کتاب بیع کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 34 · 88 hadiths · Page 1 of 5

1192Mauwatta Imam Malik

عربان کے بیان میں

بَاب مَا جَاءَ فِي بَيْعِ الْعُرْبَانِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ أَوْ تَكَارَى مِنْهُ أُعْطِيكَ دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَقَلَّ عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ وَإِنْ تَرَكْتُ ابْتِيَاعَ السِّلْعَةِ أَوْ كِرَاءَ الدَّابَّةِ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِأَنْ يَبْتَاعَ الْعَبْدَ التَّاجِرَ الْفَصِيحَ بِالْأَعْبُدِ مِنْ الْحَبَشَةِ أَوْ مِنْ جِنْسٍ مِنْ الْأَجْنَاسِ لَيْسُوا مِثْلَهُ فِي الْفَصَاحَةِ وَلَا فِي التِّجَارَةِ وَالنَّفَاذِ وَالْمَعْرِفَةِ لَا بَأْسَ بِهَذَا أَنْ تَشْتَرِيَ مِنْهُ الْعَبْدَ بِالْعَبْدَيْنِ أَوْ بِالْأَعْبُدِ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ إِذَا اخْتَلَفَ فَبَانَ اخْتِلَافُهُ فَإِنْ أَشْبَهَ بَعْضُ ذَلِكَ بَعْضًا حَتَّى يَتَقَارَبَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ اخْتَلَفَتْ أَجْنَاسُهُمْ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي أَنْ يُسْتَثْنَى جَنِينٌ فِي بَطْنِ أُمِّهِ إِذَا بِيعَتْ لِأَنَّ ذَلِكَ غَرَرٌ لَا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى أَحَسَنٌ أَمْ قَبِيحٌ أَوْ نَاقِصٌ أَوْ تَامٌّ أَوْ حَيٌّ أَوْ مَيْتٌ وَذَلِكَ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَنْدَمُ الْبَائِعُ فَيَسْأَلُ الْمُبْتَاعَ أَنْ يُقِيلَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ نَقْدًا أَوْ إِلَى أَجَلٍ وَيَمْحُو عَنْهُ الْمِائَةَ دِينَارٍ الَّتِي لَهُ قَالَ مَالِك لَا بَأْسَ بِذَلِكَ وَإِنْ نَدِمَ الْمُبْتَاعُ فَسَأَلَ الْبَائِعَ أَنْ يُقِيلَهُ فِي الْجَارِيَةِ أَوْ الْعَبْدِ وَيَزِيدَهُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنْ الْأَجَلِ الَّذِي اشْتَرَى إِلَيْهِ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْبَغِي وَإِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ لِأَنَّ الْبَائِعَ كَأَنَّهُ بَاعَ مِنْهُ مِائَةَ دِينَارٍ لَهُ إِلَى سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ بِجَارِيَةٍ وَبِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنْ السَّنَةٍ فَدَخَلَ فِي ذَلِكَ بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَى أَجَلٍ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مِنْ الرَّجُلِ الْجَارِيَةَ بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِيهَا بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ الثَّمَنِ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ إِلَى أَبْعَدَ مِنْ ذَلِكَ الْأَجَلِ الَّذِي بَاعَهَا إِلَيْهِ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَتَفْسِيرُ مَا كَرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنْهُ يَبِيعُهَا بِثَلَاثِينَ دِينَارًا إِلَى شَهْرٍ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا بِسِتِّينَ دِينَارًا إِلَى سَنَةٍ أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ فَصَارَ إِنْ رَجَعَتْ إِلَيْهِ سِلْعَتُهُ بِعَيْنِهَا وَأَعْطَاهُ صَاحِبُهُ ثَلَاثِينَ دِينَارًا إِلَى شَهْرٍ بِسِتِّينَ دِينَارًا إِلَى سَنَةٍ أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ فَهَذَا لَا يَنْبَغِي

عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا عربان کی بیع سے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بائع (بچنے والا) سے یا جانور والے سے کہہ دے کہ میں تجھے ایک دینار یا کم زیادہ دیتا ہوں اس شرط پر کہ اگر میں اس غلام یا لونڈی کو خرید لوں گا تو وہ دینار اس کی قیمت میں سے سمجھنا یا جانور پر سواری کروں گا تو کرایہ میں سے خیال کرنا ورنہ میں اگر غلام یا لونڈی تجھے پھیر دوں یا جانور پر سوار نہ ہوں تو دینار مفت تیرا مال ہوجائے گا اس کو واپس نہ لوں گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو غلام تجارت کا فن خوب جانتا ہو زبان اچھی بولتا ہو اس کا بدلنا حبشی جاہل غلام سے درست ہے اسی طرح اور اسباب کا جو دوسرے اسباب کی مثل نہ ہو بلکہ اس سے زیادہ کھرا ہو اور ایک غلام کا دو غلاموں کے عوض میں یا کئی غلاموں کے بدلے میں درست ہے جب وہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے کھلا کھلا فرق رکھتی ہوں اور جو ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو دو چیزوں کا ایک کے بدلے میں لینا درست نہیں۔ کہا مالک نے سوا کھانے کی چیزوں کے اور اسباب کا بیچنا قبضہ سے پہلے درست ہے مگر اور کسی کے ہاتھ نہ اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ بشرطیکہ قیمت دے چکا ہو۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص حاملہ لونڈی کو بیچے مگر اس کے حمل کو نہ بیچے تو درست نہیں کس واسطے کیا معلوم ہے کہ وہ حمل مرد ہے یا عورت خوبصورت ہے یا بدصورت پورا ہے یا لنڈور زندہ ہے یا مردہ تو کس طور سے اس کی قیمت لونڈی کی قیمت میں سے وضع کرے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک لونڈی یا غلام سو دینار کو خریدے اور قیمت ادا کرنے کی ایک میعاد مقرر کرے (مثلا ایک مہینے کے وعدے پر) پھر بائع (بچنے والا) شرمندہ ہو کر خریدار سے کہے کہ اس بیع کو فسخ کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد یا اس قدر میعاد میں لے لے تو درست ہے اور اگر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہے کہ بیع فسح کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد لے لے یا اس میعاد کے بعد جو ٹھہری تھی تو درست نہیں کیونکہ یہ ایسا ہوا گویا بائع (بچنے والا) نے اپنے میعاد سے سو دینار کو ایک لونڈی اور دس دینار نقد یا میعادی پر بیع کیا تو سونے کی بیع سونے سے ہوئی میعاد پر اور یہ درست نہیں۔

Yahya related to me from Malik from a reliable source from Amr ibn Shuayb from his father from his fathers father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade transactions in which nonrefundable deposits were paid.

1193Mauwatta Imam Malik

جب غلام یا لونڈی بکے تو اس کا مال کس کو ملے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُبْتَاعَ إِنْ اشْتَرَطَ مَالَ الْعَبْدِ فَهُوَ لَهُ نَقْدًا کَانَ أَوْ دَيْنًا أَوْ عَرْضًا يُعْلَمُ أَوْ لَا يُعْلَمُ وَإِنْ کَانَ لِلْعَبْدِ مِنْ الْمَالِ أَکْثَرُ مِمَّا اشْتَرَی بِهِ کَانَ ثَمَنُهُ نَقْدًا أَوْ دَيْنًا أَوْ عَرْضًا وَذَلِکَ أَنَّ مَالَ الْعَبْدِ لَيْسَ عَلَی سَيِّدِهِ فِيهِ زَکَاةٌ وَإِنْ کَانَتْ لِلْعَبْدِ جَارِيَةٌ اسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِمِلْکِهِ إِيَّاهَا وَإِنْ عَتَقَ الْعَبْدُ أَوْ کَاتَبَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَإِنْ أَفْلَسَ أَخَذَ الْغُرَمَائُ مَالَهُ وَلَمْ يُتَّبَعْ سَيِّدُهُ بِشَيْئٍ مِنْ دَيْنِهِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے حضرت عمر نے فرمایا جو شخص غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ مال بائع (بچنے والا) کو ملے گا مگر جب خریدار شرط کرلے کہ وہ مال میں لوں گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ خریدار اگر شرط کرلے گا اس مال کے لینے کی تو وہ مال اسی کو ملے گا نقد ہو یا کسی پر قرض ہو یا اسباب ہو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو اگرچہ وہ مال اس زر ثمن سے زیادہ ہو۔ جس کے عوض میں وہ غلام بکا ہے کیونکہ غلام کے مال میں مولیٰ پر زکوٰۃ نہیں ہے وہ غلام ہی کا سمجھا جائے گا اور اس غلام کی اگر کوئی لونڈی ہوگی تو مولیٰ کو اس سے وطی کرنا درست ہوجائے گا اور اگر یہ غلام آزاد ہوجاتا یا مکاتب تو اس کا مال اسی کو ملتا اگر مفلس ہوجاتا تو قرض خواہوں کو مل جاتا اس کے مولیٰ سے مؤ اخذہ نہ ہوتا۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "If a slave who has wealth is sold, that wealth belongs to the seller unless the buyer stipulates its inclusion."

1194Mauwatta Imam Malik

غلام یا لونڈی کی بیع میں بائع سے کب تک مواخذہ ہوسکتا ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ وَهِشَامَ بْنَ إِسْمَعِيلَ کَانَا يَذْکُرَانِ فِي خُطْبَتِهِمَا عُهْدَةَ الرَّقِيقِ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَی الْعَبْدُ أَوْ الْوَلِيدَةُ وَعُهْدَةَ السَّنَةِ قَالَ مَالِک مَا أَصَابَ الْعَبْدُ أَوْ الْوَلِيدَةُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَيَانِ حَتَّی تَنْقَضِيَ الْأَيَّامُ الثَّلَاثَةُ فَهُوَ مِنْ الْبَائِعِ وَإِنَّ عُهْدَةَ السَّنَةِ مِنْ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ فَإِذَا مَضَتْ السَّنَةُ فَقَدْ بَرِئَ الْبَائِعُ مِنْ الْعُهْدَةِ کُلِّهَا قَالَ مَالِک وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ بِالْبَرَائَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ کُلِّ عَيْبٍ وَلَا عُهْدَةَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ عَلِمَ عَيْبًا فَکَتَمَهُ فَإِنْ کَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَکَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ الْبَرَائَةُ وَکَانَ ذَلِکَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا وَلَا عُهْدَةَ عِنْدَنَا إِلَّا فِي الرَّقِيقِ

