Explained with ayahs 17–26
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
سورة الْغَاشِیَة 6
یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ
قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…
Read the full tafseer →زمین کے عجائبات کی طرف اشارہ:
’وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ‘۔ آسمان اور اس کے عجائبات کی سیر کرانے کے بعد نگاہ کو پھر زمین کی طرف توجہ دلائی اور اس کی اس نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جو زمین و آسمان کے مابین خالق کائنات کی قدرت و حکمت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح نصب کیے گئے ہیں۔ وہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ سب کے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔ وہ ہواؤں اور بادلوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں تاکہ بارش کی تقسیم قدرت کی حکمت اور اس کے منشا کے مطابق ہو۔ ہیں تو یہ پتھر کے لیکن قدرت نے ان کے اندر سے خلق کی سیرابی کے لیے شیریں پانی کے سوتے جاری کر…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی کس طرح اس کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑھ دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرے، نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
2: عرب کے لوگ عام طور سے صحراؤں میں اونٹوں پر سفر کرتے تھے، اور اونٹ کی تخلیق میں جو عجیب خصوصیات ہیں، ان سے واقف تھے، نیز اونٹوں پر سفر کرتے وقت انہیں آسمان، زمین اور پہاڑ نظر آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ اگر اپنے آس پاس کی چیزوں پر ہی غور کرلیں تو انہیں پتہ چل جائے کہ جس ذات نے کائنات کی یہ حیرت انگیز چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اسے اپنی خدائی میں کسی شریک کی ضرورت نہیں ہوسکتی، نیز یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کائنات کی ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوسری زندگی عطا کر دے، اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لے۔ کائنات کا یہ عظیم…
Read the full tafseer →والی الجبال ................ نصیبت (19:88) ” اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے “۔ ایک عرب کے نزدیک پہاڑ بہت اہم تھے ، پہاڑوں ہی میں عرب مشکل اوقات میں پناہ لیتے تھے۔ شکل مراحل میں پہاڑ ہی ان کے انیس اور دوست ہوا کرتے تھے۔ پہاڑوں کے مناظر جب انسان دیکھتا ہے تو ان سے اس کو گہرے نفسیاتی اشارات ملتے ہیں۔ یہ پہاڑوں کے نظام میں ایک عظمت نظر آتی ہے۔ ایک جمال نظر آتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو کم تر سمجھ کر ان کے اندر پناہ لیتا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں سکون حاصل کرتا ہے اور اس فطری ماحول میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان اونچے پہاڑوں میں انسان یہ سوچتا ہے کہ وہ اللہ کے زیادہ قریب ہے۔ یوں بلند…
Read the full tafseer →10 کہ ذرا اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →آیت 19{ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ۔ } ”اور کیا یہ دیکھتے نہیں پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑ دیے گئے ہیں !“
پہاڑوں کی بناوٹ اور کرئہ ارضی پر ان کے اثرات وغیرہ کے بارے میں تحقیق کرنا ماہرین ارضیات کا کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
8 اللہ تعالیٰ نے عرب کے بدو اور خانہ بدوشوں کو سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی جو ان کے نزدیک ایک قیمتی متاع اور صحرائی سفر میں ان کا مستقل رفیق تھا جو دس دس دن پانی پینے کے بغیر گزارہ ہی نہیں کرسکتا بلکہ بےتکلف سفر بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ خار دار جھاڑیاں اور خشک گھاس اور پتے کھا کر شکم پروری کرلیتا ہے۔ ریت میں اس کے پاؤں نہیں دھنستے اور بےتکلف سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ ریت کی وجہ سے تھک نہیں جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ سب باربردار جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ گویا یہ جانور ان لوگوں کی روح رواں تھا۔ عظیم الجثہ اور عجیب الخلقت۔ مثل مشہور ہے۔ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ اور اہل عرب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5۔ (اور وہ سب اس صنعت گری پر نظر کرکے قدرت الہی وصنعت الہی پر استدلال نہیں کرتے ؟ ) (آیت) ” الابل، السمآء، الجبال، الارض “۔ ان چاروں چیزوں کی تخصیص وتصریح اس لیے کہ مخاطب اول عرب تھے، اور عرب کا سابقہ انہیں چاروں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے، اور اطراف میں پہاڑ، اوپر نظر اٹھائی تو آسمانی، نظر نیچی کی تو زمین، ان کے سامنے بحراوقیانوس اور دریائے گنگا کا نام لینے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ آیت میں ضمنا یہ بھی آگیا کہ نہ آسمان، نہ زمین، نہ پہاڑ، نہ جانور کوئی بھی شائبہ معبودیت والوہیت اپنے اندر نہیں رکھتا، جیسا کہ مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ یہ سب تمامتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت عربوں کی غالب سواری اونٹ ہی تھی، نیز اونٹ عربوں کے لئے بیش بہا، نہایت قیمتی سرمایہ تھا اور ہر وقت ان کے استعمال میں رہنے والی چیز تھی اسی لئے اللہ ت عالیٰ نے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی جن قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک اونٹ بھی ہے، اونٹ عربوں کے لئے جہاں مفید اور نہایت کار آمد چیز ہے وہیں اس میں کچھ ایسی خصوصیات بھی قدرت نے ودیعت رکھ دی ہیں کہ دوسرے جانوروں میں نہیں پائی جاتیں، الو تو عرب میں سب سے بڑا جانور اونٹ ہی ہے اس لئے کہ ہاتھی عرب میں نہیں ہوتا اللہ تبارک و تععالیٰ نے اس عظیم الحبثہ جانور کو اس طرح بنایا ہے…
Read the full tafseer →والی الجبال کیف نصبت . اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کس طرح ان کو بپا کیا گیا ہے۔ ایک جگہ اس طرح جمے ہوئے ہیں کہ باوجود اتنے طول کے ادھر ادھر نہیں جھکتے ہیں۔ پس یہی حالت نمارق (کے طول اور اثبات) کی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) جب رسول اکرم نے لوگوں سے یہ چیزیں بیان کیں تو مکہ والے بولے کہ اپنی رسالت پر کوئی دلیل پیش کرو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکہ والو اونٹ کی ساخت اور اس کی شدت قوت کو نہیں دیکھتے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق پر کس طرح بلند کیا گیا اور پہاڑوں کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ کس طرح انہیں زمین پر قائم کیا گیا کہ کوئی چیز بھی انہیں حرکت نہیں دے سکتی اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پانی پر بچھائی گئی یہ سب نشانیاں ہیں۔
شان نزول : اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الخ)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے جنت کی نعمتوں کو بیان کیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) افلا ینظرون الی الابل …: قیامت اور قیامت کے دن جہنمیوں اور جنتیوں کا حال ذکر کرنے کے بعد ان چیزوں کو دیکھنے کی دعوت کا مقصد یہ ہے ہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں اور نہ کسی نے جنت یا جہنم میں جانا ہے تو ان چار چیزوں کو دیکھ لیں۔ اتنی عظیم الشان چیزیں پیدا کرنے والا پروردگار کیا ان لوگوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا ؟
(2) عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اورف طرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئیگی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
والی السماء کیف۔۔۔ تا۔۔۔۔ سطحت۔
یعنی آسمانوں کو بغیر ستونوں کے زمین سے بلند کیا گیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے بلند کیا گیا کہ اسے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے زمین پر نصب کردیا گیا ہے کہ وہ زائل نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ بنی کہ جب زمین کو پھیلایا گیا تو وہ ایک طرف جھکنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پہاڑوں کے ذریعے قائم کردیا جس طرح فرمایا، وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم، الانبیاء 31) اور ہم نے بنادیے زمین میں بڑے بڑے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے ان کے ساتھ۔ زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اسے پھیلادیا گیا ہے، حضرت انس نے کہا، میں نے حضرت علی کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بیان فرمایا جو جنت میں ہیں تو اس سے گمراہ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ پھر کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں۔ اور اونٹ عرب لوگوں کے عیش میں سے عیش تھا اور ان کے مال و اسباب میں سے ایک مال تھا فرمایا۔ اور آیت والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کو کیسے بلند کیے گئے۔ آیت والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے کھڑے کیے گئے۔ کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف اپنے عام دنوں میں چڑھتے ہو۔ اور جب تو اس کی بلندی کی طرف…
