کتاب دیتوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 41 · 44 hadiths · Page 1 of 3

1411Mauwatta Imam Malik

دیتوں کا بیان

عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ فِي الْکِتَابِ الَّذِي کَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ أَنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي کُلِّ أُصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِکَ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ

ابوبکر ؓ بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ بن حزم کے واسطے لکھی تھی دیتوں کے بیان میں اس میں یہ تھا کہ جان کی دیت سو اونٹ ہیں اور ناک کی جب پوری کاٹی جائے سو اونٹ ہیں اور مامومہ میں تیسرا حصہ دیت ہے اور جائفہ میں بھی تیسرا حصہ دیت کا ہے اور آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ کے بھی پچاس اور پیر کے بھی پچاس اور ہر انگلی کے دس اونٹ ہیں اور ہر دانت کے پانچ اونٹ اور موضحہ کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from his father that in a letter which the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent to Amr ibn Hazm about blood-money he wrote that it was one hundred camels for a life, one hundred camels for a nose if completely removed, a third of the blood-money for a wound in the brain, the same as that for a belly wound, fifty for an eye, fifty for a hand, fifty for a foot, ten camels for each finger, and five for teeth, and five for a head wound which laid bare the bone.

1412Mauwatta Imam Malik

دیت کے وصول کرنے کا بیان

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی فَجَعَلَهَا عَلَی أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَی أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ

حضرت عمر ؓ بن خطاب نے دیت کی قیمت لگائی گاؤں والوں پر تو جن کے پاس سونا رہتا ہے ان پر ہزار دینار مقرر کئے اور جن کے پاس چاندی رہتی ہے ان پر بارہ ہزرا درہم مقرر کئے۔

Malik related to me that he had heard that Umar ibn al-Khattab estimated the full blood-money for the people of urban areas. For those who had gold, he made it one thousand dinars. and for those who had silver he made it ten thousand dirhams.

1413Mauwatta Imam Malik

دیت کے وصول کرنے کا بیان

بَاب الْعَمَلِ فِي الدِّيَةِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى فَجَعَلَهَا عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك فَأَهْلُ الذَّهَبِ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ مِصْرَ وَأَهْلُ الْوَرِقِ أَهْلُ الْعِرَاقِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ أَنَّ الدِّيَةَ تُقْطَعُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ أَوْ أَرْبَعِ سِنِينَ قَالَ مَالِك وَالثَّلَاثُ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فِي الدِّيَةِ الْإِبِلُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْعَمُودِ الذَّهَبُ وَلَا الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الذَّهَبِ الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْوَرِقِ الذَّهَبُ

کہا مالک نے سونے والے شام اور مصر کے لوگ ہیں اور چاندی والے عراق کے لوگ ہیں۔ مالک نے سنا لوگوں سے کہ دیت وصول کی جائے گی تین برس میں یا چار برس میں۔ کہا مالک نے تین سال میں وصول کرنا دیت کا مجھے بہت پسند ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ اتفاق ہے کہ سونے چاندی والوں سے دیت میں اونٹ نہ لئے جائیں گے اونٹ والوں سے سونا چاندی نہ لیا جائے گا اور سونے والے سے چاندی نہ لی جائے گی اور چاندی والے سے سونا نہ لیا جائے گا۔

Malik said, "The people of gold are the people of ash-Sham and the people of Egypt. The people of silver are the people of Iraq "

1414Mauwatta Imam Malik

قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان

عَنْ ابْنَ شِهَابٍ کَانَ يَقُولُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ إِذَا قُبِلَتْ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً

ابن شہاب کہتے تھے قتل عمد میں کہ جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں تو دیت پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون اور پچس حقے اور پچیس جذعے ہوگی۔

Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "The full blood-money for murder when it is accepted is twenty-five yearlings, twenty-five two-year-olds, twenty-five four-year-olds, and twenty-five five-year-olds."

