Explained with ayahs 90–93
قریش کے امراء کی آخری کوشش
ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ربیعہ کے جو بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابو سفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابو البحتری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسعد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابو جہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے بھئی کسی کو بھیج کر محمد ﷺ کو بلوا لو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے چناچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 105
یہ چیلنج اس سے پہلے قرآن مجید میں تین مقامات پر گزر چکا ہے۔ سوررہ بقرہ، آیات 23، 24۔ سورة یونس، آیت 38 اور سورة ہود، آیت 13۔ آگے سورة طور، آیات 33۔ 34 میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ ان سب مقامات پر یہ بات کفار کے اس الزام کے جواب میں ارشاد ہوئی ہے کہ محمد ﷺ نے خود یہ قرآن تصنیف کرلیا ہے اور خواہ مخواہ وہ اسے خدا کا کلام بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مزید برآں سورة یونس، آیت 16 میں اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیا کہ " قُلْ لَّوْ شَآء اللہُ مَا تَلَوْ تُہُ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں کفار کے چند سوالات اور ان کے جوابات ذکر کئے گئے ہیں مذکور الصدر آیات میں ان کے چند معاندانہ سوالات اور بےسروپا فرمائشوں کا ذکر اور ان کا جواب ہے (اخرجہ ابن جریر عن ابن عباس) اور یہ لوگ (باوجود اس کے کہ اعجاز قرآنی کے ذریعے آپ کی نبوت و رسالت کا کافی اور واضح ثبوت ان کو مل چکا پھر بھی از راہ عناد ایمان نہیں لاتے اور یہ بہانے کرتے ہیں کہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لاویں گے جب تک آپ ہمارے لئے (مکہ کی) زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں یا خاص آپ کے لئے کھجور اور انگور کا کوئی باغ نہ ہو پھر اس باغ کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں آپ جاری کردیں یا جیسا آپ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
تفسیر آیات 90 تا 93:
مخالفین کے مطالبات برائے تصدیق رسالت : وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الأرْضِ يَنْبُوعًا (90) أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأنْهَارَ خِلالَهَا تَفْجِيرًا (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ قَبِيلا (92) أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولا (93)۔
" ایمان " کا صلہ جب " ل " کے ساتھ آتا ہے تو اس…
Read the full tafseer →92۔ 1 یعنی ہمارے روبرو آکر کھڑے ہوجائیں اور ہم انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
49: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اور جواب میں اتنی ہی بات بیان فرمائی گئی ہے جو انسان کی سمجھ میں آسکتی ہے، اور وہ یہ کہ روح کی پیدائش براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی ہے، انسان کے جسم اور دوسری مخلوقات میں تو یہ بات مشاہدے میں آجاتی ہے کہ ان کی پیدائش میں کچھ ظاہری اسباب کا دخل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے، لیکن روح ایسی چیز ہے جس کی تخلیق کا کوئی عمل انسان کے مشاہدے میں نہیں آتا، یہ براہ راست اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
1 یہ اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ ) 34 ۔ سبأء :9)
2 یعنی معاذ اللہ خدا خود ہمارے سامنے آکر کہہ دے اور فرشتے کھلم کھلا شہادت دیں کہ تم سچے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 92 اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا
یعنی آپ ہمیں قیامت کے حوالے سے خبریں سنا سنا کر جو ڈراتے رہتے ہیں کہ اس وقت آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو آپ آسمان کا کوئی ٹکڑا ابھی ہم پر گرا کر دکھا دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
