Explained with ayahs 15–16
آچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں
جس نے راہ راست اختیار کی حق کی اتباع کی نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ سے پھرا اس کا وبال اسی پر ہے کوئی کسی کے گناہ میں پکڑا نہ جائے گا ہر ایک کا عمل اسی کے ساتھ ہے۔ کوئی نہ ہوگا جو دوسرے کا بوجھ بٹائے اور جگہ قرآن میں ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) اور آیت میں ہے (وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ 25) 16۔ النحل :25) یعنی اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 18
اس آیت میں حکم سے مراد حکم طبعی اور قانون فطری ہے۔ یعنی قدرتی طور پر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آنے والی ہوتی ہے تو اس کے مترفین فاسق ہوجاتے ہیں۔ ہلاک کرنے کے ارادے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یونہی بےقصور کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسانی آبادی برائی کے راستے پر چل پڑتی ہے اور اللہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ اسے تباہ کرنا ہے تو اس فیصلے کا ظہور اس طریقے سے ہوتا ہے۔
دراصل حقیقت پر اس آیت میں متنبہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک معاشرے کو آخرکار جو چیز تباہ کرتی ہے وہ اس کے کھاتے پیتے، خوشحال لوگوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اس کا بیان تھا کہ حق تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جب تک کسی قوم کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات نہ پہنچ جائیں اور پھر بھی وہ اطاعت نہ کریں اس وقت تک ان پر عذاب نہیں بھیجتے مذکورہ آیات میں اس کے دوسرے رخ کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کے پاس رسول اور اللہ کے پیغام پہنچ گئے اور پھر بھی انہوں نے سرکشی سے کام لیا تو اس پر عذاب عام بھیج دیا جاتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
اور جب ہم کسی بستی کو (جو اپنے کفر و نافرنی کی وجہ سے بمتقضائے حکمت الہیہ ہلاک کرنے کے قابل ہو) ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو (اسکو بعثت رسل سے پہلے ہلاک نہیں کرتے بلکہ پہلے کسی رسول کی معرفت) اس…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا۔
" امر " کا مفہوم : " امر " صرف حکم دینے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے ور مہلت دے دینے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ " افعلوا ما بدا لکم " جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مفہوم امہال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت تمام کرچکنے کے بعد ان کو ڈھیلا…
Read the full tafseer →16۔ 1 اس میں وہ اصول بتلایا گیا ہے جس کی روح سے قوموں کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ کہ ان کا خوش حال طبقہ اللہ کے حکموں کی نافرمانی شروع کردیتا ہے اور انہی کی تقلید پھر دوسرے لوگ کرتے ہیں، یوں اس قوم میں اللہ کی نافرمانی عام ہوجاتی ہے اور وہ مستحق عذاب قرار پا جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
8: انجام کو گلے سے چمٹانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے تمام اعمال ہر لمحے لکھے جارہے ہیں جو اسکے اچھے یا برے انجام کی نشان دہی کرتے ہیں، اور جب قیامت آئے گی تو یہ سارا اعمال نامہ اسکے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا جسے وہ خود پڑھ سکے گا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیا میں ان پڑھ تھا قیامت کے دن اسے بھی اپنا اعمال نامہ پڑھنے کی صلاحیت دے دی جائے گی۔
Read the full tafseer →واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میرا (71 : 61) ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں “۔
یہ مترفین کون لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ کبراء کا وہ طبقہ ہے جو مالدار اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ نوکر ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ آرام طلب ہوتے ہیں اور خوشحالی ، عزت اور قیادت ان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈھیلے ڈھانے ، گندے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعلیٰ اقدار ، مذہبی مقدسات اور شرف…
