Al-Ghaashiya 88:15

Al-Ghaashiya · from ayah 15

88:15

وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ ۟ۙوَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ

اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And cushions lined up

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:15

گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور قطار میں لگائے ہوئے گداز تکیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور غالیچے اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور قطاروں میں لگے ہوئے گاؤ تکیے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

گاؤ تکیے قطار میں لگے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور غالیچے ترتیب سے لگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عمدہ قسم کے گاؤ تکیے قطار اندر قطار لگے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور گدے ہیں برابر سے لگے ہوئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قالین بچھے ہوئے صف در صف۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور گاؤ تکیے لگے ہوئے

— محترمہ رفعت اعجاز

and cushions arrayed in rows,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and cushions, arrayed

— Muhammad Taqi Usmani

and cushions, arrayed

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Namariq, set in rows.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And cushions lined up

— Saheeh International

well-placed cushions,

— Muhammad Sarwar

And cushions set in a row,

— Muhammad Habib Shakir

And cushions ranged!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 88:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62؀) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–19

سورة الْغَاشِیَة 6 یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

بعض آداب معاشرت واکواب موضوعة اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبغورے، گلاس وغیرہ اس کی صفت میں لفظ موضوعہ یعنی اپنی مقررہ جگہ پر پانی کے قریب رکھے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرما کر آداب معاشرت کے ایک اہم باب کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ پانی پینے کے برتن پانی کے قریب مقررہ جگہ پر رہنے چاہئیں وہاں سے ادھر ادھر ہوجائیں اور پانی پینے کے وقت تلاش کرنا پڑے یہ ایذاو تکلیف کی چیز ہے اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام چاہئے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو سب گھر والوں کے کام میں آتی ہے جیسے لوٹے، گلاس، تولیہ وغیرہ ان کی جگہ مقرر رہنی چاہئے اور استعمال کرنے کے بعد اس کو وہیں رکھنا چاہئے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ‘۔ ’نَمَارِقُ‘ قالینوں اور غالیچوں کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ان کی ہر نشست گاہ میں قالین اور غالیچے ترتیب سے باہمدگر پیوستہ بچھے ہوں گے۔ کوئی جگہ خالی نہیں ہو گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرور ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ونمارق مصفوقة (15:88) ” گاﺅ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی “۔ یعنی وہ تکیے جو نرم مواد سے بھرے ہوں گے اور جنہیں انسان آرام اور خوشی کے وقت استعمال کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

آیت 1 1{ لَّا تَسْمَعُ فِیْہَا لَاغِیَۃً۔ } ”وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔“ وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کو فت ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–16

7 وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–16

4۔ غرض یہ کہ مادی سامان راحت ہر قسم کا اور انتہائی ترتیب وسلیقہ کے ساتھ چنا ہوا موجود ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–16

بعض آداب معاشرت : واکواب موضوعۃ، اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبخورے، گلاس وغیرہ، اکواب کی صفت موضوعہ بیان فرمائی ہے یعنی پانی کے قریب اپنی مقررہ جگہ پر رکھے ہوئے ہوں گے، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پانی پینے کا برتن پانی کے قریب ہی متعین جگہ پر ہونا چاہیے تاکہ وقت ضرورت ادھر ادھر تلاش کرنا نہ پڑے جو کہ باعث تکلیف ہوتا ہے، اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو تمام گھر والوں کے کام آتی ہیں جیسے لوٹا، گلاس، تولیہ، صابن، کنگھا، سرمہ وغیرہ انکی ایک جگہ مقرر ہو اور استعمال کرنے کے بعد اسی جگہ رکھ دیا جائے تاکہ کسی کو پریشانی نہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونمارق مصفوفۃ . اور پہلو بہ پہلو ترتیب وار چنے ہوئے تکیے کہ جنتی جہاں بیٹھنا چاہیں بیٹھ جائیں اور سہارا لگا لیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15۔ 16) اور برابر لگے ہوئے گدے اور تکیے ہیں اور جنتیوں کے لیے سب طرف قالین بچھے پڑے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–16

واکواب موضوعتہ :”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، وہ پیالے جن کی نہ دستی ہو نہ ٹونٹی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–16

فیھا عین جاریہ۔۔۔ تا۔۔۔ مبثوثہ۔ اس میں اچھلتے پانیوں والے جاری چشمے ہوں گے اور مختلف قسم کے لذیذ مشروبات ان کی زمین پر بغیر کسی کھائی کے جاری ہوں گے سورة الانسان میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے اس میں چشمے ہوں گے۔ عین، عیون کے معنی میں ہے واللہ اعلم۔ اس میں بلند پلنک ہوں گے روایت بیان کی گئی ہے اس کی بلندی اس قدر ہوگی جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ولی اپنے اردگرد اپنے ملک کو دیکھ سکے۔ اس میں لوٹے اور برتن ہوں گے ابریق اسے کہت ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے کو ب ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی سورة زخرف اور دوسری سورتوں میں یہ گزرچکا ہے۔ تکیے ہوں گے نمارق کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

30۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ونمارق سے مراد ہے گاؤ تکیے وزابی اور مخملی فرش یعنی بچھونے۔ 31۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ونمارق یعنی تکیے اور تکیے لگانے کی جگہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ0013﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ0014﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ0015﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

7:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۝ 15 ۙ نمارق : جمع نمرقة، اسم بمعنی وسادة، وزنه فعللة بضمّ الفاء واللام الأولی، وقد يکسران لغة، ووزن نمارق فعالل بفتح الفاء وکسر اللام الأولی.( الجدول في اعراب القرآن) صف الصَّفُّ : أن تجعل الشیء علی خط مستو، کالناس والأشجار ونحو ذلك، وقد يجعل فيما قاله أبو عبیدة بمعنی الصَّافِّ قال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا[ الصف/ 4] ، ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا [ طه/ 64] ، يحتمل أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الصَّافِّينَ ، وقال تعالی: وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ [ الصافات/ 165] ، وَالصَّافَّاتِ صَفًّا[ الصافات/ 1] ، يعني به الملائكة . وَجاءَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–16

؎ النمرق و النمرقۃ و سادۃ صغیرۃ والنمرقۃ بالکسرۃ لغتہ دربما سموا الطنفہ التی فوق الرجل نمرقنہ (مختار الصحاح)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–16

فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ۔ (الغاشیۃ : 12 تا 16) (اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے۔ اور گائو تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔ اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کی آرائش وزیبائش کی تصویر اہلِ جنت جس طرح کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوں گے اور جیسی لطف و لذت سے بھرپور نعمتوں سے محظوظ ہوں گے ان میں سے چند ایک کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی جو چیز بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک رواں چشمہ ہوگا، یعنی ایسا چشمہ جو ہر وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ (اور برابر لگے ہوئے گدے ہیں) نمارقؔ : تکیے۔ مصفوفۃؔ پہلو بہ پہلو ‘ ترتیب وار چنے ہوئے تکیے کہ جنتی جہاں بیٹھنا چاہیں ایک پر بیٹھ جائیں اور دوسرے سے سہارا لگالیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” ونمارق “ تکیے اور تکیے لگانے کی جگہیں۔ ” مصفوفۃ “ ایک دوسرے کے پہلو میں اس کا واحد ” نمرقۃ “ ہے نون کے ساتھ پیش کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ) یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کے بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف درصف بچھایا گیا ہوگا وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–17

(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–17

ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:15) ونمارق مصفوفۃ : اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ نمارق جمع نموقۃ واحد۔ بمعنی تکئے۔ گدے۔ سہارا لینے کے لئے تکئے ۔ گاؤ تکئے۔ مصفوفۃ : صف (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول واحد مؤنث۔ صفوں میں لگے ہوئے۔ قطار ددر قطار لگے ہوئے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–16

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–15

ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور غالیچے برابر برابر لگے ہوں گے 15 ؎ (نمارق) جمع ہے نمرقۃ کی جس کے معنی ہیں گائو تکیہ ، چھوٹا تکیہ ، زین اور پالان ۔ گدے اور سہارا لگانے کے لیے جو چارپائیوں اور تختوں کے اوپر پڑے ہوتے ہیں تاکہ لیٹنے والے اپنی مرضی کے ساتھ سروں کے نیچے رکھیں ، پڑھے والے اپنے بازوئوں سے سہارا لگائیں تاکہ انکے اسر اونچے رہیں اور نہایت آرام کے ساتھ بیٹھیں۔ ( مصفوفۃ) اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع اور مجرور صف مصدر ۔ قطاروں میں نہایت سلیقہ سے رکھے ہوئے جیسے باقاعدہ کوء چیز سلیقہ سے لگا کر رکھی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

Etiquette of Living وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ (and goblets, well placed...88:14) The word akwab is the plural of kub and it refers to a 'goblet', a 'glass' or a cup for drinking water. It has been qualified by the adjective maudu’ ah and it means 'well placed'. This signifies that the glasses or cups or containers will be set in their due places close to water. This description opens an important chapter in setting down some of the rules of correct behaviour in social situations. The drinking containers for water ought to be placed near the water in the designated place. They should not be…

Read the full tafseer →