کتاب الجنائز

Mauwatta Imam Malik · Chapter 17 · 49 hadiths · Page 2 of 3

484Mauwatta Imam Malik

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ عَلَيْهَا بِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ مَاتَ لِتَدْعُوَ لَهُ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ مَا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَائَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ

حضرت ام المومنین عائشہ نے حکم دیا کہ سعد بن ابی وقاص کا جنازہ مسجد میں سے ہو کر ان کے حجرہ پر سے جائے تاکہ میں دعا کروں ان کے لئے سو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تب کہا آپ ﷺ نے کیا جلدی لوگ بھول گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضا پر نماز نہیں پڑھی مگر مسجد میں۔

Yahya related to me from Malik from Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, ordered that the body of Sad ibn Abi Waqqas be brought past her in the mosque so that she could make dua for him. Some people disapproved of her doing that, and she said, "How hasty people are! The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, only prayed over Suhayl ibn Bayda in the mosque."

485Mauwatta Imam Malik

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان-r-nنماز جنازہ کے احکام

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ صُلِّيَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْمَسْجِدِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ کَانُوا يُصَلُّونَ عَلَی الْجَنَائِزِ بِالْمَدِينَةِ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ فَيَجْعَلُونَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ وَالنِّسَائَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ

عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت عمر پر نماز پڑھی گئی مسجد میں امام مالک کو پہنچا کہ عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے تھے عورتوں اور مردوں پر ایک ہی وقت میں تو مردوں کو امام کے نزدیک رکھتے تھے اور عورتوں کو قبلہ کے نزدیک

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The prayer over Umar ibn al-Khattab was done in the mosque."

486Mauwatta Imam Malik

نماز جنازہ کے احکام

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَلَّی عَلَی الْجَنَائِزِ يُسَلِّمُ حَتَّی يُسْمِعَ مَنْ يَلِيهِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نماز پڑھ لیتے تھے جنازہ کی سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ان کے نزدیک جو لوگ ہوتے تھے وہ سن لیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar, when he prayed over the dead, would say, "Peace be upon you" loud enough for whoever was near to him to hear.

487Mauwatta Imam Malik

نماز جنازہ کے احکام-r-nمردہ کے دفن کے بیان میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ عَلَی الْجَنَازَةِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلَاثَائِ وَصَلَّی النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذًا لَا يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ فَقَالَ نَاسٌ يُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ وَقَالَ آخَرُونَ يُدْفَنُ بِالْبَقِيعِ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا دُفِنَ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا فِي مَکَانِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَحُفِرَ لَهُ فِيهِ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ غُسْلِهِ أَرَادُوا نَزْعَ قَمِيصِهِ فَسَمِعُوا صَوْتًا يَقُولُ لَا تَنْزِعُوا الْقَمِيصَ فَلَمْ يُنْزَعْ الْقَمِيصُ وَغُسِّلَ وَهُوَ عَلَيْهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جنازہ کی نماز بغیر وضو کے کوئی نہ پڑھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات کی دو شبنہ کے روز اور دفن کئے گئے منگل کے روز اور نماز پڑھی آپ ﷺ پر لوگوں نے اکیلے اکیلے کوئی ان کا امام نہ تھا پھر کہا بعض لوگوں نے دفن کئے جائیں آپ ﷺ منبر کے پاس اور بعض نے کہا بقیع میں تو آئے حضرت ابوبکر اور کہا سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے نہیں دفن کیا گیا کوئی نبی مگر اس مقام میں جہاں اس کی وفات ہوئی پھر کھودی گئی قبر اسی مقام میں جہاں آپ ﷺ کی وفات کی تھی جب غسل کا وقت آیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کا کرتہ اتارنا چاہا سو ایک آواز سنی مت اتارو کرتے کو پس نہ اتارا گیا کرتہ آپ ﷺ کا اور غسل دیئے گئے کرتہ پہنے ہوئے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "No-one should pray over a dead person unless he is in wudu." Yahya said that he heard Malik say, "I have not seen any person of knowledge disapproving of praying over either a child born of adultery or its mother."