Read the full tafseer →6 یعنی جب بداعمالیوں کی بدولت کسی بستی کو تباہ کرنا ہوتا ہے تو یوں ہی دفعۃً پکڑ کر ہلاک نہیں کردیتے، بلکہ اتمام حجت کے بعد سزا دی جاتی ہے۔ اول پیغمبر یا اس کے نائبین کی زبانی خدائی احکام ان کو پہنچائے جاتے ہیں۔ خصوصاً وہاں کے امراء اور با رسوخ لوگوں کو جن کے ماننے نہ ماننے کا اثر جمہور پر پڑتا ہے، آگاہ کیا جاتا ہے۔ جب یہ بڑی ناک والے سمجھ بوجھ کر خدائی پیغام کو رد کردیتے اور کھلے بندوں نافرمانیاں کر کے تمام بستی کی فضا کو مسموم و مکدر بنا دیتے ہیں، اس وقت وہ بستی اپنے کو اعلانیہ مجرم ثابت کر کے عذاب الٰہی کی مستحق ہوجاتی ہے (نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا) (تنبیہ) وَقَالَ بَعْضُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا
یہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے…
Read the full tafseer →6 1 اللہ کی نافرمانی میں پہلے خوشحال لوگ مبتلا ہوتے ہیں :۔ اس آیت میں ( اَمَرْنَا فِیْھَا) سے مراد امر تکوینی ہے یعنی جس بستی کے لیے ہلاکت مقدر ہوچکی ہو۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ خوشحال لوگ عیاشیوں اور ظلم و زیادتی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان میں بےحیائی، فحاشی، زنا، کمزوروں کے حقوق غصب کرنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، نعمتوں کی ناقدر شناسی دنیا میں غیر معمولی انہماک وغیرہ وغیرہ امراض پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ سب ایسی امراض ہیں جو عام طور پر امیروں اور خوشحال لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں پھر ان کے زیر سایہ لوگ بھی انھیں کی چال چلنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ انھیں کا سا رنگ ڈھنگ اختیار کرنے لگتے ہیں اس طرح سارا…
Read the full tafseer →27۔ یہاں اسی عام ضابطہ کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کی شدت کفر و طغیان کی بنا پر حکمت الہی کو اس کا فنا کردینا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے تو پہلے کسی رسول کے ذریعہ سے اسے ایمان و اطاعت احکام کا حکم پہنچایا جاتا ہے اور جب وہ برابر عدول حکمی کرتے رہتے ہیں تو ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور بستی تہس نہس کر ڈالی جاتی ہے۔ (آیت) ” واذا اردنا “۔ یہ ارادۂ الہی ہمیشہ مصالح تکوینی اور آئین حکمت کے ماتحت ہوتا ہے رضائے الہی ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ (آیت) ” ان نھلک قریۃ “۔ یہ کسی بستی کی ہلاکت بطریق عذاب اس کی مسلسل نافرمانیوں کا نتیجہ ہوتی ہے خود بخود نہیں واقع ہوجاتی۔ (آیت) ” امرنا مترفیھا “۔ اطاعت احکام الہی کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے
خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ مترفین یعنی صاحبان عیش و راحت اور جابر لوگ۔ مجاہد کی قرأت میں اَمَّرْنَا آیا ہے یعنی ہم مسلط کردیتے ہیں اور ان کو حاکم بنا دیتے ہیں ‘ حسن اور قتادہ اور یعقوب نے اَمْرناپڑھا ہے یعنی راحت و نعمت میں پڑے ہوئے لوگوں کو پیغمبر کی زبانی ہم طاعت و فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں امرناکے بعد بالطاعۃ کا لفظ محذوف ہے ‘ قرینہ یہ ہے کہ پہلے فرمایا تھا ہم پیغمبر کو بھیجے بغیر عذاب نہیں دیا کرتے اور اس آیت کے بعد فرمایا ہے۔
فَفَسَقُوْا فِيْهَا پس وہ اس بستی میں…
Read the full tafseer →(16) اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے سرداروں اور ظالموں کو اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں یا یہ کہ اسی بستی کے سرداروں ظالموں اور مالداروں کی تعداد میں اضافہ کردیتے ہیں یا یہ کہ بستی کے ظالموں اور رؤسا کو تسلط دے دیتے ہیں پھر جب وہ لوگ خوب نافرمانیاں کرتے ہیں، تب ان پر نزول عذاب کی حجت پوری ہوجاتی ہے پھر ہم اس بستی کو تباہ اور برباد کر ڈالتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ۔۔ : ”اَمَرْنَا“ امر نہی کی ضد ہے، حکم دینا ”مُتْرَفٌ“ وہ شخص جسے نعمت اور خوش حالی عطا کی گئی ہو اور کھلا چھوڑ دیا گیا ہو کہ جو چاہے کرے۔ کہا جاتا ہے : ”أَتْرَفَتْہُ النِّعْمَۃُ“ اسے نعمت نے سرکش اور باغی بنادیا۔ ”تَدْمِیْراً“ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بری طرح برباد کرنا۔“
