کتاب حدوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 43 · 23 hadiths · Page 1 of 2

1460Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ الْيَهُودُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَکَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَی الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تورات میں کیا حکم ہے رجم کا؟ یہودیوں نے کہا ہم میں جو کوئی زنا کرے اس کو ہم رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں عبداللہ بن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں رجم ہے لاؤ تم تورات کو پڑھو اس کو، انہوں نے تورات کو کھولا اور ایک شخص نے ان میں سے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ لیا اور اس کے اول اور آخر کی آیتیں پڑھیں عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے جو ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت نکلی تب سب یہودی کہنے لگے کہ سچ کہا عبداللہ بن سلام نے آیت رجم کی موجود ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا رجم کا تو وہ مرد اور عورت رجم کئے گئے عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے مرد کو دیکھا کہ وہ عورت کی طرف جھکتا تھا اس کو بچانے پتھروں سے۔

Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The Jews came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned to him that a man and woman from among them had committed adultery. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked them, What do you find in the Torah about stoning? They said, We make their wrong action known and flog them. Abdullah ibn Salam said, You have lied! It has stoning for it, so bring the Torah. They spread it out and one of them placed his hand over the ayat of stoning. Then he read what was before it and what was after it. Abdullah ibn Salam told him to lift his hand. He lifted his hand and there was the ayat of stoning. They said, He has spoken the truth, Muhammad. The ayat of stoning is in it. So the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave the order and they were stoned . " Abdullah ibn Umar added, "I saw the man leaning over the woman to protect her from the stones." Malik commented, "By leaning he meant throwing himself over her so that the stones fell on him."

1461Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ لَهُ إِنَّ الْأَخِرَ زَنَی فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ هَلْ ذَکَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي فَقَالَ لَا فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ فَتُبْ إِلَی اللَّهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّی أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِأَبِي بَکْرٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّی جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ الْأَخِرَ زَنَی فَقَالَ سَعِيدٌ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلُّ ذَلِکَ يُعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا أَکْثَرَ عَلَيْهِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَهْلِهِ فَقَالَ أَيَشْتَکِي أَمْ بِهِ جِنَّةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِکْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ فَقَالُوا بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص اسلم کے قبیلے کا ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے (اپنی طرف اشارہ کرکے) زنا کیا ابوبکر ؓ نے کہا تو نے یہ بات اور کسی سے تو بیان نہیں کیا بولا نہیں ابوبکر ؓ نے کہا تو توبہ کر اللہ سے اور چھپا رہ اللہ کے پردے میں کیونکہ اللہ جل جلالہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی اس کو تسکین نہ ہوئی وہ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا حضرت عمر سے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ ابوبکر ؓ سے کہا تھا حضرت عمر نے بھی وہی جواب دیا پھر بھی اس کو تسکین نہ ہوئی پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے زنا کیا تین بار اس نے کہا اور تینوں بار رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا جب بہت اس نے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کیا یہ بیمار ہوگیا ہے یا اس کو جنون ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ تندرست ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا نکاح ہوا ہے یا نہیں لوگوں نے کہا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے حکم کیا اس کو سنگسار کرنے کا وہ سنگسار کردیا گیا۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that a man from the Aslam tribe came to Abu Bakr (RA) as-Siddiq and said to him, "I have committed adultery." Abu Bakr (RA) said to him, "Have you mentioned this to anyone else?" He said, "No." Abu Bakr (RA) said to him, "Then cover it up with the veil of Allah. Allah accepts tawba from his slaves." His self was still unsettled, so he went to Umar ibn al-Khattab. He told him the same as he had said to Abu Bakr, and Umar told him the same as Abu Bakr (RA) had said to him. His self was still not settled so he went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said to him, "I have committed adultery," insistently. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned away from him three times. Each time the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned away from him until it became too much. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, questioned his family, "Does he have an illness which affects his mind, or is he mad?" They said, "Messenger of Allah, by Allah, he is well." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Unmarried or married?" They said, "Married, Messenger of Allah." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave the order and he was stoned.