488Mauwatta Imam Malik

مردہ کے دفن کے بیان میں

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ فَقَالُوا أَيُّهُمَا جَائَ أَوَّلُ عَمِلَ عَمَلَهُ فَجَائَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَقُولُ مَا صَدَّقْتُ بِمَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَمِعْتُ وَقْعَ الْکَرَازِينِ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ دو آدمی قبر کھود نے والے تھے ایک ان میں سے بغلی بناتا تھا اور دوسرا نہیں بناتا تھا لوگوں نے کہا جو پہلے آئے گا وہی اپنا کام شروع کرے گا تو پہلے وہی آیا جو بغلی بناتا تھا پس قبر آپ ﷺ کی بغلی بنائی۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی ام سلمہ کہتی تھیں مجھے رسول اللہ ﷺ کی وفات کا یقین نہیں یہاں تک کہ میں نے کدال مارنے کی آواز سنی۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "There were two men in Madina, one of whom dug graves with a niche in the side wall for the body, and the other who did not, and they said, Whichever one comes first can do the job, and the one who dug graves with a niche came first and dug the Messenger of Allahs grave, may Allah bless him and grant him peace."

489Mauwatta Imam Malik

مردہ کے دفن کے بیان میں

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي فَقَصَصْتُ رُؤْيَايَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبُو بَکْرٍ هَذَا أَحَدُ أَقْمَارِکِ وَهُوَ خَيْرُهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ يَثِقُ بِهِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ تُوُفِّيَا بِالْعَقِيقِ وَحُمِلَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گرپڑے سو میں نے اس خواب کو ابوبکر صدیق سے بیان کیا جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوچکے تھے ابوبکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ ﷺ تھے اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں۔ کئی ایک معتبر لوگوں سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید کی وفات ہوئی عقیق میں (ایک جگہ ہے مدینہ کے قریب) اور ان کا جنازہ اٹھا کر مدینہ میں لایا گیا اور وہاں دفن ہوئے

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I saw three moons fall into my room, and I related my vision to Abu Bakr (RA) as-Siddiq. Then, when the Messenger of Allah ﷺ died, may Allah bless him and grant him peace, and was buried in my house, Abu Bakr (RA) said to me, This is one of your moons, and he is the best of them. "Yahya related to me from Malik from more than one reliable source that Sad ibn Abi Waqqas and Said ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl died at al-Aqiq and were carried to Madina and buried there.

490Mauwatta Imam Malik

مردہ کے دفن کے بیان میں

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ بِالْبَقِيعِ لَأَنْ أُدْفَنَ بِغَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُدْفَنَ بِهِ إِنَّمَا هُوَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ إِمَّا ظَالِمٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَهُ وَإِمَّا صَالِحٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِي عِظَامُهُ

عروہ بن زبیر نے کہا مجھے بقیع میں دفن ہونا پسند نہیں ہے اگر میں کہیں اور دفن ہوں تو اچھا ہے اس لئے کہ بقیع میں جہاں پر میں دفن ہوں گا وہاں پر کوئی گناہگار شخص دفن ہوچکا ہے تو اس کے ساتھ مجھے دفن ہونا منظور نہیں ہے اور یا کوئی نیک شخص دفن ہوچکا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "I would not want to be buried in al-Baqi. I would prefer to be buried elsewhere. The one who is buried in al-Baqi is one of two people. Either he is unjust (dhalim), and I would not like to be buried with him, or he is salih, and I would not like his bones to be disturbed for me."

491Mauwatta Imam Malik

جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوجانا اور بیٹھنا قبروں پر۔

عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَتَوَسَّدُ الْقُبُورَ وَيَضْطَجِعُ عَلَيْهَا قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنْ الْقُعُودِ عَلَی الْقُبُورِ فِيمَا نُرَی لِلْمَذَاهِبِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَانَ يَتَوَسَّدُ الْقُبُورَ وَيَضْطَجِعُ عَلَيْهَا قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنْ الْقُعُودِ عَلَى الْقُبُورِ فِيمَا نُرَى لِلْمَذَاهِبِ

حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوجاتے تھے جنازوں میں پھر بیٹھنے لگے بعد اس کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت علی تکیہ لگاتے تھے قبروں پر اور لیٹ جاتے تھے ان پر۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Wafid ibn Amr ibn Said ibn Muadh from Nafi ibn Jubayr ibn Mutim from Masud ibn al-Hakam from AIi ibn Abi Talib that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to stand up when a funeral procession passed by, and then sit down again afterwards.