1415Mauwatta Imam Malik

قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَتَبَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا فَکَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَی مَجْنُونٍ قَوَدٌ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ میرے پاس ایک مجنوں لایا گیا ہے جس نے ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب میں لکھا کہ اسے قید کر اور اس سے قصاص نہ لے کیونکہ مجنوں پر قصاص نہیں ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Marwan ibn al-Hakam wrote to Muawiya ibn Abi Sufyan that a madman was brought to him who had killed a man. Muawiya wrote to him, "Tie him up and do not inflict any retaliation on him. There is no retaliation against a madman."

1416Mauwatta Imam Malik

قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان

قَالَ مَالِک فِي الْکَبِيرِ وَالصَّغِيرِ إِذَا قَتَلَا رَجُلًا جَمِيعًا عَمْدًا أَنَّ عَلَی الْکَبِيرِ أَنْ يُقْتَلَ وَعَلَی الصَّغِيرِ نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَکَذَلِکَ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ يَقْتُلَانِ الْعَبْدَ فَيُقْتَلُ الْعَبْدُ وَيَکُونُ عَلَی الْحُرِّ نِصْفُ قِيمَتِهِ

کہا مالک نے اگر ایک بالغ اور نابالغ نے مل کر ایک شخص کو عمداً قتل کیا تو بالغ سے قصاص لیا جائے گا اور نابالغ پر نصف دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح سے ایک آزاد شخص اور ایک غلام مل کر ایک غلام کو عمداً مار ڈالیں تو غلام قصاصاً قتل کیا جائے گا اور آزاد پر آدھی قیمت اس غلام کی لازم ہوگی۔

Malik said about an adult and a child when they murder a man together, "The adult is killed and the child pays half the full blood-money."

1417Mauwatta Imam Malik

قتل خطا کی دیت کا بیان

عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَی فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَی إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنُزِيَ مِنْهَا فَمَاتَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ أَتَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا وَقَالَ لِلْآخَرِينَ أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ فَأَبَوْا فَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَی السَّعْدِيِّينَ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَی هَذَا

عراک بن مالک اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو بنی سعد میں سے تھا اپنا گھوڑا دوڑایا اور ایک شخص کی انگلی جو جہینہ کا تھا کچل دی اس میں سے خون جاری ہوا اور وہ شخص مرگیا حضرت عمر ؓ نے پہلے کچلنے والے کی قوم سے کہا کہ تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اس امر پر کہ وہ شخص انگلی کچلنے سے نہیں مرا انہوں نے انکار کیا اور رک گئے پھر میت کے لوگوں سے کہا تم قسم کھاتے ہو انہوں نے بھی انکار کیا آپ نے آدھی دیت بنی سعد سے دلائی۔ کہا مالک نے اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Irak ibn Malik and Sulayman ibn Yasar that a man of the Banu Sad ibn Layth was running a horse and it trod on the finger of a man from the Juhayna tribe. It bled profusely, and he died. Umar ibn al-Khattab said to those against whom the claim was made. "Do you swear by Allah with fifty oaths that he did not die of it?" They refused and stopped themselves from doing it. He said to the others, "Will you take an oath?" They refused, so Umar ibn al-Khattab gave a judgement that the Banu Sad had to pay half the full blood-money.

1418Mauwatta Imam Malik

قتل خطا کی دیت کا بیان

عَنْ ابْنَ شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانُوا يَقُولُونَ دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَکَرًا وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً

ابن شہاب اور سلیمان بن یسار اور ریبعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے قتل خطا کی دیت بیس بنت مخاض اور بیس بنت لبون اور بیس ابن لبون اور بیس حقے اور بیس جذعے ہیں۔

Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab, Sulayman ibn Yasar, and Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "The blood-money of manslaughter is twenty yearlings, twenty two-year-olds, twenty male two-year-olds, twenty four-year-olds, and twenty five-year-olds."