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل دونوں نے خطبے میں بیان کیا کہ غلام اور لونڈی کے عیب کی جواب دہی بائع (بچنے والا) پر تین روز تک ہے خریدنے کے وقت سے اور ایک جواب دہی سال بھر تک ہے۔ کہا مالک نے غلام اور لونڈی کو جو عارضہ لاحق ہو تین دن کے اندر وہ بائع (بچنے والا) کی طرف سے سمجھا جائے گا اور مشتری (خریدنے والا) کو اس کے پھیر دینے کا اختیار ہوگا اور اگر جنون یا جذام یا برص نکلے تو ایک برس کے اندر پھیر دینے کا اختیار ہوگا بعد ایک سال کے پھر بائع (بچنے والا) سب باتوں سے بری ہوجائے اس کو کسی عیب کی جواب دہی لازم نہ ہوگی اگر کسی نے وارثوں میں سے یا اور لوگوں میں سے ایک غلام یا لونڈی کو پیچا اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہے تو پھر بائع (بچنے والا) پر جواب دہی لازم نہ ہوگی البتہ اگر جان بوجھ کر اس نے کوئی عیب چھپایا ہوگا تو جواب دہی اس پر لازم ہوگی اور مشتری (خریدنے والا) کو پھیر دینے کا اختیار ہوگا۔ یہ جواب دہی خاص غلام یا لونڈی میں ہے اور چیزوں میں نہیں۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm that Aban ibn Uthman and Hisham ibn Ismail used to mention in their khutbas built-in liability agreements in the sale of slaves, to cover both a three day period and a similar clause covering a year. Malik explained, "The defects a lave or slave-girl are found to have from the time they are bought until the end of the three days are the responsibility of the seller. The year agreement is to cover insanity, leprosy, and loss of limbs due to disease. After a year, the seller is free from any liability."

