عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ نَعَمْ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَأَفْرَغَ عَلَی يَدِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَی قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
عمرو بن یحییٰ المازنی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن زید ؓ سے جو دادا ہیں عمرو بن یحییٰ کے اور اصحاب میں سے ہیں رسول اللہ ﷺ کے کیا تم مجھ کو دکھا سکتے ہو کس طرح وضو کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کہا انہوں نے ہاں تو منگایا انہوں نے پانی وضو کا پھر ڈالا اس کو اپنے ہاتھ پر اور دھویا دونوں ہاتھوں کو دو دو بار پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہینوں تک دو دو بار پھر مسح کیا سر کا دونوں ہاتھوں سے آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے یعنی دونوں ہاتھوں سے مسح شروع کیا پیشانی سے گدی تک پھر لائے گدی سے پیشانی تک پھر دونوں پیر دھوئے۔
Yahya related to me from Malik from Amr ibn Yahya al-Mazini that his father once asked Abdullah ibn Zayd ibn Asim, who was the grandfather of Amr ibn Yahya al-Mazini and one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, if he could show him how the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did wudu. Abdullah ibn Zayd ibn Asim agreed to do so and asked for water to do wudu. He poured some out on to his hand and washed each hand twice and then rinsed his mouth and snuffed water up his nose and blew it out three times.Then he washed hisface three times and both of his arms up to the elbows twice. He then wiped his head with both hands, taking his hands from hisforehead to the nape of his neck and then bringing them back to where he had begun. Then he washed his feet.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَائً ثُمَّ لِيَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب وضو کرے تم میں سے کوئی تو پانی ڈال کر چھینکے اور ڈھیلے لے واسطے استنجاء کے تو طاق لے۔
Yahya related to me from Malik from AbuzZinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you do wudu, snuff water into your nose and blow it out, and if you use stones to clean your private parts use an odd number."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص وضو کرے تو ناک چھنکے اور جو ڈھیلے لے تو طاق لے۔ کہا یحییٰ نے سنا میں نے مالک سے کہتے تھے اگر کوئی شخص ایک ہی چلو لے کر کلی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن ابی ابکر صدیق گئے ام المومنین کے پاس جس دن مرے سعد بن ابی وقاص تو منگایا عبدالرحمن نے پانی وضو کا پس کہا عائشہ نے پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ فرماتے تھے خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے۔
Yahya related to me from Ibn Shihab from Abu Idris al-Khawlani from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The person doing wudu should snuff water up his nose and blow it out again."
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَتَوَضَّأُ بِالْمَائِ لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِك عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ أَوْ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَ وَجْهَهُ فَقَالَ أَمَّا الَّذِي غَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلَا يُعِدْ غَسْلَ وَجْهِهِ وَأَمَّا الَّذِي غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ وَجْهِهِ فَلْيَغْسِلْ وَجْهَهُ ثُمَّ لْيُعِدْ غَسْلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَكُونَ غَسْلُهُمَا بَعْدَ وَجْهِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي مَكَانِهِ أَوْ بِحَضْرَةِ ذَلِكَ قَالَ يَحْيَى و سُئِلَ مَالِك عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ وَيَسْتَنْثِرَ حَتَّى صَلَّى قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ وَلْيُمَضْمِضْ وَيَسْتَنْثِرْ مَا يَسْتَقْبِلُ إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ
عبدالرحمن بن عثمان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔ کہا یحی نے پوچھا گیا امام مالک سے اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا تو بھول کر قبل کلی کرنے کے منہ دھو لیا یا پہلے ہاتھ دھو لئے اور منہ نہ دھویا کہا امام مالک نے جس شخص نے منہ دھو لیا کلی کرنے سے پیشتر تو وہ کلی کرلے اور دوبارہ منہ نہ دھوئے لیکن جس نے ہاتھ دھولئے منہ دھونے سے پیشتر تو اس کو چاہئے کہ منہ دھو کر ہاتھوں کو دوبارہ دھوئے تاکہ دھونا ہاتھ کا بعد دھونے منہ کے ہوجائے جب تک وضو کرنے والا اپنی جگہ میں ہے یا قریب اس کے۔ کہا یحییٰ نے پوچھے گئے امام مالک اس شخص سے جو وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اور نماز پڑھ لی کہا مالک نے ہوگئ نماز اس کی دوبارہ پھر نماز پڑھنا لازم نہیں لیکن آئندہ کی نماز کے واسطے کلی کرلے یا ناک میں پانی ڈال لے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Muhammad ibn Talhafrom Uthman ibn Abd ar-Rahman that his father related to him that he had heard that Umar ibn al-Khattab used to wash what was beneath his waist wrapper with water.
