کتاب بیع کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 34 · 88 hadiths · Page 2 of 5

1212Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

ابو سعید اور ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا خیبر پر وہ عمدہ کھجور لے کر آیا آپ ﷺ نے پوچھا سب کھجوریں خبیر کی ایسی ہی ہوتی ہیں وہ بولا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ہم اس کھجور میں سے ایک صاع دو صاع کے بدلے میں یا دو صاع تین صاع کے بدلے میں خرید کیا کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرے پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور روپے دے کر خرید لے۔

Yahya related to me from Malik from Abdul Hamid ibn Suhayl ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Said ibn al-Musayyab from Abu Said al-Khudri and from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, appointed a man as an agent in Khaybar, and he brought him some excellent dates. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Are all the dates of Khaybar like this?" He said,"No. By Allah, Messenger of Allah! ﷺ We take a sa of this kind for two sa or two sa for three." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not do that. Sell the assorted ones for dirhams and then buy the good ones with the dirhams."

1213Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الْبَيْضَائِ بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَائُ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَائِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ فَقَالُوا نَعَمْ فَنَهَی عَنْ ذَلِکَ

زید بن ابوعیاش سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سعد بن ابی وقاص سے کہ جو کے غور اور حجاز میں پیدا ہوتا ہے کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں انہوں نے کہا دونوں میں کونسا اچھا ہے بولے جو تو منع کیا اس سے اور سعد نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ خشک کھجور کو رطب بدلے میں بیچنا کیسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا رطب جب سوکھ جاتا ہے تو وزن اس کا کم ہوجاتا ہے لوگوں نے کہا ہاں آپ ﷺ نے منع فرمایا۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid that Zayd ibn Ayyash told him that he had once asked Sad ibn Abi Waqqas about selling white wheat for a type of good barley. Sad asked him which was the better and when he told him the white wheat, he forbade the transaction. Sad said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, being asked about selling dried dates for fresh dates, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Do the dates diminish in size when they become dry? When he was told that they did, he forbade that."

1214Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اس کو کہتے ہیں کہ درخت پر پھل کھجور یا انگور اندزہ کر کے خشک کھجور یا انگور کے بدلے میں فروخت کی جائیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana. Muzabana was selling fresh dates for dried dates by measure, and selling grapes for raisins by measure.

1215Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ کِرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اور محاقلہ سے مزابنہ کے معنی اوپر بیان ہوئے اور محاقلہ اس کو کہتے ہیں کہ گہیوں کا کھیت بدلے میں خشک گہیوں کے بیچے۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from Abu Sufyan (RA) , the mawla of Ibn Abi Ahmad, from Abu Said al-Khudri that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana and muhaqala. Muzabana was selling fresh dates for dried dates while they were still on the trees. Muhaqala was renting land in exchange for wheat.