Read the full tafseer →[وَاِلَى الْجبالِ : اور پہاڑوں کی طرف ][ كَيْفَ نُصِبَتْ : (کہ) کیسا ان کو گاڑا گیا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ان آیات میں چار چیزوں کی طرف نظر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بلند کیے گئے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح کھڑے کیے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جنت کی نعمتوں کو بیان فرمایا تو اہل کفر کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے اس کو جھٹلا دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اولاً اونٹوں کا ذکر فرمایا، اہل عرب کے سامنے ہر وقت اونٹ رہتے تھے اس سے کام لیتے تھے اور باربرداری اور کھیتی کے کام میں لاتے تھے۔ اس سے بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
9:۔ ” والی السماء “ یہ ” اکواب موضوعۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح آسمان اونچا ہے اور اس پر تارے اونچے رکھے ہیں اسی طرح پیالیاں اونچی رکھی ہوں گی۔ ” والی الجبال کیف نصبت “ یہ ” نمارق مصفوفۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں زمین پر پہاڑوں کا سلسلہ قائم ہے اسی طرح جنت میں سلیقہ کے ساتھ تکیے قطار میں لگے ہوں گے۔ ” والی الارض کیف سطحت “ یہ ” زرابی مبثوثۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح زمین بچھونے کی طرح بچھی ہوئی ہے اسی طرح جنت میں ہر طرف دریاں اور فروش بچھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
(گذشتہ پیوستہ)
اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔
(اونٹ اور اسکی خصوصیات )
عربوں کا اونٹوں کے…
Read the full tafseer →وَاِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ 19 ۪
جبل
الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل :
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7]
( ج ب ل )
قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟
نصب
نَصْبُ الشیءِ : وَضْعُهُ وضعاً ناتئاً كنَصْبِ الرُّمْحِ ، والبِنَاء والحَجَرِ ، والنَّصِيبُ : الحجارة تُنْصَبُ علی الشیءِ ، وجمْعُه : نَصَائِبُ ونُصُبٌ ، وکان للعَرَبِ حِجَارةٌ تعْبُدُها وتَذْبَحُ عليها . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ إِلى نُصُبٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب ¦ افلا ینظرون الاستفہام للتوبیخ والفاء للعطف علیٰ مقدر والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لاثبات البعث ولاظہار القدرۃ علی الاعادۃ وقیل الجملۃ فی محل جر علی انھا بدل اشتمال من الابل وعن الاصمعی انہ قال من قرء خلقت بالتخفیف عنٰی بہ البعیر ومن قرء بالتشدید عنٰی بہ السحاب ای بالابل وقال المبردالمراد من الابل ھھنا القطیعۃ العظیمۃ من السحاب والابل اسم جمع لا واحد لہ من لفظہ وانما واحدہ البعیر والناقۃ والجمل والسطح بسط الشیء قراء الجمہور مبنیاً للمفعول مخففًاوقرء الحسن مشددو قرء علی بن ابی طالب وغیرہ فی المواضع کلھا مبنیا للفاعل وضم التاء فیھا علی انھا صیغۃ الواحد المتکلم۔
تفسیر ¦ دوزخ کے عذاب اور جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ (الغاشیۃ : 17 تا 20)
(کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنائے گئے۔ اور آسمان کو نہیں دیکھتے کیسے اٹھایا گیا۔ اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ کیسے جمائے گئے۔ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی۔ )
قیامت پر سامنے کی چیزوں سے استدلال
قیامت کے ذکر کے ضمن میں پہلے اہل جہنم کا تذکرہ کیا گیا اور پھر اہل جنت کا۔ اور دونوں جس طرح جزاء و سزا سے گزریں گے اس کی منظرکشی کی گئی۔ ان باتوں کا تذکرہ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات نیک لوگوں کو اعلیٰ مقام پر فائز کرے گی اسی نے اونٹ کو عجیب الخلقت پیدا کیا اور آسمان کو بلندی پر ٹھہرایا اور پہاڑوں کو زمین پر نصب فرمایا۔
