Explained with ayahs 90–93
قریش کے امراء کی آخری کوشش
ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ربیعہ کے جو بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابو سفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابو البحتری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسعد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابو جہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے بھئی کسی کو بھیج کر محمد ﷺ کو بلوا لو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے چناچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 106
معجزات کے مطالبے کا ایک جواب اس سے پہلے آیت 59 " وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا " میں گزر چکا ہے۔ اب یہاں اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے۔ اس مختصر سے جواب کی بلاغت تعریف سے بالاتر ہے۔ مخالفین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے، یا فورا ایک لہلہاتا باغ پیدا ہوجائے اور اس میں نہریں جاریں ہوجائیں۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارے جھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے۔ ایک پھونک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں کفار کے چند سوالات اور ان کے جوابات ذکر کئے گئے ہیں مذکور الصدر آیات میں ان کے چند معاندانہ سوالات اور بےسروپا فرمائشوں کا ذکر اور ان کا جواب ہے (اخرجہ ابن جریر عن ابن عباس) اور یہ لوگ (باوجود اس کے کہ اعجاز قرآنی کے ذریعے آپ کی نبوت و رسالت کا کافی اور واضح ثبوت ان کو مل چکا پھر بھی از راہ عناد ایمان نہیں لاتے اور یہ بہانے کرتے ہیں کہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لاویں گے جب تک آپ ہمارے لئے (مکہ کی) زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں یا خاص آپ کے لئے کھجور اور انگور کا کوئی باغ نہ ہو پھر اس باغ کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں آپ جاری کردیں یا جیسا آپ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
تفسیر آیات 90 تا 93:
مخالفین کے مطالبات برائے تصدیق رسالت : وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الأرْضِ يَنْبُوعًا (90) أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأنْهَارَ خِلالَهَا تَفْجِيرًا (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ قَبِيلا (92) أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولا (93)۔
" ایمان " کا صلہ جب " ل " کے ساتھ آتا ہے تو اس…
Read the full tafseer →93۔ 1 زُخْرُف کے اصل معنی زینت کے ہیں مَزِخَرَفُ ، مزین چیز کو کہتے ہیں۔ لیکن یہاں اسکے معنی سونے کے ہیں۔
93۔ 2 یعنی ہم میں سے ہر شخص اسے صاف صاف خود پڑھ سکتا ہو۔
93۔ 3 مطلب یہ ہے کہ میرے رب کے اندر تو ہر طرح کی طاقت ہے، وہ چاہے تو تمہارے مطالبے آن واحد میں لفظ ' کُنْ ' سے پورے فرما دے۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو (تمہاری طرح) ایک بشر ہوں۔ کیا کوئی بشر ان چیزوں پر قادر ہے ؟ جو مجھ سے مطالبہ کرتے ہو۔ ہاں، اس کے ساتھ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ لیکن رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، اور وہ میں نے پہنچا دیا اور پہنچا رہا ہوں۔ لوگوں کے مطالبات پر معجزات ظاہر کر کے دکھانا یہ رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
50: ان آیات میں مشرکین مکہ کے وہ مطالبات بیان فرمائے گئے ہیں جو محض ضد کی بنا پر آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے، آپ کے متعدد معجزات ان پر ظاہر ہوچکے تھے، لیکن وہ پھر بھی نت نئی فرمائشوں سے باز نہیں آتے تھے، آپ ﷺ کو ان ساری فرمائشوں کا یہ مختصر جواب دینے کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ میں خدا نہیں ہوں کہ یہ سارے کام میرے اختیار میں ہوں، میں تو ایک انسان ہوں، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پیغمبر بناکر بھیجا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت جو معجزات مجھے عطا فرمادئیے ہیں ان سے زیادہ اپنے اختیار میں کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا۔
