جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّی يَرْجِعَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے، نہ تھکے نماز سے اور نہ روزے سے یہاں تک کہ لوٹے جہاد سے
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Someone who does jihad in the way of Allah is like someone who fasts and prays constantly and who does not slacken from his prayer and fasting until he returns."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ کَلِمَاتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ضامن ہے اس شخص کا جو جہاد کرے اس کی راہ میں اور نہ نکلے گھر سے مگر جہاد کی نیت سے، اللہ کے کلام کو سچا جان کر ؛ اس بات کا کہ داخل کرے گا اللہ اس کو جنت میں یا پھیر لائے گا اس کو اس کے گھر میں جہاں سے نکلا ہے ثواب اور غنیمت کے ساتھ۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah guarantees either the Garden or a safe return to his home with whatever he has obtained of reward or booty, for the one who does jihad in His way, if it is solely jihad and trust in his promise that brings him out of his house."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِکَ مِنْ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ کَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّهَا قُطِعَتْ طِيَلَهَا ذَلِکَ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ کَانَ ذَلِکَ لَهُ حَسَنَاتٍ فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا فِي ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِکَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَائً وَنِوَائً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحُمُرِ فَقَالَ لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑے ایک شخص کے واسطے اجر ہیں اور ایک شخص کے واسطے درست ہیں اور ایک شخص کے واسطے گناہ ہیں؛ اجر اس کے واسطے ہیں جو باندھے ان کو جہاد کے واسطے پھر لمبی کردے اس کی رسی، ان کی کسی موضع یا چراگاہ میں تو جس قدر دور تک اس رسی کے سبب سے چرے اس کی واسطے نیکیاں لکھی جائیں گی، اگر وہ رسی توڑا کر ایک اونچان یا نیچان چڑھیں ان کے ہر قدم اور لید پر نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ کسی نہر پر جا نکلے اور پانی پائے اور مالک کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تب بھی اس کے واسطے نیکیاں لکھی جائیں۔ اور درست اس کے واسطے ہیں جو تجارت کے واسطے باندھے اور ان کی زکوٰۃ ادا کرے۔ اور گناہ اس کے واسطے ہیں جو فخر اور ریا اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھے۔ اور حضرت سے سوال ہوا گدھوں کے باب میں، آپ نے فرمایا کہ اس مقدمے میں میرے اوپر کچھ نہیں اترا مگر یہ آیت جو اکیلی تمام نیکیوں کو شامل ہے " فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه۔ " 99۔ الزلہ۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Horses are a reward for one man, a protection for another, a burden for another. The one who has them as a reward is the one who dedicates them for use in the way of Allah, and tethers them in a meadow or grassland. Whatever the horse enjoys of the grassland or meadow in the length of its tether are good deeds for him. If it breaks its tether and goes over a hillock or two, its tracks and droppings are good deeds for him. If it crosses a river and drinks from it while he did not mean to allow it to drink it, that counts as good deeds for him, and the horse is a reward for him. Another man uses his horse to gain self reliance and up-standingness and does not forget Allahs right on their necks and backs (i.e. he does not ill treat or over-work them). Horses are a protection for him . Another man uses them out of pride to show them off and in hostility to the people of Islam. They are a burden on that man." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about donkeys, and he said, "Nothing has been revealed to me about them except this single all-inclusive ayat, Whoever does an atom of good will see it, and whoever does an atom of evil, will see it. " (Sura 99 Ayats 7,8) .
