کتاب حدوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 43 · 23 hadiths · Page 2 of 2

1480Mauwatta Imam Malik

حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان

عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ کَانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَی أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ قَالَ مَالِک لَا حَدَّ عِنْدَنَا إِلَّا فِي نَفْيٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَی أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِکَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَی مَنْ قَالَ ذَلِکَ الْحَدُّ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَی رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ کَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوکَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ دو مردوں نے گالی گلوچ کی حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ایک نے دوسرے سے کہا قسم اللہ کی میرا باپ تو بدکار نہ تھا نہ میری ماں بدکار تھی حضرت عمرنے اس بات میں مشورہ کیا ایک شخص بولا اس میں کیا برائی ہے اس نے اپنے باپ اور ماں کی خوبیاں بیان کیں اور لوگوں نے کہا کیا اس کے باپ اور ماں کی صرف یہی خوبی تھی ہمارے نزدیک اس کو حد قذف مارنی چاہیے کہا مالک نے ہمارے نزدیک حد نہیں ہے مگر قذف میں یا نفی میں (نفی کہتے ہیں نسب دور کرنے کو مثلا یہ کہنا تو اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہے) یا تعریض میں (یعنی اشارے کنائے میں کسی کو گالی دینا جیسے ابھی بیان ہوا) ان سب صورتوں میں حد پوری پوری لازم آئے گی لیکن یہ ضروری ہے کہ تعریض سے نفی یا قذف مقصود ہونا معلوم ہوجائے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جب کوئی کسی کو اسی کے باپ سے نفی کرے تو حد واجب ہوگی اگرچہ اس کی ماں لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔

Malik related to me from Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha ibn an-Numan al-Ansari, then from the Banun-Najar from his mother Amra bint Abd ar-Rahman that two men cursed each other in the time of Umar ibn al-Khattab. One of them said to the other, " By Allah, my father is not an adulterer and my mother is not an adulteress." Umar ibn al-Khattab asked advice about that. One person said, "He has praised his father and mother." Another said, "His father and mother have praise other than this. We think that he is to be flogged with the hadd." So Umar flogged him with the hadd of eighty lashes.

1481Mauwatta Imam Malik

جس میں حد نہیں ہے

بَاب مَا لَا حَدَّ فِيهِ قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الْأَمَةِ يَقَعُ بِهَا الرَّجُلُ وَلَهُ فِيهَا شِرْكٌ أَنَّهُ لَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَأَنَّهُ يُلْحَقُ بِهِ الْوَلَدُ وَتُقَوَّمُ عَلَيْهِ الْجَارِيَةُ حِينَ حَمَلَتْ فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ مِنْ الثَّمَنِ وَتَكُونُ الْجَارِيَةُ لَهُ وَعَلَى هَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُحِلُّ لِلرَّجُلِ جَارِيَتَهُ إِنَّهُ إِنْ أَصَابَهَا الَّذِي أُحِلَّتْ لَهُ قُوِّمَتْ عَلَيْهِ يَوْمَ أَصَابَهَا حَمَلَتْ أَوْ لَمْ تَحْمِلْ وَدُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ بِذَلِكَ فَإِنْ حَمَلَتْ أُلْحِقَ بِهِ الْوَلَدُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ ابْنِهِ أَوْ ابْنَتِهِ أَنَّهُ يُدْرَأُ عَنْهُ الْحَدُّ وَتُقَامُ عَلَيْهِ الْجَارِيَةُ حَمَلَتْ أَوْ لَمْ تَحْمِلْ

کہا مالک نے جو کوئی شریک مشترک لونڈی سے صحبت کرلے تو اس پر حد نہیں ہے اب جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اسی سے لگایا جائے گا اور لونڈی کی قیمت لگا کر باقی شریکوں کو ان کے حصے کو موافق قیمت ادا کرنی ہوگی اور لونڈی پوری اسی کی ہوجائے گی ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص اپنی لونڈی کسی کو مباح کردے (یعنی اس سے جماع کرنے کی اجازت دے دے ہرچند یہ درست نہیں) وہ شخص اس سے جماع کرے تو لونڈی کی قیمت دینی ہوگی خواہ حاملہ ہو یا نہ ہو لیکن حد نہ پڑے گی۔ اگر حاملہ ہوجائے گی تو بچے کا نسب اس سے ثابت کردیں گے۔

Malik said, "There is no hadd in our view except for slander, denial or insinuation, in which one sees that the speaker intends by that denial or slander. Then the hadd is completely imposed on the one who said it."

1482Mauwatta Imam Malik

جس میں حد نہیں ہے

حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ خَرَجَ بِجَارِيَةٍ لِامْرَأَتِهِ مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَهَا فَغَارَتْ امْرَأَتُهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَهَبَتْهَا لِي فَقَالَ عُمَرُ لَتَأْتِينِي بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَرْمِيَنَّكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَاعْتَرَفَتْ امْرَأَتُهُ أَنَّهَا وَهَبَتْهَا لَهُ

ربیعہ بن ابو عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لونڈی کو سفر میں ساتھ لے کر نکلا وہاں اس سے صحبت کی عورت نے رشک کے مارے حضرت عمر سے کہہ دیا حضرت عمر نے مرد سے پوچھا وہ بولا کہ عورت نے اس لونڈی کو مجھے ہبہ کردیا تھا حضرت عمر نے کہا یا تو تو گواہ لا ہبہ کے نہیں تو تجھے رجم کروں گا۔ اس وقت عورت نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے ہبہ کردیا تھا۔

Malik said, "The best of what is heard about a slave-girl whom a man has intercourse with while he has a partner in her is that the hadd is not inflicted on him and the child is connected to him. When the slave-girl becomes pregnant, her value is estimated and he gives his partners their shares of the price and the slave-girl is his. That is what is done among us."