وَاِلَی الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ ۟ۥوَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And at the earth - how it is spread out?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
وَاِلَی الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ ۟ۥوَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And at the earth - how it is spread out?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے
اور زمین کو کہ اسے کیسے بچھایا گیا ؟
اور زمین کو، کیسے بچھائی گئی،
اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ وہ کس طرح (گولائی کے باوجود) بچھائی گئی ہے،
اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔
اور زمین کی طرف کہ کیسے بچھائی گئی ؟
اور زمین کو نہیں دیکھتے، کس طرح بچھائی گئی
اور (اپنے پیش پا افتادہ) اس زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح اس کو بچھا دیا گیا ؟
اور زمین پر کہ کیسی (عجیب) طرح بچھائی گئی ہے ؟۔
اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے !
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے
And the earth: how it was spread out?
and at the earth, how it is spread out?
and at the earth, how it is spread out?
And at the earth, how it is outspread
And the earth, how it is spread?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And at the earth - how it is spread out?
and how the earth is spread out?
And the earth, how it is made a vast expanse?
And at the earth, how it is outspread?
And at the Earth, how it is spread out?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–26
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة الْغَاشِیَة 7 یعنی اگر یہ لوگ آخرت کی یہ باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے تو کیا خود اپنے گرد و پیش کی دنیا میں نظر ڈال کر انہوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے ؟ آسمان کیسے بلند ہوگیا ؟ یہ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے ؟ یہ زمین کیسے بچھ گئی ؟ یہ ساری چیزیں اگر بن سکتیں تھیں اور بنی ہوئی ان کے سامنے موجود ہیں تو قیامت کیوں نہیں آسکتی ؟ آخرت میں ایک دوسری دنیا کیوں نہیں بن سکتی ؟ دوزخ اور جنت کیوں نہیں ہو سکتیں ؟ یہ تو ایک بےعقل اور بےفکر آدمی کا کام ہے کہ دنیا میں آنکھیں کھولتے ہی جن چیزوں کو اس نے موجود پایا ہے ان کے متعلق تو وہ یہ سمجھ لے کہ ان کا وجود میں آنا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…
Read the full tafseer →پہاڑوں کے بعد ہموار زمین پر: ’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘۔ اب یہ نگاہ کو پہاڑوں سے زمین پر اتارا اور دعوت دی کہ زمین کو دیکھیں کہ کس طرح یہ ان کے قدموں کے نیچے بچھائی گئی ہے۔ کس طرح اس کے گوشے گوشے میں ان کی پرورش کے لیے ضرورت کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ اس کی مسطح زمینوں پر یہ اپنے گھر بنا لیتے ہیں۔ اس کے میدانوں میں ان کے کھیت اور ان کے باغ و چمن ہیں۔ اس کی نہریں، اس کے کنوئیں اور اس کے چشمے ان کے کھیتوں اور باغوں کو شاداب رکھتے ہیں، اس کے جنگلوں اور اس کی وادیوں میں ان کے چوپایوں اور گلوں کے لیے پیٹ بھرنے کے غیرمحدود وسائل موجود ہیں۔ ان ساری چیزوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ جس نے ان کو اس…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی کس طرح اسے ہموار کر کے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے وہ اس پر چلتا پھرتا ہے کاروبار کرتا ہے اور فلک بوس عمارتیں بناتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
