کتاب مختلف بابوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 46 · 229 hadiths · Page 5 of 12

1592Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْکُوا السِّقَائَ وَأَکْفِئُوا الْإِنَائَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَائَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِکَائً وَلَا يَکْشِفُ إِنَائً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَی النَّاسِ بَيْتَهُمْ

جابر بن عبداللہ اسلمی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بند کر دروازے کو اور منہ باندھا کرو مشک کا اور بند رکھا کرو برتن کو اور بجھا دیا کرو چراغ کو کہ شیطان دروازہ کو نہیں کھولتا اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا اور برتن نہیں کھولتا اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Jabir ibn Abdullah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Lock the door, tie the waterskin, turn the vessel over or cover it, and put out the lamp. Shaytan does not open a locked door or untie a tied knot, or uncover a vessel. A mouse may set fire to peoples houses about them."

1593Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْکَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَضِيَافَتُهُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّی يُحْرِجَهُ

ابی شریح الکعبی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے اور تین رات دن تک جو کچھ خاطر ہو کھلائے اور زیادہ اس سے ثواب ہے اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Shurayh al-Kabi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever believes in Allah and the Last Day should speak good or be silent. Whoever believes in Allah and the Last Day should be generous to his neighbour. Whoever believes in Allah and the Last Day, should be generous to his guest. His welcome is for a day and a night, and his hospitality is for three days. Whatever is more than that is sadaqa. It is not halal for a guest to stay with a man until he becomes a burden."

1594Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ حَتَّی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ فِي کُلِّ ذِي کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت شدت سے پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں دیکھا اس میں اتر کر پانی پیا جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ جل جلالہ اس سے خوش ہوگیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کے جگر میں ثواب ہے۔

Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man was walking on a road when he became very thirsty. He found a well and went into it and drank and came out. There was a dog panting and eating earth out of thirst. The man said, This dog has become as thirsty as I was. He went down into the well and filled his shoe and then held it in his mouth until he climbed out and gave the dog water to drink. Allah thanked him for it and forgave him." They said, "Messenger of Allah, do we have a reward for taking care of beasts?" He said, "There is a reward for every one with a moist liver."

1595Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ قَالَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّهُ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ قَالَ فَکَانَ يُقَوِّتُنَاهُ کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی فَنِيَ وَلَمْ تُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهُ ذَلِکَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا ساحل دریا کی طرف اور ان پر حاکم مقر کیا ابوعیبدہ بن جراح کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے میں بھی ان میں شریک تھا راہ میں کھانا ختم ہوچکا ابوعبیدہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے ابوعبیدہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصہ میں آنے لگی پھر وہ بھی تمام ہوگئی وہب بن کیسان کہتے ہیں میں نے جابر سے پوچھا ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ دریا کے کنارے پر ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا پھر ابوعیبدہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا۔

Yahya related to me from Malik from Wahb ibn Kaysan that Jabir ibn Abdullah said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a delegation to the coast. Abu Ubayda ibn al-Jarrah was in command of them. There were 30O people and I was among them. We went out until we had gone part of the way and our provisions were finished. Abu Ubayda ordered that the provisions of the army be gathered up and they amounted to two containers of dates. He used to give us a little provision from it each day until it was finished, and we used to have only a single date each. I said, What use is one date? He said, We will certainly feel its loss when they are finished. " Jabir continued, "Then we reached the sea and there was a fish like a small mountain. The army ate from it for eighteen nights. Then Abu Ubayda ordered two ribs from it to be set up. Then he commanded that a camel be ridden underneath them and it did not touch them."

1596Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا

عمر بن سعد بن معاذ کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو! نہ ذلیل کرے کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو اگرچہ وہ ایک کھر جلا ہوا بکری کا بھیجے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Amr ibn Sad ibn Muadh from his grandmother that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "O trusting women, none of you must consider even a roasted sheeps trotter too small to give to her neighbour."