1462Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ هَزَّالٌ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِرِدَائِکَ لَکَانَ خَيْرًا لَکَ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ يَزِيدُ هَزَّالٌ جَدِّي وَهَذَا الْحَدِيثُ حَقٌّ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا ایک شخص کو جو اسلم کے قبیلے سے تھا اس کا نام ہزال تھا کہ اے ہزال اگر اس خبر کو تو چھپا لیتا تو تیرے واسطے بہتر ہوتا یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو ایک مجلس میں بیان کیا جس میں یزید بن عنیم بن ہزال اسلمی بیٹھے تھے تو یزید نے کہا کہ ہزال میرے دادا تھے اور یہ حدیث سچ ہے۔

Malik related to me from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "I have heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to a man from the Aslam tribe called Hazzal, Hazzal, had you veiled him with your cloak, it would have been better for you. " Yahya ibn Said said, "I related this hadith in an assembly among whom was Yazid ibn Nuaym ibn Hazzal al-Aslami. Yazid said, Hazzal was my grandfather. This hadith is true. "

1463Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِهِ عَلَی نَفْسِهِ

ابن شہاب کہتے تھے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور چار بار اقرار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے رجم کرنے کا حکم کیا وہ رجم کیا گیا ابن شہاب نے کہا کہ اسی وجہ سے آدمی اپنے پر جو اقرار کرے اس کا مواخذہ ہوتا ہے۔

Malik related to me that Ibn Shihab informed him that a man confessed that he had committed adultery in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he testified against himself four times, so the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave the order and he was stoned. Ibn Shihab said, "Because of this a man is to be taken for his own confession against himself."

1464Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبِي حَتَّى تَضَعِي فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبِي حَتَّى تُرْضِعِيهِ فَلَمَّا أَرْضَعَتْهُ جَاءَتْهُ فَقَالَ اذْهَبِي فَاسْتَوْدِعِيهِ قَالَ فَاسْتَوْدَعَتْهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ

عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک عورت (غامدیہ) آئی رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا میں نے زنا کیا اور وہ حاملہ تھی آپ نے فرمایا جب وضع حمل ہوجائے تو آنا جب اس نے (بچہ) جنا تو پھر آئی آپ نے فرمایا جب دودھ چھڑا لینا تو آنا پھر جب وہ دودھ پلاچ کی تو آئی آپ نے فرمایا جا لڑکے کو کسی کے سپرد کردے (حفاظت اور پرورش کے واسطے وہ سپرد کرکے پھر آئی تب رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا اور وہ رجم کی گئی۔

Malik related to me from Yaqub ibn Zayd ibn Talha from his father Zayd ibn Talha that Abdullah ibn Abi Mulayka informed him that a woman came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and informed him that she had committed adultery and was pregnant. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to her, "Go away until you give birth." When she had given birth, she came to him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to her, "Go away until you have suckled and weaned the baby." When she had weaned the baby, she came to him. He said, "Go and entrust the baby to someone." She entrusted the baby to someone and then came to him. He gave the order and she was stoned.

1465Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أَأُمْهِلُهُ حَتَّی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا میں اس کو مہلت دوں چار گواہ جمع کرنے تک آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔

Malik related to me from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that Sad ibn Ubadah said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "What do you think I should do if I were to find a man with my wife? Should I leave him there until I had brought four witnesses?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes."

