Explained with ayahs 83–84
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہوجاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہچان ہی نہیں اور جہاں مصیبت، تکلیف، دکھ، درد، آفت، حادثہ پہنچا اور یہ ناامید ہوا، سمجھ لیتا ہے کہ اب بھلائی، عافیت، راحت، آرام ملنے ہی کا نہیں۔ قرآن کریم اور جگہ ارشاد فرماتا ہے آیت (وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ) 11۔ ھود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 102
یعنی جو لوگ اس قرآن کو اپنا راہنما اور اپنے لیے کتاب آئین مان لیں ان کے لیے تو یہ خدا کی رحمت اور ان کے تمام مذہبی، نفسانی، اخلاقی اور تمدنی امراض کا علاج ہے۔ مگر جو ظالم اسے رد کر کے اور اس کی راہنمائی سے منہ موڑ کر اپنے اوپر آپ ظلم کریں ان کو یہ قرآن اس حالت پر بھی نہیں رہنے دیتا جس پر وہ اس کے نزول سے، یا اس کے جاننے سے پہلے تھے، بلکہ یہ انہیں الٹا اس سے زیادہ خسارے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک قرآن آیا نہ تھا، یا جب تک وہ اس سے واقف نہ ہوئے تھے، ان کا خسارہ محض جہالت کا خسارہ تھا۔ مگر جب قرآن ان کے سامنے آگیا اور اس نے حق اور باطل کا فرق کھول کر…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ لفظ شَاكِلَتِهٖ کی تفسیر میں ائمہ سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں طبیعت عادت جبلت نیت طریقہ وغیرہ اور حاصل سب کا یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنے ماحول اور عادات اور رسم و رواج کے اعتبار سے ایک عادت اور طبعیت ثانیہ بن جاتی ہے اس کا عمل اسی کے تابع رہتا ہے (قرطبی) اس میں انسان کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ برے ماحول بری صحبت اور بری عادتوں سے پرہیز کرے نیک لوگوں کی صحبت اور اچھی عادات کا خوگر بنے (جصاص) کیونکہ اپنے ماحول اور صحبت اور رسم و رواج سے انسان کی ایک طبیعت بن جاتی ہے اس کا ہر عمل اسی کے تابع چلتا ہے۔
امام جصاص نے اس جگہ شاکلہ کے ایک معنی ہم شکل کے…
Read the full tafseer →قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا۔ لفظ " کل " اگرچہ نکرہ ہے لیکن بعض مواقع میں، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، یہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے یعنی اس سے وہی جماعتیں یا اشخاص مراد ہوتے ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہوتا ہے۔
معاملہ اللہ کے حوالے کرنے ہدایت : شاکلۃ کے معنی طریقہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری بات سننے پر آمادہ نہیں ہو تو تم اپنی روش پر گامزن رہو گے اور میں بہرحال اپنی دعوت پر قائم رہوں گا۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سیدھے راستے پر کون ہے، اپنے زعم کے مطابق تم یا میں اور میرے ساتھی۔ آگے آنے والے…
Read the full tafseer →84۔ 1 اس میں مشرکین کے لئے تہدید و وعید ہے اور اس کا وہی مفہوم ہے جو سورة ہود کی آیت 121۔ 122 کا ہے۔ وقل للذین لا یومنون اعملوا علی مکانتکم انا عملون۔ شاکلۃ کے معنی نیت دین طریقے اور مزاج و طبیعت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں کافر کے لیے ذم اور مومن کے لیے مدح کا پہلو ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان ایسا عمل کرتا ہے جو اس کے اخلاق و کردار پر مبنی ہوتا ہے جو اس کی عادت و طبیعت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
48: اس آیت کریمہ میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ حق یعنی اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہونے والا ہے، چنانچہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کرلیا اور حرم میں داخل ہو کر کعبے میں بنے ہوئے بت گرائے تو اس وقت آپ کی زبان مبارک پر یہی آیات تھیں۔
Read the full tafseer →یہاں نہایت ہی نرم الفاط میں تنبیہ کی گئی ہے اور ہر شخص کا ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنے رحجان ، طرز عمل اور نظام زندگی کے بارے میں اچھی طرح غور کرلے ، احتیاط کرے اور یہ تسلی کرلے کہ اس کا طرز عمل ، نظام فکر اور نظام زندگی اسلامی ہدایات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسے اللہ کے راستے کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔
بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ لیکن قرآن کریم کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور انسانی عقل اور قوت مدر کہ ان ہدایات یا ان موضوعات کو سمجھ سکے اور سہولت کے ساتھ اپنی گرفت میں لے سکے۔ لہٰذا اسلام اور قرا ان فکری قوت کو…
Read the full tafseer →2 یعنی ہر ایک کافر و مومن اور معرض و مقبل اپنے اپنے طریقے، نیت، طبیعت اور مذہب پر چلتا اور اسی میں مگن رہتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ خدا کے علم محیط سے کسی شخص کا کوئی عمل باہر نہیں ہوسکتا وہ ہر ایک کے طریق عمل اور حرکات و سکنات کو برابر دیکھ رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے کہ کون کتنا سیدھا چلتا ہے اور کس میں کس قدر کجروی اور کجراہی ہے ہر ایک کے ساتھ اسی کے موافق برتاؤ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 84 قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ
”شاکلہ“ سے مراد ہر انسان کی شخصیت کا مخصوص سانچہ ہے جیسے آپ کو کسی دھات سے کوئی شے بنانی ہے تو پہلے اس کا ایک سانچہ pattern بناتے ہیں اور اس دھات کو پگھلا کر اس میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دھات وہی مخصوص شکل اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی شخصیت کے مخصوص سانچے کی تشکیل میں انسان کے موروثی genes اور اس کا خارجی ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گویا موروثی عوامل اور ماحولیاتی عوامل کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا جو ہیولیٰ بنتا ہے وہی اس کا شاکلہ ہے۔ کسی شخص نے نیکی اور برائی کے لیے جو بھی محنت اور کوشش کرنی ہے وہ اپنے اس شاکلہ کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ گویا…
Read the full tafseer →105 شاکلہ کا مفہوم :۔ شاکلۃ کے معنی طور طریقہ، ڈھب، ڈھنگ، یعنی ہر انسان اپنی افتاد طبع کے مطابق کام کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص صدقہ علانیہ دیتا ہے اور اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور دوسرا صدقہ پوشیدہ طور پر دیتا ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ نمائش نہ ہو۔ اب دیکھئے نیت دونوں کی بخیر ہے لیکن طریقہ اور انداز فکر الگ الگ ہے۔ یا مثلاً رسول اللہ رات کو نکلے اور دیکھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نماز میں آہستہ آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ پوچھا اتنا آہستہ کیوں پڑھتے ہو ؟ عرض کیا، اس لیے کہ میرا رب بہرا نہیں ہے کہ چلا کر پڑھوں۔ آگے گئے تو دیکھا کہ سیدنا عمر بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →123۔ (اور وہی سب کو ان کے موافق حال جزادے گا) آیت میں یہ بتایا کہ کسی کو حق نہیں کہ یونہی بلادلیل شرعی اپنے کو راہ حق پر سمجھ لے۔ (آیت) ” قل کل یعمل علی شاکلتہ “۔ یعنی ہر شخص کی ایک خاص افتاد طبیعت ہوتی ہے۔ اور وہ اسی کے مطابق عمل کرتا ہے خواہ وہ عمل نیک ہو یا بد مقتضا ہو علم صحیح کا یا جہل قبیح کا۔ (آیت) ” علی شاکلتہ “۔ یعنی اپنی افتاد طبیعت کے مطابق۔ اے علی مذھبہ وطریقتہ التی تشاکل کل مالہ فی الھدی والضلالۃ (کشاف) اے علی نیتہ وامرہ ھو علیہ (ابن عباس ؓ قال مجاہد علی طبیعتہ وقیل علی عادتہ التی الفھا (جصاص) الشاکلۃ الطریقۃ والمذھب الذی قیل علیہ قالہ الفراء (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
ترجمہ : سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک رات کی تاریکی کے آنے تک نماز قائم کرو یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نماز، اور فجر کا قرآن یعنی فجر کی نماز قائم کرو، یقیناً فجر کی نما (کا وقت) حاضری کا وقت ہے جس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور رات کے کسی قدر حصے میں (نماز پڑھیں) نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کریں یہ آپ ہی کیلئے اضافی فریضہ ہے آپ کیلئے نہیں یا زائد ہے فرض نمازوں پر (یعنی نفل ہے) امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آخرت میں مقام محمود پر فائز کرے گا کہ جہاں اولین اور آخرین آپ کی ستائش کریں گے اور وہ مقام شفاعت ہے مقدمات کے فصیل کرنے…
