نماز کے وقتوں کا بیان

Mauwatta Imam Malik · Chapter 1 · 28 hadiths · Page 2 of 2

21Mauwatta Imam Malik

وقتوں کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَذَهَبَ عَقْلُهُ فَلَمْ يَقْضِ الصَّلَاةَ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر بےہوش ہوگئے ان کی عقل جاتی رہی پھر انہوں نے نماز کی قضا نہ پڑھی

Yahya related to me from Malik from Nafi that one time Abdullah ibn Umar fainted and lost his senses and he did not make up the prayer. Malik commented, "We consider that that was because, and Allah knows best, the time had passed. Someone who recovers within the time has to pray."

22Mauwatta Imam Malik

نماز سے سو جانے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اكْلَأْ لَنَا الصُّبْحَ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَلَأَ بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُقَابِلُ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ الرَّكْبِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمْ الشَّمْسُ فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتَادُوا فَبَعَثُوا رَوَاحِلَهُمْ وَاقْتَادُوا شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِينَ قَضَى الصَّلَاةَ مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

سعید بن المسیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب لوٹے جنگ خیبر سے رات کو چلے جب اخیر رات ہوئی تو آپ ﷺ اتر پڑے اور بلال سے فرمایا صبح کی نماز کا تم خیال رکھو اور آپ ﷺ سو رہے اور جب تک اللہ کو منظور تھا بلال جاگتے رہے پھر بلال نے تکیہ لگایا اپنے اونٹ پر اور منہ اپنا صبح کی طرف کئے رہے اور لگ گئی آنکھ بلال کی تو نہ جاگے رسول اللہ ﷺ اور نہ بلال اور نہ کوئی شتر سوار یہاں تک کہ پڑنے لگی ان پر تیزی دھوپ کی تب چونک اٹھے رسول اللہ ﷺ اور فرمایا کیا ہے یہ اے بلال کہا بلال نے زور کیا مجھ پر اس چیز نے جس نے آپ ﷺ پر زور کیا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کوچ کرو تو لادے لوگوں نے کجاوے اپنے۔ تھوڑٰی دور چلے تھے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے بلال کو تکبیر کہنے کا تو تکبیر کہی بلال نے نماز کی پھر نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے فجر کی۔ بعد اس کے فرمایا جب نماز پڑھ چکے جو شخص بھول جائے نماز کو تو چاہیے کہ پڑھ لے اس کو جب یاد آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قائم کر نماز کو جس وقت یاد کرے مجھ کو۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, travelled by night on the way back from Khaybar.Towards the end of the night he stopped for a rest and told Bilal (RA) to stay awake to keep watch for the subh prayer. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and his companions slept. Bilal (RA) stayed on guard as long as was decreed for him and then he leant against his riding camel facing the direction of the dawn and sleep overcame him and neither he nor the Messenger of Allah ﷺ nor any of the party woke up until the suns rays had struck them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was alarmed. Bilal (RA) excused himself, saying, "Messenger of Allah! The One who took your self was the One who took myself. "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered the party to move on and so they roused thei r mounts and rode on a short distance. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered Bilal (RA) to give the iqama and then led them in the subh prayer. When he had finished he said, "Anyone who forgets a prayer should pray it when he remembers. Allah theBlessed and Exalted says in His book, Establish the prayer to remember Me."

23Mauwatta Imam Malik

نماز سے سو جانے کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِطَرِيقِ مَکَّةَ وَوَکَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوا حَتَّی اسْتَيْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمْ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْکَبُوا حَتَّی يَخْرُجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِي وَقَالَ إِنَّ هَذَا وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ فَرَکِبُوا حَتَّی خَرَجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِي ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِلُوا وَأَنْ يَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ أَوْ يُقِيمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ وَقَدْ رَأَی مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَائَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِي حِينٍ غَيْرِ هَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُکُمْ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا کَمَا کَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتَی بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَضْجَعَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُهَدِّئُهُ کَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتَّی نَامَ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رات کو اترے راہ میں مکہ کے رسول اللہ ﷺ اور مقرر کیا بلال کو اس پر کہ جگا دیں ان کو واسطے نماز کے تو سو گئے بلال اور سو گئے لوگ پھر جاگے اور سورج نکل آیا تھا اور گھبرائے لوگ تو حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے سوار ہونے کا تاکہ نکل جائیں اس وادی سے اور فرمایا کہ اس وادی میں شیطان ہے پس سوار ہوئے اور نکل گئے اس وادی سے تب حکم کیا ان کو رسول اللہ ﷺ نے اترنے کا اور وضو کرنے کا اور حکم کیا بلال کو اذان کا یا تکبیر کا پھر متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں کی طرف اور دیکھا ان کی گھبراہٹ کو تو فرمایا آپ ﷺ نے لوگوں کو۔ بیشک روک رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے ہماری جانوں کو اور اگر چاہتا تو وہ پھیر دیتا ہماری جانوں کو سوا اس وقت کے اور کسی وقت تو جب سو جائے کوئی تم میں سے نماز سے یا بھول جائے اس کی پھر گھبرا کے اٹھے نماز کے لئے تو چاہئے کہ پڑھ لے اس کو جیسے پڑھتا ہے اس کو وقت پر پھر شیطان آیا بلال کے پاس اور وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھتے تھے تو لٹا دیا ان کو پھر لگا تھپکنے ان کو جیسے تھپکتے ہیں بچے کو یہاں تک کہ سو رہے وہ پھر ہلایا رسول اللہ ﷺ نے بلال کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا تھا آپ ﷺ نے حال ان کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا آپ ﷺ نے حال ان کا ابوبکر سے تو کہا ابوبکر نے میں گواہی دیتا ہوں اس امر کی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

