کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 29 · 101 hadiths · Page 1 of 6

1031Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَی عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلَاثٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا عَنْ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَمَاذَا قِيلَ لَکَ قَالَ قِيلَ لِي إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ صَدَقُوا مَنْ طَلَّقَ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَی نَفْسِهِ لَبْسًا جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ لَا تَلْبِسُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْکُمْ هُوَ کَمَا يَقُولُونَ

ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق سے تو نے اللہ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا۔، ایک شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں ابن مسعود نے کہا لوگوں نے تجھ سے کیا کہا وہ بولا مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی ابن مسعود نے کہا سچ ہے جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کردی اور جو گڑبڑ کرے گا اس کی بلا اس کے سر لگا دیں گے گڑبڑ مت کرو تاکہ ہم کو مصیبت نہ اٹھانا پڑے وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that a man said to Abdullah ibn Abbas, "I have divorced my wife by saying I divorce you a hundred times. What do you think my situation is?" Ibn Abbas (RA) said to him, "She was divorced from you by three pronouncements, and by the ninety-seven, you have mocked the ayat of Allah."

1032Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لَهُ الْبَتَّةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ لَهُ کَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَوْ کَانَ الطَّلَاقُ أَلْفًا مَا أَبْقَتْ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ فَقَدْ رَمَی الْغَايَةَ الْقُصْوَی

ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں ابوبکر نے کہا ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abu Bakr (RA) ibn Hazm thatUmar ibn Abdul Aziz had asked him what people said about the irrevocable divorce, and Abu Bakr (RA) had replied that Aban ibn Uthman had clarified that it was declared only once. Umar ibn Abdul Aziz said, "Even if divorce had to be declared a thousand times, theirrevocable would use them all up. A person who says, irrevocably has cast the furthest limit."

1033Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَانَ يَقْضِي فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ أَنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان طلاق بتہ میں تین طلاق کا حکم کرتا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Marwan ibn al-Hakam decided that if someone made three pronouncements of divorce, he had divorced his wife irrevocably. Malik said, "That is what I like best of what I have heard on the subject." 29.2 Divorce by Euphemistic Statements

1034Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ کُتِبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَکَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْکَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَسْأَلُکَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَوْ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَکَانِ مَا صَدَقْتُکَ أَرَدْتُ بِذَلِکَ الْفِرَاقَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هُوَ مَا أَرَدْتَ

حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab had heard in a letter from Iraq that a man said to his wife, "Your rein is on your withers (i.e. you have free rein)." Umar ibn al-Khattab wrote to his governor to order the man to come to him at Makka at the time of hajj. While Umar was doing tawaf around the House, a man met him and greeted him. Umar asked him who he was, and he replied that he was the man that he had ordered to be brought to him. Umar said to him, "I ask you by the Lord of this building, what did you mean by your statement, Your rein is on your withers.?" The man replied, "Had you made me swear by other than this place, I would not have told you the truth. I intended separation by that." Umar ibn al- Khattab said, "It is what you intended."

1035Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ

حضرت علی کہتے تھے جو شخص اپنی عورت سے کہے تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاق پڑجائیں گی۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Ali ibn Abi Talib used to say that if a man said to his wife, "You are haram for me," it counted as three pronouncements of divorce. Malik said, "That is the best of what I have heard on the subject."

1036Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا

عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ خلیہ اور بریہ ان میں سے ہر ایک میں تین طلاقیں پڑ جایئیں گی۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that statements like "I cut myself off from you",or"You are abandoned", were considered as three pronouncements of divorce. Malik said that any strong statements such as these or others were considered as three pronouncements of divorce for a woman whose marriage had been consummated. In the case of a woman whose marriage had not been consummated, the man was asked to make an oath on his deen, as to whether he had intended one or three pronouncements of divorce. If he had intended one pronouncement, he was asked to make an oath by Allah to confirm it, and he became a suitor among other suitors, because a woman whose marriage had been consummated, required three pronouncements of divorce to make her inaccessible for the husband, whilst only one pronouncement was needed to make a woman whose marriage had not been consummated inaccessible. Malik added, "That is the best of what I have heard about the matter."

