Explained with ayahs 1–10
تخلیق انسان
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة الطَّارِق 1
نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے۔ (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہوتا بلکہ تاروں کی جنس ہے)۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
قسم ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کو نمودار ہونے والی ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے وہ رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے وہ روشن ستارہ ہے (کوئی ستارہ ہو کقولہ تعالیٰ والنجم اذا ھوی آگے جو اب قسم ہے کہ) کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس پر کوئی اعمال کا یاد رکھنے والا (فرشتہ) مقرر نہ ہو (کقولہ تعالیٰ و ان علیکم لحفظین کراماً کتبین یعلمون ماتفعلون، مطلب یہ کہ ان اعمال پر محاسبہ ہونے والا ہے اور اس قسم کو مقصود سے مناسبت یہ ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا خاص شب میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اعمال سب نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہوگا جب یہ…
Read the full tafseer →’وَمَآ اَدْرٰکَ‘ کا سوال اس شہادت کی عظمت و اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس شہادت کو معمولی شہادت نہ گمان کرے۔ یہ بہت بڑی شہادت ہے بشرطیکہ غور کرنے والے اس پر غور کریں اور سمجھیں، اس کو مذاق بنانے کی کوشش نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 طارق سے مراد ؟ خود قرآن نے واضح کردیا۔ روشن ستارہ طارق ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: طارق سے مراد چمکتا ہوا ستارا ہے، کیونکہ وہ رات ہی کہ وقت نظر آتا ہے، اس کی قسم کھاکر فرمایا گیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگران مقرر نہ ہو، ستارے کی قسم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان پر دنیا کی ہر جگہ نظر آتے ہیں، اور دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ خود بھی ہر انسان کے ہر قول وفعل کی نگرانی فرماتا ہے اور اسکے فرشتے بھی اس کام پر مقرر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وما ادرک ................ الطارق (2:86) ” تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا (طارق) کیا ہے ؟ “۔ گویا وہ ایک ایسی چیز ہے کہ انسان ادرک سے ماوراء ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید خود اس کی تعریف اور وضاحت کرتا ہے کہ وہ النجم الثاقب (3:86) ” چمکتا ہوا تارا “ ہے اسے ثاقب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شعاعوں کے ذریعہ تاریکیوں کو پھاڑ کر اپنی روشنی زمین پر پھینکتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے ہر ستارہ نجم ثاقب ہے۔ اس آیت سے ہم معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ ستارہ کون سا ہے اور نہ اس تعین کی چنداں ضرورت ہے بلکہ اس سے مطلق ستارہ مراد لینا ہی بہتر ہے۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا ” قسم ہے آسمان کی اور اس کے اندر موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 یعنی فرشتے رہتے ہیں آدمی کے ساتھ۔ بلاؤں سے بچاتے ہیں یا اس کے عمل لکھتے ہیں (موضح القرآن) اور قسم میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جس نے آسمان پر ستاروں کی حفاظت کے ایسے سامان کئے ہیں، اس کو زمین پر تمہاری یا تمہارے اعمال کی حفاظت کرنا کیا دشوار ہے۔ نیز جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور خاص شب میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی سب اعمال نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں، مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہوگا۔ جب یہ بات ہے تو انسان کو قیامت کی فکر چاہیے۔ اور اگر اس کو مستبعد سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ۔ } ”کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔“