Read the full tafseer →قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ: آپ کہہ دیجئے ہر شخص (شکر گزار ہو یا ناشکرا) اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے شاکلتہ کا ترجمہ کیا اپنی سمت اور اپنے رخ پر جس کی طرف اس کا جھکاؤ ہو ‘ خواہ ہدایت ہو یا گمراہی۔ قتادہ اور حسن نے کہا اپنی نیت پر یعنی جو شخص دنیا کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے عمل سے دنیوی بہبود حاصل ہونے کا خواستگار ہوتا ہے اور جو آخرت کا طلبگار ہوتا ہے وہ اپنے عمل میں اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی بہتری کی نیت رکھتا ہے۔ مقاتل نے شاکلتہٖ کا ترجمہ کیا جبلت سرشت ‘ فراء نے کہا خلقی اور سرشتی طریقے پر ہر شخص کام کرتا ہے 1 ۔ قتیبی نے طبیعت اور پیدائشی حالت کہا ہے۔…
Read the full tafseer →(84) اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ : ”شَاکِلَۃٌ“ وہ طریقہ جو کسی کا ہم شکل اور حسب حال ہو، یعنی ہر شخص اپنے اس طریقہ پر عمل کرتا ہے جو ہدایت یا گمراہی میں سے اس کے مطابق اور حسب حال ہوتا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی بد اور کوئی بین بین، سب ایک طریقے پر نہیں، نہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے، کیونکہ پھر امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (118، 119)۔
فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا : یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا : (كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ) [ المؤمنون : 53 ] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 84
قولہ تعالیٰ : قل کل یعمل علی شاکلتہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : ہر شخص اپنی جہت پر عمل پیرا ہے، اور یہ ضحاک نے بھی کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : ہر شخص اپنی طبیعت پر عمل پیرا ہے۔ اور آپ ہی سے یہ بھی ہے کہ ہر شخص علیحدہ طور پر عمل پیرا ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : ہر شخص اپنے دین پر عمل پیدا ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا ہے : ہر شخص اپنی نیت پر عمل پیرا ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : ہر شخص اپنی فطرت پر عمل پیرا ہے۔ فراء نے کہا ہے : ہر شخص اپنے اس طریقہ اور مذہب پر عمل پیرا ہے جس پر اس کی فطرت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ فرما دیجئے ہر شخص اس پر عمل پیرا ہے جو اس کے نزدیک اس کے اعتقاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونابجانبہ “ سے مراد ہے وہ ہم سے دور ہوگیا۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کان یوسا “ سے مراد ہے ناامید ہونا مایوس ہونا ” کل یعمل علی شاکلتہ “ یعنی ہر شخص اپنے ارادہ کے مطابق عمل کرتا ہے۔
3:۔ ھناد اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی شاکلتہ “ یعنی اپنی نیت کے مطابق ہر شخص عمل کرتا ہے۔
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [كُلٌّ: سب (لوگ)] [يَّعْمَلُ : عمل کرتے ہیں ] [عَلٰي شَاكِلَتِهٖ : اپنی طبیعت پر ] [فَرَبُّكُمْ : تو تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو ] [هُوَ : جو ] [اَهْدٰى: زیادہ ہدایت پر ہے ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستے کے ]
ش ک ل
(ن) شَکْلًا شکل و صورت میں مشابہت ہونا۔ ملتا جلتا ہونا۔ وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ (اور دوسرے اس کے ملتے جلتے سے کچھ جوڑے) 38:58
شَاکِلَۃٌ اسم الفاعل شاکل کا مؤنث ہے۔ مشابہہ ہونے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں آدمی کی طبیعت و مزاج کیونکہ اس کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 84
