Explained with ayahs 15–16
آچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں
جس نے راہ راست اختیار کی حق کی اتباع کی نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ سے پھرا اس کا وبال اسی پر ہے کوئی کسی کے گناہ میں پکڑا نہ جائے گا ہر ایک کا عمل اسی کے ساتھ ہے۔ کوئی نہ ہوگا جو دوسرے کا بوجھ بٹائے اور جگہ قرآن میں ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) اور آیت میں ہے (وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ 25) 16۔ النحل :25) یعنی اپنے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 15
یعنی راہ راست اختیار کر کے کوئی شخص خدا پر، یا رسول پر، یا اصلاح کی کوشش کرنے والوں پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ خود اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے۔ اور اسی طرح گمراہی اختیار کر کے یا اس پر اصرار کر کے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا، اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ خدا اور رسول اور داعیان حق انسان کو غلط راستوں سے بچانے اور صحیح راہ دکھانے کی جو کوشش کرتے ہیں وہ اپنی کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ انسان کی خیر خواہی کے لیے کرتے ہیں۔ ایک عقلمند آدمی کا کام یہ ہے کہ جب دلیل سے اس کے سامنے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کردیا جائے تو وہ تعصبات اور مفاد پرستیوں کو چھوڑ کر سیدھی…
Read the full tafseer →بعثت رسل کے بغیر عذاب نہ ہونے کی تشریح
اس آیت کی بناء پر بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک ان لوگوں کو کفر کے باوجود کوئی عذاب نہیں ہوگا جن کے پاس کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلا خدا کا وجود اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اسکے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلا خدا کا وجود اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اسکے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی و رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو البتہ عام معاصی اور گناہوں پر سزا…
Read the full tafseer →مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔
اتمام حجت کے لیے رسول کی بعثت : یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اپنے ہی نفع کے لیے کرے گا اور جو گمراہی کی راہ چلے گا اس کا انجام خود ہی بھگتے گا۔ کوئی دوسری جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو قوموں پر عذاب کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اختیار فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے…
Read the full tafseer →15۔ 1 البتہ جو مضل (گمراہ کرنے والے) بھی ہوں گے، انھیں اپنی گمراہی کے بوجھ کے ساتھ، ان کے گناہوں کا بار بھی (بغیر ان کے گناہوں میں کمی کیے) اٹھانا پڑے گا جو ان کی کوششوں سے گمراہ ہوئے ہوں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات اور احادیث میں واضح ہے۔ یہ دراصل ان کے اپنے ہی گناہوں کا بھار ہوگا جو دوسروں کو گمراہ کر کے انہوں نے کمایا ہوگا۔
15۔ 2 بعض مفسرین نے اس سے صرف دنیاوی عذاب مراد لیا ہے۔ یعنی آخرت کے عذاب سے مستثنٰی نہیں ہوں گے، لیکن قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے تھے ؟ جس پر اثبات میں جواب دیں گے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
8: انجام کو گلے سے چمٹانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے تمام اعمال ہر لمحے لکھے جارہے ہیں جو اسکے اچھے یا برے انجام کی نشان دہی کرتے ہیں، اور جب قیامت آئے گی تو یہ سارا اعمال نامہ اسکے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا جسے وہ خود پڑھ سکے گا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیا میں ان پڑھ تھا قیامت کے دن اسے بھی اپنا اعمال نامہ پڑھنے کی صلاحیت دے دی جائے گی۔
Read the full tafseer →وما کنا معذبین حتی نبعث (71 : 51) ” اور ہم اس وقت تک سزا دینے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ عذاب دینے سے قبل لوگوں پر حجت تمام کرتا ہے۔ اور کوئی عذر رہنے نہی دیتا۔
یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس اور کوئی عذر رہنے نہیں دیتا۔
یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس قدرت کے مطابق ہی نازل ہوتا ہے جس کے مطابق نظام لیل و نہار جاری وساری ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی سیدھی راہ خدا نے سب کو بتلا دی اب جو کوئی اس پر چلے یا نہ چلے، اپنا بھلا برا خود سوچ لے۔ کیونکہ اپنے طریق عمل کا نفع یا نقصان اسی کو پہنچے گا۔ ایک کے گناہوں کی گٹھڑی دوسرے کے سر پر نہیں رکھی جائے گی۔
5 یعنی بلاشبہ برے عمل آفت لاتے ہیں، پر حق تعالیٰ بغیر سمجھائے نہیں پکڑتا اسی واسطے رسول بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بیخبر اور غافل نہ رہنے دیں۔ نیک و بد سے پوری طرح آگاہ کردیں۔ جن باتوں کو آدمی محض عقل و فطرت کی راہنمائی سے سمجھ سکتا ہے (مثلاً وجود باری یا توحید) ان کی مزید تشریح و توثیق پیغمبروں کی زبانی کردی جائے اور جن چیزوں کے ادراک میں محض عقل کافی نہ ہو انھیں وحی والہام کی روشنی میں پیش…
Read the full tafseer →وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
روز قیامت ہر کسی کو اپنی بداعمالیوں کا بوجھ ذاتی طور پر خود ہی اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کی کچھ مدد نہیں کرسکے گا۔ سب اپنے اپنے اعمال کا انبار اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ کسی بھی قوم پر عذاب استیصال اس وقت تک نہیں بھیجا گیا جب تک کہ اس قوم کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل کا فرق واضح کردینے کے لیے کوئی رسول مبعوث نہیں کردیا گیا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس قانون سے مشروط نہیں۔ قرآن میں قوم نوح قوم ہود قوم صالح وغیرہ کی مثالیں بار بار بیان کی گئی ہیں جن سے اس…
Read the full tafseer →4 1 باز پرس فرداً فرداً ہوگی اجتماعی برائیوں میں ہر فرد کو اس کا حصہ ملے گا :۔ یہ قانون جزاء و سزا کا ایک نہایت اہم جزو ہے یعنی جو کرے گا وہی بھرے گا ایک کے گناہ کا بار دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوسکتا۔ اور جتنا کسی کا گناہ ہوگا اتنی اسے سزا ضرور ملے گی اور اتنی ہی ملے گی نہ کم نہ زیادہ۔ اس آیت سے جو اہم بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک سے فرداً فرداً باز پرس ہوگی۔ کوئی شخص اپنے گناہ کا بار معاشرہ پر ڈال کر خود بری الذمہ نہ ہوسکے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس اجتماعی جرم میں اس خاص فرد کا کتنا حصہ ہے۔ اسی کے مطابق اسے سزا ملے گی۔ لہذا ہر شخص کو اپنے کردار پر نظر رکھنا چاہیے۔ اسے یہ نہ…
Read the full tafseer →25۔ مشرک قوموں کا تو ذکر ہی نہیں، خود اہل کتاب و یہود ونصاری کے ہاں انفرادی ذمہ داری مٹ مٹا کر سارا زور مسئلہ ” شفاعت “ و ” کفارہ “ وغیرہ پر رہ گیا تھا۔ قرآن مجید میں اسی لئے ان عقاید کی پرزور تردید بار بار مختلف عنوانات سے ہوتی رہتی ہے اور یہاں بھی مقصود شخصی ذمہ داری ومسؤلیت کا اثبات ہے۔
26۔ یہاں یہ عام قاعدہ بیان کردیا کہ تبلیغ دین، رسول یا اس کے کسی نائب کے ذریعہ سے ہوجانا ضروری ہے، بغیر اس کے کسی قوم پر عذاب نہیں آتا۔ اور محققین نے اس سے استنباط کرکے لکھا ہے کہ جن قوموں تک رسول کی اصلا خبر نہیں پہنچی وہ کفر ومعاصی پر معذب نہ ہوں گے۔ اور یہیں سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ کوئی کفار حربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…
Read the full tafseer →مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ : جو شخص دنیا میں سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ اپنے نفع کے لئے چلتا ہے۔
یعنی جو کوئی ہدایت یاب ہوگا تو اس کا فائدہ خود اسی کو ملے گا کسی کا ہدایت یافتہ ہونا دوسروں کو عذاب سے نہیں بچائے گا۔
وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا : اور جو راستہ بھٹکتا ہے سو وہ اپنے نقصان کے لئے بےراہ ہوتا ہے۔
