Explained with ayahs 17–26
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
سورة الْغَاشِیَة 6
یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ
قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…
Read the full tafseer →قیامت کی بعض آفاقی نشانیوں کی یاددہانی:
یہ ان لوگوں کو جو مذکورہ جزا و سزا سے بالکل نچنت زندگی گزار رہے تھے۔ آفاق کی بعض نہایت نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آخر وہ ان چیزوں پر کیوں غور نہیں کرتے جو خالق کی صفات ربوبیت و قدرت اور اس کی حکمت و عظمت کی اس طرح شہادت دے رہی ہیں کہ جس کے اندر ذرا بھی حق پسندی ہو وہ قیامت اور جزاء و سزا کا انکار نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کے ہوتے وہ اس بات پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کہ کوئی نشانئ عذاب ظاہر ہو یا قیامت آ جائے تب ہی وہ پیغمبر کی بات مانیں گے۔
اونٹ کی طرف اشارہ: ’اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ‘۔ سب سے پہلے اونٹ کی…
Read the full tafseer →17۔ 1 اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہ تھی، اس لیے اللہ نے اس کا تذکرہ کیا یعنی اونٹ کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لادھ دو وہ انکار نہیں کرے گا اور تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے لئے، اسکا دودھ تمہارے پینے کے لئے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
2: عرب کے لوگ عام طور سے صحراؤں میں اونٹوں پر سفر کرتے تھے، اور اونٹ کی تخلیق میں جو عجیب خصوصیات ہیں، ان سے واقف تھے، نیز اونٹوں پر سفر کرتے وقت انہیں آسمان، زمین اور پہاڑ نظر آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ اگر اپنے آس پاس کی چیزوں پر ہی غور کرلیں تو انہیں پتہ چل جائے کہ جس ذات نے کائنات کی یہ حیرت انگیز چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اسے اپنی خدائی میں کسی شریک کی ضرورت نہیں ہوسکتی، نیز یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کائنات کی ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوسری زندگی عطا کر دے، اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لے۔ کائنات کا یہ عظیم…
Read the full tafseer →افلا ینظرون ................................ سطحت
یہ مختصر چار آیات ہیں لیکن ان کے اندر قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب سوسائٹی کے ماحول کی پوری طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کا نقشہ بھی۔ آسمان ، زمین ، پہاڑ اور زمین کے اوپر حیوانی خوبصورتی اونٹ کی صورت میں ، کیونکہ اونٹ کی تخلیق نہایت پیچیدہ ہے اور عربوں کے لئے اس کی اہمیت مسلم ہے۔ انسان جہاں بھی ہو ، یہ مناظر اس کے سامنے ہوتے ہیں۔ آسمان ، پہاڑ ، ہموار زمین اور اس کے اوپر قسم قسم کے حیوانات۔ انسان علم ومعرفت کے جس مقام پر بھی ہو ، یہ مناظر اس کے علم ادراک اور دلچسپی کا مرکز ہوتے ہیں۔ اگر انسان ان چیزوں کی ساخت پر…
Read the full tafseer →8 کہ ہیئت اور خاصیت دونوں اور جانوروں کی نسبت اس میں عجیب ہیں جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں دیکھنے کے قابل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17{ اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ۔ } ”تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ انہیں کیسے بنایا گیا ہے !“
کیا یہ لوگ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے ؟ اور نہیں تو یہ اونٹ کی تخلیق کو ہی دیکھ لیتے کہ اس جانور کے جسم کی ریگستان کے ماحول کے ساتھ کس قدر ہم آہنگی ہے۔ ریگستان کی گرمی میں یہ کئی کئی دن کھائے پئے بغیر چلتا رہتا ہے۔ اس کے پائوں ایسے بنائے گئے ہیں کہ ریت میں نہیں دھنستے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
8 اللہ تعالیٰ نے عرب کے بدو اور خانہ بدوشوں کو سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی جو ان کے نزدیک ایک قیمتی متاع اور صحرائی سفر میں ان کا مستقل رفیق تھا جو دس دس دن پانی پینے کے بغیر گزارہ ہی نہیں کرسکتا بلکہ بےتکلف سفر بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ خار دار جھاڑیاں اور خشک گھاس اور پتے کھا کر شکم پروری کرلیتا ہے۔ ریت میں اس کے پاؤں نہیں دھنستے اور بےتکلف سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ ریت کی وجہ سے تھک نہیں جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ سب باربردار جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ گویا یہ جانور ان لوگوں کی روح رواں تھا۔ عظیم الجثہ اور عجیب الخلقت۔ مثل مشہور ہے۔ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ اور اہل عرب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5۔ (اور وہ سب اس صنعت گری پر نظر کرکے قدرت الہی وصنعت الہی پر استدلال نہیں کرتے ؟ ) (آیت) ” الابل، السمآء، الجبال، الارض “۔ ان چاروں چیزوں کی تخصیص وتصریح اس لیے کہ مخاطب اول عرب تھے، اور عرب کا سابقہ انہیں چاروں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے، اور اطراف میں پہاڑ، اوپر نظر اٹھائی تو آسمانی، نظر نیچی کی تو زمین، ان کے سامنے بحراوقیانوس اور دریائے گنگا کا نام لینے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ آیت میں ضمنا یہ بھی آگیا کہ نہ آسمان، نہ زمین، نہ پہاڑ، نہ جانور کوئی بھی شائبہ معبودیت والوہیت اپنے اندر نہیں رکھتا، جیسا کہ مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ یہ سب تمامتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت عربوں کی غالب سواری اونٹ ہی تھی، نیز اونٹ عربوں کے لئے بیش بہا، نہایت قیمتی سرمایہ تھا اور ہر وقت ان کے استعمال میں رہنے والی چیز تھی اسی لئے اللہ ت عالیٰ نے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی جن قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک اونٹ بھی ہے، اونٹ عربوں کے لئے جہاں مفید اور نہایت کار آمد چیز ہے وہیں اس میں کچھ ایسی خصوصیات بھی قدرت نے ودیعت رکھ دی ہیں کہ دوسرے جانوروں میں نہیں پائی جاتیں، الو تو عرب میں سب سے بڑا جانور اونٹ ہی ہے اس لئے کہ ہاتھی عرب میں نہیں ہوتا اللہ تبارک و تععالیٰ نے اس عظیم الحبثہ جانور کو اس طرح بنایا ہے…
Read the full tafseer →افلا ینظرون . ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے جنت کی چیزوں کے
اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے اس بیان کی تکذیب کی تو اللہ نے آیت : افلا ینظرون نازل فرمائی۔
صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ آیت : سرر مرفوعۃ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ تختوں کی بلندی اتنی ‘ اتنی ہوگی اور اکواب موضوعۃ کی تشریح میں فرمایا کہ وہ بیشمار ہوں گے ‘ ان کی گنتی کوئی مخلوق نہ کرسکے گی اور تکیوں کا طول اور مسندوں کا عرض حضور ﷺ نے بیان فرمایا تو کافروں نے تکذیب کردی اور کہنے لگے : ان تختوں پر چڑھنا کس طرح ممکن ہوگا اور اتنی کثرت سے کوزے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) جب رسول اکرم نے لوگوں سے یہ چیزیں بیان کیں تو مکہ والے بولے کہ اپنی رسالت پر کوئی دلیل پیش کرو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکہ والو اونٹ کی ساخت اور اس کی شدت قوت کو نہیں دیکھتے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق پر کس طرح بلند کیا گیا اور پہاڑوں کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ کس طرح انہیں زمین پر قائم کیا گیا کہ کوئی چیز بھی انہیں حرکت نہیں دے سکتی اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پانی پر بچھائی گئی یہ سب نشانیاں ہیں۔
شان نزول : اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الخ)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے جنت کی نعمتوں کو بیان کیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) افلا ینظرون الی الابل …: قیامت اور قیامت کے دن جہنمیوں اور جنتیوں کا حال ذکر کرنے کے بعد ان چیزوں کو دیکھنے کی دعوت کا مقصد یہ ہے ہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں اور نہ کسی نے جنت یا جہنم میں جانا ہے تو ان چار چیزوں کو دیکھ لیں۔ اتنی عظیم الشان چیزیں پیدا کرنے والا پروردگار کیا ان لوگوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا ؟
(2) عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اورف طرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئیگی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا…
Read the full tafseer →افلاینظرون الی الابل کیف خلقت۔
مفسرین نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے جنت و دوزخ کے اہل کا ذکر کیا تو کفار اس پر متعجب ہوئے انہوں نے جھٹلایا اور انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی صنعت اور قدرت کا ذکر کیا اور یہ ذکر کیا کہ وہ ہر چیز پر قادر اس طرح ہے جس طرح اس نے حیوانات، آسمان اور زمین کو پیدا کیا پھر پہلے اونٹ کا ذکر کیا کیونکہ عربوں میں یہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور انہوں نے ہاتھیوں کو نہیں دیکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم مخلوق پر متنبہ کیا اللہ تعالیٰ اسے ایک چھوتے سے بچے کے لیے مسخر کردیا ہے جو اس کی مہار پکڑ لیتا ہے اور اسے بٹھاتا ہے اور اٹھاتا ہے وہ اس کے اوپر سامان لادتا ہے جب کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بیان فرمایا جو جنت میں ہیں تو اس سے گمراہ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ پھر کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں۔ اور اونٹ عرب لوگوں کے عیش میں سے عیش تھا اور ان کے مال و اسباب میں سے ایک مال تھا فرمایا۔ اور آیت والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کو کیسے بلند کیے گئے۔ آیت والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے کھڑے کیے گئے۔ کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف اپنے عام دنوں میں چڑھتے ہو۔ اور جب تو اس کی بلندی کی طرف…
