بخاری وغیرہ میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ مدینے کے کھیتوں میں جا رہے تھے آپ کے ہاتھ میں لکڑی تھی میں آپ کے ہمراہ تھا۔ یہودیوں کے ایک گروہ نے آپ کو دیکھ کر آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ آؤ ان سے روح کی بابت سوال کریں۔ کوئی کہنے لگا اچھا، کسی نے کہا مت پوچھو۔ کوئی کہنے لگے تمہیں اس سے کیا نتیجہ کوئی کہنے لگا شاید کوئی جواب ایسا دیں جو تمہارے خلاف ہو۔ جانے دو نہ پوچھو۔ آخر وہ آئے اور حضرت سے سوال کیا اور آپ اپنی لکڑی پر ٹیک لگا کر ٹھہر گئے میں سمجھ گیا کہ وحی اتر رہی ہے خاموش کھڑا رہ گیا اس کے بعد آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے حالانکہ پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 103
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے، یعنی لوگوں نے نبی ﷺ سے روح حیات کے متعلق پوچھا تھا کہ اس کی حقیقت کیا ہے، اور اس کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ معنی تسلیم کرنے میں سخت تامل ہے، اس لیے کہ یہ معنی صرف اس صورت میں لیے جاسکتے ہیں جبکہ سیاق وسباق کو نظر انداز کردیا جائے اور سلسلہ کلام سے بالکل الگ کر کے اس آیت کو ایک منفرد جملے کی حیثیت سے لے لیا جائے۔ ورنہ اگر سلسلہ کلام میں رکھ کر دیکھا جائے تو روح کو جان کے معنی میں لینے سے عبارت میں سخت بےربطی محسوس ہوتی ہے اور اس امر کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جہاں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ آپ سے (امتحانا) روح (کی حقیقت) کو پوچھتے ہیں آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ روح (کے متعلق بس اتنا اجمالا سمجھ لو کہ وہ ایک چیز ہے جو) میرے رب کے سے بنی ہے اور (باقی اس کی مفصل حقیقت سو) تم کو بہت تھوڑا علم (بقدر تمہاری فہم اور ضرورت کے) دیا گیا ہے (اور روح کی حقیقت کا معلوم کرنا کوئی ضرورت کی چیز نہیں اور نہ اس کی حقیقت عام طور پر سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے قرآن اس کی حقیقت کو بیان نہیں کرتا)
اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر آپ پر ہم نے وحی بھیجی ہے (اور اس کے ذریعہ آپ کو علم دیا ہے) سب سلب کرلیں پھر اس (وحی) کے (واپس لانے کے لئے) آپ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی بھی نہ ملے گا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 85 تا 111:۔ مخالفین کے اعتراضوں کے جواب : آگے مخالفین کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو وہ قرآن اور پیغمبر ﷺ کی رسالت کے خلاف اٹھاتے تھے۔ ساتھ ہی ان مطالبات کا حوالہ بھی ہے جو وہ اپنے ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کرتے تھے۔ ان مطالبات کو نقل کرکے ان کے جواب بھی دیے ہیں اور پیغمبر ﷺ کو یہ تسلی بھی کہ جن کے اندر علم کا نور ہے وہ اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں، رہے وہ لوگ جو طرح طرح کے معجزات کے مطالبے کر رہے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ…
Read the full tafseer →85۔ 1 روح وہ لطیف شے ہے جو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا۔ یہودیوں نے بھی ایک مرتبہ نبی ﷺ سے اس کی بابت پوچھا تو یہ آیت اتری (صحیح بخاری) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا علم، اللہ کے علم کے مقابلے میں قلیل ہے، اور یہ روح، جس کے بارے میں تم سے پوچھ رہے ہو، اس کا علم تو اللہ نے انبیاء سمیت کسی کو بھی نہیں دیا ہے اتنا سمجھو کہ یہ میرے رب کا امر (حکم) ہے۔ یا میرے رب کی شان میں سے ہے، جس کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
49: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اور جواب میں اتنی ہی بات بیان فرمائی گئی ہے جو انسان کی سمجھ میں آسکتی ہے، اور وہ یہ کہ روح کی پیدائش براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی ہے، انسان کے جسم اور دوسری مخلوقات میں تو یہ بات مشاہدے میں آجاتی ہے کہ ان کی پیدائش میں کچھ ظاہری اسباب کا دخل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے، لیکن روح ایسی چیز ہے جس کی تخلیق کا کوئی عمل انسان کے مشاہدے میں نہیں آتا، یہ براہ راست اللہ…