Read the full tafseer →قل سبحان ربی ھل کنت الا بسرا (39) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ “ یہ ہے ادب رسول ، جو اپنی بشریت کی حدود پر جا کر رک جاتے ہیں ، رسول اپنے مقررہ فرائض منصبی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے مطالبات نہیں کرتے۔ اور اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھ کر بھی کام نہیں کرتے۔
وہ بڑا شبہ جو مختلف اقوام و ملن کو حضرت محمد ﷺ سے قبل لاحق ہوا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی کئی ملتوں کو لاحق ہوا اور جس کی وہ سے ان اقوام نے رسولوں کی تصدیق نہ کی اور ان ہدایات کو تسلیم نہ کیا جو رسول لے کر آئے تھے وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اس بات کو مستبعد سمجھتے…
Read the full tafseer →3 یعنی سونے کا نہ ہو تو کم ازکم سونے کا ملمع ہو۔
4 یعنی جیسے آپ معراج کا ذکر کرتے ہیں ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیے پھر وہاں سے ایک کتاب لکھی ہوئی لے کر آئیے جسے ہم خود پڑھ سکیں اور سمجھ سکیں۔
5 جیسے پہلے پیغمبر آئے اور وہ آدمی تھی۔ کسی پیغمبر کو خدائی کے اختیارات حاصل نہیں نہ اس کی یہ شان ہے کہ اپنے رب سے ایسی بےضرورت فرمائشیں کرے۔ ان کا کام یہ ہے کہ جو ادھر سے ملے پہنچادیں اور اپنے ہر ایک کام کو خدائے واحد کے سپرد کردیں۔ سو میں اپنا فرض رسالت ادا کر رہا ہوں۔ فرمائشی نشان دکھلانے یا نہ دکھلانے اس کی حکمت بالغہ پر محمول ہیں اور پہلے اسی سورت میں فرمائشی نشانات دکھلانے کی بعض حکمتیں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ
ان لوگوں کے ان تمام مطالبات کے جواب میں صرف ایک بات فرمائی گئی :
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا
یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیدا ہوا ہوں جس طرح تم سب لوگ پیدا ہوئے ہو۔ میں تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہوں دنیا کے کام کاج کرتا ہوں بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں اور میں نے ہر سطح پر کاروبار بھی کیا ہے۔ میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اور میری سیرت اور اخلاق و کردار روز روشن کی طرح تمہارے سامنے ہے۔ مجھ میں اور تم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →110 وہ حسی معجزے جن کا کفار مکہ مطالبہ کیا کرتے تھے :۔ ان آیات میں کفار مکہ کے ان مطالبات کو یک جابیان کیا جارہا ہے جو وہ وقتاً فوقتاً نبوت کی دلیل پر حسی معجزہ کی صورت میں مطالبہ کرتے رہے تھے۔ وہ اس قسم کے مطالبہ کرنے میں قطعاً حق بجانب نہیں تھے کیونکہ کئی معجزات وہ ایسے دیکھ چکے تھے جو آپ کی نبوت پر واضح دلائل تھے مثلاً بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ قرآن جیسا کلام نہ پیش کرسکے تھے۔ چاند پھٹنے کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ واقعہ اسراء کے سلسلہ میں بیت المقدس کی ساخت پر وہ سوال و جواب کرچکے تھے۔ یہ سب باتیں ان کے قلبی اطمینان کے لیے کافی تھیں۔ مگر خوئے بدرا بہا نہ بسیار کے مصداق وہ…
Read the full tafseer →134۔ (اور ہر بشر کی طرح میں بھی خوارق ومعجزات پیش کرنے سے معذور ہوں) جواب ان خرافی مطالبات کا رسول برحق کی زبان سے یہ ادا کردیا گیا کہ معاذ اللہ میں تو محض بشر ہوں۔ میرے اختیار میں یہ عجائب نمائی کہاں ہے۔ ہاں اتنی بات ہے کہ بشر ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں۔ لیکن رسول کے کام کا پہنچا دینا ہے۔ اور بس ! میری صداقت کا دار و مدار معجزات پر ہرگز نہیں۔ (آیت) ” سبحان ربی “۔ مشرکین کی درخواست کی تہ میں یہ شے تھی کہ جیسے کوئی آپ بھی نیم دیوتا سے تھے اور قوت وقدرت میں حق تعالیٰ کے کسی درجہ میں شریک ! (آیت) ” سبحان ربی “۔ میں یہی اشارہ ہے، کہ اس ذات پاک کی توحید مطلق ہر قسم اور ہر درجہ کی شرک کی آلودگی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
آیت نمبر 85 تا 93
