عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ امْرِئٍ تَکُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَکَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً
عائشہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو نماز پڑھے ہمیشہ رات کو پھر غالب آجائے اس پر نیند مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ لکھے گا اس کے لئے ثواب نماز کا اور سونا اس کو صدقہ ہوگا۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn al-Munkadir from Said ibn al-Jubayr that a man who has approval (as a relater of hadith), told him that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a man prays in the night and sleep overcomes him during it, Allah writes for him the reward of his prayer, and his sleep is sadaqa for him."
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
عائشہ سے روایت ہے کہ میں سوتی تھی سامنے رسول اللہ ﷺ کے اور پاؤں میرے آپ ﷺ کے سامنے تھے پس جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تھے آپ دبا دتیے تھے مجھ کو سو سمیٹ لیتی تھی میں پاؤں اپنے کہا حضرت عائشہ نے اور گھروں میں ان دنوں چراغ نہ تھے۔
Yahya related to me from Malik from AbunNadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah, from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I was sleeping in front of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and my feet were in his qibla. When he prostrated, he nudged me and I pulled up my feet,and when he stood up I spread them out." She added, "There were no lamps in the house at that time."
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّی يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلَّی وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب اونگھنے لگے کوئی تم میں سے نماز میں تو سو رہے یہاں تک کہ نیند بھر جائے کیونکہ اگر نماز پڑھے گا اونگھتے ہوئے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہے اور اپنے تئیں برا بولنے لگے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you are drowsy in prayer, sleep until sleep leaves you, because if you pray while you are drowsy, you do not know whether you may intend to ask for forgiveness but (in fact) ask for harm."
عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَکِيمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ امْرَأَةً مِنْ اللَّيْلِ تُصَلِّي فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقِيلَ لَهُ هَذِهِ الْحَوْلَائُ بِنْتُ تُوَيْتٍ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَکَرِهَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَتْ الْکَرَاهِيَةُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا يَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا اکْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا لَکُمْ بِهِ طَاقَةٌ
اسمعیل بن ابی حکیم کو پہنچا رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ نے سنا ذکر ایک عورت کا جو نماز پڑھا کرتی تھی رات بھر تو پوچھا کہ کون ہے یہ عورت کہا لوگوں نے یہ حولاء ہے بیٹی تویت کی نہیں سوتی ہے رات کو تو برا معلوم ہوا رسول اللہ ﷺ کو یہ امر یہاں تک کہ معلوم ہوئی ناراضگی آپ کے چہرے سے پھر فرمایا آپ ﷺ نے خداوند کریم نہیں بیزار ہوتا تمہاری بیزرای تک اتنا عمل کر جسکی طاقت رکھو۔
Yahya related to me from Malik from Ismail from Ibn Abi Hakim that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, heard a woman praying at night. He said, "Who is that?" and someone said to him,"It is al-Hawla bint Tuwayt, she does not sleep in the night." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, disapproved of that and his disapproval showed in his face. Then he said, "Allah, the Blessed and Exalted, does not become weary, but you become weary. Take on whatever is within your capability."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ مَا شَائَ اللَّهُ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلَاةِ يَقُولُ لَهُمْ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ وَأْمُرْ أَهْلَکَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُکَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُکَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَی عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ يُکْرَهُ النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَائِ وَالْحَدِيثُ بَعْدَهَا عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ
اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رات کو نماز پڑھتے جتنا اللہ کو منظور ہوتا پھر جب اخیر رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو جگاتے نماز کے لئے اور کہتے ان سے نماز نماز، پھر پڑھتے اس آیت کو اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور صبر کر اس کے لئے ہم نہیں مانگتے تجھ سے روٹی بلکہ ہم کھلاتے ہیں تجھ کو اور عاقبت کی بہتری پرہیزگاری سے ہے۔ سعید بن مسیب کہتے تھے مکروہ ہے سونا عشاء کی نماز سے پہلے اور باتیں کرنا بعد عشاء کے۔ امام مالک کو پہنچا حضرت عمر بن خطاب سے فرماتے تھے نفل نماز رات اور دن کی دو دو رکعتیں ہیں سلام پھیرے ہر دو رکعتوں کے بعد۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab used to pray as much as Allah willed in the night until at the end of the night he would wake his family for the prayer. He used to say to them, "The prayer, the prayer." Then he would recite the ayat, "Enjoin prayer on your family and be constant in it. We do not ask you for your provision. We provide for you. And the end result is for taqwa." (Sura 2O ayat 132)
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے ایک رکعت ان میں سے وتر کی ہوتی جب فارغ ہوتے آپ ﷺ لیٹ جاتے داہنی کروٹ پر۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray eleven rakas in the night, making them odd by a single one, and when he had finished he lay down on his right side.
