مدینہ کے واسطے اور مدینہ کے رہنے والوں کے واسطے دعا کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مِکْيَالِهِمْ وَبَارِکْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اے پروردگار برکت دے مدینہ والوں کی ناپ میں اور برکت دے ان کے صاع میں اور مد میں۔
Yahya ibn Yahya related to me from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha al-Ansari from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "O Allah! Bless them in their measure, and bless them in their sa and mudd." He meant the people of Madina.
مدینہ کے واسطے اور مدینہ کے رہنے والوں کے واسطے دعا کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَائُوا بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ بِهِ لِمَکَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب لوگ پہلا میوہ دیکھتے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے آپ ﷺ اس کو لے کر فرماتے اے پروردگار برکت دے ہمارے پھلوں میں اور برکت دے ہمارے شہر میں اور برکت دے ہمارے صاع میں اور برکت دے ہمارے مد میں، اے پروردگار ابراہیم نے جو تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور تیرے نبی تھے دعا کی تھی مکہ کے واسطے تیرا بندہ ہوں اور نبی ہوں جیسے ابراہیم نے دعا کی تھی مکہ کے لئے اور اتنی اور اس کے ساتھ (اشارہ کرکے) پھر آپ ﷺ سب سے چھوٹے بچے کو جو موجود ہوتا بلاتے اور وہ میوہ اس کو دے دیتے۔
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father that Abu Hurayra said, "When people saw the first fruits of the season, they brought them to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took them and said, O Allah! Bless us in our fruits. Bless us in our city. Bless us in our sa and bless us in our mudd. O Allah! Ibrahim is Your slave, Your Khalil and Your Prophet. I am Your slave and Your Prophet. He prayed to You for Makka. I pray to You for Madina for the like of what He prayed to You for Makka, and the like of it with it. Then he called the smallest child he saw and gave him the fruits."
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ أَنَّ يُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ اقْعُدِي لُکَعُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
یحنس جو مولیٰ تھا زبیر بن عوام کا نقل کرتا ہے میں بیٹھا تھا عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس اتنے میں ایک لونڈی آئی ان کی اور بولی میں مدینہ سے نکلنا چاہتی ہوں اے ابوعبدالرحمن کیونکہ یہاں سختیاں ہیں اور وہ زمانہ فساد کا تھا مدینہ میں، عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا بیٹھ نالائق میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے مدینہ کی تکلیف اور سختیوں پر جو صبر کرے گا میں اس کا قیامت کے روز گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔
Yahya related to me from Malik from Qatan ibn Wahb ibn Umayr ibn al-Ajda that Yuhannas, the mawla of az-Zubayr ibn al-Awwam informed him that he was sitting with Abdullah ibn Umar during the troubles (at the time of al-Hajaj ibn Yusuf) . A female mawla of his came and greeted him. She said, "I want to leave, Abu Abd ar-Rahman. The time is harsh for us." Abdullah ibn Umar said to her, "Sit down, O you with little knowledge, for I have heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, No one will be patient in hunger and hardship in it (Madina) except that I will be a witness or intercede for him on the Day of Rising. "
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْکٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ کَالْکِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بیعت کی رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر اس کو بخار آنے لگا مدینہ میں وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میری بیعت تور دیجئے آپ نے انکار کیا پھر آیا اور کہا میری بیعت تور دیجئے آپ ﷺ نے انکار کیا وہ مدینہ سے نکل گیا اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ مثل دھونکنی یا کھریا (بھٹی) ہے کہ جو میل نکال دیتی ہے اور خالص کندن رکھ لیتی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn al-Munkadir from Jabir ibn Abdullah that a Bedouin took an oath of allegiance in Islam with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. A fever befell the Bedouin at Madina. He came to the Messenger of Allah, and said, "Messenger of Allah, release me from my pledge." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, refused. Then he came to him again and said, "Release me from my pledge." The Messenger of Allah ﷺ may Allah bless him and grant him peace, refused. Then he came again and said, "Release me from my pledge." He refused. Then he came again and said, "Release me from my pledge." He refused. The Bedouin left and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Madina is like the blacksmiths furnace. It removes the impurities and purifies the good."
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ أَبَاهُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْکُلُ الْقُرَی يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ہوا جو بہت سی بستیوں کو کھاجائے گی لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے برے آدمیوں کو نکال باہر کرتا ہے جیسے کھریا لوہے کا میل نکال دیتی ہے۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said, "I heard Abul-Hubab Said ibn Yasar say that he heard Abu Hurayra say that he heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, I was ordered to a town which will eat up towns. They used to say, Yathrib, but it is Madina. It removes the bad people like the blacksmiths furnace removes impurities from the iron. "
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنْ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ
عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کوئی شخص مدینہ سے نفرت کرکے نہیں نکلتا مگر اللہ جل جلالہ اس سے بہتر دوسرا آدمی مدینہ کو دے دیتا ہے۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No one leaves Madina preferring to live elsewhere, but that Allah will give it better than him in place of him ."