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں فرمایا (قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام میں لگا ہوا ہے) لفظ شاکلۃ کا ترجمہ کئی طرح سے کیا گیا ہے۔ علامہ قرطبی نے متعدد اقوال نقل کرکے اخیر میں لکھا ہے۔ والمعنی ان کل احد یعمل علی ما یشاکل اصلہ واخلاقہ التی الفھا (یعنی ہر شخص اپنی اپنی طبیعت کے موافق اور ان اخلاق کے مطابق عمل کرتا ہے جن سے وہ مالوف ہے) پھر لکھتے ہیں۔ وھذا ذم للکافر و مدح للمومن یعنی اس میں کافروں کی برائی ہے (جو برے اخلاق اور برے دین سے مالوف ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں) اور مومن بندوں کی تعریف ہے وہ سچے دین سے مالوف ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
75:۔ یہ زجر ہے انسان مشرک پر، اس کا حال بھی عجیب ہے جب ہم اسے انعام و اکرام سے نوازتے ہیں تو وہ ہماری سرکار سے منہ موڑ لیتا ہے اور ان تمام نعمتوں کو اپنے خود ساختہ معبودوں کی طرف منسوب کردیتا ہے اور جب کبھی مصائب و شدائد میں گرفتار ہوگیا تو ان کا رسازوں سے مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور معبود حقیقی جل مجدہ کے سامنے گڑ گڑا کر عاجزی کرنے لگتا ہے اس کی پوری تفصیل کے لیے ملاحظہ تفسیر سورة ہود حاشیہ 13 ۔ ” قل کل یعمل الخ “ ہر شخص اپنے دین اور طریقے کے مطابق عمل کر رہا ہے اور ہر شخص اپنے دین کو حق جانتا ہے مگر فیصلہ لوگوں کے خیالات پر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو دین ھق فرمایا ہے وج اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرمایا مکی زندگی میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو بیحد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرما کر یہ دعا سکھلائی کہ مولا کریم ! ہمیں حق وصداقت لیے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرما کر یہ دعا سکھلائی کہ مولا کریم ! ہمیں حق وصداقت کے ساتھ نکال اور حق وصداقت کے ساتھ ہی داخل فرما ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ بھی کہلوایا کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے کیونکہ باطل مٹنے والی چیز ہی ہے یہ گویا فتح مکہ کی طرف اشارہ تھا ، چناچہ فتح مکہ کے روز آپ ﷺ اپنی چھڑی سے بتوں کو گراتے جاتے تھے اور یہی آیت تلاوت فرما…
Read the full tafseer →قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا 84ۧ
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ترکیب : ناء بالف بعد الھمزۃ ای بعد عن الطاعۃ وبقرء بھمزۃ بعد الالف دفیہ و جہان احد ہما ھو مقلوب نائے والثانی ھو بمعنی نھض الارحمۃ مفعول لہ والتقدیر حفظناہ علیک للرحمۃ من ربک رحمۃ کی صفت یا حال۔
تفسیر : قرآن سے ان ظالموں کو زیادہ خسارہ ہونے کا یہ سبب نہیں کہ قرآن میں کوئی نقص ہے بلکہ یہ سبب ہے کہ اذا انعمنا علی الانسان الخ انسان کی جبلی عادت ہے کہ جب اس پر انعامِ الٰہی ہوتا ہے، دولت و راحت ملتی ہے تو بجائے شکرگزاری و فرمانبرداری کے اکڑنے لگتا ہے، متکبر ہوجاتا ہے، نبی اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو نہیں مانتا اس لیے خسارہ میں پڑتا ہے اور جب مصیبت آتی ہے تو بجائے صبر کے ناامید ہوجاتا ہے مگر خدا…
Read the full tafseer →قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 84)
(کہہ دیجیے ! ہر شخص اپنی روش پر کام کرتا ہے، پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر (گامزن) ہے۔ )
ہدایت قبول نہ کرنے والوں سے آخری بات
کل : نکرہ ہے، لیکن بعض مواقع پر یہ معرفہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے معرفہ کے طور پر استعمال کیا گیا، یعنی مراد اس سے وہی لوگ ہیں جن کی طرف قرآن کریم کا روئے سخن ہے۔
شَاکِلَۃٌ : کا معنی عام طور پر ” طریقہ “ کیا جاتا ہے۔ علامہ قرطبی کی تحقیق یہ ہے کہ مجاہد نے اس کا معنی ” طبیعت “ کیا ہے اور مقاتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے لیکن اس کے منکر اس سے فیض یاب ہونے کی بجائے اپنے آپ کو نقصان میں آگے ہی آگے لے جارہے ہیں اور اکثر انسانوں کی یہی کیفیت ہے کہ جب انہیں کوئی نعمت عطا کی جاتی ہے تو اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے کفرو شرک میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔
انسان کی طبعی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ انسان صحت اور وسائل کے حوالے سے خوشحال ہوتا ہے۔ تو نا صرف اپنے رب سے ناطہ توڑ لیتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کی نافرمانی اور بغاوت پر اتر آتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ” یقیناً انسان سرکش ہوجاتا ہے۔ جب اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا…
Read the full tafseer →84: قُلْ کُلٌّ(کہہ دیں تمام) یعنی ہر ایک یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے) اپنے راستے اور اس طریقے پر جو ہدایت و گمراہی میں اس نے اختیار کر رکھا ہے۔ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلًا (تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح راستہ پر ہے) راستہ اور طریقہ کے لحاظ سے۔
Read the full tafseer →84۔” قل کل یعمل علی شاکلۃ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کنارہ۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے اس کی اپنی نیت پر ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس کا معنی سرشت فراء کا قول ہے کہ خلقی اور سر شتی طریقے پر ہر شخص کا کرتا ہے۔ قتیمی (رح) کا قول ہے طبیعت اور پیدائشی حالت کہا ہے۔ بعض نے کہا کہ سیدھ راستے پر جس کو اس کے نفس نے اختیار کیا۔ بعض نے کہا کہ ” علی شاکلتہ “ کا معنی ہے کہ ہر شخص اسی راستہ پر چلتا ہے جو اس نے اپنے لیے اختیار کرلیا ہوتا ہے۔ ” فربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا ً “ وہ راضح راستہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
83۔ 84:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کی ناشکری کا بیان فرمایا کہ جب ہم انسان پر اپنی نعمت نازل کرتے ہیں اس کو صحت و تندرستی بخشتے ہیں اس کی روزی میں ترقی کرتے ہیں فارغ البالی دیتے ہیں اور وہ وہ انعام اس پر کرتے ہیں جس کا شکر ہر گھڑی اور ہر آن واجب ہوتا ہے تو وہ ہم سے روگردان ہوجاتا ہے اور جب کوئی بلا اس پر نازل ہوتی ہے یا کوئی رنج اسے پہنچتا ہے تو پھر اسے اس بات کی امید نہیں رہتی کہ کبھی یہ سختی کا وقت ٹل جائے گا۔ پھر آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ لوگوں سے کہہ دیں کہ تم ہر ایک آدمی اپنے اپنے طریقہ اور نیت کے موافق عمل کرتے رہو مطلب یہ ہے کہ جس کا نفس پاک وصاف ہے وہ اچھے عمل کرتا ہے اور جس کا…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (84:
(قل کل ) ” کہہ دیجیے ہر ایک “ یعنی لوگوں میں سے۔ (یعمل علی شاکلتہ) ” کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر “ یعنی اس طریقے پر جو اس کے احوال کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک بندوں میں سے ہیں تو ان کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ان کا عمل رب کائنات کی رضا کی خاطر ہوتا ہے اور اگر وہ نیک اور ابرار لوگوں کی بجائے ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے الگ ہوگیا ہو تو ان کے لیے صرف وہی عمل مناسب ہوتا ہے جو اس نے مخلوق کو خوش کرنے کے لیے کیا ہو اور ان کے موافق صرف وہی عمل ہوتا ہے جو ان کی اغراض کے موافق ہو۔ (فربکم اعلم بمن ھواھدی سبیلا) ” پس تمہارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے…
Read the full tafseer →ہر ایک کا طریق عمل اپنا ہے
قول باری ہے (قل کل یعمل علی نشاکلتہ اے نبی ! ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے “ ) مجاہد کا قہلے کہ ” اپنی طبیعت کے مطابق “ ایک قول ہے اپنی عادت پر جس سے وہ مانوس ہے۔ “ آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو فساد کے عادی ہوگئے ہوں اور انہیں اس میں سکون ملتا ہو نیز وہ اس پر برقرار رہنا چاہتے ہوں۔ ایک قول کے مطابق ” ہر شخص اپنے اخلاق و کردار کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ (شاکلتہ ) سے مراد وہ طریقہ ہے جو ایک شخص کے مناسب اور لائق ہوتا ہے اور اس سے اس کی مشابہت ہوتی ہے۔ خیر صلاح کی مناسبت و مشکلات بھلے لوگوں کے ساتھ ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
