کتاب مختلف بابوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 46 · 229 hadiths · Page 4 of 12

1572Mauwatta Imam Malik

کپڑے پہننے کا بیان

قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ کَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلَاثٍ لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ

انس بن مالک نے کہا میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا جب کہ وہ امیر المومنی تھے ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے ایک کے اوپر ایک۔

Yahya related to me from Malik that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha said, "Anas ibn Malik said, I saw Umar ibn al-Khattab when he was the amir of Madina. Three patches were sewn between his shoulders, one patched over the other.

1573Mauwatta Imam Malik

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ شریف کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَی رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَکَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَائَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

انس بن مالک کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نہ لمبے تھے بہت نہ ٹھگنے تھے سفید تھے چونے کی طرح نہ بہت گندمی اور بال آپ ﷺ کے بہت گھونگریالے بھی نہ تھے اور بہت سیدتے بھی نہ تھے جب آپ ﷺ کا سن چالیس برس کا ہوا تو اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کو نبوت عطا فرمائی پھر بعد بنوت کے آپ ﷺ مکہ میں دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس رہے اور ساٹح برس کی عمر میں آپ ﷺ نے وفات ہوئی اس وقت آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ ہوں گے۔

Yahya related to me from Malik that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman heard Anas ibn Malik say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was not excessively tall or short. He was not very pallid nor dark. He did not have curly hair or lank hair. Allah commissioned him at the age of forty. He stayed in Makka ten years and at Madina for ten years and Allah the Mighty, the Majestic made him die when he was sixty. There were not twenty white hairs in his hair or beard, may Allah bless him and grant him peace."

1574Mauwatta Imam Malik

عیسی بن مریم (علیہ السلام) اور دجال کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو ؓ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I dreamt at night that I was at the Kaba, and I saw a dark man like the most handsome of dark men you have ever seen. He had hair reaching to between his ears and his shoulders like the most excellent of such hair that you have seen. He had combed his hair, and water was dripping from it. He was leaning on two men or on the shoulders of two men doing tawaf around Kaba. I asked, Who is this? It was said, al-Masih ibn Maryam. Then we were with a man with wiry hair and blind in his right eye, as if it was a floating grape. I asked Who is this? It was said to me, This is al-Masih ad-Dajjal. "

1575Mauwatta Imam Malik

مومنوں کے طریقے کا بیان۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَالْاخْتِتَانُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنت ہیں ایک ناخن کاٹنا دوسرے مونچھیں کتروانا تیسرے بغل کے بال اکھاڑنا چوتھے زیر ناف کے بال مونڈنا پانچویں ختنہ کرنا۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from his father that Abu Hurayra said, "There are five things from the fitra: cutting the nails, trimming the moustache, removing the hair from the armpit, shaving the pubic region and circumcision."

1576Mauwatta Imam Malik

مومنوں کے طریقے کا بیان۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّاسِ ضَيَّفَ الضَّيْفَ وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ الشَّارِبَ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَی الشَّيْبَ فَقَالَ يَا رَبِّ مَا هَذَا فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ يَا رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا عَنْ مَالِک يَقُولُ يُؤْخَذُ مِنْ الشَّارِبِ حَتَّی يَبْدُوَ طَرَفُ الشَّفَةِ وَهُوَ الْإِطَارُ وَلَا يَجُزُّهُ فَيُمَثِّلُ بِنَفْسِهِ

سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت ابراہیم ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ کیا ہے اللہ جل جلالہ نے فرمایا یہ عزت اور وقار ہے، حضرت ابراہیم نے کہا تو اے پروردگار زیادہ عزت دے مجھ کو۔ کہا مالک نے مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyub said, "Ibrahim, may Allah bless him and grant him peace, was the first to give hospitality to the guest and the first person to be circumcised and the first person to trim the moustache and the first person to see grey hair. He said, O Lord! What is this? Allah the Blessed, the Exalted, said, It is dignity, Ibrahim. He said, Lord, increase me in dignity! "

1577Mauwatta Imam Malik

بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَأْکُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّائَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ کَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا بائیں ہاتھ سے کھانے کو اور ایک جوتا پہن کر چلنے کا اور ایک کپڑا سر سے پاؤں تک لپیٹ لینے کو اور ایک کپڑا اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھنے کو اس طرح کہ شرم گاہ کھلی رہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr from Jabir ibn Abdullah as-Salami that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade a man to eat with his left hand or walk in one sandal or wrap a single garment around his drawn-up legs exposing his genitals.