1195Mauwatta Imam Malik

غلام لونڈی میں عیب نکالنے کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بَاعَ غُلَامًا لَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَبَاعَهُ بِالْبَرَائَةِ فَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَهُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالْغُلَامِ دَائٌ لَمْ تُسَمِّهِ لِي فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ الرَّجُلُ بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَائٌ لَمْ يُسَمِّهِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بِعْتُهُ بِالْبَرَائَةِ فَقَضَی عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ لَقَدْ بَاعَهُ الْعَبْدَ وَمَا بِهِ دَائٌ يَعْلَمُهُ فَأَبَی عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَحْلِفَ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَصَحَّ عِنْدَهُ فَبَاعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِکَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنْ ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَحَمَلَتْ أَوْ عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَكُلَّ أَمْرٍ دَخَلَهُ الْفَوْتُ حَتَّى لَا يُسْتَطَاعَ رَدُّهُ فَقَامَتْ الْبَيِّنَةُ إِنَّهُ قَدْ كَانَ بِهِ عَيْبٌ عِنْدَ الَّذِي بَاعَهُ أَوْ عُلِمَ ذَلِكَ بِاعْتِرَافٍ مِنْ الْبَائِعِ أَوْ غَيْرِهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ يُقَوَّمُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُرَدُّ مِنْ الثَّمَنِ قَدْرُ مَا بَيْنَ قِيمَتِهِ صَحِيحًا وَقِيمَتِهِ وَبِهِ ذَلِكَ الْعَيْبُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ يَرُدُّهُ مِنْهُ وَقَدْ حَدَثَ بِهِ عِنْدَ الْمُشْتَرِي عَيْبٌ آخَرُ إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْعَيْبُ الَّذِي حَدَثَ بِهِ مُفْسِدًا مِثْلُ الْقَطْعِ أَوْ الْعَوَرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْعُيُوبِ الْمُفْسِدَةِ فَإِنَّ الَّذِي اشْتَرَى الْعَبْدَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ بِقَدْرِ الْعَيْبِ الَّذِي كَانَ بِالْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وُضِعَ عَنْهُ وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَغْرَمَ قَدْرَ مَا أَصَابَ الْعَبْدَ مِنْ الْعَيْبِ عِنْدَهُ ثُمَّ يَرُدُّ الْعَبْدَ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ مَاتَ الْعَبْدُ عِنْدَ الَّذِي اشْتَرَاهُ أُقِيمَ الْعَبْدُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهُ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ بِغَيْرِ عَيْبٍ مِائَةَ دِينَارٍ وَقِيمَتُهُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وَبِهِ الْعَيْبُ ثَمَانُونَ دِينَارًا وُضِعَ عَنْ الْمُشْتَرِي مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ وَإِنَّمَا تَكُونُ الْقِيمَةُ يَوْمَ اشْتُرِيَ الْعَبْدُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ رَدَّ وَلِيدَةً مِنْ عَيْبٍ وَجَدَهُ بِهَا وَكَانَ قَدْ أَصَابَهَا أَنَّهَا إِنْ كَانَتْ بِكْرًا فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي إِصَابَتِهِ إِيَّاهَا شَيْءٌ لِأَنَّهُ كَانَ ضَامِنًا لَهَا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً أَوْ حَيَوَانًا بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ فِيمَا بَاعَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلِمَ فِي ذَلِكَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ تَبْرِئَتُهُ وَكَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَيْهِ قَالَ مَالِك فِي الْجَارِيَةِ تُبَاعُ بِالْجَارِيتَيْنِ ثُمَّ يُوجَدُ بِإِحْدَى الْجَارِيَتَيْنِ عَيْبٌ تُرَدُّ مِنْهُ قَالَ تُقَامُ الْجَارِيَةُ الَّتِي كَانَتْ قِيمَةَ الْجَارِيَتَيْنِ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهَا ثُمَّ تُقَامُ الْجَارِيتَانِ بِغَيْرِ الْعَيْبِ الَّذِي وُجِدَ بِإِحْدَاهُمَا تُقَامَانِ صَحِيحَتَيْنِ سَالِمَتَيْنِ ثُمَّ يُقْسَمُ ثَمَنُ الْجَارِيَةِ الَّتِي بِيعَتْ بِالْجَارِيتَيْنِ عَلَيْهِمَا بِقَدْرِ ثَمَنِهِمَا حَتَّى يَقَعَ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حِصَّتُهَا مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْمُرْتَفِعَةِ بِقَدْرِ ارْتِفَاعِهَا وَعَلَى الْأُخْرَى بِقَدْرِهَا ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى الَّتِي بِهَا الْعَيْبُ فَيُرَدُّ بِقَدْرِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا مِنْ تِلْكَ الْحِصَّةِ إِنْ كَانَتْ كَثِيرَةً أَوْ قَلِيلَةً وَإِنَّمَا تَكُونُ قِيمَةُ الْجَارِيَتَيْنِ عَلَيْهِ يَوْمَ قَبْضِهِمَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ فَيُؤَاجِرُهُ بِالْإِجَارَةِ الْعَظِيمَةِ أَوْ الْغَلَّةِ الْقَلِيلَةِ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ إِنَّهُ يَرُدُّهُ بِذَلِكَ الْعَيْبِ وَتَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ وَغَلَّتُهُ وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ بِبَلَدِنَا وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ عَبْدًا فَبَنَى لَهُ دَارًا قِيمَةُ بِنَائِهَا ثَمَنُ الْعَبْدِ أَضْعَافًا ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ رَدَّهُ وَلَا يُحْسَبُ لِلْعَبْدِ عَلَيْهِ إِجَارَةٌ فِيمَا عَمِلَ لَهُ فَكَذَلِكَ تَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ إِذَا آجَرَهُ مِنْ غَيْرِهِ لِأَنَّهُ ضَامِنٌ لَهُ وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ ابْتَاعَ رَقِيقًا فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَوَجَدَ فِي ذَلِكَ الرَّقِيقِ عَبْدًا مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِعَبْدٍ مِنْهُمْ عَيْبًا إِنَّهُ يُنْظَرُ فِيمَا وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَإِنْ كَانَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ أَوْ أَكْثَرَهُ ثَمَنًا أَوْ مِنْ أَجْلِهِ اشْتَرَى وَهُوَ الَّذِي فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا كُلُّهُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فِي الشَّيْءِ الْيَسِيرِ مِنْهُ لَيْسَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ وَلَا مِنْ أَجْلِهِ اشْتُرِيَ وَلَا فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ رُدَّ ذَلِكَ الَّذِي وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ أَوْ وُجِدَ مَسْرُوقًا بِعَيْنِهِ بِقَدْرِ قِيمَتِهِ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَى بِهِ أُولَئِكَ الرَّقِيقَ