Read the full tafseer →[اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ : تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کی طرف ][ كَيْفَ خُلِقَتْ : (کہ) کیسا اس کو بنایا گیا ]
ترکیب : (آیات۔ 17 ۔ تا 20 ۔ ) میں تمام افعال واحد مونث آئے ہیں۔ اس کی وجہ سمجھ لیں۔ اَلْاِبِلِ اسم جنس ہے جس میں تمام اونٹ اور اونٹنیاں شامل ہیں۔ اس طرح یہ اسم جمع کے حکم میں ہے جس کے لیے فعل واحد مذکر یا واحد مونث، دونوں میں سے کسی طرح لانا جائز ہوتا ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرمر، حصہ دوم، پیراگراف۔ 4:31) اَلسَّمَائِ اور اَلْاَرْضِ ، دونوں مؤنث سماعی ہیں، جبکہ اَلْجِبَالِ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اَلسَّمَائِ اور اَلْجِبَالِ پر لام جنس ہے جبکہ اَلْاَرْضِ پر لام تعریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ان آیات میں چار چیزوں کی طرف نظر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بلند کیے گئے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح کھڑے کیے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جنت کی نعمتوں کو بیان فرمایا تو اہل کفر کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے اس کو جھٹلا دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اولاً اونٹوں کا ذکر فرمایا، اہل عرب کے سامنے ہر وقت اونٹ رہتے تھے اس سے کام لیتے تھے اور باربرداری اور کھیتی کے کام میں لاتے تھے۔ اس سے بہت سے…
Read the full tafseer →8:۔ ” افلا ینظرون “ یہاں مذکورہ بالا چاروں امور کے لیے چار نمونے اور شواہد مذکور ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ مذکورہ بالا بیان پر مشرکین نے حیرت و تعجب کا اظہار کیا بلکہ ان چیزوں کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے ایسے نمونے بیان فرمائے جن کے انکار کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔ استیناف مسوق لتقریر ما فصل من حدیث الغاشیۃ وما ھو مبنی علیہ من البعث الذی ھم فیہ مختلفون بالاستشہاد علیہ بما لا یستطیعون انکارہ (ابو السعود ج 8 ص 552) ۔ عن قتادۃ لما نعت اللہ تعالیٰ ما فی الجنۃ عجب من ذلک اھل انصلالۃ فانزل اللہ سبحانہ وتعالیٰ افلا ینظرون الخ (روح ج 30 ص 115) ۔ ” افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
(گذشتہ پیوستہ)
اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔
(اونٹ اور اسکی خصوصیات )
عربوں کا اونٹوں کے…
Read the full tafseer →اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ 17 ۪
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب ¦ افلا ینظرون الاستفہام للتوبیخ والفاء للعطف علیٰ مقدر والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لاثبات البعث ولاظہار القدرۃ علی الاعادۃ وقیل الجملۃ فی محل جر علی انھا بدل اشتمال من الابل وعن الاصمعی انہ قال من قرء خلقت بالتخفیف عنٰی بہ البعیر ومن قرء بالتشدید عنٰی بہ السحاب ای بالابل وقال المبردالمراد من الابل ھھنا القطیعۃ العظیمۃ من السحاب والابل اسم جمع لا واحد لہ من لفظہ وانما واحدہ البعیر والناقۃ والجمل والسطح بسط الشیء قراء الجمہور مبنیاً للمفعول مخففًاوقرء الحسن مشددو قرء علی بن ابی طالب وغیرہ فی المواضع کلھا مبنیا للفاعل وضم التاء فیھا علی انھا صیغۃ الواحد المتکلم۔
تفسیر ¦ دوزخ کے عذاب اور جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ (الغاشیۃ : 17 تا 20)
(کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنائے گئے۔ اور آسمان کو نہیں دیکھتے کیسے اٹھایا گیا۔ اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ کیسے جمائے گئے۔ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی۔ )
قیامت پر سامنے کی چیزوں سے استدلال
قیامت کے ذکر کے ضمن میں پہلے اہل جہنم کا تذکرہ کیا گیا اور پھر اہل جنت کا۔ اور دونوں جس طرح جزاء و سزا سے گزریں گے اس کی منظرکشی کی گئی۔ ان باتوں کا تذکرہ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات نیک لوگوں کو اعلیٰ مقام پر فائز کرے گی اسی نے اونٹ کو عجیب الخلقت پیدا کیا اور آسمان کو بلندی پر ٹھہرایا اور پہاڑوں کو زمین پر نصب فرمایا۔
کیا لوگ اونٹ کی خلقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح زمین پر نصب کیے گئے ہیں ؟ اور زمین پر غور نہیں کرتے کہ اسے کس طرح بنایا اور بچھایا گیا ہے ؟ قرآن مجید نے زمین و آسمانوں کے بارے میں کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے زمین و آسمان اور پہاڑ اس کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ آسمان کے بارے میں ارشاد ہے کہ اسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا…