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ
سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہا سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے کہ فتح ہوگا یمن وہاں سے لوگ سیر کرتے ہوئے مدینہ کو آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کے ساتھ جائے گا مدینہ سے سے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور فتح ہوگا شام وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور عراق فتح ہوگا وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Abdullah ibn az-Zubayr that Sufyan ibn Abi Zuhayr said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Yemen will be conquered and the people will be attracted to it, taking their families and whoever obeys them. Madina would have been better for them, had they but known. Ash-Sham will be conquered and people will be attracted to it, taking their families and whoever obeys them. Madina would have been better for them, had they but known. Iraq will be conquered and people will be attracted to it, taking their families and whoever obeys them. Madina would have been better for them, had they but known. "
مدنیے میں رہنے کا بیان اور مدنیے سے نکلنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُتْرَکَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَی أَحْسَنِ مَا کَانَتْ حَتَّی يَدْخُلَ الْکَلْبُ أَوْ الذِّئْبُ فَيُغَذِّي عَلَی بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ أَوْ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَنْ تَکُونُ الثِّمَارُ ذَلِکَ الزَّمَانَ قَالَ لِلْعَوَافِي الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ عَنْ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ خَرَجَ مِنْ الْمَدِينَةِ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَبَکَی ثُمَّ قَالَ يَا مُزَاحِمُ أَتَخْشَی أَنْ نَکُونَ مِمَّنْ نَفَتْ الْمَدِينَةُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے البتہ تم چھوڑ دو گے مدینہ کو اچھے حال میں یہاں تک کہ آئے گا اس میں کتا یا بھیڑیا تو پیشاب کیا کرے گا مسجد کے کھمبوں یا منبر پر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں مدینہ کے پھلوں کو کون کھائے گا آپ ﷺ نے فرمایا جو جانور بھولے ہوں گے پرندے اور درندے۔ عمر بن عبدالعزیز جب مدینہ سے نکلے تو مدینہ کی طرف دیکھ کر روئے اور اپنے غلام مزاحم سے کہنے لگے کہ شاید تم اور ہم ان لوگوں میں سے ہوں جن کو مدینہ نے نکال دیا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Himas from his paternal uncle from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Madina will be left in the best way that it is until a dog or wolf enters it and urinates on one of the pillars of the mosque or on the mimbar." They asked, "Messenger of Allah! Who will have the fruit at that time?" He replied, "Animals seeking food, birds and wild beasts."
مدینہ منورہ کی حرمت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب کہ آپ ﷺ کو احد کا پہاڑ دکھائی دیا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم بھی اس کو چاہتے ہیں اے میرے رب! ابراہیم نے حرام کیا مکہ کو اور میں حرام کرتا ہوں مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان لڑائی کو۔
Yahya related to me from Malik from Amr, the mawla of al-Muttalib from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw Uhud and said, "This is a mountain which loves us and we love it. O Allah! Ibrahim made Makka Haram, and I will make what is between the two tracts of black stones (in Madina) a Haram."
مدینہ منورہ کی حرمت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَائَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے اگر میں ہر نوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that Abu Hurayra said, "Had I seen a gazelle at Madina, I would have left it to graze and would not have frightened it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, What is between the two tracts of black stones is a Haram. "
مدینہ منورہ کی حرمت کا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَی زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ قَالَ مَالِک لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَفِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا عَنْ مَالِک عَنْ رَجُلٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ قَدْ اصْطَدْتُ نُهَسًا فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ
ابو ایوب انصاری نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا۔ کہا مالک نے ابوایوب نے یہ کہا کیا رسول اللہ ﷺ کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے پاس زید بن ثابت آئے اور میں اسواف میں تھا اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا۔
Malik related to me from Yunus ibn Yusuf from Ata ibn Yasar that Abu Ayyub al-Ansari found some boys who had driven a fox into a corner, and he chased them away from it.