1419Mauwatta Imam Malik

قتل خطا کی دیت کا بیان

قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمْ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لَا يَکُونُ إِلَّا خَطَأً وَذَلِکَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَکَبِيرًا قَتَلَا رَجُلًا حُرًّا خَطَأً کَانَ عَلَی عَاقِلَةِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لَا قَوَدَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ کَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَی بِهِ دَيْنُهُ وَتَجُوزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ فَإِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ تَکُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عَفَا عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِکَ جَائِزٌ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِکَ الثُّلُثُ إِذَا عَفَا عَنْهُ وَأَوْصَی بِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا اگر وہ کوئی جنایت قصداً بھی کریں تو خطا کے حکم میں ہوگی ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں اور احتلام نہ ہونے لگے اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتل خطا سمجھا جائے گا اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر نصف دیت ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص خطاءً قتل کیا جائے اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کردے تو درست ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو تو ثلث کے موافق معاف کرسکتا ہے کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔

Malik said, "The generally agreed on way with us is that there is no retaliation against children. Their intention is accidental. The hudud are not obliged for them if they have not yet reached puberty. If a child kills someone it is only accidentally. Had a child and an adult killed a free man accidentally, each of them pays half the full blood-money."

1420Mauwatta Imam Malik

خطاء سے کسی کو زخمی کرنے کی دیت کا بیان

بَاب عَقْلِ الْجِرَاحِ فِي الْخَطَإِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّ الْأَمْرَ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَهُمْ فِي الْخَطَإِ أَنَّهُ لَا يُعْقَلُ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ وَيَصِحَّ وَأَنَّهُ إِنْ كُسِرَ عَظْمٌ مِنْ الْإِنْسَانِ يَدٌ أَوْ رِجْلٌ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ مِنْ الْجَسَدِ خَطَأً فَبَرَأَ وَصَحَّ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَلَيْسَ فِيهِ عَقْلٌ فَإِنْ نَقَصَ أَوْ كَانَ فِيهِ عَثَلٌ فَفِيهِ مِنْ عَقْلِهِ بِحِسَابِ مَا نَقَصَ مِنْهُ قَالَ مَالِك فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَظْمُ مِمَّا جَاءَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى فَبِحِسَابِ مَا فَرَضَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ وَلَا عَقْلٌ مُسَمًّى فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي الْجِرَاحِ فِي الْجَسَدِ إِذَا كَانَتْ خَطَأً عَقْلٌ إِذَا بَرَأَ الْجُرْحُ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ عَثَلٌ أَوْ شَيْنٌ فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ إِلَّا الْجَائِفَةَ فَإِنَّ فِيهَا ثُلُثَ دِيَةِ النَّفْسِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي مُنَقِّلَةِ الْجَسَدِ عَقْلٌ وَهِيَ مِثْلُ مُوضِحَةِ الْجَسَدِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الطَّبِيبَ إِذَا خَتَنَ فَقَطَعَ الْحَشَفَةَ إِنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ وَأَنَّ ذَلِكَ مِنْ الْخَطَإِ الَّذِي تَحْمِلُهُ الْعَاقِلَةُ وَأَنَّ كُلَّ مَا أَخْطَأَ بِهِ الطَّبِيبُ أَوْ تَعَدَّى إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ ذَلِكَ فَفِيهِ الْعَقْلُ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک خطا میں یہ حکم اتفاقی ہے کہ زخم کی دیت کا حکم نہ ہوگا جب تک مجروح اچھا نہ ہوجائے۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر جڑ کر اچھی ہوجائے پہلے کے موافق تو اس میں دیت نہیں ہے اور اگر کچھ نقص رہ جائے تو اس میں دیت ہے نقصان کے موافق۔ اگر وہ ہڈی ایسی ہو جس میں رسول اللہ ﷺ سے دیت ثابت ہے تو اسی قدر دیت لازم ہوگی ورنہ سوچ سمجھ کر جس قدر مناسب ہو دیت دلائیں گے۔ کہا مالک نے اگر بدن میں خطاءً زخم لگ کر اچھا ہوجائے نشان نہ رہے تو دیت نہیں ہے اگر دھبہ یا عیب رہ جائے تو اس کے موافق دیت دینی ہوگی مگر جائفہ میں تہائی دیت لازم ہوگی اور منقلہ جسد میں دیت نہیں ہے جیسے موضحہ جسد میں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر جراح نے ختنہ کرتے وقت خطاء سے حشفے کو کاٹ ڈالا تو اس پر دیت ہے اور یہ دیت عاقلے پر ہوگی اسی طرح طبیب سے جو غلطی ہوجائے بھول چوک کر اس میں دیت ہے (اگر قصداً ہو تو قصاص ہے)۔