1216Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَائُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِکْرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ اسْتِکْرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِک قَالَ مَالِك نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَتَفْسِيرُ الْمُزَابَنَةِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ الْجِزَافِ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ ابْتِيعَ بِشَيْءٍ مُسَمًّى مِنْ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الطَّعَامُ الْمُصَبَّرُ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ التَّمْرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأَطْعِمَةِ أَوْ يَكُونُ لِلرَّجُلِ السِّلْعَةُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ النَّوَى أَوْ الْقَضْبِ أَوْ الْعُصْفُرِ أَوْ الْكُرْسُفِ أَوْ الْكَتَّانِ أَوْ الْقَزِّ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ السِّلَعِ لَا يُعْلَمُ كَيْلُ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِرَبِّ تِلْكَ السِّلْعَةِ كِلْ سِلْعَتَكَ هَذِهِ أَوْ مُرْ مَنْ يَكِيلُهَا أَوْ زِنْ مِنْ ذَلِكَ مَا يُوزَنُ أَوْ عُدَّ مِنْ ذَلِكَ مَا كَانَ يُعَدُّ فَمَا نَقَصَ عَنْ كَيْلِ كَذَا وَكَذَا صَاعًا لِتَسْمِيَةٍ يُسَمِّيهَا أَوْ وَزْنِ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا أَوْ عَدَدِ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ لَكَ حَتَّى أُوفِيَكَ تِلْكَ التَّسْمِيَةَ فَمَا زَادَ عَلَى تِلْكَ التَّسْمِيَةِ فَهُوَ لِي أَضْمَنُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَكُونَ لِي مَا زَادَ فَلَيْسَ ذَلِكَ بَيْعًا وَلَكِنَّهُ الْمُخَاطَرَةُ وَالْغَرَرُ وَالْقِمَارُ يَدْخُلُ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا بِشَيْءٍ أَخْرَجَهُ وَلَكِنَّهُ ضَمِنَ لَهُ مَا سُمِّيَ مِنْ ذَلِكَ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ عَلَى أَنْ يَكُونَ لَهُ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنْ نَقَصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَنْ تِلْكَ التَّسْمِيَةِ أَخَذَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ مَا نَقَصَ بِغَيْرِ ثَمَنٍ وَلَا هِبَةٍ طَيِّبَةٍ بِهَا نَفْسُهُ فَهَذَا يُشْبِهُ الْقِمَارَ وَمَا كَانَ مِثْلُ هَذَا مِنْ الْأَشْيَاءِ فَذَلِكَ يَدْخُلُهُ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الثَّوْبُ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثَوْبِكَ هَذَا كَذَا وَكَذَا ظِهَارَةَ قَلَنْسُوَةٍ قَدْرُ كُلِّ ظِهَارَةٍ كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ حَتَّى أُوفِيَكَ وَمَا زَادَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثِيَابِكَ هَذِي كَذَا وَكَذَا قَمِيصًا ذَرْعُ كُلِّ قَمِيصٍ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْجُلُودُ مِنْ جُلُودِ الْبَقَرِ أَوْ الْإِبِلِ أُقَطِّعُ جُلُودَكَ هَذِهِ نِعَالًا عَلَى إِمَامٍ يُرِيهِ إِيَّاهُ فَمَا نَقَصَ مِنْ مِائَةِ زَوْجٍ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي بِمَا ضَمِنْتُ لَكَ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ عِنْدَهُ حَبُّ الْبَانِ اعْصُرْ حَبَّكَ هَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا فَعَلَيَّ أَنْ أُعْطِيَكَهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي فَهَذَا كُلُّهُ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ الْأَشْيَاءِ أَوْ ضَارَعَهُ مِنْ الْمُزَابَنَةِ الَّتِي لَا تَصْلُحُ وَلَا تَجُوزُ وَكَذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْخَبَطُ أَوْ النَّوَى أَوْ الْكُرْسُفُ أَوْ الْكَتَّانُ أَوْ الْقَضْبُ أَوْ الْعُصْفُرُ أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْخَبَطَ بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ خَبَطٍ يُخْبَطُ مِثْلَ خَبَطِهِ أَوْ هَذَا النَّوَى بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ نَوًى مِثْلِهِ وَفِي الْعُصْفُرِ وَالْكُرْسُفِ وَالْكَتَّانِ وَالْقَضْبِ مِثْلَ ذَلِكَ فَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ الْمُزَابَنَةِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا مزابنہ اور محاقلہ سے دونوں کے معنی اوپر گزرے۔ ابن شہاب نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ زمین کو کرایہ پر دینا سونے اور چاندی کے عوض میں درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو چیز ڈھیر لگا کر بیچی جائے اور اس کا وزن اور کیل معلوم نہ ہو تولی اور ناپی ہوئی چیز کے بدلے میں وہ مزابنہ میں داخل ہے (بشرطیکہ ایک جنس ہو) اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ یہ جو تیرا ڈھیر پڑا ہے گیہوں یا کھجور یا چارہ یا گٹھلیوں یا گھاس یا کسم یا روئی یا ریشم کا اس کو ناپ تول یا شمار اگر قدر سے نکلے تو میں تجھ کو مجرا دوں گا اور جو زیادہ نکلے تو میں لے لوں گا اس قسم کی بیع درست نہیں ہے بلکہ یہ جوئے کے مشابہ ہے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ یہ کپڑا اتنی ٹوپیوں کو کافی ہے اگر پڑے تو میں دوں گا اور جو بڑھے میں لے لوں گا یا اس کپڑے میں اتنے کرتے بنیں گے اگر کم پڑے میں دے دوں گا اور جو زیادہ ہو لے لوں گا یا اس قدر کھا لوں میں اتنی جوتیاں بنیں گی اگر کم پڑے میں دوں گا زیادہ ہو تو لے لوں گا یا اس قدر دانوں میں اتنا تیل نکلے گا اگر کم نکلے تو میں دوں گا زیادہ نکلے تو میرا ہے یہ سب مزابنہ میں داخل ہے جائز نہیں یا یوں کہے کہ تیرے اس ڈھیر کے بدلے میں پتوں یا گٹھلیوں یا روئی یا تر کاری یا کسم کے اس قدر پتے گٹھلیاں یا روئی یا ترکاری یا کسم تول ناپ کردیتا ہوں ہر ایک کو اس کی جنس کے ساتھ بیچے تو بھی نادرست ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana and muhaqala. Muzabana was selling fresh dates for dried dates. Muhaqala was buying unharvested wheat in exchange for threshed wheat and renting land in exchange for wheat.

1217Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور میووں کی بیع کے مختلف مسائل کا بیان