Read the full tafseer →اس آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ عقل انسانی پر روح کا انکشاف بند کردیا گیا ہے اور اسے روح کے میدان میں کام نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ یہاں عقل کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار اور اس حد تک محدود رہے جس تک وہ ادراک کرسکتا ہے ، کیونکہ بغیر حقیقی علم و ادراک کے بےتک باتیں کرنے سے حقیقت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ پھر عقل کی قوت کو ایسے کام میں کھپانا جس کا ادراک عقل کے لئے ممکن ہی نہ ہو ، ایک بےمقصد کام ہے۔ روح در حقیقت اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہ۔ اللہ کے سوا اس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نہ اس کا ادراک کوئی کرسکتا ہے۔ اور نہ وہ وسائل انسان کو دئیے گئے ہیں بلکہ یہ ایک لاہوتی راز ہے ، جو اس…
Read the full tafseer →3 یعنی روح انسانی کیا چیز ہے ؟ اس کی ماہیت و حقیقت کیا ہے ؟ یہ سوال صحیحین کی روایت کے موافق یہود مدینہ نے آنحضرت ﷺ کے آزمانے کو کیا تھا۔ اور سیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں قریش نے یہود کے مشورہ سے یہ سوال کیا۔ اسی لیے آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے، ممکن ہے نزول مکرر ہوا ہو واللہ اعلم۔ یہاں اس سوال کے درج کرنے سے غالباً یہ مقصود ہوگا کہ جن چیزوں کے سمجھنے کی ان لوگوں کو ضرورت ہے ادھر سے تو اعراض کرتے ہیں اور غیر ضروری مسائل میں از راہ تعنت وعناد جھگڑتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس کی تھی کہ وحی قرآنی کی روح سے باطنی زندگی حاصل کرتے اور اس نسخہ شفا سے فائدہ اٹھاتے (وَكَذٰلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا
روح کے بارے میں یہ سوال ان تین سوالات میں سے تھا جو ایک مرتبہ مدینہ کے یہودیوں نے قریش مکہ کے ذریعے رسول اللہ سے پوچھ بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا اور دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان دونوں سوالات کے تفصیلی جوابات سورة الکہف میں دیے گئے ہیں مگر روح کے متعلق سوال کا انتہائی مختصر جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔
اس بارے میں یہاں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور عالم امر چونکہ عالم غیب ہے اس لیے اس کے بارے میں تم لوگ کچھ نہیں جان سکتے۔ انسان کے علم کا ذریعہ اس کے…
Read the full tafseer →106 روح سے مراد وحی الہی ہے :۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمایئے :
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نبی اکرم کے ساتھ ایک کھیت میں جارہا تھا۔ آپ کھجور کی ایک چھڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اتنے میں چند یہودی سامنے سے گزرے اور آپس میں کہنے لگے اس پیغمبر سے پوچھو کہ روح کیا چیز ہے کسی نے کہا، کیوں ایسی کیا ضرورت ہے ؟ اور کسی نے کہا، ممکن ہے وہ تمہیں کوئی ایسی بات کہہ دے جو تمہیں ناگوار گزرے۔ آخر یہ یہی طے ہوا کہ پوچھو تو سہی۔ چناچہ انہوں نے آپ سے پوچھا، روح کیا چیز ہے ؟ آپ (تھوڑی دیر) خاموش رہے اور انھیں کچھ جواب نہ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی آنے لگی ہے…
Read the full tafseer →124۔ (کہ اس کی حقیقت وماہیت کیا ہے) یہ سوال کرنے والے یا تو مشرکین قریش تھے (جیسا کہ نسائی وترمذی کی روایتوں میں آیا ہے) اور یا یہود مدینہ تھے (جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے) بہر صورت سائل جو بھی ہوں سوال سے مقصود استفادہ اور اپنے جہل کا دور کرنا نہ تھا بلکہ مقصود امتحان تھا۔
125۔ (اور اس لیے تمام دوسری مخلوقات کی طرح حادث وفانی ہے) قرآن کی اس مختصر وحکیمانہ، جامع ولفظی جواب نے ان تمام لاطائل بحثوں کی بےحاصلی ظاہر کردی جو صدیوں سے جاہلی فلاسفہ کے درمیان چلی آرہی تھیں۔ مثلا یہ کہ روح مجرد ہے یا مادی ؟ بسیط ہے یا مرکب ؟ جو ہر ہے یا عرض ؟ وغیرہا۔ روح کی حقیقت بھی منجملہ ان مسائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