151۔ تھڑ حوصلہ اور تنگ ظرف انسان کا حال :۔
کہ کوئی نعمت ملی تو منہ موڑ لیا اور کوئی تکلیف پہنچی۔ والعیاذ باللہ، تو مایوس ہوگیا۔ جو علامت اور دلیل ہے اس کے تنگ ظرف اور تھڑ حوصلہ ہونے کی۔ بجز ان لوگوں کے جو سچے ایمان اور پکے عقیدے کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں کہ ان کی شان ان کے مالک کے فضل وکرم سے اس سے مختلف اور بہت بلند وبالا ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تو اس دنیائے دوں کی ساری دولت کی حیثیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں ہوتی۔ فیاعجبا لعظمۃ الایمان وخشیۃ الکفر والحرمان، سو مومن صادق اس کے برعکس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کیلئے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت پر صبر کرتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
انسان کا رویہ
تشریح : اس مضمون کی تفصیلات سورة ھود کی آیات 9 تا 11 اور پھر اسی سورت کی آیات 121، 122 میں اچھی طرح بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر حال میں اچھے دوست بنانا چاہیں اور اللہ کے ذکر و شکر سے بھر پور زندگی گزارنی چاہیے۔ نیت کا خلوص اور عمل کی پاکیزگی اللہ سے ہرگز چھپی ہوئی نہیں۔ وہ علیم وخبیر ہے۔ (جاننے والا خبر رکھنے والا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
(رکوع نمبر 9)
اسرار و معارف
تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی)
اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 7 یعنی اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آ پڑی وہ جی اٹھا جب نکل گئی وہ مرگیا۔ اس کے علاوہ روح کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔8 یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں تمہیں دیا ہوا علم کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ایسے امور کے متعلق سوال کرنا ہی فائدہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہوے کہ میدنہ میں چند یہودیوں کے روح کے متعلق سوال کرنے پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری مسلم) مگر نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ یہود کے اشارے پر قریش نے آنحضرت سے یہ سوال کیا تھا۔ اس بنا پر اس آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت تو مکہ میں ہی نازل ہوچکی ہو مگر جب مدینہ میں یہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(17:83) اعرض۔ اعراض (افاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔
نا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نأی مصدر و مادہ (باب فتح) وہ دور ہوگیا۔ اس نے روگردانی کی۔ نابجانبہ۔ اس نے اپنے اپنے پہلو کو دور کرلیا۔ قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے وہم ینھون عنہ وینئون عنہ (6:26) اور وہ اس سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور خود بھی اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
یئوسا۔ یأس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ ناامید۔ یأس ویائسۃ مصدر یائس ناامید !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84
دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 84
ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو…
Read the full tafseer →اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے حبیب ﷺ ان سے کہہ دو کہ تم ہر ایک آدمی اپنے اپنے طریقہ اور نیت کے موافق عمل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نفس پاک وصاف ہے وہ اچھے عمل کرتا ہے اور جس کا نفس ناپاک وخبیچ ہے وہ برے عمل کرتا ہے۔ اس میں کفار کی مذمت ہے اور مومنین کی تعریف ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ پاک سب کو جانتا ہے کہ کون گمراہی میں ہے اور کون راہ یاب ہے کیونکہ وہ خالق ہر مخلوق کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[60] یعنی خیر و خوبی کے ساتھ۔
