عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ يَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی بشر ہوں اور تم میرے پاس لڑتے جھگڑتے آتے ہو شائد تم میں سے کوئی باتیں بنا کر اپنے دعوے کو ثابت کرلے پھر میں اس کے موافق فیصلہ کروں اس کے کہنے پر تو جس شخص کو میں اس کے بھائی حقل دلا دوں وہ نہ لے کیونکہ میں ایک انگارہ آگ کا اس کو دلاتا ہوں۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Zaynab bint Abi Salama from Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I am but a man to whom you bring your disputes. Perhaps one of you is more eloquent in his proof than the other, so I give judgement according to what I have heard from him. Whatever I decide for him which is part of the right of his brother, he must not take any of it, for I am granting him a portion of the Fire."
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اخْتَصَمَ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ وَيَهُودِيٌّ فَرَأَی عُمَرُ أَنَّ الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَی لَهُ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ قَالَ وَمَا يُدْرِيکَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ إِنَّا نَجِدُ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا کَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَکٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَکٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تَرَکَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَکَاهُ
حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان لڑتے ہوئے آئے حضرت عمر کو یہودی کی طرف حق معلوم ہوا انہوں ہے اس کے موافق فیصلہ کیا پھر یہودی بولا قسم اللہ کی تم نے سچا فیصلہ کیا حضرت عمر نے اس کو درے سے مار اور کہا تجھے کیونکرمعلوم ہوا یہودی نے کہا ہماری کتابوں میں لکھا ہے جو حاکم سچا فیصلہ کرتا ہے اس کے داہنے ایک فرشتہ ہوتا ہے اور بائیں ایک فرشتہ دونوں اس کو مضبوط کرتے ہیں اور سیدھی راہ بتلاتے ہیں جب تک کہ وہ حاکم حق پر جما رہتا ہے جب حق چھوڑ دیتا ہے وہ فرشتے بھی اس کو چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔
Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab had a dispute brought to him between a muslim and a jew. Umar saw that the right belonged to the jew and decided in his favour. The jew said to him, "By Allah! You have judged correctly. So Umar ibn al-Khattab struck him with a whip and said, "How can you be sure." The jew said to him, "We find that there is no judge who judges correctly but that there is an angel on his right side and an angel on his left side who guide him and give him success in the truth as long as he is with the truth. When he leaves the truth, they rise and leave him."
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَائِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from his father from Abdullah ibn Amr ibn Uthman from Abu Amra al-Ansari from Zayd ibn Khalid al-Juhani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shall I not tell you who is the best of witnesses? The one who brings his testimony before he is asked for it, or tells his testimony before he is asked for it."
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ لَقَدْ جِئْتُکَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ فَقَالَ عُمَرُ مَا هُوَ قَالَ شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا فَقَالَ عُمَرُ أَوَ قَدْ کَانَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا حضرت عمرب کے پاس آیا اور بولا میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں حضرت عمر نے کہا کیا ہے اس نے کہا جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں حضرت عمر نے کہا سچ اس نے کہا ہاں تب حضرت عمر نے کہا اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے۔ حضرت عمر نے کہا نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی۔
Malik related to me that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "An Iraqi man came before Umar ibn al-Khattab and said, I have come to you because of a matter which has no beginning and no end. Umar said, What is it? The man said, False testimony has appeared in our land. Umar said, Is that so? He said, Yes. Umar said, By Allah! A man is not detained in Islam without just witnesses. "
جس کو حد قذف پڑی ہو اس کی گواہ کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَغَيْرِهِ أَنَّهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ فَقَالُوا نَعَمْ إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ التَّوْبَةُ عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يُسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَذَلِکَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کرلے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہوجائے۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Yahya said from Malik that he heard from Sulayman ibn Yasar and others that when they were asked whether the testimony of a man flogged for a hadd crime was permitted, they said, "Yes, when repentance (tawba) appears from him."
ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنے کا بیان
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ایک قسم اور ایک گواہ پر۔
Yahya said, "Malik said from Jafar ibn Muhammad from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, pronounced judgement on the basis of an oath with one witness."
ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَی الْکُوفَةِ أَنْ اقْضِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا هَلْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فَقَالَا نَعَمْ قَالَ مَالِك مَضَتْ السُّنَّةُ فِي الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَحْلِفُ صَاحِبُ الْحَقِّ مَعَ شَاهِدِهِ وَيَسْتَحِقُّ حَقَّهُ فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ أُحْلِفَ الْمَطْلُوبُ فَإِنْ حَلَفَ سَقَطَ عَنْهُ ذَلِكَ الْحَقُّ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَقُّ لِصَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ خَاصَّةً وَلَا يَقَعُ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ الْحُدُودِ وَلَا فِي نِكَاحٍ وَلَا فِي طَلَاقٍ وَلَا فِي عَتَاقَةٍ وَلَا فِي سَرِقَةٍ وَلَا فِي فِرْيَةٍ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَإِنَّ الْعَتَاقَةَ مِنْ الْأَمْوَالِ فَقَدْ أَخْطَأَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ لَحَلَفَ الْعَبْدُ مَعَ شَاهِدِهِ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ أَنَّ سَيِّدَهُ أَعْتَقَهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى مَالٍ مِنْ الْأَمْوَالِ ادَّعَاهُ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ وَاسْتَحَقَّ حَقَّهُ كَمَا يَحْلِفُ الْحُرُّ قَالَ مَالِك فَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى عَتَاقَتِهِ اسْتُحْلِفَ سَيِّدُهُ مَا أَعْتَقَهُ وَبَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَيْضًا فِي الطَّلَاقِ إِذَا جَاءَتْ الْمَرْأَةُ بِشَاهِدٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا أُحْلِفَ زَوْجُهَا مَا طَلَّقَهَا فَإِذَا حَلَفَ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ قَالَ مَالِك فَسُنَّةُ الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقَةِ فِي الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَاحِدَةٌ إِنَّمَا يَكُونُ الْيَمِينُ عَلَى زَوْجِ الْمَرْأَةِ وَعَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ وَإِنَّمَا الْعَتَاقَةُ حَدٌّ مِنْ الْحُدُودِ لَا تَجُوزُ فِيهَا شَهَادَةُ النِّسَاءِ لِأَنَّهُ إِذَا عَتَقَ الْعَبْدُ ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ وَوَقَعَتْ لَهُ الْحُدُودُ وَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَإِنْ زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ وَإِنْ قَتَلَ الْعَبْدَ قُتِلَ بِهِ وَثَبَتَ لَهُ الْمِيرَاثُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ يُوَارِثُهُ فَإِنْ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدَهُ وَجَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ سَيِّدَ الْعَبْدِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ فَشَهِدَ لَهُ عَلَى حَقِّهِ ذَلِكَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُثْبِتُ الْحَقَّ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ حَتَّى تُرَدَّ بِهِ عَتَاقَتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ مَالٌ غَيْرُ الْعَبْدِ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ عَلَى مَا قَالَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَعْتِقُ عَبْدَهُ ثُمَّ يَأْتِي طَالِبُ الْحَقِّ عَلَى سَيِّدِهِ بِشَاهِدٍ وَاحِدٍ فَيَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِهِ ثُمَّ يَسْتَحِقُّ حَقَّهُ وَتُرَدُّ بِذَلِكَ عَتَاقَةُ الْعَبْدِ أَوْ يَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَيِّدِ الْعَبْدِ مُخَالَطَةٌ وَمُلَابَسَةٌ فَيَزْعُمُ أَنَّ لَهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مَالًا فَيُقَالُ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ احْلِفْ مَا عَلَيْكَ مَا ادَّعَى فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَرُدُّ عَتَاقَةَ الْعَبْدِ إِذَا ثَبَتَ الْمَالُ عَلَى سَيِّدِهِ قَالَ وَكَذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَنْكِحُ الْأَمَةَ فَتَكُونُ امْرَأَتَهُ فَيَأْتِي سَيِّدُ الْأَمَةِ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي تَزَوَّجَهَا فَيَقُولُ ابْتَعْتَ مِنِّي جَارِيَتِي فُلَانَةَ أَنْتَ وَفُلَانٌ بِكَذَا وَكَذَا دِينَارًا فَيُنْكِرُ ذَلِكَ زَوْجُ الْأَمَةِ فَيَأْتِي سَيِّدُ الْأَمَةِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَيَشْهَدُونَ عَلَى مَا قَالَ فَيَثْبُتُ بَيْعُهُ وَيَحِقُّ حَقُّهُ وَتَحْرُمُ الْأَمَةُ عَلَى زَوْجِهَا وَيَكُونُ ذَلِكَ فِرَاقًا بَيْنَهُمَا وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لَا تَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَفْتَرِي عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فَيَقَعُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَيَأْتِي رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَيَشْهَدُونَ أَنَّ الَّذِي افْتُرِيَ عَلَيْهِ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَيَضَعُ ذَلِكَ الْحَدَّ عَنْ الْمُفْتَرِي بَعْدَ أَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لَا تَجُوزُ فِي الْفِرْيَةِ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَيْضًا مِمَّا يَفْتَرِقُ فِيهِ الْقَضَاءُ وَمَا مَضَى مِنْ السُّنَّةِ أَنَّ الْمَرْأَتَيْنِ يَشْهَدَانِ عَلَى اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ فَيَجِبُ بِذَلِكَ مِيرَاثُهُ حَتَّى يَرِثَ وَيَكُونُ مَالُهُ لِمَنْ يَرِثُهُ إِنْ مَاتَ الصَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ شَهِدَتَا رَجُلٌ وَلَا يَمِينٌ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ الْعِظَامِ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالرِّبَاعِ وَالْحَوَائِطِ وَالرَّقِيقِ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْأَمْوَالِ وَلَوْ شَهِدَتْ امْرَأَتَانِ عَلَى دِرْهَمٍ وَاحِدٍ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ لَمْ تَقْطَعْ شَهَادَتُهُمَا شَيْئًا وَلَمْ تَجُزْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا شَاهِدٌ أَوْ يَمِينٌ قَالَ مَالِك وَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ لَا تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَيَحْتَجُّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَوْلُهُ الْحَقُّ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ يَقُولُ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَلَا شَيْءَ لَهُ وَلَا يُحَلَّفُ مَعَ شَاهِدِهِ قَالَ مَالِك فَمِنْ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْقَوْلَ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ مَالًا أَلَيْسَ يَحْلِفُ الْمَطْلُوبُ مَا ذَلِكَ الْحَقُّ عَلَيْهِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ وَإِنْ نَكَلَ عَنْ الْيَمِينِ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ إِنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَهَذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَلَا بِبَلَدٍ مِنْ الْبُلْدَانِ فَبِأَيِّ شَيْءٍ أَخَذَ هَذَا أَوْ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَجَدَهُ فَإِنْ أَقَرَّ بِهَذَا فَلْيُقْرِرْ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَّهُ لَيَكْفِي مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنْ السُّنَّةِ وَلَكِنْ الْمَرْءُ قَدْ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ وَجْهَ الصَّوَابِ وَمَوْقِعَ الْحُجَّةِ فَفِي هَذَا بَيَانُ مَا أَشْكَلَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
عمر بن عبدالعزیز نے لکھا عبدالحمید بن عبدالرحمن کو اور وہ عامل تھے کوفہ کے کہ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا کر۔ ام سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست ہے انہوں نے کہا ہاں۔ کہا مالک نے جب مدعی کے پاس ایک گواہ ہو تو اس کی گواہی لے کر مدعی کو قسم دیں گے اگر وہ قسم کھالے گا تو بری ہوجائے گا اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو مدعی کا دعویٰ اس پر ثابت ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ایک قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ کرنا صرف اموال کے عدوے میں ہوگا اور حدود اور نکاح اور طلاق اور عتاق اور سرقہ اور قذف میں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست نہیں اور جس شخص نے عتاق کو اموال کے دعوے میں داخل کیا اس نے غلطی کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو غلام جب ایک گواہ لاتا اس امر پر کہ مولیٰ نے اس کو آزاد کردیا ہے تو چاہیے تھا کہ غلام سے حلف لے کے اس کو آزاد کردیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ جب غلام اپنی آزادی پر ایک گواہ لائے تو اس کے مولیٰ سے حلف لیں گے اگر حلف کرلے گا تو آزادی ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر عورت ایک گواہ لائے اس امر پر کہ اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی تو خاوند سے قسم لیں گے اگر وہ قسم کھائے اس امر پر کہ میں نے طلاق نہیں دی تو طلاق ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر طلاق اور عتاق میں جب ایک گواہ ہو تو خاوند اور مولیٰ پر قسم لازم آئے گی۔ کیونکہ عتاق ایک حد شرعی ہے جس میں عورتوں کی گواہی درست نہیں اس لئے کہ غلام جب آزاد ہوجاتا ہے تو اس کی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کی حدیں اوروں پر پڑتی ہیں اور اوروں کی حدیں اس پر پڑتی ہیں اگر وہ زنا کرے اور محصن ہو تو رجم کیا جائے گا اگر اس کو کوئی مار ڈالے تو قاتل بھی مارا جائے گا اور اس کے وارثوں کو میراث کا استحقاق حاصل ہوگا اگر کوئی حجت کرنے والا یہ کہے کہ مولیٰ جب غلام کو آزاد کر دے پھر ایک شخص اپنا قرض مولیٰ سے مانگنے آئے اور ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے اپنا قرض ثابت کرے تو مولیٰ پر قرضہ ثابت ہوجائے گا اگر مولیٰ کے پاس سوائے اس غلام کے کوئی مال نہ ہوگا تو اس غلام کی آزادی فسخ کر ڈالیں گے اس سے یہ بات نکالی کہ عورتوں کی گواہی عتاق میں درست ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ عورتوں کی گواہی قرضے کے اثبات میں معتبر ہوئی نہ کہ عتاق میں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو آزاد کر دے پھر اس کا قرض خواہ ایک گواہ اور ایک قسم سے اپنا قرضہ مولیٰ پر ثابت کر دے اور اس کی وجہ سے آزادی فسخ کی جائے یا مولیٰ پر قرضے کا دعویٰ کرے اور گواہ نہ رکھتا ہو تو مولیٰ سے قسم لی جائے اور وہ انکار کرے تو مدعی سے قسم لے کر اس کا قرضہ ثابت کردیا جائے اور آزادی فسخ کی جائے اسی طرح ایک شخص نکاح کرے لونڈی سے پھر لونڈی کا مولیٰ خاوند سے کہنے لگے کہ تو نے اور فلاں شخص نے مل کر میری اس لونڈی کو اتنے دینار میں خرید کیا ہے اور خاوند انکار کرے تو مولیٰ ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ لائے اپنے قول پر اس صورت میں بیع ثابت ہوجائے گی۔ اور وہ لونڈی خاوند پر حرام ہوجائے گی۔ اور نکاح فسخ ہوجائے گا حالانکہ طلاق میں عورتوں کی گواہی درست نہیں۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر ایک شخص قذف کرے ایک شخص کو پھر ایک مرد یا دو عورتیں گواہی دیں کہ جس شخص کو قذف کیا ہے وہ غلام ہے تو قاذف کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے گی حالانکہ قذف میں شہادت عورتوں کی درست نہیں۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی مثال ہے کہ وہ عورتیں گواہی دیں بچے کے رونے پر تو اس بچے کے لئے میراث ثابت ہوجائے گی اور جو بچہ مرگیا ہوگا تو اس کے وارثوں کو میراث ملے گی حالانکہ ان دو عورتوں کے ساتھ نہ کوئی مرد ہے نہ قسم ہے اور کبھی میراث کا مال کثیر ہوتا ہے جیسے سونا چاندی زمین، باغ، غلام وغیرہ اگر یہی دو عورتیں ایک درہم پر یا اس سے کم پر بھی گواہی دیں تو ان کی گواہی سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔ جب تک کہ ان کے ساتھ ایک مرد یا ایک قسم نہ ہو۔ کہا مالک نے بعضے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک قسم اور ایک گواہ سے حق ثابت نہیں ہو تو بہ سبب قول اللہ تعالیٰ کے فان لم یکونا رجلین الایہ تو حجت ان لوگوں پر یہ ہے کہ آیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر ایک شخص نے دعویٰ کیا ایک شخص پر مال کا کیا نہیں حلف لیا جاتا مدعی علیہ تو اگر حلف کرتا ہے باطل ہوجاتا ہے اس سے یہ یہ حق اگر نکول کرتا ہے پھر حلف دلاتے ہیں صاحب حق کو تو یہ امر ایسا ہے کہ نہیں ہے اختلاف اس میں کسی کا لوگوں میں سے اور نہ کسی شہر میں شہروں میں سے تو کسی دلیل سے نکالا ہے اس کو اور کس کتاب اللہ میں پایا ہے اس مسئلے کو تو جب اس امر کو اقرار کرے تو ضرور ہی اقرار کرے یمین مع الشاہد کا اگرچہ نہیں ہے یہ کتاب اللہ میں مگر حدیث میں تو موجود ہے آدمی کو چاہیے کہ ٹھیک راستہ پہچانے اور دلیل کا موقع دیکھے اس صورت میں اگر اللہ چاہے گا تو اس کی مشکل حل ہوجائے گی۔
From Malik from Abuz-Zinad that Umar ibn Abdul Aziz wrote to Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab who was the governor of Kufa, "Pronounce judgement on the basis of an oath with one witness."