1466Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ تَکَلَّمْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُکَ وَجَارِيَتُکَ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنْ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ کے پاس ایک بولا یا رسول اللہ آپ فیصلہ کیجیے ہمارا موافق کتاب اللہ کے اور دوسرا شخص جو زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا ہاں یا رسول اللہ فیصلہ کیجیے کتاب اللہ کے اور اجازت دیجیے مجھے بات کرنے کی آپ نے فرمایا اچھا بولو اس نے کہا میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے میں نے سو بکریاں اس کی طرف سے فدیہ دیں اور ایک لونڈی دی پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں اور ایک برس جلاوطنی اور رجم اس کی عورت پر ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم دنوں کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے موافق کرتا ہوں تیری بکریاں اور لونڈی تیرا مال ہے اس کو لے لے اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے مارنے کا حکم کیا اور ایک برس تک جلاوطن کیا اور حکم کیا انیس اسلمی کو کہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جا اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اس کو رجم کر اس نے زنا کا اقرار کیا وہ رجم کی گئی۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Abu Hurayra and Zayd ibn Khalid al-Juhani informed him that two men brought a dispute to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. One of them said, "Messenger of Allah! Judge between us by the Book of Allah!" The other said, and he was the wiser of the two, "Yes, Messenger of Allah. Judge between us by the Book of Allah and give me permission to speak." He said, "Speak." He said, "My son was hired by this person and he committed fornication with his wife. He told me that my son deserved stoning, and I ransomed him for one hundred sheep and a slave-girl. Then I asked the people of knowledge and they told me that my son deserved to be flogged with one hundred lashes and exiled for a year, and they informed me that the woman deserved to be stoned." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By him in whose Hand myself is, I will judge between you by the Book of Allah. As for your sheep and slave girl, they should be returned to you. Your son should have one hundred lashes and be exiled for a year." He ordered Unays al-Aslami to go to the wife of the other man and to stone her if she confessed . She confessed and he stoned her.

1467Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ الرَّجْمُ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا أُحْصِنَ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الْاعْتِرَافُ

عبداللہ بن عباس ؓ نے سنا حضرت عمر ؓ سے کہا فرماتے تھے کہ رجم اللہ کی کتاب میں ہے سچ ہے جو شخص زنا کرے مرد ہو یا عورت وہ محصن ہو تو وہ رجم کیا جائے گا جب ثابت ہو چار گواہوں سے یا عورت پر حمل سے یا مرد اور عورت دونوں پر اقرار سے۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Abdullah ibn Abbas said, "I heard Umar ibn al-Khattab say, Stoning is in the Book of Allah for those who commit adultery, men or women when they are muhsan and when there is clear proof of pregnancy or a confession. "

1468Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالشَّامِ فَذَکَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَی امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا فَذَکَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِکَ لِتَنْزِعَ فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ وَتَمَّتْ عَلَی الْاعْتِرَافِ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَرُجِمَتْ

ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس ایک شخص آیا جب کہ آپ ﷺ شام میں تھے اس نے بیان کیا کہ میں نے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا آپ نے ابو واقد کو بھیجا کہ عورت سے جا کر پوچھے وہ عورت کے پاس گئے اس کے پاس اور عورتیں بیٹھی تھیں انہوں نے کہا وہ جو اس کے خاوند نے حضرت عمر ؓ سے بیان کیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا کہ خاوند کے کہنے سے تجھے مواخذہ نہ ہوگا اس کو سکھانے بھی لگے اس قسم کی باتیں تاکہ وہ اقرار نہ کرے لیکن اس نے نہ مانا اور اقرار کیا زنا کا حضرت عمر ؓ نے اس کو رجم کا حکم کیا اور رجم کی گئی۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar from Abu Waqid al-Laythi that a man came to Umar ibn al-Khattab while he was in ash-Sham . He mentioned to him that he had found a man with his wife Umar sent Abu Waqid al-Laythi to the wife to question her about that. He came to her while there were women around her and mentioned to her what her husband had mentioned to Umar ibn al-Khattab, and informed her that she would not be punished on his word and began to suggest to her by that, that she should retract. She refused to retract and held firm to confession. Umar gave the order and she was stoned.

