عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَکِّيِّ أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَيْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلَّا أَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُوَافِقُکَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَيْئٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ ﷺ ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
Yahya related to me from Malik that Humayd ibn Qays al-Makki said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with the two sons of Jafar ibn Abi Talib. He said to their nursemaid, Why do I see them so thin? Their nursemaid said, Messenger of Allah, the evil eye goes quickly to them. Nothing stops us from asking someone to make incantations (using ayats of Quran) for them, except that we do not know what of that would agree with you. The Messenger of ,Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Make incantations for them. Had anything been able to precede the decree, the evil eye would precede it. "
عَنْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْکِي فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ قَالَ عُرْوَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنْ الْعَيْنِ
عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Urwa ibn az-Zubayr told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the house of Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace. There was a child weeping in the house, and they told him that it was from the evil eye. Urwa said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Why do you not find someone to make an incantation to protect it from the evil eye? "
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَی إِلَيْهِ مَلَکَيْنِ فَقَالَ انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ فَإِنْ هُوَ إِذَا جَائُوهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ رَفَعَا ذَلِکَ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ فَيَقُولُ لِعَبْدِي عَلَيَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ وَأَنْ أُکَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسے خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے بعد اس کے، فرماتا ہے اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلالوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the slave is ill, Allah taala sends two angels to him." He said, "They look at what he says to his visitors. If he praises Allah and lauds Him, when they come to him, they take that up to Allah, the Mighty, the Majestic, and He knows best, and He says, If I make my slave die, I will make him enter the Garden. If I heal him, I will replace his flesh with better flesh and his blood with better blood and I will efface his evil actions."
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةُ إِلَّا قُصَّ بِهَا أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيُّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مومن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یزید نے کہا مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے قص اور کفر میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا۔
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Khusayfa that Urwa ibn az-Zubayr said that he heard Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, When a mumin is afflicted by something, even a thorn, it removes (or effaces) his wrong actions. " Yazid did not know which of them Urwa said.
عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصبتیں ڈالتا ہے۔
Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abdullah ibn Abi Sasaca said that he heard Abul-Hubab Said ibn Yasar say that he had heard Abu Hurayra say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah afflicts the one for whom He desires good."
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ وَمَا يُدْرِيکَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ يُکَفِّرُ بِهِ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مرگیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص بولا واہ کیا اچھی موت ہوئی نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ آپ ﷺ نے فرمایا بھلا یہ کیا کہتا ہے تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر جل جلالہ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that death came to a man in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. A man said, "He was fortunate," as he had died without being tried by illness. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Alas for you, what will let you know that if Allah had tried him with illness, He would have wiped out his wrong actions."
بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ وَبِي وَجَعٌ قَدْ کَادَ يُهْلِکُنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا کَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهَا أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ
عثمان بن ابی عاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان کے ایسا درد ہوتا تھا جس سے قریب ہلاکت کے تھے آپ ﷺ نے فرمایا داہنا ہاتھ اپنے درد کے مقام پر سات بار پھیر اور کہہ " اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد " عثمان کہتے ہیں میں نے یہی کہا اللہ نے میرا درد دور کردیا پھر میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دیا کرتا۔
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Khusayfa that Amr ibn Abdullah ibn Kab as-Salami told him that Nafi ibn Jubayr told him that Uthman ibn Abi al-As came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. Uthman said that he had a pain which was enough to kill him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Rub it with your right hand seven times and say, I take refuge with the might of Allah and His power from the evil of what I feel. " Uthman added, "I said that, and Allah removed what I had. I still command my family and others to say it."
بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی يَقْرَأُ عَلَی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفِثُ قَالَتْ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ کُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَمِينِهِ رَجَائَ بَرَکَتِهَا
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو قل ہو اللہ احدا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ جب آپ ﷺ بیمار ہوئے تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی برکت کے واسطے
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when he had a complaint, would recite the last three suras of Quran, over himself and blow. She said, "When his pain was great, I would recite it over him and wipe him with his right hand hoping for its blessing."
بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَکِي وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ارْقِيهَا بِکِتَابِ اللَّهِ
عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ابوبکر ؓ حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر پڑھ کر پھونک رہی تھی حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کلام اللہ پڑھ کر پھونک۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Amra bint Abd ar-Rahman that Abu Bakr (RA) as-Siddiq visited Aisha while she had a [health] complaint and a jewish woman was making incantation (ruqya) for her. Abu Bakr (RA) said, "Do it (incantation) with the Book of Allah."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَهُ جُرْحٌ فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي أَنْمَارٍ فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا أَيُّکُمَا أَطَبُّ فَقَالَا أَوَ فِي الطِّبِّ خَيْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْزَلَ الدَّوَائَ الَّذِي أَنْزَلَ الْأَدْوَائَ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زخم لگا اور خون وہاں آکر بھر گیا تو اس شخص نے دو شخصوں کو بلایا بنی انمار میں سے ان دونوں نے آکر دیکھا رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ تم دونوں میں سے کون طب زیادہ جانتا ہے وہ بولے یا رسول اللہ ﷺ طب میں بھی کچھ فائدہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوا بھی اسی نے اتاری ہے جس نے بیماری اتاری ہے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that a man received a wound in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. The blood clotted in the wound and the man called two men from the Banu Ammar tribe. They looked at it and claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to them, "Which of you is the better doctor?" They said, "Is there any good in medicine, Messenger of Allah? ﷺ " Zayd claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The one who sent down the disease sent down the remedy."
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ اکْتَوَی فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الذُّبْحَةِ فَمَاتَ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن زرارہ نے داغ لیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خناق کی بیماری میں تو مرگئے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "I heard that Sad ibn Zurara cauterized himself because of a pain in the throat accompanied by blood and he died."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اکْتَوَی مِنْ اللَّقْوَةِ وَرُقِيَ مِنْ الْعَقْرَبِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے داغ لیا لقوہ میں اور متنر کیا بچھو کا
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar cauterized for the palsy and he had a talisman made for a scorpion sting.
بخار میں پانی سے غسل کرنا۔
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ کَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ وَقَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا أَخَذَتْ الْمَائَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْرِدَهَا بِالْمَائِ
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر ؓ کے پاس جب کوئی عورت آتی جو بخار میں مبتلا ہوتی تو پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ حکم دیتے تھے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا پانی سے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from Fatima bint al-Mundhir that whenever a woman who had a fever, was brought to Asma bint Abi Bakr, she made dua for her and took water and poured it inside her collar. She said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered us to cool it with water."
بخار میں پانی سے غسل کرنا۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّی مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَائِ
عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بخار جہنم کا جوش ہے اس کو ٹھنڈا کرو پانی سے،۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Fever is from the vehemence of the heat of Jahannam, so cool it with water." Malik related to me from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Fever is from the vehemence of the heat of Jahannam, so put it out with water."
بیمار پرسی اور فال بد کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّی إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ أَوْ نَحْوَ هَذَا عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلْ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَائَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أَذًی
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had heard from Jabir ibn Abdullah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a man visits an invalid, he plunges into mercy to the extent that when he sits with him, it settles in him," or the like of that.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحَی
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے مونڈنے اور داڑھیوں کے چھوڑ دینے ( بڑھانے) کا حکم دیا۔
Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Nafi from his father Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered the moustache to be trimmed and the beard to be left.
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے منع کرتے تھے اس سے اور فرماتے تھے کہ تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Humay ibn Abd ar-Rahman ibn Awf heard Muawiya ibn Abi Sufyan say from the mimbar in the year that he performed the hajj, holding a lock of hair (i.e. a hairpiece) which he took from one of his guards, "People of Madina! Where are your learned men? I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbid the like of this, saying, The Banu Israil were destroyed when their women started to use this. "
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِکَ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک بعد اس کے مانگ نکالنے لگے۔
Yahya related to me from Malik that Ziyad ibn Sad heard Ibn Shihab say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, let his hair hang down his forehead as Allah willed, and afterwards he parted it." Malik said, "There is no harm in a mans looking at the hair of his sons wife or the hair of his wifes mother."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَکْرَهُ الْإِخْصَائَ وَيَقُولُ فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ
عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar disapproved of castration and said, "The completeness of the created form is in the testicles."
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا وَکَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ کَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَی وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَی وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ
صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں یتیم کا پالنے والا خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیان جبکہ پرہیزگاری کرے اور آپ ﷺ نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف۔
Yahya related to me from Malik that Safwan ibn Sulaym heard that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I and the one who guards the orphan, whether for himself or for someone else, will be like these two in the Garden, when he has taqwa," indicating his middle and index fingers.