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب سو کر اٹھے کوئی تم میں سے تو پہلے اپنے ہاتھ دھو کر پانی میں ہاتھ ڈالے اس لئے کہ معلوم نہیں کہا رہی ہتھیلی اس کی۔
Yahya related to me from Malik from AbuzZinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you wake up from sleep to pray, wash your hands before you put them in the wudu water, for you do not know where your hands have spent the night."
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِذَا نَامَ أَحَدُکُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا عمر بن خطاب نے جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab said, "If you fall asleep Iying down you must do wudu ( before you pray) . "
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُئُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَيْنِ أَنَّ ذَلِکَ إِذَا قُمْتُمْ مِنْ الْمَضَاجِعِ يَعْنِي النَّوْمَ
زید بن اسلم نے کہا یہ جو فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب اٹھو تم نماز کے لئے تو دھؤو منہ اپنا اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک اور مسح کرو سروں پر اور دھؤو پاؤں اپنے ٹخنوں تک اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لئے سو کر۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the ayat "You who believe! When you rise for prayer wash your faces, and your arms to the elbows, and wipe over your heads and your feet up to the ankles," refers to rising from bed, meaning sleep.
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَنَامُ جَالِسًا ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
ابن عمر سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafithat Ibn Umar (RA) used to sleep sitting and then would pray without doing wudu.
عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَائِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس تو کہا اس نے یا رسول اللہ ﷺ ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں فرمایا آپ ﷺ نے پاک ہے پانی اس کا حلال ہے مردہ اس کا۔
Yahya related to me from Malik from Safwan ibn Sulaym from Said ibn Salama of the Bani Azraq from al-Mughira ibn Abi Burda of the tribe of Bani Abd ad-Dar that he had heard Abu Hurayra speak about a man who came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "Messenger of Allah! We travel by sea and we do not carry much fresh water with us so if we do wudu with it we go thirsty. Can we do wudu with seawater?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, replied, "lts water is pure, and its dead creatures are halal."
عَنْ کَبْشَةَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَکَبَتْ لَهُ وَضُوئًا فَجَائَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ فَأَصْغَی لَهَا الْإِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْکُمْ أَوْ الطَّوَّافَاتِ
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ انصاری گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لئے پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو ابوقتادہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے دیکھ لیا ابوقتادہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں تو پوچھا ابوقتادہ نے کیا تعجب کرتی ہو؟ اے بھتیجی میری میں نے کہا ہاں۔ تو کہا ابوقتادہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بلی ناپاک نہیں ہے وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Humayda bint Abi Ubayda ibn Farwa that her maternal aunt Kabsha bint Kab ibn Malik, who was the wife of the son of Abu Qatada al-Ansari, told her that once Abu Qatada was visiting her and she poured out some water for him to do wudu with. Just then a cat came to drink from it, so he tilted the vessel towards it to let it drink. Kabsha continued, "He saw me looking at him and said, Are you surprised, daughter of my brother? I said, Yes. He replied that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, cats are not impure. They intermingle with you . " Yahya said that Malik said, "There is no harm in that unless one sees impurities on the cats mouth."
عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَکْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّی وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَکَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَی السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا
یحییٰ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them.
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِنْ کَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَوَضَّئُونَ جَمِيعًا
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ مرد اور عورتیں وضو کرتی تھیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اکٹھا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say that men and their wives used to do wudu together in the time of the Messenger of Allah.
جن امورات سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَکَانِ الْقَذِرِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ
ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولد نے پوچھا ام المومنین ام سلمہ ؓ سے کہ میرا دامن نیچا اور لمبا رہتا ہے اور ناپاک جگہ میں چلنے کا اتفاق ہوتا ہے تو کہا ام سلمہ نے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے پاک کرتا ہے اس کو جو بعد اس کے ہے
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Umara from Muhammad ibn Ibrahim that the mother of the son of Ibrahim ibn Abd ar-Rahman ibn Awf questioned Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and said, "I am a woman who wears a long skirt and (sometimes) I walk in dirty places." Umm Salama replied, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, What follows (i.e. clean places) purifies it. "
جن امورات سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
عَنْ مَالِک أَنَّهُ رَأَی رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقْلِسُ مِرَارًا وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَنْصَرِفُ وَلَا يَتَوَضَّأُ حَتَّی يُصَلِّيَ
امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کو دیکھا کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے پھر وضو نہیں کیا اور نماز پڑھ لی۔
Yahya related to me from Malik that he saw Rabia ibn Abd ar-Rahman vomit several times when he was in the mosque and he did not leave, nor did he do wudu before he prayed. Yahya said that Malik was asked whether a man who vomited food had to do wudu and he said, "He does not have to do wudu, but he should rinse the inside of his mouth and wash his mouth out."