Malik related to me that the generally agreed on way of doing things amongst the community about an accident is that there is no blood-money until the victim is better. If a mans bone, either a hand, or a foot, or another part of his body, is broken accidentally and it heals and becomes sound and returns to its form, there is no blood-money for it. If the limb is impaired or there is a scar on it, there is blood-money for it according to the extent that it is impaired. Malik said, "If that part of the body has a specific blood-money mentioned by the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, it is according to what the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, specified. If it is part of what does not have a specific blood-money for it mentioned by the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and if there is no previous sunna about it or specific blood-money, one uses ijtihad about it."

1421Mauwatta Imam Malik

عورت کی دیت کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ تُعَاقِلُ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ إِلَی ثُلُثِ الدِّيَةِ إِصْبَعُهَا کَإِصْبَعِهِ وَسِنُّهَا کَسِنِّهِ وَمُوضِحَتُهَا کَمُوضِحَتِهِ وَمُنَقِّلَتُهَا کَمُنَقِّلَتِهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَبَلَغَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ مِثْلَ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فِي الْمَرْأَةِ أَنَّهَا تُعَاقِلُ الرَّجُلَ إِلَی ثُلُثِ دِيَةِ الرَّجُلِ فَإِذَا بَلَغَتْ ثُلُثَ دِيَةِ الرَّجُلِ کَانَتْ إِلَی النِّصْفِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ قَالَ مَالِک وَتَفْسِيرُ ذَلِکَ أَنَّهَا تُعَاقِلُهُ فِي الْمُوضِحَةِ وَالْمُنَقِّلَةِ وَمَا دُونَ الْمَأْمُومَةِ وَالْجَائِفَةِ وَأَشْبَاهِهِمَا مِمَّا يَکُونُ فِيهِ ثُلُثُ الدِّيَةِ فَصَاعِدًا فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِکَ کَانَ عَقْلُهَا فِي ذَلِکَ النِّصْفَ مِنْ عَقْلِ الرَّجُلِ

سعید بن مسیب کہتے تھے کہ مرد اور عورت کی دیت ثلث دیت تک برابر ہے مثلام عورت کی انگلی جیسے مرد کی انگلی اور دانت عورت کا جیسے دانت مرد کا اور موضحہ عورت کی مثل مرد کے موضحہ کے اس طرح منقلہ عورت کا مثل مرد کے منقلے کے ہے۔ ابن شہاب اور عروہ بن زبیر کہتے تھے جیسے سعید بن مسیب کہتے تھے کہ عورت ثلث دیت تک مرد کے برابر ہوگی پھر وہاں سے اس کی دیت مرد کی آدھی ہوگی۔ کہا مالک نے تو موضحہ اور منقلہ میں عورت اور مرد ونوں کی دیت برابر ہوگی اور مامومہ اور جائفہ جس میں ثلث دیت واجب ہے عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہوگی۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "The blood-money for a woman is the same as for a man up to one third of the blood-money. Her finger is like his finger, her tooth is like his tooth, her injury which lays bare the bone is like his, and her head wound which splinters the bone is like his."

1422Mauwatta Imam Malik

عورت کی دیت کا بیان

عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَصَابَ امْرَأَتَهُ بِجُرْحٍ أَنَّ عَلَيْهِ عَقْلَ ذَلِکَ الْجُرْحِ وَلَا يُقَادُ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْخَطَإِ أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَيُصِيبَهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يَتَعَمَّدْ كَمَا يَضْرِبُهَا بِسَوْطٍ فَيَفْقَأُ عَيْنَهَا وَنَحْوَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي الْمَرْأَةِ يَكُونُ لَهَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا وَلَا قَوْمِهَا فَلَيْسَ عَلَى زَوْجِهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَبِيلَةٍ أُخْرَى مِنْ عَقْلِ جِنَايَتِهَا شَيْءٌ وَلَا عَلَى وَلَدِهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَوْمِهَا وَلَا عَلَى إِخْوَتِهَا مِنْ أُمِّهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا وَلَا قَوْمِهَا فَهَؤُلَاءِ أَحَقُّ بِمِيرَاثِهَا وَالْعَصَبَةُ عَلَيْهِمْ الْعَقْلُ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ وَكَذَلِكَ مَوَالِي الْمَرْأَةِ مِيرَاثُهُمْ لِوَلَدِ الْمَرْأَةِ وَإِنْ كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَبِيلَتِهَا وَعَقْلُ جِنَايَةِ الْمَوَالِي عَلَى قَبِيلَتِهَا