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کہ انہوں نے پوچھا حضرت عائشہ ؓ کیونکہ تھی نماز رسول اللہ ﷺ کی رمضان میں تو کہا حضرت عائشہ نے نہیں زیادہ کرتے تھے آپ ﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے پوچھا حضرت عائشہ نے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ سو جاتے ہیں وتر پڑھنے سے پہلے فرمایا اے عائشہ میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that he asked Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, what the prayer of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was like during Ramadan. She said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not go above eleven rakas in Ramadan or at any other time. He prayed four - do not ask me about their beauty or length. Then he prayed another four - do not ask me about their beauty and length. Then he prayed three." Aisha continued, "I said, Messenger of Allah, are you sleeping before you do the witr? He said, Aisha, my eyes sleep but my heart does not sleep. "
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَائَ بِالصُّبْحِ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھتے تھے رات کو تیرہ رکعتیں پھر جب اذان سنتے صبح کی تو پڑھ لیتے دو رکعتیں ہلکی پھلکی۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, umm al-muminin said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray thirteen rakas in the night and then would pray two rakas when he heard the adhan for the subh prayer."
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَی يَفْتِلُهَا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّی أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک رات رہے اپنی خالہ میمونہ کے پاس جو بی بی تھیں رسول اللہ ﷺ کی کہا ابن عباس نے لیٹا میں بستر کے عرض کی طرف اور آپ ﷺ کی بی بی لیٹیں بستر کے طرل میں پس سو گئے رسول اللہ ﷺ یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی یا کچھ پہلے یا کچھ بعد اس کے جاگے رسول اللہ ﷺ تو بیٹھے آپ ﷺ اور ملنے لگے آنکھیں اپنے ہاتھ سے پھر پڑھیں دس آیتیں اخیر کی سورت آل عمران سے یعنی (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ) 3۔ ال عمران: 190) سے اخیر سورت تک پھرگئے آپ ایک مشک کی پاس جو لٹک رہی تھی اور وضو کیا اس سے اچھی طرح پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ابن عباس نے کہا میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور جیسا آپ ﷺ نے کیا ویسا ہی میں نے بھی کیا تو جب میں آپ ﷺ کے پاس گیا آپ ﷺ نے داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر ملنے لگے پھر پڑھیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر وتر پڑھے پھر لیٹے رہے جب مؤذن آیا تو دو رکعتیں ہلکی پڑھیں پھر باہر نکلے اور نماز پڑھی صبح کی۔
Yahya related to me from Malik from Makhrama ibn Sulayman from Kurayb, the mawla of Ibn Abbas (RA) , that Abdullah ibn Abbas told him that he had spent a night at the house of Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, who was also Ibn Abbas (RA) mothers sister. Ibn Abbas (RA) said, "I lay down with my head on the breadth of the cushion, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and his wife lay down with their heads on its length. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, slept, until, halfway through the night or a little before or after it, he awoke and sat up and wiped the sleep away from his face with his hand. Then he recited the last ten ayats of sura Ali Imran (Sura3). Then he got up and went over to a water-skin which was hanging up and did wudu from it, doing his wudu thoroughly, and then he stood in prayer." Ibn Abbas (RA) continued, "I stood up and did the same and then went and stood by his side. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, put his right hand on my head and took my right ear and tweaked it. He prayed two rakas, then two rakas, then two rakas, then two rakas, then two rakas, then two rakas, and then prayed an odd raka. Then he lay down until the muadhdhin came to him, and then prayed two quick rakas, and went out and prayed subh ."