492Mauwatta Imam Malik

جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوجانا اور بیٹھنا قبروں پر۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولُ کُنَّا نَشْهَدُ الْجَنَائِزَ فَمَا يَجْلِسُ آخِرُ النَّاسِ حَتَّی يُؤْذَنُوا

ابو امامہ کہتے تھے ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدوں اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Uthman ibn Sahl ibn Hunayf that he had heard Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf say, "We used to attend funeral processions, and the last of the people would not sit until they had been given permission ."

493Mauwatta Imam Malik

میت پر رونے کی ممانعت

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيکٍ عَنْ عَتِيکِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ غُلِبْنَا عَلَيْکَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَکَيْنَ فَجَعَلَ جَابِرٌ يُسَکِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْکِيَنَّ بَاکِيَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوُجُوبُ قَالَ إِذَا مَاتَ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَهِيدًا فَإِنَّکَ کُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَی قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَائُ سَبْعَةٌ سِوَی الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْحَرِقُ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ

جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ثابت کی عیادت کو آئے تو دیکھا ان کو بیماری کی شدت میں سو پکارا آپ ﷺ نے ان کو انہوں نے جواب نہ دیا پس آپ ﷺ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور فرمایا ہم مغلوب ہوئے تمہارے پر اے ابوالربیع! پس رونا شروع کیا عورتوں نے چلا کر اور جابر بن عتیک ان کو چپ کرانے لگے سو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سبھی عورتوں کو رونے دو جب آن پڑے تو اس وقت کوئی نہ روئے۔ رونے والی صحابیہ نے پوچھا کیا مطلب ہے آن پڑنے کا فرمایا جب مرجائے۔ اتنے میں عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے کہا مجھے امید تھی کہ تم شہید ہو گے کیونکہ تم سامان جہاد کا تیار کرچکے تھے تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ جل جلالہ اجر دے گا مواقف اس کی نیت کے۔ تم کس چیز کو شہادت سمجھتی ہو بولی اللہ جل جلالہ کی راہ میں مارے جانے کو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سوا اس کے سات شہید ہیں ایک وہ جو طاعون سے مرجائے دوسرے وہ جو ڈوب کر مرجائے تیسرے وہ جو ذات الجنب سے مرجائے چوتھے جو پیٹ کی عارضہ سے مرجائے پانچویں وہ جو آگ سے جل کر مرجائے چھٹے وہ جو دب کر مرجائے سا تو اں وہ عورت جو زچگی میں مرجائے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abdullah ibn Jabir ibn Atik that Atik ibn al-Harith, the grandfather of Abdullah ibn Abdullah ibn Jabir on his mothers side, told him that Jabir ibn Atik had told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to visit Abdullah ibn Thabit and found him in his death-throes. He called to him but he did not reply. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "We belong to Allah, and to Him we are returning," and added, "You are being taken from us, Abur-Rabi. The women cried out and wept, and Jabir began to silence them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Leave them, and when the necessary time comes, none of the women should cry." They said, "Messenger of Allah, what is the necessary time?", and he replied, "When he dies." The dying mans daughter said, "By Allah, I hope that you will be a martyr, for you have completed your preparations for battle," and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah has made his reward fall according to his intention. What do you consider dying a martyr to be?" They said, "Death in the way of Allah." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "There are seven kinds of rnartyr other than those killed in the way of Allah. Someone who is killed by the plague is a martyr, someone who drowns is a martyr, someone who dies of pleurisy is a martyr, someone who dies of a disease of the belly is a martyr, someone who dies by fire is a martyr, someone who dies under a falling building is a martyr and a woman who dies in childbirth is a martyr."