1597Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ نُهُوا عَنْ أَکْلِ الشَّحْمِ فَبَاعُوهُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَيْكُمْ بِالْمَاءِ الْقَرَاحِ وَالْبَقْلِ الْبَرِّيِّ وَخُبْزِ الشَّعِيرِ وَإِيَّاكُمْ وَخُبْزَ الْبُرِّ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَقُومُوا بِشُكْرِهِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا أَخْرَجَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں آئے وہاں ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔

Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Abi Bakr said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, May Allah curse the jews! They were forbidden to eat fat, so they sold it and ate its price. "

1598Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَأْکُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ فَقَالَ عُمَرُ کَأَنَّکَ مُقْفِرٌ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَکَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُکْتُ أَکْلًا بِهِ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عُمَرُ لَا آکُلُ السَّمْنَ حَتَّی يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے ایک بدو آیا آپ نے اس کے بلایا وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا حضرت عمرب نے فرمایا بڑا ندیدہ ہے اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا حضرت عمر ؓ نے کہا میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہوجائے۔

Yahya related to me from Malik that he heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the mosque and found Abu Bakr (RA) as-Siddiq and Umar ibn al-Khattab there. He questioned them and they said, "Hunger has driven us out." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "And hunger has brought me out." They went to Abul-Haytham ibn at-Tayyihan al-Ansari. He ordered that some barley that was in the house be prepared and he got up to slaughter a sheep for them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Leave the one with milk." He slaughtered a sheep for them and brought them sweet water and it was hung on a palm-tree. Then they were brought the food and ate it and drank the water. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, recited, "Then, on that day, you will be asked concerning pleasure." (Sura 102 ayat 8).

1599Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ فَيَأْکُلُهُ حَتَّی يَأْکُلَ حَشَفَهَا

حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab was eating bread with ghee. He summoned one of the desert people and he began to eat and follow the grease in the dish with a morsel of bread. Umar said, "It is as if you were poor." He said, "By Allah. I have not eaten ghee nor have I seen food with it since such-and-such a time." Umar declared, "I shall not eat clarified butter until people are given life again like they were first given life," (i.e. on the Day of Rising.)

1600Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے سے متعلق مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قَفْعَةً نَأْکُلُ مِنْهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ سے ٹڈی کے بارے میں (حلال ہے یا حرام) پوچھا گیا تو کہا حضرت عمر ؓ نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I saw Umar ibn al-Khattab when he was amir al-muminin being given a sa of dates, and he ate all of them, even the inferior ones." Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, Umar ibn al-Khattab was asked about locusts. He said, I would like to have a basket of them, from which we could eat. "

1601Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَی دَوَابٍّ فَنَزَلُوا عِنْدَهُ قَالَ حُمَيْدٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اذْهَبْ إِلَی أُمِّي فَقُلْ إِنَّ ابْنَکِ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا قَالَ فَوَضَعَتْ ثَلَاثَةَ أَقْرَاصٍ فِي صَحْفَةٍ وَشَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَمِلْحٍ ثُمَّ وَضَعَتْهَا عَلَی رَأْسِي وَحَمَلْتُهَا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا وَضَعْتُهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ کَبَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا مِنْ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَکُنْ طَعَامُنَا إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ الْمَائَ وَالتَّمْرَ فَلَمْ يُصِبْ الْقَوْمُ مِنْ الطَّعَامِ شَيْئًا فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْسِنْ إِلَی غَنَمِکَ وَامْسَحْ الرُّعَامَ عَنْهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي نَاحِيَتِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ تَکُونُ الثُّلَّةُ مِنْ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَی صَاحِبِهَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ

حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے حمید نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ حمید نے کہا انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا اور میرے سر پر لادھ دیا، میں ابوہریرہ ؓ کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ابوہریرہ ؓ نے دیکھ کر کہا اللہ اکبر اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا جب وہ چلے گئے تو ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا اے بیٹے میرے بھائی کے اچھی طرح رکھ بکریوں کو اور پونچھتا رہ ناک ان کی اور صاف کر جگہ ان کی اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں قسم اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Amr ibn Halhala that Humayd ibn Malik ibn Khuhaym said, "I was sitting with Abu Hurayra on his land at al-Aqiq. Some people rode out from Madina to call upon Abu Hurayra. He told me to go to his mother, sending his greetings and asking her to prepare some food." Humayd continued, "She set down three loaves on a plate and some oil and salt. Then she put it on my head and I carried it to them. When I set it before them, Abu Hurayra said, Allah is greater and added, Praise be to Allah who has filled us with bread after our food had previously been only water and dates, as the people did not touch any of the food. When they left, he said, O son of my brother, be good to your sheep and wipe the mucus from them and clean their pen. Pray in their quarter for they are among the animals of the Garden. By He in Whose Hand my self is, a time is about to come upon people when a small group of sheep will be more beloved to their owner than the house of Marwan . "