1578Mauwatta Imam Malik

بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَأْکُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْکُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب کوئی کھائے تم میں سے تو اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے پئے اس واسطے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Bakr (RA) ibn Ubaydullah ibn Abdullah ibn Umar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you eat, eat with your right hand and drink with your right hand. Shaytan eats with his left hand and drinks with his left hand."

1579Mauwatta Imam Malik

مسکین کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْکِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يَفْطُنُ النَّاسُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ ﷺ مسکیں کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہیں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The very poor are not the people who constantly walk from person to person and are given one or two morsels, and one or two dates." They said, "Who are the very poor, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "People who do not find enough for themselves and other people are not aware of them to give sadaqa to them, and they do not start begging from other people."

1580Mauwatta Imam Malik

مسکین کا بیان

عَنْ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْحَارِثِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُدُّوا الْمِسْکِينَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ

ام بجید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ دو مسکین کو اگرچہ جلا ہوا کھر ہو۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ibn Bujayd (formerly al-Ansari) from his grandmother that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Give to the very poor, if only a roasted hoof."

1581Mauwatta Imam Malik

کافر کی آنتوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ الْمُسْلِمُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَأْکُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The muslim eats in one intestine, and the kafir eats in seven! "

1582Mauwatta Imam Malik

کافر کی آنتوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ کَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ حَتَّی شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَی فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر آیا مہمان ہو کر آپ ﷺ نے ایک بکری کے دودھ دوہنے کا حکم کیا وہ سب پی گیا پھر دوسری بکری کو دوہا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری بکری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا پھر دوسرے دن صبح کو وہ شخص مسلمان ہوگیا آپ ﷺ نے بکری کا دودھ اس کے پینے کو دیا وہ پی نہ سکا تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave hospitality to a kafir guest. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered a sheep to be brought for him and it was milked. He drank its milk. Then another came, and he drank it. Then another came and he drank it until he had drunk the milk of seven sheep. In the morning he became muslim, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered a sheep for him. It was milked and he drank its milk. Then he ordered another for him and he could not finish it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The mumin drinks in one intestine, and the kafir drinks in seven intestines."

1583Mauwatta Imam Malik

چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پئے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Zayd ibn Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Abi Bakras-Siddiq from Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A person who drinks from a silver vessel brings the fire of Jahannam into his belly."

1584Mauwatta Imam Malik

چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں

عَنْ أَبِي الْمُثَنَّی الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَی مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فَاکَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنِّي أَرَی الْقَذَاةَ فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانُوا يَشْرَبُونَ قِيَامًا

ابو مثنی جہنی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں ابوسعید خدری آئے مروان نے ان سے کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ نے پانی میں پھونکنے سے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا ہاں! ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرکے سانس لے لیا کر پھر وہ شخص بولا میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہادے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور عثمان بن عفان کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Ayyub ibn Habib, the mawla of Sad ibn Abi Waqqas that Abul-Muthanna al-Juhani said, "I was with Marwan ibn al-Hakam and Abu Said al-Khudri came to him. Marwan ibn al-Hakam said to him, Have you heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade blowing into drinks? Abu Said said to him, Yes. A man said to him, Messenger of Allah, I am not quenched from one breath. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, Remove the cup from your mouth and then breathe. He said, Sometimes I see something floating in it? He said, Then pour it out."

1585Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَا لَا يَرَيَانِ بِشُرْبِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ قَائِمٌ بَأْسًا

ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور سعد بن ابی وقاص کھڑے ہو کر پانی پینے میں کچھ قباحت نہیں جانتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Aisha, umm al-muminin and Sad ibn Abi Waqqas did not see any harm in a man drinking while standing.