ایک شخص مر جائے اور اس کا قرض لوگوں پر ہو جس کا ایک گواہ ہو اور لوگوں کا قرض اس پر ہو جس کا ایک گواہ ہو تو کس طررح فیصلہ کرنا چاہے
قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَهْلِکُ وَلَهُ دَيْنٌ عَلَيْهِ شَاهِدٌ وَاحِدٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ لَهُمْ فِيهِ شَاهِدٌ وَاحِدٌ فَيَأْبَی وَرَثَتُهُ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَی حُقُوقِهِمْ مَعَ شَاهِدِهِمْ قَالَ فَإِنَّ الْغُرَمَائَ يَحْلِفُونَ وَيَأْخُذُونَ حُقُوقَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ لَمْ يَکُنْ لِلْوَرَثَةِ مِنْهُ شَيْئٌ وَذَلِکَ أَنَّ الْأَيْمَانَ عُرِضَتْ عَلَيْهِمْ قَبْلُ فَتَرَکُوهَا إِلَّا أَنْ يَقُولُوا لَمْ نَعْلَمْ لِصَاحِبِنَا فَضْلًا وَيُعْلَمُ أَنَّهُمْ إِنَّمَا تَرَکُوا الْأَيْمَانَ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ فَإِنِّي أَرَی أَنْ يَحْلِفُوا وَيَأْخُذُوا مَا بَقِيَ بَعْدَ دَيْنِهِ
کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور وہ لوگوں کا قرضدار ہو جس کا ایک گواہ ہو اور اس کا بھی قرض ایک پر آتا ہو اس کا بھی ایک گواہ ہو اور اس کے وارث قسم کھانے سے انکار کریں تو قرض خواہ قسم کا کر اپنا قرضہ وصول کریں اگر کچھ بچ رہے گا تو وہ وارثوں کو نہ ملے گا کیونکہ انہوں نے قسم نہ کھا کر اپناحق آپ چھوڑ دیا مگر جب وارث یہ کہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ قرض میں سے کچھ بچ رہے گا اسی واسطے ہم نے قسم نہیں کھائی اور حاکم کو معلوم ہوجائے کہ وارثوں نے اسی واسطے قسم نہ کھائی تھی تو اس صورت میں وارث قسم کھا کر جو کچھ مال بچ رہا ہے اس کو کے سکتے ہیں۔
Yahya said that Malik spoke about a man who died and had a debt owing to him and there was one witness, and some people had a debt against him and they had only one witness, and his heirs refused to take an oath on their rights with their witness. He said, "The creditors take an oath and take their rights. If there is anything left over, the heirs do not take any of it. That is because the oaths were offered to them before and they abandoned them, unless they say, We did not know that our companion had extra, and it is known that they only abandoned the oaths because of that. I think that they should take an oath and take what remains after his debt."
عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ أَنَّهُ کَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا جَائَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَی الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ فَإِنْ کَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلَابَسَةٌ أَحْلَفَ الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ شَيْئٌ مِنْ ذَلِکَ لَمْ يُحَلِّفْهُ
جمیل بن عبدالرحمن عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا کرتے تھے جب وہ فیصلہ کرتے تھے لوگوں کا جو شخص کسی پر دعوی کرے گو مدعی اور مدعا علیہ میں یک جائی اور تعلق اور تباط معلوم ہوتا تو مدعا علیہ سے حلف لیتے ورنہ حلف نہ لیتے۔
Yahya said, "Malik said about Jamil ibn Abd ar-Rahman al-Muadhdin that he was present with Umar ibn Abdul Aziz when he was judging between people. If a man came to him with a claim against a man, he examined whether or not there were frequent transactions and dealings between them. If there were, the defendant could make an oath. If there was nothing of that nature he did not accept an oath from him." Malik summed up, "What is done in our community is that if some one makes a claim against a man, it is examined. If there are frequent transactions and dealings between them, the defendant is made to take an oath. If he takes an oath, the claim against him is dropped. If the defendant refuses to take an oath, and returns the oath to the claimant, the one claiming his right takes an oath and takes his due."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ وَلَا تَجُوزُ عَلَی غَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لَا تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِکَ إِذَا کَانَ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا فَإِنْ افْتَرَقُوا فَلَا شَهَادَةَ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يَکُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَی شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُوا
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے۔ کہا مالک نے لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہوگئے ہوں مکر نہ کیا ہو اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں۔
Yahya said, "Malik said from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr gave judgment based on the testimony of children concerning the injuries between them."
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبنر پر جھوٹی قسم کھانے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی مِنْبَرِي آثِمًا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے اس نے اپنا ٹھکانہ نبالیا جہنم میں
Yahya said, Malik related to us from Hisham ibn Hisham ibn Utba ibn Abi Waqqas from Abdullah ibn Nistas from Jabir ibn Abdullah al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If someone swears a false oath near this mimbar of mine, he will take his seat in the fire. "
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبنر پر جھوٹی قسم کھانے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ قَالُوا وَإِنْ کَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی مسلمان کا حق اڑالے جھوٹی قسم کھا کر تو اللہ جنت کو اس پر حرام کرے گا اور جہنم اس کے لئے ضروری کرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ حق تھوڑا ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگر ایک شاخ ہو پیلو کی اگرچہ ایک شاخ ہو پیلو کی اگرچہ ایک شاخ ہو پیلو کی تین بار فرمایا۔
Malik related to me from al-Ala ibn Abd ar-Rahman from Mabad ibn Kab as-Salami from his brother Abdullah ibn Kab ibn Malik al-Ansari from Abu Umama that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever cuts off the right of a muslim man by his oath, Allah forbids him the Garden and obliges the Fire for him." They said, "Even if it is something insignificant, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "Even if it is a tooth-stick, even if it is a tooth-stick," repeating it three times.
منبر پر قسم کھانے کا بیان۔
عَنْ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ وَابْنُ مُطِيعٍ فِي دَارٍ کَانَتْ بَيْنَهُمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَی الْمَدِينَةِ فَقَضَی مَرْوَانُ عَلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَحْلِفُ لَهُ مَکَانِي قَالَ فَقَالَ مَرْوَانُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ قَالَ فَجَعَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ وَيَأْبَی أَنْ يَحْلِفَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ فَجَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ
ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ زید بن ثابت اور عبداللہ بن مطیع نے جھگڑا کیا ایک گھر میں جو دنوں میں مشترک تھا تو لے گئے مقدمہ مروان بن حکم کے پاس وہ ان دنوں میں حاکم تھا مدینہ کا مروانے فیصلہ کیا اس بات پر کہ زید بن ثابت قسم کھائیں منبر شریف پر زید نے کہا میں اپنی جگہ پر قسم کھاؤں گا مروان نے کہا نہیں وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں نے قضیے چکتے ہیں تو زید بن ثابت قسم کھاتے تھے میں سچاہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو تعجب ہوتا تھا۔
Yahya said that Malik had said from Daud ibn al-Husayn that he heard Abu Ghatafan ibn Tarif al-Muriyi say, "Zayd ibn Thabit al-Ansari and Ibn Muti had a dispute about a house which they shared. They went to Marwan ibn al-Hakam who was the Amir of Madina. Marwan decided that Zayd ibn Thabit must take an oath on the mimbar. Zayd ibn Thabit said, I swear to it where I am. Marwan said, No, by Allah! only in the place of sorting out claims (i.e. the mimbar). Zayd ibn Thabit began to take an oath that his right was true, and he refused to take an oath near the mimbar. Marwan ibn al-Hakam began to wonder at that." Malik said, "I do not think that anyone should be made to take an oath near the mimbar for less than a fourth of a dinar, and that is three dirhams."