494Mauwatta Imam Malik

میت پر رونے کی ممانعت

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ وَذُکِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَکْذِبْ وَلَکِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّکُمْ لَتَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

عمرہ بن عبدالر حمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت عائشہ ؓ جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے سے اللہ بخشے ابا عبدالرحمن کو انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گزرے ایک یہودن پر جو مرگئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that Amra bint Abd ar-Rahman told him that she had heard Aisha, the umm al-muminin, say (when it was mentioned to her that Abdullah ibn Umar used to say, "The dead are tormented by the weeping of the living"), "May Allah forgive Abu Abd ar-Rahman. Of course he has not lied, but he has forgotten, or made a mistake. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, passed by a jewish woman whose family were crying over her and he said, You are crying over her, and she is being tormented in her grave. "

495Mauwatta Imam Malik

مصیبت کے وقت صبر کرنے کا ثواب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے تین بچے مرجائیں پھر وہ جہنم میں جائے یہ ممکن نہیں مگر قسم پورا کرنے کو۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No muslim who has three children die will be touched by the Fire except to fulfil Allahs oath."

496Mauwatta Imam Malik

مصیبت کے وقت صبر کرنے کا ثواب

عَنْ أَبِي النَّضْرِ السَّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَيَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا کَانُوا لَهُ جُنَّةً مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ

ابو النصر سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین لڑکے مرجائیں اور وہ صبر کرے تو قیامت کے روز وہ لڑکے بچائیں گے اس کو جہنم سے ایک عورت نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اگر دو مرجائیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ بھی۔ ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ مسلمان کو مصیبت پہنچتی ہے اس کی اولاد اور عزیزوں میں یہاں تک کہ ملتا ہے اپنے پروردگار سے اور کوئی گناہ اس کا نہیں ہوتا۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Abi Bakr ibn Amr ibn Hazm from his father from Abun-Nadr as-Salami that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If three of a muslims children die, and he remains content with that, they will be a protection for him from the Fire." A woman who was with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Or two, Messengerof Allah?", and he said, "Or two."

497Mauwatta Imam Malik

مصیبت میں صبر کرنے کی مختلف حدیثیں

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيُعَزِّ الْمُسْلِمِينَ فِي مَصَائِبِهِمْ الْمُصِيبَةُ بِي

عبدالرحمن بن قاسم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی تمام مصیتبیں ہلکی ہوجاتی ہیں میری مصیبت کو یاد کرکے۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim ibn Muhammad ibn Abi Bakr that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Let the misfortune that befalls me be a comfort to the muslims in their misfortunes."

498Mauwatta Imam Malik

مصیبت میں صبر کرنے کی مختلف حدیثیں

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَقَالَ کَمَا أَمَرَ اللَّهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَعْقِبْنِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا فَعَلَ اللَّهُ ذَلِکَ بِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ ذَلِکَ ثُمَّ قُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَأَعْقَبَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا

حضرت بی بی ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے پھر وہ جیسا اس کو اللہ نے حکم کیا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر کہے اے پروردگار مجھ کو اس مصیبت میں اجر دے اور اس سے بہتر نیک بدلہ مجھے عنایت فرما تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ساتھ ایسا ہی کرے گا ام سلمہ کہتی ہیں جب میرے خاوند نے وفات پائی تو میں نے یہی دعا مانگی پھر میں نے اپنے جی میں کہا ابوسلمہ سے کون بہتر ہوگا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ان کا نکاح کیا۔

Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from Umm Salama, the wife of the Prophet ﷺ may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a misfortune befalls some one and he says, as Allah has ordered, We belong to Allah and to Him we are returning. O Allah, reward me in my misfortune and give me better than it afterwards, Allah will do that for him" (Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun. Allahumma jurniy fi musiybatiy, wa a qibhiy khayran minha, illa faala llahu dhalika bihi.). Umm Salama said, "When Abu Salama died I said that, and then I said, Who is better than Abu Salama? " And then Allah left her the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he married her.