یہ پچھلی آیت کے مفہوم ہی کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت تمام کیے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ فرمایا، ہم اس بستی کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ ”اَمَرْنَا“ کا مفعول محذوف ہے، وہ یا تو ”بِأَمْرٍ“ ہے، یعنی ہم انھیں کوئی حکم دیتے ہیں، یا ”بِالإِْیْمَانِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ“ ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 16
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں یہ خبر دی ہے کہ وہ رسول بھیجنے سے پہلے کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا، اس لئے نہیں کہ یہ اس کی طرف سے قبیح ہوگا اگر وہ ایسا کرے گا، بلکہ یہ اس کی طرف سے وعدہ ہے، اور وہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ پس جب وہ اپنے وعدہ کے اس طرح ثابت ہونے کے ساتھ جس طرح اس نے کہا ہے کسی بستی کو ہلاک اور برباد کرنے کا ارادہ کرے تو وہ وہاں کے رئیسوں کو فسق وفجور اور ظلم وستم میں لگا دیتا ہے تو پھر ان پر ہلاکت و بربادی کا فرمان حق اور ثابت ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھے یہ بتارہا ہے کہ جو کوئی ہلاک ہوا بلاشبہ وہ اس کے ارادہ کے ساتھ ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ضعیف اور ناتواں لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور احمق بہرے گونگے اور وہ بوڑھے لوگ جنہوں نے اسلام کو نہیں پایا (سب کو جمع فرمائے گے) پھر ان کی طرف ایک قاصد بھیجیں گے جو یہ احکام پہنچائے گا کہ تم دوزخ میں داخل ہوجاؤ تو وہ لوگ کہیں گے کیوں) ہم دوزخ میں جائیں) حالانکہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا راوی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو ان پر آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجاتی پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف رسول بھیجیں گے پس اس رسول کی اطاعت کرے گا جو اس کی اطاعت کا ارادہ کرے گا…
Read the full tafseer →[وَاِذَآ : اور جب ] [اَرَدْنَآ : ہم ارادہ کرتے ہیں ] [ان : کہ ] [نُّهْلِكَ : ہم ہلاک کریں ] [قَرْيَةً : کسی بستی کو ] [اَمَرْنَا : تو ہم حکم دیتے ہیں ] [مُتْرَفِيْهَا : اس کے خوشحال لوگوں کو ] [فَفَسَقُوْا : پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں ] [فِيْهَا : اس میں ] [فَحَقَّ : تو ثابت ہوجاتی ہے ] [عَلَيْهَا : اس (بستی) پر ] [الْقَوْلُ : بات ] [فَدَمَّرْنٰهَا : تو ہم اس کو اجاڑ دیتے ہیں ] [تَدْمِيْرًا : جیسا کہ اجاڑنے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
گزشتہ آیت میں یہ قانون بتایا کہ جب تک کوئی رسول نہ آجائے اور جن کے پاس رسول آئے وہ اس کی نافرمانی نہ کرلیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب میں مبتلا نہیں کیے جاتے اور ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر کے موافق کسی بات کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو یہ بھی اس طرح نہیں ہوتا کہ بندے مومن ہوں اور اعمال صالحہ میں لگے ہوئے ہوں پھر بھی ہلاک کردئیے جائیں، بلکہ وہی بات ہے جو گزشتہ آیت میں بتائی کہ بستی کے لوگوں کو اور خاص کر ان کے امراء اور روساء کو ایمان اور فرمانبرداری کا حکم دیا جاتا ہے یہ حکم حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) یا ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت
قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
17:۔ یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے۔ یعنی جب ہم کسی قوم میں اپنا رسول بھیجتے ہیں اور ہمارا رسول مسئلہ توحید اور دیگر احکام ان تک پہنچا دیتا ہے اور دلائل واضحہ کے ساتھ موعظہ حسنہ سے ان کو خوب سمجھا سمجھا کر ان پر حجت خداوندی قائم کردیتا ہے مگر وہ اپنی سرکشی اور انکار و عصیان میں سر مست رہتے ہیں اور ہدایت پر نہیں آتے تو ہم انہیں ڈھیل دیدیتے ہیں تاکہ اجل معین تک وہ دل کھول کر فسق و فجور کرلیں پھر مقررہ وقت پر انہیں تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ ” امرنا مترفیھا الخ “ یعنی ہم نے ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ہر بستی کے دولت مند طبقہ کو نیک