کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 39 · 69 hadiths · Page 1 of 4

1318Mauwatta Imam Malik

رہن کا روکنا درست نہیں ہے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ قَالَ مَالِک وَتَفْسِيرُ ذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ الرَّهْنَ عِنْدَ الرَّجُلِ بِالشَّيْئِ وَفِي الرَّهْنِ فَضْلٌ عَمَّا رُهِنَ بِهِ فَيَقُولُ الرَّاهِنُ لِلْمُرْتَهِنِ إِنْ جِئْتُکَ بِحَقِّکَ إِلَی أَجَلٍ يُسَمِّيهِ لَهُ وَإِلَّا فَالرَّهْنُ لَکَ بِمَا رُهِنَ فِيهِ قَالَ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَا يَحِلُّ وَهَذَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ وَإِنْ جَائَ صَاحِبُهُ بِالَّذِي رَهَنَ بِهِ بَعْدَ الْأَجَلِ فَهُوَ لَهُ وَأُرَی هَذَا الشَّرْطَ مُنْفَسِخًا

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ روکی جائے گی رہن۔ کہا مالک نے جو شخص باغ رہن کرے ایک میعاد معین پار تو جو پھل اس باغ میں رہن سے پہلے نکل چکے تھے وہ رہن نہ ہوں گے مگر جس صورت میں مرتہن نے شرط کرلی ہو تو وہ پھل بھی رہن رہیں گے اور جو کوئی شخص حاملہ لونڈی کو رہن رکھے یا بعد رہن کے وہ حاملہ ہوجائے تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ رہن رہے گا یہی فرق ہے پھل اور بچے میں اس وسطے کہ پھل بیع میں بھی داخل نہیں ہوتے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے کھجور کے درخت بیچے تو پھل بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کو ملیں گے مگر جب مشتری (خریدنے والا) شرط کرلے۔

Yahya said, "Malik related to us from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The pledge given as security is not forfeited. "

1319Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور جانوروں کے رہن کا بیان

بَاب الْقَضَاءِ فِي رَهْنِ الثَّمَرِ وَالْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِيمَنْ رَهَنَ حَائِطًا لَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَكُونُ ثَمَرُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَبْلَ ذَلِكَ الْأَجَلِ إِنَّ الثَّمَرَ لَيْسَ بِرَهْنٍ مَعَ الْأَصْلِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اشْتَرَطَ ذَلِكَ الْمُرْتَهِنُ فِي رَهْنِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا ارْتَهَنَ جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَوْ حَمَلَتْ بَعْدَ ارْتِهَانِهِ إِيَّاهَا إِنَّ وَلَدَهَا مَعَهَا قَالَ مَالِك وَفُرِقَ بَيْنَ الثَّمَرِ وَبَيْنَ وَلَدِ الْجَارِيَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ وَالْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَاعَ وَلِيدَةً أَوْ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ أَنَّ ذَلِكَ الْجَنِينَ لِلْمُشْتَرِي اشْتَرَطَهُ الْمُشْتَرِي أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ فَلَيْسَتْ النَّخْلُ مِثْلَ الْحَيَوَانِ وَلَيْسَ الثَّمَرُ مِثْلَ الْجَنِينِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخْلِ وَلَا يَرْهَنُ النَّخْلَ وَلَيْسَ يَرْهَنُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ جَنِينًا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مِنْ الرَّقِيقِ وَلَا مِنْ الدَّوَابِّ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے اگر کوئی لونڈی یا جانور بیچے اور اس کے یٹ میں بچہ ہو تو وہ بچہ مشتری (خریدنے والا) کا ہوگا خواہ مشتری (خریدنے والا) اس کی شرط لگائے یا نہ لگائے تو کھجور کا درخت جانور کی مانند نہیں نہ پھل کھجور کے بچے کے مانند ہیں۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ آدمی درخت کے پھلوں کو رہن کرسکتا ہے بغیر درختوں کے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ پیٹ کے بچے کو رہن کرے بغیر اس کی ماں کے آدمی ہو یا جانور۔

Yahya said, "I heard Malik say that if a man pledges his garden for a stated period and the fruits of that garden are ready before the end of that period, the fruits are not included in the pledge with the real estate, unless it is stipulated by the pledger in his pledge. However, if a man receives a slave-girl as a pledge and she is pregnant or she becomes pregnant after his taking her as a pledge, her child is included with her.

1320Mauwatta Imam Malik

جانور کو رہن رکھنے کا بیان

بَاب الْقَضَاءِ فِي الرَّهْنِ مِنْ الْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِي الرَّهْنِ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أَمْرٍ يُعْرَفُ هَلَاكُهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ أَوْ حَيَوَانٍ فَهَلَكَ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ وَعُلِمَ هَلَاكُهُ فَهُوَ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ شَيْئًا وَمَا كَانَ مِنْ رَهْنٍ يَهْلِكُ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ فَلَا يُعْلَمُ هَلَاكُهُ إِلَّا بِقَوْلِهِ فَهُوَ مِنْ الْمُرْتَهِنِ وَهُوَ لِقِيمَتِهِ ضَامِنٌ يُقَالُ لَهُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَى صِفَتِهِ وَتَسْمِيَةِ مَالِهِ فِيهِ ثُمَّ يُقَوِّمُهُ أَهْلُ الْبَصَرِ بِذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ عَمَّا سَمَّى فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أَخَذَهُ الرَّاهِنُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا سَمَّى أُحْلِفَ الرَّاهِنُ عَلَى مَا سَمَّى الْمُرْتَهِنُ وَبَطَلَ عَنْهُ الْفَضْلُ الَّذِي سَمَّى الْمُرْتَهِنُ فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ أَبَى الرَّاهِنُ أَنْ يَحْلِفَ أُعْطِيَ الْمُرْتَهِنُ مَا فَضَلَ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ قَالَ الْمُرْتَهِنُ لَا عِلْمَ لِي بِقِيمَةِ الرَّهْنِ حُلِّفَ الرَّاهِنُ عَلَى صِفَةِ الرَّهْنِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ إِذَا جَاءَ بِالْأَمْرِ الَّذِي لَا يُسْتَنْكَرُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ إِذَا قَبَضَ الْمُرْتَهِنُ الرَّهْنَ وَلَمْ يَضَعْهُ عَلَى يَدَيْ غَيْرِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہوں اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے جیسے زمین اور گھر اور جانور تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا بلکہ راہن کا نقصان ہوگا اور جو شئے مرہوں ایسی ہو جس کا تلف ہوناصرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ) تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا) اب اگر راہن اور مرتہن زر رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا تو خلفاً شئے مرہوں کے اوصاف اور زررہن کو بیان کر جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے اگر قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کرلے گا اگر قیمت زر رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف کرلے گا تو جس قدر مرتہن نے زر رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا اگر مرتہن نے کہا میں شئے مرہوں کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہوں کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے جب کہ وہ کوئی امرخلاف واقعہ بیان نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر ایک شئے دو آدمیوں کے پاس رہن ہو تو ایک مرتہن اپنے دین کا تقاضا کرے اور شئے مرہوں کو بیچنا چاہے اور ایک مرتہن راہن کو مہلت دے اگر شئے مرہوں ایسی ہے کہ اس کے نصف بیچ ڈالنے سے دوسرے مرتہن کا نقصان نہیں ہوتا تو آدھی بیچ کر ایک مرتہن کا دین ادا کردیں گے اور جو نقصان ہوتا ہے تو کل شئے مرہوں کو بیچ کر جو مرتہن تقاضا کرتا ہے اس کو نصف دے دیں گے اور جس مرتہن نے مہلت دی ہے وہ اگر خوشی ہے چاہے تو نصف ثمن کو راہن کے حوالہ کر دے نہیں تو حلف کرے میں نے اس واسطے مہلت دی تھی کہ شئے مرہوں اپنے حال پر میرے پاس رہے پھر اس کا حق اسی وقت ادا کردیا جائے۔ کہا مالک نے اگر غلام کو رہن رکھے تو غلام کا مال راہن لے لے گا مگر جب مرتہن شرط کرلے کہ اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہن رہے۔