1469Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ مِنًی أَنَاخَ بِالْأَبْطَحِ ثُمَّ کَوَّمَ کَوْمَةً بَطْحَائَ ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا رِدَائَهُ وَاسْتَلْقَی ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ اللَّهُمَّ کَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَکُمْ السُّنَنُ وَفُرِضَتْ لَکُمْ الْفَرَائِضُ وَتُرِکْتُمْ عَلَی الْوَاضِحَةِ إِلَّا أَنْ تَضِلُّوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَضَرَبَ بِإِحْدَی يَدَيْهِ عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ إِيَّاکُمْ أَنْ تَهْلِکُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي کِتَابِ اللَّهِ تَعَالَی لَکَتَبْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا قَالَ مَالِک قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا انْسَلَخَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّی قُتِلَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ قَوْلُهُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ يَعْنِي الثَّيِّبَ وَالثَّيِّبَةَ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْسَ ذَلِکَ عَلَيْهَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا وَقَالَ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ کَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ فَالْحَمْلُ يَکُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَا رَجْمَ عَلَيْهَا فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر لوٹے منیٰ سے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا ابطح میں اور ایک طرف کنکریوں کا ڈھیر لگا کر چادر کو اپنے اوپر ڈال دیا اور چت لیٹ گئے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے پروردگار بہت عمر ہوئی میری اور گھٹ گئی قوت میرے اور پھیل گئے رعیت میری (یعنی ملکوں ملکوں خلافت اور حکومت پھیل گئی دوردراز تک لوگ رعایا ہوگئے) اب اٹھا لے مجھ کو اپنی طرف اس حال میں کہ تیرے احکام کو ضائع نہ کروں اور عبادت میں کوتاہی نہ کروں پھر مدینہ میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ سنایا فرمایا اے لوگوں جتنے طریقے تھے سب کھل گئے اور جتنے فرائض تھے سب مقرر ہوگئے اور ڈالے گئے تم صاف سیدھی راہ پر مگر ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ دائیں بائیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا پھر فرمایا نہ یہ ہو کہ تم بھول جاؤ رجم کی آیت کو کوئی یہ کہنے لگے ہم دو حدوں کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے دیکھو رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی بعد آپ ﷺ کے رجم کیا ہے قسم اس ذات پاک کی جس کے اختیار میں میری جان ہے اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے بڑھا دیا کتاب اللہ میں تو میں اس آیت کو قرآن میں لکھوا دیتا اور محصنہ عورت جب زنا کریں تو سنگسار کرو ان کو، ہم نے اس آیت کو پڑھا ہے سعید بن مسیب نے کہا کہ پھر ذی الحجہ کا مہینہ نہ گزرا تھا کہ حضرت عمر ؓ قتل کئے گئے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عثمان کے پاس ایک عورت آئی جس کا بچہ چھ مہینے میں پیدا ہوا تھا آپ نے اس کے رجم کا حکم کیا حضرت علی نے فرمایا کہ اس پر رجم نہیں ہوسکتا اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اپنی کتاب میں آدمی کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوتا ہے اور دوسری جگہ فرماتا ہے مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں جو شخص رضاعت کو پورا کرنا چاہے تو حمل کے چھ مہینے ہوئے اس وجہ سے رجم نہیں ہے۔ حضرت عثمان نے یہ سن کر لوگوں کو بھیجا اس عورت کے پیچھے (تاکہ اس کو رجم نہ کریں) دیکھا تو وہ رجم ہوچکی تھی۔

Malik related to me that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "When Umar ibn al-Khattab came from Mina, he made his camel kneel at al-Abtah, and then he gathered a pile of small stones and cast his cloak over them and dropped to the ground. Then he raised his hands to the sky and said, O Allah! I have become old and my strength has weakened. My flock is scattered. Take me to You with nothing missed out and without having neglected anything. Then he went to Madina and addressed the people. He said, People! Sunan have been laid down for you. Obligations have been placed upon you. You have been left with a clear way unless you lead people astray right and left. He struck one of his hands on the other and then said, Take care lest you destroy the ayat of stoning so that one will say, "We do not find two hadds in the Book of Allah." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stoned, so we have stoned. By He in Whose Hand my self is, had it not been that people would say that Umar ibn al-Khattab has added to the Book of Allah ta-ala, we would have written it, "The full-grown man and the full-grown woman, stone them absolutely." We have certainly recited that." Malik said, "Yahya ibn Said said Said ibn al-Musayyab said, Dhul-Hijja had not passed before Umar was murdered, may Allah have mercy on him. " Yahya said that he had heard Malik say, "As for his words The full-grown man and the full-grown woman he meant, The man and the woman who have been married, stone them absolutely. "

1470Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

عَنْ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ عَلَيْهِ الرَّجْمُ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ

ابن شہاب سے پوچھا جو کوئی لواطت کرے اس کا کیا حکم ہے ابن شہاب نے کہا کہ اس کو رجم کرنا چاہئے خواہ محصن ہو یا غیر محصن۔

Malik related to me that he asked Ibn Shihab about someone who committed sodomy. Ibn Shihab said, "He is to be stoned, whether or not he is muhsan."