109 قرآن میں کون کون سے موضوعات پر دلائل دیئے گئے ہیں ؟ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر، روز آخرت اور قیامت کے واقع ہونے پر، جزاء و سزا کی معقولیت پر، رسول اللہ کی نبوت پر، شرک کی تردید پر، من گھڑت معبودوں کی بےچارگی اور احتیاج پر، نافرمان اقوام سابقہ کے انجام پر مختلف پیراؤں میں دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور دلائل ایسے ہیں جنہیں سب لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور خارجی کائنات اور اپنی اندر کی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور ہر جگہ نئے اور اچھوتے طرز استدلال کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور وہ اتنی کثیر تعداد میں ہیں جو ایک طالب ہدایت کے لیے بہت کافی ہیں مگر ان لوگوں نے ایسی ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
133۔ خلاصہ ان تمام فرمائشوں کا یہ کہ ہم تو تمہارے دعوائے رسالت ونبوت میں تمہیں سچا اس وقت سمجھیں گے جب ایسے عجیب و غریب حسی ومادی خوارق سے ہمیں دوچار کردو۔ نبوت و رسالت کی کل کائنات ان ” عقلاء “ کے ذہن میں یہ تھی کہ نبی و رسول کو (نعوذباللہ) اعلی درجہ کا بازیگر یا شعبدہ باز ہونا چاہیے ! (آیت) ” جنۃ من نخیل وعنب “۔ کھجور اور انگور کے باغ اہل عرب کے نزدیک بہت ہی بڑی نعمت تھے۔ (آیت) ” فتفجر۔۔۔ تفجیرا “۔ پھر ان باغوں میں نہروں ندیوں کا چلنا اہل عرب کے نزدیک خوشحالی اور راحت کی آخری معراج تھی۔ (آیت) ” تسقط السمآء “۔ یہ آسمان کے ٹکڑوں کا گرانا اہل عرب کے نزدیک انتہائی قدرت کی دلیل تھی۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
آیت نمبر 85 تا 93
ترجمہ : یہود آپ سے روح کے بارے میں جس کے ذریعہ جسم انسانی زندہ ہوتا ہے سوال کرتے ہیں آپ ان کو جواب دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے جس کی حقیقت وہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، اور اس کے علم کی نسبت سے تمہیں بہت ہی کم دیا گیا اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن کو سلب کرلیں بایں طور کہ اس کو سینوں سے اور مصاحف سے مٹا دیں پھر آپ کو اس کیلئے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی میسر نہ ہو لیکن اس کو تیرے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر باقی رکھا ہے یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے، اس لئے کہ اس نے اس کو آپ پر نازل کیا اور مقام محمود آپ کو عطا کیا اور اس کے علاوہ دیگر…
Read the full tafseer →اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا : یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں آسمان کے ٹکڑے آپ
ہم پر نہ گرا دیں یعنی آسمان پھٹ جائے اور اس کے ٹکڑے ہم پر گرپڑیں۔ کِسَفٌ کِسْفَۃٌ: کی جمع ہے جیسے قطع قطعۃ کی جمع ہے کَسِفَۃٌ بمعنی قطعۃٌ کے ہے پارہ ‘ ٹکڑا۔
اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا : یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا نہ کھڑا کردیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قبیل کا ترجمہ کفیل کیا ہے یعنی اللہ اور ملائکہ کو اپنے دعوے (کی صداقت) کا ذمہ دار اور کفیل بنا کر پیش کرو جو شہادت دیں کہ تمہاری بات صحیح ہے اگر اس بات کو ماننے سے ماننے والوں کو کچھ نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ…
Read the full tafseer →(92) یا آپ ہم پر آسمان سے عذاب کا کوئی ٹکرا گرا دیں یا آپ اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو گواہ کرکے ہمارے سامنے لا کر نہ کھڑا کردیں۔
Read the full tafseer →اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ۔۔ :”كِسَفًا“ ”کِسْفَۃٌ“ کی جمع ہے، ٹکڑے۔ ”قَبِيْلًا“ بمعنی ”مُقَابِلاً“ ، جیسا کہ ”عَشِیْرٌ“ بمعنی ”مُعَاشِرٌ“ ہوتا ہے، یعنی آنکھوں کے سامنے۔ اس آیت میں ان کے دو مطالبے ذکر ہوئے۔ پہلے مطالبے میں ان بدنصیبوں کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے جس میں ارشاد ہے : (اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ سبا : 9 ] ”اگر ہم چاہیں تو انھیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔“ اس وعید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے وہ جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جیسا کہ سورة انفال (32) میں مذکور ہے۔ دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر 90 تا 93