499Mauwatta Imam Malik

مصیبت میں صبر کرنے کی مختلف حدیثیں

عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ هَلَکَتْ امْرَأَةٌ لِي فَأَتَانِي مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ الْقُرَظِيُّ يُعَزِّينِي بِهَا فَقَالَ إِنَّهُ کَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ فَقِيهٌ عَالِمٌ عَابِدٌ مُجْتَهِدٌ وَکَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَکَانَ بِهَا مُعْجَبًا وَلَهَا مُحِبًّا فَمَاتَتْ فَوَجَدَ عَلَيْهَا وَجْدًا شَدِيدًا وَلَقِيَ عَلَيْهَا أَسَفًا حَتَّی خَلَا فِي بَيْتٍ وَغَلَّقَ عَلَی نَفْسِهِ وَاحْتَجَبَ مِنْ النَّاسِ فَلَمْ يَکُنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ وَإِنَّ امْرَأَةً سَمِعَتْ بِهِ فَجَائَتْهُ فَقَالَتْ إِنَّ لِي إِلَيْهِ حَاجَةً أَسْتَفْتِيهِ فِيهَا لَيْسَ يُجْزِينِي فِيهَا إِلَّا مُشَافَهَتُهُ فَذَهَبَ النَّاسُ وَلَزِمَتْ بَابَهُ وَقَالَتْ مَا لِي مِنْهُ بُدٌّ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَةً أَرَادَتْ أَنْ تَسْتَفْتِيَکَ وَقَالَتْ إِنْ أَرَدْتُ إِلَّا مُشَافَهَتَهُ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ وَهِيَ لَا تُفَارِقُ الْبَابَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي جِئْتُکَ أَسْتَفْتِيکَ فِي أَمْرٍ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَتْ إِنِّي اسْتَعَرْتُ مِنْ جَارَةٍ لِي حَلْيًا فَکُنْتُ أَلْبَسُهُ وَأُعِيرُهُ زَمَانًا ثُمَّ إِنَّهُمْ أَرْسَلُوا إِلَيَّ فِيهِ أَفَأُؤَدِّيهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ مَکَثَ عِنْدِي زَمَانًا فَقَالَ ذَلِکِ أَحَقُّ لِرَدِّکِ إِيَّاهُ إِلَيْهِمْ حِينَ أَعَارُوکِيهِ زَمَانًا فَقَالَتْ أَيْ يَرْحَمُکَ اللَّهُ أَفَتَأْسَفُ عَلَی مَا أَعَارَکَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ مِنْکَ وَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْکَ فَأَبْصَرَ مَا کَانَ فِيهِ وَنَفَعَهُ اللَّهُ بِقَوْلِهَا

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ میری زوجہ مرگئی سو آئے محمد بن کعب قرظی تعزیت دینے مجھ کو اور کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص فقیہ عالم عابد مجتہد تھا اور اس کی ایک بیوی تھی جس پر وہ نہایت فریفتہ تھا اور اس کو بہت چاہتا تھا اتفاق سے وہ عورت مرگئی تو اس شخص کو نہایت رنج ہوا اور بڑا افسوس ہوا اور وہ ایک گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہا اور لوگوں سے ملاقات چھوڑ دی تو اس کے پاس کوئی نہ جاتا تھا ایک عورت نے یہ قصہ سنا اور اس کے دروازے پر جا کر کہا کہ مجھ کو ایک مسئلہ پوچھنا ہے میں اسی سے پوچھوں گی بغیر اس سے ملے ہوئے یہ کام نہیں ہوسکتا تو اور جتنے لوگ آئے تھے وہ چلے گئے اور وہ عورت دروازے پر جمی رہی اور کہا کہ بغیر اس سے طے کئے کوئی علاج نہیں ہے سو ایک شخص نے اندر جا کر اس کو اطلاع دی اور بیان کیا کہ ایک عورت مسئلہ پوچھنے کو تم سے آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں تو سب لوگ چلے گئے مگر وہ عورت دروازہ چھوڑ کر نہیں جاتی تب اس شخص نے کہا اچھا اس کو آنے دو پس آئی وہ عورت اس کے پاس اور کہا کہ میں ایک مسئلہ تجھ سے پوچھنے کو آئی ہوں وہ بولا کیا مسئلہ ہے اس عورت نے کہا میں نے اپنے ہمسایہ میں ایک عورت سے کچھ زیور مانگ کرلیا تھا تو میں نے ایک مدت تک اس کو پہنا اور لوگوں کو مانگنے پر بھی دیا اب اس عورت نے وہ زیور مانگ بھیجا ہے کیا میں اسے پھر واپس دے دوں اس شخص نے کہا ہاں قسم اللہ کی واپس دیدے عورت نے کہا کہ وہ زیور ایک مدت تک میرے پاس رہا ہے اس شخص نے کہا کہ اس سبب سے اور زیادہ تجھے واپس دینا ضروری ہے کیونکہ ایک زمانے تک تجھے اس نے مانگنے پر دیا عورت بولی اے فلانے اللہ تجھ پر رحم کرے تو کیوں افسوس کرتا ہے اس چیز پر جو اللہ جل جلالہ نے تجھے مستعار دی تھی پھر تجھ سے لے لی اللہ جل جلالہ زیادہ حقدار ہے تجھ سے جب اس شخص نے غور کیا تو عورت کی بات سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع دیا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that al-Qasim ibn Muhammad said, "One of my wives died and Muhammad ibn Kab al Quradhi came to console me about her. He told me of one among the Bani Israil who was a diligent, worshipping, knowing and understanding man who had a wife that he admired and loved, and she died. He grieved over her intensely and lamented her until he withdrew into a house and locked himself in, hidden from everyone, and no-one visited him. A woman heard about him and went to him, saying, I need him to give me an opinion. Nothing will satisfy me except what he says about it. Everyone went away, but she stuck to his door and said, I must see him. Someone said to him, There is a woman who wishes to ask your opinion about something, and she insisted, I will only talk to him about it. When everyone had gone away, and she still had not left his door, he said, Let her in. So she went in and saw him and said, I have come to ask your opinion about something. He said, What is it? She said, I borrowed a piece of jewellery from a neighbour of mine, and I have worn it and used it for a long time. Then they sent to me for it. Should I let them have it back? He said, Yes, by Allah. She said, I have had it for a long time. He said, It is more correct for you to return it to them, since they have lent it to you for such a long time. She said, Yes. May Allah have mercy on you. Do you then grieve over what Allah has lent you and then taken from you, when He has a greater right to it than you? Then he saw the situation he was in, and Allah helped him by her words."

