عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْأُولَی فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتْ الْمَلَائِکَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو۔
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) ibn Abd ar-Rahman, from Abu Salih as-Sammani from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If someone does ghusl for major ritual impurity on the day of jumua and then goes in the first part of the time, it is as if he had offered up a camel. If he goes in the second part of the time, it is as if he had offered up a cow. If he goes in the third part of the time, it is as if he had offered up a horned ram. If he goes in the fourth part of the time, it is as if he had offered up a hen. If he goes in the fifth part of the time, it is as if he had offered up an egg. And when the imam comes out, the angels settle down listening to the dhikr (remembrance of Allah)."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ کَغُسْلِ الْجَنَابَةِ
ابوہریرہ کہتے تھے جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے ہر بالغ پر مثل غسل جنابت کے۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi that Abu Hurayra used to say, "Doing ghusl as prescribed for major ritual impurity is incumbent (wajib) on the day of jumua on every male who has reached puberty."
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْقَلَبْتُ مِنْ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَائَ فَمَا زِدْتُ عَلَی أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوئَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص آئے اصحاب میں سے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جمعہ کے دن اور حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے تھے تو بولے حضرت عمر کیا وقت ہے یہ آنے کا جواب دیا اس شخص نے کہ میں لوٹا بازار سے تو سنا میں نے اذان کو پس وضو کیا اور چلا آیا تو کہا حضرت عمر نے یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ حکم کرتے تھے غسل کا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Salim ibn Abdullah said, "One of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came into the mosque on the day of jumua and Umar ibn al Khattab was already giving the khutba. Umar said, What (kind of) time is this (to arrive)? He said, Amir al-muminin, I returned from the market and heard the call to prayer, so I did no more than do wudu. Umar said, You only did wudu as well? You know that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to tell people to do ghusl. "
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غسل جمعہ کا واجب ہے ہر شخص بالغ پر۔
Yahya related to me from Malik from Safwan ibn Sulaym from Ata ibn Yasar from Abu Said al-Khudri that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Ghusl on the day of jumua is incumbent on every male who has reached puberty."
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص آئے جمعہ کو تو غسل کر کے آئے یا جو شخص نماز جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کرلے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you come to jumua, do ghusl." Malik said, "It is not enough for someone to do a
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ کَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ قَالَ ثَعْلَبَةُ جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَخُرُوجُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَکَلَامُهُ يَقْطَعُ الْکَلَامَ
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب مؤذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّ مَا يَدَعُ ذَلِکَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنْ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتْ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاکِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَا يُکَبِّرُ حَتَّی يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَکَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدْ اسْتَوَتْ فَيُکَبِّرُ
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہوگئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَأَی رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنْ اصْمُتَا حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَی جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ لَا تَعُدْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الْکَلَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الْإِمَامُ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ أَنْ يُکَبِّرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب زہری سے کہا جب امام منبر سے اترے خطبہ پڑھ کر تو قبل تکبیر کے بات کہنا کیسا ہے کہ ابن شہاب نے کچھ قباحت نہیں ہے۔
جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت جمعہ کی پائی اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَهِيَ السُّنَّةُ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پائے تو وہ ایک رکعت ادا کرے یہی سنت ہے۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقْرَؤُهَا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَامْضُوا إِلَی ذِکْرِ اللَّهِ
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوہ من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوہ من یوم الجمعہ فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ: 9) الی ذکر اللہ۔
جمعہ کے دن اس ساعت کا بیان جس میں دعا قبول ہوتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا جمعہ کا پھر کہا کہ اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا بندہ مسلمان اور وہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور مانگتا ہے اللہ سے کچھ مگر دیتا ہے اللہ اس چیز کو اس کو اور اشارہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کہ وہ ساعت تھوڑی ہے۔
