کتاب الاستسقائ

Mauwatta Imam Malik · Chapter 14 · 4 hadiths

401Mauwatta Imam Malik

اس چیز کا بیان جو نماز کسوف کے میں آئی ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَحَوَّلَ رِدَائَهُ حِينَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

عبداللہ بن زید مازنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے نماز استسقاء کے لئے اور الٹایا آپ ﷺ نے اپنی چادر کو جس وقت منہ کیا قبلہ کی طرف۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Amr ibn Hazm that he had heard Abbad ibn Tamim say that he had heard Abdullah ibn Zayd al-Mazini say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came out to the place of prayer and asked for rain, and when he faced the qibla he turned his cloak inside out." Malik was asked how many rakas there were in the prayer of asking for rain and he said, "Two rakas, and the imam does the prayer before he gives the khutba. He prays two rakas, and then he gives a khutba and makes dua, facing the qibla and turning his cloak inside out. He recites out loud in both rakas, and when he turns his cloak inside out he puts what is on his right on his left, and what is on his left on his right, and all the people turn their cloaks inside out when the imam does so, and face the qibla, sitting."

402Mauwatta Imam Malik

اس چیز کا بیان جو نماز کسوف کے میں آئی ہے۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهِيمَتَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ

عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا مانگتے پانی برسنے کے واسطے تو فرماتے یا اللہ پانی پلا اپنے بندوں اور جانوروں کو پھیلادے اپنی رحمت کو اور جلا دے اپنے مرے ہوئے ملک کو۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Amr ibn Shuayb that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, when he asked for rain, "O Allah, give water to Your slaves and Your animals, and spread Your mercy, and give life to Your dead land."

403Mauwatta Imam Malik

اس چیز کا بیان جو نماز کسوف کے میں آئی ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا مِنْ الْجُمُعَةِ إِلَی الْجُمُعَةِ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ وَهَلَکَتْ الْمَوَاشِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ظُهُورَ الْجِبَالِ وَالْآکَامِ وَبُطُونَ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتَ الشَّجَرِ قَالَ فَانْجَابَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْب

انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا اس نے اے اللہ کے رسول کہ مرگئے جانور اور بند ہوگئے راستے، سو دعا کیجیے اللہ سے پس دعا کی رسول اللہ ﷺ نے تو برستا گیا پانی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک پھر ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے رسول اللہ ﷺ اللہ کے گرپڑے گھر اور بند ہوگئیں راہیں اور مرگئے جانور تب دعا کی آپ ﷺ نے یا اللہ برسا پہاڑوں پر اور ٹیلوں پر اور نالوں پر اور درختوں کے اردگرد کہا انس نے جب یہ دعا کی آپ ﷺ نے پھٹ گیا ابر مدینہ سے جیسے پھٹ جاتا ہے پرانا کپڑا۔

Yahya related to me from Malik from Sharik ibn Abdullah ibn Abi Namir that Anas ibn Malik said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, our animals are dying and our camels are too weak to travel, so make dua to Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, made dua, and it rained on us from one jumua to the next." Anas continued, "Then a man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, our houses have fallen down, the paths are blocked, and our flocks are dying. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, O Allah, (only) the mountain and hill-tops, the valley bottoms, and the places where trees grow. " Anas added, "It cleared away from Madina like a garment being removed." Malik said, about a man who missed the prayer of asking for rain but caught the khutba, and wished to pray in the mosque, or in his house when he returned, "He is free to do so, or not, as he wishes."

404Mauwatta Imam Malik

ستاروں کی گردش سے پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَی إِثْرِ سَمَائٍ کَانَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ بِي فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِکَ مُؤْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذَلِکَ کَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِيَّةً ثُمَّ تَشَائَمَتْ فَتِلْکَ عَيْنٌ غُدَيْقَةٌ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ مَا يَفْتَحْ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ

زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ نے صبح کی حدیبیہ میں اور رات کو پانی پڑچکا تھا تو جب نماز سے فارغ ہوئے متوجہ ہوئے لوگوں کی طرف اور فرمایا کہ تم جانتے ہو جو کہا تمہارے پروردگار نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے، فرمایا اللہ جل جلالہ نے صبح کو میرے بندے دو قسم کے تھے ایک وہ جو ایمان لایا میرے اوپر دوسرے وہ جس نے کفر کیا ساتھ میرے جس شخص نے کہا کہ پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے تو وہ میرے اوپر ایمان لایا تاروں پر اعتقاد نہ رکھا اور جو بولا کہ پانی برسا فلاں تارہ کی گردش سے تو اس نے کفر کیا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب اٹھے ابر سمندر کی طرف سے پھر شام کی طرف جانے لگے تو جانو کہ ایک چشمہ ہے بھر پور۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوہریرہ ؓ کہتے تھے جب صبح ہوتی تھی اور پانی برس جاتا تھا پانی برسا اللہ کے حکم سے پڑھتے تھے اس آیت کو مایفتح اللہ للناس یعنی اللہ جل جلالہ اگر لوگوں پر رحمت کرنا چاہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو روکنا چاہے تو کوئی چھوڑ نہیں سکتا۔

Yahya related to me from Malik from Salih ibn Kaysan from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Zayd ibn Khalid al-Juhani said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took the subh prayer with us at Hudaybiyya after it had rained in the night. When he had finished he went up to the people and said, Do you know what your Lord has said? They said, Allah and His Messenger know best. He said, Some of my slaves have begun the morning believing in Me, and others have begun it rejecting Me. As for those who say, We were rained on by the overflowing favour of Allah and His mercy, they believe in Me and reject the stars. But as for those who say, We were rained on by such and such a star, they reject Me and believe in the stars. "