ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَافَحُوا يَذْهَبْ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبْ الشَّحْنَائُ
عطا بن عبداللہ ؓ خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا مصافحہ کرو ایک دوسرے سے دل کا کینہ جاتا رہے گا ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کی دوست ہوجاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔
Yahya related to me from Malik from Ata ibn Abi Muslim that Abdullah al-Khurasani said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Shake hands and rancour will disappear. Give presents to each other and love each other and enmity will disappear. "
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جنت کے دروازے کھل جائے ہیں پیر اور جمعرات کے روز تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں۔
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The doors of the Garden are opened on Monday and Thursday. Every muslim slave who does not associate anything with Allah is forgiven except for the man who has enmity between him and his brother. It is said, Leave these two until they have made a reconciliation. Leave these two until they have made a reconciliation. "
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ کُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا أَوِ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
ابوہریرہ ؓ نے کہا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ مل جائیں
Yahya related to me from Malik from Muslim ibn Abi Maryam from Abu Salih as-Samman that Abu Hurayra said, "The actions of people are presented twice each week, on Monday and Thursday. Every trusting slave is forgiven except for a slave who has enmity between him and his brother. It is said, Leave these two until they turn in tawba. Leave these two until they turn in tawba.
کپڑے زینت کے واسطے پہننے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ قَالَ جَابِرٌ فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَی الظِّلِّ قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَی غِرَارَةٍ لَنَا فَالْتَمَسْتُ فِيهَا شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّائٍ فَکَسَرْتُهُ ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَکُمْ هَذَا قَالَ فَقُلْتُ خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ جَابِرٌ وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ يَذْهَبُ يَرْعَی ظَهْرَنَا قَالَ فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلَقَا قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ فَقُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ کَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا قَالَ فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا قَالَ فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّی يَذْهَبُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا لَهُ قَالَ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَنْظُرَ إِلَی الْقَارِئِ أَبْيَضَ الثِّيَابِ
جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے غزوہ بن انمار میں تو ہم ایک درخت کے تلے اترے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ ﷺ دکھائی دئے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ سائے میں آئے آپ ﷺ آکر اتر میں اپنی زنبیل کو دیکھنے گیا اس میں ڈھونڈنے لگا تو ایک ککڑی ملی میں اس کو توڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لے گیا آپ ﷺ نے پوچھا یہ کہاں سے آئی جابر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہم اس کو لے کر نکلے تھے پھر جابر کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا سامان سفر ہم نے کردیا تھا وہ ہمارے جانور چراتا تھا جب وہ پیٹھ موڑ کر جانور چرانے جانے لگا تو وہ چادریں اوڑھے ہوئے تھا جو پھٹ کر چندی چندی ہوگئی تھیں رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں جابر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہیں گٹھری میں بندھے ہیں میں نے اس کو پہننے کے لئے دئیے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ وہ کپڑے پہن لے میں نے اس کو بلایا اس نے وہ کپڑے گٹھری سے نکال کر پہن لئے جب پھرجانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا تھا اللہ اس کی گردن مارے اب کیا اچھا معلوم نہیں ہوتا اس کو اس شخص نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ کی راہ میں میری گردن ماری جائے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی راہ میں پھر وہ شخص شہید ہوا اللہ کی راہ میں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عالم کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھوں۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Jabir ibn Abdullah al-Ansari said, "We went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the raid on the Banu Ammar tribe." Jabir said, "I was resting under a tree when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came. I said, Messenger of Allah; come to the shade. So the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sat down, and I stood up and went to a sack of ours. I looked in it for something and found a small cucumber and broke it. Then I brought it to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. He said, From where did you get this? I said, We brought it from Madina, Messenger of Allah. " Jabir continued, "We had a friend of ours with us whom we used to equip to go out to guard our mounts. I gave him what was necessary and then he turned about to go to the mounts and he was wearing two threadbare cloaks of his. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, looked at him and said, Does he have two garments other than these? I said, Yes, Messenger of Allah. He has two garments in the bag. I gave them to him. He said, Let him go and put them on. I let him go to put them on. As he turned to go, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, exclaimed, May Allah strike his neck. Isnt that better for him? He said (taking him literally), Messenger of Allah, in the way of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, In the way of Allah. " Jabir added, "The man was killed in the way of Allah."