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا بَعْدَهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَتِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّکَاةَ وَيَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ شخص جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے؛ وہ شخص ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے جہاد کرتا ہے اللہ کی راہ میں، کیا نہ بتاؤں میں تم کو اس کے بعد جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے وہ شخص ہے جو ایک گوشے میں بکریوں کا غلہ لے کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کو پوجتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
Yahya related to me from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Mamar al-Ansari that Ata ibn Yasar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shall I tell you who has the best degree among people? A man who takes the rein of his horse to do jihad in the way of Allah. Shall I tell you who has the best degree among people after him? A man who lives alone with a few sheep, performs the prayer, pays the zakat, and worships Allah without associating anything with him."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَهِ وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے بیعت کی رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے پر آسانی اور سختی میں خوشی اور غم میں اور بیعت کی ہم نے اس بات پر کہ جو مسلماں حکومت کے لائق ہوگا اس سے نہ جھگڑیں گے اور اس امر پر کہ ہم سچ کہیں گے یا سچ پر جمے رہیں گے جہاں ہوں گے، اللہ کے کام میں کسی کے برا کہنے سے نہ ڈریں گے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, Ubadah ibn al-Walid ibn Ubadah ibn as-Samit informed me from his father that his grandfather (Ubadah) said, We made a contract with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to hear and obey in ease and hardship, enthusiasm and reluctance, and not to dispute with people in authority and to speak or establish the truth wherever we were without worrying about criticism."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ کَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَذْکُرُ لَهُ جُمُوعًا مِنْ الرُّومِ وَمَا يَتَخَوَّفُ مِنْهُمْ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّةٍ يَجْعَلْ اللَّهُ بَعْدَهُ فَرَجًا وَإِنَّهُ لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت عمر کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا ؛ حضرت عمر نے جواب لکھا کہ بعد حمد ونعت کے معلوم ہو کہ بندہ مومن پر جب کوئی سختی اترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے؛ اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی؛ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ؛ " اے ایمان والو صبر کرو مصیبتوں پر اور صبر کرو کفار کے مقابلہ میں اور قائم رہو جہاد پر اور ڈرو اللہ سے شاید کہ تم نجات پاؤ "۔
Yahya related to me from Malik that Zayd ibn Aslam had said that Ubayda ibn al-Jarrah had written to Umar ibn al-Khattab mentioning to him a great array of Byzantine troops and the anxiety they were causing him. Umar ibn al-Khattab wrote in reply to him, "Whatever hardship befalls a believing slave, Allah will make an opening for him after it, and a hardship will not overcome two eases. Allah the Exalted says in His Book, O you who trust, be patient, and vie in patience; be steadfast and fear Allah, perhaps you will profit. " (Sura 3 ayat 200).
دشمن کے ملک میں کلام اللہ لے جانے کی ممانعت ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا ذَلِکَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا قرآن شریف کو دشمن کے ملک میں لے جانے سے؛ کہا مالک نے منع اس واسطے کیا " تاکہ ایسا نہ ہو کہ دشمن قرآن شریف کو لے کر اس کی توہین کرے "۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade travelling with a Quran in the land of the enemy. Malik commented, "That is out of fear that the enemy will get hold of it."
بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ قَالَ فَکَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَقُولُ بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِالصِّيَاحِ فَأَرْفَعُ السَّيْفَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَذْکُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُفُّ وَلَوْلَا ذَلِکَ اسْتَرَحْنَا مِنْهَا
عبدالرحمن بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا تھا ان لوگوں کو جہنوں نے قتل کیا ابن ابی حقیق کو عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے ; ابن کعب نے کہا کہ ایک شخص ان میں سے کہتا تھا کہ ابن ابی حقیق کی عورت نے چیخ کر ہمارا حال کھول دیا تھا ; تو میں تلوار اس پر اٹھاتا تھا پھر رسول اللہ ﷺ کی ممانعت کو یاد کر کے رک جاتا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کردیتے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that a son of Kab ibn Malik (Malik believed that ibn Shihab said it was Abd ar-Rahman ibn Kab) said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade those who fought ibn Abi Huqayq (a treacherous jew from Madina) to kill women and children. He said that one of the men fighting had said, The wife of ibn Abi Huqayq began screaming and I repeatedly raised my sword against her. Then I would remember the prohibition of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, so I would stop. Had it not been for that, we would have been rid of her. "
بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَنَهَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ
نافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لڑائیوں میں ایک عورت کو قتل کئے ہوئے پایا تو ناپسند کیا اس کے قتل کو اور منع کیا عورتوں اور بچوں کے قتل سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw the corpse of a woman who had been slain in one of the raids, and he disapproved of it and forbade the killing of women and children.
بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَی الشَّامِ فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَکَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْکَ الْأَرْبَاعِ فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لِأَبِي بَکْرٍ إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ إِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُئُوسِهِمْ مِنْ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ وَإِنِّي مُوصِيکَ بِعَشْرٍ لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا صَبِيًّا وَلَا کَبِيرًا هَرِمًا وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْکَلَةٍ وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ وَلَا تَغْلُلْ وَلَا تَجْبُنْ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ کَتَبَ إِلَی عَامِلٍ مِنْ عُمَّالِهِ أَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ مَنْ کَفَرَ بِاللَّهِ لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَقُلْ ذَلِکَ لِجُيُوشِکَ وَسَرَايَاکَ إِنْ شَائَ اللَّهُ وَالسَّلَامُ عَلَيْکَ
یحییٰ بن سیعد سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام کو لشکر بھیجا تو یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل چلے اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے؛ تو یزید نے ابوبکر سے کہا آپ سوار ہوجائیں نہیں تو میں اترتا ہوں، ابوبکر صدیق نے کہا نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوں گا، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں پھر کہا یزید سے کہ تم پاؤ گے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں اور کچھ لوگ ایسے پاؤ گے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں تو مار ان کے سر پر تلوار سے اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں عورت کو مت مار اور نہ بچوں کو نہ بڈھے پھونس کو اور نہ کاٹنا پھل دار درخت کو اور نہ اجاڑنا کسی بستی کو اور نہ کونچیں کاٹنا کسی بکری اور اونٹ کی مگر کھانے کے واسطے اور مت جلانا کھجور کے درخت کو اور مت ڈبانا اس کو اور غنیمت کے مال میں چوری نہ کرنا اور نامردی نہ کرنا۔ امام مالک نے روایت نقل کی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں میں سے ایک عامل کو لکھا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کی یہ روایت پہنچی ہے؛ کہ جب فوج روانہ کرتے تھے تو کہتے تھے ان سے جہاد کرو اللہ کا نام لے کر، اللہ کی راہ میں تم لڑتے ہو ان لوگوں سے جہنوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ، نہ چوری کرو نہ اقرار توڑو نہ ناک کان کاٹو نہ مارو بچوں اور عورتوں کو اور کہہ دے یہ امر اپنی فوجوں اور لشکروں سے، اگر اللہ نے چاہا تو تم پر سلامتی ہوگی۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abu Bakr (RA) as-Siddiq was sending armies to ash-Sham. He went for a walk with Yazid ibn Abi Sufyan who was the commander of one of the battalions. It is claimed that Yazid said to Abu Bakr, "Will you ride or shall I get down?" Abu Bakrsaid, "I will not ride and you will not get down. I intend these steps of mine to be in the way of Allah." Then Abu Bakr (RA) advised Yazid, "You will find a people who claim to have totally given themselves to Allah. Leave them to what they claim to have given themselves. You will find a people who have shaved the middle of their heads, strike what they have shaved with the sword. "I advise you ten things: Do not kill women or children or an aged, infirm person. Do not cut down fruit-bearing trees. Do not destroy an inhabited place. Do not slaughter sheep or camels except for food. Do not burn bees and do not scatter them. Do not steal from the booty, and do not be cowardly."
کسی کو امان دے تو پورا کرے اقرا کو
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی عَامِلِ جَيْشٍ کَانَ بَعَثَهُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ يَطْلُبُونَ الْعِلْجَ حَتَّی إِذَا أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ وَامْتَنَعَ قَالَ رَجُلٌ مَطْرَسْ يَقُولُ لَا تَخَفْ فَإِذَا أَدْرَکَهُ قَتَلَهُ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَعْلَمُ مَکَانَ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِکَ إِلَّا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ
ایک کوفہ کے رہنے والے سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے لشکر کے ایک افسر کو لکھا ؛ کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بعض لوگ تم میں سے کافر عجمی کو بلاتے ہیں جب وہ پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور لڑائی سے باز آتا ہے، تو ایک شخص اس سے کہتا ہے مت ڈر، پھر قابو پاکر اس کو مار ڈالاتا ہے؛ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں کسی کو ایسا کرتے جان لوں گا تو اس کی گردن ماروں گا۔
Yahya related to me from Malik from a man of Kufa that Umar ibn al-Khattab wrote to a lieutenant of an army which he had sent out, "I have heard that it is the habit of some of your men to chase an unbeliever till he takes refuge in a high place. Then one man tells him in Persian not to be afraid, and when he comes up to him, he kills him. By He in whose hand my self is, if I knew someone who had done that, I would strike off his head." Yahya said, I heard Malik say, "This tradition is not unanimously agreed upon, so one does not act on it." Malik when asked whether safe conduct promised by gesture had the same status as that promised by speech, said, "Yes. I think that one can request an army not to kill someone by gesturing for safe conduct, because as far as I am concerned, gesture has the same status as speech. I have heard that Abdullah ibn Abbas said, There is no people who betray a pledge, but that Allah gives their enemies power over them. "
جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ دے اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا أَعْطَی شَيْئًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ إِذَا بَلَغْتَ وَادِيَ الْقُرَی فَشَأْنَکَ بِهِ
عبداللہ بن عمر ؓ جب جہاد کے واسطے کوئی چیز دیتے تو فرماتے " جب پہنچ جائے تو وادی قری میں تو وہ چیز تیری ہے "۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that when Abdullah ibn Umar gave something in the way of Allah, he would say to its owner, "When you reach Wadil-Qura, (on the outskirts of Madina) then it is your affair."
جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ دے اس کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ إِذَا أُعْطِيَ الرَّجُلُ الشَّيْئَ فِي الْغَزْوِ فَيَبْلُغُ بِهِ رَأْسَ مَغْزَاتِهِ فَهُوَ لَهُ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے؛ جب کسی شخص کو جہاد کے واسطے کوئی چیز دی جائے اور وہ دار جہاد میں پہنچ جائے تو وہ چیز اس کی ہوگئی۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab used to say, "When a man is given something to use in a military expedition, and he brings it to the battlefield, it is his." Malik was asked about a man who pledged himself to go on a military campaign, equipped himself,and when he wanted to go out, one or both of his parents prevented him. He said, "He should not contradict them. Let him put it off for another year. As for the equipment, I think that he should store it until he needs it. If he fears that it will spoil, let him sell it and keep its price so that he can readily buy what is needed fora military expedition. If he is well-to-do, he will find the like of his equipment when he goes out, so let him do what he likes with his equipment."
غنیمت کے بیان میں مختلف احادیث
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا کَثِيرَةً فَکَانَ سُهْمَانُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف روانہ کیا جس میں عبداللہ بن عمر تھے، تو غنیمت میں بہت سے اونٹ حاصل کئے اور ہر ایک کا حصہ بارہ اونٹ یا گیارہ اونٹ تھے اور ایک اونٹ زیادہ دیا گیا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a raiding party which included Abdullah ibn Umar near Najd. They plundered many camels and their portions were twelve or eleven camels each. They divided it up camel by camel.
غنیمت کے بیان میں مختلف احادیث
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ کَانَ النَّاسُ فِي الْغَزْوِ إِذَا اقْتَسَمُوا غَنَائِمَهُمْ يَعْدِلُونَ الْبَعِيرَ بِعَشْرِ شِيَاهٍ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ؛ کہتے تھے جب جہاد میں لوگ غنیمتوں کو بانٹتے تھے تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard Said ibn al-Musayyab say, "When people in military expeditions divided the spoils, they made a camel equal to ten sheep." Malik said about the paid labourer in military expeditions, "If he is present at the battle and is with the people in the battle and he is a free man, he has his share. If he is not present, he has no share." Malik summed up, "I think that the booty is only divided among free men who have been present at the battle. "
جس کا مال پانچواں حصہ نہیں دیا جائے گا اس کا بیان
قَالَ مَالِک فِيمَنْ وُجِدَ مِنْ الْعَدُوِّ عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ بِأَرْضِ الْمُسْلِمِينَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ تُجَّارٌ وَأَنَّ الْبَحْرَ لَفِظَهُمْ وَلَا يَعْرِفُ الْمُسْلِمُونَ تَصْدِيقَ ذَلِکَ إِلَّا أَنَّ مَرَاکِبَهُمْ تَکَسَّرَتْ أَوْ عَطِشُوا فَنَزَلُوا بِغَيْرِ إِذْنِ الْمُسْلِمِينَ أَرَی أَنَّ ذَلِکَ لِلْإِمَامِ يَرَی فِيهِمْ رَأْيَهُ وَلَا أَرَی لِمَنْ أَخَذَهُمْ فِيهِمْ خُمُسًا
کہا مالک نے جو کفار بند کے کنارہ پر مسلمانوں کی زمین میں ملیں اور وہ یہ کہیں کہ ہم سوادگر تھے، دریا نے ہم کو یہاں پھینک دیا مگر مسلمانوں کو اس امر کی تصدیق نہ ہو، البتہ یہ گمان ہو کہ جہاز ان کا ٹوٹ گیا یا پیاس کے سبب سے اتر پڑے بغیر اجازت مسلمانوں کے، تو امام کو ان کے بارے میں اختیار ہے اور جن لوگوں نے گرفتار کیا ان کو خمس نہیں ملے گا۔
Malik said about enemy soldiers who were found on the seashore of a Muslim land, and they claimed that they were merchants and that the sea had driven them ashore, while the Muslims were not able to verify any of that except that their ships were damaged, or they were thirsty and had disembarked without the permission of the Muslims, "I think that it is up to the imam to give his opinion about them, and I do not think that the tax of one fifth is taken from them."