آیت نمبر 85 تا 93
ترجمہ : یہود آپ سے روح کے بارے میں جس کے ذریعہ جسم انسانی زندہ ہوتا ہے سوال کرتے ہیں آپ ان کو جواب دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے جس کی حقیقت وہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، اور اس کے علم کی نسبت سے تمہیں بہت ہی کم دیا گیا اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن کو سلب کرلیں بایں طور کہ اس کو سینوں سے اور مصاحف سے مٹا دیں پھر آپ کو اس کیلئے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی میسر نہ ہو لیکن اس کو تیرے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر باقی رکھا ہے یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے، اس لئے کہ اس نے اس کو آپ پر نازل کیا اور مقام محمود آپ کو عطا کیا اور اس کے علاوہ دیگر…
Read the full tafseer →وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا
اور یہ لوگ آپ سے (بطور امتحان) روح کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے ‘ اور (غیر مادی اشیاء کا) تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑاسا۔ یعنی روح اس کائنات میں سے ہے جس کی ایجاد بغیر مادہ کے صرف لفظ کن سے ہوئی ہے۔ اعضائے جسم کی پیدائش کی طرح اس کی پیدائش کسی مادی اصل سے نہیں ہے۔ سوال کرنے والوں کی سمجھ کے اندازے کے مطابق جواب دے دیا گیا جس سے اتنا معلوم ہوگیا کہ دوسری مادی مخلوق کی طرح روح کی ہستی نہیں ہے ‘ بلکہ سب سے الگ ہے لیکن یہودیوں نے…
Read the full tafseer →(85) اے محمد ﷺ یہ لوگ آپ سے روح کی حقیقت کو پوچھتے ہیں، اہل مکہ یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے روح کے متعلق آپ سے دریافت کیا تھا، آپ فرما دیجیے کہ وہ میرے پروردگار کے عجائبات میں سے یا یہ اس کے علم اور حکم سے بنی ہے اور علوم خدا وندی میں سے تمہیں بہت تھوڑ اعلم دیا گیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ویسئلونک عن الروح“۔ (الخ)
امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں جارہا تھا۔ آپ کھجور کی ایک چھڑی پر ٹیک دیے ہوئے تھے، آپ کا گزر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا وہ آپس میں کہنے لگے کہ ان سے کچھ پوچھو، چناچہ وہ بولے…
Read the full tafseer →ۧوَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ۔۔ : عبداللہ بن مسعود ؓ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بعض یہود کے روح سے متعلق سوال کرنے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ دیکھیے بخاری، العلم، باب قول اللہ تعالیٰ : (وما أوتیتم من العلم إلا قلیلا) : 125۔ مسلم : 2794 ] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، مگر یہ سورت مکی ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قریش نے یہود سے کہا : (أَعْطُوْنَا شَیْءًا نَسْأَلُ عَنْہُ ہٰذَا الرَّجُلَ ، فَقَالُوْا سَلُوْہُ عَنِ الرُّوْحِ ، فَسَأَلُوْہُ ، فَنَزَلَتْ : (ۧوَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 85
امام بخاری، امام مسلم اور ترمذی نے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : اس اثنا میں کہ میں حضور نبی مکرم ﷺ کی معیت میں ایک کھیت میں تھا درآنحالیکہ آپ کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ وہاں سے یہودی گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : تم ان سے روح کے بارے سوال کرو، تو آپ نے فرمایا : کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے ؟ اور ان میں سے بعض نے کہا : وہ تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف متوجہ نہیں کریں گے جسے تم ناپسند کرتے ہو، تو انہوں نے کہا : پس تم ان سے سوال کرو۔ چناچہ انہوں نے آپ سے روح کے بارے سوال کردیا تو حضور نبی مکرم ﷺ رکے رہے اور ان پر کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “ (کہ روح کے بارے میں) یہودیوں نے آپ سے سوال کیا تھا۔