Yahya related to me from Malik that Zayd ibn Aslam said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stopped for a rest one night on the way to Makka and appointed Bilal (RA) to wake them up for the prayer. Bilal (RA) slept and everyone else slept and none of them woke up until the sun had risen. When they did wake up they were all alarmed. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered them to ride out of the valley, saying that there was a shaytan in it. So they rode out of the valley and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered them to dismount and do wudu and he told Bilal (RA) either to call the prayer or to give the iqama. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, then led them in the prayer. Noticing their uneasiness, he went to them and said, O people! Allah seized our spirits (arwah) and if He had wished He would have returned them to us at a time other than this. So if you sleep through the time for a prayer or forget it and then are anxious about it, pray it as if you were praying it in its time. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned to Abu Bakr (RA) and said, Shaytan came to Bilal (RA) when he was standing in prayer and made him lie down and lulled him to sleep like a small boy. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, then called Bilal (RA) and told him the same as he had told Abu Bakr. Abu Bakr (RA) declared, I bear witness that you are the Messenger of Allah. "

24Mauwatta Imam Malik

ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ اشْتَکَتْ النَّارُ إِلَی رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَکَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي کُلِّ عَامٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے تو جب تیز ہو گرمی تاخیر کرو نماز میں ٹھنڈک تک اور فرمایا آپ نے شکوہ کیا آگ نے اپنے پروردگار سے اور کہا اے پروردگار میں اپنے آپ کو کھانے لگی تو اذن دیا اس کو پروردگار نے دو سانس کا ہر سانس لینے کا جاڑے میں اور سانس نکالنے کا گرمی میں۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Scorching heat is a part of the blast of Jahannam. So, when the heat is fierce, delay the prayer until it gets cooler." He added in explanation, "The Fire complained to its Lord and said, My Lord, part of me has eaten another part, so He allowed it two breaths in every year, a breath in winter and a breath in summer."

25Mauwatta Imam Malik

ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَذَکَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَکَتْ إِلَی رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک اس لئے کہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے اور فرمایا آپ ﷺ نے کہ آگ نے گلہ کیا پروردگار سے تو اذن دیا پروردگار نے اس کو دو سانسوں کا ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔

Malik related to us from Abdullah ibn Yazid the mawla of al-Aswad ibn Sufyan, from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Thawban from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the heat is fierce delay the prayer until it gets cooler, for scorching heat is a part of the blast of Jahannam." He added, "The Fire complained to its Lord, so He allowed it two breaths in each year, a breath in winter and a breath in summer."

26Mauwatta Imam Malik

ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک کیونکہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the heat is fierce, wait until it gets cooler before you do the prayer, for scorching heat is from the blast of Jahannam."

27Mauwatta Imam Malik

مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت کا بیان اور نماز میں منہ ڈھاپنے کی ممانعت کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے کھایا اس درخت میں سے (یعنی لہسن میں سے) تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Anyone who eats this plant should not come near our mosques. The smell of the garlic will offend us."

28Mauwatta Imam Malik

مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت کا بیان اور نماز میں منہ ڈھاپنے کی ممانعت کا بیان

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ أَنَّهُ کَانَ يَرَی سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا رَأَی الْإِنْسَانَ يُغَطِّي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا حَتَّی يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ

عبدالرحمن بن مجبر سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Mujabbar that he used to see Salim ibn Abdullah pull the cloth away fiercely from the mouth of any man he saw covering his mouth while praying.