یعنی جو گمراہ ہوگا اسی کو اپنی گمراہی کا وبال اٹھانا پڑے گا اور اس کی گمراہی دوسروں کی ہلاکت کا باعث نہ ہوگی۔ ابن عبدالبر نے ایک کمزور سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ : کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک بار حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے (ان) بچوں کا (جو بلوغ…
Read the full tafseer →(15) جو ایمان لاتا ہے تو وہ اس کے ثواب کو حاصل کرنے لیے ایمان لاتا ہے اور جو شخص کفر کرتا ہے تو اس کفر کی اسی کو ملتی ہے کیوں کہ کوئی شخص کو بغیر جرم کے سزا نہیں دی جائے گی اور ہم کسی قوم قوم کو ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ کسی رسول کو ان کے پاس ان کی ہدایت اور ان پر اتمام حجت کے لیے نہیں بھیج لیتے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولاتزروازرۃ وزر اخری“۔ (الخ)
حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے مشرکین کی نابالغ اولاد کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا وہ اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے، حضرت عائشہ ؓ کہ پھر میں نے آپ سے ان کے بارے…
Read the full tafseer →مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ۔۔ : مطلب یہ ہے کہ جو شخص سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا، بلکہ اس کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے اور جو اس سے ہٹ کر غلط راستے پر چلتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔۔ :”تَزِرُ“ ”وَزَرَ یَزِرُ وِزْرًا“ (ض) بوجھ اٹھانا۔ ”وَازِرَةٌ“ اسم فاعل ہے اور ”نَفْسٌ“ کی صفت ہے جو یہاں پوشیدہ ہے، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ اس مفہوم کی کئی آیات ہیں، دیکھیے سورة انعام (164) اور سورة فاطر (18) وغیرہ۔
بعض آیات میں کچھ لوگوں کے اپنے گناہوں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
قولہ تعالیٰ : من اھتدی فانما یھتدی لنفسہٖۚ ومن ضل فانما یضل علیھا یعنی بلاشبہ ہر ایک سے اس کی اپنی ذات کے بارے میں حساب لیا جائے گا کسی دوسرے کے بارے میں نہیں، پس جو راہ ہدایت پر چلتا ہے تو اس کے راہ ہدایت پر چلنے کا ثواب اسی کے لئے ہوگا، اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کے کفر (اور نافرمانی) کی سزا اسی پر ہوگی۔ ولاتزروازرۃ وزر اخرٰی یہ سورة الانعام میں گزرچکا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے اہل مکہ کو کہا تھا : تم میعی اتباع کرو اور (حضرت) محمد ﷺ کے ساتھ کفر کرو اور تمہارا بوجھ مجھ پر ہوگا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی بلاشبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ضعیف اور ناتواں لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور احمق بہرے گونگے اور وہ بوڑھے لوگ جنہوں نے اسلام کو نہیں پایا (سب کو جمع فرمائے گے) پھر ان کی طرف ایک قاصد بھیجیں گے جو یہ احکام پہنچائے گا کہ تم دوزخ میں داخل ہوجاؤ تو وہ لوگ کہیں گے کیوں) ہم دوزخ میں جائیں) حالانکہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا راوی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو ان پر آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجاتی پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف رسول بھیجیں گے پس اس رسول کی اطاعت کرے گا جو اس کی اطاعت کا ارادہ کرے گا…
Read the full tafseer →[مَنِ : جس نے ] [اهْتَدٰى: ہدایت پائی ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَهْــتَدِيْ : وہ ہدایت پاتا ہے ] [لِنَفْسِهٖ : اپنے نفس کے لئے ] [وَمَنْ : اور جو ] [ضَلَّ : گمراہ ہوا ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَضِلُّ : وہ گمراہ ہوتا ہے ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [وَلَا تَزِرُ : اور نہیں اٹھائے گی ] [وَازِرَةٌ: کوئی اٹھانے والی (جان)] [وِّزْرَ اُخْرٰى: کسی دوسری کا بوجھ ] [وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں ہیں ] [مُعَذِّبِيْنَ : عذاب دینے والے ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [نَبْعَثَ : ہم بھیجیں ] [رَسُوْلًا : کوئی رسول ]