بَاب جَامِعِ بَيْعِ الثَّمَرِ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى ثَمَرًا مِنْ نَخْلٍ مُسَمَّاةٍ أَوْ حَائِطٍ مُسَمًّى أَوْ لَبَنًا مِنْ غَنَمٍ مُسَمَّاةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يُؤْخَذُ عَاجِلًا يَشْرَعُ الْمُشْتَرِي فِي أَخْذِهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الثَّمَنَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ رَاوِيَةِ زَيْتٍ يَبْتَاعُ مِنْهَا رَجُلٌ بِدِينَارٍ أَوْ دِينَارَيْنِ وَيُعْطِيهِ ذَهَبَهُ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ يَكِيلَ لَهُ مِنْهَا فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ انْشَقَّتْ الرَّاوِيَةُ فَذَهَبَ زَيْتُهَا فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ إِلَّا ذَهَبُهُ وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا بَيْعٌ وَأَمَّا كُلُّ شَيْءٍ كَانَ حَاضِرًا يُشْتَرَى عَلَى وَجْهِهِ مِثْلُ اللَّبَنِ إِذَا حُلِبَ وَالرُّطَبِ يُسْتَجْنَى فَيَأْخُذُ الْمُبْتَاعُ يَوْمًا بِيَوْمٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ فَنِيَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ الْمُشْتَرِي مَا اشْتَرَى رَدَّ عَلَيْهِ الْبَائِعُ مِنْ ذَهَبِهِ بِحِسَابِ مَا بَقِيَ لَهُ أَوْ يَأْخُذُ مِنْهُ الْمُشْتَرِي سِلْعَةً بِمَا بَقِيَ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهَا وَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَهَا فَإِنْ فَارَقَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ يَدْخُلُهُ الدَّيْنُ بِالدَّيْنِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ فَإِنْ وَقَعَ فِي بَيْعِهِمَا أَجَلٌ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَا يَحِلُّ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَلَا يَصْلُحُ إِلَّا بِصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَضْمَنُ ذَلِكَ الْبَائِعُ لِلْمُبْتَاعِ وَلَا يُسَمَّى ذَلِكَ فِي حَائِطٍ بِعَيْنِهِ وَلَا فِي غَنَمٍ بِأَعْيَانِهَا و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي مِنْ الرَّجُلِ الْحَائِطَ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنْ النَّخْلِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَالْكَبِيسِ وَالْعَذْقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَلْوَانِ التَّمْرِ فَيَسْتَثْنِي مِنْهَا ثَمَرَ النَّخْلَةِ أَوْ النَّخَلَاتِ يَخْتَارُهَا مِنْ نَخْلِهِ فَقَالَ مَالِك ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ تَرَكَ ثَمَرَ النَّخْلَةِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَأَخَذَ مَكَانَهَا ثَمَرَ نَخْلَةٍ مِنْ الْكَبِيسِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا عَشَرَةُ أَصْوُعٍ أَوْ أَخَذَ الْعَجْوَةَ الَّتِي فِيهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَتَرَكَ الَّتِي فِيهَا عَشْرَةُ أَصْوُعٍ مِنْ الْكَبِيسِ فَكَأَنَّهُ اشْتَرَى الْعَجْوَةَ بِالْكَبِيسِ مُتَفَاضِلًا وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ التَّمْرِ قَدْ صَبَّرَ الْعَجْوَةَ فَجَعَلَهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْكَبِيسِ عَشَرَةَ آصُعٍ وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْعَذْقِ اثْنَيْ عَشَرَ صَاعًا فَأَعْطَى صَاحِبَ التَّمْرِ دِينَارًا عَلَى أَنَّهُ يَخْتَارُ فَيَأْخُذُ أَيَّ تِلْكَ الصُّبَرِ شَاءَ قَالَ مَالِك فَهَذَا لَا يَصْلُحُ و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي الرُّطَبَ مِنْ صَاحِبِ الْحَائِطِ فَيُسْلِفُهُ الدِّينَارَ مَاذَا لَهُ إِذَا ذَهَبَ رُطَبُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَالَ مَالِك يُحَاسِبُ صَاحِبَ الْحَائِطِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ إِنْ كَانَ أَخَذَ بِثُلُثَيْ دِينَارٍ رُطَبًا أَخَذَ ثُلُثَ الدِّينَارِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَذَ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ دِينَارِهِ رُطَبًا أَخَذَ الرُّبُعَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ أَوْ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا فَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ عِنْدَ صَاحِبِ الْحَائِطِ مَا بَدَا لَهُ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً سِوَى التَّمْرِ أَخَذَهَا بِمَا فَضَلَ لَهُ فَإِنْ أَخَذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً أُخْرَى فَلَا يُفَارِقْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا هَذَا بِمَنْزِلَةِ أَنْ يُكْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا أَوْ يُؤَاجِرَ غُلَامَهُ الْخَيَّاطَ أَوْ النَّجَّارَ أَوْ الْعَمَّالَ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْأَعْمَالِ أَوْ يُكْرِيَ مَسْكَنَهُ وَيَسْتَلِفَ إِجَارَةَ ذَلِكَ الْغُلَامِ أَوْ كِرَاءَ ذَلِكَ الْمَسْكَنِ أَوْ تِلْكَ الرَّاحِلَةِ ثُمَّ يَحْدُثُ فِي ذَلِكَ حَدَثٌ بِمَوْتٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَيَرُدُّ رَبُّ الرَّاحِلَةِ أَوْ الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ إِلَى الَّذِي سَلَّفَهُ مَا بَقِيَ مِنْ كِرَاءِ الرَّاحِلَةِ أَوْ إِجَارَةِ الْعَبْدِ أَوْ كِرَاءِ الْمَسْكَنِ يُحَاسِبُ صَاحِبَهُ بِمَا اسْتَوْفَى مِنْ ذَلِكَ إِنْ كَانَ اسْتَوْفَى نِصْفَ حَقِّهِ رَدَّ عَلَيْهِ النِّصْفَ الْبَاقِيَ الَّذِي لَهُ عِنْدَهُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ يَرُدُّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ لَهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ التَّسْلِيفُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا يُسَلَّفُ فِيهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا أَنْ يَقْبِضَ الْمُسَلِّفُ مَا سَلَّفَ فِيهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ أَوْ الْمَسْكَنَ أَوْ يَبْدَأُ فِيمَا اشْتَرَى مِنْ الرُّطَبِ فَيَأْخُذُ مِنْهُ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ تَأْخِيرٌ وَلَا أَجَلٌ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أُسَلِّفُكَ فِي رَاحِلَتِكَ فُلَانَةَ أَرْكَبُهَا فِي الْحَجِّ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَجَلٌ مِنْ الزَّمَانِ أَوْ يَقُولَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ فَإِنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ كَانَ إِنَّمَا يُسَلِّفُهُ ذَهَبًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ وَجَدَ تِلْكَ الرَّاحِلَةَ صَحِيحَةً لِذَلِكَ الْأَجَلِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهِيَ لَهُ بِذَلِكَ الْكِرَاءِ وَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ مِنْ مَوْتٍ أَوْ غَيْرِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ذَهَبَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى وَجْهِ السَّلَفِ عِنْدَهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ الْقَبْضُ مَنْ قَبَضَ مَا اسْتَأْجَرَ أَوْ اسْتَكْرَى فَقَدْ خَرَجَ مِنْ الْغَرَرِ وَالسَّلَفِ الَّذِي يُكْرَهُ وَأَخَذَ أَمْرًا مَعْلُومًا وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ فَيَقْبِضَهُمَا وَيَنْقُدَ أَثْمَانَهُمَا فَإِنْ حَدَثَ بِهِمَا حَدَثٌ مِنْ عُهْدَةِ السَّنَةِ أَخَذَ ذَهَبَهُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ وَبِهَذَا مَضَتْ السُّنَّةُ فِي بَيْعِ الرَّقِيقِ قَالَ مَالِك وَمَنْ اسْتَأْجَرَ عَبْدًا بِعَيْنِهِ أَوْ تَكَارَى رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا إِلَى أَجَلٍ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ فَقَدْ عَمِلَ بِمَا لَا يَصْلُحُ لَا هُوَ قَبَضَ مَا اسْتَكْرَى أَوْ اسْتَأْجَرَ وَلَا هُوَ سَلَّفَ فِي دَيْنٍ يَكُونُ ضَامِنًا عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