Yahya said that he had heard Malik say, "The undisputed way of doing things in our community concerning pledges is that in cases where land or a house or an animal are known to have been destroyed whilst in the possession of the broker of the pledge, and the circumstances of the loss are known, the loss is against the pledger. There is no deduction made from what is due to the broker at all. Any pledge which perishes in the possession of the broker and the circumstances of its loss are only known by his word, the loss is against the broker and he is liable for its value. He is asked to describe whatever was destroyed and then he is made to take an oath about that description and what he loaned on security for it. "Then people of discernment evaluate the description. If the pledge was worth more than what the broker loaned, the pledger takes the extra. If the assessed value of the pledge is less than what he was loaned, the pledger is made to take an oath as to what the broker loaned and he does not have to pay the extra which the broker loaned above the assessed value of the pledge. If the pledger refuses to take an oath, he has to give the broker the extra above the assessed value of the pledge. If the broker says that he doesnt know the value of the pledge, the pledger is made to take an oath on the description of the pledge and that is his if he brings a matter which is not disapproved of." Malik said, "All this applies when the broker takes the pledge and does not put it in the hands of another."

1321Mauwatta Imam Malik

رہن کے مختلف مسائل کا بیان

قَالَ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ ارْتَهَنَ مَتَاعًا فَهَلَکَ الْمَتَاعُ عِنْدَ الْمُرْتَهِنِ وَأَقَرَّ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ بِتَسْمِيَةِ الْحَقِّ وَاجْتَمَعَا عَلَی التَّسْمِيَةِ وَتَدَاعَيَا فِي الرَّهْنِ فَقَالَ الرَّاهِنُ قِيمَتُهُ عِشْرُونَ دِينَارًا وَقَالَ الْمُرْتَهِنُ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَالْحَقُّ الَّذِي لِلرَّجُلِ فِيهِ عِشْرُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِک يُقَالُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الرَّهْنُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقَامَ تِلْکَ الصِّفَةَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِهَا فَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ أَکْثَرَ مِمَّا رُهِنَ بِهِ قِيلَ لِلْمُرْتَهِنِ ارْدُدْ إِلَی الرَّاهِنِ بَقِيَّةَ حَقِّهِ وَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ أَقَلَّ مِمَّا رُهِنَ بِهِ أَخَذَ الْمُرْتَهِنُ بَقِيَّةَ حَقِّهِ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ بِقَدْرِ حَقِّهِ فَالرَّهْنُ بِمَا فِيهِ

کہا مالک نے ایک شخص نے اسباب رہن رکھا وہ مرتہن کے پاس تلف ہوگیا لیکن راہن اور متہن کو زر رہن کی مقدار میں اختلاف نہیں ہے البتہ شئے مرہوں کی قیمت میں اختلاف ہے راہن کہتا ہے اس کی قیمت بیس دینار ہے۔ اور مرتہن کہتا ہے اس کی قیمت دس دینار تھی اور رہن بیس دینار ہے اور مرہن سے کہا جائے گا کہ شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے ایسی شئے کی قیمت دریافت کریں اگر وہ قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو مرتہن سے کہا جائے گا جس قدر زیادہ ہے وہ راہن کو دے اگر قیمت کم ہے تو مرتہن جس قدر کم ہے راہن سے لے لے اگر برابر ہے تو خیر قصہ چکا نہ یہ کچھ دے نہ وہ کچھ دے۔

Yahya said that he heard Malik speak about someone who pledged goods as security for a loan, and they perished with the broker. The one who took out the loan confirmed its specification. They agreed on the amount of the loan, but challenged each other about the value of the pledge, the pledger saying that it had been worth twenty dinars, whilst the broker said that it had been worth only ten, and that the amount loaned on security was twenty dinars. Malik said, "It is said to the one in whose hand the pledge is, describe it. If he describes it he is made to take an oath on it and then the people of experience evaluate that description. If the value is more than what was loaned on security for it, it is said to the broker, Return the rest of his due to the pledger. If the value is less than what was loaned on security for it, the broker takes the rest of his due from the pledger. If the value is the exact amount of the loan, the pledge is compensated for by the loan."

1322Mauwatta Imam Malik

رہن کے مختلف مسائل کا بیان

قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلَيْنِ يَخْتَلِفَانِ فِي الرَّهْنِ يَرْهَنُهُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَيَقُولُ الرَّاهِنُ أَرْهَنْتُکَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيَقُولُ الْمُرْتَهِنُ ارْتَهَنْتُهُ مِنْکَ بِعِشْرِينَ دِينَارًا وَالرَّهْنُ ظَاهِرٌ بِيَدِ الْمُرْتَهِنِ قَالَ يُحَلَّفُ الْمُرْتَهِنُ حَتَّی يُحِيطَ بِقِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ لَا زِيَادَةَ فِيهِ وَلَا نُقْصَانَ عَمَّا حُلِّفَ أَنَّ لَهُ فِيهِ أَخَذَهُ الْمُرْتَهِنُ بِحَقِّهِ وَکَانَ أَوْلَی بِالتَّبْدِئَةِ بِالْيَمِينِ لِقَبْضِهِ الرَّهْنَ وَحِيَازَتِهِ إِيَّاهُ إِلَّا أَنْ يَشَائَ رَبُّ الرَّهْنِ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ الَّذِي حُلِّفَ عَلَيْهِ وَيَأْخُذَ رَهْنَهُ قَالَ وَإِنْ کَانَ الرَّهْنُ أَقَلَّ مِنْ الْعِشْرِينَ الَّتِي سَمَّی أُحْلِفَ الْمُرْتَهِنُ عَلَی الْعِشْرِينَ الَّتِي سَمَّی ثُمَّ يُقَالُ لِلرَّاهِنِ إِمَّا أَنْ تُعْطِيَهُ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ وَتَأْخُذَ رَهْنَکَ وَإِمَّا أَنْ تَحْلِفَ عَلَی الَّذِي قُلْتَ أَنَّکَ رَهَنْتَهُ بِهِ وَيَبْطُلُ عَنْکَ مَا زَادَ الْمُرْتَهِنُ عَلَی قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ حَلَفَ الرَّاهِنُ بَطَلَ ذَلِکَ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يَحْلِفْ لَزِمَهُ غُرْمُ مَا حَلَفَ عَلَيْهِ الْمُرْتَهِنُ