قولہ تعالیٰ : وقالوا لن۔۔۔۔ ینبوعا یہ آیت رؤساء قریش کے بارے میں نازل ہوئی مثلا عتبہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان اور نضر بن حارث، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف اور ابو البختری، اور ولید بن مغیرہ وغیرہم۔ اور وہ اس طرح کہ جب وہ قرآن کریم کا معارض لانے سے عاجز آگئے اور وہ اس کے معجزہ ہونے پر بھی راضی نہ ہوئے، تو ابن اسحاق وغیرہ کے باین کے مطابق وہ کعبہ معظمہ کے پاس غروب آفتاب کے بعد اکٹھے ہوئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : محمد ﷺ کے پا سچلو اور ان سے گفتگو کرو، مباحثہ کرو یہاں تک کہ تمہیں اس بارے میں الزام سے بری کردیا جائے، پس انہوں نے آپ کی طرف پیغام بھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
قریش کا اجتماعی طور پر آپ ﷺ سے گفتگو :
1:۔ ابن جریر، ابن اسحاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور قبیلہ عبدالدار کا ایک آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابو البختری جو بنو اسد کے بھائی ہیں۔ اسود بن المطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ اتمام حجت ہوجائے…
Read the full tafseer →[اَوْ : یا ] [تُسْقِطَ : (یہاں تک کہ) آپ ﷺ گرائیں ] [السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [كَمَا : جیسا کہ ] [زَعَمْتَ : آپ ﷺ نے جتایا ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [كِسَفًا : ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے ] [اَوْ : یا ] [تَاْتِيَ : (یہاں تک کہ) آپ ﷺ لائیں ] [بِاللّٰهِ : اللہ کو ] [وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ : اور فرشتوں کو ] [قَبِيْلًا : ایک جماعت ہوتے ہوئے ]
ک س
[کَسْفًا : (ض) ] (1) کپڑے کاٹنا۔ (2) اللہ تعالیٰ کا چاند یا سورج کو گرہن لگانا۔
کِسْفٌ ج کِسَفٌ کسی چیز کا ٹکڑا۔ وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَائِ سَاقِطًا (اور اگر وہ لوگ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا ) 52:44 ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 92
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
قریش مکہ کی ہٹ دھرمی اور فرمائشی معجزت کا مطالبہ
جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کا کام شروع کیا اور مشرکین مکہ کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کے لیے فرمایا تو وہ دشمن ہوگئے، حق قبول کرنے سے دور بھاگتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح سے ستاتے تھے کٹ حجتی پر تلے ہوئے تھے۔ الٹے الٹے سوال کرتے اور بےتکی فرمائشیں کرتے تھے، جن میں سے چند فرمائشیں آیت بالا میں مذکور ہیں صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ قریش مکہ کے چند افراد جمع ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ جو آپ نے نئی باتیں شروع کی ہیں اگر ان کے ذریعہ آپ کو مال طلب کرنا مقصود ہے تو بتا دیجیے ہم آپ کو مال دیدیں گے آپ ہم میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
80:۔ یہ شکوہ ہے یعنی ہم نے حق سمجھانے کے لیے تو کوئی بات نہیں چھوڑی سب کچھ قرآن میں بار بار ذکر کردیا ہے مگر یہ معاندین ماننے کے بجائے محض ضد و تعنت سے حیلے تراشتے ہیں وقال کفار مکۃ تعنتا واقتراحا بعد مالزمتھم بیان اعجاز القران و انضمام غیرہ من المعجزات لن نومن لک الخ (مظھری ج 5 ص 495) مشرکین کے مطالبات کا یہاں ذکر کیا گیا انہیں وہ وقتا فوقتادہرایا کرتے تھے ان میں سے بعض کا تفصیلی جواب بھی دوسری جگہوں میں مذکور ہے۔ مشرکین نے کہا اے محمد ! جب تک تو مندرجہ ذیل مطالبات میں سے ہمارا کوئی ایک مطالبہ پورا نہ کر ڈالے اس وقت تک ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائینگے۔ (1) ” تفجر لنا من الارض “ تیرے حکم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا اللہ تعالیٰ نے چیلنج کردیا کہ سارے انسان اور جنات مل کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے قرآن حکیم وحی الہی ، اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا اتارا ہو اکلام ہے ، اس میں ماننے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے ، البتہ جو لوگ اس کا انکار کریں گے ، ان کے لیے سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ اکثر لوگ سوائے ناشکر گزاری کے کچھ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے مختلف عنوانوں ، مثالوں اور طریقوں سے اللہ کی وحدانیت ، رسالت انبیاء اور وقوع قیامت کے متعلق بات سمجھا دی ہے اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے تعصب ، عناد ، ہٹ دھرمی…