سورة الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ - کِرَامًا کَاتِبِیْنَ - یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ بڑے باعزت لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو“۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورة الانعام کی اس آیت میں بھی ہے : { وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط } آیت 61 ”اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے“۔ ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 الطارق : طریق کا معنی راستہ اور طارق بمعنی راستہ پر چلنے والا۔ مگر عرف عام میں طارق بالخصوص اس مسافر کو کہتے ہیں جو صرف رات کو آئے۔ اور ستارے کو طارق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ رات کو ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی صراحت فرما دی کہ یہاں طارق سے مراد عام ستارے بھی نہیں بلکہ شہاب ثاقب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ (اور اعمال پر محاسبہ یقینی ہے) مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے موجود تو ہر وقت ہیں مگر ان کا ظہور شب ہی میں ہوتا ہے، اسی طرح اعمال سب کے سب نامہ اعمال میں محفوظ اس وقت بھی ہیں، مگر اس کا ظہور قیامت میں ہوگا (تھانوی (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کو نمودار ہونے والی ہے طارق اصل میں رات میں ہر آنے والے کو کہتے ہیں اور اسی میں ستارے ہیں اس لئے کہ یہ بھی رات ہی کو طلوع ہوتے ہیں، اور آپ ﷺ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ رات کو نمودار ہونے والیچیز کیا ہے ؟ (ما الطارق) مبتداء اور خبر ہیں جو کہ ادری کے مفعول ثانی کے محل میں ہے اور پہلے ما کا مابعد اس کی خبر ہے اور اس میں طارق کی شان کی تعظیم ہے جس کی مابعد کے ذریعہ تفسیر کی گئی ہے (اور طارق) روشن ثریا یا ہر روشن ستارہ ہے جو اپنی روشنی کے ذریعہ تاریکی کو پھاڑنے کی وجہ سے ثاقب کہلاتا ہے اور جواب…
Read the full tafseer →وما ادراک ما الطارق . تارے ٹوٹنے کے فوائد چند درچند ہیں۔ شیطانوں کو مار کر نکالنا۔ آسمان کی سجاوٹ
(نشان قدرت دکھا کر) بندوں کو ڈرانا وغیرہ۔ پس ممکن ہے کہ اسی امر کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے استفہام کا استعمال کیا گیا ہو (اور اگر استفہام کو تعظیم کے لیے نہ قرار دیا جائے تو بہرحال کلام مجمل ہوگا ‘ جس کی تشریح آئندہ آیت میں ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کچھ علم ہے کہ طارق کیا چیز ہے، وہ روشن ستارہ ہے یعنی زحل ہے کہ رات کو نکلتا ہے اور دن کو غائب ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ایسا ہیں خواہ نیک ہو یا گنہگار جس پر کوئی اس کے اعمال کا یاد رکھنے والا فرشتہ مقرر نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
4(1) والسمآء و الطارق…:”طرق یطرق“ (ن) کا اصل معنی زور سے مارنا ہے جس سے آواز پیدا ہو۔ ”مطرفۃ“ (ہتھوڑا) اور ”طریق“ (راستہ) اسی سے مشتق ہیں، کیونکہ راستے پر چلنے والوں کے قدم زور سے پڑتے ہیں تو آواز دیتے ہیں۔ ”الطارق“ رات کو آنے والے کو کہتے ہیں، کیونکہ عام طور پر اسے دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔”النجم الثاقب“ میں الف لام جنس کے لئے ہے، اس لئے اگرچہ لفظ واحد ہے مگر اس میں تمام ستارے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ شیطانوں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ (دیکھییص افات : 6، 7) ”ان“ نی کے معنی میں ہے اور ”لما“ بمعنی ”الا“ ہے۔
(2) قسم کسی بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
والسماء والطارق۔۔۔ تا۔۔۔۔ الثاقب۔
یہاں دو قسمیں ہیں السماء ایک قسم ہے اور الطارق دوسری قسم ہے الطارق سے مراد ستارہ ہے اللہ تعالیٰ نے وما ادراک ما الطارق، النجم الثاقب۔ میں اس کی وضاحت کی، اس میں اختلاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ زحل ستارہ ہے یہ ایسا ستارہ ہے جو ساتویں آسمان میں ہوتا ہے، اس کا ذکر محمد بن حسن، نے اپنی تفسیر میں کیا ہے اور اس کے بارے میں کئی روایات ذکر کیں، اللہ تعالیٰ ہی اس کی صحت کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔ ابن زید نے کہا، اس سے مراد ثریا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد زحل ہے، یہ فراء کا قول ہے حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد جدی ہے، حضرت ابن عباس، حضرت علی شیر خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والسماء طارق مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ احمد والبخاری فی التاریخ وابن مردویہ والطبرانی نے خالد العدوانی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثقیف کے بازار میں دیکھا اور آپ کھڑے ہوئے تھے کمان پر یا لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ ان سے مدد طلب فرما رہے تھے پس اس نے آپ کو والسماء والطارق پڑھتے ہوئے سنا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کو ختم فرمایا۔ راوی نے کہا کہ میں نے اس سورة کو زمانہ جاہلیت میں یاد کرلیا تھا پھر میں نے زنانہ اسلام میں یہ سورة پڑھی۔