کہا مالک نے جو شخص کسی معین درختوں کے پھلوں کو خریدے یا ایک باغ کے میووں کو خریدے یا معین بکریوں کے دودھ کو خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے بشرطیکہ خریدار قیمت ادا کرتے ہی اپنا مال وصول کرنا شروع کر دے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی روپیہ دے کر ایک کپہ میں سے کسی قدر گھی مول لے اس میں کچھ قباحت نہیں ہے اگر کپہ قبل گھی لینے کے پھٹ جائے اور گھی بہہ جائے تو خریدار اپنے روپے پھیر لے گا۔ کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے کہ ایک شخص تین ڈھیر کھجور کے لگائے ایک عجوہ کا جو پندرہ صاع ہے اور ایک بیس کا جو دس صاع ہے اور ایک عذق کا جو بارہ صاع ہے پھر مشتری (خریدنے والا) نے کھجور والے دینار دے یا اس شرط سے کہ ان تینوں ڈھیروں میں سے جو میں چاہوں لے لوں گا تو یہ جائز نہیں۔ کہا مالک نے اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے اونٹ یا غلام کو جو درزی یا بڑھئی یا اور کوئی کام کرتا ہو کرایہ کو دے یا مکان کرایہ پردے اور زر کرایہ پیشگی لے لے بعد اس کے اونٹ یا غلام مرجائے اور گھر گرجائے تو اونٹ والا اسی طرح غلام یا مکان والا حساب کر کے جس قدر اجرت اس کے ذمہ پر باقی رہ گئی ہو واپس کر دے گا فرض کیجئیے کہ اگر مستاجر نے اپنا نصف حق وصول کیا تھا تو نصف اجرت اس کو واپس ملے گی۔ کہا مالک نے ان سب صورتوں میں سلف کرنا یعنی اجرت پیشگی دے دینا جب ہی درست ہے کہ اجرت دیتے ہی غلام یا اونٹ یا گھر پر قبضہ کرلے یا رطب توڑنا شروع کر دے یہ نہیں کہ اس میں دیر کرے یا کوئی میعاد ٹھہرائے۔ کہا مالک نے یہ سلف مکروہ ہے کہ کوئی شخص اونٹ کا کرایہ دے دے اونٹ والے سے یہ کہے کہ حج کے دنوں میں تیرے اونٹ پر سوار ہوں گا اور ابھی حج میں ایک عرصہ باقی ہو یا ایسا ہی غلام اور گھر میں کہے تو یہ صورت گویا اس طرح پر ہوئی کہ اگر وہ اونٹ یا غلام یا گھر اس وقت تک باقی رہے تو اسی کرایہ سے اس سے منفعت اٹھا لے اور اگر وہ اونٹ یا غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو اپنے کرایہ کے پیسے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر وہ شخص کرایہ دیتے ہی اونٹ یا غلام یا گھر پر قبضہ کرلیتا تو کراہت جاتی رہتی اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص غلام یا لونڈی خرید کر اپنے قبضے میں لائے اور قیمت ان کی ادا کرے بعد اس کے کسی عیب کی وجہ سے وہ غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو مشتری (خریدنے والا) اپنا زر ثمن بائع (بچنے والا) سے پھیر لے اور اس میں کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کسی معین غلام یا اونٹ کو کرایہ پر لے اور قبضے کی ایک میعاد مقرر کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ فلاں تاریخ سے میں اونٹ یا غلام کو اپنے قبضے و تصرت میں لوں گا تو یہ جائز نہیں کیونکہ نہ مستاجر نے قبضہ کیا اس اونٹ یا غلام پر نہ موجر نے ایسے دین میں سلف کی جس کا دینا مستاجر پر واجب ہے۔

Malik said, "There is no harm in buying dates from specified trees or a specified orchard or buying milk from specified sheep when the buyer starts to take them as soon as he has payed the price. That is like buying oil from a container. A man buys some of it for a dinar or two and gives his gold and stipulates that it be measured out for him. There is no harm in that. If the container breaks and the oil is wasted, the buyer has his gold back and there is no transaction between them."