1602Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِّ اللَّهَ وَکُلْ مِمَّا يَلِيکَ

ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا آیا اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر۔

Yahya related to me from Malik from Abu Nuaym that Wahb ibn Kaysan said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought food while his stepson Umar ibn Salama was with him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, Say "Bismillah," and eat what is in front of you. "

1603Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ إِنَّ لِي يَتِيمًا وَلَهُ إِبِلٌ أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا وَتَلُطُّ حَوْضَهَا وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ وَلَا نَاهِکٍ فِي الْحَلْبِ

یحییٰ بن سعید نے کہا میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہا میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے اس کے اونٹ ہیں کیا میں دودھ ان کا پیوں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اس کے گمے ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے تو دودھ ان کا پی مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے اور نسل کو ضرر پہنچے یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he had heard al-Qasim ibn Muhammad say that a man came to Abdullah ibn Abbas and said to him, "I have an orphan and he has camels. Can I drink from the camels milk?" Ibn Abbas (RA) said, "If you search for the lost camels of his and treat the camels mange and fill in the cracks in their water basin and give it water on the day it drinks, then drink it without doing harm to the suckling camels by milking them excessively."

1604Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ لَا يُؤْتَی أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ حَتَّی الدَّوَائُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ إِلَّا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُکَ بِکُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا وَأَمْسَيْنَا بِکُلِّ خَيْرٍ فَنَسْأَلُکَ تَمَامَهَا وَشُکْرَهَا لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا شَائَ اللَّهُ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father never brought food or drink, nor even a remedy which he ate or drank but that he said, "Praise be to Allah who has guided us and fed us and given us to drink and blessed us. Allah is greater. O Allah! We have found Your blessing with every evil, give us every good in the morning and evening. We ask You for its completion and its gratitude. There is no good except Your good. There is no god other than You, the God of the salihun and the Lord of the Worlds. Praise be to Allah. There is no god but Allah. What Allah wills. There is no power except in Allah. O Allah! Bless us in what You have provided us with and protect us from the punishment of the Fire!" Al-hamdu lillahi-lladhi hadana wa at amana wa saqana wa naamana. Allahu akbar. Allahummal fatna nimatik bi-kulli sharr. Fa asbahna minha wa amsayna bi-kulli khayr. Nasaluka tamamaha wa shukraha. La khayr illa khayruk. Wa la ilaha ghayruk. Ilaha-saliheen wa rabbal-alameen. Al-hamdu lillah. Wa la ilaha illallah. Ma shaAllah. Wa la quwwata illa billah. Allahumma barik lana fima razaqtana. Waqina adhaban-nar.

1605Mauwatta Imam Malik

گوشت کھانے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِيَّاکُمْ وَاللَّحْمَ فَإِنَّ لَهُ ضَرَاوَةً کَضَرَاوَةِ الْخَمْرِ

حضرت عمر ؓ نے کہا بچو تم گوشت سے کیونکہ گوشت کی طلب ہوجاتی ہے جیسے شراب پینے سے اس کی طلب ہوجاتی ہے۔

Yahya said that Malik was asked, "Can a woman eat with other than her relative or slave?" Malik said, "There is no harm in that if it is in a manner which is accepted for a woman to eat with men." Malik said, "A woman sometimes eats with her husband and with others he dines with or with her brother in the same way. It is disapproved of for a woman to be alone with a man when there is no relationship between them by blood, marriage or suckling that would prevent him marrying her."

