فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا ۟ۙفَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہو جاتی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the winds that blow violently
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا ۟ۙفَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہو جاتی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the winds that blow violently
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہو جاتی ہیں
پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم
پھر جو آندھی بن کر زور سے چلتی ہیں۔
پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
پھر تند و تیز ہواؤں کی قَسم جو شدید جھونکوں سے چلتی ہیں،
پھر جو تند ہو کر تیز چلنے والی ہیں !
پھر زور پکڑ کر جھکڑ بن جاتی ہیں
پس وہ اڑاتی ہیں غبار ‘ اندھا دھند
پھر جو جھکڑ بن جاتی ہیں زور پکڑ کر
پھر ان کی جو تندی سے چلتی ہیں
پھر تیز و تند جھکڑ ّکی صورت میں چلتی ہیں۔
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں۔
which then blow tempestuously
and by those that blow violently,
and by those that blow violently,
The `Asifat `Asfa.
By the raging hurricanes,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And the winds that blow violently
by (the angels) as swift as blowing winds,
By the raging hurricanes,
And those raging swiftly;
Which then blow violently in tempestuous Gusts,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الْمُرْسَلٰت 1 یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نفع پہنچانے کے لئے بھیجی جاتی ہیں پھر ان ہواؤں کی جو سختی سے چلتی ہیں (جس سے خطرات کا احتمال ہوتا ہے) اور ان ہواؤں کی جو بادلوں کو (اٹھا کر) پھیلاتی ہیں (جس کے بعد بارش ہونے لگتی ہے) پھر ان ہواؤں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں (جیسا بارش کے بعد ہوتا ہے) پھر ان ہواؤں کی جو (دل میں) اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں (یعنی یہ ہوائیں مذکورہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کی وجہ سے خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوجانے کا سبب ہوجاتی ہیں اور وہ توجہ دو طور سے ہوتی ہی ایک خوف سے جبکہ ان ہواؤں سے آثار خوف کے نمایاں ہوں اور دوسرا توبہ و معذرت سے اور یہ…
Read the full tafseer →’عَصْفٌ‘ کے معنی بگٹٹ اور اندھا دھند چلنے کے ہیں۔ فرمایا ہے: ’حَتّٰی إِذَا کُنتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْْنَ بِہِم بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَفَرِحُوۡا بِہَا جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِن کُلِّ مَکَانٍ‘ (یونس ۱۰: ۲۲) (یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو لے کر چلتی ہیں موافق ہوا کے ساتھ اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں دفعۃً نمودار ہو جاتی ہے بادتند اور ان کو گھیر لیتی ہیں موجیں ہر جانب سے)۔ یہ ان ہواؤں کا دوسرا مرحلہ بیان ہوا ہے کہ چھوڑے جانے کے بعد وہ بگٹٹ ہو کر اندھا دھند چلنے لگتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو تند ہو کر بالآخر طوفان اور عذاب بن جاتی…
Read the full tafseer →2۔ 1 یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
11 یعنی اول ہوا نرم اور اور خوشگوار چلتی ہے، جس سے مخلوق کی بہت سی توقعات اور منافع وابستہ ہوتے ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد وہی ہوا ایک تند آندھی اور طوفان جھکڑ کی شکل اختیار کر کے وہ خرابی اور غضب ڈھاتی ہے کہ لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔ یہی مثال دنیا و آخرت کی سمجھو کتنے ہی کام ہیں جن کو لوگ فی الحال مفید اور نافع تصور کرتے ہیں اور ان پر بڑی بڑی امیدیں باندھتے ہیں۔ لیکن وہی کام جب قیامت کے دن اپنی اصلی اور سخت ترین خوفناک صورت میں ظاہر ہوں گے تو لوگ پناہ مانگنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1{ وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ } ”قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔“ اللہ تعالیٰ ان ہوائوں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ہواؤں کی اقسام اور صفات :۔ کرہ زمین کی سطح پر اللہ تعالیٰ نے ہوا کا ایک کرہ بنادیا۔ جو ہر خشکی کے جاندار کے لیے پانی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پانی کے بغیر تو انسان ایک آدھ دن زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہوا کے بغیر دو چار منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر جس طرح پانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ کوئی پانی میٹھا ہوتا ہے، کوئی کھاری، کوئی نمکین، کوئی گدلا، کوئی صاف و شفاف، کوئی ہلکا پانی، کوئی بھاری اور کوئی متعفن اور بدبودار اسی طرح ہواؤں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ باد نسیم اور باد صبا کا انسان کی طبیعت پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔ جبکہ باد صرصر اور باد سموم سخت نقصان دہ ہیں۔ کچھ ہوائیں مشرق سے مغرب کو چلتی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات خود ہی گواہی دے رہا ہے وقوع قیامت کی۔ قرآنی قسموں کے لئے ملاحظہ ہو پ 14 کا ضمیمہ زیر عنوان ” قرآنی قسمیں “۔ (آیت) ” والمرسلت عرفا “۔ یعنی وہ ہوائیں جو نفع پہنچانے ہی کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ (آیت) ” فالعصفت عصفا “۔ یہ تندوتیز ہوائیں، یا آندھیاں ہر قسم کے خطرات کا امکان لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” والنشرت نشرا “۔ یعنی برساتی ہوائیں یامانسون۔ (آیت) ” فالفرقت فرقا “۔ یعنی وہی برساتنی ہوائیں جو پانی لاتی تھیں بادلوں کو منتشر کردیتی ہی۔ (آیت) ” عذرا اونذرا “۔ توجہ الی اللہ کے ذریعے دو مختلف ہیں۔ ایک ترغیب دوسرے ترہیب۔ ہوائیں اگر خوشگوار ونفع بخش ہوئیں، تو اللہ کی نعمت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے مسلسل چلنے والی ہوائوں کی یعنی ان ہوائوں کی جو تسلسل میں گھوڑے کے (گردن) کے بالوں کی مانند ہیں، عرفاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، پھر زور سے چلنے والی ہوائوں کی قسم یعنی زور دار ہوائوں کی اور پھیلانے والی ہوائوں کی قسم، یعنی ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں، پھر فرق کرنے والی آیات کی قسم یعنی قرآنی آیات کی جو حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرتی ہیں، پھر وحی کا القاء کرنے والوں کی قسم یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لے کر نازل ہوتے ہیں یا ان رسولوں کی قسم جو اس وحی کو امت کو پہنچا…
Read the full tafseer →فالعٰصفٰت عصفًا۔ اور وہ عصر تک حکم کی تعمیل میں تیزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ عصف الریاح۔ آندھی چلنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) قسم ہے تیز رفتار فرشتوں کی یا یہ کہ ان فرشتوں کی جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور پھر ان ہواؤں کی جو تندہی سے چلتی ہیں اور پھر بادلوں کی یا ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں یا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتابوں کو کھولتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں یا اس سے مراد وہ آیات ہیں جو کہ حق و باطل حلال و حرام کے درمیان امتیاز کرتی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان تینوں قسموں سے ہوائیں مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت عرفاً …:”المرسلت“ یہ ”الریاح“ کی صفت ہے جو محذوف ہے ، وہ ہوائیں جو چھڑوی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔”عرفاً“ یہ ”نکر“ کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی ”عرف“ کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں، اس لئے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً :”جاو وا عرفاً واحداً“”وہ سب پے در پے آگئے۔“”عرفاً“ کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس ہلے ”بائ“ مقدر ہوگی :”ای والمرسلات بالعرف“”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں !“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس ہلے ”لام“…
Read the full tafseer →فالعصفت عصفا۔ بغیر کسی اختلاف کے اس سے مراد ہوائیں ہیں، یہ مہدوی کا قول ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس سے مراد تیز ہوائیں ہیں جو گھاس پھونس لاتی ہیں عصف سے مراد کھیتی کے پتے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فیرسل علیکم قاصفا۔ الاسراء 69) ایک قول یہ کیا گیا ہے عاصفات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو ہوا پر مقرر ہیں جو انہیں تیزی سے چلاتے ہیں کہا جاتا ہے، عصف بالشی یعنی اسے ہلاک کردیا، ناقہ عصوف جو اپنے سوار کو ہلاک کردے وہ یوں گزرجاتی ہے گویا تیزی میں ہوا ہے عصفت الحرب بالقوم، جنگ نے قوم کو ہلاک کردیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ آیات ہیں جو تباہ وبرباد کردیتی ہیں جس طرح…
Read the full tafseer →9۔ ابن مردویہ نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہوائیں آٹھ قسم کی ہی ان میں سے چار عذاب کی ہیں اور چار رحمت کی ہیں ان میں سے عذاب والی عاصف، صرصر، عقیم اور قاصف ہیں اور میں سے رحمت والی ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات ہیں اللہ تعالیٰ مرسلات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ پھر مبشرات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں پانی سے بھردیتی ہیں پھر ذاریات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور وہ اس طرح بھرے ہوتے ہیں جس طرح دودھ دینے والی کا تھن بھرا ہوا ہوتا ہے پھر وہ بارش برساتی ہیں اور یہی لواقح ہے۔ پھر وہ ناشرات کو بھیجتے ہیں اور وہ اسے وہاں تک پھیلا دیتی ہے…