Read the full tafseer →اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92ۙ
سقط
السُّقُوطُ : طرح الشیء، إمّا من مکان عال إلى مکان منخفض کسقوط الإنسان من السّطح، قال تعالی: أَلا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا[ التوبة/ 49] ، وسقوط منتصب القامة، وهو إذا شاخ وکبر، قال تعالی: وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ ساقِطاً [ الطور/ 44] ، وقال : فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] ، والسِّقَطُ والسُّقَاطُ : لما يقلّ الاعتداد به، ومنه قيل : رجل سَاقِطٌ لئيم في حَسَبِهِ ، وقد أَسْقَطَهُ كذا، وأسقطت المرأة اعتبر فيه الأمران :
السّقوط من عال،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ترکیب : لایاتون جواب لئن ای جواب قسم محذوف دل علیہ اللام الموطّیۃُ ولولاھی لکان جواب الشرط بلاجزم لکون الشرط ماضیا۔ بیضاوی۔
تفسیر : منجملہ ان باتوں کے کہ جن سے قرآن مجید پر اعتراض کیا کرتے تھے ان کی ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اس قرآن میں کون سی خوبی ہے ؟ اگر چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بھی ہے کہ قرآن کی بابت فرمایا تھا کہ وہ ہماری طرف سے ہے اگر ہم چاہیں تو اس کو واپس لے جائیں پھر تمام مخلوق مل کر بھی زور لگائے تو ایسا قرآن نہ بنا سکے۔ کماقال قل لئن اجتمعت الخ کہ تم کیا اگر تمہارے ساتھ تمہارے وہ جن بھی شریک ہوں کہ جن سے تم مانگا کرتے ہو اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا۔ اَوْتَکُوْنَ لَکَ جَنَّـۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَـتُـفَجِّرَ الْاَنْھٰرَخِلٰـلَھَا تَفْجِیْرًا۔ اَوْتُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْتَا تِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلاً ۔ اَوْیَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآئِ ط وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِـیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِـتٰبـًا نَّـقْرَؤْہٗ ط قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُـنْتُ اِلاَّبَشَرًا رَّسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 90۔ 91۔ 92۔ 93)
(اور انھوں نے کہا ہم تو تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بار بار کے چیلنج کے باوجود کفار اس کا جواب نہ دے سکے۔ مگر اس کے باوجود رسول معظم ﷺ سے مزید مطالبات کرتے رہے۔
رسول معظم ﷺ کی عظیم جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس دلائل کی تاب نہ لانے کا نتیجہ تھا کہ کفار اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ ہر بار پہلے سے بڑھ کر مطالبہ کرتے۔ جب اس کا مثبت اور موثر جواب دیا جاتا تو ہلکان ہونے کی کیفیت میں کوئی اور مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک ہمارے یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
1۔ زمین سے ہمارے لیے چشمے جاری کیے جائیں۔
2۔ آپ کے لیے کجھوروں اور انگوروں کے ایسے باغ ہوں۔ جن کے درمیان نہریں جاری…
Read the full tafseer →92: اَوْتُسْقِطَ السَّمَآ ئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا ( یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں آسمان کے ٹکڑے ہم پر نہ گرا دیں)
قراءت : مدنی اور عاصم نے کسفاً کو سین کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی ٹکڑے ہے جیسے کہا جاتا ہے اعطنی کسفۃ من ھذہ الثوب۔ دیگر قراء نے سکون سین کے ساتھ پڑھا جو کہ کِسْفَۃٌ کی جمع ہے جیسے سِدْرَۃٌ وَسِدْرٌ۔ وہ اس سے وہی مراد لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ 1 ] سورة سبا : 9[
اَوْتَاتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ قَبِیْلًا ( یا آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو ہمارے…