1606Mauwatta Imam Malik

گوشت کھانے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَکَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَرِمْنَا إِلَی اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَقَالَ عُمَرُ أَمَا يُرِيدُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوْ ابْنِ عَمِّهِ أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْکُمْ هَذِهِ الْآيَةُ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِکُمْ فِي حَيَاتِکُمْ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر ؓ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر ؓ نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "Beware of meat. It has addictiveness like the addictiveness of wine." Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab saw Jabir ibn Abdullah carrying some meat. He said, "What is this?" He said, "Amir al-muminin. We desired meat and I bought some meat for a dirham." Umar said, "Does one of you want to fill his belly apart from his neighbour or nephew? How can you overlook this ayat? You squandered your good things in the life of this world and sought comfort in them. " (Sura 46 ayat 20).

1607Mauwatta Imam Malik

انگوٹھی پہننے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبَذَهُ وَقَالَ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا قَالَ فَنَبَذَ النَّاسُ بِخَوَاتِيمِهِمْ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to wear a gold ring. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up and threw it away and said, "I will never wear it." He said, "So the people threw away their rings."

1608Mauwatta Imam Malik

انگوٹھی پہننے کا بیان

عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ لُبْسِ الْخَاتَمِ فَقَالَ الْبَسْهُ وَأَخْبِرْ النَّاسَ أَنِّي أَفْتَيْتُکَ بِذَلِکَ

صدقہ بن یسار نے سعید بن مسیب سے پوچھا انگوٹھی پہننے کی بابت انہوں نے کہا پہن! اور لوگوں سے کہہ دے میں نے تجھے پہننے کو کہا ہے۔

Yahya related to me from Malik that Sadaqa ibn Yasar said, "I asked Said ibn al-Musayyab about wearing a ring. He said, Wear it, and tell people that I gave you that decision. "

1609Mauwatta Imam Malik

جانوروں کے گلے سے پٹے اور گھنٹے نکالنے کا بیان

عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَقِيلِهِمْ لَا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ

عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from Abbad ibn Tamim that Abu Bashir al-Ansari told him that he was with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on one of his journeys. He related, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a messenger." (Abdullah ibn Abi Bakr said, (I think that he said it was while the people were in their resting place.) He said, "Do not let a single-string necklace, or any necklace, remain unbroken on the neck of a camel." Yahya said, "I heard Malik say, I think that was because of the evil eye.

1610Mauwatta Imam Malik

جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً کَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ قَالَ وَکَانَ سَهْلٌ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَائَ قَالَ فَوُعِکَ سَهْلٌ مَکَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْکُهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلًا وُعِکَ وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي کَانَ مِنْ أَمْرِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ ﷺ، تو رسول اللہ ﷺ سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اس کے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔

Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abi Umama ibn Sahl ibn Hunayf heard his father say, "My father, Sahl ibn Hunayf did a ghusl at al-Kharrar. He removed the jubbah he had on while Amir ibn Rabia was watching, and Sahl was a man with beautiful white skin. Amir said to him, I have never seen anything like what I have seen today, not even the skin of a virgin. Sahl fell ill on the spot, and his condition grew worse. Somebody went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him that Sahl was ill, and could not go with him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to him, and Sahl told him what had happened with Amir. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Why does one of you kill his brother? Why did you not say, "May Allah bless you?" (ta baraka-llah) The evil eye is true. Do wudu from it. Amir did wudu from it and Sahl went with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and there was nothing wrong with him."

1611Mauwatta Imam Malik

جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَی عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَکَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَقَالَ هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا قَالُوا نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ اغْتَسِلْ لَهُ فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُکْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گرپڑے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر بیان کیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم اللہ کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہوگئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔

Malik related to me from Ibn Shihab that Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf said, Amir ibn Rabia saw Sahl ibn Hunayf doing a ghusl and said, I have not seen the like of what I see today, not even the skin of a maiden who has never been out of doors. Sahl fell to the ground. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was approached and it was said, Messenger of Allah, can you do anything about Sahl ibn Hunayf? By Allah, he can not raise his head. He said, Do you suspect anyone of it? They said, We suspect Amir ibn Rabia. " He continued, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, summoned Amir and was furious with him and said, Why does one of you kill his brother? Why did you not say, "May Allah bless you?" Do ghusl for it. Amir washed his face, hands, elbows, knees, the end of his feet, and inside his lower garment in a vessel. Then he poured it over him, and Sahl went off with the people, and there was nothing wrong with him."