3۔ النسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ معاذ ؓ نے مغرب کی نماز پڑھائی…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور کیا سمجھا تو نے ][ مَا الطَّارِقُ : کیا ہے رات میں آنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ نے آسمان کی اور چمکتے ہوئے ستارہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ دنیا میں جو لوگ بھی رہتے اور بستے ہیں ان کے اعمال کی نگرانی کے لیے ہم نے فرشتے لگا رکھے ہیں ہر جان کے ساتھ فرشتہ لگا ہوا ہے۔ یہ فرشتے انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں اور اعمالنامہ کو محفوظ کرلیتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ اعمال نامے انسانوں کے سامنے آجائیں گے۔ یہ حافظ ( کی ایک تفسیر ہے جو آیت کریمہ ﴿ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010﴾ کے مطابق ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جس کا سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” والسماء “ یہ تخویف اخروی پر شاہد ہے۔ یعنی آسمان پر رات کو چمکنے والا ستارہ شاہد ہے کہ جس طرح وہ ستارہ روشن اور قائم رہتا ہے اسی طرح تم میں سے ہر ایک پر فرشتے نگران مقرر ہیں جو اس کے تمام اعمال خیر و شرکو لکھتے رہتے ہیں۔ ” ان کل نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ ھو من یحفظ عملہا من الملائکۃ (علیہم السلام) و یحصی علیہا ما تکسب من خیر او شر الخ “ (روح ج 30 ص 96) ۔ ” النجم الثاقب “ چمکتا ستارہ سے روشن ستارہ مراد ہے جو نمایاں طور پر دوسرے ستاروں کی نسبت زیادہ روشن ہو یا مراد ثریا ہو یا زحل (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں…
Read the full tafseer →وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ 2 ۙ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَاالطَّارِقُ ۔ النَّجْمُ الثَّاقِبُ ۔ (الطارق : 1 تا 3)
(قسم ہے آسمان کی اور رات میں نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے۔ چمکتا ہوا ستارہ۔ )
آسمان اور ستاروں کی قسم
جس طرح گزشتہ سورة میں برجوں والے آسمان کی قسم کھائی تھی اسی طرح اس سورة میں چمکتے اور دمکتے ہوئے ستاروں کی قسم کھائی گئی ہے۔ اور ہم اس کی ایک سے زیادہ مرتبہ وضاحت کرچکے ہیں کہ قسم مقسم علیہ کے لیے شہادت اور دلیل ہوتی ہے۔ البتہ قرآن کریم کا اسلوب ہمارے اسلوب سے جدا ہے کہ ہم دعویٰ پہلے کرتے ہیں اور اس کے ثبوت کے لیے شہادت یا دلیل بعد میں پیش کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : البروج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ ” اللہ “ کے ارشادات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں وہ انہیں ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہے۔ الطّارق میں نجم ثاقب کی قسم اٹھا کر بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس پر نگران مقرر کر رکھے ہیں اور جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جس رب نے انسان کو عدم سے وجود بخشا ہے وہی رب قیامت کے دن انسان کو دوبارہ عدم سے وجود میں لائے گا۔
آسمان اور رات کے وقت نمودار ہونے والے ستارے کی قسم ! آپ کیا جانیں کہ رات کے وقت طلوع ہونے والا کیا ہے ؟ وہ ایک چمکنے والا ستارہ ہے۔ اہل علم نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →2 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاالطَّارِقُ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے وہ رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے ؟ )
Read the full tafseer →2 ۔” وما ادراک مالطارق “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ ) آسمان اور طارق کی قسم ! پھر (الطارق) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا (النَّجْمُ الثَّاقِبُ ) یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کردیتی ہے آر پار چھید بن جاتا ہے حتی کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ) مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زحل ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کردیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو (الطارق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کا ارشاد (اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِـظٌ) ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) طارق کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ " طارق " اصل میں بنا ہے " طرق " سے، جس کے معنی کوٹنے پیٹنے اور مارنے بجانے کے آتے ہیں، اسی لیے ہتھوڑے کو " مطرقہ " کہا جاتا ہے۔ یعنی کوٹنے پیٹنے کا آلہ، اور اسی لیے راستے کو " طریق " کہا جاتا ہے کہ سب لوگ اس کو لتاڑتے اور اس پر چلتے گزرتے ہیں، اور اسی لیے رات کو آنے والے مہمان کو بھی " طارق " کہا جاتا ہے کہ اس کو بھی بند دروازہ کھلوانے کے لیے پیٹنے کوٹنے اور دستک دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر اس میں توسیع سے کام لے کر کے اس کا اطلاق چاند پر بھی کردیا جاتا ہے کہ وہ بھی رات کو ہی آتا ہے، پھر اس میں مزید توسیع سے کام لے کر ہر آنے والے اور مہمان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔
آیات 1 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10 مراد ہر چمکدار تارا ہے۔
Read the full tafseer →(86:2) وما ادراک ما الطارق : ما استفہامیہ ، کون۔ کیا چیز، ادراک ماضی واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تمہیں کیا چیز بتائے۔ تمہیں کون بتائے۔ تمہیں کون واقف کرے۔ خبردار کرے۔ تمہیں کیا خبر ؟ تمہیں کیا معلوم ؟ کہ رات کو نمودار ہونے والا ستارہ کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔
الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) شان نزول :
ایک شب نبی ﷺ کی خدمت مین ابوطالب کچھ ہدیہ لائے، حضور ﷺ اس کو تناول فرما رہے تھے اس درمیان میں ایک تاراٹوٹا اور تمام فضا آگ سے بھرگئی، ابوطالب گھبرا کر کہنے لگے، یہ کیا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا یہ ستارہ ہے جس سے شیاطین کو مارا جاتا ہے اور یہ قدرت الٰہی کی نشانیوں میں سے ہے، ابوطالب کو اس سے تعجب ہوا اور یہ سورت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے انسان تو کیا جانے کہ اس تارے کی کیا کیفیت ہے وہ ایسا تارا ہے کہ شیطان کی آنکھوں میں اس تارے سے چکاچوندی ہوجاتی ہے بعض اوقات اس تارے میں ایک شعلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ شیاطین کو جلادتیا ہے اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر شخص کے لیے اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یہاں مراد صرف ایک تارا نہیں بلکہ تاروں کی جنس ہے جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ 16) 16 ۔ النحل :16) آیت 16 صفحہ 602 (اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں) ۔
Read the full tafseer →(2) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم کہ وہ رات میں ظاہر ہونے والی کیا چیز ہے۔
Read the full tafseer →آپ کو کیا معلوم کہ یہ صبح کا ستارہ کیا ہے ؟
2 ؎ جب صبح طلوع ہونے کی ہوتی ہے اس وقت ایک ستارہ خوب چمک رہا ہوتا ہے اور دیر تک وہ دکھائی دیتا رہتا ہے اس لیے اس کو (الطارق) کہا گیا ہے۔ (وما ادراک) کا سوال ہر جگہ قرآن کریم میں اس شہادت کی عظمت کو بڑھانے کے لیے اور اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس طرح کا سوال 13 جگہ اٹھایا گیا ہے اور ہر جگہ اس کا اصل مدعا یہی ہے تاکہ مخاطب لوگ اس بات کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں اور اس کو مذاق بنانے کی کوشش نہ کریں ورنہ وہ خود مذاق ہو کر رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
After swearing an oath by the sky and stars, in this Surah, Allah asserts that He has assigned a guardian angel to every human being who watches over his deeds and actions, and accurate and immediate record is kept on the basis of which the reckoning will be made, and on the Day of Reckoning, all secrets will be revealed. The rational conclusion is that man must ponder over the consequences of the deeds he is doing in this life. Therefore, he should not, at any moment of his life, lose sight of what is to happen on the Day of Reckoning. Thereafter, the verse disposes of a doubt…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 "A Guardian": Allah Almighty Himself, Who is looking after and watching over every creature, big or small, in the earth and heavens. He it is Who has brought everything into existence, Who is maintaining and sustaining everything in its place and position, and Who has taken the responsibility to provide for every creature and to protect it from calamities till an appointed tune. On this, an oath has been sworn by the heaven and by every star and planet which appears in the darkness of the night. (Although lexically, an-najm ath-thaqib is singular, it does not imply any one star but the star…
Read the full tafseer →