کہا مالک نے اگر شئے مرہوں موجود ہو لیکن راہن زر رہن دس دینار بیان کرے اور مرتہن بیس دینار تو مرتہن حلف اٹھائے اگر شئے مرہوں کی بیس دینار قیمت ہو تو اسی شئے مرہوں کو اپنے دین کے بدلے میں لے لے البتہ اگر راہن بیس دینارادا کر کے اپنی شئے لینا چاہے تو لے سکتا ہے اگر اس شئے مرہوں کی قیمت بیس دینار سے کم ہو تو مرتہن سے حلف لے پھر راہن کو اختیار ہے یا بیس دینار دے کر اپنی شئے لے لے یا خود بھی حلف اٹھائے کہ میں نے اتنے پر رہن کی تھی اگر حلف اٹھائے تو جس قدر شئے مرہوں کی قیمت سے مرتہن نے دین زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمے سے ساقط ہوجائے گا ورنہ دینار پڑے گا۔

Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about two men who have a dispute about an amount of money loaned on the security of a pledge - the pledger claiming that he pledged it for ten dinars and the broker insisting that he took the pledge as security for twenty dinars, and the pledge is clearly in the possession of the broker - is that the broker is made to take an oath when the value of the pledge is fully known. If the value of the pledge is exactly what he swore that he had loaned on security for it, the broker takes the pledge as his right. He is more entitled to take precedence with an oath since he has possession of the pledge. If the owner of the pledge wants to give him the amount which he swore that he was owed, he can take the pledge back. If the pledge is worth less than the twenty dinars he loaned, then it is said to the pledger, Either you give him what he has sworn to and take your pledge back, or you swear to what you said you pledged it for. If the pledger takes the oath, then what the broker has increased over the value of the pledge will become invalid. If the pledger does not take an oath, he must pay what the broker swore to."

1323Mauwatta Imam Malik

رہن کے مختلف مسائل کا بیان

قَالَ مَالِک فَإِنْ هَلَکَ الرَّهْنُ وَتَنَاکَرَا الْحَقَّ فَقَالَ الَّذِي لَهُ الْحَقُّ کَانَتْ لِي فِيهِ عِشْرُونَ دِينَارًا وَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ لَمْ يَکُنْ لَکَ فِيهِ إِلَّا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَقَالَ الَّذِي لَهُ الْحَقُّ قِيمَةُ الرَّهْنِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ قِيمَتُهُ عِشْرُونَ دِينَارًا قِيلَ لِلَّذِي لَهُ الْحَقُّ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَی صِفَتِهِ ثُمَّ أَقَامَ تِلْکَ الصِّفَةَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِهَا فَإِنْ کَانَتْ قِيمَةُ الرَّهْنِ أَکْثَرَ مِمَّا ادَّعَی فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أُحْلِفَ عَلَی مَا ادَّعَی ثُمَّ يُعْطَی الرَّاهِنُ مَا فَضَلَ مِنْ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ کَانَتْ قِيمَتُهُ أَقَلَّ مِمَّا يَدَّعِي فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أُحْلِفَ عَلَی الَّذِي زَعَمَ أَنَّهُ لَهُ فِيهِ ثُمَّ قَاصَّهُ بِمَا بَلَغَ الرَّهْنُ ثُمَّ أُحْلِفَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ عَلَی الْفَضْلِ الَّذِي بَقِيَ لِلْمُدَّعَی عَلَيْهِ بَعْدَ مَبْلَغِ ثَمَنِ الرَّهْنِ وَذَلِکَ أَنَّ الَّذِي بِيَدِهِ الرَّهْنُ صَارَ مُدَّعِيًا عَلَی الرَّاهِنِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ عَنْهُ بَقِيَّةُ مَا حَلَفَ عَلَيْهِ الْمُرْتَهِنُ مِمَّا ادَّعَی فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ نَکَلَ لَزِمَهُ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ

کہا مالک نے اگر وہ شئے مرہوں سے تلف ہوگئی اب اختلاف ہوا زرہن کی مقدا اور شئے مرہوں کی قیمتیں مرتہن نے کہا زر رہن بیس دینار تھا اور شئے مرہوں کی قیمت دس دینار تھی اور راہن نے کہا زر رہن دس دینار تھا اور شئے مرہوں کی قیمت بیس دینار تھی تو مرتہن سے کہیں گے شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے قیمت کا اندازہ کرائیں اگر قیمت بیس دینار سے زیادہ (مثلاتیس دینار ہو) تو مرتہن سے حلف لے کر جس قدر قیمت زیادہ (مثلادس دینار) راہن کو دلادیں گے اگر قیمت بیس کم ہو (مثلا پندرہ دینار) تو مرتہن سے زر رہن پر حلف لے کر جس قدر قیمت ہے وہ گویا مرتہن کو وصول ہوچکی باقی کے واسطے راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف اٹھائے گا تو مرتہن راہن سے کچھ نہ لے سکے گا اگر حلف نہ اٹھالے تو بیس دینار میں جتنا کم ہے وہ راہن سے مرتہن کو دلادیں گے۔

Malik said, "If a pledge given on security for a loan perishes, and both parties deny each others rights, with the broker who is owed the loan saying that he gave twenty dinars, and the pledger who owes the loan saying that he was given only ten, and with the broker who is owed the loan saying the pledge was worth ten dinars, and the broker who owes the loan saying it was worth twenty, then the broker who is owed the loan is asked to describe the pledge. If he describes it, he must take an oath on its description. Then people with experience of it evaluate that description. If the value of the pledge is estimated to be more than what the broker claims it was, he takes an oath as to what he claimed, and the pledger is given what is over from the value of the pledge. If its value is less than what the broker claims of it, he is made to take an oath as to what he claims is his. Then he demands settlement according to the actual value of the pledge. The one who owes the loan is then made to take an oath on the extra amount which remains owing against him to the claimant after the price of the pledge is reached. That is because the broker becomes a claimant against the pledger. If he takes an oath, the rest of what the broker swore to of what he claimed above the value of the pledge is invalidated. If he draws back, he is bound to pay what remains due to the broker after the value of the pledge."