Read the full tafseer →[فَالْعٰصِفٰتِ : پھر قسم ہے جھونکا دینے والیوں کی ] [عَصْفًا : جیسے جھونکا دیتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
قیامت ضرور واقع ہوگی، رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا، فیصلہ کے دن کیلئے مہلت دی گئی ہے مذکورہ بالا آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھائیں اور قسمیں کھا کر یہ بتایا کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ضرور واقع ہوگی یعنی قیامت ضرور ہی آئے گی انکار کرنے سے ٹلنے والی نہیں ہواؤں کی جو قسمیں کھائیں اس میں دونوں قسم کی ہوائیں مذکور ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی بھی اور ضرر دینے والی بھی۔ بادلوں کو لانے والی فائدہ پہنچانے والی ہیں اور تیزی اور تندی سے چلنے والی تکلیف پہنچانے والی ہیں پہلی ہوائیں شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہیں اور خوفناک ہوائیں اللہ کی گرفت اور نعمت یاد دلانے والی ہیں انسان کو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والمرسلات عرفا “ مرسلات اور باقی الفاظ سے بعض نے فرشتے مراد لیے ہیں اور بعض کے نزدیک ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں زیادہ ظاہر یہی ہے۔ والاظہر ان المرسلاتھی الریاح الخ (ابن کثیر ج 4 ص 459) ۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔ (ایضاً ) ۔ ” عرفا “ حال ہے بمعنی متتابعۃ (کبیر) ۔ یا ” عرفا “ سے احسان و معروف مراد ہے (بیضاوی) ۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو چھوڑی جاتی ہیں احسان و معروف کے ساتھ، مراد رحمت کی ہوائیں ہیں جو نرم و خنک ہوتی ہیں۔ ” فالعصفت عصفا “ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نہایت تند ہوتی ہیں۔ ” والنشرات نشرا “ قسم ہے ان…
Read the full tafseer →فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا 2 ۙ عصف العَصْفُ والعَصِيفَةُ : الذي يُعْصَفُ من الزّرعِ ، ويقال لحطام النّبت المتکسّر : عَصْفٌ. قال تعالی: وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ الرحمن/ 12] ، كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ [ الفیل/ 5] ، ورِيحٌ عاصِفٌ [يونس/ 22] ، وعَاصِفَةٌ ومُعْصِفَةٌ: تَكْسِرُ الشیءَ فتجعله كَعَصْفٍ ، وعَصَفَتْ بهم الرّيحُ تشبيها بذلک . ( ع ص) العصف واعصیفتہ کھیتی کے پتے جو کاٹ لئے جاتے ہیں نیز خشک نباتات جو ٹوٹ کر چور چور ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ الرحمن/ 12] اور اناج چھلکے کے اندر ہوتا ہے ۔ ، كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ [ الفیل/ 5] جیسے کھا یا ہوا بھس ہو ۔ ورِيحٌ عاصِفٌ [يونس/ 22] ریح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔ تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ (المرسلات : 1 تا 5) (قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں۔ پس وہ اڑاتی ہیں غبار اندھادھند۔ اور قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پھیلانے والی ہیں (بادلوں کو) ۔ پھر ( ان کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں۔ پھر ڈالتی ہیں یاددہانی۔ ) وقوعِ قیامت پر پانچ قسموں کا مفہوم اور تعین ان آیات میں پروردگار نے پانچ قسمیں کھائی ہیں اور ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسموں کی حیثیت دلائل اور شواہد کی ہوتی ہے۔ اور بعد میں آنے والا جملہ مقسم علیہ یا دعویٰ کہلاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : الدّہر کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ انسان اپنی عجلت کی وجہ سے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کو فراموش کرتا ہے حالانکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ سورة المرسَلٰت کی ابتداء میں آخرت کے ابتدائی مراحل کا ذکر گیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور نعمتوں میں ہوا بھی اس کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی زبردست نشانی ہے جو انسان اور ہر جاندار کے لیے اس قدر ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر انسان اور ہر جاندار چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ عام لوگ ہوا کو ایک جیسی جانتے اور دیکھتے ہیں۔ بیشک اپنی جنس میں ہوا ایک ہے لیکن اپنی کیفیت اور اثرات کے اعتبار سے ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہوائوں کی اقسام : 1، 2، 3، 4، 5، 6 : وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْنُذْرًا (قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو تندی سے چلتی ہیں۔ اور ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو اللہ کی یاد یعنی تو بہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے جن کو مختلف کاموں پر بھیجتے ہیں۔ پس وہ احکام کی تعمیل میں تیزی سے چلتے ہیں اور ان فرشتوں کی جماعتوں کی…
