بَاب الْقَضَاءِ فِي الْمُدَبَّرِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ قَالَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ دَبَّرَ جَارِيَةً لَهُ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا بَعْدَ تَدْبِيرِهِ إِيَّاهَا ثُمَّ مَاتَتْ الْجَارِيَةُ قَبْلَ الَّذِي دَبَّرَهَا إِنَّ وَلَدَهَا بِمَنْزِلَتِهَا قَدْ ثَبَتَ لَهُمْ مِنْ الشَّرْطِ مِثْلُ الَّذِي ثَبَتَ لَهَا وَلَا يَضُرُّهُمْ هَلَاكُ أُمِّهِمْ فَإِذَا مَاتَ الَّذِي كَانَ دَبَّرَهَا فَقَدْ عَتَقُوا إِنْ وَسِعَهُمْ الثُّلُثُ و قَالَ مَالِك كُلُّ ذَاتِ رَحِمٍ فَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا إِنْ كَانَتْ حُرَّةً فَوَلَدَتْ بَعْدَ عِتْقِهَا فَوَلَدُهَا أَحْرَارٌ وَإِنْ كَانَتْ مُدَبَّرَةً أَوْ مُكَاتَبَةً أَوْ مُعْتَقَةً إِلَى سِنِينَ أَوْ مُخْدَمَةً أَوْ بَعْضَهَا حُرًّا أَوْ مَرْهُونَةً أَوْ أُمَّ وَلَدٍ فَوَلَدُ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى مِثَالِ حَالِ أُمِّهِ يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا وَيَرِقُّونَ بِرِقِّهَا قَالَ مَالِك فِي مُدَبَّرَةٍ دُبِّرَتْ وَهِيَ حَامِلٌ وَلَمْ يَعْلَمْ سَيِّدُهَا بِحَمْلِهَا إِنَّ وَلَدَهَا بِمَنْزِلَتِهَا وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَعْتَقَ جَارِيَةً لَهُ وَهِيَ حَامِلٌ وَلَمْ يَعْلَمْ بِحَمْلِهَا قَالَ مَالِك فَالسُّنَّةُ فِيهَا أَنَّ وَلَدَهَا يَتْبَعُهَا وَيَعْتِقُ بِعِتْقِهَا قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ فَالْوَلِيدَةُ وَمَا فِي بَطْنِهَا لِمَنْ ابْتَاعَهَا اشْتَرَطَ ذَلِكَ الْمُبْتَاعُ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَحِلُّ لِلْبَائِعِ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مَا فِي بَطْنِهَا لِأَنَّ ذَلِكَ غَرَرٌ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا وَلَا يَدْرِي أَيَصِلُ ذَلِكَ إِلَيْهِ أَمْ لَا وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ مَا لَوْ بَاعَ جَنِينًا فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَذَلِكَ لَا يَحِلُّ لَهُ لِأَنَّهُ غَرَرٌ قَالَ مَالِك فِي مُكَاتَبٍ أَوْ مُدَبَّرٍ ابْتَاعَ أَحَدُهُمَا جَارِيَةً فَوَطِئَهَا فَحَمَلَتْ مِنْهُ وَوَلَدَتْ قَالَ وَلَدُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ جَارِيَتِهِ بِمَنْزِلَتِهِ يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهِ وَيَرِقُّونَ بِرِقِّهِ قَالَ مَالِك فَإِذَا أُعْتِقَ هُوَ فَإِنَّمَا أُمُّ وَلَدِهِ مَالٌ مِنْ مَالِهِ يُسَلَّمُ إِلَيْهِ إِذَا أُعْتِقَ
کہا مالک نے جو شخص اپنی لونڈی کو مدبر کرے بعد اس کے اس کی اولاد پیدا ہو پھر وہ لونڈی مولیٰ کے سامنے مرجائے تو اس کی اولاد اپنی ماں کی طرح مدبر رہے گی جب مولیٰ مرجائے گا اور ثلث مال میں گنجائش ہو تو آزاد ہوجائے گی۔ کہا مالک نے ہر عورت کی اولاد اپنی ماں کی مثل ہوگی اگر وہ مدبر ہے یا مکاتبہ ہے یا معتقہ الی اجل ہے یا مخدمہ ہے یا معتقہ البعض ہے یا گرو ہے یا ام ولد ہے۔ ہر ایک کی اولاد اپنی ماں کی مثل ہوگی وہ آزاد تو وہ آزاد اور وہ لونی ہوجائے گی تو وہ بھی مملوک ہوجائے گی۔ کہا مالک نے اگر لونڈی حالت حمل میں مدبر ہوئی تو اس کا بچہ بھی مدبر ہوجائے گا اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنی حاملہ لونڈی کو آزاد کردیا اور اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ حاملہ ہے تو اس کا بچہ بھی آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر ایک شخص حاملہ لونڈی کو بیچے تو وہ لونڈی اور اس کے پیٹ کا بچہ مشتری (خریدنے والا) کا ہوگا خواہ مشتری (خریدنے والا) نے اس کی شرط لگائی ہو یا نہ لگائی ہو۔ کہا مالک نے اسی طرح بائعے کے لئے درست نہیں کہ لونڈی کو بیچے اور اس کا حمل بیچے کیونکہ اس میں دھوکا ہے شاید بچہ پیدا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کوئی شخص پیٹ کے بچے کو بیچے اس کی بیع درست نہیں۔ کہا مالک نے اگر مدبر اپنے مولیٰ سے کہے تو مجھے ابھی آزاد کر دے میں تجھے پچاس دینار قسط وار دیتا ہوں مولیٰ کہے اچھا تو آزاد ہے تو مجھے پچاس دینار پانچ برس میں دے دینا ہر سال دس دینار کے حساب سے مدبر اس پر راضی ہوجائے بعد اس کے دو تین دن میں مولیٰ مرجائے تو وہ آزاد ہوجائے گا اور پچاس دینار اس پر قرض رہیں گے اور اس کی گواہی جائز ہوجائے گی اور اس کی حرمت اور میراث اور حدود پورے ہوجائیں گے اور مولیٰ کے مرجانے سے ان پچاس دینار میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
Yahya related to me that Malik said, "What is done in our community in the case of a man who makes his slave-girl a mudabbara and she gives birth to children after that, and then the slave-girl dies before the one who gave her a tadbir is that her children are in her position. The conditions which were confirmed for her are confirmed for them. The death of their mother does not harm them. If the one who made her mudabbara dies, they are free if their value is less than one third of his total property."
بَاب جَامِعِ مَا جَاءَ فِي التَّدْبِيرِ قَالَ مَالِك فِي مُدَبَّرٍ قَالَ لِسَيِّدِهِ عَجِّلْ لِي الْعِتْقَ وَأُعْطِيكَ خَمْسِينَ مِنْهَا مُنَجَّمَةً عَلَيَّ فَقَالَ سَيِّدُهُ نَعَمْ أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ خَمْسُونَ دِينَارًا تُؤَدِّي إِلَيَّ كُلَّ عَامٍ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَرَضِيَ بِذَلِكَ الْعَبْدُ ثُمَّ هَلَكَ السَّيِّدُ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ قَالَ مَالِك يَثْبُتُ لَهُ الْعِتْقُ وَصَارَتْ الْخَمْسُونَ دِينَارًا دَيْنًا عَلَيْهِ وَجَازَتْ شَهَادَتُهُ وَثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ وَمِيرَاثُهُ وَحُدُودُهُ وَلَا يَضَعُ عَنْهُ مَوْتُ سَيِّدِهِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ فَمَاتَ السَّيِّدُ وَلَهُ مَالٌ حَاضِرٌ وَمَالٌ غَائِبٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِهِ الْحَاضِرِ مَا يَخْرُجُ فِيهِ الْمُدَبَّرُ قَالَ يُوقَفُ الْمُدَبَّرُ بِمَالِهِ وَيُجْمَعُ خَرَاجُهُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ مِنْ الْمَالِ الْغَائِبِ فَإِنْ كَانَ فِيمَا تَرَكَ سَيِّدُهُ مِمَّا يَحْمِلُهُ الثُّلُثُ عَتَقَ بِمَالِهِ وَبِمَا جُمِعَ مِنْ خَرَاجِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيمَا تَرَكَ سَيِّدُهُ مَا يَحْمِلُهُ عَتَقَ مِنْهُ قَدْرُ الثُّلُثِ وَتُرِكَ مَالُهُ فِي يَدَيْهِ
کہا مالک نے جو شخص اپنے غلام کو مدبر کرے پھر مرجائے اور اس کا مال کچھ موجود ہو کچھ غالب ہو جس قدر موجود ہو اس کے ثلث میں سے مدبر کو روک رکھیں گے اور اس کی کمائی کو بھی جمع کرتے جائیں گے یہاں تک کہ جو مال غائب ہے وہ بھی نکل آئے پھر اگر مولیٰ کے کل مال کے ثلث میں سے مدبر آزاد ہو سکے گا تو آزاد ہوجائے اور مدبر کا مال اور کمائی اسی کو ملے گی اور جو ثلث میں سے کل آزاد نہ ہو سکے گا تو ثلث ہی کی مقدار آزاد ہوجائے گا اس کا مال اسی کے پاس رہے گا۔ کہا مالک نے آزادی کی جتنی وصیتیں ہیں صحت میں ہوں یا مرض میں ان میں رجوع اور تغیر کرسکتا ہے مگر تدبیر میں جب کسی کو مدبر کردیا اب اس کے فسخ کا اختیار نہ ہوگا۔ کہا مالک نے جس لونڈی کے آزاد کرنے کی وصیت کی اور اس کو مدبر نہ کیا تو اس کی اولاد اپنی ماں کے ساتھ آزاد نہ ہوگی اس لئے کہ مولیٰ کا اس وصیت کے بدل ڈالنے کا اختیار تھا نہ ان کی ماں کے لئے آزادی ثابت ہوئی تھی بلکہ یہ ایسا ہے کوئی کہے اگر فلانی لونڈی میرے مرنے تک رہے تو وہ آزاد ہے پھر وہ اس کے مرنے تک رہی تو آزاد ہوجائے گی مگر مولیٰ کو اختیار ہے کہ موت سے پیشتر اس کو یا اس کی اولاد کو بیچے تو آزادی کی وصیت اور تدبیر کی وصیت میں سنت قدیمہ کی رو سے بہت فرق ہے اگر وصیت مثل تدبیر کے ہوتی تو کوئی شخص اپنی وصیت میں تغیر و تبدل کا اختیار نہ رکھتا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنے چند غلاموں کو صحت کی حالت میں مدبر کرے اور سوا ان کے کچھ مال نہ رکھتا ہو اگر اس نے اس طرح مدبر کیا کہ پہلے ایک کو پھر دوسرے کو تو جس کو پہلے مدبر کیا وہ ثلث مال میں سے آزاد ہوجائے گا پھر دوسرا پھر تیسرا اسی طرح جب تک ثلث مال میں گنجائش ہو اگر سب کو ایک ساتھ مدبر کیا ہے ایک ہی کلام میں تو ہر ایک ثلث آزاد ہوجائے گا جب سب کو بیماری میں مدبر کیا۔
Malik said that if a man who made his slave a mudabbar died and he had some property at hand and some absent property, and in the property at hand there was not enough (in the third he was allowed to bequeath) to cover the value of the mudabbar, the mudabbar was kept there together with this property, and his tax (kharaj) was gathered until the masters absent property was clear. Then if a third of what his master left would cover his value, he was freed with his property and what had gathered of his tax. If there was not enough to cover his value in what his master had left, as much of him was freed as the third would allow, and his property was left in his hands.
مدبر کرنے کی وصیت کا بیان
بَاب الْوَصِيَّةِ فِي التَّدْبِيرِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ عَتَاقَةٍ أَعْتَقَهَا رَجُلٌ فِي وَصِيَّةٍ أَوْصَى بِهَا فِي صِحَّةٍ أَوْ مَرَضٍ أَنَّهُ يَرُدُّهَا مَتَى شَاءَ وَيُغَيِّرُهَا مَتَى شَاءَ مَا لَمْ يَكُنْ تَدْبِيرًا فَإِذَا دَبَّرَ فَلَا سَبِيلَ لَهُ إِلَى رَدِّ مَا دَبَّرَ قَالَ مَالِك وَكُلُّ وَلَدٍ وَلَدَتْهُ أَمَةٌ أَوْصَى بِعِتْقِهَا وَلَمْ تُدَبَّرْ فَإِنَّ وَلَدَهَا لَا يَعْتِقُونَ مَعَهَا إِذَا عَتَقَتْ وَذَلِكَ أَنَّ سَيِّدَهَا يُغَيِّرُ وَصِيَّتَهُ إِنْ شَاءَ وَيَرُدُّهَا مَتَى شَاءَ وَلَمْ يَثْبُتْ لَهَا عَتَاقَةٌ وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ قَالَ لِجَارِيَتِهِ إِنْ بَقِيَتْ عِنْدِي فُلَانَةُ حَتَّى أَمُوتَ فَهِيَ حُرَّةٌ قَالَ مَالِك فَإِنْ أَدْرَكَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهَا ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ قَبْلَ ذَلِكَ بَاعَهَا وَوَلَدَهَا لِأَنَّهُ لَمْ يُدْخِلْ وَلَدَهَا فِي شَيْءٍ مِمَّا جَعَلَ لَهَا قَالَ وَالْوَصِيَّةُ فِي الْعَتَاقَةِ مُخَالِفَةٌ لِلتَّدْبِيرِ فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنْ السُّنَّةِ قَالَ وَلَوْ كَانَتْ الْوَصِيَّةُ بِمَنْزِلَةِ التَّدْبِيرِ كَانَ كُلُّ مُوصٍ لَا يَقْدِرُ عَلَى تَغْيِيرِ وَصِيَّتِهِ وَمَا ذُكِرَ فِيهَا مِنْ الْعَتَاقَةِ وَكَانَ قَدْ حَبَسَ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ مَا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَبَّرَ رَقِيقًا لَهُ جَمِيعًا فِي صِحَّتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ إِنْ كَانَ دَبَّرَ بَعْضَهُمْ قَبْلَ بَعْضٍ بُدِئَ بِالْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ وَإِنْ كَانَ دَبَّرَهُمْ جَمِيعًا فِي مَرَضِهِ فَقَالَ فُلَانٌ حُرٌّ وَفُلَانٌ حُرٌّ وَفُلَانٌ حُرٌّ فِي كَلَامٍ وَاحِدٍ إِنْ حَدَثَ بِي فِي مَرَضِي هَذَا حَدَثُ مَوْتٍ أَوْ دَبَّرَهُمْ جَمِيعًا فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَحَاصَّوْا فِي الثُّلُثِ وَلَمْ يُبَدَّأْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ صَاحِبِهِ وَإِنَّمَا هِيَ وَصِيَّةٌ وَإِنَّمَا لَهُمْ الثُّلُثُ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ ثُمَّ يَعْتِقُ مِنْهُمْ الثُّلُثُ بَالِغًا مَا بَلَغَ قَالَ وَلَا يُبَدَّأُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَرَضِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ فَهَلَكَ السَّيِّدُ وَلَا مَالَ لَهُ إِلَّا الْعَبْدُ الْمُدَبَّرُ وَلِلْعَبْدِ مَالٌ قَالَ يُعْتَقُ ثُلُثُ الْمُدَبَّرِ وَيُوقَفُ مَالُهُ بِيَدَيْهِ قَالَ مَالِك فِي مُدَبَّرٍ كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ فَمَاتَ السَّيِّدُ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ قَالَ مَالِك يُعْتَقُ مِنْهُ ثُلُثُهُ وَيُوضَعُ عَنْهُ ثُلُثُ كِتَابَتِهِ وَيَكُونُ عَلَيْهِ ثُلُثَاهَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ نِصْفَ عَبْدٍ لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَبَتَّ عِتْقَ نِصْفِهِ أَوْ بَتَّ عِتْقَهُ كُلَّهُ وَقَدْ كَانَ دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ آخَرَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ يُبَدَّأُ بِالْمُدَبَّرِ قَبْلَ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَرُدَّ مَا دَبَّرَ وَلَا أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِأَمْرٍ يَرُدُّهُ بِهِ فَإِذَا عَتَقَ الْمُدَبَّرُ فَلْيَكُنْ مَا بَقِيَ مِنْ الثُّلُثِ فِي الَّذِي أَعْتَقَ شَطْرَهُ حَتَّى يَسْتَتِمَّ عِتْقُهُ كُلُّهُ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ فَإِنْ لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ فَضْلَ الثُّلُثِ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَلَغَ فَضْلَ الثُّلُثِ بَعْدَ عِتْقِ الْمُدَبَّرِ الْأَوَّلِ
کہا مالک نے جس شخص نے اپنے غلام کو مدبر کیا اور سوا اس کے کچھ مال نہ تھا پھر مولیٰ مرگیا اور مدبر کے پاس مال ہے تو ثلث مدبر آزاد ہوجائے گا اور مال اس کا اسی کے پاس رہے گا۔ کہا مالک نے جس مدبر کو مولیٰ مکاتب کر دے پھر مولیٰ مرجائے اور سوا اس کے کچھ مال نہ چھوڑے تو اس کا ایک ثلث آزاد ہوجائے گا اور بدل کتابت میں سے بھی ایک ثلث گھٹ جائے گا اور دو ثلث مدبر کو ادا کرنا ہوں گے۔
Malik spoke about a master who made his slave a mudabbar and then he died and the only property he had was the mudabbar slave and the slave had property. He said, "A third of the mudabbar is freed and his property remains in his possession."
لونڈی کو جب مدبر کر دے اس سے صحبت کرنے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ دَبَّرَ جَارِيَتَيْنِ لَهُ فَکَانَ يَطَؤُهُمَا وَهُمَا مُدَبَّرَتَانِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی لونڈیوں کو مدبر کیا اور اس سے صحبت بھی کرتے تھے۔
Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar made two of his slave-girls mudabbara, and he had intercourse with them while they were mudabbara.
لونڈی کو جب مدبر کر دے اس سے صحبت کرنے کا بیان
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ إِذَا دَبَّرَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا وَلَا يَهَبَهَا وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا
سعید بن مسیب کہتے تھے جب کوئی شخص اپنی لونڈی کو مدبر کرے تو اس سے وطی کرسکتا ہے مگر بیع یا ہبہ نہیں کرسکتا اور اس کی اولاد بھی مثل اپنی ماں کے ہوں گی۔
Malik related to me from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab used to say, "When a man makes his slave-girl mudabbara, he can have intercourse with her. He cannot sell her or give her away and her children are in the same position as her."