1324Mauwatta Imam Malik

جانور کو کرایہ پر لینے اور اس میں زیادت کرنے کا بیان

قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَسْتَکْرِي الدَّابَّةَ إِلَی الْمَکَانِ الْمُسَمَّی ثُمَّ يَتَعَدَّی ذَلِکَ الْمَکَانَ وَيَتَقَدَّمُ إِنَّ رَبَّ الدَّابَّةِ يُخَيَّرُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ کِرَائَ دَابَّتِهِ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي تُعُدِّيَ بِهَا إِلَيْهِ أُعْطِيَ ذَلِکَ وَيَقْبِضُ دَابَّتَهُ وَلَهُ الْکِرَائُ الْأَوَّلُ وَإِنْ أَحَبَّ رَبُّ الدَّابَّةِ فَلَهُ قِيمَةُ دَابَّتِهِ مِنْ الْمَکَانِ الَّذِي تَعَدَّی مِنْهُ الْمُسْتَکْرِي وَلَهُ الْکِرَائُ الْأَوَّلُ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَی الدَّابَّةَ الْبَدْأَةَ فَإِنْ کَانَ اسْتَکْرَاهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ثُمَّ تَعَدَّی حِينَ بَلَغَ الْبَلَدَ الَّذِي اسْتَکْرَی إِلَيْهِ فَإِنَّمَا لِرَبِّ الدَّابَّةِ نِصْفُ الْکِرَائِ الْأَوَّلِ وَذَلِکَ أَنَّ الْکِرَائَ نِصْفُهُ فِي الْبَدْأَةِ وَنِصْفُهُ فِي الرَّجْعَةِ فَتَعَدَّی الْمُتَعَدِّي بِالدَّابَّةِ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ إِلَّا نِصْفُ الْکِرَائِ الْأَوَّلِ وَلَوْ أَنَّ الدَّابَّةَ هَلَکَتْ حِينَ بَلَغَ بِهَا الْبَلَدَ الَّذِي اسْتَکْرَی إِلَيْهِ لَمْ يَکُنْ عَلَی الْمُسْتَکْرِي ضَمَانٌ وَلَمْ يَکُنْ لِلْمُکْرِي إِلَّا نِصْفُ الْکِرَائِ قَالَ وَعَلَی ذَلِکَ أَمْرُ أَهْلِ التَّعَدِّي وَالْخِلَافِ لِمَا أَخَذُوا الدَّابَّةَ عَلَيْهِ قَالَ وَکَذَلِکَ أَيْضًا مَنْ أَخَذَ مَالًا قِرَاضًا مِنْ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ لَا تَشْتَرِ بِهِ حَيَوَانًا وَلَا سِلَعًا کَذَا وَکَذَا لِسِلَعٍ يُسَمِّيهَا وَيَنْهَاهُ عَنْهَا وَيَکْرَهُ أَنْ يَضَعَ مَالَهُ فِيهَا فَيَشْتَرِي الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَضْمَنَ الْمَالَ وَيَذْهَبَ بِرِبْحِ صَاحِبِهِ فَإِذَا صَنَعَ ذَلِکَ فَرَبُّ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ مَعَهُ فِي السِّلْعَةِ عَلَی مَا شَرَطَا بَيْنَهُمَا مِنْ الرِّبْحِ فَعَلَ وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ رَأْسُ مَالِهِ ضَامِنًا عَلَی الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ وَتَعَدَّی قَالَ وَکَذَلِکَ أَيْضًا الرَّجُلُ يُبْضِعُ مَعَهُ الرَّجُلُ بِضَاعَةً فَيَأْمُرُهُ صَاحِبُ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِيَ لَهُ سِلْعَةً بِاسْمِهَا فَيُخَالِفُ فَيَشْتَرِي بِبِضَاعَتِهِ غَيْرَ مَا أَمَرَهُ بِهِ وَيَتَعَدَّی ذَلِکَ فَإِنَّ صَاحِبَ الْبِضَاعَةِ عَلَيْهِ بِالْخِيَارِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ مَا اشْتُرِيَ بِمَالِهِ أَخَذَهُ وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ الْمُبْضِعُ مَعَهُ ضَامِنًا لِرَأْسِ مَالِهِ فَذَلِکَ لَهُ

کہا مالک نے اگر کوئی شخص جانور کرایہ پر لے اس اقرار سے کہ فلاں مقام تک جاؤں گا پھر اس سے آگے بڑھ جائے تو جانور کے مالک کو اختیار ہے کہ اگر چاہے جتنا آگے گیا ہے اتنی دور کا کرایہ دستور کے موافق اور لے لے نہیں تو اپنے جانور کی قیمت اس دن کی اور اس مقام کی جہاں تک جانا ٹھہرا تھا کرایہ دار سے لے لے اور کرایہ جو پہلے ٹھہرچکا تھا وہ بھی لے لے اگر صرف جانے پر کرایہ ہوا تھا اور جو آنے پر کرایہ ہوا تھا تو جو کرایہ ٹھہرا تھا اس کا نصف لے کیونکہ نصف کرایہ جانے کا تھا اور نصف آنے کا اور جس وقت کرایہ دارنے زیادتی کی اس وقت اس پر نصف ہی کرایہ واجب ہوا تھا اگر کرایہ دارنے آنے جانے کے لئے جانور کرایہ پر لیا اور جب جانے کی جگہ پہنچا تو وہ جانور مرگیا تو کرایہ دار پر تاوان نہ ہوگا اور مالک کو نصف کرایہ ملے گا اسی طرح اگر رب المال مضا رب کو منع کر دے کہ فلاں فلاں مال نہ خریدنا اور مضارب وہی خریدے اس خیال سے کہ میں ضمان دے دوں گا اور نفع سارا مار کھاؤں گا تو رب المال کو اختیار ہے چاہے اس سے مال میں مضاربت قائم رکھے چاہے اپنا رائس المال پھیرلے اسی طرح نضاعت میں صاحب مال اگر یہ کہے کہ فلاں فلاں مال خریدنا اور وہ شخص دوسرا مال خریدے تو صاحب مال کو اختیار ہے چاہے اسی مال کو اپنا سمجھے یا اپنا رائس المال پھیرلے۔

Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about a man who rents an animal for a journey to a specified place and then he goes beyond that place and further, is that the owner of the animal has a choice. If he wants to take extra rent for his animal to cover the distance overstepped, he is given that on top of the first rent and the animal is returned. If the owner of the animal likes to sell the animal from the place where he over-steps, he has the price of the animal on top of the rent. If, however, the hirer rented the animal to go and return and then he overstepped when he reached the city to which he rented him, the owner of the animal only has half the first rent. That is because half of the rent is going, and half of it is returning. If he oversteps with the animal, only half of the first rent is obliged for him. Had the animal died when he reached the city to which it was rented, the hirer would not be liable and the renter would only have half the rent." Malik said, "That is what is done with people who overstep and dispute about what they took the animal for." Malik said, "It is also like that with some one who takes qirad-money from his companion. The owner of the property says to him, Do not buy such-and-such animals or such-and-such goods. He names them and forbids them and disapproves of his money being invested in them. The one who takes the money then buys what he was forbidden. By that, he intends to be liable for the money and take the profit of his companion. When he does that, the owner of the money has an option. If he wants to enter with him in the goods according to the original stipulations between them about the profit, he does so. If he likes, he has his capital guaranteed against the one who took the capital and over stepped the mark." Malik said, "It is also like that with a man with whom another man invests some goods. The owner of the property orders him to buy certain goods for him which he names. He differs, and buys with the goods something other than what he was ordered to buy. He exceeded his orders. The owner of the goods has an option. If he wants to take what was bought with his property, he takes it. If he wants the partner to be liable for his capital he has that."

1325Mauwatta Imam Malik

جس عورت سے جبرا کوئی جماع کرے تو کیا حکم ہے۔

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ قَضَی فِي امْرَأَةٍ أُصِيبَتْ مُسْتَکْرَهَةً بِصَدَاقِهَا عَلَی مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ بِهَا

ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حکم دیا ایک عورت کے مہر دینے کا اس شخص پر جس نے اس سے جبرا جماع کیا تھا۔

Malik related to me from Ibn Shihab that Abdul Malik ibn Marwan gave a judgment that the rapist had to pay the raped woman her bride-price.

