Al-Ghaashiya 88:16

Al-Ghaashiya · from ayah 16

88:16

وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌ ۟ؕوَّزَرَابِىُّ مَبۡثُوۡثَةٌ

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And carpets spread around.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:16

اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پھیلی ہوئی چاندنیاں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نرم و نفیس قالین اور مَسندیں بچھی ہوں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بچھائے ہوئے مخملی قالین ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بیش قیمت قالین بچھے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور قالین ہیں (سب طرف) پھیلے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور مخمل کے گدے جا بجا بچھے ہوئے

— محترمہ رفعت اعجاز

and rich carpets levelled out.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and carpets, spread around.

— Muhammad Taqi Usmani

and carpets, spread around.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Zarabi, spread out (Mabthuthah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And carpets spread around.

— Saheeh International

and well spread carpets.

— Muhammad Sarwar

And carpets spread out.

— Muhammad Habib Shakir

And carpets ready spread,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 88:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62؀) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–19

سورة الْغَاشِیَة 6 یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

بعض آداب معاشرت واکواب موضوعة اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبغورے، گلاس وغیرہ اس کی صفت میں لفظ موضوعہ یعنی اپنی مقررہ جگہ پر پانی کے قریب رکھے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرما کر آداب معاشرت کے ایک اہم باب کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ پانی پینے کے برتن پانی کے قریب مقررہ جگہ پر رہنے چاہئیں وہاں سے ادھر ادھر ہوجائیں اور پانی پینے کے وقت تلاش کرنا پڑے یہ ایذاو تکلیف کی چیز ہے اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام چاہئے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو سب گھر والوں کے کام میں آتی ہے جیسے لوٹے، گلاس، تولیہ وغیرہ ان کی جگہ مقرر رہنی چاہئے اور استعمال کرنے کے بعد اس کو وہیں رکھنا چاہئے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ‘۔ ’زَرَابِیُّ‘ جمع ہے ’زُرْبِیَّۃٌ‘ کی، یہ تکیوں اور نہالچوں کے معنی میں آتا ہے یعنی قالینوں پر تکیے اور نہالچے ہر طرف بکھرے پڑے ہوں گے۔ بیٹھنے والا جہاں بیٹھے وہ اس کے لیے آسائش کا باعث ہوں گے۔ آج صوفوں کا دور ہے لیکن ان پر بھی گدیاں اور تکیے رکھنے کا رواج ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرور ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وزرابی مبثوثة (16:88) ” اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے “۔ وہ فرش جو پشم دار ہو ، یہ جگہ جگہ زینت اور آرام کے لئے بچھے ہوں گے۔ یہ وہ سہولیات ہیں جن کی نظیر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اور یہاں ان اصطلاحات میں جنت کی سہولیات کا ذکر ہمارے سمجھانے کے لئے ہے لیکن وہاں سہولیات کیسی ہوں گی ، اس کا تعلق وہاں استعمال کرنے سے ہے۔ یہ وہی لوگ بتاسکیں گے جن کی قسمت میں جنت لکھی ہے۔ یہ بحث فضول ہے کہ ہم یہاں جنت کی سہولیات کی نوعیت اور کیفیت کا ذکر کریں یا قیامت کے عذاب کی کیفیات کا ذکر کریں اس لئے کہ اشیاء اور مدکارت کی نوعیت کا اظہار اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کے بارے میں انسانی ادراک مکمل ہو ، اہل زمین کی قوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 تاکہ جس وقت جہاں چاہیں آرام کریں۔ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی کلفت نہ اٹھائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ۔ } ”اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے۔“ اگلی چار آیات قرآن مجید کی ان آیات میں سے ہیں جو بقول علامہ اقبال شعوری مشاہدے پر زور دیتی ہیں کہ چیزوں کو دیکھو ‘ ان پر غور کرو اور اپنی عقل اور منطق کے مطابق ان سے نتائج اخذ کرو۔ ظاہر ہے عقل ‘ شعور اور حواس کی صلاحیتیں انسان کو اسی لیے دی گئی ہیں کہ اپنی زندگی میں وہ ان سے کام لے : { وَلاَ تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلاً۔ } بنی اسرائیل ”اور مت پیچھے پڑو اس چیز کے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں۔ یقینا سماعت ‘ بصارت اور عقل سبھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–16

7 وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–16

4۔ غرض یہ کہ مادی سامان راحت ہر قسم کا اور انتہائی ترتیب وسلیقہ کے ساتھ چنا ہوا موجود ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–16