Read the full tafseer →اس کے بعد (مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ) (جس نے ہدایت پائی تو اس نے اپنی ہی جان کے لیے راہ ہدایت اختیار کی) کیونکہ اس کا نفع اسی کو پہنچے گا (وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا) (اور جس نے گمراہی اختیار کی اس کی گمراہی کا ضرر اسی کو پہنچے گا) یعنی آخرت میں تباہ کار ہوگا اور عذاب میں ڈالا جائے گا پھر فرمایا (وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) (اور کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں) یعنی دنیا میں بہت سے لوگ دوسروں کے کہنے سے کافر ہوجاتے ہیں اور گناہ کرلیتے ہیں اور بعض جاہل یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ تو میرے کہنے سے یہ گناہ کرلے تیرے گناہ کا بوجھ مجھ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت
قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…
Read the full tafseer →16:۔ تخویف دنیوی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ جب تک وہ بندوں کے پاس اپنا رسول بھیج کر اپنی حجت قائم نہ کرلے اس وقت تک وہ ان کو دنیا میں عذاب نہیں دیتا۔ جب اللہ کا رسول آجائے وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سنائے اور دلائل سے ان پر اللہ کی حجت قائم کر دے لیکن وہ پھر بھی تکذیب کریں تو ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ احکام شریعت میں تنہا عقل کافی نہیں اور وحی کے بغیر تنہا عقل سے حجت خداوندی قائم نہیں ہوتی۔ (حتی نبعث رسولا) لاقامۃ الحجۃ و قطعا للعذر و فیہ دلیل علی ان ما وجب انما وجب بالسمع لا بالعقل (خازن و معالم ج 4 ص 153) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کا ذکر ہوا کہ یہ سب سے سیدھے راستے اور سب سے درست ملت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یہ قرآن اہل ایمان کو بشارت دیتا ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کو عذاب کی وعید سناتا ہے پھر فرمایا انسان جلد بازی میں آکر شر کی دعا کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے مناسب نہیں ، آج کے درس میں اللہ نے اپنی پہچان ، توحید اور وقوع قیامت کے سلسلے میں اپنی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا ہے ، اگر ان میں تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے ، انہی نشانیوں سے قیامت پر یقین بھی پختہ ہو سکتا ہے ۔
(لیل ونہار کا…
Read the full tafseer →مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا 15
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : یلقاہ جملہ کتابا کی صفت جو حال ہے مفعول محذوف سے وھوضمیر الطائر یا مفعول ہے امرنا جواب ہے اذاکا۔ کم اس جگہ خبر یہ ہے محل نصب میں اھلکنا سے بربک میں ب زائدہ ہے جیسا کہ بنفسک میں اور جس طرح حسیبًا تمیز ہے من نفسک کی اسی طرح خبیرًا بصیرًا تقدیم خبیرًا کی اس کے متعلق کے تقدم سے ہے۔ قال القراء انما یجوزا دخال الباء فی المرفوع اذایذم اویمدح بہ صاحبہ مثل کفاک بہ واکرم بہ رجلا ولایقال قام باخیک و انت ترید قام اخوک۔
تفسیر : ہر شے کی تفصیل کے بعد انسان کی آنے والی حالت کا بیان کرنا اس دعوے کی دلیل بیان کردینا ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو کتب سابقہ میں بھی نہ تھی اس لیے فرماتا ہے وکل انسان…
Read the full tafseer →مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا ط وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی ط وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 15)
(جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ دیں۔ )
ایک اور رعدآسا اعلان
یہ ایک اور رعدآسا قرآن کریم کا اعلان ہے جس نے عرب کی دھرتی کو ہلا کے رکھ دیا اور ان کی زندگی کی کامیابی و ناکامی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اس کے اعمال نامہ کی بنیاد پر اس کا احتساب یاد دلانے کے بعد اس میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جارہا ہے۔ کہ جو ہدایت اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو گمراہی اختیار کرے گا اس کا نقصان اسی کو ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی وافر صلاحیتیں دینے کے باوجود اس بات کا اہتمام فرمایا کہ اس میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور اسے خود فراموشی سے نکالنے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ تاکہ انسان کو احساس ذمہ داری سے ہمکنار کرنے کی کوشش کریں۔ انبیاء (علیہ السلام) کی جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ…