1326Mauwatta Imam Malik

جس عورت سے جبرا کوئی جماع کرے تو کیا حکم ہے۔

قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَغْتَصِبُ الْمَرْأَةَ بِکْرًا کَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا إِنَّهَا إِنْ کَانَتْ حُرَّةً فَعَلَيْهِ صَدَاقُ مِثْلِهَا وَإِنْ کَانَتْ أَمَةً فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَالْعُقُوبَةُ فِي ذَلِکَ عَلَی الْمُغْتَصِبِ وَلَا عُقُوبَةَ عَلَی الْمُغْتَصَبَةِ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ وَإِنْ کَانَ الْمُغْتَصِبُ عَبْدًا فَذَلِکَ عَلَی سَيِّدِهِ إِلَّا أَنْ يَشَائَ أَنْ يُسَلِّمَهُ قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ أَنَّ عَلَيْهِ قِيمَتَهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُؤْخَذَ بِمِثْلِهِ مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَا يَکُونُ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهُ فِيمَا اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَکِنْ عَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ الْقِيمَةُ أَعْدَلُ ذَلِکَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الطَّعَامِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ فَإِنَّمَا يَرُدُّ عَلَی صَاحِبِهِ مِثْلَ طَعَامِهِ بِمَکِيلَتِهِ مِنْ صِنْفِهِ وَإِنَّمَا الطَّعَامُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يَرُدُّ مِنْ الذَّهَبِ الذَّهَبَ وَمِنْ الْفِضَّةِ الْفِضَّةَ وَلَيْسَ الْحَيَوَانُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ قَالَ مَالِک يَقُولُ إِذَا اسْتُوْدِعَ الرَّجُلُ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ لِنَفْسِهِ وَرَبِحَ فِيهِ فَإِنَّ ذَلِکَ الرِّبْحَ لَهُ لِأَنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ حَتَّی يُؤَدِّيَهُ إِلَی صَاحِبِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص کسی عورت کو غصب کرے بکر ہو یا ثیبہ اگر وہ آزاد ہے تو اس پر مہر مثل لازم ہے اور اگر لونڈی ہے تو جتنی قیمت اس کی جماع کی وجہ سے کم ہوگئی دینا ہوگا اور اس کے ساتھ غصب کرنے والے کو سزا بھی ہوگی لیکن لونڈی کو سزا نہ ہوگی۔ اگر غلام نے کسی کی لونڈی غصب کرکے یہ کام کیا تو تاوان اس کے مولیٰ پر ہوگا مگر جب مولیٰ اس غلام کو جنایت کے بدلے میں دے ڈالے۔ یحییٰ نے نقل کیا کہ کہا مالک نے جو شخص مالک سے بن پوچھے اس کے جانور کو ہلاک کر دے تو اسے دن کی قیمت دینی ہوگی نہ کہ اس کے مانند اور جانو اور اسی طرح مالک کو جانور کے بدلے میں ہمیشہ اسی دن کی قیمت دی جائے گی نہ کہ جانوریہی حکم ہے اور اسباب کا۔ کہا مالک نے البتہ اگر کسی کا اناج تلف کر دے تو اسی قسم کا اتنا ہی اناج دے دے کیونکہ چاندی سونے (جن کا مثل اور بدل ہوا کرتا ہے) کے مشابہ ہے نہ کہ جانور کے۔ کہا مالک نے اگر امانت کے روپوں سے کچھ مال خریدا اور نفع کمایا تو وہ نفع اس شخص کا ہوجائے گا جس کے پاس روپے امانت تھے مالک کو دینا ضروری نہیں کیونکہ اس نے جھ امانت میں تصرف کیا تو وہ اس کا ضامن ہوگیا۔

Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about the man who rapes a woman, virgin or non-virgin, if she is free, is that he must pay the bride-price of the like of her. If she is a slave, he must pay what he has diminished of her worth. The hadd-punishment in such cases is applied to the rapist, and there is no punishment applied to the raped woman. If the rapist is a slave, that is against his master unless he wishes to surrender him."

1327Mauwatta Imam Malik

مرتد کا حکم

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ وَمَعْنَی قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ عَنْ مَالِک أَنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ مِثْلُ الزَّنَادِقَةِ وَأَشْبَاهِهِمْ فَإِنَّ أُولَئِکَ إِذَا ظُهِرَ عَلَيْهِمْ قُتِلُوا وَلَمْ يُسْتَتَابُوا لِأَنَّهُ لَا تُعْرَفُ تَوْبَتُهُمْ وَأَنَّهُمْ کَانُوا يُسِرُّونَ الْکُفْرَ وَيُعْلِنُونَ الْإِسْلَامَ فَلَا أَرَی أَنْ يُسْتَتَابَ هَؤُلَائِ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ قَوْلُهُمْ وَأَمَّا مَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِکَ فَإِنَّهُ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا قُتِلَ وَذَلِکَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا کَانُوا عَلَی ذَلِکَ رَأَيْتُ أَنْ يُدْعَوْا إِلَی الْإِسْلَامِ وَيُسْتَتَابُوا فَإِنْ تَابُوا قُبِلَ ذَلِکَ مِنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَتُوبُوا قُتِلُوا وَلَمْ يَعْنِ بِذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْيَهُودِيَّةِ إِلَی النَّصْرَانِيَّةِ وَلَا مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ إِلَی الْيَهُودِيَّةِ وَلَا مَنْ يُغَيِّرُ دِينَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ کُلِّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ فَمَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِکَ فَذَلِکَ الَّذِي عُنِيَ بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے تو اس کی گردن مارو۔ کہا مالک نے رسول اللہ ﷺ نے یہ جو فرمایا جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اس کی گردن مارو ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں جو مسلمان اسلام سے باہر ہوجائیں جیسے زنادقہ یا ان کی مانند تو جب مسلمان ان پر غلبہ پائیں تو ان کو قتل کردیں یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے ان سے توبہ کرنے کو کہیں کیونکہ ان کی توبہ کا اعتبار نہیں ہوسکتا وہ کفر کو اپنے دل میں رکھتے ہیں اور ظاہر میں اپنے تئیں مسلمان کہتے ہیں لیکن اگر مسلمان شخص (کسی شبہ کی وجہ سے) علانیہ دین اسلام سے پھر جائے تو اس سے توبہ کرائیں (اور جو شبہ ہوا ہو اس کو دور کردیں) اگر توبہ کرے تو بہتر۔ ورنہ قتل کیا جائے اور جو کافر ایک کفر کے دین کو چھوڑ کر دوسرا کفر کا دین اختیار کرے مثلا پہلے یہودی تھا پھر نصرانی ہوجائے تو اس کو قتل نہ کریں گے بلکہ جو دین اسلام کو چھوڑ کر اور کوئی دین اختیار کرے گا اسی کے لئے یہ سزا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If someone changes his deen - strike his neck!"