جن امورات سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَنَّطَ ابْنًا لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے خوشبو لگائی سعید بن زید کے بچے کو جو میت تھا اور اٹھایا اس کو پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar prepared the body of one of Said ibn Zayds sons for burial and carried it and then entered the mosque and prayed without doing wudu. Yahya said that Malik was asked whether it was necessary to do wudu because of regurgitating undigested food and he said, "No, wudu is not necessary, but the mouth should be rinsed."
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکَلَ کَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کھایا رسول اللہ ﷺ نے دست کا گوشت بکری کا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd Aslam from Ata ibn Yasar from Abdullah Abbas that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ate a shoulder of lamb and then prayed without doing wudu.
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالصَّهْبَائِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَی خَيْبَرَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَکَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَکَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سوید بن النعمان سے روایت ہے کہ وہ ساتھ نکلے رسول اللہ ﷺ کے جس سال جنگ خبیر ہوئی یہاں تک کہ جب پہنچے صہبا میں پیچھے کی جانب خبیر سے مدینہ کی طرف اترے رسول اللہ ﷺ۔ پھر عصر کی نماز پڑھی اور مانگا آپ ﷺ نے توشہ تو نہ آیا مگر ستو پس حکم کیا آپ ﷺ نے اس کے کھولنے کا سو کھولا گیا پھر کھایا رسول اللہ ﷺ نے اور ہم لوگوں نے پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ نماز مغرب کے لئے کلی کی اور ہم نے بھی کلیاں کرلیں پھر نماز پڑھی آپ ﷺ نے اور وضو نہ کیا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Bushayr ibn Yasar, the mawla of the Bani Haritha, that Suwayd ibn anNuman told him that he went with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on the expedition to Khaybar. When they reached as Suhba, which was near Khaybar, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stopped and prayed asr. He asked for provisions but only parched barley was brought, so he asked for it to be moistened. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ate and the people ate with him. Then he got up to do maghrib and rinsed his mouth out and they rinsed out theirs. Then he prayed without doing wudu.
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ أَنَّهُ تَعَشَّی مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ربیعہ بن عبداللہ نے حضرت عمر کے ساتھ شام کا کھانا کھایا پھر حضرت عمر نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Yahya related to me from Malik that both Muhammad ibn al-Munkadir and Safwan ibn Sulaym transmitted to him from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith at-Taymi from Rabia ibn Abdullah ibn al-Hudayr that he had eaten an evening meal with Umar ibn al-Khattab who then prayed without doing wudu.
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں
عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَکَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَا لَا يَتَوَضَّآَنِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
ابان بن عثمان سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان نے روٹی اور گوشت کھا کر کلی کی اور ہاتھ دھو کر منہ پونچھا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی اور عبداللہ بن عباس سے کہ وہ دونوں وضو نہ کرتے تھے اس کھانے سے جو آگ سے پکا ہو۔
Yahya related to me from Malik from Damra ibn Said al-Mazini from Aban ibn Uthman that Uthman ibn Affan ate bread and meat, rinsed his mouth out, washed his hands and wiped his face with them, and then prayed without doing wudu.
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ قَالَ رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِکَ وَلَا يَتَوَضَّأُ
یحییٰ بن سعید نے پوچھا عبداللہ بن عامر سے کہ ایک شخص وضو کرے نماز کے لئے پھر کھائے وہ کھانا جو پکا ہوا ہو آگ سے کیا وضو کرے۔ دوبارہ کہا عبداللہ نے کہ دیکھا میں نے اپنے باپ عامر بن ربیعہ بن کعب بن مالک کو کہ وہ آگ کا پکا ہوا کھانا کھاتے پھر وضو نہیں کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he asked Abdullah ibn Amir ibn Rabia whether a man who did wudu for prayer and then ate cooked food had to do wudu again. He said, "I saw my father do that without doing wudu ."