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ کَيْفَ تَجِدُکَ وَيَا بِلَالُ کَيْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّی يَقُولُ کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِهِ وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجِنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَحُبِّنَا مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَکَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, umm al-muminin said, "When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to Madina, Abu Bakr (RA) and Bilal (RA) came down with a fever. I visited them and said, Father, how are you? Bilal (RA) , how are you?" She continued, "When Abu Bakrs fever worsened he would say, Every man is struck down among his people in the morning - death is nearer than the strap of his sandal." When it left Bilal (RA) , he raised his voice and said, Would that I knew whether I will spend a night at the valley of Makka with the idhkhir herb and jalil herb around me. Will I go one day to the waters of Majinna? Will the mountains of Shama and Tafil appear to me? " Aisha continued, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and informed him. He said, O Allah! Make us love Madina as much as we love Makka or even more. Make it sound and bless us in our sa and mudd. Remove its fever and put it in al-Juhfa. "
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِکَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی راہوں پر فرشتے ہیں اس میں نہ طاعون آتا ہے نہ دجال۔
Yahya related to me from Malik from Nuaym ibn Abdullah al-Mujmir that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, There are angels at the entries of Madina, and neither plague nor the Dajjal will enter it. "
مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ کَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَکَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ
عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری کلام یہ فرمایا اللہ جل جلالہ تباہ کرے یہود اور نصاری کو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔
Yahya related to me from Malik from Ismail ibn Abi Hakim that he heard Umar ibn Abdul Aziz say, "One of the last things that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said was, May Allah fight the jews and the christians. They took the graves of their Prophets as places of prostration . Two deens shall not co-exist in the land of the Arabs. "
مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رہیں۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Two deens shall not co-exist in the Arabian Peninsula." Malik said that Ibn Shihab said, Umar ibn al-Khattab searched for information about that until he was absolutely convinced that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had said, Two deens shall not co-exist in the Arabian Peninsula, and he therefore expelled the jews from Khaybar."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا احد کو دیکھ کر کہ یہ پہاڑ ہم کو چاہتا ہے ہم بھی اسے چاہتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came in view of Uhud and said, "This is a mountain which loves us and we love it."
عَنْ مَالِک أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَی عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَائَ بِهِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَی فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلًا عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّةُ خَيْرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلَا فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّةُ خَيْرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلَا فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو حضرت عمر ؓ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر حضرت عمر ؓ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا جب عبداللہ بن عیاش لوٹ کر چلے تو حضرت عمر ؓ نے ان کو بلایا اور کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ وہ حرم ہے اللہ کا اور امن کی جگہ ہے اور وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر ؓ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم کا نہیں پوچھتا (بلکہ ان دونوں میں کون سا افضل ہے) پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے، عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا حرم ہے اور امن کی جگہ ہے وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر ؓ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم میں کچھ نہیں کہتا پھر عبداللہ بن عیاش چلے گئے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that Aslam, the mawla of Umar ibn al-Khattab informed him that he had visited Abdullah ibn Ayyash al-Makhzumi. He saw that he had some nabidh with him and he was at that moment on the way to Makka. Aslam said to him, Umar ibn al-Khattab loves this drink." Abdullah ibn Ayyash therefore carried a great drinking bowl and brought it to Umar ibn al-Khattab and placed it before him. Umar brought it near to him and then raised his head. Umar said, "This drink is good," so he drank some of it and then passed it to a man on his right. When Abdullah turned to go, Umar ibn al-Khattab called him and asked, "Are you the person who says that Makka is better than Madina?" Abdullah said, "I said that it was the Haram of Allah, and His place of security, and His House was in it." Umar said, "I am not saying anything about the House of Allah or His Haram." Then Umar repeated "Are you the person who says that Makka is better than Madina?" He replied, "I said that it was the Haram of Allah and His place of security, and His House was in it." Umar said, "I am not saying anything about the House of Allah and His Haram." Then Abdullah left.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَائُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَکَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَإِ فَقَالَ عُمَرُ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَکُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ کَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ مِنْهُمُ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَإِ فَنَادَی عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَی ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُکَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَی قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لَکَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ وَالْأُخْرَی جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصِبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَکَانَ غَائِبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ شام کی طرف نکلے جب سرغ (ایک بستی ہے) میں پہنچے تو لشکر کے بڑے بڑے افسران سے ملے جیسے ابوعیبدہ بن جراح اور ان کے ساتھی انہوں نے کہا شام میں آج کل وباء ہے حضرت عمر ؓ نے کہا ابن عباس ؓ سے کہ بلاؤ بڑے بڑے مہاجرین کو جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہے تو بلایا ان کو حضرت عمر ؓ نے ان سے مشورہ کیا اور بیان کیا ان سے کہ شام میں وباء ہو رہی ہے انہوں نے اختلاف کیا بعضوں نے کہا آپ کام کے واسطے نکلے ہیں لوٹنا مناسب نہیں ہے بعضوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی ہیں اور صحابہ ہیں مناسب نہیں کہ آپ ان کو اس وبا میں لے جائیں حضرت عمر ؓ نے کہا جاؤ اور کہا بلاؤ انصار کو ابن عباس کہتے ہیں میں نے انصار کو بلایا اور وہ آئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین کی مثل بیان کی اور اسی طرح اختلاف کیا آپ نے کہا جاؤ۔ پھر کہا قریش کے بوڑھے بوڑھے لوگوں کو جہنوں نے ہجرت کی فتح مکہ کے بعد بلاؤ، میں نے ان کو بلایا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کیا بلکہ سب نے کہا ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ آپ لوٹ جائیں اور لوگوں کو اس وباء میں نہ لے جائیے جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں منادی کرادی کہ صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر چلے اور اس وقت ابوعیبدہ نے کہا کہ اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے بھاگے جاتے ہو حضرت عمر ؓ نے کہا کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم بھاگتے ہیں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اگر تو اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو تو نے خشک اور خراب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اتنے میں عبدالرحمن بن عوف آئے اور وہ کہیں کام کو گئے ہوئے تھے انہوں نے کہا میں اس مسئلے کا عالم ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں وباء ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی سر زمین میں وبا پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں کہا ابن عباس نے کہ اس وقت حضرت عمر ؓ نے اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی اور لوٹ کھڑے ہوئے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab from Abdullah ibn Abdullah ibn al-Harith ibn Nawfal from Abdullah ibn Abbas that Umar ibn al-Khattab set out for ash Sham and when he was at Sargh, near Tabuk, the commanders of the army, Abu Ubayda ibn al-Jarrah and his companions, met him and told him that the plague had broken out in ash-Sham. Ibn Abbas (RA) said, "Umar ibn al-Khattab said, all the first Muhajir unto me. He assembled them and asked them for advice, informing them that the plague had broken out in ash Sham. They disagreed. Some said, You have set out for something, and we do not think that you should leave it. Others said, You have the companions of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and the rest of the people with you, and we do not think that you should send them towards this plague. Umar said, Leave me. Then he said, Summon the Ansar to me. They were summoned and he asked them for advice. They acted as the Muhajirun had and disagreed as they had disagreed. He said, Leave me. "Then he said, Summon to me whoever is here of the aged men of Quraysh from the Muhajirun of the conquest. He summoned them and not one of them differed. They said, We think that you should withdraw the people and not send them towards the plague. Umar called out to the people, I am leaving by camel in the morning, so they set out. Abu Ubayda said, Is it flight from the decree of Allah? Umar said, Better that someone other than you had said it, Abu Ubayda. Yes. We flee from the decree of Allah to the decree of Allah. What would you think if these camels had gone down into a valley which had two slopes, one of them fertile, and the other barren. If you pastured in the fertile part, wouldnt you pasture them by the decree of Allah? If you pastured them in the barren part, wouldnt you pasture them by the decree of Allah? Abd ar-Rahman ibn Awf arrived and he had been off doing something and he said, I have some knowledge of this. I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "If you hear about it in a land, do not go forward to it. If it comes upon a land and you are in it, then do not depart in flight from it." Umar praised Allah and then set off."
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَی طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ مَالِک قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا يُخْرِجُکُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ
سعد بن ابی وقاص نے اسامہ بن زید سے پوچھا تم نے کیا سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بھیجا گیا تھا بنی اسرائیل کے گروہ پر یا یہ کہا کہ ان پر جو تم سے پہلے تھے تو جب سنو تم کسی زمین میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں طاعون پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں ابوالنصر نے کہا نہ نکلو بھاگنے کے قصد سے۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn al-Munkadir and from Salim ibn Abin-Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah that Amir ibn Sad ibn Abi Waqqas heard his father ask Usama ibn Zayd, "Have you heard anything from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about the plague?" Usama said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The plague is a punishment that was sent down on a party of the Banu Israil or whoever was before them. When you hear of it in a land, do not enter it. If it comes upon a land and you are in it, do not depart in flight from it. " Malik said that Abun-Nadr said, "That is, do not depart with no other intention but flight."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا جَائَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّمَا رَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَبَيْتٌ بِرُکْبَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ بِالشَّامِ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف نکلے جب سرع میں پہنچے ان کو خبر ملی شام میں وبا پڑی ہے تو عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی زمین میں سنو کہ وبا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وبا پڑے اس زمین میں جس میں تم ہو تو اس سے نکل نہ بھاگو یہ سن کر حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے عبدالرحمن بن عوف کی حدیث سن کر امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک گھر رکبہ میں (ایک مقام ہے درمیان میں عمرہ اور ذات عرق کے) پسند ہے مجھ کو شام میں دس گھروں سے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abdullah ibn Amir ibn Rabia that Umar ibn al-Khattab went out to ash-Sham. When he came to Sargh, near Tabuk, he heard that the plague had broken out in ash-Sham. Abd ar-Rahman ibn Awf told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you hear that a land has a plague in it, do not go forward to it. If it comes upon a land which you are in, do not depart in flight from it." Umar ibn al-Khattab came back from Sargh.