1328Mauwatta Imam Malik

مرتد کا حکم

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَسَأَلَهُ عَنْ النَّاسِ فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ هَلْ کَانَ فِيکُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ فَقَالَ نَعَمْ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ قَالَ فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ قَالَ قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ فَقَالَ عُمَرُ أَفَلَا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا وَأَطْعَمْتُمُوهُ کُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا وَاسْتَتَبْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ وَيُرَاجِعُ أَمْرَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي

محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص آیا ابوموسیٰ اشعری کے پاس سے حضرت عمر نے اس سے وہاں کے لوگوں کا حال پوچھا اس نے بیان کیا پھر حضرت عمر نے کہا تم کو کوئی نادر چیز معلوم ہے وہ شخص بولا ہاں ایک شخص کافر ہوگیا تھا بعد اسلام کے حضرت عمر نے پوچھا تم نے اس سے کیا کیا وہ شخص بولا ہم نے اسے پکڑا اور اس کی گردن ماردی حضرت عمر نے کہا تم نے اس کو تین دن تک قید کیا ہوتا اور ہر روز روٹی دی ہوتی پھر توبہ کروائی ہوتی شائدوہ توبہ کرتا اور پھر اللہ کے حکم مان لیتا پھر حضرت عمر نے فرمایا یا اللہ میں اس وقت وہاں موجود نہ تھا میں نے حکم کیا نہ میں خوش ہوا جب کہ مجھے معلوم ہوا۔

Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Muhammad ibn Abdullah ibn Abdul Qari that his father said, "A man came to Umar ibn al-Khattab from Abu Musa al-Ashari (RA). Umar asked after various people, and he informed him. Then Umar inquired, Do you have any recent news? He said, Yes. A man has become a kafir after his Islam. Umar asked, What have you done with him? He said, We let him approach and struck off his head. Umar said, Didnt you imprison him for three days and feed him a loaf of bread every day and call on him to tawba that he might turn in tawba and return to the command of Allah? Then Umar said, O Allah! I was not present and I did not order it and I am not pleased since it has come to me! "

1329Mauwatta Imam Malik

جو شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو پائے اس کا کیا حکم ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أَأُمْهِلُهُ حَتَّی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں کیا میں اس کو مہلت دوں یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں فرمایا آپ ﷺ نے ہاں۔

Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih as-Samman from his father from Abu Hurayra that Sad ibn Ubadah said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "What do you think if I find a man with my wife? Shall I grant him a respite until I bring four witnesses?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, replied, "Yes."

1330Mauwatta Imam Malik

جو شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو پائے اس کا کیا حکم ہے

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ خَيْبَرِيٍّ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهُمَا مَعًا فَأَشْکَلَ عَلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَضَائُ فِيهِ فَکَتَبَ إِلَی أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ ذَلِکَ فَسَأَلَ أَبُو مُوسَی عَنْ ذَلِکَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ هَذَا الشَّيْئَ مَا هُوَ بِأَرْضِي عَزَمْتُ عَلَيْکَ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَی کَتَبَ إِلَيَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے شام والوں میں سے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا تو مار ڈالا اس مرد کو یا مرد عورت دونوں کو معاویہ بن ابی سفیان ان کو اس فیصلہ دشوار ہوا انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ تم حضرت علی ؓ سے اس مسئلہ کو پوچھو ابوموسیٰ نے حضرت علی ؓ سے پوچھا حضرت علی نے کہا یہ واقعہ میرے ملک میں نہیں ہوا میں تم کو قسم دیتا ہوں تم سچ بیان کرو کہاں یہ امر ہوا ابوموسیٰ نے کہا مجھے معاویہ بن سفیان نے لکھا ہے کہ میں تم سے اس مسئلہ کو پوچھوں حضرت علی نے کہا میں ابوا لحسن ہوں اگر چار گواہ نہ لائے تو قتل پر راضی ہوجائے۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that a Syrian man called Ibn Khaybari found a man with his wife and killed him, or killed them both. Muawiya ibn Abi Sufyan found it difficult to make a decision and he wrote to Abu Musa al-Ashari (RA) to ask Ali ibn Abi Talib for him about that. So Abu Musa asked Ali ibn Abi Talib and AIi said to him, "Is this thing in my land? I adjure you, you must tell me." Abu Musa explained to him how Muawiya ibn Abi Sufyan had written him to ask Ali about it. Ali said, "I am Abu Hasan. If he does not bring four witnesses, then let him be completely handed over," (to the relatives of the murdered man).

1331Mauwatta Imam Malik

منبوذ کا حکم

عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلَی أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ فَقَالَ وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا فَقَالَ لَهُ عَرِيفُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَکَذَلِکَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ وَلَکَ وَلَاؤُهُ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمَنْبُوذِ أَنَّهُ حُرٌّ وَأَنَّ وَلَائَهُ لِلْمُسْلِمِينَ هُمْ يَرِثُونَهُ وَيَعْقِلُونَ عَنْهُ

سنین بن ابی جمیلہ نے ایک منبوذ پایا حضرت عمر کے زمانے میں انہوں نے کہا میں اس کو حضرت عمر کے پاس لے آیا حضرت عمر نے پوچھا تو نے اس کو کیوں اٹھایا میں نے کہا یہ پڑے پڑے مرجاتا اس واسطے میں نے اٹھا لیا اتنے میں حضرت عمر کے عریف نے کہا اے امیر المومنین میں اس شخص کو جانتا ہوں نیک آدمی ہے حضرت عمر نے کہا نیک ہے اس نے کہا ہاں حضرت عمر نے کہا جادہ مبنوذ آزاد ہے تجھ کو اس کی ولا ملے گی اور ہم اس کا خرچ دیں گے۔ کہا مالک نے منبوذ آزاد رہے گا اور ولاء اس کی مسلمانوں کو ملے گی وہی اس کے وارث ہوں گے وہی اس کی طرف سے دیت بھی دیں گے۔

Yahya said that Malik related from Ibn Shihab that Sunayn Abi Jamila, a man from the Banu Sulaym, found an abandoned child in the time of Umar ibn al-Khattab. Sunayn took him to Umar ibn al-Khattab. He asked, "What has induced you to take this person?" He answered, "I found him lost, so I took him. Umars advisor said to him, Amir al-Muminin! He is a man who does good." Umar inquired of him, "Is it so?" He replied, "Yes." Umar ibn al-Khattab said, "Go, he is free, and you have his wala inheritance, and we will provide for him."

1332Mauwatta Imam Malik

لڑکے کو باپ سے ملانے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَی أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْکَ قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ وَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ کَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي قَدْ کَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ فَمَا رَآهَا حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ عتبہ بن ابی وقاص نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرے نطفہ سے ہے تو اس کو اپنے پاس رکھیوں تو جب مکہ فتح ہوا تو سعد نے اس لڑکے کو لے لیا اور کہا میرے بھائی کا بیٹا ہے اس نے وصیت کی تھی اس کے لینے کی عبد زمعہ نے کہا یہ لڑکا میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے دونوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ بیٹا ہے میرے بھائی کا اس نے مجھے وصیت کی تھی اور میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبد زمعہ سے کہ یہ لڑکا تیرا ہے پھر فرمایا لڑکا ماں کے خاوند یا مالک کا ہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے لئے پتھر ہیں پھر سودہ بنت زمعہ سے کہا کہ تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ وہ لڑکا مشابہ تھا عتبہ بن ابی وقاص کے سو اس لڑکے نے نہ دیکھا سودہ کر یہاں تک کہ انتقال ہوا اس کا۔

Yahya said from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, Utba ibn Abi Waqqas disclosed to his brother, Sad ibn Abi Waqqas, that he was the father of the son of the slave-girl of Zama, and made him promise to look after him (after his death). In the year of the conquest, Sad took him and said, He is the son of my brother. He covenanted with me about him. Abd ibn Zama stood up and said, He is my brother and the son of my fathers slave-girl. He was born on his bed. They went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. Sad said, Messenger of Allah! He is the son of my brother, he made a covenant with me about him. Abd ibn Zama said, He is my brother and the son of my fathers slave-girl and was born on my fathers bed. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, He is yours, Abd ibn Zama. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, A child belongs to the household (where he was born) and the adulterer is stoned. Then he told Sawda bint Zama, Veil yourself from him, since he saw in him a resemblance to Utba ibn Abi Waqqas." Aisha added, "He did not see her until he met Allah, the Mighty, the Majestic!"

