کتاب صلوة الخسوف

Mauwatta Imam Malik · Chapter 13 · 4 hadiths

397Mauwatta Imam Malik

نماز کسوف کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّکْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اللَّهَ وَکَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تو نماز پڑھائی آپ ﷺ نے ساتھ لوگوں کے پس کھڑے ہوئے بہت دیر تک پھر رکوع کیا بڑی دیر تک پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھایا یا رکوع کیا پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب روشن ہوگیا تھا پھر خطبہ پڑھا اور حمد وثناء کی اللہ جل جلالہ کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں نشانیاں ہیں پروردگار کی نشانیوں سے کسی کی موت یا زیست کے واسطے ان میں گہن نہیں لگتا تو جب دیکھو تو گہن پس دعا کرو اللہ سے اور تکبیر کہو اور صدقہ دو پھر فرمایا آپ ﷺ نے امت محمد ﷺ قسم اللہ کی اللہ جل جلالہ سے کسی کو زیادہ غیرت نہیں ہے اس امر میں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے اے امت محمد اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے تم تھوڑا اور روتے بہت۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, led the people in prayer. He stood, and did so for a long time. Then he went into ruku, and made the ruku long. Then he stood again, and did so for a long time, though not as long as the first time. Then he went into ruku, and made the ruku long, though not as long as thefirst time. Then he rose, and went down into sajda. He then did the same in the second raka, and by the time he had finished the sun had appeared. He then gave a khutba to the people, in which he praised Allah and then said, The sun and the moon are two of Allahs signs. They do not eclipse for anyones death nor for anyones life. When you see an eclipse, call on Allah and say, "Allah is greater" and give sadaqa. Then he said, O community of Muhammad ﷺ ! ByAllah, there is no-one more jealous than Allah of a male or female slave of his who commits adultery. O community of Muhammad ﷺ ! By Allah, if you knew what I knew, you would laugh little and weep much."

398Mauwatta Imam Malik

نماز کسوف کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَالَ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِکَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِکُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ وَيَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ کُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج میں تو نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ اور لوگوں نے ساتھ آپ ﷺ کے پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ دیر تک جیسے سورت بقرہ پڑھنے میں دیر ہوتی ہے پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک رکوع لمبا لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کم پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا تو فارغ ہوئے آپ ﷺ نماز سے اور آفتاب روشن ہوگیا تھا پس فرمایا آپ ﷺ نے سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے، نہیں گہن لگتا ان میں سے کسی کی زندگی اور موت سے جب تم ایسا دیکھو تو ذکر کرو اللہ کا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا نماز میں آپ ﷺ آگے بڑھے کسی چیز کو لینے کے لئے پھر پیچھے ہٹ آئے آپ ﷺ نے فرمایا پس دیکھا میں نے جنت کو پس لینا چاہا میں نے اس میں سے ایک گچھا اگر میرے ہاتھ لگ جاتا تو تم اس میں سے کھایا کرتے جب تک دنیا باقی رہتی اور میں نے دیکھا جہنم کو ایسی ہو لناک اور ہیبت صورت کہ کبھی میں نے ایس صورت نہ دیکھی ہے نہ دیکھی تھی اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں صحابہ نے کہا کیوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کی نا شکری نے ان کو جہنم میں ڈالا کہا صحابہ نے کیا کفر کرتی تھیں ساتھ اللہ کے فرمایا آپ ﷺ نے کفر کرتی ہیں یعنی نا شکری کرتی ہیں خاوند کی اور بھول جاتی ہیں احسان کو اگر کسی عورت کے ساتھ ساری عمر احسان کرو پھر کوئی رنج اس کو پہنچے تو کہنے لگتی ہے خاوند سے مجھے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پہنچی۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Abdullah ibn Abbas said, "There was an eclipse of the sun and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed, and the people prayed with him. He stood for a long time, nearly as long as (it takes to recite) Surat al-Baqara (Sura 2), and then went into ruku for a long time. Then he rose and stood for a long time, though less than the first time.Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he went down into sajda. Then he stood for a long time, though less than the first time. Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he rose and stood for a long time, though less than the firsttime. Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he went down into sajda, and by the time he had finished the sun had appeared. Then he said, The sun and the moon are two of Allahs signs. They do not eclipse for anyones death nor for anyones life. When you see an eclipse, remember Allah. They said, Messenger of Allah, we saw you reach out for something while you were standing here and then we saw you withdraw. He said, I saw the Garden and I reached out for a bunch of grapes from it, and if I had taken it you would have been able to eat from it for as long as this world lasted. Then I saw the Fire - and I have never seen anything more hideous than what I saw today - and I saw that most of its people were women. They said, Why, Messenger of Allah? ﷺ He said, Because of their ungratefulness (kufr). Someone said, Are they ungrateful toAllah? He said, They are ungrateful to their husbands and they are ungrateful for good behaviour (towards them) . Even if you were to behave well towards one of them for a whole lifetime and then she were to see you do something (that she did not like) she would say that she had never seen anything good from you. "