1218Mauwatta Imam Malik

میووں کی بیع کا بیان

بَاب بَيْعِ الْفَاكِهَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِنْ الْفَاكِهَةِ مِنْ رَطْبِهَا أَوْ يَابِسِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهَا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا يَيْبَسُ فَيَصِيرُ فَاكِهَةً يَابِسَةً تُدَّخَرُ وَتُؤْكَلُ فَلَا يُبَاعُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمِثْلًا بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُبَاعَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَصْلُحُ إِلَى أَجَلٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا لَا يَيْبَسُ وَلَا يُدَّخَرُ وَإِنَّمَا يُؤْكَلُ رَطْبًا كَهَيْئَةِ الْبِطِّيخِ وَالْقِثَّاءِ وَالْخِرْبِزِ وَالْجَزَرِ وَالْأُتْرُجِّ وَالْمَوْزِ وَالرُّمَّانِ وَمَا كَانَ مِثْلَهُ وَإِنْ يَبِسَ لَمْ يَكُنْ فَاكِهَةً بَعْدَ ذَلِكَ وَلَيْسَ هُوَ مِمَّا يُدَّخَرُ وَيَكُونُ فَاكِهَةً قَالَ فَأَرَاهُ حَقِيقًا أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْأَجَلِ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص کوئی میوہ تر یا خشک خریدے اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے اور میوے کو میوے سے بدلیں اگر بیچے تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور جو میوہ لیا ایسا ہے کہ سوکھا کر کھایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے اس کو اگر میوے کے بدلے میں بیچے اور ایک جنس ہو تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور برابر بیچے کمی بیشی اس میں درست نہیں البتہ اگر جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد بیچنا چاہیے اس میں میعاد لگانا درست نہیں اور جو میوہ سوکھایا نہیں جاتا بلکہ تر کھایا جاتا ہے۔ جیسے خربوزہ ککڑی، ترنج، کیلا، گا جر، انار وغیرہ اس کو ایک دوسرے کے بدلے میں اگرچہ جنس ایک ہو کمی بیشی کے ساتھ بھی درست ہے جب اس میں میعاد نہ ہو نقدا نقد ہو۔

Malik said, "The generally agreed on way of doing things among us is that some one who buys some fruit, fresh or dry, should not resell it until he gets full possession of it. He should not barter things of the same type, except hand to hand. Whatever can be made into dry fruit to be stored and eaten, should not be bartered for its own kind, except hand to hand, like for like, when it is the same kind of fruit. In the case of two different kinds of fruit, there is no harm in bartering two of one kind for one of another, hand to hand on the spot. It is not good to set delayed terms. As for produce which is not dried and stored but is eaten fresh like water melon, cucumber, melon, carrots, citron, medlars, pomegranates, and soon, which when dried no longer counts as fruit, and is not a thing which is stored up as is fruit, I think that it is quite proper to barter such things two for one of the same variety hand to hand. If no term enters into it, there is no harm in it."

1219Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدَيْنِ أَنْ يَبِيعَا آنِيَةً مِنْ الْمَغَانِمِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَبَاعَا کُلَّ ثَلَاثَةٍ بِأَرْبَعَةٍ عَيْنًا أَوْ کُلَّ أَرْبَعَةٍ بِثَلَاثَةٍ عَيْنًا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے دونوں سعد کو کہ جتنے برتن سونے اور چاندی کے مال غنیمت میں آئے ہیں

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "The Messenger of Allah, mayAllah bless him and grant him peace, ordered the two Sads to sell a vessel made of either gold or silver from the booty. They either sold each three units of weight for four units of weight of coins or each four units of weight for three units of weight or coins. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to them, You have taken usury, so return it. "

1220Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دینار کو ایک دینار کے بدلے میں بیچو اور ایک درہم کو ایک درہم کے بدلے میں نہ زیادہ کے بدلے میں۔

Yahya related to me from Malik from Musa ibn Abi Tamim from Abul Hubab Said ibn Yasar from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A dinar for a dinar, a dirham for a dirham, no excess between the two."

1221Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مت بیچو سونے کے بدلے میں سونا مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر اور مت بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر نہ بیچو کچھ اس میں سے نقد وعدہ پر۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abu Said al-Khudri that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not sell gold for gold except like for like and do not increase one part over another part. Do not sell silver for silver, except like for like and do not increase one part over another part. Do not sell some of it which is not there for some of it which is."