ابن شہاب کہتے تھے کہ یہ سنت چلی آتی ہے کہ مرد اپنی عورت کو اگر زخمی کرے تو اس سے دیت لی جائے گی اور قصاص نہ لیا جائے گا۔ کہا مالک نے یہ جب ہے کہ مردخطا سے اپنی عورت کو زخمی کرے عمداً یہ کام نہ کرے (اگر عمداً کرے تو قصاص واجب ہوگا)۔ کہا مالک نے جس عورت کا خاوند یا لڑکا اس کی قوم سے نہ ہو تو عورت کی جنایت کی دیت میں وہ شریک نہ ہوگا اسی طرح اس کا لڑکا یا اخیافی بھائی جب اور قوم سے ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے وقت سے دیت کنبے والوں پر ہوتی ہے مگر میراث لڑکے اور اخیافی بھائیوں کو ملے گی جیسے عورت کے موالی (غلامان آزاد) کی میراث اس کے لڑکے کو ملے گی اگرچہ اس کی قوم سے نہ ہو مگر اس کی جنایت کی دیت عورت کے کنبے والوں پر ہوگی۔

Yahya related to me from Malik that he heard Ibn Shihab say, "The precedent of the sunna when a man injures a woman is that he must pay the blood-money for that injury and there is no retaliation against him."

1423Mauwatta Imam Malik

پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو عورتیں ہذیل کی آپس میں لڑیں ایک نے دوسرے کے پتھر مارا اس کے پیٹ کا بچہ نکل پڑا رسول اللہ ﷺ نے دیت میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا حکم کیا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Abu Hurayra that a woman from the Hudhayl tribe threw a stone at a woman from the same tribe, and she had a miscarriage. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave a judgement that a slave or slave-girl of fair complexion and excellence should be given to her.

1424Mauwatta Imam Malik

پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ کَيْفَ أَغْرَمُ مَا لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلْ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلْ وَمِثْلُ ذَلِکَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْکُهَّانِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا پیٹ کے بچے میں جو قتل کیا جائے ایک غلام یا لونڈی دینے کا جس پر آپ ﷺ نے دیت دینے کا حکم کیا وہ بولا کیونکر میں تاوان دوں اس بچے کا جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ رویا ایسے شخص کا خون ہدر ہے یعنی لغو ہے اس میں دیت نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave a judgement that the compensation for a foetus killed in its mothers womb was a slave or slave-girl of fair complexion and excellence. The one against whom the judgement was given said, "Why should I pay damages for that which did not drink or eat or speak or make any cry. The like of that is nothing." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "This is only one of the brothers of the diviners." He disapproved of the rhyming speech of the mans declaration.