بَاب بَيْعِ الْمُدَبَّرِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْمُدَبَّرِ أَنَّ صَاحِبَهُ لَا يَبِيعُهُ وَلَا يُحَوِّلُهُ عَنْ مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ وَأَنَّهُ إِنْ رَهِقَ سَيِّدَهُ دَيْنٌ فَإِنَّ غُرَمَاءَهُ لَا يَقْدِرُونَ عَلَى بَيْعِهِ مَا عَاشَ سَيِّدُهُ فَإِنْ مَاتَ سَيِّدُهُ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَهُوَ فِي ثُلُثِهِ لِأَنَّهُ اسْتَثْنَى عَلَيْهِ عَمَلَهُ مَا عَاشَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَخْدُمَهُ حَيَاتَهُ ثُمَّ يُعْتِقَهُ عَلَى وَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ مَالِهِ وَإِنْ مَاتَ سَيِّدُ الْمُدَبَّرِ وَلَا مَالَ لَهُ غَيْرُهُ عَتَقَ ثُلُثُهُ وَكَانَ ثُلُثَاهُ لِوَرَثَتِهِ فَإِنْ مَاتَ سَيِّدُ الْمُدَبَّرِ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مُحِيطٌ بِالْمُدَبَّرِ بِيعَ فِي دَيْنِهِ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَعْتِقُ فِي الثُّلُثِ قَالَ فَإِنْ كَانَ الدَّيْنُ لَا يُحِيطُ إِلَّا بِنِصْفِ الْعَبْدِ بِيعَ نِصْفُهُ لِلدَّيْنِ ثُمَّ عَتَقَ ثُلُثُ مَا بَقِيَ بَعْدَ الدَّيْنِ قَالَ مَالِك لَا يَجُوزُ بَيْعُ الْمُدَبَّرِ وَلَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِيَ الْمُدَبَّرُ نَفْسَهُ مِنْ سَيِّدِهِ فَيَكُونُ ذَلِكَ جَائِزًا لَهُ أَوْ يُعْطِيَ أَحَدٌ سَيِّدَ الْمُدَبَّرِ مَالًا وَيُعْتِقُهُ سَيِّدُهُ الَّذِي دَبَّرَهُ فَذَلِكَ يَجُوزُ لَهُ أَيْضًا قَالَ مَالِك وَوَلَاؤُهُ لِسَيِّدِهِ الَّذِي دَبَّرَهُ قَالَ مَالِك لَا يَجُوزُ بَيْعُ خِدْمَةِ الْمُدَبَّرِ لِأَنَّهُ غَرَرٌ إِذْ لَا يُدْرَى كَمْ يَعِيشُ سَيِّدُهُ فَذَلِكَ غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ و قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُدَبِّرُ أَحَدُهُمَا حِصَّتَهُ إِنَّهُمَا يَتَقَاوَمَانِهِ فَإِنْ اشْتَرَاهُ الَّذِي دَبَّرَهُ كَانَ مُدَبَّرًا كُلَّهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِهِ انْتَقَضَ تَدْبِيرُهُ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ فِيهِ الرِّقُّ أَنْ يُعْطِيَهُ شَرِيكَهُ الَّذِي دَبَّرَهُ بِقِيمَتِهِ فَإِنْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ بِقِيمَتِهِ لَزِمَهُ ذَلِكَ وَكَانَ مُدَبَّرًا كُلَّهُ و قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ نَصْرَانِيٍّ دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ الْعَبْدُ قَالَ مَالِك يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَبْدِ وَيُخَارَجُ عَلَى سَيِّدِهِ النَّصْرَانِيِّ وَلَا يُبَاعُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ أَمْرُهُ فَإِنْ هَلَكَ النَّصْرَانِيُّ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قُضِيَ دَيْنُهُ مِنْ ثَمَنِ الْمُدَبَّرِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي مَالِهِ مَا يَحْمِلُ الدَّيْنَ فَيَعْتِقُ الْمُدَبَّرُ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مدبر کو مولیٰ نہ بیچے اور نہ کسی طرح سے اس کی ملک منتقل کرے اور مولیٰ اگر قرضدار ہوجائے تو اس کے قرضخواہ مدبر کو بیچ نہیں سکتے جب تک اس کا مولیٰ زندہ ہے اگر مرجائے اور قرض دار نہ ہو تو ثلث مال میں کل مدبر آزاد ہوجائے گا کیونکہ اگر کل مال میں سے آزاد ہو تو سراسر مولیٰ کا فائدہ ہے کہ زندگی بھر اس سے خدمت لی پھر مرتے وقت آزادی کو بھی ثواب کما لیا اور ورثاء کا بالکل نقصان ہے اگر سوا اس مدبیر کے مولیٰ کا کچھ مال نہ ہو تو ثلث مدبر آزاد ہوجائے گا اور دو ثلث وارثوں کا حق ہوگا اگر مدبر کا مولیٰ مرجائے اور اس قدر مقروض ہو کہ مدبر کی کل قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ تو مدبر کو بیچیں گے کیونکہ مدبر جب آزاد ہوتا ہے کہ ثلث مال میں گنجائش ہو اگر قرضہ غلام کے نصف قیمت کے برابر ہو تو نصف مدبر کو قرضہ ادا کرنے کے لئے بیچیں گے اور نصف جو باقی ہے اس کا ایک ثلث آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے مدبر کا بیچنا درست نہیں اور نہ کسی کو اس کا خریدنا درست ہے مگر مدبر اپنا آپ مولیٰ سے خرید سکتا ہے یہ جائز ہے اور یہ بھی جائز کہ کوئی شخص مدبیر کے مولیٰ کو کچھ مالک دے تاکہ وہ اپنے مدبر کو آزاد کر دے مگر ولاء اس کے مولیٰ کو ملے گی جس نے اس کو مدبر کیا تھا۔ کہا مالک نے جو غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور یہ شخص ان میں سے اپنے حصے کو مدبر کر دے تو اس کی قیمت لگا دیں گے اگر جس شخص نے مدبر کیا ہے اس نے دوسرے شریک کا بھی حصہ خرید لیا تو کل غلام مدبر ہوجائے گا اگر نہ خریدا تو اس کی تدبیر باطل ہوجائے گی مگی جس صورت میں جس نے مدبر نہیں کیا وہ اپنے شریک سے قیمت لینے پر راضی ہوجائے اور قیمت لے لے تو غلام مدبر ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اگر نصرانی اپنے نصرانی غلام کو مدبر کرے بعد اس کے غلام مسلمان ہوجائے تو اس کو مولیٰ سے الگ کردیں گے۔
Malik said, "The generally agreed on way of doing things in our community about a mudabbar is that the owner cannot sell him or change the position in which he has put him. If a debt overtakes the master, his creditors cannot sell the mudabbar as long as the master is alive. If the master dies and has no debts, the mudabbar is included in the third (of the bequest) because he expected his work from him as long as he lived. He cannot serve him all his life, and then he frees him from his heirs out of the main portion of his property when he dies. If the master of the mudabbar dies and has no property other than him, one third of him is freed, and two thirds of him belong to the heirs. If the master of the mudabbar dies and owes a debt which encompasses the mudabbar, he is sold to meet the debt because he can only be freed in the third (which is allowed for bequest) ." He said, "If the debt only includes half of the slave, half of him is sold for the debt. Then a third of what remains after the debt is freed. "
مدبر کسی شخص کو زخمی کرے تو کیا کرنا چاہئے۔
بَاب جِرَاحِ الْمُدَبَّرِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَى فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ أَنَّ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسَلِّمَ مَا يَمْلِكُ مِنْهُ إِلَى الْمَجْرُوحِ فَيَخْتَدِمُهُ الْمَجْرُوحُ وَيُقَاصُّهُ بِجِرَاحِهِ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ فَإِنْ أَدَّى قَبْلَ أَنْ يَهْلِكَ سَيِّدُهُ رَجَعَ إِلَى سَيِّدِهِ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ أَنَّهُ يُعْتَقُ ثُلُثُهُ ثُمَّ يُقْسَمُ عَقْلُ الْجَرْحِ أَثْلَاثًا فَيَكُونُ ثُلُثُ الْعَقْلِ عَلَى الثُّلُثِ الَّذِي عَتَقَ مِنْهُ وَيَكُونُ ثُلُثَاهُ عَلَى الثُّلُثَيْنِ اللَّذَيْنِ بِأَيْدِي الْوَرَثَةِ إِنْ شَاءُوا أَسْلَمُوا الَّذِي لَهُمْ مِنْهُ إِلَى صَاحِبِ الْجَرْحِ وَإِنْ شَاءُوا أَعْطَوْهُ ثُلُثَيْ الْعَقْلِ وَأَمْسَكُوا نَصِيبَهُمْ مِنْ الْعَبْدِ وَذَلِكَ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ إِنَّمَا كَانَتْ جِنَايَتُهُ مِنْ الْعَبْدِ وَلَمْ تَكُنْ دَيْنًا عَلَى السَّيِّدِ فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الَّذِي أَحْدَثَ الْعَبْدُ بِالَّذِي يُبْطِلُ مَا صَنَعَ السَّيِّدُ مِنْ عِتْقِهِ وَتَدْبِيرِهِ فَإِنْ كَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ مَعَ جِنَايَةِ الْعَبْدِ بِيعَ مِنْ الْمُدَبَّرِ بِقَدْرِ عَقْلِ الْجَرْحِ وَقَدْرِ الدَّيْنِ ثُمَّ يُبَدَّأُ بِالْعَقْلِ الَّذِي كَانَ فِي جِنَايَةِ الْعَبْدِ فَيُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ الْعَبْدِ فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ وَذَلِكَ أَنَّ جِنَايَةَ الْعَبْدِ هِيَ أَوْلَى مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا هَلَكَ وَتَرَكَ عَبْدًا مُدَبَّرًا قِيمَتُهُ خَمْسُونَ وَمِائَةُ دِينَارٍ وَكَانَ الْعَبْدُ قَدْ شَجَّ رَجُلًا حُرًّا مُوضِحَةً عَقْلُهَا خَمْسُونَ دِينَارًا وَكَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مِنْ الدَّيْنِ خَمْسُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِك فَإِنَّهُ يُبْدَأُ بِالْخَمْسِينَ دِينَارًا الَّتِي فِي عَقْلِ الشَّجَّةِ فَتُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ فَالْعَقْلُ أَوْجَبُ فِي رَقَبَتِهِ مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ وَدَيْنُ سَيِّدِهِ أَوْجَبُ مِنْ التَّدْبِيرِ الَّذِي إِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَجُوزَ شَيْءٌ مِنْ التَّدْبِيرِ وَعَلَى سَيِّدِ الْمُدَبَّرِ دَيْنٌ لَمْ يُقْضَ وَإِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ قَالَ مَالِك فَإِنْ كَانَ فِي ثُلُثِ الْمَيِّتِ مَا يَعْتِقُ فِيهِ الْمُدَبَّرُ كُلُّهُ عَتَقَ وَكَانَ عَقْلُ جِنَايَتِهِ دَيْنًا عَلَيْهِ يُتَّبَعُ بِهِ بَعْدَ عِتْقِهِ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَقْلُ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى سَيِّدِهِ دَيْنٌ و قَالَ مَالِك فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ رَجُلًا فَأَسْلَمَهُ سَيِّدُهُ إِلَى الْمَجْرُوحِ ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ فَقَالَ الْوَرَثَةُ نَحْنُ نُسَلِّمُهُ إِلَى صَاحِبِ الْجُرْحِ وَقَالَ صَاحِبُ الدَّيْنِ أَنَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ إِنَّهُ إِذَا زَادَ الْغَرِيمُ شَيْئًا فَهُوَ أَوْلَى بِهِ وَيُحَطُّ عَنْ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ قَدْرُ مَا زَادَ الْغَرِيمُ عَلَى دِيَةِ الْجَرْحِ فَإِنْ لَمْ يَزِدْ شَيْئًا لَمْ يَأْخُذْ الْعَبْدَ و قَالَ مَالِك فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ وَلَهُ مَالٌ فَأَبَى سَيِّدُهُ أَنْ يَفْتَدِيَهُ فَإِنَّ الْمَجْرُوحَ يَأْخُذُ مَالَ الْمُدَبَّرِ فِي دِيَةِ جُرْحِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهِ وَفَاءٌ اسْتَوْفَى الْمَجْرُوحُ دِيَةَ جُرْحِهِ وَرَدَّ الْمُدَبَّرَ إِلَى سَيِّدِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَفَاءٌ اقْتَضَاهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ وَاسْتَعْمَلَ الْمُدَبَّرَ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ
عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا کہ جب مدبر کسی شخص وہ اس سے خدمت لے اپنے زخم کی دیت کے بدلے میں جب اس کی دیت ادا ہوجائے اور مولیٰ نہ مرا ہو تو پھر اپنے مولیٰ کے پاس چلا آئے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ مدبر اگر کسی شخص کو زخمی کرے پھر اس کا مولیٰ مرجائے اور سوائے اس کے اور کچھ مال نہ ہو تو ثلث مدبر آزاد ہوجائے گا پھر زخم کی دیت کے تین حصے کریں گے ایک حصہ تو مدبر کے اس ثلث پر ڈالا جائے گا جو آزاد ہوگیا اور دو حصے ان دو ثلث پر واقع ہوں گے جو ورثہ کے ہاتھ میں ہیں اب ورثاء کو اختیار ہوگا اگر چاہیں تو ان دو ثلث کو بھی مدبر کے مجروح کے حوالہ کریں اگر چاہیں تو دیت کے دو ثلث ادا کریں اور مدبر کے دو ثلث رکھ چھوڑیں کیونکہ اس زخم کی دیت غلام کی جنایت کے سبب سے ہے اور سید پر دین نہیں ہے تو غلام کے اس قصور سے سید نے جو کام کیا تھا آزادی یا تدبیر باطل نہ ہوگا۔ اگر مولیٰ اس صورت میں قرضدار بھی ہو تو مدبر میں سے موافق دیت کے اور قرضہ کے بیچ کے پہلے دیت کو ادا کریں گے پھر دین کو ادا کریں گے پھر جو کچھ حصہ غلام کا بیچ رہے گا اس کا ثلث آزاد ہوجائے گا اور دو ثلث اس کے وارثوں کو ملیں گے کیونکہ غلام کی جنایت کا تاوان مولیٰ کے قرض پر مقدم ہے اس کی مثال یہ ہے ایک شخص مرگیا اور ایک غلام مدبر چھوڑ گیا جس کی قیمت ڈیڑھ سو دینار ہے اور اس غلام نے ایک شخص کو زخمی کیا تھا جس کے زخم کی دیت پچاس دینار ہے اور سید پر بھی پچاس دینار کا قرض ہے تو پہلے مدبر کی قیمت میں سے دیت کے پچاس دینار ادا کریں گے پھر قرض کے پچاس دینار ادا کریں گے اب جو کچھ بچ رہا اس کا ایک ثلث آزاد ہوجائے گا اور دو ثلث وارثوں کو ملیں گے تو دیت قرض سے مقدم ہے اور جو وصیت ہے مال تو تدبیر جائز نہ ہوگی۔ جب سید پر دین ہو جو ہو بلکہ تدبیر ایک وصیت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (من بعد وصیہ یوصی بھا او دین) اور دین مقدم ہے وصیت پر اجمالا۔ کہا مالک نے اگر مدبر ثلث مال میں سے آزاد ہوسکتا ہے تو آزاد ہوجائے گا اور زخم کی دیت اس پر دین رہے گی اگرچہ یہ پوری دیت ہو بعد آزادی کے اس سے مؤ اخذہ کیا جائے گا جب سید پر کچھ دین نہ ہو۔ کہا مالک نے مدبر جب کسی شخص کو زخمی کرے اور مولیٰ اس کو مجروح کے حوالے کر دے پر مولیٰ قرضدار ہو کر مرجائے اور سوائے اس کے کچھ مال نہ چھوڑے پھر وارث یہ کہیں کہ ہم مدبر کو مجروح کے حوالے کرتے ہیں اور قرضخواہ یہ کہے کہ مدبر اگر مجھ کو ملے تو دیت سے زیادہ میں قیمت دیتا ہوں اس صورت میں وہ مدبر قرضخواہ کے حوالے کیا جائے گا اور جس قدر قرضخواہ نے دیت سے زیادہ دیا ہے اتنا قرضہ مولیٰ کے ذمے سے ساقط ہوگا اگر دیت سے زیادہ نہ دے تو قرضخواہ اس مدبر کو نہ لے سکے گا۔ کہا مالک نے اگر مدبر مالدار ہو اور کسی شخص کو زخمی کرے پھر مولیٰ دیت دینے سے انکار کرے تو جو شخص زخمی ہوا ہے وہ مدبر کا مال اپنی دیت میں لے گا اگر اس کی دیت اسی مال میں پوری ہوگئی تو مدبر اس کے مولیٰ کے حوالے کرے گا ورنہ جس قدر دیت باقی رہ گئی ہے اسی قدر خدمت مدبر سے لے گا۔
Malik related to me that he heard that Umar ibn Abdul Aziz gave a judgement about the mudabbar who did an injury. He said, "The master must surrender what he owns of him to the injured person. He is made to serve the injured person and recompense (in the form of service) is taken from him as the blood-money of the injury. If he completes that before his master dies, he reverts to his master."
ام ولد کسی شخص کو زخم کرے تو کیا کرنا چاہئے۔
بَاب مَا جَاءَ فِي جِرَاحِ أُمِّ الْوَلَدِ قَالَ مَالِك فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَجْرَحُ إِنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ ضَامِنٌ عَلَى سَيِّدِهَا فِي مَالِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَقْلُ ذَلِكَ الْجَرْحِ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ أُمِّ الْوَلَدِ فَلَيْسَ عَلَى سَيِّدِهَا أَنْ يُخْرِجَ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْعَبْدِ أَوْ الْوَلِيدَةِ إِذَا أَسْلَمَ غُلَامَهُ أَوْ وَلِيدَتَهُ بِجُرْحٍ أَصَابَهُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَإِنْ كَثُرَ الْعَقْلُ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ سَيِّدُ أُمِّ الْوَلَدِ أَنْ يُسَلِّمَهَا لِمَا مَضَى فِي ذَلِكَ مِنْ السُّنَّةِ فَإِنَّهُ إِذَا أَخْرَجَ قِيمَتَهَا فَكَأَنَّهُ أَسْلَمَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا
کہا مالک نے اگر ام ولد کسی شخص کو زخمی کرے تو دیت اس کے مولیٰ کو دینا ہوگی مگر جس صورت میں دیت ام ولد کی قیمت سے زیادہ ہو تو مولیٰ پر لازم نہیں کہ کہ ام ولد کی قیمت سے زیادہ دے اس لئے کہ اگر کوئی لونڈی یا غلام جنایت کرے تو مولیٰ اس پر اس سے زیادہ لازم نہیں کہ اس لونڈی یا غلام کو صاحب جنایت کے حوالے کرے اگرچہ دیت کتنی ہی اس لونڈی یا غلام کی قیمت سے زیادہ ہو اب یہاں پر ام ولد کا مولیٰ یہ تو نہیں کرسکتا کہ ام ولد صاحب جنایت کے حوالے کرے اس لئے کہ ام ولد کی بیع یا ہبہ اور کسی طور سے نقل ملک درست نہیں بلکہ خلاف ہے سنت قدیمہ کے جب ایسا ہوا تو قیمت ام ولد کی خود ام ولد کے قائم مقام ہے اس سے زیادہ مولیٰ پر لازم نہیں یہ میں نے بہت اچھا سنا مولیٰ پر ام ولد کی قیمت سے زیادہ جنایت میں دینا لازم نہیں۔
Malik said in the case of an umm walad who injured someone, "The blood-money of that injury is the responsibility of her master from his property, unless the blood-money of the injury is greater than the value of the umm walad. Her master does not have to pay more than her value. That is because when the master of a slave or slave-girl surrenders his slave or slave-girl for an injury which one of them has done, he does not owe any more than that, even if the blood-money is greater. As the master of the umm walad cannot surrender her because of the precedent of the sunna, when he pays her price, it is as if he had surrendered her. He does not have to pay more than that. This is the best of what I have heard about the matter. The master is not obliged to assume responsibility for more than an umm walads value because of her criminal action."