Read the full tafseer →92۔” او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ً “ نافع ابن عامر اور عاصم نے ” کسفا ً “ سبین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد ٹکڑا ہے۔ یہ ” کسفۃ “ کی جمع ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک سین کے سکون کے ساتھ واحد ذکر کیا اور اس کی جمع اکساف اور کسوف ذکر کی ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے جوانب اس پر نہ گرجائیں ۔ بض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ کاٹنا اور یہ جمع تکسیر ہے جیسے سدرۃ اور سدر ہے۔
سورۃ شعراء اور سورة سباء میں ہے۔” او تائی باللہ والملائکۃ قبیلا ً “ حضرت ابن عباس ؓ نے ’ ’ قبیلا ً “ کا ترجمہ ” کفیلا ً “ سے کیا ہے۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ ضامن سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ قبیلہ سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
90۔ 93:۔ تفسیر ابن جریر میں کئی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اور سنن سعید بن منصور میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابوجہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت سے کہا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں اور اگر خلل دماغ کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں اگر تم مانو گے تو تمہارے لیے اچھا ہے ورنہ تم جانو یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو اس مکہ کی سرزمین پر باغ لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
166۔ آسمان کے ٹکڑے کرادینے کا مطالبہ :۔
سو انہوں نے کہا یا گرا دو ہم پر آسمان کے ٹکڑے جیسا کہ آپ کا دعوی ہے کہ قیامت آئے گی جس میں آسمان پھٹ پڑے گا اور ایسے اور ایسے ہوگا۔ اور اس سے آپ ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں حالانکہ وہ احمق اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے کہ قیامت کا وہ حادثہ اور اس کا وہ منظر اس دنیا میں اور اس طرح نہیں آئے گا کہ یہ زندہ سلامت بیٹھے دیکھتے رہیں، اور اوپر سے آسمان کے ٹکڑے گرپڑیں اور بس۔ نہیں بلکہ وہ تو اس وقت ہوگا جب یہ سارا علم درہم برہم ہوجائے گا جسکے بعد کسب واکتساب کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
167۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کو سامنے لاکھڑا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
ف 4 بدبختوں کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے جس میں ارشاد ہے : ان نشاء تخسف بہم الارض او نسقط الیھم کسفا من السمآء کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں۔ (سبا :9)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(17:91) فتفجر۔ فجر یفجر تفجیرا (باب تفعیل) تو پھاڑ لائے تو بہا لائے۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل فار کے جو نفی (لن نؤمن) کے بعد واقع ہوا ہے۔
خللھا۔ خلل۔ بوجہ ظرف (مفعول فیہ) کے منصوب ہے۔ ای وسط تلک الجنۃ یعنی اس جنت کے درمیان نہریں جاری کردیں جو بہہ رہی ہوں۔
تسقط۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل او جو الی ان کے معنی میں ہے تو گرا دے تو ڈال دے۔ اسقاط (افعال) مصدر۔ تسقط علینا۔ تو ہم پر گرا دے۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا۔ میں تسقط فعل السماء مفعول کسفا السماء سے حال ۔ کما زعمت جملہ معترضہ۔ یا جیسا آپ کا خیال ہے آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دیں۔ تاتی (ب) متعدی بوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93
تفجر تو بہا دے۔ جاری کردے۔ ینبوع چشمہ۔ نخیل کھجور کا درخت۔ عنب انگور۔ تسقط تو گراتا ہے۔ زعمت تو نے گمان کیا۔ کسف ٹکڑے ٹکڑے۔ قبیل سامنے۔ بیت گھر۔ زخرف سونا، سنہرا۔ ترقی تو چڑہ گیا۔ رقی چڑھنا۔ نقروہ جس کو ہم پڑھیں گے۔ بشر انسان۔
تشریح : آیت نمبر 90 تا 93
اللہ تعالیٰ نے کفار کے بےجا مطالبات اور معجزات کی فرمائش پر ہمیشہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ کی طاقتور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ چاہے تو ان کفار کی ہر فرمائش کو پورا کر دے لیکن یہ باتیں اللہ کی مصلحت کے خلاف ہیں۔ ان آیات میں بھی کفار و مشرکین کی ان ہی باتوں کو نقل کیا گیا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