Read the full tafseer →ہدایت کے اپنے فائدے :
15: مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا (جو شخص راہ پر چلتا ہے۔ وہ اپنے نفع کیلئے راہ پر چلتا ہے۔ اور جو شخص بےراہی کرتا ہے۔ پس وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لئے بےراہ ہوتا ہے) اس کو ہدایت کا ثواب اور ضلال کا وبال پہنچے گا۔ وَلَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی (اور کوئی شخص کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا) ہر نفس خود اپنا بوجھ اٹھائے گا۔ کسی دوسرے نفس کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے) ہم کسی قوم کو دنیا میں استیصال کا عذاب اس وقت تک نہیں…
Read the full tafseer →15۔” من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ “ اس کو اس کی ہدایت کے بدلے میں ثواب ملے گا ۔ ’ ’ ومن ضل فانما یضل علیھا “ جو گمراہ ہوتا ہے اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا ۔” ولا تزروازرۃ وزرا اخری “ یعنی کوئی شخص دوسرے شخص کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ یعنی کسی کے گناہ کے بسبب دوسرے کو نہیں پکڑا جائے گا ۔” وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ً “ ان پر اوپر دلیل قائم کرنے کی وجہ سے اور ان کے عذر کو ختم کرنے کی وجہ سے ۔ یہ آیت اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو پیغمبر کی دعوت نہ ملی ہو فقط عقل و ہوش ملنے کی وجہ سے اس پر کوئی اعتقادی یا عملی حکم واجب نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →15:۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہر شخص کا عمل جو اللہ کے فرشتے لکھ رہے ہیں اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اسی کے موافق جزاو سزا ہوگی اپنا اپنا حساب و کتاب ہر شخص وہاں دیکھ لے گا اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ ہر شخص جو راہ یاب ہوتا ہے اور ہر شخص جو گمراہ ہوتا ہے وہ سب اپنے اپنے لیے فائدہ یا نقصان اٹھاتے ہیں جو شخص دنیا میں اچھے عمل کرتا ہے اور رسول کی تابعداری میں چست رہا ہے آخرت میں اس کو اچھا بدلہ وہاں ملے گا اور جس نے یہاں برے عمل کیے اور رسول کو جھٹلا کر خدا کے ساتھ شریک ٹھہرایا اور گمراہی میں پڑا رہا ہے وہ آخرت میں خسارہ میں رہے گا۔ وہاں اس کو اس کے عمل کا بدلہ بڑے عدل و…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
یعنی ہر نفس کی ہدایت اور گمراہی خود اس کے لئے ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ذرہ بھر تکلیف اس سے دور ہٹا سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے وہ اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ اس پر رسالت کی حجت قائم نہ ہوجائے اور یہ ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے اس حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا، یا اس کے پاس حجت پہنچی ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترات (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں…
Read the full tafseer →سمعی حجت ضروری ہے
قول باری ہے (وما کنا معذبین حتی نبعت رسولاً اور ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک پیغام بر نہ بھیج دیں) اس کی تقیہ میں دو قول ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ان امور کی بنا پر جن کے اثبات کا تعلق سمعی دلائل سے ہے، عقل نسائی سے نہیں ہے اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جب تک رسول کے ذریعے سمعی حجت قائم نہ ہوجائے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے لیکن نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے بارے میں وہ سمعی احکامات سے آگاہ نہ ہو سکے تو ان احکامات کے بارے میں علم ہوجانے کے بعد اس پر ان کی قضا لازم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