ترجمہ : یہود آپ سے روح کے بارے میں جس کے ذریعہ جسم انسانی زندہ ہوتا ہے سوال کرتے ہیں آپ ان کو جواب دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے جس کی حقیقت وہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، اور اس کے علم کی نسبت سے تمہیں بہت ہی کم دیا گیا اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن کو سلب کرلیں بایں طور کہ اس کو سینوں سے اور مصاحف سے مٹا دیں پھر آپ کو اس کیلئے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی میسر نہ ہو لیکن اس کو تیرے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر باقی رکھا ہے یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے، اس لئے کہ اس نے اس کو آپ پر نازل کیا اور مقام محمود آپ کو عطا کیا اور اس کے علاوہ دیگر…
Read the full tafseer →اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ: یا تمہارے لئے کوئی سونے کا مکان ہو یا تم آسمان (کے زینہ) پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے (صرف) چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے جب تک تم ایک ایسی کتاب لے کر ہم پر نازل نہ ہو جس کو ہم پڑھیں۔ زخرف کا اصل لغوی معنی ہے سجاوٹ اس جگہ مراد ہے سونے کا مکان۔ یہ قول عبداللہ بن امیہ کا تھا۔ کِتٰبًا نَّقْرؤُہٗسے یہ مراد ہے کہ اس کتاب کے اندر تمہاری تصدیق ہو اور ہم کو تمہارا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
قُلْ (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے یعنی ان کے سوالات و مطالبات پر…
Read the full tafseer →(93) یا آپ کے پاس کوئی سونے، چاندی کا بنا ہوا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں اور پھر وہاں سے ہمارے پاس فرشتے لے کر نہ آئیں جو اس بات کی آکر گواہی دیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم تو آپ کے آسمان پر چڑھنے کا بھی کبھی باور نہ کریں جب تک کہ آپ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک تحریر نہ لائیں جس کو ہم پڑھ بھی لیں کہ اس میں آپ کی رسالت کے متعلق لکھا ہو، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا پروردگار تو اولاد اور شریک سب چیزوں سے پاک ہے میں بجائے اس کے آدمی ہوں اور تمام رسولوں کی طرح رسول ہوں اور کیا ہوں۔
Read the full tafseer →اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ۔۔ : ”زُخْرُفٍ“ اصل میں زینت کو کہتے ہیں، یہاں یہ لفظ سونے کے معنی میں ہے، کیونکہ جو چیزیں زینت کے لیے استعمال ہوتی ہیں ان میں سونا بہت قیمتی اور خوبصورت ہے۔ ”ترقی“ ”رَقٰی یَرْقِيْ رُقْیَۃً“ (ض) دم کرنا اور ”رَقِيَ یَرْقٰی رُقِیًّا“ (ع) چڑھنا۔
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ۔۔ : یہاں قرآن نے کفار کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے، جن کے ضمن میں کئی اور مطالبے ہیں۔ فرمایا، میرا رب ہر عیب اور عجز سے پاک ہے، وہ یہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر اپنی مرضی سے۔ رہا مجھ سے مطالبے کرنا تو میں تو محض ایک بشر ہوں جو پیغام پہنچانے والا ہے، کیا تم کسی بشر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر 90 تا 93
قولہ تعالیٰ : وقالوا لن۔۔۔۔ ینبوعا یہ آیت رؤساء قریش کے بارے میں نازل ہوئی مثلا عتبہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان اور نضر بن حارث، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف اور ابو البختری، اور ولید بن مغیرہ وغیرہم۔ اور وہ اس طرح کہ جب وہ قرآن کریم کا معارض لانے سے عاجز آگئے اور وہ اس کے معجزہ ہونے پر بھی راضی نہ ہوئے، تو ابن اسحاق وغیرہ کے باین کے مطابق وہ کعبہ معظمہ کے پاس غروب آفتاب کے بعد اکٹھے ہوئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : محمد ﷺ کے پا سچلو اور ان سے گفتگو کرو، مباحثہ کرو یہاں تک کہ تمہیں اس بارے میں الزام سے بری کردیا جائے، پس انہوں نے آپ کی طرف پیغام بھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
قریش کا اجتماعی طور پر آپ ﷺ سے گفتگو :
1:۔ ابن جریر، ابن اسحاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور قبیلہ عبدالدار کا ایک آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابو البختری جو بنو اسد کے بھائی ہیں۔ اسود بن المطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ اتمام حجت ہوجائے…