1037Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ لِقَوْمٍ فَقَالَ لِأَهْلِهَا شَأْنَکُمْ بِهَا فَرَأَی النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْکِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا أَوَاحِدَةً أَرَادَ أَمْ ثَلَاثًا فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً أُحْلِفَ عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ خَاطِبًا مِنْ الْخُطَّابِ لِأَنَّهُ لَا يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا وَلَا يُبِينُهَا وَلَا يُبْرِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا۔ ابن شہاب کہتے تھے اگر مرد عورت سے کہے میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے تو خلیہ ہے یا بریہ ہے یا بائنہ ہے تو اگر اس عورت سے صحبت کرچکا ہے تین طلاق پڑیں گی اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی اگر اس نے کہا میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہوجائے گی اب رجعت نہیں کرسکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کرسکتا ہے کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہوجاتی ہے جس سے صحبت کرچکا اور وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے۔ کہا مالک نے یہ روایت مجھے بہت پسند ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from al-Qasim ibn Muhammad that a certain man had taken a slave-girl belonging to somebody else as a wife. He said to her people, "She is your concern," and people considered that to be one pronouncement of divorce.

1038Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي فِي يَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا فَمَاذَا تَرَی فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أُرَاهُ کَمَا قَالَتْ فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنَا أَفْعَلُ أَنْتَ فَعَلْتَهُ

امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے اپنے آپ کو تین طلاق دے لی اب کیا کہتے ہو ابن عمر نے کہا کہ طلاق پڑگئی وہ شخص بولا ایسا تو مت کرو ابن عمرو نے کہا میں نے کیا کیا تو نے اپنے آپ کیا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that a man came to Abdullah ibn Umar, and said, "Abu Abd ar-Rahman! I placed the command of my wife in her hand, and she divorced herself, what do you think?" Abdullah ibn Umar said, "I think that it is as she said." The man said, "Dont do it, Abu Abd ar-Rahman!" Ibn Umar (RA) said, "You did it, it has nothing to do with me."

1039Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَائُ مَا قَضَتْ بِهِ إِلَّا أَنْ يُنْکِرَ عَلَيْهَا وَيَقُولُ لَمْ أُرِدْ إِلَّا وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ وَيَکُونُ أَمْلَکَ بِهَا مَا کَانَتْ فِي عِدَّتِهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے تو جب بھی طلاق عورت چاہے اپنے اوپر ڈال لے مگر جب خاوند انکار کرے اور کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اور حلف کرے تو اس عورت کا مستحق ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "When a man gives a woman command over herself, then the result is as she decides unless he denies it and says that he only meant to give her one divorce and he swears to it - then he has access to her while she is in her idda."

1040Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ مَلَّکْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ الْقَدَرُ فَقَالَ زَيْدٌ ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَکُ بِهَا

خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کرلے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Sulayman ibn Zayd ibn Thabit that Kharija ibn Zayd ibn Thabit told him that he was sitting with Zayd ibn Thabit when Muhammad ibn Abi Atiq came to him with his eyes brimming with tears. Zayd asked him what the matter was. He said, "I gave my wife command of herself, and she separated from me." Zayd said to him, "What made you do that?" He said, "The Decree." Zayd said, "Return to her if you wish for it is only one pronouncement, and you have access to her."

