مسافر کا امام ہونا یا امام کے پیچھے نماز پڑھنا۔
عَنْ صَفْوَانَ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُمْنَا فَأَتْمَمْنَا
صفوان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر عیادت کرنے آئے عبداللہ بن صفوان کے پاس تو دو رکعتیں پڑھائیں پھر جب انہوں نے سلام پھیرا ہم اٹھے اور پورا کیا نماز کو۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Safwan said, "Abdullah ibn Umar used to come and visit Abdullah ibn Safwan and he would pray two rakas with us, and when he went away we would stand and complete the prayer."
سفر میں رات اور دن کو نفل پڑھنے کا بیان اور جانور پر نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُصَلِّي مَعَ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ شَيْئًا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا إِلَّا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ کَانَ يُصَلِّي عَلَی الْأَرْضِ وَعَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَأَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانُوا يَتَنَفَّلُونَ فِي السَّفَرِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَرَى ابْنَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَنَفَّلُ فِي السَّفَرِ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ
عبداللہ بن عمر سفر میں فرض کے ساتھ نفل نہیں پڑھتے تھے نہ آگے فرض کے نہ بعد فرض کے مگر رات کو زمین پر اتر کے اور کبھی اونٹ ہی پر نفل پڑھتے تھے اگرچہ منہ اونٹ کا قبلہ کی طرف نہ ہوتا۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن نفل پڑھا کرتے تھے سفر میں۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے بیٹے عبیداللہ کو سفر میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے پھر کچھ انکار نہ کرتے تھے ان پر۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar never used to pray anything with the fard prayer, either before it or after it, while travelling, except in the depths of the night. He would pray on the ground or on his mount, whichever way it was facing.
سفر میں رات اور دن کو نفل پڑھنے کا بیان اور جانور پر نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَی حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَی خَيْبَرَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے گدھے پر اور رخ آپ ﷺ کا خیبر کی جانب تھا۔
Yahya related to me from Malik from Amr ibn Yahya al-Mazini from Abul-Hubab Said ibn Yasar that Abdullah ibn Umar said, "I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying on a donkey while heading towards Khaybar."
سفر میں رات اور دن کو نفل پڑھنے کا بیان اور جانور پر نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اونٹ پر سفر میں جس طرف اونٹ کا منہ ہوتا تھا اسی طرف اپنا منہ کرتے تھے عبداللہ بن دینار نے کہا کہ عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray on his mount while travelling, whichever way it was facing. Abdullah ibn Dinar said, "Abdullah ibn Umar would also do that."
سفر میں رات اور دن کو نفل پڑھنے کا بیان اور جانور پر نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِي السَّفَرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَی حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَی غَيْرِ الْقِبْلَةِ يَرْکَعُ وَيَسْجُدُ إِيمَائً مِنْ غَيْرِ أَنْ يَضَعَ وَجْهَهُ عَلَی شَيْئٍ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس کو نماز پڑھتے تھے سفر میں گدھے پر اور منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ تھا رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرلیتے تھے بغیر اس امر کے کہ منہ اپنا کسی چیز پر رکھیں۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "I saw Anas ibn Malik on a journey praying on a donkey facing away from the qibla. He did the raka and the sajda by motioning with his head, without putting his face on anything."
چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔
عَنْ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
ام ہانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس سال مکہ فتح ہوا آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں ایک کپڑا اوڑھ کر۔
Yahya related to me from Malik from Musa ibn Maysara from Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib, that Umm Hani bint Abi Talib told him that in the year of the conquest the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed eight rakas, covering himself with one garment.
چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔
عَنْ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی
ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ ﷺ کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ ﷺ کی چھپائے ہوئے تھیں آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ ﷺ کو تو پوچھا آپ ﷺ نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ ﷺ نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ ﷺ غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا۔
Yahya related to me from Malik from Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah, that Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib, told him that he had heard Umm Hani bint Abi Talib say, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the year of the conquest and found him doing ghusl while his daughter Fatima, was screening him with a garment. I said to him, Peace be upon you and he said, Who is that? I replied, Umm Hani bint Abi Talib, and he said, Welcome, Umm Hani! When he had finished his ghusl, he stood and prayed eight rakas, covering himself with one garment, and then came away. I said, Messenger of Allah, the son of my mother, AIi, says that he is determined to kill so-and-so, son of Hubayra, a man I have placed under my protection. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, We give protection to whoever you have given protection to, Umm Hani. "Umm Hani related that this incident happened in the morning.
چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو اور رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہوجائے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never once saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing the voluntary prayer of duha, but I myself do it. Sometimes the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, would refrain from a practice that he loved to do, fearing that people would do the same and it would become fard for them ."
چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَکْتُهُنَّ
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Aisha that she used to pray duha with eight rakas, and she would say, "I would never stop doing them even if my parents were to be brought back to life."
نماز چاشت کی متفرق حدیثیں۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْکَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ فَأَکَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَکُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی لَنَا رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ ﷺ کی پس کھایا آپ ﷺ نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہوگیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ ﷺ کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ ﷺ۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Anas ibn Malik that his grandmother, Mulayka, invited the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, for food and he ate some of it. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Get up and I will lead you in prayer." Anas said, "I stood up and took a woven mat belonging to us that had become black through long use and sprinkled it with water, and the Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood on it. The orphan and I formed a row behind him, and the old woman stood behind us. He prayed two rakas with us and then left."
نماز چاشت کی متفرق حدیثیں۔
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْهَاجِرَةِ فَوَجَدْتُهُ يُسَبِّحُ فَقُمْتُ وَرَائَهُ فَقَرَّبَنِي حَتَّی جَعَلَنِي حِذَائَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا جَائَ يَرْفَا تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَائَهُ
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں گیا عمر بن خطاب کے پاس گرمی کے وقت تو پایا میں نے ان کو نفل پڑھتے ہوئے پس کھڑا ہونے لگا میں یچھے ان کے سو قریب کرلیا انہوں نے مجھ کو اور کھڑا کیا آپ نے برابر داہنی طرف بعد اس کے جب آیا یرفا تو پیچھے ہٹ گیا میں اور صف باندھی ہم دونوں نے پیچھے حضرت عمر کے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba said, "I visited Umar ibn al-Khattab just before noon and found him praying a voluntary prayer. So I stood behind him, but he pulled me nearer and put me next to him, on his right hand side, and then Yarfa came and I moved back and we formed a row behind him."
نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abd ar-Rahman ibn Abi Said al-Khudri from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not let anyone pass in front of you when you are praying. Repel him as much as you can, and, if he refuses, fight him, for he is only a shaytan."
نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان
عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو۔
Yahya related to me from Malik from Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah from Busr ibn Said that Zayd ibn Khalid al-Juhani sent him to Abu Juhaym to ask him what he had heard from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about passing in front of someone praying. Abu Juhaym said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If the one who passes in front of a man praying knew what he was bringing upon himself it would be better for him to stop for forty than to pass in front of him. " Abun-Nadr said, "I do not know whether he said forty days or months or years."
نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ أَيْدِي النِّسَائِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا تو اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے سے گزر جانے سے۔ امام مالک کو پہنچا کہ تھے عبداللہ بن عمر ناپسند سمجھتے تھے یہ کہ وہ گزرے عورتوں کے آگے سے اور وہ نماز پڑھ رہی ہوں۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Kab al-Ahbar said, "If the person who passed in front of a man praying knew what he was bringing on himself, it would be better for him to sink into the ground than to pass in front of him."
نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ وَلَا يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would neither pass in front of anyone, nor let anyone pass in front of him.
نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الْاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًی فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلَاةُ قَائِمَةٌ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے منیٰ میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہوگیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی ؓ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Abdullah ibn Abbas said, "I approached, riding on a donkey, while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was leading the people in prayer at Mina, and I was, at that time, nearing puberty. I passed in front of part of the row, dismounted, sent the donkey off to graze, and then joined the row, and no one rebuked me for doing so."
نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت۔-r-nسفر میں سترہ کا بیان
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْئٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar used to say, "Things that pass in front of a man praying do not break his prayer."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَائِ إِلَی غَيْرِ سُتْرَةٍ
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father used to pray in the desert without a sutra.
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا أَهْوَی لِيَسْجُدَ مَسَحَ الْحَصْبَائَ لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے۔
Yahya related to me from Malik that Abu Jafar al-Qari said, "I saw Abdullah ibn Umar quickly brush away the small stones from the place where he was going to put his forehead as he was going down into sajda."
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ کَانَ يَقُولُ مَسْحُ الْحَصْبَائِ مَسْحَةً وَاحِدَةً وَتَرْکُهَا خَيْرٌ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he had heard that Abu Dharr (RA) used to say, "Brush away the small stones with one sweep, but if you leave them it is better than a red camel."