Read the full tafseer →[اَوْ : یا ] [يَكُوْنَ : (یہاں تک کہ) ہو ] [لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [بَيْتٌ: ایک گھر ] [مِّنْ زُخْرُفٍ : سونے میں سے ] [اَوْ : یا ] [تَرْقٰى: (یہاں تک کہ) آپ ﷺ چڑھیں ] [فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ] [وَلَنْ نُّؤْمِنَ : اور ہم ہرگز نہیں مانیں گے ] [لِرُقِيِّكَ : آپ ﷺ کے چڑھنے کو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [تُنَزِّلَ : آپ ﷺ اتاریں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [نَّقْرَؤُهٗ : ہم پڑھیں جس کو ] [قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [سُبْحَان : پاکیزگی ] [رَبِيْ : میرے رب کی ہے ] [هَلْ كُنْتُ : میں کیا ہوں ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [بَشَرًا رَّسُوْلًا : ایک رسول بشر ]
ر ق ی
رُقِیَّمًا کسی چیز…
Read the full tafseer →(ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (میں تو ایک بشر ہی ہوں ایک انسان ہوں ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے) اگر میں دوسرے انسانوں کی طرح کھاتا پیتا ہوں اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں تو یہ بشریت کے تقاضوں کے موافق ہے اور جو توحید و رسالت کی باتیں کرتا ہوں یہ رسول ہونے کی حیثیت سے ہیں اور رسول ہونے کے لوازم میں یہ باتیں نہیں ہے جن کا تم نے مطالبہ کیا ہے، جو مجھ پر ایمان لائے گا اس کا یہ ایمان اسے نفع دے گا اور جو منکر ہوگا اپنا برا کرے گا رسول کے ذمہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ واضح طور پر حق بیان کردے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دے۔
فائدہ : ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →81:۔ یہ جواب شکوہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو عجز سے پاک ہے وہ یہ سارے کام کرنے قدرت رکھتا ہے مگر کسی میں اس پر جبر کرنے کی طاقت نہیں وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ ” ھل کنت الا بشرا رسولا “ اور میں تو ایک انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں اور جن باتوں کا تم نے مطالبہ کیا ہے وہ سب انسانی اور بشری طاقت سے ماوراء ہیں یعنی لیس ما سالتم فی طوق البشر بل لو اراد اللہ ان ینزل ما طلبوا لفعل (مظھری ج 5 ص 493) ۔ اس لیے مجھ میں ان کو پورا کرنے کی طاقت نہیں۔ اور پھر ان مطالبات کو پورا کرنا میرے فرائض میں داخل بھی نہیں کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحی کے پابند اور اس کے احکام کے بندے ہیں صرف اسی چیز کو ظاہر کرسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا اللہ تعالیٰ نے چیلنج کردیا کہ سارے انسان اور جنات مل کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے قرآن حکیم وحی الہی ، اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا اتارا ہو اکلام ہے ، اس میں ماننے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے ، البتہ جو لوگ اس کا انکار کریں گے ، ان کے لیے سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ اکثر لوگ سوائے ناشکر گزاری کے کچھ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے مختلف عنوانوں ، مثالوں اور طریقوں سے اللہ کی وحدانیت ، رسالت انبیاء اور وقوع قیامت کے متعلق بات سمجھا دی ہے اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے تعصب ، عناد ، ہٹ دھرمی…
Read the full tafseer →اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93ۧ
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔
زخرف
الزُّخْرُفُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ترکیب : لایاتون جواب لئن ای جواب قسم محذوف دل علیہ اللام الموطّیۃُ ولولاھی لکان جواب الشرط بلاجزم لکون الشرط ماضیا۔ بیضاوی۔