Read the full tafseer →1 ۔” والمرسلات عرفا “ یعنی ہوائیں جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں گھوڑوں کی طرح آگے پیچھے اور کہا گیا ہے عرب یعنی کثیراً بہت زیاد۔ عرب کہتے ہیں ” الناس الی فلان “ عرف واحد جب لوگ اس کی طرح متوجہ ہوں اور بہت زیادہ ہوجائیں۔ یہ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں فرشتے جو اللہ کے اوامرا اور نواہی میں ہے معروف کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور یہی مسروق کی ابن مسعود ؓ سے روایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →(فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا) اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
عرفاً کا معنی و مطلب ؟ : سوی یہ " عرفا " کا ایک مطلب ہوا۔ یعنی اس سے پے در پے چلنے والی ہواؤں کی قسم کھائی گئی ہے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عرف کو معروف اور احسان کے معنی میں لیا جائے یعنی جو کہ چھوڑی جاتی ہیں احسان کرنے کے لئے۔ سو عرفاً کا اطلاق ان دونوں معنوں پر ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، قرطبی وغیرہ) ۔ " عرف " دراصل گھوڑے کی ایال کے ان بالوں کے لئے آتا ہے جو اس کی پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، گھوڑوں کی ایال کے ان بالوں کو پکڑ کر ان کو روکا بھی جاسکتا ہے اور ان کو چھوڑ کر ان کی جولانیوں کے لئے چھوڑا بھی جاسکتا ہے، سو اس آیت کریمہ میں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور ان کو آزاد کرنے کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →ف 5 بعض نے ان سے مراد ہوائوں کو زور سے ہانکنے والے فرشتے لئے ہیں۔ (ایضاً ) ۔
Read the full tafseer →(77:2) فالعصفت عصفا :عاطفہ ہے اس کا عطف المرسلت پر ہے۔ عصفا مصدر کو بطور مؤکد لایا گیا ہے۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو تندوتیز چلتی ہیں۔ عصفت جھونکا دینے والی۔ وہ ہوائیں جو تیز و تند چلتی ہیں۔ آندھیاں۔ وہ ہوائیں جو چیزوں کو توڑ کر بھس بنادیں کیونکہ عصف بھس کو کہتے ہیں۔ عصف (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →(2) پھر ان ہوائوں کی قسم جو زور سے چلتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یعنی یہ ہوائیں مذکورہ بوجہ دال علی القدرة ہونے کے صانع کی طرف متوجہ ہونے کا سبب ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(قسم ہے ان کی جو چھوڑی جاتی ہیں خوب) یعنی ان فرشتوں کی مبارک ہیئتوں کی جو نیکی کے ساتھ بھیجی جاتی ہیں ، یعنی جو فرشتے محمد ﷺ پر امر و نہی۔۔ یا ۔۔ قرآن کی آیتوں کے ساتھ بھیجے گئے۔۔ یا ۔۔ ان ہواؤں کے ساتھ جو پئے بہ پئے چلائی گئیں ہیں۔ (پھر) وہ ہستیاں جو (جھونکے دینے والی ) ہیں (سخت) یعنی پھر قسم ان فرشتوں کی جو تیز سخت اور جلد جاتے ہیں اور احکام الہی تیزی سے بجا لاتے ہیں۔ یا۔۔ احکام کلام اللہ کی قسم جو اور احکام کو محو کردینے والے ہیں یعنی اگلی شریعتوں اور دینوں کو منسوخ کردینے والے ہیں۔ یا۔۔ ان ہواؤں کی قسم جو سختی کے ساتھ کسی قوم پر عذاب کے لیے چلنے والی ہیں۔ (اور قسم ہے خوب اٹھانے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary Occasion of Revelation Sahih of Bukhari records from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud that he said: "While we were with Allah's Messenger in a cave at Mina, the Surah 'wal-Mursalat' was revealed to him. He was reciting it, and I was learning it from his mouth. Verily, his mouth was moist with it, when a snake leaped out at us. The Holy Prophet said, 'Kill it!' So we quickly went after it, but it got away. Then the Holy Prophet said, 'It was saved from your harm, just as you all were saved from its harm'." [ Ibn Kathir ]. Allah swears oaths in this Surah by various phenomena to assert…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1 That is, sometimes the failure of winds causes the people to be alarmed at the prospect of a famine, and they turn to Allah to repent of their sins: sometimes they bring a lot of rain and the people turn to Allah in gratitude; and sometimes their blowing violently causes dread in the hearts and the people turn to AIlah from fear of destruction. In these verses initially the order of rain-bringing winds has been stated, which is thus: first, winds start blowing in succession; then they assume the proportions of a storm; then they raise the clouds and spread them; then they split and separate…
Read the full tafseer →