2: عرب کے لوگ عام طور سے صحراؤں میں اونٹوں پر سفر کرتے تھے، اور اونٹ کی تخلیق میں جو عجیب خصوصیات ہیں، ان سے واقف تھے، نیز اونٹوں پر سفر کرتے وقت انہیں آسمان، زمین اور پہاڑ نظر آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ اگر اپنے آس پاس کی چیزوں پر ہی غور کرلیں تو انہیں پتہ چل جائے کہ جس ذات نے کائنات کی یہ حیرت انگیز چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اسے اپنی خدائی میں کسی شریک کی ضرورت نہیں ہوسکتی، نیز یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کائنات کی ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوسری زندگی عطا کر دے، اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لے۔ کائنات کا یہ عظیم…
Read the full tafseer →والی الارض ................ سطحت (20:88) ” اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی “۔ یہ بچھی ہوئی زمین تو ہمارے سامنے ہے۔ یہ زندگی گزارنے کے لئے ، اس پر چلنے کے لئے ، اور اس پر کام کرنے کے لئے آسان بنادی گئی ہے۔ کیا اسے لوگوں نے بچھایا ہے ، ظاہر کہ انہوں نہیں بچھایا ، انسانوں کی پیدائش سے تو زمین پہلے تھی۔ کیا یہ اس پر غور نہیں کرتے۔ ان کے ذہنوں میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھتا کہ کون ہے اس کو بچھانے والا ؟ اور کون ہے اسے اس طرح درست کرنے والا کہ زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔ یہ مناظر قلب انسانی کی طرف اہم اشارات کرتے ہیں ، محض تامل اور غوروفکر سے انسان یہ اشارات پاتا ہے اور یہ اشارات وجدان کے…
Read the full tafseer →11 کہ اپنی کلانی کے سبب باوجود کروی الشکل ہونے کے مسطح معلوم ہوتی ہے۔ اسی لئے اس پر رہنا سہنا آسان ہوگیا۔ یہ سب دلائل قدرت بیان ہوئے۔ یعنی تعجب ہے، ان چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکیمانہ انتظامات کو نہیں سمجھتے جس سے بعثت بعدالموت پر اس کا قادر ہونا اور عالم آخرت کے عجیب و غریب انتظامات کا ممکن ہونا سمجھ میں آجاتا اور تخصیص ان چیزوں کی بقول ابن کثیر اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے تھے اس وقت ان کے سامنے بیشتر یہی چار چیزیں ہوتی تھیں۔ سواری میں اونٹ، اوپر آسمان نیچے زمین، اردگرد پہاڑ، اس لئے انہی علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 20{ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ۔ } ”اور کیا یہ دیکھتے نہیں زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے !“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی آفاقی نشانیوں میں سے چند نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں بار بار آیا ہے لیکن ان آیات میں خصوصی طور پر قرآن مجید کے مخاطبین اوّلین سے خطاب ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانے میں سرزمین حجاز کے باشندوں کا زیادہ تر وقت صحرائی مسافتوں میں گزرتا تھا ‘ جیسا کہ سورة قریش کی آیت { رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ } میں بھی ذکر ہوا ہے۔ چناچہ اپنے سفروں کے دوران جس ماحول سے ان لوگوں کا دن رات واسطہ رہتا تھا ان آیات میں اسی ماحول کی چار چیزوں کو گنوا کر انہیں غور و فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
9 خانہ بدوشوں کی کل کائنات کیا تھی ؟ اور اللہ کی نشانیاں :۔ ان خانہ بدوش بدوؤں کی زندگی کے مشاہدات کیا تھے ؟ بس یہی کہ ادھر ادھر منتقل ہونے کے لیے اونٹ جو ان کی سواری اور بار برداری کا کام دیتا تھا۔ اوپر آسمان تھا، نیچے زمین اور اردگرد پھیلے ہوئے طویل سلسلہ ہائے کوہ۔ یہی چیزیں ان کی کل کائنات تھی۔ ان میں ایک ایک چیز کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ آسمان کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اس میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے محو گردش ہیں۔ زمین کی یہ کیفیت ہے کہ گول ہونے کے باوجود جتنا بھی اس پر سفر کرتے جاؤ ہموارہی نظر آتی ہے۔ اور یہ بھی زمین کی وسعت کی دلیل ہے۔ پہاڑ زمین پر اس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں کہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5۔ (اور وہ سب اس صنعت گری پر نظر کرکے قدرت الہی وصنعت الہی پر استدلال نہیں کرتے ؟ ) (آیت) ” الابل، السمآء، الجبال، الارض “۔ ان چاروں چیزوں کی تخصیص وتصریح اس لیے کہ مخاطب اول عرب تھے، اور عرب کا سابقہ انہیں چاروں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے، اور اطراف میں پہاڑ، اوپر نظر اٹھائی تو آسمانی، نظر نیچی کی تو زمین، ان کے سامنے بحراوقیانوس اور دریائے گنگا کا نام لینے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ آیت میں ضمنا یہ بھی آگیا کہ نہ آسمان، نہ زمین، نہ پہاڑ، نہ جانور کوئی بھی شائبہ معبودیت والوہیت اپنے اندر نہیں رکھتا، جیسا کہ مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ یہ سب تمامتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت عربوں کی غالب سواری اونٹ ہی تھی، نیز اونٹ عربوں کے لئے بیش بہا، نہایت قیمتی سرمایہ تھا اور ہر وقت ان کے استعمال میں رہنے والی چیز تھی اسی لئے اللہ ت عالیٰ نے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی جن قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک اونٹ بھی ہے، اونٹ عربوں کے لئے جہاں مفید اور نہایت کار آمد چیز ہے وہیں اس میں کچھ ایسی خصوصیات بھی قدرت نے ودیعت رکھ دی ہیں کہ دوسرے جانوروں میں نہیں پائی جاتیں، الو تو عرب میں سب سے بڑا جانور اونٹ ہی ہے اس لئے کہ ہاتھی عرب میں نہیں ہوتا اللہ تبارک و تععالیٰ نے اس عظیم الحبثہ جانور کو اس طرح بنایا ہے…
Read the full tafseer →والی الارض کیف سطحت . اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہمواری کے ساتھ اس کا فرش بچھایا گیا ہے یہی حالت جنت کی مسندوں کی ہوگی۔ ممکن ہے آیات کا مطلب اس طرح ہو کہ انواعِ کائنات کچھ مرکب ہیں (جیسے اونٹ) اور کچھ بسیط ہیں (جیسے آسمان اور زمین اور پہاڑ) اور یہ سب اللہ کی قدرت پر دلالت کر رہی ہیں اور اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ قیامت پر قادر ہے۔ پھر یہ لوگ اس کائنات مرکبہ و بسیطہ پر غور کر کے اللہ کی قدرت علی البعث پر کیوں استدلال نہیں کرتے اور اس سچے مخبر کی شہادت کو کیوں نہیں مانتے ‘ جس کی سچائی معجزات سے ثابت ہے اور کیوں اس کیلئے آخری تیاری نہیں کرتے۔ رہی یہ بات کہ مرکبات میں صرف اونٹ اور بسائط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) جب رسول اکرم نے لوگوں سے یہ چیزیں بیان کیں تو مکہ والے بولے کہ اپنی رسالت پر کوئی دلیل پیش کرو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکہ والو اونٹ کی ساخت اور اس کی شدت قوت کو نہیں دیکھتے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق پر کس طرح بلند کیا گیا اور پہاڑوں کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ کس طرح انہیں زمین پر قائم کیا گیا کہ کوئی چیز بھی انہیں حرکت نہیں دے سکتی اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پانی پر بچھائی گئی یہ سب نشانیاں ہیں۔ شان نزول : اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے جنت کی نعمتوں کو بیان کیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) افلا ینظرون الی الابل …: قیامت اور قیامت کے دن جہنمیوں اور جنتیوں کا حال ذکر کرنے کے بعد ان چیزوں کو دیکھنے کی دعوت کا مقصد یہ ہے ہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں اور نہ کسی نے جنت یا جہنم میں جانا ہے تو ان چار چیزوں کو دیکھ لیں۔ اتنی عظیم الشان چیزیں پیدا کرنے والا پروردگار کیا ان لوگوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا ؟ (2) عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اورف طرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئیگی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