1425Mauwatta Imam Malik

پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الْغُرَّةُ تُقَوَّمُ خَمْسِينَ دِينَارًا أَوْ سِتَّ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ خَمْسُ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ سِتَّةُ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك فَدِيَةُ جَنِينِ الْحُرَّةِ عُشْرُ دِيَتِهَا وَالْعُشْرُ خَمْسُونَ دِينَارًا أَوْ سِتُّ مِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يُخَالِفُ فِي أَنَّ الْجَنِينَ لَا تَكُونُ فِيهِ الْغُرَّةُ حَتَّى يُزَايِلَ بَطْنَ أُمِّهِ وَيَسْقُطُ مِنْ بَطْنِهَا مَيِّتًا قَالَ مَالِك و سَمِعْت أَنَّهُ إِذَا خَرَجَ الْجَنِينُ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ حَيًّا ثُمَّ مَاتَ أَنَّ فِيهِ الدِّيَةَ كَامِلَةً قَالَ مَالِك وَلَا حَيَاةَ لِلْجَنِينِ إِلَّا بِالْاسْتِهْلَالِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ فَاسْتَهَلَّ ثُمَّ مَاتَ فَفِيهِ الدِّيَةُ كَامِلَةً وَنَرَى أَنَّ فِي جَنِينِ الْأَمَةِ عُشْرَ ثَمَنِ أُمِّهِ قَالَ مَالِك وَإِذَا قَتَلَتْ الْمَرْأَةُ رَجُلًا أَوْ امْرَأَةً عَمْدًا وَالَّتِي قَتَلَتْ حَامِلٌ لَمْ يُقَدْ مِنْهَا حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَإِنْ قُتِلَتْ الْمَرْأَةُ وَهِيَ حَامِلٌ عَمْدًا أَوْ خَطَأً فَلَيْسَ عَلَى مَنْ قَتَلَهَا فِي جَنِينِهَا شَيْءٌ فَإِنْ قُتِلَتْ عَمْدًا قُتِلَ الَّذِي قَتَلَهَا وَلَيْسَ فِي جَنِينِهَا دِيَةٌ وَإِنْ قُتِلَتْ خَطَأً فَعَلَى عَاقِلَةِ قَاتِلِهَا دِيَتُهَا وَلَيْسَ فِي جَنِينِهَا دِيَةٌ و حَدَّثَنِي يَحْيَى سُئِلَ مَالِك عَنْ جَنِينِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ يُطْرَحُ فَقَالَ أَرَى أَنَّ فِيهِ عُشْرَ دِيَةِ أُمِّهِ

ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے کہ غلام یا لونڈی کی قیمت جو پیٹ کے بچے کی دیت میں دی جائے پچاس دینار ہونے چاہئے یا چھ سو درہم اور عورت مسلمان آزاد کی دیت پانچ سو دینار ہیں یا چھ ہزار درہم۔ کہا مالک نے آزاد عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کی دیت عورت کی دیت کا دسواں حصہ ہے اور وہ پچاس دینار ہے یا چھ سو درہم اور یہ دیت پیٹ کے بچے میں اس وقت لازم آتی ہے جب کہ وہ پیٹ سے نکل پڑے مردہ ہو کر میں نے کسی کو اس میں اختلاف کرتے نہیں سنا اگر پیٹ سے زندہ نکل کر مرجائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے جنین یعنی پیٹ کے بچے کی زندگی اس کے رونے سے معلوم ہوگی اگر رو کر مرجائے تو پوری دیت لازم آئے گی اور لونڈی کے جنین میں اس لونڈی کی قیمت کا دسواں حصہ دینا ہوگا۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت حاملہ نے کسی مرد یا عورت کو مار ڈالا تو اس سے قصاص نہ لیا جائے گا جب تک وضع حمل نہ ہو اگر عورت حاملہ کو کسی نے مار ڈالا عمداً یا خطاءً تو اس کے جنین کی دیت واجب نہ ہوگی بلکہ اگر عمداً مارا ہے تو قاتل قتل کیا جائے گا اور اگر خطاءً مارا ہے تو قاتل کے عاقلہ پر عورت کی دیت واجب ہوگی۔ سوال ہوا مالک سے اگر کسی نے یہودیہ یا نصرانیہ کے جنین کو مار ڈالا تو جواب دیا کہ اس کی ماں کی دیت کا دسواں حصہ دینا ہوگا۔

Yahya related to me from Malik that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "The slave of fair complexion and excellence is estimated at fifty dinars or six hundred dirhams. The blood-money of a free muslim woman is five hundred dinars or six thousand dirhams."

1426Mauwatta Imam Malik

جس میں پوری دیت لازم ہے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ کَامِلَةً فَإِذَا قُطِعَتْ السُّفْلَی فَفِيهَا ثُلُثَا الدِّيَةِ

سعید بن مسیب کہتے تھے کہ دونوں ہونٹوں میں پوری دیت ہے اگر صرف نیچے کا ہونٹ کاٹ ڈالے تو ثلث دینی ہوگی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab used to say, "The full blood-money is payable for cutting off both lips, but when the lower one only is cut off, two-thirds of the blood-money is due for it."