1041Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّکَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَقَالَ بِفِيکِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَقَالَ بِفَاکِ الْحَجَرُ فَاخْتَصَمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّکَهَا إِلَّا وَاحِدَةً وَرَدَّهَا إِلَيْهِ قَالَ مَالِک قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَکَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ هَذَا الْقَضَائُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ وَأَحَبُّهُ إِلَيَّ

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص ثقفی نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا اس نے اپنے تئیں ایک طلاق دی یہ چپ ہو رہا پھر اس نے دوسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر اس نے تیسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر پھر دونوں لڑتے ہوئے مروان کے پاس آئے مروان نے اس بات کی قسم لی کہ میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اس کے بعد وہ عورت اس کے حوالہ کردی۔ کہا مالک نے عبدالرحمن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے اور مجھے بھی بہت پسند ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father that a man of Thaqif gave his wife command over herself, and she said, "You are divorced." He was silent. She said, "You are divorced." He said, "May a stone be in your mouth." She said, "You are divorced." He said, "May a stone be in your mouth." They argued and went to Marwan ibn al-Hakam. He took an oath that he had only given her control over one pronouncement, and then she returned to him.

1042Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَرِيبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا مَا زَوَّجْنَا إِلَّا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَجَعَلَ أَمْرَ قَرِيبَةَ بِيَدِهَا فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ طَلَاقًا

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن کا پیام بھیجا قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس ان کے لوگوں نے ان کا عبدالرحمن کے ساتھ نکاح کردیا اس کے بعد لڑائی ہوئی ان لوگوں نے کہا یہ نکاح حضرت عائشہ نے کروایا ہے حضرت عائشہ نے عبدالرحمن ؓ کہا عبدالرحمن نے اختیار دے دیا قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کیا اس کو طلاق نہ سمجھا۔

Malik said that Abd ar-Rahman declared that this decision had amazed al-Qasim, who thought it the best that he had heard on the subject. Malik added, "That is also the best of what I have heard on the subject."

1043Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَمِثْلِي يُفْتَاتُ عَلَيْهِ فَکَلَّمَتْ عَائِشَةُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ فَإِنَّ ذَلِکَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا کُنْتُ لِأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ وَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ طَلَاقًا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلَا عَنْ الرَّجُلِ يُمَلِّکُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ بِذَلِکَ إِلَيْهِ وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالَا لَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے حفصہ بنت عبدالرحمن (اپنی بھتیجی) کا منذر بن زبیر سے نکاح کیا اور عبدالرحمن جو کہ لڑکی کے باپ تھے شام کو گئے ہوئے تھے جب عبدالرحمن آئے تو انہوں نے کہا کیا مجھ ہی سے ایسا کرنا تھا اور میرے اوپر جلدی کرنا تھا۔ ف 1 حضرت عائشہ ؓ نے منذر بن زبیر سے بیان کیا منذر نے کہا عبدالرحمن کو اختیار ہے۔ عبدالرحمن نے حضرت عائشہ ؓ کہا جس کام کو تم کر چکیں اس کام کو میں توڑنے والا نہیں پھر رہیں حضرت حفصہ منذر کے پاس اور اس اختیار کو طلاق نہ سمجھا۔ مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ ؓ سوال ہوا ایک شخص اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت اس کو قبول نہ کرے نہ اپنے تئیں طلاق دے انہوں نے کہا طلاق نہ پڑے گی۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father that Aisha, umm al-muminin, proposed to Qurayba bint Abi Umayya on behalf of Abd ar-Rahman ibn Abi Bakr. They married her to him and her people found fault with Abd ar-Rahman and said, "We only gave in marriage because of Aisha." Aisha therefore sent for Abd ar-Rahman and told him about it. He gave Qurayba authority over herself and she chose her husband and so there was no divorce.

1044Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ قَالَ مَالِک فِي الْمُمَلَّکَةِ إِذَا مَلَّکَهَا زَوْجُهَا أَمْرَهَا ثُمَّ افْتَرَقَا وَلَمْ تَقْبَلْ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَلَيْسَ بِيَدِهَا مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ وَهُوَ لَهَا مَا دَامَا فِي مَجْلِسِهِمَا

سعید بن مسیب نے کہا جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت خاوند سے جدا ہونا قبول نہ کرے اسی کے پاس رہنا چاہے تو طلاق نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جس مجلس میں خاوند عورت کو طلاق کا اختیار دے اسی مجلس میں عورت کو اختیار ہوگا اگر وہ مجلس برخواست ہوئی اور عورت نے طلاق نہ لی تو پھر اختیار نہ رہے گا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "If a man gives his wife authority over herself, and she does not separate from him and remains with him, there is no divorce."