2:۔ احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن منذر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا مدینہ منورہ کی ویران جگہوں میں اور آپ کھجور کی ایک ٹہنی پر سہارے چل رہے تھے یہود کی ایک قوم سے گذرے ان کے بعض نے بعض سے کہا ان سے روح کے بارے میں سوال کرو لیکن بعض نے کہا کہ ان سے تم مت سوال کرو مگر انہوں نے آپ سے پوچھا اور کہنے لگے اے محمد ﷺ روح کیا ہے ؟ آپ برابر…
Read the full tafseer →[وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنِ الرُّوْحِ : روح کے بارے میں ] [قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [الرُّوْحُ : روح ] [مِنْ اَمْرِ رَبِيْ : میرے رب کے حکم سے ہے ] [وَمَآ اُوْتِيْتم : اور تم لوگوں کو نہیں دیا گیا ] [مِّنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا سا ]
نوٹ۔ 1: روح کے متعلق جتنی بات کا بتانا ضروری تھا، اور جو لوگوں کی سمجھ میں آنے کے قابل ہے صرف وہ بتادی گئی اور روا کی مکمل حقیقت جس کا سوال تھا اس کو اس لئے نہیں بتایا کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اور ان کی کوئی ضرورت اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں تھی۔ اس علم کے ساتھ ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
روح کے بارے میں یہودیوں کا سوال اور رسول اکرم ﷺ کا جواب
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھیتوں کے درمیان سے گزر رہا تھا اس وقت آپ کھجور کی ٹہنی پر ٹیک لگا کر تشریف لے جا رہے تھے وہاں سے یہودیوں کا گزر ہوا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو۔ پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ دریافت کریں یا نہ کریں۔ ممکن ہے کہ ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر کہنے لگے اچھا دریافت کرلو۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا آپ ٹھہر گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں اپنی جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ظالموں کے ایک معاندانہ سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ : ویسئلونک من الروح .... الیٰ .... ان فضلہ کان علیک کبیرا۔
(ربط) گزشتہ آیت ولا یزید الظلمین الا خسارا : میں جن ظالموں کی عداوت کا ذکر فرمایا یہ ظالم قرآن عظیم اور نبی کریم ﷺ پر طرح طرح کی نکتہ چینیاں کرتے تھے ازاں جملہ یہ ہے کہ ایک بار قریش نے باہم فیصلہ اور مشورہ کیا کہ یہود اہل علم اور اہل کتاب ہیں ان سے دریافت کرکے کوئی بات محمد ﷺ سے ایسی پوچھنی ہے کہ جس کا جواب آپ ﷺ سے نہ بن سکے۔ چناچہ قریش نے یہود سے دریافت کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو مدینہ بھیجا انہوں نے مشرکین سے کہلا بھیجا کہ وہ آپ ﷺ سے تین باتیں پوچھیں۔
(1) روح کی بابت سوال کرو۔
(2)…
Read the full tafseer →76:۔ شکوی ہے۔ یہ مشرکین آپ سے روح کی حقیقت پوچھتے ہیں بھلا اس کی کیا ضرورت ہے آپ کی صداقت اور سچائی کو ثابت اور واضح کرنے کے لیے معجزہ اسراء کافی نہیں ہے ؟ اور پھر قرآن بجائے خود بہت بڑا بلکہ سب سے بڑا معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ قرآن ایک ایسا بےنظیر معجزہ ہے کہ اگر تمام جن و انس مل کر بھی اس کا مقابلہ کریں تو اس کا مثل پیش نہ کرسکیں۔ یہ سوال یہود مدینہ کے سکھانے پر مشرکین مکہ نے کیا تھا۔ ” قل الروح من امر ربی الخ “ فرمایا جواب میں صرف یہی کہہ دو کہ روح ایک امر ربی ہے جو اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا کہ یہ روحانی بیماریوں کے لیے شفا بخش اور اللہ کی مہربانی اور رحمت کا ذریعہ ہے ، ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ قرآن پاک کی شفا اور رحمت سے مستفید ہونے کے لیے استعداد اور صلاحیت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ظالموں کے حق میں یہ نقصان ہی کو زیادہ کرتا ہے ، اللہ نے انسان کی ناشکری کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ محاسبہ اعمال یقینا ہوگا اللہ تمام انسانوں کے اعمال اور کوائف سے باخبر ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کے راستے پر چل رہا ہے اور کون گمراہی میں متبلا ہے ، اب آج کی آیت کریمہ میں روح کا ذکر ہے اس کے بعد پھر قرآن کریم کا ذکر آئے گا اور…