1427Mauwatta Imam Malik

جس میں پوری دیت لازم ہے۔

عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الرَّجُلِ الْأَعْوَرِ يَفْقَأُ عَيْنَ الصَّحِيحِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنْ أَحَبَّ الصَّحِيحُ أَنْ يَسْتَقِيدَ مِنْهُ فَلَهُ الْقَوَدُ وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الدِّيَةُ أَلْفُ دِينَارٍ أَوْ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي كُلِّ زَوْجٍ مِنْ الْإِنْسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي اللِّسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي الْأُذُنَيْنِ إِذَا ذَهَبَ سَمْعُهُمَا الدِّيَةَ كَامِلَةً اصْطُلِمَتَا أَوْ لَمْ تُصْطَلَمَا وَفِي ذَكَرِ الرَّجُلِ الدِّيَةُ كَامِلَةً وَفِي الْأُنْثَيَيْنِ الدِّيَةُ كَامِلَةً و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي ثَدْيَيْ الْمَرْأَةِ الدِّيَةَ كَامِلَةً قَالَ مَالِك وَأَخَفُّ ذَلِكَ عِنْدِي الْحَاجِبَانِ وَثَدْيَا الرَّجُلِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أُصِيبَ مِنْ أَطْرَافِهِ أَكْثَرُ مِنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ لَهُ إِذَا أُصِيبَتْ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ وَعَيْنَاهُ فَلَهُ ثَلَاثُ دِيَاتٍ قَالَ مَالِك فِي عَيْنِ الْأَعْوَرِ الصَّحِيحَةِ إِذَا فُقِئَتْ خَطَأً إِنَّ فِيهَا الدِّيَةَ كَامِلَةً

کہا مالک نے میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ اگر کانا کسی اچھے آدمی کی آنکھ پھوڑ ڈالے تو انہوں نے کہا کہ اس کو اختیار ہے خواہ کانے کی آنکھ پھوڑے خواہ دیت لے ہزار دیناربارہ ہزار دینار۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا کہ جو چیزیں انسان کے جسم میں دو دو ہیں اگر دونوں کو کوئی تلف کردے تو پوری دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح زبان میں پوری دیت دینی ہوگی۔ اگر کانوں پر ایسی ضرب لگائے جس کی وجہ سے دونوں کی سماعت جاتی رہے اگرچہ کانوں کو نہ کاٹے تب بھی پوری دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح ذکر (عضوتناسل) اور انیثین (فوطوں) میں پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا جب عورت کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالے تو اس میں پوری دیت ہوگی لیکن ابروؤں کے اور مرد کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالنے میں پوری دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے اور دونوں پاؤں اور دونوں آنکھیں بھی اس کی پھوڑ ڈالیں تو اس کو پوری دیت ملے گی ہاتھوں کی الگ اور پاؤں کی الگ اور آنکھوں کی الگ یعنی تین دیتیں دینی ہوں گی۔ کہا مالک نے اگر کانے کی جو آنکھ اچھی تھی اس کو کسی نے پھوڑ ڈالاخطا سے تو پوری دیت لازم ہوگی۔

Yahya related to me from Malik that he asked Ibn Shihab about the one-eyed man who gouged out the eye of a healthy person. Ibn Shihab said, "If the healthy person wants to take retaliation from him, he can have his retaliation. If he prefers, he has blood-money of one thousand dinars, twelve thousand dirhams."