کاموں کا حکم دیا مگر انہوں نے پیغمبروں کی تبلیغ پر کان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ کے نیک بندوں پر انعامات اور نافرمانوں کی گرفت کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے تیار کیے جانے والے اعمالنامے اور قیامت کے دن ان کے ظہور کا تذکرہ فرمایا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہدایت یا گمراہی انسان کے اپنے ہی فائدے یا نقصان کے لیے ہے ، ہر شخص کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا اور کوئی دوسرا شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، اللہ نے ایک اصولی بات یہ بھی بیان فرمائی کہ ہم کسی فرد یا قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جب تک ان کے پاس اپنا رسول بھیج کر اتمام حجت نہ کریں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سزا سے متعلق اپنی سنت بیان کی ہے اس سلسلے میں بعض…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا 16
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : یلقاہ جملہ کتابا کی صفت جو حال ہے مفعول محذوف سے وھوضمیر الطائر یا مفعول ہے امرنا جواب ہے اذاکا۔ کم اس جگہ خبر یہ ہے محل نصب میں اھلکنا سے بربک میں ب زائدہ ہے جیسا کہ بنفسک میں اور جس طرح حسیبًا تمیز ہے من نفسک کی اسی طرح خبیرًا بصیرًا تقدیم خبیرًا کی اس کے متعلق کے تقدم سے ہے۔ قال القراء انما یجوزا دخال الباء فی المرفوع اذایذم اویمدح بہ صاحبہ مثل کفاک بہ واکرم بہ رجلا ولایقال قام باخیک و انت ترید قام اخوک۔
تفسیر : ہر شے کی تفصیل کے بعد انسان کی آنے والی حالت کا بیان کرنا اس دعوے کی دلیل بیان کردینا ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو کتب سابقہ میں بھی نہ تھی اس لیے فرماتا ہے وکل انسان…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَرَدْنَـآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰـھَا تَدْمِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 16)
(اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوشحالوں کو امر کردیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں، پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، پھر ہم ان کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیں۔ )
قوموں کی تباہی کا آخری سبب
اس آیت کریمہ میں اَمَرْنَا کا لفظ تحقیق طلب ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ یہ اَمَرْنَا بمعنی اَمَّرَنَا ہے۔ یعنی ہم اس علاقہ کی حکومت سرکش اہل ثروت کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ دولت و اقتدار کے باعث فسق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک تباہ نہیں کرتا جب تک ان تک ہدایت کا پیغام نہ پہنچ جائے مگر ہدایت کے راستہ میں معاشرے کے بڑے لوگ اپنی چوہدراہٹ اور مفاد کی خاطر رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ یہی لوگ ملک وملت کے بگاڑ اور تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
قرآن مجید نے اقوام عالم کی تباہی کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح کی ہے کہ تباہ ہونے والی اقوام میں اکثر قومیں مال و وسائل کے حوالے سے انتہائی ترقی یافتہ تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب ان کو عذاب میں گرفتار کیا تو دنیا کے وسائل و اسباب، اقتدار اور اختیار ان کے کچھ کام نہ آئے۔ اللہ کے عذاب نے انہیں اس طرح نیست و نابود کردیا کہ…
Read the full tafseer →ہلاکت تکمیل ِحجت کے بعد ہے :
16: وَاِذَا اَرَدْنَآاَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا (اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں) قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں۔ مُتْرَفینؔ سے مالدار اور زبردست لوگ مراد ہیں۔ اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا ان کو طاعت کا حکم دیتے ہیں۔ یہ ابو عمرو اور زجاج کی قراءت میں ہے۔ فَفَسَقُوْا فِیْھَا (پھر وہ لوگ وہاں شرارت کرتے ہیں) وہ حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ امر تہ فعصٰی۔ نمبر 2۔ کثرت و اضافہ کرنا۔ اس کی دلیل۔ قراءت : یعقوب آمرنا ہے اور اسی معنی میں یہ روایت ہے خیر المال سکۃ مأبورۃ اومھرۃ مامورۃؔ ] احمد، طبرانی[ کثرت نسل…