500Mauwatta Imam Malik

کفن چوری کے بیان میں

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخْتَفِيَ وَالْمُخْتَفِيَةَ يَعْنِي نَبَّاشَ الْقُبُورِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَقُولُ کَسْرُ عَظْمِ الْمُسْلِمِ مَيْتًا کَکَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ

عمرہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ لعنت کی رسول اللہ ﷺ نے اس مرد پر جو کفن چرائے اور اس عورت پر جو کفن چرائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ فرماتی تھیں کہ میت مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسا ہے جیسا زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنا۔

Yahya related to me from Malik that Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman heard his mother Amra bint Abd ar-Rahman say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, cursed both men and women who dug up," meaning those who dug up graves.

501Mauwatta Imam Malik

جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَی عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمُوتُ حَتَّى يُخَيَّرَ قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى فَعَرَفْتُ أَنَّهُ ذَاهِبٌ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے وفات سے پہلے جب آپ ﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے حضرت عائشہ کے سینے پر اور حضرت عائشہ کان لگائے ہوئے تھیں آپ ﷺ کی طرف فرماتے یا اللہ رحم کر مجھ پر اور ملادے مجھ کو بڑے درجے کے رفیقوں سے۔ حضرت بی بی عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کوئی پیغمبر نہیں مرتا ہے یہاں تک کہ اس کو اختیار دیا جاتا ہے کہا حضرت عائشہ نے میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے یا اللہ میں نے اختیار کیا بلند رفیقوں کو تب میں نے جانا کہ آپ ﷺ جانے والے ہیں دنیا سے

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, told him that she had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say before he died, while he was leaning on her breast and she was listening to him, "O Allah, forgive me and have mercy on me and join me with the highest company."

502Mauwatta Imam Malik

جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُکَ حَتَّی يَبْعَثَکَ اللَّهُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو صبح اور شام اس کا مقام اس کو بتایا جاتا ہے اگر جنت والوں میں سے ہے تو جنت میں اور اگر دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ٹھکانا ہے تیرا جب تجھے اٹھائے گا اللہ جل جلالہ دن قیامت کے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you die, your place will be shown to you in the morning and the evening. If you are one of the people of the Garden, then you will be with the people of the Garden, and if you are one of the people of the Fire, then you will be with the people of the Fire. You will be told, This is your place of waiting until Allah raises you on the day of rising. "

503Mauwatta Imam Malik

جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْکُلُهُ الْأَرْضُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَکَّبُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام بدن کو آدمی کے زمین کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو اسی سے پیدا ہوا اور اسی سے پیدا کیا جائے گا دن قیامت کے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The earth eats all of the son of Adam except the coccyx. He was created from it, and on it he is built."