کپڑے زینت کے واسطے پہننے کا بیان
عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ فَأَوْسِعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ
حضرت عمر ؓ نے کہا کہ جب اللہ تم کو وسعت دے تو اپنے اوپر بھی وسعت کرو اپنے کپڑے بنالو۔
Yahya related to me from Malik that he heard that Umar ibn al-Khattab said, "I love to look at a Quran reader in white garments."
رنگین کپڑے پہننے اور سونا پہننے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَلْبَسُ الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْمِشْقِ وَالْمَصْبُوغَ بِالزَّعْفَرَانِ قَالَ يَحْيَى و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ يَلْبَسَ الْغِلْمَانُ شَيْئًا مِنْ الذَّهَبِ لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ فَأَنَا أَكْرَهُهُ لِلرِّجَالِ الْكَبِيرِ مِنْهُمْ وَالصَّغِيرِ قَالَ يَحْيَى و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الْمَلَاحِفِ الْمُعَصْفَرَةِ فِي الْبُيُوتِ لِلرِّجَالِ وَفِي الْأَفْنِيَةِ قَالَ لَا أَعْلَمُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا حَرَامًا وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنْ اللِّبَاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ
کہا مالک نے مردوں کو کسم سے رنگی ہوئی چادریں اوڑھنا گھر یا اس کے گرداگرد میں حرام نہیں سمجھتا لیکن نہ پہننا میرے نزدیک بہتر اور اس سوائے اس کے اور لباس پہننا اچھا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar wore garments dyed with red earth and dyed with saffron.
اون اور ریشم کے کپڑے پہننے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَسَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ مِطْرَفَ خَزٍّ کَانَتْ عَائِشَةُ تَلْبَسُهُ
حضرت عائشہ ؓ نے عبداللہ بن زبیر کو ایک کپڑا پہناتا جس میں اون اور ریشم تھا اور حضرت عائشہ بھی اس کو پہنا کرتی تھیَ
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, dressed Abdullah ibn az-Zubayr in a shawl of silk which Aisha used to wear.
جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَکَسَتْهَا خِمَارًا کَثِيفًا
مرجانہ سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر عائشہ ؓ کے پاس گئیں ایک باریک سر بند اوڑھ کر حضرت عائشہ ؓ نے اس کو پھار ڈالا اور موٹے کپڑے کا سر بند اوڑھا دیا۔
Yahya related to me from Malik from Alqama ibn Abi Alqama that his mother said, "Hafsa bint Abd ar-Rahman visited Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and Hafsa was wearing a long thin head scarf Aisha tore it in two and made a wide one for her."
جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ
ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑا پہنے ہوئے ہیں لیکن ننگی ہیں خود بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں اور خاوند کو بھی ہٹا دیتی ہیں جنت میں نہ جائیں گی بلکہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی راہ سے آتی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Muslim ibn Abi Maryam from Abu Salih that Abu Hurayra said, "Women who are naked even though they are wearing clothes, go astray and make others go astray, and they will not enter the Garden and they will not find its scent, and its scent is experienced from as far as the distance travelled in five hundred years."
جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَائِ فَقَالَ مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا وَقَعَ مِنْ الْفِتَنِ کَمْ مِنْ کَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار ہوئے اسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ رات کو اللہ جل جلالہ نے کتنے ایک خزانے کھولے اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی ہوشیار کردو ان کو ٹھریوں والیوں کو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up in the night and looked at the horizon of the sky. He said, "What treasures has the night opened? What trials have occurred? How many are dressed in this world and will be naked on the Day of Rising. Warn the women in their rooms."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص اپنا کپڑ لٹکائے گا تکبر کے طور پر تو قیامت کے روز اللہ جل جلالہ اس کی طرف نظر تک نہ کرے گا۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A person who drags his garment in arrogance will not be looked at by Allah on the Day of Rising."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا
ابوہریرہ ؓ سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "On the Day of Rising, Allah the Blessed, the Exalted, will not look at a person who drags his lower garment in arrogance."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ جل جلالہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا کپڑا لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from Nafi and Abdullah ibn Dinar and Zayd ibn Aslam that all of them informed him from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "On the Day of Rising, Allah will not look at a person who drags his garment in arrogance."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ أَنَا أُخْبِرُکَ بِعِلْمٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَی أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْکَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
عبدالرحمن بن یعقوب سے روایت ہے کہ کہتے ہیں ابوسعید خدری ؓ سے پوچھا ازار کا حال انہوں نے کہا مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرو اور گھمنڈ کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from al Ala ibn Abd ar-Rahman that his father said, "I asked Abu Said al-Khudri about the lower garment. He said that he would inform me with knowledge and that he had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, The lower garment of the mumin should reach to the middle of his calves. There is no harm in what is between that and the ankles. What is lower than that is in the Fire. What is lower than that is in the Fire. On the Day of Rising, Allah will not look at a person who trails his lower garment in arrogance. "