32۔ قیامت کے روزہرکسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا :۔
سو اس روز اس کے ان مزعومہ اور من گھڑت حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آسکے گا۔ اور اسے کہا جائے گا کہ لے اپنا اعمال نامہ خود پڑھ لے اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کو خود دیکھ لے۔ آج تو کافی ہے اپنا حساب لینے کیلئے۔ پس تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان اعمال کا صلہ وبدلہ کیا ہونا چاہیے۔ اور ایسے شخص کا آخری ٹھکانا کہاں اور کیسا ہونا چاہیے ؟ اللہ نے تو تمہارے اعمال کو اس میں درج کرکے تم پر حجت قائم کردی ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کی کوئی نیکی درج ہونے سے رہ گئی ہے یا کوئی ناکردہ گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اعمال نامہ اور قیامت کا دن
تشریح : ان آیات میں اس سائنسی نکتہ کو بڑے ہی عام الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارے کائناتی نظام میں اس قدر مضبوط اور معقول نظام ریکارڈنگ اور فلم کا رکھا ہوا ہے کہ ہر شخص اس نظام کے احاطہ کے اندر ہے۔ ہر شخص کی کہی ہوئی بات کیا ہوا عمل اور نیت سب کچھ ایک خود کار عمل کے ذریعے ایسے ہی تیار ہو رہا ہے، جیسے کہ انسان کے اعمال کی تختی ہر وقت اس کے گلے میں لٹک رہی ہو۔ اور پھر وہ تختی اللہ کی اتنی سخت حفاظت میں جمع ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کی تختی خود دیکھ لے گا۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے رسول بھیج دیے جس شخص نے اپنی عقل، فہم اور ارادہ سے نیک راہ اختیار کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔
(جلد بازی کے فیصلے)
انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…
Read the full tafseer →ف 1 مطلب یہ ہے کہ جو شخص اچھے عمل کرتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا بلکہ اس کا فائدہ اس کو پہنچتا ہے اور اگر برے عمل کرتا ہے تو ان کا بوجھ بھی اسی پر ہوگا۔2 یعنی دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا بلکہ وہ اسے خود ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ سورة نحل اور عنکبوت میں جو یہ آیا ہے کہ اڈہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے ہیں۔ “ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں ہے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے۔ (نیز دیکھیے نحل :25 عنکبوت :13)3 جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور تمام حجت ہوجائے۔ جمہور علمائے تفسیر نے اسے عذاب دنیوی پو محمول کیا اور مراد عذاب…
Read the full tafseer →(17:15) اھتدی۔ راہ پر آیا۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔ اھتداء (افتعال) مصدر سے ماضی واحد مذکر غائب۔
علیھا۔ ای علیھا وبال الضلال۔ اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے۔
لا تزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وہ بوجھ نہیں اٹھاتی ہے وزر (باب ضرب) سے وازرۃ بوجھ اٹھانے والی۔ نفس کی رعائیت سے فاعل کو مؤنث لایا گیا ہے۔
اخری۔ اخرواخر کا مؤنث ہے۔ دوسری۔ پچھلی۔ وزر اخری۔ مضاف مضاف الیہ۔ دوسرے کا بوجھ۔ لا تزر وازرۃ وزر اخری۔ کوئی بوجھ اٹھنے والی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
ما کناماضی منفی جمع متکلم ہم نہیں تھے۔ یا ہم نہیں ہیں۔ نبعث۔ مضارع منصوب جمع متکلم بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم بھیج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت 11 تا 15
یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی…
Read the full tafseer →عذاب کا ذکر
مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اچھے عمل کرتا ہے اور رسول کی تابعداری کر رہا ہے آخرت میں خسارہ میں رہے گا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کسی قوم کو عذاب دینے والے نہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیجیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[15] یعنی انسان کسی جگہ اور کسی حال میں رہے اس کا نامہء اعمال اس کے ساتھ رہتا ہے جس میں اس کا ہر عمل، نیک ہو یا بد، لکھا جاتا رہتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر انسان کا نامہء اعمال اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(ف 1) اسلامی قانون مکافات یہ ہے ، کہ ہر شخص بجائے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہیں ، اس لئے تناسخ غلط ہے ، اور ہدیہ وکفارہ بھی صحیح نہیں ، ہر شخص اپنے اعمال کا جواب وہ ہے کوئی شخص کسی کے کام میں نہیں آسکے گا ۔