1586Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَشْرَبُ قَائِمًا

ابو جعفر قاری نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کھڑے کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik that Abu Jafar al-Qari said, "I saw Abdullah ibn Umar drink while standing."

1587Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا

عبداللہ بن زبیر ؓ کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Amir ibn Abdullah ibn az-Zubayr that his father used to drink while standing.

1588Mauwatta Imam Malik

پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَائٍ مِنْ الْبِئْرِ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَی الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کے پاس دودھ آیا جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا اور داہنی طرف آپ ﷺ کے بدوی تھا اور بائیں طرف ابوبکر ؓ تھے تو آپ ﷺ نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا پہلے داہنی طرف والے کو دو پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought some milk which was mixed with well-water. There was a Bedouin at his right side and Abu Bakr (RA) as-Siddiq on his left. He drank and then gave it to the Bedouin and said, "The right-hand to the right-hand."

1589Mauwatta Imam Malik

پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَائِ فَقَالَ الْغُلَامُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْکَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ

سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا آپ ﷺ نے پیا آپ ﷺ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے آپ ﷺ نے لڑکے سے فرمایا اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟ جو بائیں طرف تھے، لڑکے نے کہا نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ میں اپنا حصہ آپ ﷺ کے جو ٹھے میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا تو رسول اللہ ﷺ نے اسی لڑکے کو دے دیا۔

Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar from Sahl ibn Sad al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought a drink and he drank some of it. There was a boy at his right and some old men on his left. He said to the boy, "Will you give me permission to give it to these people?" The boy said, "No, Messenger of Allah, I will not prefer anyone to get my portion from you." He said, "So the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, placed it in his hand."

1590Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ لِلطَّعَامِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنْ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ بِالدُّخُولِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا

انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم سے: کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی۔ تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی ام سلیم نے کچھ روٹیاں جو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں کھڑا ہو رہا آپ ﷺ نے خود پوچھا کیا تجھ کو ابا طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کھانے کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں! رسول اللہ ﷺ نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا سب اٹھو! سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور ابوطلحہ کو جا کر خبر کی، ابوطلحہ نے ام سلیم سے کہا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ابوطلحہ نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے آکر ملے یہاں تک کہ ابوطلحہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں مل کر آئے آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ! ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں آپ ﷺ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا پھر ام سلیم نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی وہ ملیدہ بن گیا اس کے بعد جو اللہ جل جلالہ کو منظور تھا وہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس کو اور بلاؤ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسی (80) سب سیر ہوگئے۔

Yahya related to me from Malik that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha heard Anas ibn Malik say that Abu Talha had said to Umm Sulaym, "I have just been listening to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and his voice was very weak. I recognised hunger in it, so, do you have anything?" She replied, "Yes," and brought out some barley loaves. She took her long head scarf and wrapped up the bread with part of it and put it into my (Anass) hand and gave me part of it to wear. Then she sent me to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." Anas continued, "I took it, and I found the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sitting in the mosque with some people. I watched them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Did Abu Talha send you? I replied, Yes. He said, For food? I said, Yes. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to those with him, Let us go. He set off and I went among them until I came to Abu Talha and told him. Abu Talha said, Umm Sulaym! The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, has brought people and we have no food. What shall we give them to eat? She said, Allah and His Messenger know best. " Anas continued, "Abu Talha went out and met the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, approached with Abu Talha until they entered. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Come now, Umm Sulaym, what have you got? She brought out bread. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered it to be broken into pieces, and Umm Sulaym squeezed out onto it a container of clarified butter which she had seasoned. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said whatever Allah wished him to say, and said, Will you give permission for ten of them to come in? He gave them permission, and they ate until they were full and then left. He said, Give permission to ten more. He gave them permission, and they ate until they were full and left. Then he said, Give permission to ten more. He gave them permission and they ate until they were full and left. Then he said, Give permission to ten more. He gave permission and they ate until they were full and left. There were seventy or eighty men."

1591Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَعَامُ الْاثْنَيْنِ کَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ کَافِي الْأَرْبَعَةِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The food of two is enough for three, and the food of three is enough for four."