399Mauwatta Imam Malik

نماز کسوف کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَائَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَکِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْکَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًی فَمَرَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الْحُجَرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَائَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت آئی ان کے پاس مانگنے کو تو کہا اس نے اللہ بچائے تجھ کو قبر کے عذاب سے پس پوچھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا لوگوں کو عذاب ہوگا قبروں میں فرمایا آپ ﷺ نے میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے اس عذاب سے پھر سوار ہوئے آپ ﷺ ایک دن سواری پر سو گہن لگا آفتاب کو اور لوٹے آپ ﷺ حجروں کے پیچھے سے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر قیام کیا آپ ﷺ نے بڑی دیر تک پھر سر اٹھایا اور قیام کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر قیام کیا آپ نے بڑی دیر تک لیکن اول رکعت کے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا باتیں کیں پھر حکم کیا ان کو کہ پناہ مانگیں اللہ سے قبر کے عذاب سے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Amra bint Abd ar-Rahman from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that a jewish woman came to beg from her and said, "May Allah give you refuge from the punishment of the grave." So Aisha asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Are people punished in their graves?", and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took refuge in Allah from that. Then one morning the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out on a journey and there was an eclipse of the sun, and he returned in the late morning and passed through his apartments. Then he stood and prayed, and the people stood behind him. He stood for a long time, and then went into ruku for a long time. Then he rose and stood for a long time, though less than the first time, and then went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he rose, and went down into sajda. Then he stood for a long time, though less than the time before, and then went into ruku for a long time, though less than the time before. Then he rose and stood for a long time, though less than the time before, and then went into ruku for a long time, though less than the time before. Then he rose, and went down into sajda. When he had finished he said what Allah willed him to say, and then he told them to seek protection for themselves from the punishment of the grave."

400Mauwatta Imam Malik

اس چیز کا بیان جو نماز کسوف کے میں آئی ہے۔

عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَائِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ قَالَتْ فَقُمْتُ حَتَّی تَجَلَّانِي الْغَشْيُ وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي الْمَائَ فَحَمِدَ اللَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْئٍ کُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّی الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ يُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُکَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ

اسما بنت ابی بکر سے روایت ہے کہ میں آئی عائشہ کے پاس جس وقت گہن لگا آفتاب کو تو دیکھا میں نے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے اور عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کیا ہوا لوگوں کو تو اشارہ کیا حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا کوئی نشانی ہے انہوں نے اشارہ سے کہا ہاں کہا اسما نے تو میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی اور رسول اللہ ﷺ نے تعریف کی اللہ کی اور ثنا کی اس کی پھر فرمایا جو چیز میں نے دیکھی تھی وہ آج میں نے سیکھ لی اس جگہ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا اور مجھے وحی سے معلوم ہوا کہ قبر کے بارے میں تم فتنہ میں پڑجاؤ گے مثل فتنہ دجال کے یا اس کے قریب معلوم نہیں اسماء نے کیا کہا آئیں گے اس کے پاس فرشتے تو پوچھیں گے اس سے تو کیا سمجھتا ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے یا یقین رکھتا ہے معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا یہ شخص محمد ﷺ ہیں اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے ہمارے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور ہدایت یعنی کلام اللہ لے کر پس قبول کیا ہم نے اور ایمان لائے ہم اور پیروی کی ہم نے ان کی تب فرشتے اس سے کہیں گے سو رہ اچھی طرح ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو مومن ہے اور منافق جس کو شک ہے حضرت کی رسالت میں معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا میں نہیں جانتا لوگوں سے میں نے جو سنا وہ کہا۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from Fatima bint al Mundhir that Asma bint Abi Bakr as-Siddiq said, "I went to Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, during an eclipse of the sun, and everybody was standing in prayer, and she too was standing praying. I said, What is everybody doing? She pointed towards the sky with her hand and said, Glory be to Allah. I said, A sign? She nodded Yes with her head." She continued, "I stood until I had almost fainted, and I began to pour water over my head. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praised Allah and spoke well of Him, and then said, There is nothing which I had previously not seen beforehand that I have not now seen while standing - even the Garden and the Fire. It has been revealed to me that you will be tried in your graves with a trial, like, or near to, the trial of the Dajjal (I do not know which one Asma said). Every one of you will have someone who comes to him and asks him, What do you know about this man? A mumin, or one who has certainty (muqin) (I do not know which one Asma said), will say, He is Muhammad, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, who came to us with clear proofs and guidance, and we answered and believed and followed. He will then be told, Sleep in a good state. We know now that you were a mumin. A hypocrite, however, or one who has doubts (l do not know which one Asma said), will say, I do not know, I heard everybody saying something and I said it. "