شان نزول : ایک روز ابو جہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ نیا دین تم نے اگر روپے کی لالچ سے یا قوم کے سردار رہنے کی طمع سے نکالا ہے تو ہم روپیہ کا چندہ کرنے کو اور قوم کا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں، اور اگر دماغی بیماری ہوگئی ہے جس کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہو سکتا ہے، آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں۔ اگر تم مانو گے تو تمہارے لئے اچھا ہے ورنہ تم جانو۔ یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا : ” اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو مکہ کی سرزمین میں باغ لگا دو نہریں جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–95
[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
پیغمبروں کا دائرہ اختیار :
(ف 1) قرآن بےمثل اور بےنظیر صحیفہ آسمانی ہے ، انسانی ذہینت اور طاقت میں اس کا جواب ممکن نہیں ، اس میں ہر نوع کے لوگوں کے خیالات ملحوظ رکھے ہیں ، ایک عامی انسان سے لے کر فیلسوف ودانا تک کے لئے اس میں ہدایت ہے ، ہر دل و دماغ کے لوگ اس کی نعمتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں ، اور ہر قسم کی ترقی حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ بدبخت مکہ والے ، جن کی ذہینت مسخ ہوچکی ہے کم بختیوں میں مبتلا ہیں ، بجائے اس کے کہ اس نسخہ کیمیا سے فائدہ حاصل کریں ، بلاضرورت معجزات طلب کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں جناب ہم تو جب مانیں گے جب یہاں مکہ کی سنگلاخ زمین میں پانی کے چشمے پھوٹ نکلیں یا یہاں انگور اور…
Read the full tafseer →-92 یا جیسا تو ہم سے کہا کرتا ہے ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے یا تو اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لا کر کھڑا کر دے اور ہمارے سامنے لے آ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–94
ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔
13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔
Read the full tafseer →ان کا تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ اچھا وہ عذاب ہی لے آ جس سے تو ہم کو اکثر ڈرایا کرتا ہے :
110۔ انسانی عادت بھی بڑی عجیب ہے کہ جب اس کو غصہ آتا ہے تو وہ بحالت غصہ ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو عام حالت میں کبھی نہیں کہہ سکتا ۔ نبی اکرم ﷺ نے بحکم الہی نبوت کا دعوی کیا تو قریش مکہ کے غصہ کی انتہا نہ رہی اور عالم غصہ میں انہوں نے جو جو مطالبات کئے ان میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ اور کچھ نہیں تو ہمارے اوپر بادل کا ایک ٹکڑا ہی گرا دے اس طرح وہ گویا عذاب الہی کے مانگنے سے بھی نہ شرمائے ان کو کہا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ اس طرح کہنے میں بھی تم اکیلے نہیں تم سے پہلے بھی لوگوں نے ایسے ایسے مطالبات کئے لہذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
Commentary
A prophetic answer to hostile questions sounding absurd
The questions asked and the demands made in these verses from the Holy Prophet ﷺ were virtually conditions on the fulfillment of which his antagonists were supposed to believe. These conditions are such that anyone who hears them would find them nothing but some sort of weird mockery and certainly a very absurd excuse for not believing. While having to respond to such questions, one becomes naturally angry and retorts in the same manner. But, the answer that Allah Ta’ ala taught His prophet ﷺ to give against their impertinent…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
105. This challenge occurs at several other places in the Quran: (Surah Al-Baqarah, Ayat 23); (Surah Younus, Ayats 38-39); (Surah Al-Momin, Ayats 13-14); (Surah At-Toor, Ayats 33-34). At all these places, this has been cited as an answer to the charge of the disbelievers that Muhammad (peace be upon him) has himself invented the Quran but is presenting it as Allah’s Word. Besides this, the same has also been refuted in (Surah Younus, Ayat 16):“Say also, had not Allah willed that I should recite the Quran to you, I could not have recited it to you, nor could I have been able to give you any…
Read the full tafseer →