1471Mauwatta Imam Malik

جو شخص زنا کا اقرار کرے اس کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوْطٍ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ مَکْسُورٍ فَقَالَ فَوْقَ هَذَا فَأُتِيَ بِسَوْطٍ جَدِيدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُهُ فَقَالَ دُونَ هَذَا فَأُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ رُکِبَ بِهِ وَلَانَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تَنْتَهُوا عَنْ حُدُودِ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَاتِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِي لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ کِتَابَ اللَّهِ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ نے کوڑا منگوایا تو نیا کوڑا آیا جس کا سرا بھی نہیں کٹا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اس سے نرم لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو بالکل ٹوٹا ہوا تھا آپ ﷺ نے فرما اس سے سخت لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو سواری میں کام آیا تھا اور نرم ہوگیا تھا آپ ﷺ نے حکم کیا اس کوڑے سے مارنے کا بعد اس کے فرمایا اے لوگوں اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم باز رہو اللہ کی حدوں سے جو شخص اس قسم کا کوئی گناہ کرے تو چاہیے کہ چھپا رہے اللہ کے پردے میں اور جو کوئی کھول دے گا اپنے پردے کو تو ہم موافق کتاب اللہ کے اس پر حد قائم کریں گے۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam that a man confessed to fornication in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, called for a whip, and he was brought a broken whip. He said, "Above this," and he was brought a new whip whose knots had not been cut yet. He said, "Below this," and he was brought a whip which had been used and made flexible. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave the order and he was flogged. Then he said, "People! The time has come for you to observe the limits of Allah. Whoever has had any of these ugly things befall him should cover them up with the veil of Allah. Whoever reveals to us his wrong action, we perform what is in the Book of Allah against him."

1472Mauwatta Imam Malik

جو شخص زنا کا اقرار کرے اس کا بیان

عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ وَقَعَ عَلَی جَارِيَةٍ بِکْرٍ فَأَحْبَلَهَا ثُمَّ اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِهِ بِالزِّنَا وَلَمْ يَکُنْ أَحْصَنَ فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَکْرٍ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ نُفِيَ إِلَی فَدَکَ قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَعْتَرِفُ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا ثُمَّ يَرْجِعُ عَنْ ذَلِكَ وَيَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ وَإِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنِّي عَلَى وَجْهِ كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ يَذْكُرُهُ إِنَّ ذَلِكَ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدَّ الَّذِي هُوَ لِلَّهِ لَا يُؤْخَذُ إِلَّا بِأَحَدِ وَجْهَيْنِ إِمَّا بِبَيِّنَةٍ عَادِلَةٍ تُثْبِتُ عَلَى صَاحِبِهَا وَإِمَّا بِاعْتِرَافٍ يُقِيمُ عَلَيْهِ حَتَّى يُقَامَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَإِنْ أَقَامَ عَلَى اعْتِرَافِهِ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ قَالَ مَالِك الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَا نَفْيَ عَلَى الْعَبِيدِ إِذَا زَنَوْا

صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے کہ لوگ ابوبکر ؓ کے پاس ایک شخص کو لائے جس نے ایک باکرہ لونڈی سے زنا کر کے اس کو حاملہ کردیا تھا بعد اس کے زنا کا اقرار کیا اور وہ محصن نہ تھا حضرت ابوبکر ؓ نے حکم کیا اس کو کوڑا مارنے کا اس کو حد پڑی بعد اس کے نکال دیا گیا فدک کی طرف ایک موضع ہے مدینہ سے دو دن کی راہ پر۔ کہا مالک نے جو شخص زنا کا اقرار کرے بعد اس کے منکر ہوجائے اور کہے میں نے زنا نہیں کیا بلکہ میں نے فلانا کام کیا (جیسے اپنی عورت سے حالت حیض میں جماع کیا اس کو زنا سمجھا) تو اس پر حد نہ پڑے گی کیونکہ حد پڑنے میں یا تو گواہ عادل ہونے چاہئیں یا اقرار ہو جس پر وہ قائم رہے حد پڑنے تک۔

Malik related to me from Nafi that Safiyya bint Abi Ubayd informed him that a man who had had intercourse with a virgin slave-girl and made her pregnant was brought to Abu Bakr (RA) as-Siddiq. He confessed to fornication, and he was not muhsan. Abu Bakr (RA) gave the order and he was flogged with the hadd punishment. Then he was banished to Fadak, (thirty miles from Madina).