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک غلام بیچا آٹھ سو درہم کو اور مشتری (خریدنے والا) سے شرط کرلی کہ عیب کی جواب دہی سے میں بری ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) نے کہا غلام کو ایک بیماری ہے تم نے مجھ سے اس کا بیان نہیں کیا تھا پھر دونوں میں جھگڑا ہوا اور گئے عثمان بن عفان کے پاس مشتری (خریدنے والا) بولا کہ انہوں نے ایک غلام میرے ہاتھ بیچا اور اس کو ایک بیماری تھی انہوں نے بیان نہیں کیا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے شرط کرلی تھی عیب کی جواب دہی میں نہ کروں گا حضرت عثمان نے حکم کیا کہ عبداللہ بن عمر حلف کریں میں نے یہ غلام بیچا اور میرے علم میں اس کو کوئی بیماری نہ تھی عبداللہ نے قسم کھالے سے انکار کیا تو وہ غلام پھر آیا عبداللہ پاس اور اس بیماری سے اچھا ہوگیا پھر عبداللہ نے اس کو ایک ہزار پانچ سو درہم کا بیچا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ مسئلہ اتفاقی ہے کہ جو شخص خریدے ایک لونڈی کو پھر وہ حاملہ ہوجائے خریدار سے یا غلام خرید لے پھر اس کو آزاد کر دے یا کوئی اور امر ایسا کرے جس کے سبب سے اس غلام یا لونڈی کا پھیرنا نہ ہو سکے بعد اس کے گواہ گواہی دیں کہ اس غلام یا لونڈی میں بائع (بچنے والا) کے پاس سے کوئی عیب تھا یا بائع (بچنے والا) خود اقرار کرلے کہ میرے پاس یہ عیب تھا یا اور کسی صورت سے معلوم ہوجائے کہ عیب بائع (بچنے والا) کے پاس ہی تھا تو اس غلام اور لونڈی کی خرید کے روز کے عیب سمیت قیمت لگا کر بےعیب کی بھی قیمت لگا دیں دونوں قیمتوں میں جس قدر فرق ہو اس قدرت مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک غلام خریدا پھر اس میں ایسا عیب پایا جس کی وجہ سے وہ غلام بائع (بچنے والا) کو بھیر سکتا ہے مگر مشتری (خریدنے والا) کے پاس جب وہ غلام آیا اس میں دوسرا عیب ہوگیا مثلا اس کا کوئی عضو کٹ گیا یا کانا ہوگیا تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے چاہے اس غلام کو رکھ لے اور بائع (بچنے والا) سے عیب کا نقصان لے لے چاہے غلام کو واپس کر دے اور عیب کا تاوان دے اگر وہ غلام مشتری (خریدنے والا) کے پاس مرگیا تو عیب سمیت قیمت لگا دیں گے خرید کے روز کی مثلا جس دن خریدا تھا اس روز عیب سمیت اس غلام کی قیمت اسی دینار تھی اور بےعیب سو دینار تو مشتری (خریدنے والا) بیس دینار بائع (بچنے والا) سے مجرا لے گا مگر قیمت اس کی لفائی جائے گی جس دن خریدا تھا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر ایک شخص نے لونڈی خریدی پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کردیا مگر اس سے جماع کرچکا تھا تو اگر وہ لونڈی باکرہ تھی تو جس قدر اس کی قیمت میں نقصان ہوگیا مشتری (خریدنے والا) کو دینا ہوگا اور اگر ثییبہ تھی تو مشتری (خریدنے والا) کو کچھ دینا نہ ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص غلام یا لونڈی یا اور کوئی جانور بیچے یہ شرط لگا کر کہ اگر کوئی عیب نکلے گا تو میں بری ہوں یا بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہوجائے گا مگر جب جان بوجھ کر کوئی عیب اس میں ہو اور وہ اس کو چھپائے اگر ایسا کرے گا تو یہ شرط مفید نہ ہوگی اور وہ چیز بائع (بچنے والا) کو واپس کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر ایک لونڈی کو دو لونڈیوں کے بدلے میں بیچا پھر ان دو لونڈیوں میں سے ایک لونڈی میں کچھ عیب نکل جس کی وجہ سے وہ پھر سکتی ہے تو پہلے اس لونڈی کی قیمت لگائی جائے گی جس کے بدلے میں یہ دونوں لونڈیاں آئی ہیں پھر ان دونوں لونڈیوں کی بےعیب سمجھ کر قیمت لگا دیں گے پھر اس لونڈی کے زر ثمن کو ان دونوں لونڈیوں کی قیمت پر تقسیم کریں گے ہر ایک کا حصہ جدا ہوگا بےعیب لونڈی کا اس کے موافق اور عیب دار کا اس کے موافق پھر عیب دار لونڈی اس حصہ ثمن کے بدلے میں واپس کی جائے گی قلیل ہو یا کثیر مگر قیمت دو لونڈیوں کی اسی روز کی نگائی جائے گی جس دن وہ لونڈیاں مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہیں۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس سے مزدوری کرائی اور مزدوری کے دام حاصل کئے قلیل ہوں یا کثیر بعد اس کے اس غلام میں عیب نکلا جس کی وجہ سے وہ غلام پھیر سکتا ہے تو وہ اس غلام کو پھیر دے اور مزدوری کے پیسے رکھ لے اس کا واپس کرنا ضروری نہیں ہمارے نزدیک جماعت علماء کا یہی مذہب ہے اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس کے ہاتھ سے ایک گھر بنوایا جس کی بنوائی اس کی قیمت سے دوچند سہ چند ہے پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کردیا تو غلام واپس ہوجائے گا اور بائع (بچنے والا) کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ مشتری (خریدنے والا) سے گھر بنوانے کی مزدوری لے اسی طرح سے غلام کی کمائی بھی مشتری (خریدنے والا) کی رہے گی۔ کہا ملک نے اگر ایک شخص نے کئی غلام ایک ہی دفعہ (یعنی ایک ہی عقد میں) خریدے اب ان میں سے ایک غلام چوری کا نکلا یا اس میں کچھ عیب نکلا تو اگر وہی غلام سب غلاموں میں عمدہ اور ممتاز ہوگا اور اسی کی وجہ سے باقی غلام خریدے گئے ہوں تو ساری بیع فسخ ہوجائے گی اور سب غلام پھر واپس دیئے جائیں گے۔ اگر ایسا نہ ہو تو صرف اس غلام کو پھیر دے گا اور زر ثمن میں سے بقدر اس کی قیمت کے حصہ لگا کر بائع (بچنے والا) سے واپس لے گا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar sold one of his slaves for eight hundred dirhams with the stipulation that he was not responsible for defects. The person who bought the slave complained to Abdullah ibn Umar that the slave had a disease which he had not told him about. They argued and went to Uthman ibn Affan for a decision . The man said, "He sold me a slave with a disease which he did not tell me about." Abdullah said, "I sold to him with the stipulation that I was not responsible." Uthman ibn Affan decided that Abdullah ibn Umar should take an oath that he had sold the slave without knowing that he had any disease. Abdullah ibn Umar refused to take the oath, so the slave was returned to him and recovered his health in his possession. Abdullah sold him afterwards for 150O dirhams.