والی السماء کیف۔۔۔ تا۔۔۔۔ سطحت۔ یعنی آسمانوں کو بغیر ستونوں کے زمین سے بلند کیا گیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے بلند کیا گیا کہ اسے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے زمین پر نصب کردیا گیا ہے کہ وہ زائل نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ بنی کہ جب زمین کو پھیلایا گیا تو وہ ایک طرف جھکنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پہاڑوں کے ذریعے قائم کردیا جس طرح فرمایا، وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم، الانبیاء 31) اور ہم نے بنادیے زمین میں بڑے بڑے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے ان کے ساتھ۔ زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اسے پھیلادیا گیا ہے، حضرت انس نے کہا، میں نے حضرت علی کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بیان فرمایا جو جنت میں ہیں تو اس سے گمراہ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ پھر کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں۔ اور اونٹ عرب لوگوں کے عیش میں سے عیش تھا اور ان کے مال و اسباب میں سے ایک مال تھا فرمایا۔ اور آیت والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کو کیسے بلند کیے گئے۔ آیت والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے کھڑے کیے گئے۔ کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف اپنے عام دنوں میں چڑھتے ہو۔ اور جب تو اس کی بلندی کی طرف…
Read the full tafseer →وَاِلَى الْاَرْضِ : اور اس زمین کی طرف ][ كَيْفَ سُطِحَتْ : (کہ) کیسا اس کو بچھایا گیا ] س ط ح (ف) سَطَحًا بچھانا۔ ہموار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ان آیات میں چار چیزوں کی طرف نظر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بلند کیے گئے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح کھڑے کیے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جنت کی نعمتوں کو بیان فرمایا تو اہل کفر کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے اس کو جھٹلا دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اولاً اونٹوں کا ذکر فرمایا، اہل عرب کے سامنے ہر وقت اونٹ رہتے تھے اس سے کام لیتے تھے اور باربرداری اور کھیتی کے کام میں لاتے تھے۔ اس سے بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
9:۔ ” والی السماء “ یہ ” اکواب موضوعۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح آسمان اونچا ہے اور اس پر تارے اونچے رکھے ہیں اسی طرح پیالیاں اونچی رکھی ہوں گی۔ ” والی الجبال کیف نصبت “ یہ ” نمارق مصفوفۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں زمین پر پہاڑوں کا سلسلہ قائم ہے اسی طرح جنت میں سلیقہ کے ساتھ تکیے قطار میں لگے ہوں گے۔ ” والی الارض کیف سطحت “ یہ ” زرابی مبثوثۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح زمین بچھونے کی طرح بچھی ہوئی ہے اسی طرح جنت میں ہر طرف دریاں اور فروش بچھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے…
Read the full tafseer →وَاِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ 20 ۪ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ سطح السَّطْحُ : أعلی البیت . يقال : سَطَحْتُ البیت : جعلت له سطحا، وسَطَحْتُ المکان : جعلته في التّسوية كَسَطْحٍ ، قال : وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ [ الغاشية/ 20] ، وانْسَطَحَ الرّجل : امتدّ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب ¦ افلا ینظرون الاستفہام للتوبیخ والفاء للعطف علیٰ مقدر والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لاثبات البعث ولاظہار القدرۃ علی الاعادۃ وقیل الجملۃ فی محل جر علی انھا بدل اشتمال من الابل وعن الاصمعی انہ قال من قرء خلقت بالتخفیف عنٰی بہ البعیر ومن قرء بالتشدید عنٰی بہ السحاب ای بالابل وقال المبردالمراد من الابل ھھنا القطیعۃ العظیمۃ من السحاب والابل اسم جمع لا واحد لہ من لفظہ وانما واحدہ البعیر والناقۃ والجمل والسطح بسط الشیء قراء الجمہور مبنیاً للمفعول مخففًاوقرء الحسن مشددو قرء علی بن ابی طالب وغیرہ فی المواضع کلھا مبنیا للفاعل وضم التاء فیھا علی انھا صیغۃ الواحد المتکلم۔ تفسیر ¦ دوزخ کے عذاب اور جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ (الغاشیۃ : 17 تا 20) (کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنائے گئے۔ اور آسمان کو نہیں دیکھتے کیسے اٹھایا گیا۔ اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ کیسے جمائے گئے۔ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی۔ ) قیامت پر سامنے کی چیزوں سے استدلال قیامت کے ذکر کے ضمن میں پہلے اہل جہنم کا تذکرہ کیا گیا اور پھر اہل جنت کا۔ اور دونوں جس طرح جزاء و سزا سے گزریں گے اس کی منظرکشی کی گئی۔ ان باتوں کا تذکرہ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن ربط کلام : جو ذات نیک لوگوں کو اعلیٰ مقام پر فائز کرے گی اسی نے اونٹ کو عجیب الخلقت پیدا کیا اور آسمان کو بلندی پر ٹھہرایا اور پہاڑوں کو زمین پر نصب فرمایا۔ کیا لوگ اونٹ کی خلقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح زمین پر نصب کیے گئے ہیں ؟ اور زمین پر غور نہیں کرتے کہ اسے کس طرح بنایا اور بچھایا گیا ہے ؟ قرآن مجید نے زمین و آسمانوں کے بارے میں کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے زمین و آسمان اور پہاڑ اس کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ آسمان کے بارے میں ارشاد ہے کہ اسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا…
Read the full tafseer →20 : وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ (اور زمین کو کیسے بچھائی گئی) اس کی سطح ہموار اور بچھی ہوئی ہے۔ تمام ایک بچھونا ہے جو ایک کنارئہ آسمان سے دوسرے کنارئہ آسمانی تک پھیلا ہے اسی طرح جنت کے قالین ہونگے۔ ایک اور انداز : یہ بھی درست ہے کہ معنی یہ ہو۔ کیا وہ ان مخلوقات کو نہیں دیکھتے ہیں جو قدرت الٰہی پر شاہد ہیں۔ تاکہ وہ بعث بعد الموت پر اس کی قدرت کا انکار نہ کریں۔ اورحضور ﷺ کا انذار سن کر آپ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے تیاری کریں۔ وجہ تخصیص : ان چار چیزوں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کو خطاب فرما کر ان کو ان قدرتی چیزوں سے استدلال کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →20 ۔” والی الارض کیف سطحت “ بچھائی گئی ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کیا کوئی شخص قادر ہے کہ اونٹ کی مثل پیدا کرے یا آسمان کی مثل بلند کرے یا پہاڑوں کی مثل گاڑھے یا زمین کی مثل بچھائے میرے علاوہ ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…
Read the full tafseer →(وَاِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ) اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کرسکیں، اس پر کھیتی باڑی کرسکیں، باغات اگاسکیں، عمارتیں تعمیر کرسکیں اور اس کے راستے پر سفر کرسکیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ان کے…
Read the full tafseer →(11) بچھونہ ارضی میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اس زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح بچھایا گیا اس کو ؟ " اور تمہارے لیئے آرام و راحت کے بےحدو حساب فوائد و منافع اس کے اندر رکھ دیے اور اس نے اس کو زندوں اور مردوں سب کو سمیٹنے والی بنادیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، المرسلات 25 تا 27 پ 29) سو جس قادر مطلق نے یہ سب کچھ پیدا کردیا اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ بلکہ حق و حقیقت کا تقاضا ہے کہ وہ سب کو دوبارہ پیدا کرے اور ضرور پیدا کرے تاکہ عدل وانصآف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔ 1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔ 2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →ف 2 کہ گول ہونے کے باوجود سطح معلوم ہوتی ہے اور اسی لئے اس پر رہنا سہنا اور آرام کرنا ممکن ہے۔