تفسیر : منجملہ ان باتوں کے کہ جن سے قرآن مجید پر اعتراض کیا کرتے تھے ان کی ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اس قرآن میں کون سی خوبی ہے ؟ اگر چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بھی ہے کہ قرآن کی بابت فرمایا تھا کہ وہ ہماری طرف سے ہے اگر ہم چاہیں تو اس کو واپس لے جائیں پھر تمام مخلوق مل کر بھی زور لگائے تو ایسا قرآن نہ بنا سکے۔ کماقال قل لئن اجتمعت الخ کہ تم کیا اگر تمہارے ساتھ تمہارے وہ جن بھی شریک ہوں کہ جن سے تم مانگا کرتے ہو اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا۔ اَوْتَکُوْنَ لَکَ جَنَّـۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَـتُـفَجِّرَ الْاَنْھٰرَخِلٰـلَھَا تَفْجِیْرًا۔ اَوْتُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْتَا تِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلاً ۔ اَوْیَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآئِ ط وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِـیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِـتٰبـًا نَّـقْرَؤْہٗ ط قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُـنْتُ اِلاَّبَشَرًا رَّسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 90۔ 91۔ 92۔ 93)
(اور انھوں نے کہا ہم تو تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بار بار کے چیلنج کے باوجود کفار اس کا جواب نہ دے سکے۔ مگر اس کے باوجود رسول معظم ﷺ سے مزید مطالبات کرتے رہے۔
رسول معظم ﷺ کی عظیم جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس دلائل کی تاب نہ لانے کا نتیجہ تھا کہ کفار اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ ہر بار پہلے سے بڑھ کر مطالبہ کرتے۔ جب اس کا مثبت اور موثر جواب دیا جاتا تو ہلکان ہونے کی کیفیت میں کوئی اور مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک ہمارے یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
1۔ زمین سے ہمارے لیے چشمے جاری کیے جائیں۔
2۔ آپ کے لیے کجھوروں اور انگوروں کے ایسے باغ ہوں۔ جن کے درمیان نہریں جاری…
Read the full tafseer →93: اَوْیَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌمِّنْ زُخْرُفٍ (یا تمہارے لیے سونے کا مکان ہو) اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآ ئِ (یا تم آسمان پر چڑھ جائو) زخرف کا معنی سونا اور ترقی کا معنی چڑھنا ہے۔ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ (اور ہم تمہارے صرف چڑھنے پر بھی یقین نہیں کریں گے) یعنی چڑھ جانے کی وجہ سے یقین نہیں کریں گے۔ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُ ہٗ (جب تک کہ تم ایسی کتاب نہ لے کر اترو جس کو ہم پڑھیں) ۔
قراءت : ابو عمرو نے تُنْزِل پڑھا ہے اور کتاب سے مراد ایسی کتاب جس میں آپ کی تصدیق ہو۔ نَقْرَؤُ فعل یہ کتاب کی صفت ہے۔
مطالباتِ کفار کا جواب :
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا…
Read the full tafseer →93۔” او یکون لک بیت من زخرف “ اس سے مراد سونا ہے۔ اس سے زینت حاصل کرنا مراد ہے۔” او ترقی “ اور وہ اوپر کی جانب چڑھتا ہے۔” فی السمائ “ یہ عبد اللہ بن امیہ کا قول ہے ۔” ولکن تومن لرقیک “ اور وہ یہ کہتے کہ ہم اوپر آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں رکھتے۔” حتی تنزل علینا کتابا ً نصراہ “ ہم آپ کو اس کے ساتھ اتباع کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ ” قل سبحان ربی “ ابن کثیر و ابن عامر نے ” قال “ پڑھا ہے۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہوں گے اور دوسرے قراء نے اس کو امر کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہہ دیجئے اے محمد ! (ﷺ) ” ھل کنت الابشراً رسولا ً “ اس کو حکم دیا کہ ان کی پاکی اور ان کی بزرگی بیان کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
90۔ 93:۔ تفسیر ابن جریر میں کئی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اور سنن سعید بن منصور میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابوجہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت سے کہا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں اور اگر خلل دماغ کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں اگر تم مانو گے تو تمہارے لیے اچھا ہے ورنہ تم جانو یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو اس مکہ کی سرزمین پر باغ لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