1196Mauwatta Imam Malik

لونڈی کو شرط لگا کر بیچنے کا بیان

عَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعَودٍ ابْتَاعَ جَارِيَةً مِنْ امْرَأَتِهِ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّکَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ فَسَأَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَا تَقْرَبْهَا وَفِيهَا شَرْطٌ لِأَحَدٍ

عبداللہ بن مسعود نے ایک لونڈی خریدی اپنی بی بی زینب ثقفیہ سے ان کی بی بی نے اس شرط سے بیچی کہ جب تم اس لونڈی کو بیچنا عبداللہ بن مسعود اس امر کو حضرت عمر سے بیان کیا انہوں نے کہا تو اس لونڈی سے صحبت مت کر جس میں کسی کی شرط لگی ہو۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud told him that Abdullah ibn Masud bought a slave-girl from his wife, Zaynab Ath Thaqafiyya. She made a condition to him, that if he bought her, she could always buy her back for the price that he paid. Abdullah ibn Masud asked Umar ibn al-Khattab about that and Umar ibn al-Khattab said, "Do not go near her while anyone has a condition concerning her over you."

1197Mauwatta Imam Malik

لونڈی کو شرط لگا کر بیچنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَائَ بَاعَهَا وَإِنْ شَائَ وَهَبَهَا وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَهَا وَإِنْ شَائَ صَنَعَ بِهَا مَا شَائَ قَالَ مَالِک فِيمَنْ اشْتَرَی جَارِيَةً عَلَی شَرْطِ أَنْ لَا يَبِيعَهَا وَلَا يَهَبَهَا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِکَ مِنْ الشُّرُوطِ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَطَأَهَا وَذَلِکَ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا وَلَا أَنْ يَهَبَهَا فَإِنْ کَانَ لَا يَمْلِکُ ذَلِکَ مِنْهَا فَلَمْ يَمْلِکْهَا مِلْکًا تَامًّا لِأَنَّهُ قَدْ اسْتُثْنِيَ عَلَيْهِ فِيهَا مَا مَلَکَهُ بِيَدِ غَيْرِهِ فَإِذَا دَخَلَ هَذَا الشَّرْطُ لَمْ يَصْلُحْ وَکَانَ بَيْعًا مَکْرُوهًا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے آدمی کو اس لونڈی سے وطی کرنا درست ہے جس پر سب طرح کا اختیار ہو اگر چاہے اس کو بیچ ڈالے چاہے ہبہ کر دے چاہے رکھ چھوڑے جو چاہے سو کرسکے۔ کہا مالک نے جو شخص کسی لونڈی کو اس شرط پر خریدے کہ اس کو بیچوں گا نہیں یا ہبہ نہ کروں گا یا اس کی مثل اور کوئی شرط لگا دی تو اس لونڈی سے وطی کرنا درست نہیں کیونکہ جب اس کو اس لونڈی کے بیچنے یا ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اس کی ملک پوری نہیں ہوئی اور جو لوازم تھے اس کی ملک کے وہ غیر کے اختیار میں رہے اور اس طرح کی بیع مکروہ ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would say, "A man should not have intercourse with a slave girl except one whom, if he wished, he could sell, if he wished, he could give away, if he wished, he could keep, if he wished, he could do with her what he wanted ."

1198Mauwatta Imam Malik

خاوند والی لونڈی سے وطی کرنا منع ہے۔

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ أَهْدَی لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ جَارِيَةً وَلَهَا زَوْجٌ ابْتَاعَهَا بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ لَا أَقْرَبُهَا حَتَّی يُفَارِقَهَا زَوْجُهَا فَأَرْضَی ابْنُ عَامِرٍ زَوْجَهَا فَفَارَقَهَا

ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عثمان بن عفان کو ایک لونڈی ہدیہ دی مگر اس کا ایک خاوند تھا اور عبداللہ نے اس لونڈی کو بصرے میں خریدا تھا تو عثمان نے کہا میں اس لونڈی سے وطی نہ کروں گا جب تک اس کا خاوند اس کو چھوڑ نہ دے عبداللہ نے اس خاوند کو راضی کردیا تو اس نے چھوڑ دیا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abdullah ibn Amir gave Uthman ibn Affan a slave-girl who had a husband whom he had purchased at Basra. Uthman said, "I will not go near her until her husband separates from her." Ibn Amir compensated the husband and he separated from her.