Read the full tafseer →وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
1 ؎ روح کو ایک گروہ عقلاء صرف یہی کہتا ہے کہ وہ خون کی لطیف بھاپ ہے جس کے زور سے ذی روح کی کل چل رہی ہے جب وہ نہیں تو سب کام بگڑ جاتا ہے اس ذی روح کے مرنے بعد پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا چناچہ یورپ کے دہری اور مادی لوگ اسی کے قائل ہیں جس لیے وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر نہ کوئی ثواب ہے نہ عذاب ہے کیونکہ وہ باقی تو رہی نہیں گر یہ خیال محض مغالطہ ہے جس کی غلطی کا اب یورپ کے حکماء پر بھی انکشاف ہو چلا ہے کیونکہ ایک جماعت حکماء قائل ہوگئی ہے کہ مرنے کے بعد روح ایک نورانی پیکر میں جو جسم اول سے مناسبت رکھتا ہے قائم رہتی ہے ہم کو پہلی باتیں سب یاد رہتی ہیں وہ رنج راحت بھی پاتی ہیں۔ حکمائِ یونان…
Read the full tafseer →وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْـتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 85)
(وہ آپ ﷺ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے ! کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم بس تھوڑا سا علم دیے گئے ہو۔ )
روح سے متعلق سوال کا جواب سیاق وسباق کی روشنی میں
اگلی آیات میں ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی رسالت کے حوالے سے کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے ایسے ہی ایک سوال کا جواب ہے۔ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور انھیں بتاتے کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی کتاب کی ہیں جو مجھ پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے قرآن مجید کے فضائل اور اوصاف کا ذکر ہوا۔ اب اسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
اس آیت میں روح کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ روح کیا چیز ہے ؟ روح کے بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہاں روح سے مراد نفس انسانی ہے۔ جس کے بارے میں صرف یہ جواب دیا گیا ہے۔ کہ اے پیغمبر ! لوگ آپ سے استفسار کرتے ہیں کہ ” اَلرُّوْحُ “ کیا چیز ہے ؟ انہیں فرمائیں کہ ” روح “ اللہ کا حکم ہے۔ جب چاہتا ہے اپنا حکم واپس لیلیتا ہے۔ روح نکلنے سے انسان کا جسد خاکی ایک ڈھا نچے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جسم بالآخر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ اہل علم کی دوسری جماعت کا…
Read the full tafseer →روح کا سوال :
85: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ (اور آپ سے روح کے متعلق وہ سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیں) الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (روح میرے رب کا حکم ہے) یعنی ایسے معاملات میں سے ہے جس کو میرا رب جانتا ہے۔
جمہور کا قول :
حیوان میں جو روح پائی جاتی ہے اس کے متعلق انہوں نے سوال کیا تھا کہ اس کی حقیقت کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اطلاع دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یعنی ان چیزوں میں سے جس کا حقیقی علم اس ہی کے پاس ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور روح کے متعلق نہ جانتے تھے۔ (واحدی فی الوسیط) پہلے لوگ اس کی حقیقت کو دریافت کرنے سے عاجز و درماندہ ہوئے…
Read the full tafseer →ویسئلونک عن الروح کی تفسیر
تفسیر 85۔ ویسئلونتک عن الروح قل الروح من امر ربی “ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کی ایک کھیتی میں چل رہے تھے اور وہ ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ کے پاس یہود کی ایک جماعت گزری ۔ ان میں سے بعض نے بعض سے پوچھا کہ ان سے رح کے متعلق سوال کرو اور ان میں سے بعض نے کہا کہ تم اس کے بارے میں سوال نہ کرو کہ تم ایسی چیز کے بارے میں پوچھتے ہو جو ناپسندیدہ ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور بالضرور ان سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیا ، اے ابو القاسم ! روح کیا چیز ہے ؟ اس پر آپ خاموش ہوگئے تو میں نے کہا…