166۔ آسمان کے ٹکڑے کرادینے کا مطالبہ :۔
سو انہوں نے کہا یا گرا دو ہم پر آسمان کے ٹکڑے جیسا کہ آپ کا دعوی ہے کہ قیامت آئے گی جس میں آسمان پھٹ پڑے گا اور ایسے اور ایسے ہوگا۔ اور اس سے آپ ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں حالانکہ وہ احمق اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے کہ قیامت کا وہ حادثہ اور اس کا وہ منظر اس دنیا میں اور اس طرح نہیں آئے گا کہ یہ زندہ سلامت بیٹھے دیکھتے رہیں، اور اوپر سے آسمان کے ٹکڑے گرپڑیں اور بس۔ نہیں بلکہ وہ تو اس وقت ہوگا جب یہ سارا علم درہم برہم ہوجائے گا جسکے بعد کسب واکتساب کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
167۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کو سامنے لاکھڑا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا…
Read the full tafseer →ف 5 جب کفار قریش قرآن کا معارضہ نہ کرسکے تو دوسرے معجزات طلب کرنے شروع کردیئے یہاں قرآن نے ان کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آنحضرت کو اپنی مجلس کے پاس بلایا اور یہ مطالبے پیش کئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور دوسرے رسولو کی طرح آنحضرت نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ میں تو ایک بشر ہوں کیا تم کسی بشیر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم کے تصرفات کی طاقت رکھتا ہو ؟ اور پھر میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کے حکم کا تابع پس اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ان امور کو کیسے ظاہر کرسکات ہوں۔ امام رازی لکھتے ہیں پیغمبر کی صداقت کے لئے تو ایک معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(17:91) فتفجر۔ فجر یفجر تفجیرا (باب تفعیل) تو پھاڑ لائے تو بہا لائے۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل فار کے جو نفی (لن نؤمن) کے بعد واقع ہوا ہے۔
خللھا۔ خلل۔ بوجہ ظرف (مفعول فیہ) کے منصوب ہے۔ ای وسط تلک الجنۃ یعنی اس جنت کے درمیان نہریں جاری کردیں جو بہہ رہی ہوں۔
تسقط۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل او جو الی ان کے معنی میں ہے تو گرا دے تو ڈال دے۔ اسقاط (افعال) مصدر۔ تسقط علینا۔ تو ہم پر گرا دے۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا۔ میں تسقط فعل السماء مفعول کسفا السماء سے حال ۔ کما زعمت جملہ معترضہ۔ یا جیسا آپ کا خیال ہے آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دیں۔ تاتی (ب) متعدی بوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93
تفجر تو بہا دے۔ جاری کردے۔ ینبوع چشمہ۔ نخیل کھجور کا درخت۔ عنب انگور۔ تسقط تو گراتا ہے۔ زعمت تو نے گمان کیا۔ کسف ٹکڑے ٹکڑے۔ قبیل سامنے۔ بیت گھر۔ زخرف سونا، سنہرا۔ ترقی تو چڑہ گیا۔ رقی چڑھنا۔ نقروہ جس کو ہم پڑھیں گے۔ بشر انسان۔
تشریح : آیت نمبر 90 تا 93
اللہ تعالیٰ نے کفار کے بےجا مطالبات اور معجزات کی فرمائش پر ہمیشہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ کی طاقتور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ چاہے تو ان کفار کی ہر فرمائش کو پورا کر دے لیکن یہ باتیں اللہ کی مصلحت کے خلاف ہیں۔ ان آیات میں بھی کفار و مشرکین کی ان ہی باتوں کو نقل کیا گیا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
شان نزول : ایک روز ابو جہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ نیا دین تم نے اگر روپے کی لالچ سے یا قوم کے سردار رہنے کی طمع سے نکالا ہے تو ہم روپیہ کا چندہ کرنے کو اور قوم کا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں، اور اگر دماغی بیماری ہوگئی ہے جس کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہو سکتا ہے، آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں۔ اگر تم مانو گے تو تمہارے لئے اچھا ہے ورنہ تم جانو۔ یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا : ” اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو مکہ کی سرزمین میں باغ لگا دو نہریں جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–95