بعض آداب معاشرت : واکواب موضوعۃ، اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبخورے، گلاس وغیرہ، اکواب کی صفت موضوعہ بیان فرمائی ہے یعنی پانی کے قریب اپنی مقررہ جگہ پر رکھے ہوئے ہوں گے، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پانی پینے کا برتن پانی کے قریب ہی متعین جگہ پر ہونا چاہیے تاکہ وقت ضرورت ادھر ادھر تلاش کرنا نہ پڑے جو کہ باعث تکلیف ہوتا ہے، اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو تمام گھر والوں کے کام آتی ہیں جیسے لوٹا، گلاس، تولیہ، صابن، کنگھا، سرمہ وغیرہ انکی ایک جگہ مقرر ہو اور استعمال کرنے کے بعد اسی جگہ رکھ دیا جائے تاکہ کسی کو پریشانی نہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و زرابی مبثوثۃ . اور عمدہ لمبے چوڑے بچھے ہوئے فرش نمارق نمرقۃٌ یا غرقۃٌ کی جمع ہے اور زرابی ‘ زربیۃٌ کی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15۔ 16) اور برابر لگے ہوئے گدے اور تکیے ہیں اور جنتیوں کے لیے سب طرف قالین بچھے پڑے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–16

واکواب موضوعتہ :”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، وہ پیالے جن کی نہ دستی ہو نہ ٹونٹی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–16

فیھا عین جاریہ۔۔۔ تا۔۔۔ مبثوثہ۔ اس میں اچھلتے پانیوں والے جاری چشمے ہوں گے اور مختلف قسم کے لذیذ مشروبات ان کی زمین پر بغیر کسی کھائی کے جاری ہوں گے سورة الانسان میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے اس میں چشمے ہوں گے۔ عین، عیون کے معنی میں ہے واللہ اعلم۔ اس میں بلند پلنک ہوں گے روایت بیان کی گئی ہے اس کی بلندی اس قدر ہوگی جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ولی اپنے اردگرد اپنے ملک کو دیکھ سکے۔ اس میں لوٹے اور برتن ہوں گے ابریق اسے کہت ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے کو ب ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی سورة زخرف اور دوسری سورتوں میں یہ گزرچکا ہے۔ تکیے ہوں گے نمارق کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

32۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وزرابی یعنی بچھونے۔ 33۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وزرابی مبثوثہ مخملی فرشت بچھے ہوئے۔ یعنی بچھونے جو ایک دوسرے کے اوپر بچھے ہوں گے۔ 34۔ ابن الانباری نے المصاحف میں عمار بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے منصور بن معتمر (رح) کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے نماز میں آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھی اور اس میں وزرابی مبثوثہ بھی پڑھا یعنی اس میں لوگ نرم و گداز بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ اہل ایمان کو دنیا کی آزمائش پر صبر کرنا چاہیے 35۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ابی الہذیل (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ0013﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ0014﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ0015﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

7:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوْثَۃٌ۝ 16 ۭ زرابيّ : جمع زربيّة، اسم جامد لنوع من البسط والطنافس، وقیل جمع زربيّ بضمّ الزاي وکسرها۔ كما في القاموس۔ وتشدید الیاء، وقیل بتثلیث الزاي فيهما .. وزنه فعلیل أو فعلیلة، وزن زرابيّ فعالیل بفتح الفاء . زرب الزَّرَابِي : جمع زُرْبٍ ، وهو ضرب من الثیاب محبّر منسوب إلى موضع وعلی طریق التشبيه والاستعارة قال : وَزَرابِيُّ مَبْثُوثَةٌ [ الغاشية/ 16] ، والزَّرْبُ ، والزَّرِيبَةُ : موضع الغنم، وقترة الرّامي ( ز ر ب ) الزرابی یہ زرب کی جمع ہے جو ایک عمدہ قسم کا کپڑا ہے اور ایک مقام کی طرف منسوب ہے ۔ پھر تشبیہ واستعارہ کے طورپر زرابی بمعنی فرش کے بھی آجاتا ہے ۔ جیسے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–16

؎ النمرق و النمرقۃ و سادۃ صغیرۃ والنمرقۃ بالکسرۃ لغتہ دربما سموا الطنفہ التی فوق الرجل نمرقنہ (مختار الصحاح)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–16

فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ۔ (الغاشیۃ : 12 تا 16) (اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے۔ اور گائو تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔ اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کی آرائش وزیبائش کی تصویر اہلِ جنت جس طرح کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوں گے اور جیسی لطف و لذت سے بھرپور نعمتوں سے محظوظ ہوں گے ان میں سے چند ایک کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی جو چیز بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک رواں چشمہ ہوگا، یعنی ایسا چشمہ جو ہر وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ (اور سب طرف قالین پھیلے پڑے ہیں) زرابی جمع زربیۃ۔ عمدہ لمبے چوڑے بچھے قالین۔ مبثوثہؔ پھیلائے ہوئے مجالس کے لحاظ سے الگ الگ بچھے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” وزرابی “ یعنی چوڑے بچھونے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ چٹائیاں جن کا اٹھانا ہو اس کا واحد زربیۃ ” مبثوثۃ “ بچھائے ہوئے اور کہا گیا ہے مجالس میں متفرق۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ) الزرابی سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–17

(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–17

ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:16) وزرابی مبثوثۃ : زرابی۔ مخمل کے نہالچے۔ زرب کی جمع ہے۔ ایک قسم کا عمدہ کپڑا ہے اور ایک موضع کی طرف منسوب ہے تشبیہ اور استعارہ کے طور پر بمعنی فرش کے بھی آتا ہے۔ قاموس میں ہے زرابی قالچے اور فرش ہیں۔ یا ہر وہ چیز جو بچھائی جائے۔ بث (باب نصر، ضرب) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث پھیلانا۔ غبار اڑانا۔ مبثوثۃ پھیلا ہوا۔ بکھرا ہوا۔ لمبے چوڑے بچھے ہوئے فرش۔ اصل میں بث کے معنی ہیں کسی چیز کو متفرق اور پراگندہ کرنا۔ جیسے بث الریح التراب۔ ہوانے خاک اڑائی یا فکانت ھباء منبثا (56:6) پھر وہ منتشر ذرات کی طرح اڑنے لگیں۔ یا کالفراش المبثوث (101:4) منتشر پتنگوں کی طرح۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–16

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور مخملی چھوٹی چھوٹی مسندیں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ یعنی جو لوگ مومن تھے اور نیک عمل کیا کرتے تھے ان کے چہروں پر تروتازگی اور رونق ہوگی اور ان کے اعمال کا جو ثواب اور اجر ان کو ملے گا اس کی وجہ سے خوش اور راضی ہوں گے ان دو جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اجمالی حالت اور ان کے ثواب کا ذکر فرمایا اس کے بعد دارالثواب اور جنت کا ذکر کیا یہ لوگ بہشت بریں میں ہوں گے وہ جنت بہت بلند ہوگی عنی یا تو عمارت بہت بلند ہوگی یا یہ مطلب کہ وہ مرتبے کے اعتبار سے بہت بلند ہے اس جنت میں کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنیں گے۔ لغو سے مراد یا تو کذب بہتان اور کفر ہے یا گالی گلوچ مراد ہے غرض یہ کہ جنت میں کوئی ایسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–19

ف 2۔ تاکہ جہاں چاہیں آرام کرلیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی نہ پڑے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور قالین بھی وہاں بچھے ہوں گے 16 ؎ (ذرابی) مخمل کے قالین جو نیچے فرشتوں پر بچھائے جاتے ہیں اور اگر ان کو بچھانے کے بعد ان پر مزید تخت بچھائے جائیں تو پھر کیا ہی ان کی شان ہے یہ زرب کی جمع ہے جو ایک قسم کا آراستہ کپڑا یا قالین ہے جو بچھایا جاتا ہے اور اس کے اوپر تخت بچھائے جاتے ہیں۔ (مبثوثۃ) اسم مفعول واحد مؤنث پھیلے ہوئے ، بچھے ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کثرت سے بچھے ہوئے۔ یعنی لوگوں کو گن گن کر نہ بچھائے گئے ہوں کہ جتنے آدمی ہیں اتنے ہی تخت بچھائے جائیں بلکہ کثرت سے بچھے ہوں کہ جس کو وہ پسند کریں اس پر لیٹیں ، بیٹھیں اور تکیہ لگائیں ۔ یہ گویا انعامات ہیں جو اہل جنت کے لیے مالک الملک اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

Etiquette of Living وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ (and goblets, well placed...88:14) The word akwab is the plural of kub and it refers to a 'goblet', a 'glass' or a cup for drinking water. It has been qualified by the adjective maudu’ ah and it means 'well placed'. This signifies that the glasses or cups or containers will be set in their due places close to water. This description opens an important chapter in setting down some of the rules of correct behaviour in social situations. The drinking containers for water ought to be placed near the water in the designated place. They should not be…

Read the full tafseer →