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ سے مراد یہ ہے کہ عذاب کے لئے تکذیب کی ضرورت ہے ، اور تکذیب کے لئے پیغام کی حاجت ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ عذاب سے قبل اتمام حجت ہوچکے ، تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اعمال صالحہ کے لئے مقدور بھر کوشش کی تھی اور ہمیں ناحق عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔
یہ یاد رہے ، کہ عذاب سے مراد تمام تکالیف نہیں ، نہ عادی مصائب مقصود ہیں ، بلکہ عذاب وہ ہے…
Read the full tafseer →- 15 جو شخص سیدھی راہ چلا وہ اپنے ہی فائدے اور نفع کو چلا اور جو سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور بےراہ ہوا تو وہ اپنے ہی نقصان کو بےراہ اور گم کردہ راہ ہوا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب کرنے اور سزا دینے والے نہیں جب تک کسی رسول کو نہ بھیج لیں۔ یعنی راہ یافتہ ہونا اپنے بھلے کو اور گم راہ ہونا اپنے ضرر کو ظاہر ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کے بوجھ کو اٹھانا تو کیسا ہاتھ بھی نہیں لگائے گا کیونکہ اس دن ہر ایک کو اپنے بوجھ سے فرصت کہاں ؟
قاعدہ یہ ہے کہ پہلے ہدایت دے کر رسول کو بھیجا جاتا ہے پھر اگر کوئی بستی نہیں مانتی تو وہ عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 6۔ یعنی ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ لازم ہے۔
Read the full tafseer →ہدایت کا نفع اور گمراہی کا نقصان اختیار کرنے والے ہی پر ہوگا :
19۔ اسلام کا یہ سنہری اصول آج خود اسلام کا نام لینے والوں کو یاد نہ رہا ۔ قرآن کریم کی تعلیم میں ہدایت وگمراہی کا تعلق کسی خاندان یا گروہ بندی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا نفع ونقصان بھی صرف اور صرف اسی کو ہے جو اس کا اختیار کرتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار بیان کیا اور پوری وضاحت سے بیان کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے قبل یہود ونصاری نے ہدایت وگمراہی کا اصول مکمل طور بدل رکھا تھا ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ (آیت) ” کونوا ھودا اونصری تھتدوا “۔ یعنی ہدایت چاہتے ہو تو یہودی یا عیسائی ہوجاؤ…
Read the full tafseer →Allah does not punish unless He sends a Messenger:
A clarification
On the basis of this verse, some leading Muslim jurists rule that people to whom the call of any prophet or messenger did not reach will not be subject to any punishment, despite their disbelief. There are other leading jurists who hold that those who deny the Islamic beliefs that can be understood through reason - such as, the existence of God and His Oneness etc. - will be punished for their disbelief, even if no call from any prophet or messenger has reached them. Of course, there will be no punishment for usual acts of…
Read the full tafseer →15. This is to impress that if a person adopts the right way, he does not do any favor to God or His Messenger or a reformer but he himself gets its benefits. On the other hand, if a person deviates from the right way, he can do no harm to God or His Messenger or a reformer, for they desire only to protect men from wrong ways and guide him on to the right way, and not for any selfish ends. Therefore, the right course for a wise man is to adopt the righteous way when it becomes distinct to him what is truth and what is falsehood. On the other hand, if he rejects truth because of his prejudices…
Read the full tafseer →