[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
پیغمبروں کا دائرہ اختیار :
(ف 1) قرآن بےمثل اور بےنظیر صحیفہ آسمانی ہے ، انسانی ذہینت اور طاقت میں اس کا جواب ممکن نہیں ، اس میں ہر نوع کے لوگوں کے خیالات ملحوظ رکھے ہیں ، ایک عامی انسان سے لے کر فیلسوف ودانا تک کے لئے اس میں ہدایت ہے ، ہر دل و دماغ کے لوگ اس کی نعمتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں ، اور ہر قسم کی ترقی حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ بدبخت مکہ والے ، جن کی ذہینت مسخ ہوچکی ہے کم بختیوں میں مبتلا ہیں ، بجائے اس کے کہ اس نسخہ کیمیا سے فائدہ حاصل کریں ، بلاضرورت معجزات طلب کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں جناب ہم تو جب مانیں گے جب یہاں مکہ کی سنگلاخ زمین میں پانی کے چشمے پھوٹ نکلیں یا یہاں انگور اور…
Read the full tafseer →-93 یا تیرے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا گھر رہنے کو ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور ہم خالی آسمان پر چڑھ جانے کا بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے پاس وہاں سے کوئی لکھی ہوئی ایسی کتاب نہ اتار لائے جس کو ہم پڑھ بھی لیں آپ ان سب مطالبات اور مانہ مانگی نشانیوں کے جواب میں کہہ دیجیے میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں اور آدمی ۔ یعنی مجھے جو کام تفویض ہوا ہے وہ کر رہا ہوں مجھے اس سے زیادہ کوئی اختیار نہیں۔ لہٰذا ان آیات کا کوئی تعلق بشر یا رسول سے نہیں رہا۔ حضرت حق تعالیٰ کا منشا تو وہ اپنی حکمت و مصلحت کو جانتے ہیں وہ چاہیں تو بلا ضرورت یہ نشانیاں تم کو دکھائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–94
ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔
13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔
Read the full tafseer →مشرکین مکہ کے دو مزید مطالبات کہ آپ ﷺ کیلئے کوئی سونے کا گھر ہو یا آسمان پر تم چڑھ جاؤ :
111۔ مشرکین کے جو مطالبات اس جگہ بیان کئے گئے ان میں سے یہ دو آخری مطالبات ہیں ایک یہ کہ آپ کے لئے کوئی سونے کا گھر تیار ہوجائے تو ہم آپ کی نبوت کو مان لیں گے اور اگر یہ نہیں تو کم از کم ہماری آنکھوں کے سامنے خالی ہاتھ آسمان کی طرف چڑھنے لگو اور چڑھتے ہی چڑھتے بس غائب ہوجاؤ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اترو تو تمہارے ہاتھ میں ایک تحریر شدہ کتاب ہو جس کو ہم خود پڑھ کر دیکھیں اگر اس میں آپ کی نبوت کے مان لینے کا لکھا ہوگا تو ہم ضرور منالیں گے اس طرح ان کے کل سات مطالبات آیت 90 سے آیت 93 تک بیان ہوئے فرمایا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
Commentary
A prophetic answer to hostile questions sounding absurd
The questions asked and the demands made in these verses from the Holy Prophet ﷺ were virtually conditions on the fulfillment of which his antagonists were supposed to believe. These conditions are such that anyone who hears them would find them nothing but some sort of weird mockery and certainly a very absurd excuse for not believing. While having to respond to such questions, one becomes naturally angry and retorts in the same manner. But, the answer that Allah Ta’ ala taught His prophet ﷺ to give against their impertinent…
Read the full tafseer →106. This is the second answer to the demand of the disbelievers for a miracle. The first answer is contained in (Ayat 59). The eloquence of this concise answer is above praise: You demand from me that I should cause a spring to gush forth, or in the twinkling of an eye should bring into being a garden in full bloom with canals flowing in it: or I should cause the heaven to fall into pieces on those of you who are rejecting the message: or I should cause to build a furnished palace of gold: or I should call Allah and the angels to stand before you and testify to this effect: We Ourselves have…
Read the full tafseer →