1428Mauwatta Imam Malik

جب آنکھ کی روشنی جاتی رہے لیکن آنکھ قائم رہے تو دیت کیا ہے۔

عَنْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ يَقُولُ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا طَفِئَتْ مِائَةُ دِينَارٍ قَالَ يَحْيَى و سُئِلَ مَالِك عَنْ شَتَرِ الْعَيْنِ وَحِجَاجِ الْعَيْنِ فَقَالَ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا الْاجْتِهَادُ إِلَّا أَنْ يَنْقُصَ بَصَرُ الْعَيْنِ فَيَكُونُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ الْعَوْرَاءِ إِذَا طَفِئَتْ وَفِي الْيَدِ الشَّلَّاءِ إِذَا قُطِعَتْ إِنَّهُ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا الْاجْتِهَادُ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ عَقْلٌ مُسَمًّى

زید بن ثابت کہتے تھے کہ جب آنکھ قائم رہے اور روشنی جاتی رہے تو سو دینار ہوں گے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Zayd ibn Thabit used to say, "When the eye remains but the sight is lost, one hundred dinars are payable for it."

1429Mauwatta Imam Malik

زخموں کی دیت کا بیان

و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَذْكُرُ أَنَّ الْمُوضِحَةَ فِي الْوَجْهِ مِثْلُ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ إِلَّا أَنْ تَعِيبَ الْوَجْهَ فَيُزَادُ فِي عَقْلِهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَقْلِ نِصْفِ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ فَيَكُونُ فِيهَا خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشَرَةَ فَرِيضَةً قَالَ وَالْمُنَقِّلَةُ الَّتِي يَطِيرُ فِرَاشُهَا مِنْ الْعَظْمِ وَلَا تَخْرِقُ إِلَى الدِّمَاغِ وَهِيَ تَكُونُ فِي الرَّأْسِ وَفِي الْوَجْهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْجَائِفَةَ لَيْسَ فِيهِمَا قَوَدٌ قَالَ مَالِك وَالْمَأْمُومَةُ مَا خَرَقَ الْعَظْمَ إِلَى الدِّمَاغِ وَلَا تَكُونُ الْمَأْمُومَةُ إِلَّا فِي الرَّأْسِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ موضحہ چہرے میں ایسا ہے جیسے موضحہ سر میں مگر جب چہرے میں اس کی وجہ سے کوئی عیب ہوجائے تو دیت بڑھا دی جائے گی موضحہ سر کے نصف تک ہو تو اس میں پچھتر دینار لازم ہوں گے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ منقلہ میں پندرہ اونٹ ہیں۔ کہا مالک نے منقلہ وہ ضرب ہے جس سے ہڈی اپنے مقام سے جدا ہوجائے اور دماغ تک نہ پہنچے اور وہ سر اور منہ میں ہوتی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ مامومہ اور جائفہ میں قصاص نہیں ہے اور ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے کہ مامومہ میں قصاص نہیں ہے۔ کہا مالک نے مامومہ وہ ضرب ہے جو دماغ تک پہنچ جائے ہڈی توڑ کر اور مامومہ سر ہی میں ہوا کرتی ہے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Sulayman ibn Yasar mention that a face wound in which the bone was bared was like a head wound in which the bone was bared, unless the face was scarred by the wound. Then the blood-money is increased by one half of the blood-money of the head wound in which the skin was bared so that seventy five dinars are payable for it.

1430Mauwatta Imam Malik

زخموں کی دیت کا بیان

وَقَدْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ قَالَ مَالِك وَمَا يَصِلُ إِلَى الدِّمَاغِ إِذَا خَرَقَ الْعَظْمَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنْ الشِّجَاجِ عَقْلٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنْ الْإِبِلِ وَلَمْ تَقْضِ الْأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَلَا فِي الْحَدِيثِ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ بِعَقْلٍ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ موضحہ سے کم جو زخم ہو اس میں دیت نہیں ہے جب تک کہ موضحہ تک نہ پہنچے بلکہ دیت موضحہ میں ہے یا جو اس سے بھی زیادہ ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرو بن حزم کی حدیث میں موضحہ میں پانچ اونٹ ہیں اس سے کم کو بیان نہ کیا نہ کسی امام نے زمانہ سابق یا حال میں موضحہ سے کم میں دیت کا حکم کیا۔

Malik said, "What is done in our community is that there is no blood-money paid on any head wound less than one which lays bare the skull. Blood-money is payable only for the head wound that bares the bone and what is worse than that. That is because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stopped at the head wound which bared the bone in his letter to Amr ibn Hazm. He made it five camels. The imams, past and present, have not made any blood-money payable for injuries less than the head wound which bares the bone."