1222Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَائَهُ صَائِغٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْئَ مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِکَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَی دَابَّةٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْکَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْکُمْ عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ

مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک سنار آیا اور بولا اے ابوعبدالرحمن میں سونے کا زیور بناتا ہوں پھر اس کے وزن سے زیادہ دینار لے کر اس کو بیچتا ہوں اور یہ زیادتی اپنی محنت کے عوض میں لیتا ہوں عبداللہ بن عمر منع کرتے رہے یہاں تک کہ عبداللہ بن عمر مسجد کے دروازے پر آئے یا اپنے جانور پر سوار ہونے کو آئے اس وقت عبداللہ بن عمر نے کہا دینار کو بدلے میں دینار کے اور درہم کو بدلے میں درہم کے بیچ اور زیادتی نہ لے یہی وصیت ہے۔ حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مت بیچو ایک دینار کو دو دینار کے بدلے میں نہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں۔

Yahya related to me from Malik from Humayd ibn Qays al-Makki that Mujahid said, "I was with Abdullah ibn Umar and an artisan came to him and said, Abu Abd ar-Rahman - I fashion gold and then sell what I have made for more than its weight. I take an amount equivalent to the work of my hand. Abdullah forbade him to do that, so the artisan repeated the question to him, and Abdullah continued to forbid him until he came to the door of the mosque or to an animal that he intended to mount. Then Abdullah ibn Umar said, A dinar for a dinar, and a dirham for a dirham. There is no increase between them. This is the command of ourProphet ﷺ to us and our advice to you. "

1223Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا أَرَی بِمِثْلِ هَذَا بَأْسًا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ أَنَا أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لَا أُسَاکِنُکَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی مُعَاوِيَةَ أَنْ لَا تَبِيعَ ذَلِکَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے ایک برتن پانی پینے کا سونے یا چاندی کا اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے بدلے میں بیچا تو ابوالدردا نے ان سے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ اس سے منع کرتے تھے مگر برابر برابر بیچنا درست رکھتے تھے معاویہ نے کہا میرے نزدیک کچھ قباحت نہیں ہے ابوالدردا نے کہا بھلا کان میرے عذر قبول کرے گا اگر میں معاویہ کو اس بدلہ دوں میں تو ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور وہ مجھ سے اپنی رائے بیان کرتے ہیں اب میں تمہارے ملک میں نہ رہوں گا پھر ابودردا مدینہ میں حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے یہ قصہ بیان کیا حضرت عمر نے معاویہ کو لکھا کہ ایسی بیع نہ کریں مگر برابر تول کر۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Muawiya ibn Abi Sufyan sold a gold or silver drinking-vessel for more than its weight. AbudDarda said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbidding such sales except like for like." Muawiya said to him, "I dont see any harm in it." Abud-Darda said to him, "Who will excuse me from Muawiya? I tell him something from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he gives me his own opinion! I will not live in the same land as you!" Then Abud-Darda went to Umar ibn al-Khattab and mentioned that to him. Umar ibn al-Khattab therefore wrote to Muawiya, "Do not sell it except like for like, weight for weight."Malik said, "If, when counterpoising gold for gold or silver for silver, there is a difference of weight, one party should not give the other the value of the difference in silver or something else. Such a transaction is ugly and a means to usury because if one of the parties were permitted to take the difference for a separate price, it could be as if he had bought it separately, so he would be permitted. Then it would be possible for him to ask for many times the value of the difference in order to permit the completion of the transaction between the two parties.

1224Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْکُمْ الرَّمَائَ وَالرَّمَائُ هُوَ الرِّبَا

حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا مت بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کے بدے میں چاندی کے مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو اور دوسرا وعدے پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "Do not sell gold for gold except like for like, and do not increase one part over another part. Do not sell silver for silver except like for like, and do not increase one part over another part. Do not sell silver for gold, one of them at hand and the other to be given later. If someone seeks to delay paying you until he has been to his house, do not leave him. I fear rama for you." Rama is usury.

1225Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْکُمْ الرَّمَائَ وَالرَّمَائُ هُوَ الرِّبَا عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلَا يُبَاعُ کَالِئٌ بِنَاجِزٍ

حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا بیچو سونے کو سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو دوسرا وعدہ پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔ حضرت عمر نے کہا ایک دینار بدلے میں ایک دینار کے چاہے ایک درہم بدلے میں ایک درہم کے اور ایک صاع بدلے میں ایک صاع کے اور نہ بیچو نقد بدلے میں وعدے کے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "Do not sell gold for gold except like for like. Do not increase part of it over another part. Do not sell silver for silver except like for like, and do not increase part of it over another part. Do not sell some of it which is there for some of it which is not. If someone asks you to wait for payment until he has been to his house, do not leave him. I fear rama for you." Rama is usury.

1226Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ لَا رِبًا إِلَّا فِي ذَهَبٍ أَوْ فِي فِضَّةٍ أَوْ مَا يُکَالُ أَوْ يُوزَنُ بِمَا يُؤْکَلُ أَوْ يُشْرَبُ

سعید بن مسیب کہتے تھے نہیں ربا ہے مگر سونے میں یا چاندی میں یا جو چیز ناپ تول کر بکتی ہے کھانے پینے کی۔

Yahya related to me from Malik that Abuz-Zinad heard Said ibn al-Musayyab say, "There is usury only in gold or silver or what is weighed or measured of what is eaten or drunk."