1199Mauwatta Imam Malik

خاوند والی لونڈی سے وطی کرنا منع ہے۔

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَوَجَدَهَا ذَاتَ زَوْجٍ فَرَدَّهَا

ابی سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ایک لونڈی خریدی بعد اس کے معلوم ہوا وہ خاوند رکھتی ہے تو اس کو واپس کردیا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that Abd ar-Rahman ibn Awf bought a slave-girl and found that she had a husband, so he returned her.

1200Mauwatta Imam Malik

جب درخت بیچا جائے تو اس کے پھل اس میں شامل نہ ہوں گے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھجور کا درخت تابیر کیا ہو بیچ تو اس کے پھل بائع (بچنے والا) کے ہوں گے مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) شرط کرلے کہ بھل میرے ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If palm trees are sold after they have been pollinated, the fruit belongs to the seller unless the buyer makes a stipulation about its inclusion."

1201Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَی الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ

ابن عمر سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ ان کی پختگی اور بہتری کا یقین ہوجائے منع کیا بائع (بچنے والا) کو اور مشتری (خریدنے والا) کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it had started to ripen. He forbade the transaction to both buyer and seller.

1202Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تُزْهِيَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِيَ فَقَالَ حِينَ تَحْمَرُّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِيهِ

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ خوش رنگ ہوجائیں لوگوں نے کہا اس سے کیا مراد ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا سرخ یا زرد ہوجائیں اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا اگر اللہ ان پھلوں کو پکنے نہ دے تو کس چیز کے بدلے میں تم میں سے کوئی اپنی بھائی کا مال لے گا۔

Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it had become mellow. He was asked, "Messenger ofAllah! What do you mean by become mellow?" He said, "When it becomes rosy." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, added, "Allah may prevent the fruit from maturing, so how can you take payment from your brother for it."

1203Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تَنْجُوَ مِنْ الْعَاهَةِ

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ آفت کا خوف جاتا رہے۔

Yahya related to me from Malik from Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha from his mother, Amra bint Abd ar-Rahman that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it was clear of blight. Malik said, "Selling fruit before it has begun to ripen is an uncertain transaction (gharar) ."

1204Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ کَانَ لَا يَبِيعُ ثِمَارَهُ حَتَّی تَطْلُعَ الثُّرَيَّا قَالَ مَالِک وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الْبِطِّيخِ وَالْقِثَّائِ وَالْخِرْبِزِ وَالْجَزَرِ إِنَّ بَيْعَهُ إِذَا بَدَا صَلَاحُهُ حَلَالٌ جَائِزٌ ثُمَّ يَکُونُ لِلْمُشْتَرِي مَا يَنْبُتُ حَتَّی يَنْقَطِعَ ثَمَرُهُ وَيَهْلِکَ وَلَيْسَ فِي ذَلِکَ وَقْتٌ يُؤَقَّتُ وَذَلِکَ أَنَّ وَقْتَهُ مَعْرُوفٌ عِنْدَ النَّاسِ وَرُبَّمَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ فَقَطَعَتْ ثَمَرَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ ذَلِکَ الْوَقْتُ فَإِذَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ بِجَائِحَةٍ تَبْلُغُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا کَانَ ذَلِکَ مَوْضُوعًا عَنْ الَّذِي ابْتَاعَهُ

زید بن ثابت اپنے پھلوں کو اس وقت بیچتے جب ثریا کے تارے نکل آتے۔ کہا مالک نے خربوزہ اور ککڑی اور گا جر کا بیچنا درست ہے جب ان کو بہتری کا حال معلوم ہوجائے پھر جو کچھ اگیں وہ فصل کے تمام ہونے تک مشتری (خریدنے والا) کے ہوں گے اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہر جگہ کے دستور اور رواج کے موافق حکم ہوگا اگر قبل اس وقت کے کسی آفت کے سبب نقصان ہو تہائی مال تک تو مشتری (خریدنے والا) کو وہ نقصان مجرادیا جائے گا تہائی سے کم اگر نقصان ہو تو مجرانہ دیا جائے گا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Kharija ibn Zayd ibn Thabit that Zayd ibn Thabit did not sell fruit until the Pleiades were visible, at the end of May.

1205Mauwatta Imam Malik

عریہ کے بیان میں

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا

زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی عریہ والے اپنا میوہ بیچنے کی اٹکل سے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar from Zayd ibn Thabit that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, allowed the holder of an ariya to barter the dates on the palm for the amount of dried dates it was estimated that the palms would produce.

