حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل دیئے گئے ایک قمیص میں۔
Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was washed in a long shirt.
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتْ ابْنَتُهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ کَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ کَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي بِحِقْوِهِ إِزَارَهُ
ام عطیہ انصاریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے انتقال کیا تو آئے ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اور کہا کہ غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں سے اور اخیر میں کافور بھی شامل کرو اور جب تم غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع دو کہا ام عطیہ نے جب غسل سے ہم فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کو خبر دی آپ ﷺ نے اپنا تہہ بند دیا اور کہا کہ یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو۔
Yahya related to me from Malik from Ayyub ibn Abi Tamima as-Sakhtayani from Muhammad ibn Sirin that Umm Atiyya al-Ansariyya said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to us when his daughter died and said, Wash her three times, or five, or more than that if you think it necessary, with water and lotus leaves, and at the end put on some camphor, or a little camphor, and when you have finished let me know. When we finished we told him, and he gave us his waist-wrapper and said, Shroud her with this. "
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ حِينَ تُوُفِّيَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَهَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ إِنِّي صَائِمَةٌ وَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ غُسْلٍ فَقَالُوا لَا
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ اسما بنت عمیس نے اپنے شوہر ابوبکر صدیق کو غسل دیا جب ان کی وفات ہوئی پھر نکل کر مہاجرین سے پوچھا کہ میں روزے سے ہوں اور سردی بہت ہے کیا مجھ پر بھی غسل لازم ہے بولے نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that Asma bint Umays washed Abu Bakr (RA) as-Siddiq when he died. Then she went out and asked some of the muhajirun who were there, "I am fasting and this is an extremely cold day. Do I have to do ghusl?" They said, "No."
مردے کو کفن پہنانے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ حَدَّثَنِي يَحْيَی بن سعيد أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے نہ ان میں قمیص تھی نہ عمامہ۔ یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was shrouded in three pure white cotton garments, none of which was a long shirt or a turban.
مردے کو کفن پہنانے کا بیان
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِعَائِشَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذُوا هَذَا الثَّوْبَ لِثَوْبٍ عَلَيْهِ قَدْ أَصَابَهُ مِشْقٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ فَاغْسِلُوهُ ثُمَّ كَفِّنُونِي فِيهِ مَعَ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَمَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَيُّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنْ الْمَيِّتِ وَإِنَّمَا هَذَا لِلْمُهْلَةِ
یحییٰ بن سعید نے کہا مجھے پہنچا کہ ابوبکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا اپنی بیماری میں رسول اللہ ﷺ کتنے کپڑوں میں کفن دیئے گئے تھے حضرت عائشہ نے کہا سفید تین کپڑوں میں سحول کے، تب ابوبکر نے کہا کہ یہ کپڑا جو میں پہنے ہوں اس میں گیرو یا زعفران لگا ہوا ہے اس کو دھو کر اور دو کپڑے لے کر مجھے کفن دے دینا حضرت عائشہ بولیں یہ کیا بات ہے ابوبکر بولے کہ مردے سے زیادہ زندے کو کپڑے کی حاجت ہے کفن تو پیپ اور خون کے لئے ہے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he had heard that when Abu Bakr (RA) as-Siddiq was ill he asked Aisha, "How many shrouds did the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, have?" and she replied, "Three pure white cotton garments." Abu Bakr (RA) said, "Take this garment (a garment he was wearing on which red clay or saffron had fallen) and wash it. Then shroud me in it with two other garments." Aisha said, "Whys that?", and Abu Bakr (RA) replied, "The living have greater need of the new than the dead. This is only for the body fluids that come out as the body decays."
مردے کو کفن پہنانے کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ وَيُؤَزَّرُ وَيُلَفُّ فِي الثَّوْبِ الثَّالِثِ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ کُفِّنَ فِيهِ
عمر وبن عاص سے روایت ہے کہ مردہ قمیص پہنایا جائے اور تہ بند پہنایا جائے پھر تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اس میں کفن دیا جائے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Humayd ibn Abdar-Rahman ibn Awf that Abdullah ibn Amr ibn al-As said, "A dead man is clothed in a shirt and a waist-wrapper and then wrapped in a third, and if he only has one garment he is shrouded in that."
جنازہ کے آگے چلنے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَالْخُلَفَائُ هَلُمَّ جَرًّا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمر بن خطاب اور تمام خلفاء جنازے کے آگے چلتے تھے اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and Abu Bakr (RA) and Umar as well as the khalifas up until this time and Abdullah ibn Umar, would walk in front of the bier.
جنازہ کے آگے چلنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقْدُمُ النَّاسَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فِي جَنَازَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
ربیعہ بن عبداللہ بن الہدیر سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر کو آگے چلتے تھے زینب بن جحش کے جنازے میں۔
Yahya related to me from Muhammad ibn alMunkadir that Rabia ibn Abdullah ibn alHadir told him that he had seen Umar ibn al-Khattab leading people in front of the bier at the funeral of Zaynab bint Jahsh.