Read the full tafseer →کفار کے انکار کا جواب :
17 : اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے) جب جنت کی حالت کے متعلق آیات اتریں اور نبی اکرم ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان تختوں کی بلندی ایک ایک سو فرسخ ہوگی۔ رکھے ہوئے پیالوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ مخلوق کثرت کی وجہ سے ان کا حساب نہیں کرسکتی۔ اور تکیوں کی لمبائی اس قدر اور قالینوں کی چوڑائی اتنی ہوگی۔ کفار نے اس کا انکار کیا اور کہنے لگے ایسی چارپائی پر کس طرح چڑھ سکیں گے۔ اور پیالے لاتعداد کیسے ہوسکتے ہیں۔ تکیوں کی لمبائی اور قالینوں کا اس طرح بچھنا کیونکر ہوگا۔ ہم نے دنیا میں ایسا نہیں دیکھا۔ اس…
Read the full tafseer →17 ۔” افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت “ اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں وہ چیزیں بیان کیں جو جنت میں ہوں گی تو اہل کفر نے اس کو بڑا عجیب سمجھا اور اس کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی کاریگری بیان کی اور فرمایا ” افلا ینظرون الی الا بل کیف خلقت “ اور اونٹ عرب کے لئے زندگی گزارنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ ان کے لئے اس میں بہت سارے منافع تھے۔ پس جیسا کہ ان کے لئے دنیا میں یہ بنایا تو ایسے ہی اہل جنت کے لئے جنت میں یہ تمام چیزیں بنائیں۔
آیت میں اونٹوں کی خصوصیت کی وجوہ
حکماء رحمہم اللہ نے تمام حیوانوں میں اونٹ کی تخصیص کی وجہ میں کلام کی ہے۔ پس مقاتل (رح) فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اللہ تبارک وتعالی ان لوگوں کو جو رسول اللہ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں فرماتا ہے (اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ) کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے ؟ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بیشمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کردیا جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں
تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔
1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔
2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔
شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔
یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔
Read the full tafseer →(88:17) افلا ینظرون الی الابل : علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے جنت کے اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے اس کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے آیت افلا ینظرون نازل ہوئی۔
صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ آیت وسرر مرفوعۃ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ تختوں کی بلندی اتنی اتنی ہوگی۔ اور اکواب موضوعۃ کی تشریح میں فرمایا کہ وہ بیشمار ہوں گے ان کی گنتی مخلوق نہ کرسکے گی اور تکیوں کا طول اور مسندوں کا عرض حضور نے بیان فرمایا تو کافروں نے تکذیب کردی اور کہنے لگے کہ ان تختوں پر چڑھنا کیسے ممکن ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔
الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔
(ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ
قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو
خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(17) تو کیا لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح بنائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 2۔ تاکہ جہاں چاہیں آرام کرلیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی نہ پڑے۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ اونٹ پر نظر نہیں کرتے کہ وہ عجیب الخلقت پیدا کیا گیا
17 ؎ دین فطرت کو سمجھانے کے لیے کہاں سے مثال اٹھائی ہے اور کس رنگ میں اس کو پیش کیا ہے اور اس کو سمجھانے اور طریقہ اختیار کیا ہے جو بہت ہی مؤثر ہے اور پھر ایک گنوار آدمی سے لے کر ایک بڑے سے بڑے فلسفی تک سب کے سب اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں ۔ ذرا غور کرو کہ عرب کا ایک ریگستان ہے کہ جہاں تک نظر پڑتی ہے پھیلا ہوا ہے ایک طرف بڑے عظیم الشان خشک پہاڑوں کا سلسلہ ہے اور اس خشک اور ریتلی وادی میں ایک بدو کھڑا ہے جو اپنے اونٹ سے ابھی اترا ہے۔ وہ تمام دنیا سے منقطع ہے کوئی مخلوق چرند ، پرند انسان اور درخت اور سزہ اس کے سامنے نہیں ہے اور تن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
6 That is, filled goblets already supplied so that they do not have to ask for them.
Read the full tafseer →