کتاب شکار کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 25 · 13 hadiths

950Mauwatta Imam Malik

جو جانور لکڑی یا پتھر سے مارا جائے اس کے نہ کھانے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ رَمَيْتُ طَائِرَيْنِ بِحَجَرٍ وَأَنَا بِالْجُرْفِ فَأَصَبْتُهُمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَمَاتَ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَمَّا الْآخَرُ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُذَکِّيهِ بِقَدُومٍ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُذَکِّيَهُ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَيْضًا عَنْ قَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَکْرَهُ مَا قَتَلَ الْمِعْرَاضُ وَالْبُنْدُقَةُ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ تُقْتَلَ الْإِنْسِيَّةُ بِمَا يُقْتَلُ بِهِ الصَّيْدُ مِنْ الرَّمْيِ وَأَشْبَاهِهِ

نافع نے کہا میں نے دو چڑیاں ماریں پتھر سے جرف میں ایک مرگئی اس کو پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے اور دوسری کو دوڑے ذبح کرنے کو بسولے سے وہ مرگئی ذبح سے پہلے، اس کو بھی پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے قاسم بن محمد ؛ اس جانور کو کھانا مکروہ جانتے تھے جو لاٹھی یا گولی سے مارا جائے سعید بن مسیب مکروہ جانتے تھے ہلے ہوئے جانور کا مارنا اس طرح جیسے شکار کو مارتے ہیں تیر وغیرہ سے۔

ahya related to me from Malik that Nafi said, "I was at al-Juruf (near Madina) and threw a stone at two birds, and hit them. One of them died, and Abdullah ibn Umar threw it away, and then went to slaughter the other one with an adze. It died before he could slaughter it, so Abdullah threw that one away as well."

951Mauwatta Imam Malik

سکھائے ہوئے درندوں کے شکار کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْکَلْبِ الْمُعَلَّمِ کُلْ مَا أَمْسَکَ عَلَيْکَ إِنْ قَتَلَ وَإِنْ لَمْ يَقْتُلْ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الْکَلْبِ الْمُعَلَّمِ إِذَا قَتَلَ الصَّيْدَ فَقَالَ سَعْدٌ کُلْ وَإِنْ لَمْ تَبْقَ إِلَّا بَضْعَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الْبَازِي وَالْعُقَابِ وَالصَّقْرِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِکَ أَنَّهُ إِذَا کَانَ يَفْقَهُ کَمَا تَفْقَهُ الْکِلَابُ الْمُعَلَّمَةُ فَلَا بَأْسَ بِأَکْلِ مَا قَتَلَتْ مِمَّا صَادَتْ إِذَا ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَی إِرْسَالِهَا قَالَ مَالِک وَأَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الَّذِي يَتَخَلَّصُ الصَّيْدَ مِنْ مَخَالِبِ الْبَازِي أَوْ مِنْ الْکَلْبِ ثُمَّ يَتَرَبَّصُ بِهِ فَيَمُوتُ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَکْلُهُ قَالَ مَالِک وَکَذَلِکَ کُلُّ مَا قُدِرَ عَلَی ذَبْحِهِ وَهُوَ فِي مَخَالِبِ الْبَازِي أَوْ فِي فِي الْکَلْبِ فَيَتْرُکُهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ قَادِرٌ عَلَی ذَبْحِهِ حَتَّی يَقْتُلَهُ الْبَازِي أَوْ الْکَلْبُ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَکْلُهُ

عبداللہ بن عمر کہتے ہیں اگرچہ وہ کتا اس شکار میں سے کچھ کھالے تب بھی اس کا کھانا درست ہے۔ سعد بن ابی وقاص سے سوال ہوا کہ سیکھتا ہوا کتا اگر شکار کو مار کر کھالے تو؟ سعد نے کہا کہ تو کھالے جس قدر بچ رہے اگرچہ ایک ہی بوٹی ہو۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے کہ باز اور عقاب اور صقر اور جو جانور ان کے مشابہ ہیں اگر ان کو تعلیم دی جائے اور وہ سمجھدار ہوجائیں جیسے سکھائے ہوئے کتے سمجھدار ہوتے ہیں تو ان کا مارا ہوا جانور بھی درست ہے بشرطیکہ بسم اللہ کہہ کر چھوڑے جائیں۔۔ کہا مالک نے اگر باز کے پنچے سے یا کتے کے منہ سے شکار چھوٹ کر مرجائے تو اس کا کھانا درست نہیں۔ کہا مالک نے نے جس جانور کے ذبح کرنے پر آدمی قادر ہوجائے مگر اس کو ذبح نہ کرے اور باز کے پنجے یا کتے کے منہ میں رہنے دے یہاں تک کہ باز یا کتا اس کو مار ڈالے تو اس کا کھانا درست نہیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said about a trained dog, "Eat whatever it catches for you whether it eats from it or not."Yahya related to me from Malik that he heard Nafi say that Abdullah ibn Umar said, "Whether it eats from it or not."

952Mauwatta Imam Malik

دریا کے شکار کے بیان میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَکْلِهِ قَالَ نَافِعٌ ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ أُحِلَّ لَکُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ قَالَ نَافِعٌ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِأَکْلِهِ

عبدالرحمن بن ابی ہریرہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے اس جانور کے بارے جس کو دریا پھینک دے، تو منع کیا عبداللہ نے اس کے کھانے سے، پھر عبداللہ گھر گئے اور کلام اللہ کو منگوایا اور پڑھا اس آیت کو " حلال کیا گیا واسطے تمہارے شکار دریا کا اور طعام دریا کا " نافع نے کہا پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو بھیجا عبدالرحمن بن ابی اہریرہ کے پاس یہ کہنے کو کہ اس جانور کا کھانا درست ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abd ar-Rahman ibn Abi Hurayra asked Abdullah ibn Umar about eating what was cast up by the sea and he forbade him to eat it. Then Abdullah turned and asked for a Quran, and read, "The game of the sea and its flesh are halal for you." Nafi added, "Abdullah ibn Umar sent me to Abdar-Rahman Ibn Abi Hurayra to say that there was no harm in eating it."

953Mauwatta Imam Malik

دریا کے شکار کے بیان میں

عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا فَقَالَ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ قَالَ سَعْدٌ ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ

سعد جاری مولیٰ عمر بن خطاب نے کہا کہ میں نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے جو مچھلیاں ان کو مچھلیاں مار ڈالیں یا سردی سے مرجائیں انہوں نے کہا ان کا کھانا درست ہے پھر میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Sad al-Jari, the mawla of Umar ibn al-Khattab asked Abdullah ibn Umar about fish which had killed each other or which had died from severe cold . He said, "There is no harm in eating them. Sad said, I then asked Abdullah ibn Amr ibn al As and he said the same."

954Mauwatta Imam Malik

دریا کے شکار کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُمَا کَانَا لَا يَرَيَانِ بِمَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا

ابوہریرہ اور زید بن ثابت اس جانور کا کھانا جس کو دریا پھینک دے درست جانتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Abu Hurayra and Zayd ibn Thabit that they saw no harm in eating what was cast up by the sea.

955Mauwatta Imam Malik

دریا کے شکار کے بیان میں

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَارِ قَدِمُوا فَسَأَلُوا مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَقَالَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَقَالَ اذْهَبُوا إِلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَاسْأَلُوهُمَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ ائْتُونِي فَأَخْبِرُونِي مَاذَا يَقُولَانِ فَأَتَوْهُمَا فَسَأَلُوهُمَا فَقَالَا لَا بَأْسَ بِهِ فَأَتَوْا مَرْوَانَ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَرْوَانُ قَدْ قُلْتُ لَکُمْ