Read the full tafseer →85۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے روح کا حال پوچھا تھا اور نجاری کی روایت میں یہ صراحت بھی آچکی ہے کہ یہود کا یہ سوال مدینہ میں تھا اس صورت میں اس آیت کا نازل ہونا مدینہ میں ہے اور یہ آیت مدنی ہے 1 ؎۔ لیکن ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود کے سکھلانے سے قریش نے مکہ میں آنحضرت سے روح کا سوال کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے 2 ؎۔ اس صورت میں یہ آیت مکی ٹھہرتی ہے اس حدیث کی سند بھی معتبر ہے اس واسطے حافظ ابن کثیر اور معتبر علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ آیت قریش کے سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر (85:
یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کو باز رکھنے کو متضمن ہے جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن سے ان کا مقصد محض تعنت اور مسول کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ درآنحالیکہ وہ اہم امور کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔ پس وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس کا تعلق مخفی امور سے ہے۔ کوئی شخص بھی روح کا وصف اور اس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس علم میں بھی قاصر ہیں جس کے وہ محتاج ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ نے فرمایا کہ وہ ان کے سوال کا یہ جواب دیں۔ (قل الروح من امر ربی) ” کہہ دیجیے ! روح میرے رب کے امر سے ہے “ یعنی من جملہ مخلوقات سے ہے جن کے بارے میں میرے رب نے حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
روح کی کیفیت
قول باری ہے (ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی۔ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو ” یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے۔ “ لوگوں نے کس روح کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کیا تھا ؟ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ ایک فرشتہ تھا جس کے ستر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستر ہزار زبانیں ہیں جن سے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے جاندار کی روح مراد ہے۔ کلام سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے روح کے متعلق سوال کیا تھا۔ جاندار کی روح اس جسم لطیف کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
151۔ تھڑ حوصلہ اور تنگ ظرف انسان کا حال :۔
کہ کوئی نعمت ملی تو منہ موڑ لیا اور کوئی تکلیف پہنچی۔ والعیاذ باللہ، تو مایوس ہوگیا۔ جو علامت اور دلیل ہے اس کے تنگ ظرف اور تھڑ حوصلہ ہونے کی۔ بجز ان لوگوں کے جو سچے ایمان اور پکے عقیدے کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں کہ ان کی شان ان کے مالک کے فضل وکرم سے اس سے مختلف اور بہت بلند وبالا ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تو اس دنیائے دوں کی ساری دولت کی حیثیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں ہوتی۔ فیاعجبا لعظمۃ الایمان وخشیۃ الکفر والحرمان، سو مومن صادق اس کے برعکس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کیلئے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت پر صبر کرتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →روح کی حقیقت
تشریح : اس آیت کا شان نزول اس طرح ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ ہم محمد ﷺ سے پوچھیں کہ روح کیا چیز ہے ؟ اگر تو انہوں نے بتا دیا تو ٹھیک ورنہ پھر یہ سچے نہیں۔ جب انہوں نے آپ سے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو کہہ دو کہ ” روح اللہ کا حکم ہے جو انسان کو طاقت عطا کرتا ہے کہ وہ حرکت کرسکے بس تم اتنا ہی سمجھ لو۔ “ اس وقت کے لوگوں کے لیے یہی علم کافی تھا مگر اب تو روح کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے سائنس دان پاگل ہو رہے ہیں۔ اصل میں جسم اور روح مل کر انسان مکمل ہوتا ہے۔ جسم کے اجزا تو معلوم کرلیے گئے مگر روح ڈالنا انسان کے نہ تو بس میں ہے اور نہ عقل میں آرہا ہے۔