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَتِلْکَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں ضرور دیکھوں گا نماز رسول اللہ ﷺ کی رات کو کہا زید نے کہ تکیہ لگایا میں نے آپ ﷺ کے مکان کی چوکھٹ پر یا گھر جو بالوں سے ڈھپا ہوا تھا پھر کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ سو پڑھیں دو رکعتیں بہت لمبی بہت لمبی بہت لمبی پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر ایک رکعت وتر کی پڑھی سب تیرہ رکعتیں پڑھیں۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that Abdullah ibn Qays ibn Makhrama told him that Zayd ibn Khalid al-Juhani said one night that he was going to observe the prayer of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. He said, "I rested my head on his threshold. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, got up and prayed two long, long, long rakas. Then he prayed two rakas which were slightly less long than the two before them. Then he prayed two rakas which were slightly less long than the two before them. Then he prayed two rakas which were slightly less long than the two before them. Then he prayed two rakas which were slightly less long than the two before them. Then he prayed two rakas which were slightly less long than the two before them. Then he prayed an odd raka, making thirteen rakas in all."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُکُمْ الصُّبْحَ صَلَّی رَکْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّی
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کا تو فرمایا آپ ﷺ نے رات کی نماز دو رکعتیں ہیں اور جب ڈر ہو صبح ہونے کا پڑھ لے ایک رکعت جو طاق کر دے اس کی نماز کو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi and Abdullah ibn Umar that a man asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about night prayers. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Night prayers are two by two, and when you are afraid that dawn is approaching, pray one raka to make what you have prayed odd."
عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي کِنَانَةَ يُدْعَی الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُکَنَّی أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ فَقَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی الْعِبَادِ فَمَنْ جَائَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ کَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَائَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ
عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی کنانہ سے جس کو مخدجی کہتے تھے سنا ایک شخص سے شام میں جن کی کنیت ابومحمد ہے کہتے تھے وتر واجب ہے مخدجی نے کہا کہ میں عبادہ بن صامت کے پاس گیا اور ابومحمد کے قول کو نقل کیا عبادہ نے کہا کہ جھوٹ کہا ابومحمد نے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے پانچ نمازیں ہیں جو فرض کیں اللہ نے اپنے بندوں پر جو شخص ان کو پڑھے گا اور ہلکا جان کر ان کو نہ چھوڑے گا تو اللہ جل جلالہ نے اس کے لئے عہد کر رکھا ہے کہ جنت میں اس کو لے جائے گا اور جو شخص ان کو چھوڑ دے گا اللہ کے پاس اس کا کچھ عہد نہیں ہے چاہے اس کو عذاب کردیں چاہے جنت میں پہنچا دے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Yahya ibn Habban from Ibn Muhayriz that a man from the Kinana tribe called al-Mukhdaji heard a man in Syria known as Abu Muhammad saying, "The witr is obligatory (fard)." Al-Mukhdaji said, "I went to Ubadah ibn as-Samit and presented myself to him as he was going to the mosque, and told him what Abu Muhammad had said. Ubadah said that Abu Muhammad had lied and that he had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Allah the Majestic and Mighty has written five prayers for mankind, and whoever does them and does not waste anything of them by making light of what is due to them, there is a pact for him with Allah that He will admit him into the Garden.Whoever does not do them, there is no pact for him with Allah. If He wishes, He punishes him, and if He wishes, He admits him into the Garden. "
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ قَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَکْتُهُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ کُنْتَ فَقُلْتُ لَهُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَکَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ فَقُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُوتِرُ عَلَی الْبَعِيرِ
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ رات کو سفر میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے راہ میں مکہ کی کہا سعید نے جب مجھے ڈر ہوا صبح کا تو میں اونٹ پر سے اترا وتر پڑھے پھر ان کو آگے بڑھ کر پالیا تو عبداللہ بن عمر نے مجھ سے پوچھا کہ تو کہاں تھا میں نے کہا مجھے صبح ہونے کا اندیشہ ہوا اس لئے میں نے اتر کر وتر پڑھے تو عبداللہ نے کہا کیا تو رسول اللہ ﷺ کی پیروی نہیں کرتا میں نے کہا واہ کیوں نہیں کہا عبداللہ نے پس رسول اللہ ﷺ تو وتر پڑھتے تھے اونٹ پر۔
Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Umar that Said ibn Yasar said, I was travelling with Abdullah ibn Umar on the road to Makka, and fearing that it was nearly dawn. I dismounted and prayed witr. Abdullah said, Is there not a model for you in the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace? I said, Of course, by Allah! He said, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray witr on his camel. "
