Al-Ghaashiya 88:13

Al-Ghaashiya · from ayah 13

88:13

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ ۟ۙفِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Within it are couches raised high

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:13

اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس میں اونچی اونچی نشستیں ہوں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس میں بلند تخت ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس میں اونچے (بچھے ہوئے) تخت ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس میں اونچے اونچے تخت ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس میں اونچے رکھے ہوئے تخت ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں تخت ہوں گے اونچے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اونچی اونچی مسندیں سجی ہوں گی

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں اونچے اونچے تخت بھی (بچھے ہوئے) ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس میں اونچے اونچے تخت ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں اونچے بچھے ہوئے تخت ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

In it there are elevated couches

— Muhammad Taqi Usmani

In it there are elevated couches

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therein will be thrones raised high.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Within it are couches raised high

— Saheeh International

raised couches,

— Muhammad Sarwar

Therein are thrones raised high,

— Muhammad Habib Shakir

Therein shall be couches elevated!

— Abdul Majid Daryabadi

Therein will be Thrones (of dignity), raised on high,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62؀) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الْغَاشِیَة 5 یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن مجید میں جگہ جگہ جنت کی نعمتوں سے ایک بڑی نعمت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم، حاشیہ 38۔ جلد پنجم، الطور، حاشیہ 18۔ الواقعہ حاشیہ 13۔ جلد ششم، البناء، حاشیہ 21)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

لاتسمع فیھا لاغیة، یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ایسی بات اہل جنت کے کان میں نہ پڑیگی جو لغو و بیہودہ اور دلخراش ہو۔ اس میں کلمات کفر یہ باطلہ بھی آگئے اور گالی گلوچ، افتراء و بہتوان الزام لگانا اور ایسے سب کلام آگئے جن کو سن کر انسان کو ایذا پہنچتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اسی کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیماً یعنی اہل جنت جنت میں کوئی لغوبات یا الزام لگانے کی بات نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ بھی کئی جگہ یہ مضمون قرآن کریم میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الزام تراشی اور بےتکی بےڈھنگی باتیں بڑی ایذا کی چیز ہے اسی لئے قرآن کریم نے اہل جنت کے حالات میں اہتمام سے اس کو بیان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جنت کا سامان آرائش: یہ اس سامان آرائش و زیبائش کا ذکر ہے جو اہل جنت کی آسائش کے لیے موجود ہو گا۔ اس کی تفصیلات بھی مختلف سورتوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ اختلاف زیادہ تر تو اجمال و تفصیل کی نوعیت کا ہے لیکن بعض مقامات میں وہ تفاوت بھی ملحوظ ہے جو اہل جنت کے درجات و مراتب میں ہو گا۔ نیز ان کو پڑھتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ یہ چیزیں تمثیل کی صورت میں بیان ہوئی ہیں۔ عالم غیب کی نادیدہ حقیقتیں تمثیل ہی کے پیرائے میں بیان ہو سکتی ہیں اور ان کے لیے الفاظ اسی زبان اور اسی تہذیب و تمدن سے مستعار لینے پڑتے ہیں جس سے مخاطب فی الجملہ آشنا ہوں۔ ’سُرُرٌ مَّرْفُوعَۃٌ‘۔ ان کے بیٹھنے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–14

یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فیھا ........................ مرفوعة (13:88) ” اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی “۔ بلندی نظافت اور طہارت دونوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

آیت 1 1{ لَّا تَسْمَعُ فِیْہَا لَاغِیَۃً۔ } ”وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔“ وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کو فت ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–16

7 وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–16

4۔ غرض یہ کہ مادی سامان راحت ہر قسم کا اور انتہائی ترتیب وسلیقہ کے ساتھ چنا ہوا موجود ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–13

لاتسمع فیھا لاغیۃ یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ان کے کانوں میں نہ پڑے گا جو لغو اور بےہودہ اور دلخراش، تکلیف دہ ہو اس میں کلمات کفریہ اور گالی گلوچ اور افتراء و بہتان سب داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیھا سرر مرفوعۃ . جنت میں اونچے اور عالی مرتبہ تخت ہیں۔ بیہقی نے بسند ابوطلحہ آیت : سرر مصفوفۃ کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول اور احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوسعید خدری آیت : و فرش مرفوعۃ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ دونوں فرشتوں کے درمیان اتنا فرق ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی کی نقل کردہ حدیث میں ہے کہ ان کی بلندی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگی ‘ جیسی آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض اہل علم نے اس کی تشریح میں کہا کہ بستروں کا باہمی درجاتی فاصلہ اتنا ہوگا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اور ان کے لیے خیر و برکت اور رحمت کے چشمے ہوں گے اور جنت کی فضا میں تخت بچھے ہوں گے یا یہ کہ اونچے اونچے اور ان کے مقامات میں کھلے ہوئے آبخورے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–16

