تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی قَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بحث کی آدم اور موسیٰ علیہما السلام نے تو غالب ہوئے آدم موسیٰ پر موسیٰ نے کہا تو وہی آدم ہے کہ گمراہ کیا تو نے لوگوں کو اور نکالا ان کو جنت سے آدم نے کہا کہ تو وہی موسیٰ ہے کہ اللہ نے تجھے علم دیا ہر چیز کا اور برگزیدہ کیا رسالت سے انہوں نے کہا ہاں پھر آدم نے کہا باوجود اس کے تو مجھے ملامت کرتا ہے ایسے کام پر جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا قبل میرے پیدا ہونے کے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Adam and Musa argued and Adam got the better of Musa. Musa rebuked Adam, You are Adam who led people astray and brought them out of the Garden. Adam said to him, You are Musa to whom Allah gave knowledge of everything and whom he chose above people with His message. He said, Yes. He said, Do you then censure me for a matter which was decreed for me before I was created? "
تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ النَّارَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَکْتُ فِيکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا کِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ پر اور اولاد نکالی فرمایا میں نے ان کو جہنم کے لئے پیدا کیا اور یہ جہنموں کے کام کریں گے ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب پیدا کرتا ہے کسی بندے کو جنت کے واسطے تو اس سے جنیتوں کے کام کراتا ہے اور موت کے وقت بھی وہ نیک عمل کرکے مرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنیموں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ موت بھی اسے برے کام پر آتی ہے تو اسے جہنم میں داخل کرتا ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Abi Unaysa that Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab informed him from Muslim ibn Yasar al-Juhani that Umar ibn al-Khattab was asked about this ayat - "When your Lord took their progeny from the Banu Adam from their backs and made them testify against themselves. Am I not your Lord? They said, Yes, we bear witness Lest you should say on the Day of Rising, We were heedless of that." (Sura 7 ayat 172) Umar ibn al-Khattab said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, being asked about it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah, the Blessed, the Exalted, created Adam. Then He stroked his back with His right hand, and progeny issued from it. He said, "I created these for the Garden and they will act with the behaviour of the people of the Garden." Then He stroked his back again and brought forth progeny from him. He said, "I created these for the Fire and they will act with the behaviour of the people of the Fire." A man said, Messenger of Allah! Then of what value are deeds? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, answered, When Allah creates a slave for the Garden, he makes him use the behaviour of the people of the Garden, so that he dies on one of the actions of the people of the Garden and by it He brings him into the Garden. When He creates a slave for the Fire, He makes him use the behaviour of the people of the Fire, so that he dies on one of the actions of the people of the Fire, and by it, He brings him into the Fire. "
تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ قَالَ طَاوُسٌ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَيْسِ أَوْ الْکَيْسِ وَالْعَجْزِ
طاؤس الیمانی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے چند صحابہ کو پایا کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے طاؤس نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہتے تھے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عاجزی اور ہوشیاری بھی۔
Yahya related to me from Malik from Ziyad ibn Sad from Amr ibn Muslim that Tawus al-Yamani said, "I found some of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saying Everything is by decree. " Tawus added, "I heard Abdullah ibn Umar say that The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. said, Everything is by decree - even incapacity and ability, (or ability and incapacity)."
تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْهَادِي وَالْفَاتِنُ
عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر سے سنا خطبہ میں فرماتے تھے کہ اللہ ہی ہدایت کرنے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔
Malik related to me from Ziyad ibn Sad that Amr ibn Dinar said, "I heard Abdullah ibn az-Zubayr say in a khutba, Allah - He is the Guider and the One Who Tempts Away. "
تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ مَا رَأْيُکَ فِي هَؤُلَائِ الْقَدَرِيَّةِ فَقُلْتُ رَأْيِي أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَی السَّيْفِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَذَلِکَ رَأْيِي قَالَ مَالِک وَذَلِکَ رَأْيِي
ابی سہیل بن مالک عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ جا رہے تھے انہوں نے پوچھا ابوسہیل سے کہ تمہاری کیا رائے ہے قدریہ کے بارے میں ابوسہیل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان سے توبہ کراؤ توبہ کرلیں تو بہتر، نہیں تو قتل کئے جائیں عمر بن عبدالعزیز نے کہا میری رائے بھی یہی ہے مالک نے کہا میری بھی یہی رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں۔
Yahya related to me from Malik that his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik said, "I was a prisoner with Umar ibn Abdul Aziz. He said, What do you think about these Qadariyya (fatalists)? I said, My opinion is that one should ask them to turn from wrong action, if they will do so. If not, subject them to the sword. Umar ibn Abdul Aziz said, That is my opinion. Malik added, "That is my opinion also."
قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْکِحَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چاہے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی تاکہ خالی کرے پیالہ اس کا بلکہ نکاح کرلے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے اس کو ملے گا۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A woman should not ask for the divorce of her sister to make her plate empty and in order to marry. She has what is decreed for her."
قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَی اللَّهُ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ هَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی هَذِهِ الْأَعْوَادِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يَنْبَغِي الَّذِي لَا يَعْجَلُ شَيْءٌ أَنَاهُ وَقَدَّرَهُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَكَفَى سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ دَعَا لَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمَى و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِنَّ أَحَدًا لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے منبر پر کہا اے لوگوں جو اللہ جل جلالہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور کسی طاقت والے کی طاقت کام نہیں آتی جس شخص کو اللہ بھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور علم فقہ دیتا ہے پھر کہا معاویہ نے میں نے ان کلمات کو رسول اللہ ﷺ سے سنا انہیں لکڑیوں پر۔ امام مالک سے روایت ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ یوں کہا کرتے تھے کہ سب خوبیاں اس اللہ کی ہیں جس نے پیدا کیا عرش کو جیسے چاہے جو وقت مقرر کردیا ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہوسکتی کافی ہے مجھ کو اللہ اور کافی ہے ایسا کافی ہے کہ سنتا ہے اللہ جو اس کو پکارے اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جس سے دعا کیا جائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ پہلے زمانے میں یوں کہا جاتا تھا کہ کوئی آدمی نہیں مرے گا جب تک کہ اس کا رزق پورا نہ ہو پس اختصار کرو طلب معاش میں۔
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Ziyad that Muhammad ibn Kab al-Quradhi said, Muawiya ibn Abi Sufyan said from the mimbar, O people! Nothing keeps away what Allah gives and nothing gives what Allah keeps away. The earnestness of the earnest one does not profit him. When Allah desires good for him, he gives him understanding in the deen. Then Muawiya said, I heard these words from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on these blocks of wood. "
بَاب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا یہ تھی کہ اے معاذ خوش خلقی کر لوگوں سے۔
Yahya related to me from Malik that Muadh ibn Jabal said, "The last advice the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave me when I put my foot in the stirrup was that he said, Make your character good for the people, Muadh ibn Jabal! "
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ نے آسان امر کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے اور رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not have to choose between two matters, but that he chose the easier of them as long as it was not a wrong action. If it was a wrong action, he was the furthest of people from it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not take revenge for himself unless the limits of Allah were violated. Then he took revenge for it for Allah."
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی بہتریوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بےکار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھی گھر میں آپ ﷺ نے فرمایا برا آدمی ہے یہ پھر آپ ﷺ نے اس کو آنے کی اجازت دی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ابھی تو آپ ﷺ نے اس کو برا کہا تھا ابھی آپ ﷺ اس سے ہنسنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ali ibn Husayn ibn Ali ibn Abi Talib that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Part of the excellence of a mans Islam is that he leaves what does not concern him."
عَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَعْلَمُوا مَا لِلْعَبْدِ عِنْدَ رَبِّهِ فَانْظُرُوا مَاذَا يَتْبَعُهُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَائِ
کعب احبار نے کہا کہ جب تم کسی بندہ کا حال جاننا چاہو اس کے پروردگار کے پاس تو دیکھو لوگ اس کو کیسا کہتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik from his father that Kab al-Ahbar said, "If you want to know what a slave has with his Lord, then look at whatever good praise follows him."
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَرْئَ لَيُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ الظَّامِي بِالْهَوَاجِرِ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ پہنچا کہ آدمی حسن خلق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر پیاسے رہنے والے کا درجہ حاصل کرتا ہے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "I have heard that by his good character a man can reach the degree of the one who stands in prayer at night and the one who is thirsty from fasting in the heat of the day."
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرٍ مِنْ کَثِيرٍ مِنْ الصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَی قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِيَّاکُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ
سعید بن مسیب نے کہا کیا میں بہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے لوگوں نے کہا بتاؤ سعید نے کہا ایک دوسرے کے بیچ صلح کرادیں اور بچو تم بغض اور عدوات سے یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس واسطے بھیجا گیا کہ اخلاق کی خوبیوں کو پورا کردوں
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he heard Said ibn al-Musayyab say, "Shall I tell you what is better than much prayer and sadaqa?" They said, "Yes." He said, "Mending discord. And beware of hatred - it strips you (of your deen)."
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُکَانَةَ يَرْفَعُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ دِينٍ خُلُقٌ وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَائُ
زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیاء ہے۔
Yahya related to me from Malik from Salama ibn Safwan ibn Salama az-Zuraqi that Zayd ibn Talha ibn Rukana, who attributed it to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Every deen has an innate character. The character of Islam is modesty. "
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی رَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَائَ مِنْ الْإِيمَانِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا ایک شخص کو نصیحت کر رہا تھا اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا جانے دے کیونکہ حیاء ایمان میں سے ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, passed by a man who was chiding his brother about modesty. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Leave him. Modesty is part of iman."
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي کَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلَا تُکْثِرْ عَلَيَّ فَأَنْسَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْضَبْ
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور بولا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے چند باتیں بتاد یجئے جن سے میں نفع اٹھاؤں اور بہت باتیں نہ بتانا میں بھول جاؤں گا آپ ﷺ نے فرمایا تو غصہ مت کیا کر۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Humayd ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that a man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "Messenger of Allah, teach me some words which I can live by. Do not make them too much for me, lest I forget." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not be angry."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ وہ آدمی وزر آور نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے وزر آور ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو غصے کے وقت۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A strong person is not the person who throws his adversaries to the ground. A strong person is the person who contains himself when he is angry."
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی ملاقات ترک کرے یعنی اس کو چھوڑ دے تین دن سے زیادہ یا یہ ملے تو وہ نہ دیکھے یا وہ ملے تو نہ دیکھے بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام علیک کرے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ata ibn Yazid al-Laythi from Abu Ayyub al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is not halal for a muslim to shun his brother for more than three nights, that is they meet, and this one turns away and that one turns away. The better of the two is the one who says the greeting first."
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مت بغض کرو مر حسد کرو مت پیٹھ پھیرو ایک دوسرے سے بلکہ ہوجاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی نہیں درست ہے کسی مسلمان کو کہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے تین راتوں سے زیادہ۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not be angry with each other and do not envy each other and do not turn away from each other, and be slaves of Allah, brothers. It is not halal for a muslim to shun his brother for more than three nights."
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بچو تم بدگمانی سے کیونکہ بدگمانی بڑا جھوٹ ہے اور مت کھوج لگاؤ اور مت تفتیش کرو اور مت حرص کرو دنیا کی اور مت حسد کرو نہ بغض کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو بلکہ ہوجاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Beware of suspicion. Suspicion is the most untrue speech. Do not spy and do not eavesdrop. Do not compete with each other and do not envy each other and do not hate each other and do not shun each other. Be slaves of Allah, brothers."