عورت اپنا کپڑا لٹکا دے تو کیا حکم ہے ؟
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ حِينَ ذُکِرَ الْإِزَارُ فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُرْخِيهِ شِبْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِذًا يَنْکَشِفُ عَنْهَا قَالَ فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ازار لٹکانے کا ذکر کی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ عورت کیا کرے آپ ﷺ نے فرمایا ایک بالشت ازار نیچے رکھے ام سلمہ نے کہا اتنی تو کھل جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا ایک ہاتھ نیچے رکھے اس سے زیادہ نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Nafi from his father Nafi, the mawla of Ibn Umar (RA) that Safiyya bint Abi Ubayd informed him that Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said that when the lower garment of women was mentioned to the Messenger of Allah, he said, "She lets it down a handspan." Umm Salama said, "If it leaves her uncovered?" He said, "Then the length of a forearm and let her not increase it."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُکُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر چاہئے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not wear one sandal. Wear both of them or go with both feet bare."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَکُنْ الْيُمْنَی أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے چاہے کہ داہنے پیر میں اول پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you put on sandals, begin with the right foot. When you take them off, begin with the left foot. The right foot is the first to be put in the sandal and the last to be taken out."
عَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّ رَجُلًا نَزَعَ نَعْلَيْهِ فَقَالَ لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْکَ لَعَلَّکَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی قَالَ ثُمَّ قَالَ کَعْبٌ لِلرَّجُلِ أَتَدْرِي مَا کَانَتْ نَعْلَا مُوسَی قَالَ مَالِک لَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ کَعْبٌ کَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری کعب الاحبار نے کہا تم نے کیوں جوتیاں اتاریں شاید تو نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علی نبینا سے جب وہ طور پر جانے لگے فرمایا اتار جوتیاں اپنی مگر تو جانتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں کا ہے کی تھیں۔ کہا مالک نے مجھ معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا کعب نے کہا حضرت موسیٰ کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔
Yahya related to me from Malik from his paternal uncle Abu Suhayl ibn Malik from his father that Kab al-Ahbar said to a man who took off his sandals, "Why have you taken off your sandals? Perhaps you have interpreted this ayat, Remove your sandals. You are in the pure valley of Tuwa? (Sura 2O ayat 12) Do you know what the sandals of Musa were?"
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَی فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْئٌ وَعَنْ أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ عَلَی أَحَدِ شِقَّيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے دو لباسوں سے اور دو بیعوں سے ایک بیع ملامسہ اور دوسرے بیع منابذہ سے اور ایک کپڑے اوڑھ کر اختباء کرنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہوا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade two sales. Mulamasa, in which a man is obliged to buy whatever he touches without any choice in the matter, and munabadha, in which two men throw their garment to each other without either seeing the others garment. He also forbade two ways of dressing. One in which a man sits with his legs drawn up to his chest wrapped in one garment that does not cover his genitals, and the other in which a man wraps a single garment over one arm and shoulder restricting them."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی حُلَّةً سِيَرَائَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَکْسُکَهَا لِتَلْبَسَهَا فَکَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِکًا بِمَکَّةَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کاش آپ ﷺ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ ﷺ کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کپڑا حضرت عمر ؓ کو دیا حضرت عمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ پہلے تو آپ ﷺ نے عطارد کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے پھر حضرت عمر ؓ نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab saw a silk robe at the door of the mosque. He said, "Messenger of Allah, would you buy this robe and wear it on jumua and when envoys come to you?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Only a person who has no portion in the next world wears this." Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought some robes of the same material and gave Umar ibn al-Khattab one of the robes. Umar said, "Messenger of Allah, do you clothe me in it when you said what you said about the robe of Utarid?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I did not give it to you to wear." Umar gave it to a brother of his in Makka who was still an idolater.