فیھا عین جاریہ۔۔۔ تا۔۔۔ مبثوثہ۔ اس میں اچھلتے پانیوں والے جاری چشمے ہوں گے اور مختلف قسم کے لذیذ مشروبات ان کی زمین پر بغیر کسی کھائی کے جاری ہوں گے سورة الانسان میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے اس میں چشمے ہوں گے۔ عین، عیون کے معنی میں ہے واللہ اعلم۔ اس میں بلند پلنک ہوں گے روایت بیان کی گئی ہے اس کی بلندی اس قدر ہوگی جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ولی اپنے اردگرد اپنے ملک کو دیکھ سکے۔ اس میں لوٹے اور برتن ہوں گے ابریق اسے کہت ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے کو ب ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی سورة زخرف اور دوسری سورتوں میں یہ گزرچکا ہے۔ تکیے ہوں گے نمارق کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

29۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیہا سرر مرفوعۃ اس میں اونچے تخت ہوں گے یعنی اونچے اونچے پلنگ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ0013﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ0014﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ0015﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

7:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْہَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۝ 13 ۙ سَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» «1» . السریر ( تخت ) وہ جس کی ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–14

1 ؎ وما احسن قول بعض الصوفیۃ المعنی الجاریۃ لمن عینہ فی خشیۃ اللہ جاریۃ ھل جزاء الاحسان الا احسان۔ شہاب

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–16

فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَـۃٌ۔ (الغاشیۃ : 12 تا 16) (اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے۔ اور گائو تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔ اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کی آرائش وزیبائش کی تصویر اہلِ جنت جس طرح کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوں گے اور جیسی لطف و لذت سے بھرپور نعمتوں سے محظوظ ہوں گے ان میں سے چند ایک کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی جو چیز بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک رواں چشمہ ہوگا، یعنی ایسا چشمہ جو ہر وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ (اس میں اونچے اونچے تخت ہونگے) سُرُرٌ جمع سَرِیْر۔ تختہ ‘ چارپائی۔ مرفوعۃ ؔ مقدار کی بلندی یا تاکہ ہر مومن اس پر بیٹھ کر اپنی بادشاہت اور نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دی ہیں وہ دیکھ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔ فیھا سرر مرفوعۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے تختے سونے کے ہوں گے زمرد، موتیوں اور یاقوت سے مزین کیے گئے ہوں گے، بلندہوں گے جب تک اس کے اہل نہ آئیں گے۔ پس جب وہ ان پر بیٹھنے کا ارادہ کریں گے تو وہ نیچے آجائیں گے حتیٰ کہ وہ اس پر بیٹھ جائیں گے تو وہ اپنی جگہوں پر بلند ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ) السرر۔ سریر کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–17

(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–17

ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:13) فیہا سرر مرفوعۃ : یہ جملہ بھی جنت کی صفت ہے۔ سرر جمع ہے سریر کی۔ السریر (تخت) وہ کہ جس پر ٹھاٹھ سے بیٹھا جاتا ہے۔ یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں۔ مرفوعۃ : رفع (باب فتح) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے بلند۔ اوپر اٹھائی ہوئی۔ اور اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–16

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–15

ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں اونچے اونچے تخت بچھے ہوں گے 13 ؎ ( سرر) کے معنی تخت کے ہیں جو سریر کی جمع ہے۔ سریر کیا ہے ؟ امام راغب کہتے ہیں کہ وہ ہے جس پر سرور سے بیٹھا جائے کیونکہ یہ ارباب نعمت ہی کے پاس ہوتا ہے اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے۔ تخت بھی ہوں اور بجھے ہوئے بھی ہوں اور پھر اونچی جگہ پر بھی بچھائے گئے ہوں تو کیا ہی ان کی شان ہوگی اور کتنا عزت افزائی کا نظارہ ہوگا اور کیا ہی خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جن کو یہ نظارہ میسر ہوگا کہ دیکھنے والے دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً (in which they will not hear any absurd talk...88:11). It includes the words of disbelief, futile or idle talk, obscene language, calumny or false accusation, or any other talk that hurts people's feelings. On another occasion, the Qur'an puts it thus: لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا 'They will hear neither an absurd talk therein, nor something leading to sin, [ 56:25] This shows that false accusation and absurd talks are hurtful. That is why the Holy Qur'an has described it as a blessing to the inmates of Paradise that no such foolish words…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

5 This thing has been mentioned at several places in the Qur'an as a major blessing of Paradise. (For explanation, see E.N. 38 of Maryam, E.N. 18 of At-Tur, E.N. 13 of Al-Wiiqi`ah, E.N. 21 of An-Naba) .

Read the full tafseer →