ابی سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ کچھ لوگ جار کے رہنے والے مروان کے پاس آئے اور پوچھا کہ جس جانور کو دریا پیھنک دے اس کا کیا حکم ہے مروان نے کہا اس کا کھانا درست ہے اور تم جاؤ زید بن ثابت اور ابوہریرہ ؓ کے پاس اور پوچھو ان سے پھر مجھ کو آن کر خبر کرو کیا کہتے ہیں، انہوں نے پوچھا ان دونوں سے دونوں نے کہا درست ہے ان لوگوں نے پھر آن کر مروان سے کہا مروان نے کہا میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman that some people from al-Jar came to Marwan ibn al-Hakam and asked him about eating what was cast up by the sea. He said, "There is no harm in eating it." Marwan said, "Go to Zayd ibn Thabit and Abu Hurayra and ask them about it, then come to me and tell me what they say." They went to them and asked them, and they both said, "There is no harm in eating it " They returned to Marwan and told him. Marwan said, "I told you." Malik said that there was no harm in eating fish caught by magians, because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "In the seas water is purity, and that which is dead in it is halal. " Malik said, "If it is eaten when it is dead, there is no harm in who catches it."

956Mauwatta Imam Malik

ہر دانت والے درندے کے حرام ہونے کا بیان

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَکْلُ کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ حَرَامٌ

ابو ثعلبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر درندے دانت والے کا کھانا حرام ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shibab from Abu Idris al-Khawlani from Abu Tha~laba al-Khushani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is haram to eat animals with fangs "

957Mauwatta Imam Malik

ہر دانت والے درندے کے حرام ہونے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَکْلُ کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ حَرَامٌ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر درندے دانت والے کا کھانا حرام ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ismail ibn Abi Hakim from Abiyda ibn Sufyan al-Hadrami from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Eating animals with fangs is haram. " Malik said, "This is the custom among us."

958Mauwatta Imam Malik

جن جانوروں کا کھانا مکروہ ہے ان کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ أَنَّهَا لَا تُؤْکَلُ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْکَبُوهَا وَزِينَةً وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي الْأَنْعَامِ لِتَرْکَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْکُلُونَ وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لِيَذْکُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَی مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ قَالَ مَالِک و سَمِعْت أَنَّ الْبَائِسَ هُوَ الْفَقِيرُ وَأَنَّ الْمُعْتَرَّ هُوَ الزَّائِرُ قَالَ مَالِک فَذَکَرَ اللَّهُ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِلرُّکُوبِ وَالزِّينَةِ وَذَکَرَ الْأَنْعَامَ لِلرُّکُوبِ وَالْأَکْلِ قَالَ مَالِک وَالْقَانِعُ هُوَ الْفَقِيرُ أَيْضًا

کہا مالک نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو نہ کھائیں کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا " اور پیدا کیا ہم نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو سواری اور آرائش کے واسطے " اور فرمایا باقی چوپاؤں کے حق میں " پیدا کیا ہم نے ان کو تاکہ تم ان پر سوار ہو اور ان کو کھاؤ " اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے " تاکہ لیں نام اللہ کا ان چوپاؤں پر جو دیا اللہ نے ان کو سو کھاؤ ان میں سے اور کھلاؤ فقیر اور مانگنے والے کو "۔

Yahya related to me from Malik that the best of what he had heard about horses, mules, and donkeys was that they were not eaten because Allah, the Blessed, the Exalted,said, "And horses, and mules and asses, for you to ride, and as an adornment. " (Sura 16 ayat 8) . He said, may He be Blessed and Exalted, "In cattle, some of them you ride, and some of them you eat." (Sura 6 ayat 79). He said, the Blessed, the Exalted, "Mention Allahs name over what He has provided you of cattle, and eat of them and feed the beggar (al-qani) and the suppliant (al-mutarr). (Sura 22 ayat 34). Malik said "Allah mentioned horses, mules, and donkeys for riding and adornment, and He mentioned cattle for riding and eating." Malik said, "Al-qani also means the poor."

