وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ ۟ۙوَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And cups put in place
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ ۟ۙوَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And cups put in place
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
ساغر رکھے ہوئے ہوں گے
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
اور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے)
اور سامنے رکھے ہوئے پیالے۔
اور چنے ہوئے کوزے
اور جام (بڑے قرینے سے) رکھے ہوئے ہوں گے،
اور رکھے ہوئے آبخورے ہیں۔
اور ساغر (قرینے سے) رکھے ہوئے ہوں گے
بچھے آ نجورے قرینے سے دھرے
قسما قسم کے ساغر دھرے ہوں گے
اور آبخورے ہیں سامنے چنے ہوئے
اور جام قرینے سے رکھے ہوئے۔
) اور آبخورے قرینے سے رکھے ہوئے۔
and goblets laid out,
and goblets, well placed,
and goblets, well placed,
And cups set at hand.
And goblets set at hand
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And cups put in place
well arranged goblets,
And drinking-cups ready placed,
And goblets ready placed!
Goblets placed (ready),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–16
ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
سورة الْغَاشِیَة 6 یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ اس کی حاجت ہی نہ ہوگی کہ وہ طلب کر کے انہیں منگوائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
بعض آداب معاشرت واکواب موضوعة اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبغورے، گلاس وغیرہ اس کی صفت میں لفظ موضوعہ یعنی اپنی مقررہ جگہ پر پانی کے قریب رکھے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرما کر آداب معاشرت کے ایک اہم باب کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ پانی پینے کے برتن پانی کے قریب مقررہ جگہ پر رہنے چاہئیں وہاں سے ادھر ادھر ہوجائیں اور پانی پینے کے وقت تلاش کرنا پڑے یہ ایذاو تکلیف کی چیز ہے اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام چاہئے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو سب گھر والوں کے کام میں آتی ہے جیسے لوٹے، گلاس، تولیہ وغیرہ ان کی جگہ مقرر رہنی چاہئے اور استعمال کرنے کے بعد اس کو وہیں رکھنا چاہئے تاکہ…
Read the full tafseer →’وَاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ‘۔ ’اَکْوَابٌ‘ جمع ہے ’کَوْبٌ‘ کی۔ ’کَوْبٌ‘ اور ’کپ‘ (cup) ایک ہی چیز ہے۔ یہ پیالے، آب خورے، جام سب کے لیے آتا ہے۔ ’مَّوْضُوْعَۃٌ‘ کے معنی ہیں قرینہ سے رکھے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →واکواب موضوعة (14:88) ” ساغررکھے ہوئے ہوں گے “۔ یہ لائن پر رکھے ہوں گے تاکہ ان میں شراب صافی نوش کی جائے اور اہل جنت کو طلب کی ضرورت نہ ہوگی ، ہر چیز ان کے لئے تیار ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
5 کہ جب پینے کو جی چاہے دیر نہ لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
آیت 1 1{ لَّا تَسْمَعُ فِیْہَا لَاغِیَۃً۔ } ”وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔“ وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کو فت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
7 وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
4۔ غرض یہ کہ مادی سامان راحت ہر قسم کا اور انتہائی ترتیب وسلیقہ کے ساتھ چنا ہوا موجود ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
بعض آداب معاشرت : واکواب موضوعۃ، اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبخورے، گلاس وغیرہ، اکواب کی صفت موضوعہ بیان فرمائی ہے یعنی پانی کے قریب اپنی مقررہ جگہ پر رکھے ہوئے ہوں گے، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پانی پینے کا برتن پانی کے قریب ہی متعین جگہ پر ہونا چاہیے تاکہ وقت ضرورت ادھر ادھر تلاش کرنا نہ پڑے جو کہ باعث تکلیف ہوتا ہے، اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو تمام گھر والوں کے کام آتی ہیں جیسے لوٹا، گلاس، تولیہ، صابن، کنگھا، سرمہ وغیرہ انکی ایک جگہ مقرر ہو اور استعمال کرنے کے بعد اسی جگہ رکھ دیا جائے تاکہ کسی کو پریشانی نہ ہو۔…
Read the full tafseer →واکواب . اور کوزے اکواب ‘ کو ب کی جمع ہے۔ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ کو بٌ وہ کوزہ ہے جس میں قبضہ نہ ہو (آبخورہ یا گلاس) ۔ موضوعۃ . چشموں کے کناروں پر پانی پینے کے لیے رکھے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12۔ 14) اور ان کے لیے خیر و برکت اور رحمت کے چشمے ہوں گے اور جنت کی فضا میں تخت بچھے ہوں گے یا یہ کہ اونچے اونچے اور ان کے مقامات میں کھلے ہوئے آبخورے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
واکواب موضوعتہ :”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، وہ پیالے جن کی نہ دستی ہو نہ ٹونٹی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فیھا عین جاریہ۔۔۔ تا۔۔۔ مبثوثہ۔ اس میں اچھلتے پانیوں والے جاری چشمے ہوں گے اور مختلف قسم کے لذیذ مشروبات ان کی زمین پر بغیر کسی کھائی کے جاری ہوں گے سورة الانسان میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے اس میں چشمے ہوں گے۔ عین، عیون کے معنی میں ہے واللہ اعلم۔ اس میں بلند پلنک ہوں گے روایت بیان کی گئی ہے اس کی بلندی اس قدر ہوگی جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ولی اپنے اردگرد اپنے ملک کو دیکھ سکے۔ اس میں لوٹے اور برتن ہوں گے ابریق اسے کہت ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے کو ب ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی سورة زخرف اور دوسری سورتوں میں یہ گزرچکا ہے۔ تکیے ہوں گے نمارق کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
29۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیہا سرر مرفوعۃ اس میں اونچے تخت ہوں گے یعنی اونچے اونچے پلنگ ہوں گے۔
Read the full tafseer →[وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ: اور چنے ہوئے جام ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ0013﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ0014﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ0015﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
7:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ 14 ۙ كوب الْكَوْبُ : قدح لا عروة له، وجمعه أَكْوَابٌ. قال : بِأَكْوابٍ وَأَبارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ [ الواقعة/ 18] . والْكُوبَةُ : الطّبل الّذي يُلْعَبُ به . ( ک و ب ) الکوب ۔ پیالہ جس کا دستہ نہ ہو ۔ اس کی جمع اکواب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بِأَكْوابٍ وَأَبارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ [ الواقعة/ 18] یعنی آبخور اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس ۔ الکوبۃ ( ڈکڑگی ) یعنی باریک میاں طبلکجو تماشہ کے وقت مداری بجاتے ہیں ۔ وضع الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل والحمل، ويقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1 ؎ وما احسن قول بعض الصوفیۃ المعنی الجاریۃ لمن عینہ فی خشیۃ اللہ جاریۃ ھل جزاء الاحسان الا احسان۔ شہاب
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ۔ (الغاشیۃ : 12 تا 16) (اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے۔ اور گائو تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔ اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کی آرائش وزیبائش کی تصویر اہلِ جنت جس طرح کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوں گے اور جیسی لطف و لذت سے بھرپور نعمتوں سے محظوظ ہوں گے ان میں سے چند ایک کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی جو چیز بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک رواں چشمہ ہوگا، یعنی ایسا چشمہ جو ہر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…
Read the full tafseer →14 : وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ (اور رکھے ہوئے آبخورے ہیں) وَّاَکْوَابٌ جمع کو ب۔ پیالے۔ ایک قول : وہ برتن جس کا دستہ نہ ہو۔ مَّوْضُوْعَۃٌ سامنے رکھے ہوئے۔ تاکہ دیکھ کر ان سے لذت اندوز ہوں۔ نمبر 2۔ چشموں کے کناروں پر پانی کیلئے رکھے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →14 ۔” واکواب موضوعۃ “ ان کے پاس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…
Read the full tafseer →(وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ) یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھ ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے۔ اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔
Read the full tafseer →(88:14) واکواب موضوعۃ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور آنجورے (قرینے سے) رکھے ہوئے۔ اکواب جمع کو ب کی جس کے معنی اس پیالہ کے ہیں جس کا دستہ (کنڈا) نہ ہو۔ موضوعۃ : وضع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ (قرینہ سے) رکھے ہوئے۔ اور (اس میں قرینے سے) رکھے ہوئے آنجورے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(14) اور آپ خورے رکھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔
Read the full tafseer →اور آب خورے قرینے سے رکھے ہوں گے 14 ؎ ( اکواب) آب خورے ، کو زے ، پیالے یہ کو ب کی جمع ہے جس کے معنی لوٹے اور پیالے کے ہیں ۔ ( موضوعۃ) اسم مفعول واحد مونث وضع مصدر باب فتح رکھی ہوئی ۔ یعنی جنت کے چشموں پر پینے کے پیالے جو خوبصورت طریقہ کے ساتھ رکھے ہوں گے یعنی بکھرے نہیں پڑے ہوں گے بلکہ نہایت سلیقے سے رکھے ہوں گے جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ یہ سب کچھ کسی نے سجایا ہے اور کسی کے لیے سجایا گیا ہے ۔ جس نے سجایا ہے وہ خوب سجایا ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات ہے جس کے حکم سے یہ سب کچھ سجایا اور بنایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
Etiquette of Living وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ (and goblets, well placed...88:14) The word akwab is the plural of kub and it refers to a 'goblet', a 'glass' or a cup for drinking water. It has been qualified by the adjective maudu’ ah and it means 'well placed'. This signifies that the glasses or cups or containers will be set in their due places close to water. This description opens an important chapter in setting down some of the rules of correct behaviour in social situations. The drinking containers for water ought to be placed near the water in the designated place. They should not be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
6 That is, filled goblets already supplied so that they do not have to ask for them.
Read the full tafseer →