبَيْطَرْتُ لا ثالث لهما في الأبنية، وقد تقدّم ذلک في السّين ( ص ط ر ) صطر وسطر ( ن ) کے ایک ہی معنی ہیں یعنی لکھنا ( سیدھی لائنوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–26

ترکیب ¦ فذکر الفاء لترتیب مابعدھا علی قبلھا مصیطر بالصادو السین قال فی الصحاح ھوالمسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتعھدا حوالہ الا استثناء متصل من اعم المفاعیل وقیل منقطع والعذاب الاکبر العذاب الشدید الدائم وھو عذاب جھنم وانما قال الاکبر لانھم عذبوافی الدنیا بالعذاب الاصغر وھوالجوع والقتل والا سرقرء قتادہ وابن عباس الا التی للتنبیہ ایابھم اسم ان الینا خبرھا وقس علیہ حسابھم و جمیع الضمیر فی ایابھم وحسابھم باعتبار معنی من کما افراد الضمیر فی یعذبہ باعتبار لفظھا۔ تفسیر ¦ جب عالم آخرت کی طرف رغبت کرنے کے اسباب بیان ہوچکے اور اس چند روزہ زندگی کا انجام کار لوگ سن چکے اور نیک و بد کاموں کا انجام بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

فَذَکِّرْ قف ط اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ۔ (الغاشیۃ : 21، 22) (پس آپ نصیحت کیجیے، آپ بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ ) دلائل سے اثباتِ مدعا کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی بعض دلائلِ آفاق سے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ربوبیت وقدرت اور اس کی حکمت و عظمت سے استدلال کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ان دلائل کے بعد اصل موضوع کی وضاحت میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اس پر بھی کچھ ہٹ دھرم اگر ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ آپ کی تمام تبلیغی کاوشوں کا نہ صرف انکار کررہے بلکہ مذاق اڑا رہے ہیں، تو آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ آپ جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–26

فہم القرآن ربط کلام : اونٹ کی خلقت، پہاڑوں کی جسامت اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر دین کے داعی کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اسے بھی اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں، آپ کا فرض نصیحت کرنا ہے کیونکہ آپ کو ان پر چوکیدار اور کو توال نہیں بنایا گیا۔ آپ کی پرخلوص کوشش کے باوجود جو شخص اس نصیحت سے منہ پھیرے اور اس کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا کیونکہ بالآخر انہیں ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : لَسْتَ عَلَیْہمْ بِمُصَّیْطِرٍ (آپ ان پر مسلط نہیں ہیں) مصیطرؔ زبردستی نصیحت یاب کرنے پر مسلط نہیں جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِجَبَّارٍ ] ق : 45[ قراءت : بمصیطرؔ مدنی، بصری، عاصم، علی نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–22

21 ۔” فذکر انما انت مذکر۔ 22 ۔ لست علیھم بمصیطر “ مسلط کہ ان کو قتل کریں اور ان کو ایمان پر مجبور کریں۔ اس کو جہاد کی آیات نے منسوخ کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–22

(فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ) یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجے اور انکو خوشخبری دیجئے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کرکے نہیں بھیجا گیا اور انہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر بھیجا گیا ہے پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کردی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے (وماانت علیھم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید۔ ق 45) ۔ اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–24

(12) منکرین کے لیے سخت ترین عذاب کی دھمکی، والعیاذ باللہ : سو اس میں منکروں کے لے سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک عذاب کی آگہی و تنبیہ اور دھمکی و تہدید ہے، اور وہ عذاب اس قدر بڑا اور اتنا ہولناک اور اس قدر سنگین ہوگا کہ انسان کے لیے از خود اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس عذاب سے مراد دوزخ کا وہ عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر سخت اور ہولناک عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ وہ اپنی شدت اور سختی کے اعتبار سے بھی دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا اور اپنی مدت اور دوام کے لحاظ سے بھی اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اتنا بڑا اور اس قدر سخت کہ اس دنیا میں اس کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–26

اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔ 1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔ 2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 3 یعنی آپ کے ذمہ صرف سمجھانا اور ڈرانا ہے۔ آپ کا کام یہ نہیں ہے کہ ایمان کو زبردستی لوگوں کے دلوں میں اتار دیں۔ دلوں میں ایمان اتارنا یا نہ اتارنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:22) لست علیہم بمصیطر ۔ المصیطر ۔ المسیطر ۔ المسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتھد ا حوالہ ویکتب عملہ۔ یعنی وہ شخص جس کو کسی پر مسلط کردیا جائے تاکہ وہ اس کی نگرانی کرے۔ اس کے احوال کی خبر رکھے اور اس کے اعمال کو لکھتا رہے۔ اسے مصیط کہتے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے سیطرۃ مصدر سے جس کے معنی ہے کسی کام پر مقرر ہونا۔ ذمہ دار ہونا۔ لہٰذا مصیطر کے عنی ہوئے ذمہ دار۔ مقرر۔ نگران۔ اس آیت میں انما انت مذکر کے مفہوم کی تاکید ہے یعنی آپ کا ذمہ صرف نصیحت کرنا ہے وہ غور نہ کریں یا نصیحت نہ پکڑیں تو آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہی مطلب آیت وما انت علیہم بجبار (50:45) اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–26

اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–26

[3] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی قدرت کی چند نشانیوں پر غور کرنے کے لئے فرمایا ہے جو آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور جنت و دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے۔ یہاں اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین ان چار چیزوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ قرآن کے مخاطب اول عرب تھے جن کا سابقہ انہیں چار چیزوں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے اور اطراف میں پہاڑ۔ اوپر نظر اٹھائی تو آسمان اور نیچے نظر کی تو زمین۔ اس لئے انہی نشانیوں میں غور کرنے کے لئے فرمایا۔ یعنی یہ بنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–26

دین فطرت اور دین کون 1: قرآن صرف مسائل ہی بیان نہیں کرتا ۔ بلکہ فطرت کے عجائبات کی طرف بھی انسانی توجہات اور فکر وغور کو مبذول کرتا ہے ۔ اس لئے غرائب دنیا اور غرائب دین میں ایک عجیب تناسب ہے ۔ بلکہ قرآن تو اس حقیقت کا برملا اظہار کرتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ اس میں اور قوانین فطرت وکون میں نہ صرف کوئی تضاد نہیں ۔ بلکہ پورا تو افق وتطابق ہے ۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ انسان اتنا وسیع النظر ہو کہ اسرار وعجائبات کون پر کامل طریق سے نگاہ رکھتا ہو ۔ اس لئے کہ حقائق کی راہ میں سب سے بڑی جو رکاوٹ ہوتی ہے ، وہ تعصب اور کوتاہ نظری ہوتی ہے اور فطرت کے آزاد مطالعہ سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے ۔ فرمایا کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) اے پیغمبر آپ ان پر کوئی داروغہ اور مسلط اور حافظ اور اور قائم اور جبار نہیں ہیں - یعنی آپ کو اس کی اجازت نہیں کہ آپ ان کو زبردستی مار مار کر مسلمان بنائیں اور اسلام لانے پر مجبور کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–26

ف 3۔ تخصیص ان چار چیزوں کی اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لئے ان علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد فرمادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ ان پر داروغہ نہیں لگائے گئے 22 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ﷺ سے ان کے ایمان نہ لانے کی باز پرس ہوگی۔ ( مصیطر) کا تلفظ صاد سے بھی ہے اور سین سے بھی اور معنی دونوں کے ایک ہی طرح ہیں اس لیے دونوں طرح اس کا لکھنا جائز اور صحیح ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الطور کی آیت 37 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–26

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–26

8 That is, "If a person does not listen to reason, he may not. You have not been appointed to force the will of the deniers: your only task is to distinguish the right from the wrong for the people and warn them of the consequences of following the wrong way; so this is the task you should continue to perform."

Read the full tafseer →