1206Mauwatta Imam Malik

عریہ کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ يَشُکُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا تُبَاعُ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنْ التَّمْرِ يُتَحَرَّی ذَلِکَ وَيُخْرَصُ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِيهِ لِأَنَّهُ أُنْزِلَ بِمَنْزِلَةِ التَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ وَالشِّرْکِ وَلَوْ کَانَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنْ الْبُيُوعِ مَا أَشْرَکَ أَحَدٌ أَحَدًا فِي طَعَامِهِ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا أَقَالَهُ مِنْهُ وَلَا وَلَّاهُ أَحَدًا حَتَّی يَقْبِضَهُ الْمُبْتَاعُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں۔ کہا مالک نے عریہ کا اندازہ درختوں پر کرلیا جائے گا اور آنحضرت ﷺ نے اس کو جائز رکھا یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے یہ بھی درست نہ ہوتا۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from Abu Sufyan (RA) , the mawla of Ibn Abi Ahmad, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, allowed the produce of an ariya to be bartered for an estimation of what the produce would be when the crop was less than five awsuq or equal to five awsuq. Daud wasnt sure whether he said five awsuq or less than five.

1207Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور کھیتوں کی بیع میں آفت کا بیان

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّی تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّی أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَی بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنْ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا وَلَا يَکُونُ مَا دُونَ ذَلِکَ جَائِحَةً

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا تو باغ کے مالک سے کہا یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کردو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریداری کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ ﷺ سے آن کر یہ سب قصہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا قسم کھالی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا جب مالک باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری (خریدنے والا) کو نقصان دلانے کا جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ نقصان ہوا ہو اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں۔

Yahya related to me from Malik that Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman heard his mother, Amra bint Abd ar-Rahman say, "A man bought the fruit of an enclosed orchard in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he tended it while staying on the land. It became clear to him that there was going to be some loss. He asked the owner of the orchard to reduce the price for him or to revoke the sale, but the owner made an oath not to do so. The mother of the buyer went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him about it. The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, By this oath, he has sworn not to do good. The owner of the orchard heard about it and went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, the choice is his. "

1208Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْهُ

قاسم بن محمد اپنے باغ کے میووں کو بیچتے پھر اس میں سے کچھ مستثنی کرلیتے۔

Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abd ar-Rahman that al-Qasim ibn Muhammad would sell produce from his orchard and keep some of it aside.

1209Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ جَدَّهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ بَاعَ ثَمَرَ حَائِطٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الْأَفْرَقُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَاسْتَثْنَی مِنْهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ تَمْرًا

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ان کے دادا محمد بن عمرہ بن حزم نے اپنے باغ کا میوہ بیچا چار ہزار درہم کو اس میں سے آٹھ سو درہم کے کھجور مستثنی کر لئے اس باغ کا نام افرق تھا۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that his grandfather, Muhammad ibn Amr ibn Hazm sold the fruit of an orchard of his called al-Afraq, for 4,00O dirhams, and he kept aside 80O dirhams worth of dry dates.

1210Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَتْ تَبِيعُ ثِمَارَهَا وَتَسْتَثْنِي مِنْهَا قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا بَاعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ثُلُثِ الثَّمَرِ لَا يُجَاوِزُ ذَلِکَ وَمَا کَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ مَالِک فَأَمَّا الرَّجُلُ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ ثَمَرَ نَخْلَةٍ أَوْ نَخَلَاتٍ يَخْتَارُهَا وَيُسَمِّي عَدَدَهَا فَلَا أَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا لِأَنَّ رَبَّ الْحَائِطِ إِنَّمَا اسْتَثْنَی شَيْئًا مِنْ ثَمَرِ حَائِطِ نَفْسِهِ وَإِنَّمَا ذَلِکَ شَيْئٌ احْتَبَسَهُ مِنْ حَائِطِهِ وَأَمْسَکَهُ لَمْ يَبِعْهُ وَبَاعَ مِنْ حَائِطِهِ مَا سِوَی ذَلِکَ

عمرہ بنت عبدالرحمن اپنے پھلوں کو بیچتیں اور اس میں سے کچھ نکال لیتیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو آدمی اپنے باغ کا میوہ بچے اس کو اختیار ہے کہ تہائی مال تک مستثنیٰ کرے اس سے زیادہ درست نہیں اور جو سارے باغ میں سے ایک درخت یا درخت کے پھل مستثنی کرلے اور اس کو معین کر دے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے کیونکہ گویا مالک نے سوائے ان درختوں کے باقی کو بیچا اور ان کو نہ بیچا اس امر کا مالک کو اختیار ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abur-Rijal, Muhammad ibn Abdar-Rahman ibn Haritha that his mother, Amra bint Abd ar-Rahman used to sell her fruit and keep some of it aside.

1211Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَامِلَکَ عَلَی خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوهُ لِي فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو عامل خبری پر ایک صاع کھجور لے کردو صاع دیتا ہے کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی آپ ﷺ نے فرمایا پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کرلے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Ata ibn Yasar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Dried dates for dried dates is like for like. It was said to him, Your agent in Khaybar takes one sa for two. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, all him to me. So he was called for. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked, Do you take one sa for two? He replied, Messengerof Allah! Why should they sell me good dates for assorted low quality dates, sa for sa! The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Sell the assorted ones for dirhams, and then buy the good ones with those dirhams. "