کیا لوگ اونٹ کی خلقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح زمین پر نصب کیے گئے ہیں ؟ اور زمین پر غور نہیں کرتے کہ اسے کس طرح بنایا اور بچھایا گیا ہے ؟ قرآن مجید نے زمین و آسمانوں کے بارے میں کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے زمین و آسمان اور پہاڑ اس کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ آسمان کے بارے میں ارشاد ہے کہ اسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا…
Read the full tafseer →19 : وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ (اور پہاڑوں کو کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں) ایسا کھڑا کرنا جو قائم رہنے والا ہے۔ وہ اپنی طوالت کے باوجود ایسے گڑے ہوئے ہیں کہ ایک طرف جھکتے نہیں پس اسی طرح جنت کے تکیے ہونگے۔
Read the full tafseer →19 ۔” والی الجبال کیف نصبت “ زمین کے اوپر گاڑھے ہوئے کہ ہٹتے ہی نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…
Read the full tafseer →(وَاِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ) اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں۔ ؟ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے جس سے زمین کو استقرار اور اثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ نے ان پہاڑوں میں انسان کے لیے بڑے بڑے فوائد ودیعت کیے ہیں۔
Read the full tafseer →(10) پہاڑوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور کیا یہ لوگ نگاہ عبرت نہیں ڈالتے ان پہاڑوں پر کہ کیسے جما دیا گیا ان کو ؟ " اور کرہ ارضی کے لیے ان کو قرار و استقرار کا ذریعہ اور زمین کے لیے " اوتادا " یعنی میخیں بنادیا، فسبحانہ ما اعظم شانہ وما اجل قدرتہ و برھانہ۔ سو نگاہ عبرت کی دعوت دیتے ہوئے ان کو اونٹوں کی خلقت سے اٹھا کر آسمان میں پہنچا دیا گیا کہ اس میں غور و فکر کرو کہ اس عظیم الشان اور بےمثال چھت کو آخر کس نے اس قدر حکمت بھرے طریقے سے ساری مخلوق کے اوپر تان دیا ؟ پھر ان کو آسمان سے اتار کر پہاڑوں تک پہنچایا گیا کہ ان فلک بوس اور دیوہیکل پہاڑوں کو دیکھ کر آخر یہ کس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں
تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔
1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔
2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔
شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔
یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →ف 1 کہ اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →(88:19) والی الجبال کیف نصیبت : کیا یہ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ہیں۔
نصبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب نصب (باب ضرب) مصدر سے بمعنی نصب کرنا۔ کھڑا کرنا۔ گاڑنا۔ کیف نصبت کیسے ایک جگہ کھڑے ہوئے ہیں اور جمے ہوئے ہیں کہ باوجود اتنے طویل اور جسامت کے ادھر ادھر نہیں جھکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔
الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔
(ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ
قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو
خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(19) اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کس طرح قائم کئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 2۔ تاکہ جہاں چاہیں آرام کرلیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی نہ پڑے۔
Read the full tafseer →اور پہاڑ کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے
19 ؎ انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ اے انسان اگر زندگی میں تجھ کو کہیں دکھ اور مشکلات کا سامنا ہوجائے تو ان پہاڑوں کی طرح مستقل مزاج رہ کر اس کا مقابلہ کرو او مصائب اور مشکلات کی موجیں اور آندھیاں جتنا بھی چاہیں تم پر حملہ کریں لیکن تم پہاڑ کی طرح اٹل ہو جائو اور اپنے اصولوں سے ایک ذرہ بھر بھی مت سر کو ۔ مختصر یہ کہ دکھ میں صبر و استقامت کا نمونہ پہاڑ سے سیکھ لو کہ وہ کس طرح اپنی جگہ گڑے کھڑے ہیں ۔ کتنے کتنے بڑے طوفان اٹھے اور بادو باراں نے کس طرح ان کو ڈرانے کی کوشش کی اور بادل کس قدرر گرجے اور برسے لیکن ان میں ذرا بھر بھی کبھی فرق نہ پڑا بلکہ وہ پہلے سے بھی صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
6 That is, filled goblets already supplied so that they do not have to ask for them.
Read the full tafseer →