کتاب قصر الصلوة فی السفر

Mauwatta Imam Malik · Chapter 10 · 87 hadiths · Page 1 of 5

294Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَی تَبُوکَ

اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, joined dhuhr and asr on his journey to Tabuk.

295Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوکَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوکَ وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّی يَضْحَی النَّهَارُ فَمَنْ جَائَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّی آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَيْئٍ مِنْ مَائٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا فَقَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي شَيْئٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَائٍ کَثِيرٍ فَاسْتَقَی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَی مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ ﷺ جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ ﷺ نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ ﷺ ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ ﷺ انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Abut-Tufayl Amir ibn Wathila that Muadh ibn Jabal told him that they went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, joined dhuhr with asr and maghrib with isha. Muadh said, "One day he delayed the prayer, and then came out and prayed dhuhr and asr together. Then he said, Tomorrow you will come, insha llah, to the spring of Tabuk. But you will not get there until well into the morning. No one who arrives should touch any of its water until I come. We came to it and two men had got to it before us and the spring was dripping with a little water. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked them, Have you touched any of its water? They said, Yes. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, reviled them and said what Allah wished him to say. Then they took water with their hands from the spring little by little until it had been collected in something. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, washed his face and hands in it. Then he put it back into the spring and the spring flowed with an abundance of water and the people drew water from it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If you live long enough, Muadh, you will soon see this place filled with gardens. "

296Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کرلیتے مغرب اور عشاء کو۔

3 Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to join maghrib and isha together when it was urgent to travel."

297Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ قَالَ مَالِک أُرَی ذَلِکَ کَانَ فِي مَطَرٍ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz Zubayr al-Makki from Said ibn Jubayr that Abdullah ibn Abbas said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed dhuhr and asr together and maghrib and isha together, and not out of fear nor because of travelling." Malik said, "I believe that was during rain."

298Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا جَمَعَ الْأُمَرَائُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فِي الْمَطَرِ جَمَعَ مَعَهُمْ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمع کرلیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء بارش کے وقت میں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to join the prayer along with the amirs if they joined maghrib and isha in the rain.

299Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ نَعَمْ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ أَلَمْ تَرَ إِلَی صَلَاةِ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کرتے ہیں۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کرلیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he had asked Salim ibn Abdullah, "Can you join dhuhr and asr when travelling?" He said, "Yes, there is no harm in that. Havent you seen the people pray on Arafa?"

300Mauwatta Imam Malik

سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ

امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد ﷺ کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد ﷺ کو کرتے ہوئے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from a man of the family of Khalid ibn Asid that he said to Abdullah ibn Umar, "Abu Abd ar-Rahman, we find the fear prayer and the prayer when settled mentioned in the Quran, but we do not find any mention of the travelling prayer in it." Ibn Umar (RA) said, "Son of my brother! Allah the Mighty and Majestic sent us Muhammad, may Allah bless him and grant him peace, and we know nothing. We only do as we saw him doing."

301Mauwatta Imam Malik

سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ

حضرت ام المومنیں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کہا انہوں نے نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئیں تھیں حضر میں اور سفر میں بعد اس کے سفر میں نماز اپنے حال پر رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی۔

Yahya related to me from Malik from Salih ibn Kaysan from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The prayer was prescribed as two rakas, both when settled and when travelling. Then the travelling prayer was kept as it was, and an increase was made in the prayer when settled. "

302Mauwatta Imam Malik

سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتَ أَبَاکَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَالِمٌ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَنَحْنُ بِذَاتِ الْجَيْشِ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ بِالْعَقِيقِ

یحییٰ بن سعید نے کہا سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں سالم نے کہا آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he said to Salim ibn Abdullah, "What is the latest you have seen your father delay maghrib while on a journey?" and Salim replied, "One time the sun set when we were at Dhat al-Jaysh and he prayed maghrib at al-Aqiq."

303Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا قَصَرَ الصَّلَاةَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب مدینہ سے نکلتے مکہ کو حج یا عمرہ کے لئے تو قصر کرتے نماز کو ذوالحلیفہ سے

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar, shortened the prayer when he left for hajj or umra at Dhul Hulayfa.

304Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَکِبَ إِلَی رِيمٍ فَقَصَرَ الصَّلَاةَ فِي مَسِيرِهِ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر مدینہ سے سوار ہوئے ریم کو جانے کے لئے تو قصر کیا نماز کو راہ میں

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah that his father rode to Rim and shortened the prayer on the journey. Malik said, "That was about four mail-stages." (approximately forty-eight miles).

305Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَکِبَ إِلَی ذَاتِ النُّصُبِ فَقَصَرَ الصَّلَاةَ فِي مَسِيرِهِ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَبَيْنَ ذَاتِ النُّصُبِ وَالْمَدِينَةِ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سوار ہوئے مدینہ سے ذات النصب کو تو قصر کیا نماز کو راہ میں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar rode to Dhat an-Nusub and shortened the prayer on the journey. Malik said, "There are four mail-stages between Dhat an-Nusub and Madina."

306Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يُسَافِرُ إِلَی خَيْبَرَ فَيَقْصُرُ الصَّلَاةَ

عبداللہ بن عمر سفر کرتے تھے مدینہ سے خیبر کا تو قصر کرتے تھے نماز کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that he used to travel to Khaybar and he would shorten the prayer.

307Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ فِي مَسِيرِهِ الْيَوْمَ التَّامَّ

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قصر کرتے تھے نماز کو پورے ایک دن کی مسافت میں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar used to shorten the prayer when he travelled for a whole day.

308Mauwatta Imam Malik

قصر کی مسافت کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ کَانَ يُسَافِرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْبَرِيدَ فَلَا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ فِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَکَّةَ وَالطَّائِفِ وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَکَّةَ وَعُسْفَانَ وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَکَّةَ وَجُدَّةَ

نافع سفر کرتے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ ایک برید کا تو نہیں قصر کرتے تھے نماز کا۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس قصر کرتے تھے نماز کو اس قدر مسافرت میں جتنی مکہ اور طائف کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور جدہ کے بیچ میں ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that he used to travel one mail-stage with Ibn Umar (RA) , and he would not shorten the prayer.

309Mauwatta Imam Malik

جب نیت اقامت کی نہ کرے اور یونہی ٹھہر جائے تو قصر کرنے کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ أُصَلِّي صَلَاةَ الْمُسَافِرِ مَا لَمْ أُجْمِعْ مُکْثًا وَإِنْ حَبَسَنِي ذَلِکَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عرم کہتے تھے میں نماز قصر کیا کرتا ہوں جب تک نیت نہیں کرتا اقامت کی اگرچہ بارہ راتوں تک پڑا رہوں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar used to say, "I pray the prayerof a traveller as long as I am undecided whether to remain somewhere or not, even if I am detained for twelve nights."

310Mauwatta Imam Malik

جب نیت اقامت کی نہ کرے اور یونہی ٹھہر جائے تو قصر کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَقَامَ بِمَکَّةَ عَشْرَ لَيَالٍ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ فَيُصَلِّيهَا بِصَلَاتِهِ

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر مکہ میں دس رات تک ٹھہرے رہے اور نماز کا قصر کرتے رہے مگر جب امام کے ساتھ پڑھتے تو پوری پڑھ لیتے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Ibn Umar (RA) stayed in Makka for ten nights, shortening the prayer, except when he prayed it behind an imam, in which case he followed the imams prayer. 9.5 Doing the Full Prayer when One Decides to Remain in a Place

311Mauwatta Imam Malik

مسافر جب نیت اقامت کی کرے تو اس کا بیان

عَنْ عَطَائٍ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَنْ أَجْمَعَ إِقَامَةً أَرْبَعَ لَيَالٍ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلَاةَ

سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص نیت کرے چار رات کے رہنے کی تو وہ پورا پڑھے نماز کو۔

Yahya related to me from Malik from Ata al-Khurasani that he heard Said ibn al Musayyab say, "A traveller who has decided to remain somewhere for four nights does the prayer in full." Malik said, "That is what I prefer most out of what I have heard." Malik when asked about the prayer of a prisoner, said, "It is the same as the prayer of a person who remains in one place, except if he is travelling."

312Mauwatta Imam Malik

مسافر کا امام ہونا یا امام کے پیچھے نماز پڑھنا۔

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ يَا أَهْلَ مَكَّةَ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب جب مدینہ سے مکہ آئے تو جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیتے پھر کہتے اے مکہ والو تم اپنی نماز پوری پڑھو کیونکہ میں مسافر ہوں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah from his father that Umar ibn al-Khattab, when he went to Makka, used to lead them in prayer and do two rakas and then say, "People of Makka,complete the prayer, we are a group travelling." Yahya related the same as that to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father from Umar ibn al-Khattab.

313Mauwatta Imam Malik

مسافر کا امام ہونا یا امام کے پیچھے نماز پڑھنا۔

و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي وَرَاءَ الْإِمَامِ بِمِنًى أَرْبَعًا فَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر امام کے پیچھے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھتے تھے اور جب اکیلے پڑھتے تھے تو دو رکعتیں پڑھتے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to pray four rakas behind the imam at Mina, and when he prayed by himself he would pray two rakas.