1045Mauwatta Imam Malik

ایلاء کا بیان

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا آلَی الرَّجُلُ مِنْ امْرَأَتِهِ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ طَلَاقٌ وَإِنْ مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّی يُوقَفَ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يَفِيئَ

حضرت علی فرماتے تھے جب مرد اپنی عورت سے ایلاء کرے تو عورت پو طلاق نہ پڑے گی اگرچہ چار مہینے گزر جائیں جب تک مقدمہ حاکم کے سامنے پیش نہ ہو اور خاوند کو مجبور کیا جائے یا طلاق دے یا جماع کرے۔

Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father that Ali ibn Abi Talib said, "When a man takes a vow to abstain from intercourse, divorce does not occur immediately. If four months pass, he must declare his intent and either he is divorced or he revokes his vow . " Malik said, "That is what is done among us."

1046Mauwatta Imam Malik

ایلاء کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَی مِنْ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّی يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيئَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ طَلَاقٌ إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّی يُوقَفَ

عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص ایلا کرے اپنی عورت سے جب چار مہنے گزر جائیں تو خاوند کو حاکم کے سامنے مجبور کریں طلاق دے یا رجوع کرے اور بغیر طلاق دئیے چار مہینے گزر جانے سے عورت پر طلاق نہ پڑے گی۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "When a man makes a vow to abstain from intercourse with his wife and four months have passed he must declare his intent and either he is divorced or he revokes his vow. Divorce does not occur until four months have passed and he continues to abstain."

1047Mauwatta Imam Malik

ایلاء کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنْ امْرَأَتِهِ إِنَّهَا إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا کَانَتْ فِي الْعِدَّةِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَانَ يَقْضِي فِي الرَّجُلِ إِذَا آلَی مِنْ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلَهُ عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ کَانَ رَأْيُ ابْنِ شِهَابٍ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص ایال کرے اپنی عورت سے تو جب چار مہینے گزر جائیں ایک طلاق پڑجائے گی مگر خاوند کو اختیار ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کرلے۔ مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم حکم کرتے تھے جب کوئی شخص اپنی عورت سے ایلا کرے اور چار مہینے گز رجائیں تو ایک طلاق پڑجائے گی مگر خاوند کو اختیار رہے گا کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کرلے۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی رائے یہی تھی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said al-Musayyab and Abu Bakr (RA) ibn Abd ar-Rahman said about a man who made a vow to abstain from intercourse with his wife, "If four months pass it is a divorce. The husband can go back to his wife as long as she is in her idda."

1048Mauwatta Imam Malik

غلام کے ایلاء کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ إِيلَائِ الْعَبْدِ فَقَالَ هُوَ نَحْوُ إِيلَائِ الْحُرِّ وَهُوَ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَإِيلَائُ الْعَبْدِ شَهْرَانِ

امام مالک نے ابن شہاب سے غلام کی ایلاء کا حال پوچھا تو ابن شہاب نے کہا کہ غلام کا ایلاء بھی آزاد شخص کی طرح ہے مگر غلام کی مدت دو مہینے ہے۔

Yahya related to me from Malik that he had asked Ibn Shihab about the ila of the slave. He said that it was like the ila of the free man, and it put an obligation on him. The ila of the slave was two months.

1049Mauwatta Imam Malik

غلام کے ایلاء کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَةً إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ رَجُلًا جَعَلَ امْرَأَةً عَلَيْهِ کَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْکِحَهَا فَقَالَا إِنْ نَکَحَهَا فَلَا يَمَسَّهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ

سعید بن عمر نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ کو طلاق ہے قاسم بن محمد نے کہا کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے زمانے میں ایک عورت کی نسبت یہ کہا تھا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں وہ مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار نہ دے۔ مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے ظہار کرے نکاح سے پہلے تو دونوں نے کہا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرے۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Amr ibn Sulaym az-Zuraqi that he asked al-Qasim ibn Muhammad about a man who made divorce conditional on his marrying a woman i.e. if he married her he would automatically divorce her. Al-Qasim ibn Muhammad said, "If a man marries a woman whom he has made as his mothers back, i.e. has made haram for him, Umar ibn al-Khattab ordered him not to go near her if he married her until he had done the kaffara for pronouncing dhihar."