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ فِرَاشَهُ أَوْتَرَ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَقُولُ مَنْ خَشِيَ أَنْ يَنَامَ حَتَّی يُصْبِحَ فَلْيُوتِرْ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَمَنْ رَجَا أَنْ يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُؤَخِّرْ وِتْرَهُ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوبکر جب سونے کو آتے اپنے بستر پر وتر پڑھ لیتے اور عمر بن خطاب آخر رات میں وتر پڑھتے تھے بعد تہجد کے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کیا وتر واجب ہے تو کہا عبداللہ بن عمر نے وتر ادا کیا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی عائشہ فرماتی تھیں جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھلے گی صبح تک تو وہ وتر پڑھ لے سونے سے پیشتر اور جو امید رکھے جاگنے کی آخر شب میں تو وہ دیر کرے وتر میں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, " Abu Bakr (RA) as-Siddiq used to pray witr when he wished to go to bed, and Umar ibn al-Khattab used to pray witr at the end of the night. As for me, I pray witr when I go to bed."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَکَّةَ وَالسَّمَائُ مُغِيمَةٌ فَخَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْکَشَفَ الْغَيْمُ فَرَأَی أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ
نافع سے روایت ہے کہ تھا میں عبداللہ بن عمر کے ساتھ مکہ کے راستہ میں اور آسمان پر ابر چھایا ہوا تھا تو ڈرے عبداللہ بن عمر صبح ہوجانے سے پس پڑھی ایک رکعت وتر کی پھر کھل گیا ابر تو دیکھا ابھی رات باقی ہے پس دوگانہ کیا اس رکعت کو ایک رکعت اور پڑھ کر پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر جب خوف ہوا صبح کا تو ایک رکعت وتر پڑھی۔
Yahya related to me from Malik that Nafi said, "I was with Abdullah ibn Umar in Makka. The sky was clouded over and Abdullah feared that dawn was approaching so he prayed one raka for witr. Then the clouds cleared and he saw that it was still night, so he made his prayers even with one raka. Then he continued to pray two rakas at a time, until when he feared the approach of dawn, he prayed one raka for witr."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّکْعَتَيْنِ وَالرَّکْعَةِ فِي الْوِتْرِ حَتَّی يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سلام پھیر تے تھے دو رکعت وتر کی پڑھ کر اور کچھ کام ہوتا تو اس کو کہہ دیتے پھر ایک رکعت پڑھتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say the taslim between the two rakas and the one raka of witr so that he could order something he needed.
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَ يُوتِرُ بَعْدَ الْعَتَمَةِ بِوَاحِدَةٍ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ عَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا وَلَکِنْ أَدْنَی الْوِتْرِ ثَلَاثٌ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص وتر پڑھتے تھے بعد عشاء کے ایک رکعت۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Sad ibn Abi Waqqas used to pray witr after isha with one raka. Malik said, "This is not the situation with us. Rather three is the minimum for witr."
وتر پڑھنا بعد فجر ہوجانے کے
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ لِخَادِمِهِ انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَهَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنْ الصُّبْحِ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَدْ أَوْتَرُوا بَعْدَ الْفَجْرِ
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سو رہے پھر جاگے تو کہا آپ نے خادم سے دیکھو لوگ کیا کر رہے ہیں اور ان دنوں میں عبداللہ بن عباس کی بصارت جاتی رہی تھی سو گیا خادم پھر آیا اور کہا کہ لوگ پڑھ چکے صبح کی نماز تو کھڑے ہوئے عبداللہ بن عباس اور وتر پڑھے پھر نماز پڑھی صبح کی۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar used to say, "The maghrib prayer is the witr of the daytime prayers." Malik said, "If someone prays witr at the beginning of the night, and goes to sleep, and then wakes up and it seems good to him to pray, let him pray, two rakas at a time. That is what I like most of what I have heard."
وتر پڑھنا بعد فجر ہوجانے کے
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مَا أُبَالِي لَوْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَأَنَا أُوتِرُ
عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ مجھے کچھ ڈر نہیں ہے اگر میں وتر پڑھتا ہوں اور تکبیر ہوجائے صبح کی نماز کی۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Abdullah ibn Masud said, "I do not mind if the iqama for the subh prayer is called while I am still praying witr."
وتر پڑھنا بعد فجر ہوجانے کے
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ يَؤُمُّ قَوْمًا فَخَرَجَ يَوْمًا إِلَی الصُّبْحِ فَأَقَامَ الْمُؤَذِّنُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَأَسْکَتَهُ عُبَادَةُ حَتَّی أَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّی بِهِمْ الصُّبْحَ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت امامت کرتے تھے ایک قوم کی تو نکلے ایک روز صبح کی نماز کے لئے اور مؤذن نے تکبیر کہی پس خاموش کیا عبادہ نے مؤذن کو یہاں تک کہ وتر پڑھا پھر نماز پڑھائی صبح کی۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, Ubadah ibn as-Samit used to lead the people in prayer. One day he came out for subh and the muadhdhin began to give the iqama for the subh prayer Ubadah silenced him, prayed witr and then led them in subh."