959Mauwatta Imam Malik

مردار کی کھالوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ کَانَ أَعْطَاهَا مَوْلَاةً لِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا حُرِّمَ أَکْلُهَا

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زوجہ میمونہ کے غلام کی مردار بکری کے پاس سے گزرے، یہ بکری آپ ﷺ نے اس غلام کو دی تھی۔ فرمایا آپ ﷺ نے کیوں کام میں نہ لائے تم کھال اس کی، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ مردار ہے آپ ﷺ نے کہا مردار کا کھانا حرام ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Abdullah ibn Abbas said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, passed by a dead sheep which had been given to a mawla of his wife, Maimuna. He said, Arent you going to use its skin? They said, Messenger of Allah, but it is carrion. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Only eating it is haram. "

960Mauwatta Imam Malik

مردار کی کھالوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهَرَ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کھال دباغت کی جائے پاک ہوجائے گی۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam from Ibn Wala al-Misri from Abdullah ibn Abbas that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A skin when it is tanned is pure."

961Mauwatta Imam Malik

مردار کی کھالوں کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ

حضرت عائشہ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مردار کی کھالوں سے نفع اٹھانے کو جب دباغت کرلی جائیں۔

Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Abdullah ibn Qusayt from Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Thawban from his mother that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered that the skins of carrion be used after they had been tanned.

962Mauwatta Imam Malik

جو شخص بے قرار ہوجائے مردار کے کھانے پر اس کا بیان

عَنْ مَالِک عَنْ الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَی الْمَيْتَةِ أَيَأْکُلُ مِنْهَا وَهُوَ يَجِدُ ثَمَرَ الْقَوْمِ أَوْ زَرْعًا أَوْ غَنَمًا بِمَکَانِهِ ذَلِکَ قَالَ مَالِک إِنْ ظَنَّ أَنَّ أَهْلَ ذَلِکَ الثَّمَرِ أَوْ الزَّرْعِ أَوْ الْغَنَمِ يُصَدِّقُونَهُ بِضَرُورَتِهِ حَتَّی لَا يُعَدُّ سَارِقًا فَتُقْطَعَ يَدُهُ رَأَيْتُ أَنْ يَأْکُلَ مِنْ أَيِّ ذَلِکَ وَجَدَ مَا يَرُدُّ جُوعَهُ وَلَا يَحْمِلُ مِنْهُ شَيْئًا وَذَلِکَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْکُلَ الْمَيْتَةَ وَإِنْ هُوَ خَشِيَ أَنْ لَا يُصَدِّقُوهُ وَأَنْ يُعَدَّ سَارِقًا بِمَا أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ فَإِنَّ أَکْلَ الْمَيْتَةِ خَيْرٌ لَهُ عِنْدِي وَلَهُ فِي أَکْلِ الْمَيْتَةِ عَلَی هَذَا الْوَجْهِ سَعَةٌ مَعَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْدُوَ عَادٍ مِمَّنْ لَمْ يُضْطَرَّ إِلَی الْمَيْتَةِ يُرِيدُ اسْتِجَازَةَ أَخْذِ أَمْوَالِ النَّاسِ وَزُرُوعِهِمْ وَثِمَارِهِمْ بِذَلِکَ بِدُونِ اضْطِرَارٍ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ

کہا مالک نے مضطر کو درست ہے کہ مردہ پیٹ بھر کر کھائے اور اس میں سے کچھ توشہ اٹھا رکھے لیکن حلال مل جائے تو اس توشہ کو پھینک دے۔

Yahya related to me from Malik that the best of what he had heard about a man who is forced by necessity to eat carrion is that he ate it until he was full and then he took provision from it. If he found something which would enable him to dispense with it, he threw it away. Malik when asked whether or not a man who had been forced by necessity to eat carrion, should eat it when he also found the fruit, crops or sheep of a people in that place, answered, "If he thinks that the owners of the fruit, crops, or sheep will believe his necessity so that he will not be deemed a thief and have his hand cut off, then I think that he should eat from whatever he finds that which will remove his hunger but he should not carry any of it away. I prefer that he does that than that he eat carrion. If he fears that he will not be believed, and will be deemed a thief for what he has taken, then I think that it is better for him to eat the carrion, and he has leeway to eat carrion in this respect. Even so, I fear that someone who is not forced by necessity to eat carrion might exceed the limits out of a desire to consume other peoples property, crops or fruit." Malik said, "That is the best of what I have heard."