1050Mauwatta Imam Malik

غلام کے ایلاء کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ لَهُ بِکَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک قَالَ اللَّهُ تَعَالَی فِي کَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنْ امْرَأَتِهِ فِي مَجَالِسَ مُتَفَرِّقَةٍ قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ تَظَاهَرَ ثُمَّ کَفَّرَ ثُمَّ تَظَاهَرَ بَعْدَ أَنْ يُکَفِّرَ فَعَلَيْهِ الْکَفَّارَةُ أَيْضًا قَالَ مَالِک وَمَنْ تَظَاهَرَ مِنْ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَسَّهَا قَبْلَ أَنْ يُکَفِّرَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ وَيَکُفُّ عَنْهَا حَتَّی يُکَفِّرَ وَلْيَسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ قَالَ مَالِک وَالظِّهَارُ مِنْ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَالنَّسَبِ سَوَائٌ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ عَلَی النِّسَائِ ظِهَارٌ قَالَ مَالِک فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَالَّذِينَ يَظَّهَّرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ تَفْسِيرَ ذَلِکَ أَنْ يَتَظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنْ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُجْمِعَ عَلَی إِمْسَاکِهَا وَإِصَابَتِهَا فَإِنْ أَجْمَعَ عَلَی ذَلِکَ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْکَفَّارَةُ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُجْمِعْ بَعْدَ تَظَاهُرِهِ مِنْهَا عَلَی إِمْسَاکِهَا وَإِصَابَتِهَا فَلَا کَفَّارَةَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِک فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ قَالَ مَالِک لَا يَدْخُلُ عَلَی الرَّجُلِ إِيلَائٌ فِي تَظَاهُرِهِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ مُضَارًّا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيئَ مِنْ تَظَاهُرِهِ

عروہ بن زبیر نے کہا جو شخص ایک ہی دفعہ چار عورتوں سے ظہار کرے تو اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا۔ ربیعہ بن عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے۔ کہا مالک نے ظہار کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں جماع سے پہلے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کئی مرتبہ کئی مجلسوں میں ظہار کرے اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا البتہ اگر ایک مرتبہ ظہار کر کے کفارہ ادا کردیا پھر دوبارہ ظہار کیا تو پھر کفارہ لازم آئے گا کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے عورت سے جماع کیا تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا اب جب تک کفارہ نہ دے عورت سے علیحدہ رہے اور اللہ سے استغفار کرے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔ کہا مالک نے ظہار میں محرم رضاعی یا محرم نسبی سے تشبیہ دینا دونوں برابر ہیں۔ کہا مالک نے عورتوں پر ظہار کا کفارہ نہیں ہے۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا فرمایا ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں پھر لوٹ کر دہی بارت کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہار کے بعد پھر عورت کو رکھنا اور اس سے صحبت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا اور جو ظہار کے بعد عورت کو طلاق دے دے اور نہ رکھے تو کچھ کفارہ نہیں اگر طلاق کے بعد پھر اس سے نکاح کرے تو صحبت نہ کرے جب تک ظہار کا کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے پھر اس سے صحبت کرنا چاہے تو درست نہیں جب تک کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے ظہار سے ایلاء نہیں ہوتا البتہ جب ظہار سے یہ نیت ہو کہ کفارہ نہ دیں گے اور عورت کو ضرر پہنچائیں گے تو ایلاء ہوجائے گا۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said that a man who pronounced a dhihar from his four wives in one statement, had only to do one kaffara