جنازہ کے آگے چلنے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَبِي قَطُّ فِي جَنَازَةٍ إِلَّا أَمَامَهَا قَالَ ثُمَّ يَأْتِي الْبَقِيعَ فَيَجْلِسُ حَتَّی يَمُرُّوا عَلَيْهِ
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ عروہ کو ہمیشہ جنازہ کے آگے چلتے دیکھا یہاں تک کہ وہ بقیع میں آجاتے اور بیٹھے رہتے یہاں تک کہ جنازہ آ کر گزر جاتا۔
Yahya related to me from Malik that Hisham ibn Urwa said, "I only ever saw my father in front of a funeral procession." He added, "Then he would come to al-Baqi and sit down until the procession passed him."
جنازہ کے آگے چلنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ الْمَشْيُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ مِنْ خَطَإِ السُّنَّةِ
ابن شہاب نے کہا جنازہ کے پیچھے چلنا خطا ہے یعنی خلاف سنت ہے۔
Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "Walking behind the bier is in contradiction to the sunna."
جنازے کے پیچھے آگ لے جانے کیا ممانعت
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ لِأَهْلِهَا أَجْمِرُوا ثِيَابِي إِذَا مِتُّ ثُمَّ حَنِّطُونِي وَلَا تَذُرُّوا عَلَی کَفَنِي حِنَاطًا وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ
اسما بن ابی ابکر نے کہا اپنے گھر والوں سے میں جب مرجاؤں تو میرے کپڑوں کو خوشبو سے بسانا پھر میرے بدن پر خوشبو لگانا لیکن میرے کفن پر نہ چھڑکنا اور میرے جنازہ کے ساتھ آگ نہ رکھنا۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Asma bint Abi Bakr said to her family, "Perfume my clothes with incense when I die and then embalm me. Do not put any of the embalming substance on my shroud, and do not follow me with a burning torch."
جنازے کے پیچھے آگ لے جانے کیا ممانعت
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ نَهَی أَنْ يُتْبَعَ بَعْدَ مَوْتِهِ بِنَارٍ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَکْرَهُ ذَلِکَ
ابوہریرہ نے منع کیا کہ ان کے جنازے کے ساتھ آگ رکھی جائے۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi that Abu Hurayra forbade anyone to follow him with a burning torch after his death. Yahya said, "I heard Malik disapprove of that."
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَی النَّجَاشِيَّ لِلنَّاسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَی الْمُصَلَّی فَصَفَّ بِهِمْ وَکَبَّرَ أَرْبَعَ تَکْبِيرَاتٍ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہوا اسی روز آپ نے لوگوں کو خبر دی اس کی موت کی اور نکلے مصلے کی طرف اور صف کھڑی کر کے نماز پڑھی جنازے کی اور تکیبریں کہیں چار۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, announced the death of an Najashi to everyone on the day that he died, and went out with them to the place of prayer, and then formed them into rows and said "Allah is greater" four times.
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْکِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاکِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا فَخُرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا فَکَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي کَانَ مِنْ شَأْنِهَا فَقَالَ أَلَمْ آمُرْکُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَرِهْنَا أَنْ نُخْرِجَکَ لَيْلًا وَنُوقِظَکَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَی قَبْرِهَا وَکَبَّرَ أَرْبَعَ تَکْبِيرَاتٍ
ابوامامہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسکین بیمار ہوئی رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر ہوئی اور آپ ﷺ کا قاعدہ یہ تھا کہ بیمار پرسی کرتے تھے مسکینوں کی اور ان کا حال پوچھتے تھے سو فرمایا آپ ﷺ نے جب مرجائے یہ عورت تو مجھے خبر کرنا سو رات کو اس کا جنازہ نکلا اور صحابہ نے ناپسند کیا کہ جگائیں رسول اللہ ﷺ کو جب صبح ہوئی تو اس کی کیفیت معلوم ہوئی فرمایا آپ ﷺ نے میں نے تو تم سے کہہ دیا تھا کہ مجھے خبر کردینا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو آپ ﷺ کا جگانا اور رات کو باہر نکالنا نا گوار ہوا سو نکلے رسول اللہ ﷺ اور صف باندھی اس کی قبر پر اور چار تکبیریں کہیں
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf told him that once a poor woman fell ill and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was told of her illness, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to visit poor people frequently and ask after them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Let me know if she dies." Her bier was brought out at night-time and they did not want to wake up the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. In the morning the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was told what had happened to her and he said, "Didnt I tell you to let me know if she died?" They replied, "Messenger of Allah, we did not want to wake you up and make you come out in the night." Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out and formed everyone into rows by her grave and said "Allah is greater" four times.