1333Mauwatta Imam Malik

لڑکے کو باپ سے ملانے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ امْرَأَةً هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَکَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفَ شَهْرٍ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَائَ زَوْجُهَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَدَعَا عُمَرُ نِسْوَةً مِنْ نِسَائِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَائَ فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ مِنْهُ فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ الدِّمَائُ فَحَشَّ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَکَحَهَا وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَائُ تَحَرَّکَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا وَکَبِرَ فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْکُمَا إِلَّا خَيْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأَوَّلِ

عبداللہ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند مرگیا تو اس نے چار مہینے دس دن تک عدت کی پھر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا ابھی اس کے پاس ساڑھے چار مہینے رہی تھی کہ ایک لڑکا جنا حاصا پورا تو اس کا خاوند حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے یہ حال بیان کیا حضرت عمر نے اپنی پرانی عورتوں کو جاہلیت کے زمانے میں تھیں بلوایا اور ان سے پوچھا ان میں سے ایک عورت بولی میں تم کو اس عورت کا حالات باتی ہوں یہ حاملہ ہوگئی تھی اپنے پہلے خاوند سے جو مرگیا تو حیض کا خون بچے پر پڑتے پڑتے وہ بچہ سوکھ گیا تھا اس کے پیٹ میں تو جب اس نے دوسرا نکاح کیا مر کی منہ پہنچے سے پھر بچے کو حرکت ہوئی اور بڑا ہوگیا حضرت عمر نے اس کی تصدیق کی اور نکاح توڑ ڈالا تو فرمایا کہ خیر ہوئی تمہاری کوئی بری بات مجھے نہیں پہنچی اور لڑکے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت کیا،۔

Malik related to me from Yazid ibn Abdullah ibn al-Hadi from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith at-Taymi from Sulayman ibn Yasar from Abdullah ibn Abi Umayya that a womans husband died, and she did the idda of four months and ten days. Then she married when she was free to marry. She stayed with her husband for four and a half months, then gave birth to a fully developed child. Her husband went to Umar ibn al-Khattab and mentioned that to him, so Umar called some of the old women of the Jahiliyya and asked them about that. One of the women said, "I will tell you what happened with this woman. When her husband died, she was pregnant by him, but then the blood flowed from her because of his death and the child became dry in her womb. When her new husband had intercourse with her and the water reached the child, the child moved in the womb and grew." Umar ibn al-Khattab believed her and separated them (until she had completed her idda). Umar said, "Only good has reached me about you two," and he connected the child to the first husband.

1334Mauwatta Imam Malik

لڑکے کو باپ سے ملانے کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يُلِيطُ أَوْلَادَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنْ ادَّعَاهُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَتَی رَجُلَانِ کِلَاهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَائِفًا فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَقَالَ الْقَائِفُ لَقَدْ اشْتَرَکَا فِيهِ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ دَعَا الْمَرْأَةَ فَقَالَ أَخْبِرِينِي خَبَرَکِ فَقَالَتْ کَانَ هَذَا لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ يَأْتِينِي وَهِيَ فِي إِبِلٍ لِأَهْلِهَا فَلَا يُفَارِقُهَا حَتَّی يَظُنَّ وَتَظُنَّ أَنَّهُ قَدْ اسْتَمَرَّ بِهَا حَبَلٌ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ دِمَائٌ ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا هَذَا تَعْنِي الْآخَرَ فَلَا أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ قَالَ فَکَبَّرَ الْقَائِفُ فَقَالَ عُمَرُ لِلْغُلَامِ وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر جاہلیت کے بچوں کو جو ان کا دعوی کرتا اسلام کے زمانے میں اسی سے ملا دیتے ایک بار دو آدمی دعوی کرتے ہوئے آئے ایک لڑکے کا حضرت عمر نے قائف کو بلایا قائف نے دیکھ کر کہا اس لڑکے میں دونوں شریک ہیں حضرت عمر نے قائف کو درے سے مارا پھر اس عورت کو بلایا اور کہا تو اپنا حال مجھ سے کہہ اس نے ایک مرد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرے پاس آتا تھا اور میں اپنے لوگوں کے اونٹوں میں ہوتی تھی تو وہ مجھ سے الگ نہیں ہوتا تھا بلکہ مجھ سے چمٹا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ بھی اور بھی بھی گمان کرتے حمل رہ جانے کا پھرجاتا اور مجھے خون آیا کرتا تب دوسرا مرد آتا وہ بھی صحبت کرتا میں نہیں جانتی ان دونوں میں سے یہ کسی کا نطفہ ہے قائف یہ سن کر خوشی کے مارے پھول گیا حضرت عمر نے کہا لڑکے سے تجھے اختیار ہے جس سے چاہے ان دنوں میں سے مولات کرلے۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Umar ibn al-Khattab used to attach the children of the Jahiliyya to whoever claimed them in Islam. Two men came and each of them claimed a womans child. Umar ibn al-Khattab summoned a person who scrutinized features and he looked at them. The scrutinizer said, "They both share in him." Umar ibn al-Khattab hit him with a whip. Then he summoned the woman, and said, "Tell me your tale." She said, "It was this one (indicating one of the two men) who used to come to me while I was with my peoples camels. He did not leave me until he thought and I thought that I was pregnant. Then he left me, and blood flowed from me, and this other one took his place. I do not know from which of them the child is." The scrutinizer said, "Allah is greater." Umar said to the child, "Go to whichever of them you wish."

1335Mauwatta Imam Malik

لڑکے کو باپ سے ملانے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَضَی أَحَدُهُمَا فِي امْرَأَةٍ غَرَّتْ رَجُلًا بِنَفْسِهَا وَذَکَرَتْ أَنَّهَا حُرَّةٌ فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا فَقَضَی أَنْ يَفْدِيَ وَلَدَهُ بِمِثْلِهِمْ عَنْ مَالِک يَقُولُ وَالْقِيمَةُ أَعْدَلُ فِي هَذَا إِنْ شَائَ اللَّهُ

حضرت عمر نے یا عثمان نے جب ایک عورت نے دھوکہ سے اپنے کو آزاد قرار دے کر ایک شخص سے نکاح کیا اور اولاد ہوئی یہ فیصلہ کیا کہ خاوند اپنی اولاد کو فدیہ دے کر چھڑالے اس کے مانند غلام لونڈی دے کر۔ کہا مالک نے قیمت دینا بہت بہتر ہے۔

Malik related to me that he had heard that Umar ibn al-Khattab or Uthman ibn Affan gave a judgement about a slave woman who misled a man about herself and said that she was free. He married her and she bore children. It was decided that he should ransom his children with their like of slaves.