1227Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنْ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ فَإِنْ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنْ التِّبْرِ وَالْحَلْيِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنْ الْأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنْ الذَّهَبِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنْ الْوَرِقِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا

سعید بن مسیب کہتے تھے روپیہ اشرفی کا کانٹا گویا ملک میں فساد کرنا ہے۔ کہا امام مالک (رح) نے اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں بلکہ اس میں دھوکا ہے اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا اور اس چیز کی قیمت دو ثلث سے کم نہیں ہے اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک ثلث سے زیادہ نہیں ہے تو درست ہے جب نقدا نقد ہو اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "Keeping gold and silver out of circulation is part of working corruption in the land."

1228Mauwatta Imam Malik

بیع صرف کے بیان میں

عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّی اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّی يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنْ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا تُفَارِقْهُ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ قَالَ مَالِک إِذَا اصْطَرَفَ الرَّجُلُ دَرَاهِمَ بِدَنَانِيرَ ثُمَّ وَجَدَ فِيهَا دِرْهَمًا زَائِفًا فَأَرَادَ رَدَّهُ انْتَقَضَ صَرْفُ الدِّينَارِ وَرَدَّ إِلَيْهِ وَرِقَهُ وَأَخَذَ إِلَيْهِ دِينَارَهُ وَتَفْسِيرُ مَا کُرِهَ مِنْ ذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ وَهُوَ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ دِرْهَمًا مِنْ صَرْفٍ بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَهُ کَانَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ أَوْ الشَّيْئِ الْمُتَأَخِّرِ فَلِذَلِکَ کُرِهَ ذَلِکَ وَانْتَقَضَ الصَّرْفُ وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ لَا يُبَاعَ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ وَالطَّعَامُ کُلُّهُ عَاجِلًا بِآجِلٍ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَکُونَ فِي شَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَإِنْ کَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ أَوْ کَانَ مُخْتَلِفَةً أَصْنَافُهُ

مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آجائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہوجائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہوجائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Malik ibn Aus ibn al-Hadathan an-Nasri that one time he asked to exchange 10O dinars. He said, "Talha ibn Ubaydullah called me over and we made a mutual agreement that he would make an exchange for me. He took the gold and turned it about in his hand, and then said, I cant do it until my treasurer brings the money to me from al-Ghaba. Umar ibn al-Khattab was listening and Umar said, By Allah! Do not leave him until you have taken it from him! Then he said, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Gold for silver is usury except hand to hand. Wheat for wheat is usury except hand to hand. Dates for dates is usury except hand to hand. Barley for barley is usury except hand to hand." "Malik said, "The commentary on why that is disapproved is that the owner of the good gold uses the excellence of his old gold coins as an excuse to throw in the unminted gold with it. Had it not been for the superiority of his (good) gold over the gold of the other party, the other party would not have counterpoised the unminted gold for his kufic gold, and the deal would have been refused. "It is like a man wanting to buy three sa of ajwa dried dates for two sa and a mudd of kabis dates, and on being told that it was not good, then offering two sa of kabis and a sa of poor dates desiring to make the sale possible. That is not good because the owner of the ajwa should not give him a sa of ajwa for a sa of poor dates. He would only give him that because of the excellence of kabis dates. "Or it is like a man asking some one to sell him three sa of white wheat for two and a half sa of Syrian wheat, and being told that it was not good except like for like, and so offering two sa of wheat and one sa of barley intending to make the sale possible between them. That is not good because no one would have given a sa of barley for a sa of white wheat had that sa been by itself. It was only given because of the excellence of Syrian wheat over the white wheat. This is not good. It is the same as the case of the unminted gold."