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الرَّجُلِ يُدْرِکُ بَعْضَ التَّکْبِيرِ عَلَی الْجَنَازَةِ وَيَفُوتُهُ بَعْضُهُ فَقَالَ يَقْضِي مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِکَ
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ جس شخص کو بعض تکبیریں جنازہ کی ملیں اور بعض نہ ملیں وہ کیا کرے کہا جس قدر نہ ملیں ان کی قضا کرلے۔
Yahya related to me that Malik asked Ibn Shihab about a man who caught some of the takbirs said over the corpse and missed the rest, and Ibn Shihab said, "He completes what he has missed."
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ کَيْفَ تُصَلِّي عَلَی الْجَنَازَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُکَ أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا فَإِذَا وُضِعَتْ کَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَی نَبِيِّهِ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ کَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ وَإِنْ کَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ
ابو سعید مقبری نے پوچھا ابوہریرہ ؓ کس طرح تم نماز پڑھتے ہو جنازہ کی کہا ابوہریرہ ؓ نے قسم ہے اللہ جل جلالہ کی بقا کی میں تمہیں خبر دوں گا میں جنازہ کے ساتھ ہوتا ہوں اس کے گھر سے پھر جب رکھا جاتا ہے تو میں تکبیر کہہ کر اللہ کی تعریف کرتا ہوں اور پیغمبر پر اس کے درود بھیجتا ہوں پھر کہتا ہوں یا اللہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری لونڈی کا بیٹا اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ کوئی معبود سچا تیرے سوا نہیں ہے اور بیشک حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے پیغمبر ہیں اور تو اس کا حال خوب جانتا ہے اے پروردگار اگر وہ نیک ہو تو زیادہ کر اجر اس کا اور جو گناہگار ہو تو درگزر کر اس کے گناہوں سے اے پروردگار مت محروم کر ہم کو اس کے ثواب سے اور مت فتنہ میں ڈال ہم کو بعد اس کے۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from his father that he had asked Abu Hurayra, "How do you pray over the dead?" and Abu Hurayra replied, "By the Life of Allah, I will tell you! I follow with the family and when the corpse is put down I say Allah is greater and praise Allah and ask for blessings on His Prophet. Then I say, O Allah, he is Your slave and the son of Your male slave and Your female slave. He used to testify that there is no god but You and that Muhammad is Your slave and Your Messenger, and You know that best. O Allah, if he acted well, then increase for him his good action, and if he acted wrongly, then overlook his wrong actions. O Allah, do not deprive us of his reward, and do not try us after him." Allahumma inna huwa abduka wabnu abdika wabnu amatika. Kana yash-hadu an la ilaha illa ant wa anna Muhammadan abduka wa rasooluka, wa anta alamu bihi. Allahumma in kana muhsinan zid fi ihsanihi, wa in kana musiyan fa tajawaz an sayatihi. Allahumma la tahrimna ajrahu wa lataftina badahu.
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ صَلَّيْتُ وَرَائَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَی صَبِيٍّ لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
سعید بن مسیب کہتے تھے نماز پڑھی میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک لڑکے پر جو بےگناہ تھا تو سنا میں نے ان سے کہتے تھے اے اللہ بچا اس کو قبر کے عذاب سے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he heard Said ibn al-Musayyab say, "I once prayed behind Abu Hurayra over a child who had never done a wrong action and I heard him say, O Allah, give him protection from the torment of the grave. "
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی الْجَنَازَةِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قرآن نہیں پڑھتے تھے جنازہ کی نماز میں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used not to recite when praying over a dead person.
نماز جنازہ بعد نماز صبح اور نماز عصر کے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تُوُفِّيَتْ وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَأُتِيَ بِجَنَازَتِهَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ قَالَ وَکَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لِأَهْلِهَا إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمْ الْآنَ وَإِمَّا أَنْ تَتْرُکُوهَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ
محمد بن ابی حرملہ سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ مرگئیں اور اس زمانے میں طارق حاکم تھے مدینہ کے تو لایا گیا جنازہ ان کا بعد نماز صبح کے اور رکھا گیا بقیع میں اور طارق نماز پڑھا کرتے تھے صبح کی اندھیرے میں ابی حرمہ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا وہ کہتے تھے زینب کے لوگوں سے یا تو تم جنازہ کی نماز اب پڑھ لو یا رہنے دو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Abi Harmala, the mawla of Abd ar-Rahman ibn Abi Sufyan ibn Huwaytib, that Zaynab bint Abi Salama died during the time that Tariq was amir of Madina and her bier was brought out after subh and put in al-Baqi. He said that Tariq used to pray subh right at the beginning of its time. He added, "I heard Abdullah ibn Umar say to the family, You can either pray over your dead now or you can wait until the sun comes up. "
نماز جنازہ بعد نماز صبح اور نماز عصر کے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ يُصَلَّی عَلَی الْجَنَازَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صُلِّيَتَا لِوَقْتِهِمَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا نماز جنازہ کی پڑھی جائے بعد عصر کے اور بعد صبح کے جب یہ دونوں نمازیں اپنے وقت میں پڑھی جائیں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The prayer for a dead person can be done after asr and subh if these have been prayed at their times."