غنیمت کے مال سے قبل تقسیم کے جس چیز کا کھانا درست ہے۔
قَالَ مَالِک لَا أَرَی بَأْسًا أَنْ يَأْکُلَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا دَخَلُوا أَرْضَ الْعَدُوِّ مِنْ طَعَامِهِمْ مَا وَجَدُوا مِنْ ذَلِکَ کُلِّهِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ الْمَقَاسِمُ قَالَ مَالِک وَأَنَا أَرَی الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْغَنَمَ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ
کہا مالک نے جب مسلمان کفار کے ملک میں داخل ہوں اور وہاں کھانے کی چیزیں پائیں تو تقسیم سے پہلے کھانا درست ہے۔ کہا مالک نے، اونٹ بیل بکریاں بھی کھانے کی چیزیں ہیں، تقسیم سے قبل ان کا کھانا درست ہے۔
Malik said, "I do not see that there is any harm in the Muslims eating whatever food they come across in enemy territory before the spoils are divided."
مال غنیمت میں سے قبل تقسیم کے جو چیز دی جائے اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَبَقَ وَأَنَّ فَرَسًا لَهُ عَارَ فَأَصَابَهُمَا الْمُشْرِکُونَ ثُمَّ غَنِمَهُمَا الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُصِيبَهُمَا الْمَقَاسِمُ
امام مالک کو روایت پہنچی؛ کہ عبداللہ بن عمر کا ایک غلام اور ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا تو کافروں نے ان دونوں کو پکڑ لیا ؛ پھر غنیمت میں پایا ان دونوں کو مسلمانوں نے پس واپس کردیا ان دونوں کو، عبداللہ بن عمر کو تقسیم سے قبل کے۔
Malik was asked whether it was proper for a man who obtained food in enemy territory and ate some of it and made provision so that there was some of it left over to keep and eat with his family, or to sell before he had come to his country and make use of its price. He said, "If he sells it while he is on a military expedition, I think that he should put its price into the booty of the Muslims. If he takes it back to his country, I see no objection to his eating it and using it if it is a small insignificant thing."
ہتھیاروں کو نفل میں دنیے کا بیان
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا کَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّی أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَی حَبْلِ عَاتِقِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي قَالَ فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ يَا أَبَا قَتَادَةَ قَالَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِکَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لَا هَائَ اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيکَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ
ابی قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ نکلے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ حنین میں، جب لڑے ہم کافروں سے تو مسلمانوں میں گڑبڑ مچی میں نے ایک کافر کو دیکھا کہ اس نے ایک مسلمان کو مغلوب کیا ہوا ہے، تو میں نے پیچھے سے آن کر ایک تلوار اس کی گردن پر ماری، وہ میرے طرف دوڑا اور مجھے آن کر ایسا کردیا گویا موت کو مزہ چکھایا، پھر وہ خود مرگیا اور مجھے چھوڑ دیا، پھر میں حضرت عمر سے ملا ؛ اور میں نے کہا آج لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا ایسا ہی حکم ہوا، پھر مسلمان واپس لوٹے اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے " جو کسی شخص کو مارے تو اس کا سامان اسی کو ملے گا جبکہ اس پر وہ گواہ رکھتا ہو " ابوقتادہ کہتے ہیں؛ جب میں نے یہ سنا تو اٹھ کھڑا ہوا پھر میں نے یہ خیال کیا کہ کون گواہی دے گا میری؟ تو میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو مارے گا، اس کا سامان اسی کی ملے گا بشرطیکہ وہ گواہ رکھتا ہو تو میں اٹھ کھڑا ہوا پھر میں نے یہ خیال کیا کہ کون گواہی دے گا میری؟ پھر بیٹھا رہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا ؛ میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا تجھ کو اے ابوقتادہ؟ میں نے سارا قصہ کہہ سنایا ؛ اتنے میں ایک شخص بولا سچ کہا یا رسول اللہ ﷺ اور سامان اس کافر کا میرے پاس ہے تو وہ سامان مجھے معاف کرا دیجئے ان سے حضرت ابوبکر نے کہا قسم اللہ کی ایسا کبھی نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ کبھی ایسا قصد نہ کریں گے کہ ایک شیر اللہ کے شیروں میں سے اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے لڑے اور سامان تجھے مل جائے، آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر سچ کہتے ہیں وہ سامان ابوقتادہ کو دے دے اس نے مجھے دیدیا میں زرہ بیچ کر ایک باغ خریدا ؛ بنی سلمہ کے محلہ میں اور یہ پہلا مال ہے جو حاصل کیا میں نے اسلام میں۔