انسانی جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 7 یعنی اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آ پڑی وہ جی اٹھا جب نکل گئی وہ مرگیا۔ اس کے علاوہ روح کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔8 یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں تمہیں دیا ہوا علم کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ایسے امور کے متعلق سوال کرنا ہی فائدہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہوے کہ میدنہ میں چند یہودیوں کے روح کے متعلق سوال کرنے پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری مسلم) مگر نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ یہود کے اشارے پر قریش نے آنحضرت سے یہ سوال کیا تھا۔ اس بنا پر اس آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت تو مکہ میں ہی نازل ہوچکی ہو مگر جب مدینہ میں یہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(17:83) اعرض۔ اعراض (افاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔
نا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نأی مصدر و مادہ (باب فتح) وہ دور ہوگیا۔ اس نے روگردانی کی۔ نابجانبہ۔ اس نے اپنے اپنے پہلو کو دور کرلیا۔ قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے وہم ینھون عنہ وینئون عنہ (6:26) اور وہ اس سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور خود بھی اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
یئوسا۔ یأس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ ناامید۔ یأس ویائسۃ مصدر یائس ناامید !
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 85
یسئلون وہ پوچھتے ہیں۔ سوال کرتے ہیں۔ امر حمک۔ ما اوتیتم تمہیں نہیں دیا گیا۔ قلیل تھوڑا۔
تشریح : آیت نمبر 85
قرآن کریم فلسفہ اور منطق کی کتاب نہیں ہے جس میں ذرا ذرا سی باتوں پر طویل بحثیں کی جائیں بلکہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب زندگی ہے جو انسان کو فلسفیانہ انداز فکر سے ہٹا کر عمل کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ درحقیقت عمل ہی سے انسان کی زندگی جنت یا جہنم بنتی ہے۔ وہ لوگ جو پوری زندگی صرف اسی میں لگے رہتے ہیں کہ یہ کیا ہے وہ کیا ہے ؟ روح کیا ہے ؟ امر کیا ہے اور عمل پر آمادہ نہیں ہوتے ایسے لوگ فلسفے کے بیمار تو لگتے ہیں لیکن ان کی زندگیاں عمل سے دور رہتی ہیں اور وہ کبھی…
Read the full tafseer →روح کا بیان
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ کے پاس مشرکین کو بھیجا کہ وہ آپ سے تین سوال کریں۔ (1) روح کیا چیز ہے۔ (2) ذوالقرنین کی بابت۔ (3) اصحاب کہف کا قصہ۔ اور یہ کہا دیا تھا کہ اگر آپ دو باتیں بتا دیں تو سمجھ لینا کہ آپ نبی ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے آ کر سوال کیا تو وہ دونوں سوالات تو پورے پورے بیان کئے اور روح کی بابت یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ آپ سے یہ لوگ روح کی کیفیت پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دیں کہ روح کی کیفیت کے معلوم کرنے کی طاقت انسان میں نہیں ہے۔ پہلے بھی پیغمبروں نے باریک باتیں لوگوں سے نہیں کیں، اتنا جاننا کافی ہے کہ خدا کے حکم سے ایک چیز جسم میں داخل ہوتی ہے، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–95
[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–91