1473Mauwatta Imam Malik

زنا کی حد میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ فَقَالَ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ

ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ لونڈی غیر محصنہ جب زنا کرے تو کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے مار پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو بعد اس کے چوتھی مرتبہ یا تیسری مرتبہ کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا بیچ ڈالو ایسی لونڈی کو اگرچہ ایک رسی کے عوض میں ہو۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud from Abu Hurayra and Zayd ibn Khalid al-Juhani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about a slave-girl who committed fornication and was not muhsana. He said, "If she commits fornication, then flog her. If she commits fornication again, then flog her, and if she commits fornication again, then sell her, if only for a rope." Ibn Shihab added, "I dont know whether it was three or four times."

1474Mauwatta Imam Malik

زنا کی حد میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدًا کَانَ يَقُومُ عَلَی رَقِيقِ الْخُمُسِ وَأَنَّهُ اسْتَکْرَهَ جَارِيَةً مِنْ ذَلِکَ الرَّقِيقِ فَوَقَعَ بِهَا فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَنَفَاهُ وَلَمْ يَجْلِدْ الْوَلِيدَةَ لِأَنَّهُ اسْتَکْرَهَهَا

نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام مقرر تھا ان غلام اور لونڈیوں پر جو خمس میں آئی تھیں اس نے انہیں غلام اور لونڈیوں میں سے ایک لونڈی سے زبردستی جماع کیا حضرت عمر بن خطاب نے اس کو کوڑے مارے اور نکال دیا اور لونڈی کو نہ مارا کیونکہ اس پر جبر ہوا تھا۔

Malik related to me from Nafi that a slave was in charge of the slaves in the khumus and he forced a slave-girl among those slaves against her will and had intercourse with her. Umar ibn al-Khattab had him flogged and banished him, and he did not flog the slave-girl because the slave had forced her.

1475Mauwatta Imam Malik

زنا کی حد میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَلَدْنَا وَلَائِدَ مِنْ وَلَائِدِ الْإِمَارَةِ خَمْسِينَ خَمْسِينَ فِي الزِّنَا

عبداللہ بن عیاش سے روایت ہے کہ مجھ کو اور کئی جوانوں کو جو قریش کے تھے حضرت عمر ؓ نے حکم کیا حد مارنے کا تو ہم نے لونڈیوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے زنا میں وہ لونڈیاں امارت یعنی بیت المال کی تھیں۔

Malik related to me from Yahya ibn Said that Sulayman ibn Yasar informed him that Abdullah ibn Abbas ibn Abi Rabia al-Makhzumi said, "Umar ibn al-Khattab gave me orders about the slaves of Quraysh and we flogged some of the slave-girls of the muslim lands fifty times each for fornication."

1476Mauwatta Imam Malik

جس عورت کو کوئی چھین لے جائے اور جبرا اس سے جماع کرے اس کا بیان

بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُغْتَصَبَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمَرْأَةِ تُوجَدُ حَامِلًا وَلَا زَوْجَ لَهَا فَتَقُولُ قَدْ اسْتُكْرِهْتُ أَوْ تَقُولُ تَزَوَّجْتُ إِنَّ ذَلِكَ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا وَإِنَّهَا يُقَامُ عَلَيْهَا الْحَدُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا عَلَى مَا ادَّعَتْ مِنْ النِّكَاحِ بَيِّنَةٌ أَوْ عَلَى أَنَّهَا اسْتُكْرِهَتْ أَوْ جَاءَتْ تَدْمَى إِنْ كَانَتْ بِكْرًا أَوْ اسْتَغَاثَتْ حَتَّى أُتِيَتْ وَهِيَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ أَوْ مَا أَشْبَهَ هَذَا مِنْ الْأَمْرِ الَّذِي تَبْلُغُ فِيهِ فَضِيحَةَ نَفْسِهَا قَالَ فَإِنْ لَمْ تَأْتِ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدُّ وَلَمْ يُقْبَلْ مِنْهَا مَا ادَّعَتْ مِنْ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَالْمُغْتَصَبَةُ لَا تَنْكِحُ حَتَّى تَسْتَبْرِئَ نَفْسَهَا بِثَلَاثِ حِيَضٍ قَالَ فَإِنْ ارْتَابَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا فَلَا تَنْكِحُ حَتَّى تَسْتَبْرِئَ نَفْسَهَا مِنْ تِلْكَ الرِّيبَةِ