Read the full tafseer →تفسیر 16۔” واذا اردنا ان نھلک قریۃ ً امرنا مترفیھا ‘ ‘ مجاہد کا قول ہے کہ ” امرنا “ تشدید کے ساتھ ہے ۔ یعنی ہم مسلط کردیتے ہیں حاکم بنا دیتے ہیں ۔ حسن قتادہ اور یعقوب کے نزدیک ” امرنا “ مد کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا ۔ یعنی راحت و نعمت میں پڑے ہوئے لوگوں کو پیغمبر کی زبانی ہم طاعت و فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں اور دوسرے قراء نے اس کو بغیر مد کے پڑھا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ان کو طاعت کا حکم دیا لیکن انہوں نے نافرمانی کی ۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ہم نے تمہیں امراء بنایا بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ہم نے آپ کو زیادہ بنایا ہے، اللہ نے ان کو…
Read the full tafseer →16:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے عذاب بھیجنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو یوں کسی کو نہیں ہلاک کرتے بلکہ اپنے رسول کے ذریعہ سے پہلے اپنا حکم وہاں کے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور جو لوگ اس بستی میں خوشحال وآسودہ ہوتے ہیں ان کو ہر طرح کی آسائش و آرام عطا کرتے ہیں اور اپنی طاعت کا امر کرتے ہیں پھر جب وہ فسق وفجور کرنے لگتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے رسول کو جھٹلاتے ہیں تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اور جس طرح کے عذاب کی بات ان کے حق میں مقرر کی ہوئی ہوتی ہے وہ پیش آجاتی ہے اور اسی طرح اس بستی کو تہ وبالا کرتے ہیں کہ کہیں ڈھونڈے بھی اس کا پتہ نہیں چلتا جڑ سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 16
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے۔۔۔ یعنی کوئی و قدرتی حکم۔۔۔ وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ (فحق علیھا القول) ، ، تب ثابت ہوجاتی ہے ان پر بات ، ، یعنی کلمہ، عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (فد مرنھا تدمیراً ) ، ، پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ، ،
نوح علیہ اسلام کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →راہنمائوں کی اکثریت فاسق ہوجائے تو عذاب الٰہی آتا ہے
قول باری (واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا متردیھا فصسقوا فیھا جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، سعید کا قول ہے کہ انہیں طاعت کا حکم ملتا ہے لیکن وہ نافرمانیوں پر اتر آتے ہیں عبداللہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی قبیلہ کے افراد کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے تو ہم کہتے کہ اب اس کی شامت آنے والی ہے حسن، ابن سیرین اور ابو العالیہ نیز عکرمہ اور مجاہد سے (امرنا) بمنی اکثرناً (ہم نے تعداد بڑھا دی) مروی ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ” جب ہم…
Read the full tafseer →36۔ عیش پرستی ہولناک انجام کا پیش خیمہ۔ والعیاذ باللہ :۔
سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ خوشحال وعیش پرست لوگوں کی خرمستیاں ان کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ پس خوش حال لوگوں کا اطاعت و فرمانبرداری کے حکم سے منہ موڑنا ان کی ہلاکت و تباہی کا آغاز وپیش خیمہ ہوتا ہے۔ سو انبیاء ورسل اور ان کے اتباع و پیروکاروں کے ذریعے ان کو دعوت حق دی جاتی ہے لیکن ایسے لوگ اعراض وانکار سے کام لیتے ہیں۔ جس سے یہ اپنے اس انجام کے مستحق ہوجاتے ہیں جن سے ان کو دوچار کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سوخوشحال لوگوں کیلئے اطاعت و فرمانبرداری کا ایسا حکم وارشاد اور ان کی اس سے سرتابی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فسق وفجور ہلاکت کی نشانی
تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے پیغمبر آنے کے بعد بھی نافرمانی کی۔ ایک تو سزا کا طریقہ یہ ہے کہ بری قوم پر برے سربراہ سزا کے طور پر مقرر کردیے جاتے ہیں۔ جو خود بھی برائیاں کرتے ہیں اور برائیوں کو پسند کرتے ہیں اس طرح بری قوم بالکل ہی بری ہوجاتی ہے۔ اور دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مال و دولت بذات خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ جو لوگ تو دولت کے نشے میں اللہ، رسول اور آخرت کو بھول جاتے ہیں وہ بہت سے لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور جو مال و دولت کی فراوانی میں اللہ اور رسول کو یاد رکھتے ہیں وہی اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں پہلی قسم کے لوگوں کا ذکر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔
(جلد بازی کے فیصلے)
انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…
Read the full tafseer →ف 4 یہاں ” امر “ سے مراد امروحی ہے یعنی شریعت الٰہی جو پیغمبروں کی معرفت بھیجی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب پیغمبر آتے ہیں اور مترفین یعنی خوشحال طبقہ کو اتباع وحی کا حکم دیا جاتا ہے مگر وہ پیغمبروں کی نافرمانی کرتا ہے اور ملک بھر میں فسق و فجور پیا کردیتا ہے تو ہمواری طرف سے ان پر عذاب ثابت ہوجاتا ہے بعض نے امرنا بمعنی ” اکثرنا “ بکھی لکھا ہے۔ (قرطبی)5 یعنی ہم ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ و برباد کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(17:16) امرنا۔ امر سے۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے حکم دیا۔ امرنا کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) بعض نے کہا ہے کہ امرنا بمعنی امرنا ہے یعنی ہم امیر بنا دیتے ہیں یعنی حاکم کردیتے ہیں اہل ثروت کو۔ اور وہ دولت و اقتدار کے نشے میں فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں۔
(2) بعض کے نزدیک امرنا بمعنی اکثرنا ہے یعنی ہم اہل ثروت کی تعداد کثیر کردیتے ہیں اور وہ دولت کے نشے میں فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں۔ (3) بعض کے نزدیک امرنا متر فیھا کے بعد یہ عبارت مقدر ہے بالطاعۃ علی لسان الرسول یعنی ہم وہاں کے اہل ثروت اشخاص کو ان کے رسول کے ذریعہ اطاعت کا حکم دیتے ہیں لیکن وہ نافرانی کرتے ہیں۔
مترفیھا۔ اسم مفعول جمع مذکر حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 17
نھلک ہم ہلاک کرتے ہیں۔ قریۃ بستی، شہر (ملک) ۔ مترفین خوشحال، عیش پسند، دمرنا ہم نے برباد کردیا۔ ہم نے اکھاڑ دیا۔ القرون (قرن) جماعتیں، قومیں۔ ذنوب (ذنب) گناہ، خطائیں۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 17
اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک یا برباد نہیں کرتا جب تک وہاں کے رہنے والوں کی ہدایت کے لئے کسی رسول یا اصلاح کرنے والے کو نہیں بھیج دیتا۔ جو ان لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی طرف سے دی ہوئی مہلت اور ڈھیل کی پروا نہیں کرتے اور فسق فجور، دنیا طلبی، عیش پرستی اور آخرت سے غفلت کو اپنا شعار بنا کر قانون قدرت کو توڑتے چلے جاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →کفار کو تنبیہ : اس آیت میں ارشاد ہے کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو یوں یک بیک نہیں ہلاک کرتے بلکہ پہلے اپنے رسول کے ذریعہ سے اپنا حکم وہاں کے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور جو لوگ وہاں خوشحال و آسودہ ہوتے ہیں ان کو ہر طرح کی آرائش و آرام عطا کرتے ہیں۔ پھر جب وہ فسق وفجور کرنے لگتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے، اور رسول کو جھٹلاتے ہیں تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اور جس طرح کے عذاب کی بات ان کے حق میں مقرر کی ہوئی ہوتی ہے وہ پیش آجاتی ہے اور اسی طرح اس بستی کو تہ وبالا کرتے ہیں یعنی جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[16] یعنی جب کسی قوم کی شدت کفر و سرکشی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اس کا فنا کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے تو پہلے کسی رسول کے ذریعے سے اسے ایمان و اطاعت احکام کا حکم دیا جاتا ہے اور سب سے پہلے اس قوم کے امراو اغنیاء اس حکم کو توڑتے ہیں۔ یعنی نافرمانی خوشحال لوگوں سے شروع ہوتی ہے پھر عوام ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اور کیونکہ اللہ بندوں کا اور ان کے افعال کا خالق ہے یعنی بندے برا بھلا جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ ہی نے ان کو کرنے کی قدرت دی ہے اس لئے فرمایا کہ ہم خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ نافرمانی کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(ف 1) اسلامی قانون مکافات یہ ہے ، کہ ہر شخص بجائے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہیں ، اس لئے تناسخ غلط ہے ، اور ہدیہ وکفارہ بھی صحیح نہیں ، ہر شخص اپنے اعمال کا جواب وہ ہے کوئی شخص کسی کے کام میں نہیں آسکے گا ۔