Read the full tafseer →(88:20) والی الارض کیف سطحت : اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہمواری کے ساتھ اس کا فرش بچھایا گیا ہے۔ سطحت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب سطح (باب فتح) مصدر سے وہ بچھائی گئی۔ السطح مکان کے اوپر کے حصے یعنی چھت کو کہتے ہیں اور سطحت البیت : کے معنی چھت ڈالنے کے ہیں۔ لیکن سطحت المکان کے معنی کسی جگہ کو چھت کی طرح ہموار کرنے کے ہیں۔ فائدہ : آیات 17 تا 20 تک سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر یہ لوگ آخرت کی یہ باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے ۔ تو کیا یہ خود اپنے گردوپیش کی دنیا پر نظر ڈال کر انہوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے ؟ یہ آسمان کیسے بلند ہوگیا ؟ یہ پہاڑ کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
[3] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی قدرت کی چند نشانیوں پر غور کرنے کے لئے فرمایا ہے جو آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور جنت و دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے۔ یہاں اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین ان چار چیزوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ قرآن کے مخاطب اول عرب تھے جن کا سابقہ انہیں چار چیزوں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے اور اطراف میں پہاڑ۔ اوپر نظر اٹھائی تو آسمان اور نیچے نظر کی تو زمین۔ اس لئے انہی نشانیوں میں غور کرنے کے لئے فرمایا۔ یعنی یہ بنی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(20) اور زمین کی طرف کہ وہ کیسی صاف بچھائی گئی - مطلب یہ ہے کہ کیا اونٹ کی ساخت آسمان کی بلندی اور بغیر کسی سہارے کے اس کا قیام اور پہاڑوں کا زمین میں قائم کرنا اور اسی طرح زمین کو فرش کی طرح بچھانا کہ لوگ اس پر بودوباش اور رہنا سہنا اختیار کرسکیں حالانکہ وہ گول ہے لیکن اس کی پہنائی کو اس طرح قائم کیا کہ کروڑوں بلکہ اربوں مخلوق اس پر رہتی ہے ریلیں چلتی ہیں یہ تمام قدرت کی نیرنگیاں اس پر دال نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کردے اور ایک اور عالم جس کو عالم آخرت کہتے ہیں قائم کردے۔ اونٹ کا ذکر شاید اس لئے فرمایا کہ اس کا کھانا پینا گرم ریت میں چلنا اور لوئوں میں پھرنا یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ف 3۔ تخصیص ان چار چیزوں کی اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لئے ان علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد فرمادیا گیا۔
Read the full tafseer →اور زمین کہ وہ کس طرح بچھائی گئی ہے 20 ؎ زمانہ کے حالات ہیں کہ بدلتے رہتے ہیں کبھی دکھ ہوتا ہے تو کبھی سکھ میں انسان سرشار ہوتا ہے۔ فرمایا اگر سکھ ، عیش اور دولت کی حالت پیدا ہوجائے تو زمین کی طرح بچھ جائو اور بجائے تکبر اور بخل کے آپس میں فروتنی اور انکسار ، حلم اور تواضع ، فیاضی اور وسعت زمین کی طرح پیدا ہوجائے کہ جہاں تک کوئی نظر ڈالے وہ بچھی ہوئی نظر آتی جاتی ہے جوں جوں نظر میں وسعت آئے گی اس کی وسعت مزید بڑھتی چلی جائے گی اور پھر دیکھو کہ وہ کس طرح دوست اور دشمن کے قدموں سے رات اور دن کو روندی جاتی ہے اور پامال ہوتی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا فیض عام ہے کہ امیر ہو یا غریب ، دوست ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
7 That is, "If they deny the possibility of the Hereafter, have they never looked around themselves and considered how the camels were created, how the heaven was raised high, how the mountains were firmly set and how the earth was spread out? When aII these things could be created, and exist before them in their finished form, why can the Resurrection not take place? Why cannot a new world come about, and why cannot .Hell and Heaven be possible'? Only a foolish and thoughtless person would think that the coming into existing of only those things which he has found existing on opening his…
Read the full tafseer →