1336Mauwatta Imam Malik

جو لڑکا کسی شخص سے ملا جائے اس کی وارث ہونے کا بیان

بَاب الْقَضَاءِ فِي مِيرَاثِ الْوَلَدِ الْمُسْتَلْحَقِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَهْلِكُ وَلَهُ بَنُونَ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ قَدْ أَقَرَّ أَبِي أَنَّ فُلَانًا ابْنُهُ إِنَّ ذَلِكَ النَّسَبَ لَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ إِنْسَانٍ وَاحِدٍ وَلَا يَجُوزُ إِقْرَارُ الَّذِي أَقَرَّ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ فِي حِصَّتِهِ مِنْ مَالِ أَبِيهِ يُعْطَى الَّذِي شَهِدَ لَهُ قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ مِنْ الْمَالِ الَّذِي بِيَدِهِ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يَهْلِكَ الرَّجُلُ وَيَتْرُكَ ابْنَيْنِ لَهُ وَيَتْرُكَ سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ فَيَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ ثُمَّ يَشْهَدُ أَحَدُهُمَا أَنَّ أَبَاهُ الْهَالِكَ أَقَرَّ أَنَّ فُلَانًا ابْنُهُ فَيَكُونُ عَلَى الَّذِي شَهِدَ لِلَّذِي اسْتُلْحِقَ مِائَةُ دِينَارٍ وَذَلِكَ نِصْفُ مِيرَاثِ الْمُسْتَلْحَقِ لَوْ لَحِقَ وَلَوْ أَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ أَخَذَ الْمِائَةَ الْأُخْرَى فَاسْتَكْمَلَ حَقَّهُ وَثَبَتَ نَسَبُهُ وَهُوَ أَيْضًا بِمَنْزِلَةِ الْمَرْأَةِ تُقِرُّ بِالدَّيْنِ عَلَى أَبِيهَا أَوْ عَلَى زَوْجِهَا وَيُنْكِرُ ذَلِكَ الْوَرَثَةُ فَعَلَيْهَا أَنْ تَدْفَعَ إِلَى الَّذِي أَقَرَّتْ لَهُ بِالدَّيْنِ قَدْرَ الَّذِي يُصِيبُهَا مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ لَوْ ثَبَتَ عَلَى الْوَرَثَةِ كُلِّهِمْ إِنْ كَانَتْ امْرَأَةً وَرِثَتْ الثُّمُنَ دَفَعَتْ إِلَى الْغَرِيمِ ثُمُنَ دَيْنِهِ وَإِنْ كَانَتْ ابْنَةً وَرِثَتْ النِّصْفَ دَفَعَتْ إِلَى الْغَرِيمِ نِصْفَ دَيْنِهِ عَلَى حِسَابِ هَذَا يَدْفَعُ إِلَيْهِ مَنْ أَقَرَّ لَهُ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ مَالِك وَإِنْ شَهِدَ رَجُلٌ عَلَى مِثْلِ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْمَرْأَةُ أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَى أَبِيهِ دَيْنًا أُحْلِفَ صَاحِبُ الدَّيْنِ مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ وَأُعْطِيَ الْغَرِيمُ حَقَّهُ كُلَّهُ وَلَيْسَ هَذَا بِمَنْزِلَةِ الْمَرْأَةِ لِأَنَّ الرَّجُلَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ وَيَكُونُ عَلَى صَاحِبِ الدَّيْنِ مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ أَنْ يَحْلِفَ وَيَأْخُذَ حَقَّهُ كُلَّهُ فَإِنْ لَمْ يَحْلِفْ أَخَذَ مِنْ مِيرَاثِ الَّذِي أَقَرَّ لَهُ قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ لِأَنَّهُ أَقَرَّ بِحَقِّهِ وَأَنْكَرَ الْوَرَثَةُ وَجَازَ عَلَيْهِ إِقْرَارُهُ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے ایک شخص مرجائے اور کئی بیٹے چھوڑ جائے اب ایک بیٹا ان میں سے یہ کہے کہ میرے باپ نے یہ کہا تھا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے تو ایک آدمی کے کہنے سے اس کا نسب ثابت نہ ہوگا اور وارثوں کے حصوں میں سے اس کو کچھ نہ ملے گا البتہ جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصے میں سے اس کو ملے گا۔ کہا مالک نے اس کی تفسیر یہ ہے ایک شخص مرجائے اور دو بیٹے چھوڑ جائے اور چھ سو دینار ہر ایک بیٹا تین تین سو دینار لے پھر ایک بیٹا یہ کہے کہ میرے باپ نے اقرار کیا تھا اس امر کا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے تو وہ اپنے حصے میں سے اس کو سو دینار دے کیونکہ ایک وارث نے اقرار کیا ایک نے اقرار نہ کیا تو اس کو آدھا حصہ ملے گا اگر وہ بھی اقرار کرلیتا تو پورا حصہ یعنی دو سو دینار ملتے اور نسب ثابت ہوجاتا اس کی مثال یہ ہے ایک عورت اپنے باپ یا خاوند کے ذمے پر قرض کا اقرار کرے اور باق وارث انکار کریں تو وہ اپنے حصے کے موافق اس میں سے قرضہ ادا کرے اسی حساب سے۔ کہا مالک نے ایک مرد بھی اس قرض خواہ کے قرضے کا گواہ ہو تو اس کو حلف دے کر ترکے میں سے پورا قرضہ دلادیں گے۔ کیونکہ ایک مرد جب گواہ ہو اور مدعی بھی حلف کرے تو دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے البتہ اگر قرض خواہ حلف نہ کرے تو جو وارث اقرار کرتا ہے اسی کے حصے کے موافق قرضہ وصول کرے۔

Yahya said that he heard Malik say, "The way of doing things generally agreed upon in our community in the case of a man who dies and has sons and one of them claims, My father confirmed that so-and-so was his son, is that the relationship is not established by the testimony of one man, and the confirmation of the one who confirmed it is only permitted as regards his own share in the division of his fathers property. The one testified for is only given his due from the share of the testifier."

1337Mauwatta Imam Malik

لونڈیوں کی اولاد کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُوهُنَّ لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوْ اتْرُکُوا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کیا حال ہے لوگوں کو جماع کرتے ہیں اپنی لونڈیوں سے پھر ان سے جدا ہوجاتے ہیں اب سے میرے پاس جو لونڈی آئے گی اور اس کے مولیٰ کو اقرار ہوگا اس سے جماع کرنے کا تو میں اس لڑکے کو مولیٰ سے ملادوں گا تم کو اختیار ہے چاہے عزل کرو یا نہ کرو۔

Yahya said that Malik related from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah ibn Umar from his father that Umar ibn al-Khattab said, "Whats the matter with men who have intercourse with their slave-girls and then dismiss them? No slave-girl comes to me whose master confesses that he has had intercourse with her but that I connect her child to him, whether or not he has practised coitus interruptus or stopped having intercourse with her."