[61] یعنی یا تو مجھے حکومت عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے کہ میں اس کی طاقت کے ذریعے برائی کو مٹا دوں اور تیرے قانون عدل و انصاف کو جاری کرسکوں۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و نصیحت سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کے لئے حکومت کی طاقت بھی درکار ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) فطرت انسانی کی کمزوریوں کی طرف اشارہ ہے کہ ناز ونعمت کے وقت محسن کو بھول جاتا ہے اور تکلیف کے وقت مایوس ہوجاتا ہے ، حالانکہ مسرتوں اور خوشیوں میں اللہ کو یاد رکھنا چاہئے تھا ، اور مصیبت میں تو خشوع کے ساتھ اس کے سامنے زیادہ جھکنا چاہئے تھا ، یہ اکثریت کا مرقع ہے اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جو دونوں حالتوں میں شاکر رہتے ہیں نہ دنیا کی آسائشیں اس کے لئے وجہ ابتلاء ہوتی ہیں ، اور نہ مصیبتیں باعث لغزش :
حل لغات :
زھق : زھوقا کے معنی نابود اور ہلاک ہونے کے ہیں یعنی نیست اور ضائع ہوگیا ،
شاکلتہ : صورت ، نہج اور طریق ، امر : بات حکم ارادہ ، منشاء وغیرہ ۔
Read the full tafseer →-84 آپ کہہ دیجیے کہ اچھا یا برا ہر شخص اپنے اپنے ڈھنگ اور طریقہ پر کام کر رہا ہے اور آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح اور ٹھیک راستہ پر ہے۔ یعنی ہر کافر اور مومن اپنی اپنی نیت اور اپنی اپنی طبیعت کے موافق کام کر رہا ہے لیکن کون کس قدر صحیح چل رہا ہے اور کون کج روی اختیار کئے ہوئے ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ہر ایک کی چال کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 11۔ یہ دونوں امر دلیل ہیں اللہ سے بےتعلقی کے، اور یہی بےتعلقی اصل سبب ہے ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہونے کا اور حق میں غور نہ کرنے کا، اور اسی سے کفر وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ہر انسان نے کوئی نہ کوئی راہ اختیار کی ہے ، اللہ کو معلوم ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے ؟
102: آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ یونہی بلا دلیل شرعی اپنے آپ کو راہ حق پر سمجھ لے۔ عربی ” شکل “ بکسر شین معجمہ کے معنی ہیئت کے ہیں اور ” شکل “ بالنصب کے معنی طریقہ کے۔ چناچہ ایسے راستے کو جس سے بہت سی راہیں ادھر ادھر نکلتی ہوں ” طریق ذو شواکل “ کہتے ہیں اور بول چال میں عام طور پر کہا جاتا ہے : ” لست علی شکل ولا علی شاکلتی “ پس زیر نظر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہے اور وہ اسی کے مطابق کام کر رہا ہے او کوئی اس طرف جا رہا ہے اور کوئی اس طرف جا رہا…
Read the full tafseer →Commentary
Regarding the explanation of the word: شاکِلَۃ (shakilah) in verse 84: كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ (Everyone acts in his own style), several interpretations have been reported from authorities among the early righteous elders,
such as, disposition, habit, instinct, intention, way or manner. In sum, all these turn into a second nature in terms of the circumstances, habits and customs everyone lives with. Thus, what one does remains subservient to it. (Qurtubi) In this verse, human beings have been warned that they must abstain from bad surroundings, bad company and bad habits…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
103. It is generally understood that the Arabic word Rooh stands here for soul as if the people asked the Prophet (peace be upon him) about the soul of man in regard to its nature, and the answer was that it came by the command of Allah. But we have great hesitation in accepting this meaning for it could be taken only if the verse be isolated from its context; otherwise these words would become quite incoherent for there is no reason why the question about soul should have intervened between the preceding three verses and following verses which deal with the theme of the Quran.
If we read the…
Read the full tafseer →