(ف 1) یہاں کس روح کے متعلق پوچھا جا رہا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے قرآن نے روح کو متعدد معانی میں استعمال کیا ہے ، روح جبرائیل (علیہ السلام) کو بھی کہتے ہیں اور قرآن کو بھی اس طرح روح مراد روح حیوانی بھی ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ، مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے یہ یہاں روح سے متعارف روح مراد ہے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے ، اس قسم کے سوالات کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ، پیغمبر کے فرائض میں یہ چیز داخل نہیں ہے کہ وہ تمہیں روح کی حقیقت سمجھائے وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ روح کو جو کچھ بھی وہ ہے تازگی اور نمود بخشے ، اسے تزکیہ وتطہیر سے اس قابل بنائے کہ وہ فضائے قدس میں پرواز کرسکے تمہارا علم محدود ہے ،…
Read the full tafseer →-85 اور اے پیغمبر لوگ آپ سے روح کی حقیقت کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے لے اور میرے پروردگار کے امرکن سے بنی ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا مگر بہت تھوڑا۔ یعنی آپ کا امتحان لینے کی غرض سے آپ سے دریافت کرتے ہیں اور یہود ان کو سکھاتے ہیں کہ یہ سوال کرو۔
روایات میں ہے کہ کچھ لوگ مکہ معظمہ میں گئے اور وہاں کے یہود سے دریافت کیا کہ یہ شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے کوئی ایسی بات بتائو جو ہم اس سے دریافت کریں یہود نے ان کو سکھایا کہ تم ذوالقرنین اور اور اصحاب کہف اور روح انسانی کے متعلق سوال کرو ہوسکتا ہے کہ کفار مکہ اور یہود نے مل کر یہ سوال کیا ہو۔ بہرحال جواب دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–94
ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔
13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔
Read the full tafseer →یہود کے اکسانے پر جو سوال قریش نے کیے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ روح کیا ہے ؟
103: ترمذی ، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ قریش مکہ نے علمائے یہود سے سن کر یہ سوال نبی کریم ﷺ سے کیا تھا کہ روح کیا ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قرآن کریم کے الفاظ : یَسْـَٔلُوْنَكَ اس کی تصدیق کے لیے کفایت کرتے ہیں۔ تورات اور انجیل میں ” روح “ کا لفظ فرشتہ کے لیے بولا گیا ہے اور قرآن کریم نے فرشتہ اور وحی دونوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ پس یہاں الرُّوْحِ 1ؕ سے مقصود جسم انسانی کی روح ہے یا فرشتہ ؟ اس کے متعلق ائمہ تفسیر کی آراء الگ الگ ہیں ، لیکن اکثر مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس جگہ الرُّوْحِ 1ؕ سے مقصود جسم…
Read the full tafseer →Commentary
The first verse (85) appearing above carries a question posed by disbelievers about Ruh (soul, spirit) along with its answer that came from Allah Ta` ala. The word: اَلرُّوح (al-ruh) is used in the Arabic language and idiom, and in the Holy Qur'an as well, to convey several meanings. The well-recognized meaning taken from this word is common knowledge, that is, the soul on which depends life. In the Holy Qur'an, this word has also been used for the archangel, Jibra'il al-Amin (علیہ السلام) (Gabriel, the Trust-worthy): " نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ " (The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
103. It is generally understood that the Arabic word Rooh stands here for soul as if the people asked the Prophet (peace be upon him) about the soul of man in regard to its nature, and the answer was that it came by the command of Allah. But we have great hesitation in accepting this meaning for it could be taken only if the verse be isolated from its context; otherwise these words would become quite incoherent for there is no reason why the question about soul should have intervened between the preceding three verses and following verses which deal with the theme of the Quran.
If we read the…
Read the full tafseer →