جمعہ کے دن اس ساعت کا بیان جس میں دعا قبول ہوتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَی الطُّورِ فَلَقِيتُ کَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنْ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْ الْجَنَّةِ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنْ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِي کُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ فَقُلْتُ بَلْ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنْ الطُّورِ فَقَالَ لَوْ أَدْرَکْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَی ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ إِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَی مَسْجِدِي هَذَا وَإِلَی مَسْجِدِ إِيلِيَائَ أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ يَشُکُّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ کَعْبِ الْأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ بِهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِي کُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبَ کَعْبٌ فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ بَلْ هِيَ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ صَدَقَ کَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتَ لَهُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ وَکَيْفَ تَکُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتِلْکَ السَّاعَةُ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّی فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّی يُصَلِّيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ بَلَی قَالَ فَهُوَ ذَلِکَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ میں گیا کوہ طور پر تو ملا میں کعب بن الاحبار سے اور بیٹھا میں ان کے پاس پس بیان کیں کعب الاحبار نے مجھ سے باتیں تورات کی اور میں نے بیان کیں باتیں ان سے رسول اللہ ﷺ کی تو جو باتیں میں نے ان سے کہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بہتر سب دنوں میں جن میں سورج نکلا ہے جمعہ کا دن ہے اسی دن پیدا ہوئے آدم اور اسی دن اتارے گئے جنت سے اور اسی دن معاف ہوا گناہ ان کا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو کان نہ لگائے جمعہ کے دن آفتاب نکلنے تک قیامت کے خوف سے مگر جنات اور آدمی غافل رہتے ہیں اور جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا مسلمان بندہ نماز میں اور وہ مانگے اللہ سے کچھ مگر دے اللہ جل جلالہ اس کو کعب الاحبار نے کہا یہ تو ہر سال میں ایک دن ہوتا ہے میں نے کہا نہیں بلکہ ہر جمعہ کو تو کعب نے تورات کو پڑھا پھر کہا سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا ابوہریرہ ؓ نے پھر ملا میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے تو کہا انہوں نے کہاں سے آتے ہو میں نے کہا کہ کوہ طور سے کہا انہوں نے اگر قبل طور جانے کے تم مجھ سے ملتے تو تم نہ جاتے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے نہ تیار کئے جائیں اونٹ مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسری میری مسجد یہ تیسری مسجد ایلیا یا بیت المقدس شک ہے راوی کو کہا ابوہریرہ ؓ نے پھر ملا میں عبداللہ بن سلام سے اور بیان کیا میں نے ان سے جو گفتگو کی تھی میں نے کعب الاحبار سے جمعہ کے باب میں اور میں نے یہ کہا کہ کعب الاحبار نے کہا یہ دن ہر سال میں ایک بار ہوتا ہے تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جھوٹ بولا کعب نے پھر میں نے کہا کہ کعب نے تورات کو پڑھ کر یہ کہا کہ بیشک یہ ساعت ہر جمعہ کو ہوتی ہے تب عبداللہ بن سلام نے کہا کہ سچ کہا کعب نے پھر کہا عبداللہ بن سلام نے میں جانتا ہوں اس ساعت کو وہ کونسی ہے ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو اور بخل نہ کرو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ آخر ساعت ہے جمعہ کی ابوہریرہ ؓ نے کہا کیونکہ آخر ساعت ہوگی حالانکہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ نما میں مگر جو مانگتا ہے اللہ سے دیتا ہے اس کو یہ ساعت تو ایسی ہے کہ اس میں نماز نہیں ہوسکتی ہے تو جواب دیا عبداللہ بن سلام نے کیا نہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص بیٹھے نماز کے انتظار میں تو وہ نماز میں ہے یہاں تک کہ نماز پڑھے ابوہریرہ ؓ نے کہا ہاں عبداللہ بن سلام نے کہا پس یہی مطلب ہے۔
جمعہ کے دن کپڑے بدلنے کو پھاند کر جانے اور امام کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَی أَحَدِکُمْ لَوْ اتَّخَذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَی ثَوْبَيْ مَهْنَتِهِ
یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا نقصان ہے کسی کا تم میں سے اگر بنا رکھے کپڑے جمعہ کی نماز کے واسطے سوائے روز مرہ کے کپڑوں کے۔
جمعہ کے دن کپڑے بدلنے کو پھاند کر جانے اور امام کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَرُوحُ إِلَی الْجُمُعَةِ إِلَّا ادَّهَنَ وَتَطَيَّبَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ حَرَامًا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہ جاتے جمعہ کو یہاں تک کہ تیل لگاتے اور خوشبو مگر جب احرام باندھے ہوتے۔
جمعہ کے دن کپڑے بدلنے کو پھاند کر جانے اور امام کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَأَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُکُمْ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ حَتَّی إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ جَائَ يَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
ابوہریرہ نے کہا کہ اگر کوئی تم میں سے نماز پڑھے ظہر جرہ میں بہتر ہے اس سے کہ بیٹھا رہے اپنے گھر میں پھر جب امام خطبہ پڑھنے کو کھڑا ہو آئے پھاندتا ہوا گردنوں کو لوگوں کی دن جمعہ کے۔
جمعہ کی نماز میں قرأت کا بیان اور احتباء کا بیان اور جمعہ کو جو ترک کرے بغیر عذر کے اس کا حال
عَنْ الضَّحَّاکَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا کَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَی إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ کَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاکَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
ضحاک بن قیس نے پوچھا نعمان بن بشیر سے کہ کون سی سورت پڑھتے تھے رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز بعد سورت جمعہ کے کہا کہ پڑھتے تھے ھل اتک حدیث الغاشیہ
جمعہ کی نماز میں قرأت کا بیان اور احتباء کا بیان اور جمعہ کو جو ترک کرے بغیر عذر کے اس کا حال
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ مَالِک لَا أَدْرِي أَعَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا عِلَّةٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَی قَلْبِهِ
صفوان بن سلیم سے روایت ہے لیکن مالک کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا یا نہیں۔ کہا جو شخص چھوڑ دے گا جمعہ کو تین مرتبہ بغیر عذر اور بیماری کے مہر کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر۔
جمعہ کی نماز میں قرأت کا بیان اور احتباء کا بیان اور جمعہ کو جو ترک کرے بغیر عذر کے اس کا حال
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ خُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَجَلَسَ بَيْنَهُمَا
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو خطبے پڑھے جمعہ کو اور بیٹھے درمیان میں ان کے۔