1229Mauwatta Imam Malik

مرطلہ کا بیان

عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ رَأَی سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُرَاطِلُ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ فَيُفْرِغُ ذَهَبَهُ فِي کِفَّةِ الْمِيزَانِ وَيُفْرِغُ صَاحِبُهُ الَّذِي يُرَاطِلُهُ ذَهَبَهُ فِي کِفَّةِ الْمِيزَانِ الْأُخْرَی فَإِذَا اعْتَدَلَ لِسَانُ الْمِيزَانِ أَخَذَ وَأَعْطَی قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ مُرَاطَلَةً أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ أَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ يَدًا بِيَدٍ إِذَا كَانَ وَزْنُ الذَّهَبَيْنِ سَوَاءً عَيْنًا بِعَيْنٍ وَإِنْ تَفَاضَلَ الْعَدَدُ وَالدَّرَاهِمُ أَيْضًا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ قَالَ مَالِك مَنْ رَاطَلَ ذَهَبًا بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقًا بِوَرِقٍ فَكَانَ بَيْنَ الذَّهَبَيْنِ فَضْلُ مِثْقَالٍ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ قِيمَتَهُ مِنْ الْوَرِقِ أَوْ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا يَأْخُذُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ قَبِيحٌ وَذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا لِأَنَّهُ إِذَا جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ حَتَّى كَأَنَّهُ اشْتَرَاهُ عَلَى حِدَتِهِ جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ مِرَارًا لِأَنْ يُجِيزَ ذَلِكَ الْبَيْعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهُ ذَلِكَ الْمِثْقَالَ مُفْرَدًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ لَمْ يَأْخُذْهُ بِعُشْرِ الثَّمَنِ الَّذِي أَخَذَهُ بِهِ لِأَنْ يُجَوِّزَ لَهُ الْبَيْعَ فَذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلَالِ الْحَرَامِ وَالْأَمْرُ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُرَاطِلُ الرَّجُلَ وَيُعْطِيهِ الذَّهَبَ الْعُتُقَ الْجِيَادَ وَيَجْعَلُ مَعَهَا تِبْرًا ذَهَبًا غَيْرَ جَيِّدَةٍ وَيَأْخُذُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَهَبًا كُوفِيَّةً مُقَطَّعَةً وَتِلْكَ الْكُوفِيَّةُ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ النَّاسِ فَيَتَبَايَعَانِ ذَلِكَ مِثْلًا بِمِثْلٍ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ صَاحِبَ الذَّهَبِ الْجِيَادِ أَخَذَ فَضْلَ عُيُونِ ذَهَبِهِ فِي التِّبْرِ الَّذِي طَرَحَ مَعَ ذَهَبِهِ وَلَوْلَا فَضْلُ ذَهَبِهِ عَلَى ذَهَبِ صَاحِبِهِ لَمْ يُرَاطِلْهُ صَاحِبُهُ بِتِبْرِهِ ذَلِكَ إِلَى ذَهَبِهِ الْكُوفِيَّةِ فَامْتَنَعَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ ثَلَاثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ بِصَاعَيْنِ وَمُدٍّ مِنْ تَمْرٍ كَبِيسٍ فَقِيلَ لَهُ هَذَا لَا يَصْلُحُ فَجَعَلَ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ بَيْعَهُ فَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُ الْعَجْوَةِ لِيُعْطِيَهُ صَاعًا مِنْ الْعَجْوَةِ بِصَاعٍ مِنْ حَشَفٍ وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لِفَضْلِ الْكَبِيسِ أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بِعْنِي ثَلَاثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ الْبَيْضَاءِ بِصَاعَيْنِ وَنِصْفٍ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَيَقُولُ هَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَيَجْعَلُ صَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ الْبَيْعَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فَهَذَا لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعْطِيَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ بَيْضَاءَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ الصَّاعُ مُفْرَدًا وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ لِفَضْلِ الشَّامِيَّةِ عَلَى الْبَيْضَاءِ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَهُوَ مِثْلُ مَا وَصَفْنَا مِنْ التِّبْرِ قَالَ مَالِك فَكُلُّ شَيْءٍ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ كُلِّهِ الَّذِي لَا يَنْبَغِي أَنْ يُبَاعَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُجْعَلَ مَعَ الصِّنْفِ الْجَيِّدِ مِنْ الْمَرْغُوبِ فِيهِ الشَّيْءُ الرَّدِيءُ الْمَسْخُوطُ لِيُجَازَ الْبَيْعُ وَلِيُسْتَحَلَّ بِذَلِكَ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ الْأَمْرِ الَّذِي لَا يَصْلُحُ إِذَا جُعِلَ ذَلِكَ مَعَ الصِّنْفِ الْمَرْغُوبِ فِيهِ وَإِنَّمَا يُرِيدُ صَاحِبُ ذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ بِذَلِكَ فَضْلَ جَوْدَةِ مَا يَبِيعُ فَيُعْطِي الشَّيْءَ الَّذِي لَوْ أَعْطَاهُ وَحْدَهُ لَمْ يَقْبَلْهُ صَاحِبُهُ وَلَمْ يَهْمُمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا يَقْبَلُهُ مِنْ أَجْلِ الَّذِي يَأْخُذُ مَعَهُ لِفَضْلِ سِلْعَةِ صَاحِبِهِ عَلَى سِلْعَتِهِ فَلَا يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ أَنْ يَدْخُلَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الصِّفَةِ فَإِنْ أَرَادَ صَاحِبُ الطَّعَامِ الرَّدِيءِ أَنْ يَبِيعَهُ بِغَيْرِهِ فَلْيَبِعْهُ عَلَى حِدَتِهِ وَلَا يَجْعَلُ مَعَ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ

یزید بن عبداللہ بن قسیط نے کہا سعید بن مسیب کو دیکھا جب سونے کو سونے کے بدلے میں بیچتے تو اپنے سونے کو ایک پلہ میں رکھتے اور دوسرا شخص اپنے سونے کو دوسرے پلے میں رکھتا جب ترازو کا کاٹنا برابر ہوجاتا تو دوسرے کا سونا لے لیتا اور اپنا سونا دے دیتے۔ کہا مالک نے جو شخص سونے کو سونے کے بدلے میں تول کر بیچے تو کچھ قباحت نہیں اگرچہ ایک پلڑے میں گیارہ دینار چڑھیں اور دوسری طرف دس دینار جب نقدا نقد ہوں اور وزن برابر ہو اگرچہ شمار میں کم زیادہ ہوں ایسا ہی دراہم کا حکم ہے۔

Yahya related to me from Malik that Yazid ibn Abdullah ibn Qusayt saw Said ibn al-Musayyab sell gold counterpoising for gold. He poured his gold into one pan of the scales, and the man with whom he was counterpoising put his gold in the other pan of the scale and when the tongue of the scales was balanced, they took and gave.

1230Mauwatta Imam Malik

بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی یسْتَوْفِيَهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص طعام خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Someone who buys food, must not resell it until he takes delivery of it all."

1231Mauwatta Imam Malik

بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَقْبِضَهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اناج خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Someone who buys food, must not sell it until he takes possession of it."