Yahya related to me from Malik that it reached him that a slave of Abdullah ibn Umar escaped and one of his horses wandered off, and the idol worshippers seized them. Then the Muslims recaptured them, and they were returned to Abdullah ibn Umar, before the division of the spoils took place. I heard Malik say about muslim property that had been seized by the enemy, "If it is noticed before the distribution, then it is returned to itsowner. Whatever has already been distributed is not returned to anyone." Malik, when asked about a man whose young male slave was taken by the idol worshippers and then the Muslims re-captured him, said, "The owner is more entitled to him without having to pay his price or value or having to incur any loss before the distribution takes place. If the distribution has already taken place then I think that the slave belongs to his master for his price if the master wants him back." Regarding an umm walad of a Muslim man who has been taken by the idol worshippers and then recaptured by the Muslims and allotted in the distribution of spoils and then recognised by her master after the distribution, Malik said, "She is not to be enslaved. I think that the Imam should pay a ransom for her for her master. If he does not do it, then her master must pay a ransom for her and not leave her. I do not think that she should be made a slave by whoever takes her and intercourse with her is not halal. She is in the position of a free woman because her master would be required to pay compensation if she injured somebody and so she is in the same position (as a wife). He must not leave the mother of his son to be enslaved nor may intercourse with her be made halal." Malik was asked about a man who went to enemy territory to pay ransom or to trade, and he bought a free man or a slave, or they were given to him. He said, "As for the free man, the price he buys him for is a debt against the man and he is not made a slave. If the captive is given to him freely, he is free and owes nothing unless the man gave something in recompense for him. That is a debt against the free man, the same as if a ransom had been paid for him. As for a slave, his former master can choose to take him back and pay his price to the man who bought him or he can choose to leave him, as he wishes. If he was given to the man, the former master is more entitled to him, and he owes nothing for him unless the man gave something for him in recompense. Whatever he gave for him is a loss against the master if he wants him back."
ہتھیاروں کو نفل میں دنیے کا بیان
عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْأَنْفَالِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْفَرَسُ مِنْ النَّفَلِ وَالسَّلَبُ مِنْ النَّفَلِ قَالَ ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ لِمَسْأَلَتِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَلِکَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ الرَّجُلُ الْأَنْفَالُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِي کِتَابِهِ مَا هِيَ قَالَ الْقَاسِمُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ حَتَّی کَادَ أَنْ يُحْرِجَهُ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ صَبِيغٍ الَّذِي ضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ؛ " سنا میں نے ایک شخص کو، عبداللہ بن عباس سے نفل کے معنی پوچھتا تھا "، ابن عباس نے کہا کہ " گھوڑا اور ہتھیار نفل میں داخل ہیں۔ پھر اس شخص نے یہی پوچھا، پھر ابن عباس نے یہی جواب دیا۔ پھر اس شخص نے کہا میں وہ انفال پوچھتا ہوں جن کا ذکر، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ قاسم کہتے ہیں کہ وہ برابر پوچھے گیا، یہاں تک کہ تنگ ہونے لگے عبداللہ بن عباس اور کہا انہوں نے تم جانتے ہو اس شخص کی مثال ؛ صبیغ کی سی ہے جس کو حضرت عمر بن خطاب نے مارا تھا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that al-Qasim ibn Muhammad said that he had heard a man asking ibn Abbas about booty. Ibn Abbas (RA) said, "Horses are part of the booty and personal effects are as well." Then the man repeated his question, and Ibn Abbas (RA) repeated his answer. Then the man said, "What are the spoils which He, the Blessed, the Exalted, mentioned in His Book?" He kept on asking until Ibn Abbas (RA) was on the verge of being annoyed, then Ibn Abbas (RA) said, "Do you know who this man is like? Ibn Sabigh, who was beaten by Umar ibn al-Khattab because he was notorious for asking foolish questions." Yahya said that Malik was asked whether someone who killed one of the enemy could keep the mans effects without the permission of the Imam. He said, "No one can do that without the permission of the Imam. Only the Imam can make ijtihad. I have not heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ever said, Whoever kills someone can have his effects, on any other day than the day of Hunayn."