کہا مالک نے اگر عورت حاملہ ہوجائے اور اس کا خاوند نہ ہو پھر وہ کہنے لگے کہ مجھ سے زبردستی کسی نے جماع کیا تھا یا میں نے نکاح کیا تھا تو یہ قول اس کا قبول نہ کیا جائے گا بلکہ حد ماری جائے گی جب تک کہ اس نکاح پر گواہ نہ لائے یا اپنی مجبوری کا ثبوت نہ دے گواہوں سے یا قرینے سے مثلا باکرہ (کنواری) ہو تو چلی آئے فریاد کرتی ہوئی اس حال میں کہ خون نکل رہا ہو اس کی شرمگاہ سے یا چلانے لگے یہاں تک کہ لوگ آجائیں۔ بغیر ان باتوں کے اس کا قول مقبول نہ ہوگا اور حد پڑے گی۔ کہا مالک نے جس عورت سے زبردستی کوئی جماع کرے تو وہ نکاح نہ کرے جب تک کہ اس کو تین حیض نہ آ لیں اگر حمل کا شبہ ہو تو بھی نکاح نہ کرے جب تک کہ یہ شبہ دور نہ ہو۔

Malik said, "The position with us about a woman who is found to be pregnant and has no husband and she says, I was forced, or she says, I was married, is that it is not accepted from her and the hadd is inflicted on her unless she has a clear proof of what she claims about the marriage or that she was forced or she comes bleeding if she was a virgin or she calls out for help so that someone comes to her and she is in that state or what resembles it of the situation in which the violation occurred." He said, "If she does not produce any of those, the hadd is inflicted on her and what she claims of that is not accepted from her."

1477Mauwatta Imam Malik

حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان

عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّهُ قَالَ جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ ثَمَانِينَ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَدْرَکْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَائَ هَلُمَّ جَرًّا فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ

ابو زناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک غلام کو حد قذف کے اسی کوڑے لگائے تو میں نے عبداللہ بن عامر سے پوچھا انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر ؓ اور عثمان اور خلفاء کو ان کے بعد دیکھا کہ کسی نے غلام کو حد قذف میں چالیس کوڑے سے زیادہ نہیں لگائے۔

Malik related to me from Abuz-Zinad that he said, Umar ibn Abdul Aziz flogged a slave with eighty lashes for slander." Abuz-Zinad said, "I asked Abdullah ibn Amir ibn Rabia about that. He said, I saw Umar ibn al-Khattab, Uthman ibn Affan, the Khalifs, and so on, and I did not see any of them flog a slave more than forty lashes for slander. "

1478Mauwatta Imam Malik

حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان

عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَکِيمٍ الْأَيْلِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ مِصْبَاحٌ اسْتَعَانَ ابْنًا لَهُ فَکَأَنَّهُ اسْتَبْطَأَهُ فَلَمَّا جَائَهُ قَالَ لَهُ يَا زَانٍ قَالَ زُرَيْقٌ فَاسْتَعْدَانِي عَلَيْهِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَجْلِدَهُ قَالَ ابْنُهُ وَاللَّهِ لَئِنْ جَلَدْتَهُ لَأَبُوئَنَّ عَلَی نَفْسِي بِالزِّنَا فَلَمَّا قَالَ ذَلِکَ أَشْکَلَ عَلَيَّ أَمْرُهُ فَکَتَبْتُ فِيهِ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ أَذْکُرُ لَهُ ذَلِکَ فَکَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ أَنْ أَجِزْ عَفْوَهُ قَالَ زُرَيْقٌ وَکَتَبْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَيْضًا أَرَأَيْتَ رَجُلًا افْتُرِيَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَی أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَکَا أَوْ أَحَدُهُمَا قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ إِنْ عَفَا فَأَجِزْ عَفْوَهُ فِي نَفْسِهِ وَإِنْ افْتُرِيَ عَلَی أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَکَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَخُذْ لَهُ بِکِتَابِ اللَّهِ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ سِتْرًا قَالَ مَالِک يَقُولُ وَذَلِکَ أَنْ يَکُونَ الرَّجُلُ الْمُفْتَرَی عَلَيْهِ يَخَافُ إِنْ کُشِفَ ذَلِکَ مِنْهُ أَنْ تَقُومَ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَإِذَا کَانَ عَلَی مَا وَصَفْتُ فَعَفَا جَازَ عَفْوُهُ

زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام مصباح تھا اپنے بیٹے کو کسی کام کے واسطے بلایا اس نے دیر کی جب آیا تو مصباح نے کہا کہ اے زانی، کہا زریق نے اس لڑکے نے میرے پاس فریاد کی میں نے جب اس کے باپ کو حد مارنی چاہی تو وہ لڑکا بولا اگر تم میرے باپ کو کوڑوں سے مارو گے تو میں زنا کا اقرار کرلوں گا میں یہ سن کر حیران ہوا اور اس مقدمے کا فیصلہ کرنا مجھ پر دشوار ہوا تو میں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں حاکم تھے مدینہ کے (سلمان بن عبدالملک کی طرف سے) عمر بن عبدالعزیز نے جواب لکھا کہ لڑکے کے عفو کو جائز رکھ (یعنی بیٹے نے اگر باپ کو حد معاف کردی ہے تو عفو صحیح ہے) زریق نے کہا میں نے عمربن عبدالعزیز کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر تہمت زنا کی لگائے یا اس کے ماں باپ کو اور ماں باپ اس کے مرگئے ہوں یا دونوں میں سے ایک مرگیا ہو تو پھر کیا کرے، عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ جس شخص کو تہمت زنا کی لگائے اگر وہ معاف کر دے تو عفو درست ہے لیکن اگر اس کے والدین کو تہمت زنا کی لگائے تو اس کا عفو کردینا درست نہیں جب کہ والدین مرگئے ہوں یا ان دو میں سے ایک مرگیا ہو بلکہ حد لگا اس کو موافق کتاب اللہ کے مگر جب بیٹا اپنے والدین کا حال چھپانے کے واسطے عفو کر دے تو عفو درست ہے۔ کہا مالک نے یعنی اس کو خوف ہو اگر میں تہمت لگانے والے کو معاف نہ کروں گا تو والدین کا زنا گواہوں سے ثابت ہوجائے گا اس وجہ سے عفو کردے تو عفو درست ہے۔

Malik related to me from Zurayq ibn Hakim al-Ayli that a man called Misbah asked his son for help and he thought him unnecessarily slow. When the son came, his father said to him, "O fornicator." Zurayq said, "So the son asked me to help him against the father. When I wanted to flog him, his son said, By Allah, if you flog him, I will acknowledge that I have committed fornication. When he said that, the situation was confused for me, so I wrote about it to Umar ibn Abdul Aziz who was the governor at that time, and I mentioned it to him. Umar wrote me to permit his pardon." Zurayq said, "I wrote to Umar ibn Abdul Aziz also, What do you think about a man who is slandered or his parents are slandered and both or only one of them are dead? He said, Umar wrote to me, If he forgives, his pardon is permitted for himself. If his parents are slandered and one or both of them are dead, take the judgement of the Book of Allah for it unless he wants to veil it. "

1479Mauwatta Imam Malik

حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌ قَالَ مَالِک وَإِنْ تَفَرَّقُوا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌ

عروہ بن زبیر نے کہا کہ جو شخص بہت سے آدمیوں پر ایک ہی قول میں زنا کی تہمت لگائے تو اس پر ایک ہی حد پڑے گی۔

Malik related to me from Hisham ibn Urwa that his father said that there was only one hadd against a man who slandered a group of people. Malik said, "If they are on separate occasions there is still only one hadd against him."