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ سے مراد یہ ہے کہ عذاب کے لئے تکذیب کی ضرورت ہے ، اور تکذیب کے لئے پیغام کی حاجت ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ عذاب سے قبل اتمام حجت ہوچکے ، تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اعمال صالحہ کے لئے مقدور بھر کوشش کی تھی اور ہمیں ناحق عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔
یہ یاد رہے ، کہ عذاب سے مراد تمام تکالیف نہیں ، نہ عادی مصائب مقصود ہیں ، بلکہ عذاب وہ ہے…
Read the full tafseer →- 16 اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک اور تباہ و برباد کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس بستی کے عیش پسند لوگوں کو ایمان اور فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں پھر وہ بجائے حکم ماننے کے نافرمانی کرتے اور شرارت برپا کرتے ہیں تب اس بستی پر عذاب کی بات ثابت ہوجاتی ہے اور ان پر حجت پوری ہوجاتی ہے۔ پھر اس بستی کو ہم تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی کے لوگوں کو ان کی نافرمانی کے باعث بمقتقائے حکمت تباہ کرنے کا ارادہ فرماتاہیتو اس بستی کے لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے خاص طور پر مرذ الحال اور خوش عیش لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لائو اور حضرت حق کی فرمانبرداری بجا لائو رئوسا اور عیش پسند…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی امیرو رئیس لوگوں کو۔
Read the full tafseer →قانون تکوینی پر حکم الہی کا اطلاق درست ہے :
22۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو برائی کا حکم دے یہ ممکن نہیں بلکہ ممتنع ہے ہاں ! اللہ تعالیٰ کے تکوینی اور فطری احکام بھی ہیں جن کو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے اور ان کے لئے یہی پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے جس کا مفہوم ومطلب یہ ہے کہ کسی معاشرہ کو آخر کار جو چیز تباہ کرتی ہے وہ اس کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگوں کا بگاڑ ہے ، جب کسی قوم کی ہلاکت کے دن قریب آتے ہیں تو اس کے دولت مند اور صاحب اقتدار لوگ فسق وفجور پر آتے ہیں ‘ وہ ظلم وستم اور بدکاریاں اور شرارتیں شروع کردیتے ہیں اور آخر کار یہی فتنہ پوری قوم کو لے ڈوبتا ہے ۔
(امرنا) کے معنی حکم دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
Sequence
Previous verses said that it is the customary practice of Allah Ta` ala that he does not send punishment upon a people until the commandments of Allah reach them through the blessed prophets which they still refuse to obey. Given in the verses cited above is what happens on the other side when the messages of Allah and His Messenger do reach a people and they still show contumacy, then, a mass punishment is sent over them.
Commentary
A doubt and its answer
A surface look at the expressions: اِذا اَرَدنَا (idha aradna: when We intend) and, after that: اَمَرنَا (amarna: We command) in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
18. Here a definite form of divine procedure for the destruction of a people has been stated. When the affluent people of a habitation become disobedient, it is a portent that it is doomed to destruction. After their persistent and continuous transgression, the affluent people become so obdurate in their disobedience that they begin to discard the instinctive dictates of their conscience. The same thing has been stated in this Ayat: And when We intend to destroy a town, We give commands to its affluent people and they show disobedience. This is because Allah has created conscience for the…
Read the full tafseer →